• کائی سونگ میں قائم مشترکہ صنعتی زون میں جنوبی کوریا کی کمپنی میں شمالی کوریا کے ملازمین تیار شدہ مال کا جائزہ لے رہے ہیں۔
  • شمالی کوریا کے باشندوں کے لیے یہ صنعتی زون روزگار کا ایک اہم ذریعہ ہے اور اس صنعتی زون نے 2004ء میں کام شروع کیا تھا۔
  • جنوبی افریقہ کے صنعتکار اجرت کی مد میں سالانہ شمالی کوریا سے تعلق رکھنے والے ملازمین کو نو کروڑ ڈالر ادا کرتے ہیں۔
  • دونوں ہمسایہ ممالک تکنیکی اعتبار سے ایک دوسرے کے ساتھ ابھی تک حالت جنگ میں ہیں۔
  • جنوبی کوریا کے صنعت کار کائی سونگ میں شمالی کوریا کے مزدوروں سے کام لیتے ہیں جس سے ان کی مصنوعات کی تیاری پر بہت کم لاگت آتی ہے۔
  • یہ کمپلیکس شمالی کوریا کے لیے بیرونی سرمایہ کاری اور آمدن کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے۔
  • دوطرفہ کشیدگی کے بعد شمالی کوریا نے رواں سال اپریل میں اپنے 53 ہزار مزدوروں کو واپس بلا کر کائی سونگ صنعتی مرکز پر سرگرمیوں کو معطل کر دیا تھا۔
  • جنوبی کوریا نے بھی مئی کے اوائل میں اپنے انتظامی افسران اور عملے کو واپس بلا لیا تھا۔
  • اس مشترکہ صنعتی علاقے کائی سونگ کو ستمبر میں دوبارہ کھولا گیا تھا۔
  • رواں سال فروری کو جب شمالی کوریا نے ایٹمی تجربہ کیا تو اس کے جنوبی کوریا کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے اور اقوام متحدہ نے بھی اس پر بعض پابندیاں عائد کی تھیں۔

شمالی و جنوبی کوریا کا مشترکہ صنعتی کمپلیکس

Published December 20, 2013

کائی سونگ میں قائم مشترکہ صنعتی زون میں جنوبی کوریا کی کمپنی میں شمالی کوریا کے ملازمین تیار شدہ مال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ شمالی کوریا کے باشندوں کے لیے یہ صنعتی زون روزگار کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس صنعتی زون نے 2004ء میں کام شروع کیا تھا لیکن یہاں واقع جنوبی افریقہ کے صنعتکار اجرت کی مد میں سالانہ شمالی کوریا سے تعلق رکھنے والے ملازمین کو نو کروڑ ڈالر ادا کرتے ہیں۔ دونوں ہمسایہ ممالک تکنیکی اعتبار سے ایک دوسرے کے ساتھ ابھی تک حالت جنگ میں ہیں۔