<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>


																										



<rss xmlns:ymusic="http://music.yahoo.com/rss/1.0/ymusic/" xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" xmlns:cf="http://www.microsoft.com/schemas/rss/core/2005" xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"   version="2.0">
<channel>
	<title>VOA News:  خبریں  </title>
	<link>http://www.voanews.com/urdu/news</link>
		<description>خبریں 
																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																								
	Voice of America
	</description>
	<language>ur</language> 	<copyright />
	<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 15:04:18 GMT</pubDate>
	<dc:creator />
	<dc:date>2012-02-10T15:04:18Z</dc:date>
	<dc:language>ur</dc:language> 	<dc:rights />
	<image>
		<title>Voice of America</title>
		<link>http://www.voanews.com/urdu</link>
		<url>http://media.voanews.com/designimages/VOARSSIcon.gif</url>
	</image>


						
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>توہین عدالت مقدمہ: وزیراعظم کی اپیل مسترد</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan/gillani-appeal-court-10feb12-139075504.html</link>
				<description>لارجر بینچ نے ’انٹرا کورٹ‘ اپیل کو مسترد کرتے ہوئے سات رکنی بینچ کے اس فیصلے کو برقرار رکھا جس میں وزیراعظم گیلانی کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے میں ان پر فرد جرم 13 فروری کو عائد کی جانی ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی جانب سے توہین عدالت کے مقدمے میں دائر&rsquo;انٹرا کورٹ&lsquo; اپیل کو سپریم کورٹ&nbsp; کے آٹھ رکنی بینچ نے خارج کر دیا ہے۔</p>
<p>چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے لارجر بینچ نے اعتراز احسن کے دلائل سننے کے بعد جمعہ کو اپنے فیصلے میں &rsquo;انٹرا کورٹ&lsquo; اپیل کو مسترد کرتے ہوئے سات رکنی بینچ کے اس فیصلے کو برقرار رکھا جس میں وزیراعظم گیلانی کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے میں ان پر فرد جرم 13 فروری کو عائد کی جانی ہے۔</p>
<p>وزیراعظم کے وکیل اعتزاز احسن نے مقدمے کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ کے احاطے میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ &rsquo;&rsquo;ہماری اپیل مسترد ہوئی ہے جس کے نتیجے میں 13 تاریخ کو وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی پر توہین عدالت کی فرد جرم مرتب ہو گی، اور 13 فروری کو (وزیراعظم) پیش ہوں گے&lsquo;&lsquo;۔</p>
<p>جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے 2 فروری کو اپنے حکم نامے میں وزیراعظم گیلانی پر 13 فروری کو فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے انھیں عدالت کے روبرو پیش ہونے کی ہدایت کی تھی۔</p>
<p>اعتزاز احسن نے اپنے موکل پر توہین عدالت کے الزام میں فرد جرم عائد کرنے کے عدالتی فیصلے کے خلاف 200 صفحات پر مشتمل انٹرا کورٹ اپیل میں 50 سے زائد اعتراضات اٹھائے تھے۔</p>
<p>چیف جسٹس کی سربراہی میں آٹھ رکنی بینچ کے سامنے اپنے دلائل میں اعتزاز احسن نے وزیراعظم گیلانی کے خلاف توہین عدالت پر فرد جرم عائد کرنے کا نوٹس واپس لینے کی استدعا کی۔</p>
<p>چیف جسٹس نے اس پر اپنے ریمارکس میں کہا کہ عدالت ملکی مفاد میں وزیر اعظم کا ٹرائل نہیں چاہتی اور اگر حکومت صدر آصف علی زرداری کے خلاف سوئٹرزلینڈ میں قائم مبینہ بدعنوانی کے مقدمات کو دوبارہ کھولنے کے لیے خط لکھ دے تو توہین عدالت کے معاملے پر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو جاری کیا گیا اظہار وجوہ کا نوٹس واپس لے لیا جائے گا۔</p>
<p>متنازع قومی مصالحتی آرڈیننس یا این آر او کو کالعدم قرار دینے سے متعلق عدالت عظمٰی کے فیصلے پر عمل درآمد میں تاخیر کی پاداش میں سپریم کورٹ نے وزیراعظم گیلانی کو اس سے قبل 19 جنوری کو طلب کیا تھا جس کو بجا لاتے ہوئے وہ عدالت میں پیش بھی ہوئے تھے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 07:06:46 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139075504</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-10T07:06:46Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Pakistan_PM+Gilani_480.jpg" length="46838" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Pakistan_PM+Gilani_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="500" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Islamabad_Gilani_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>منصور اعجاز ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرائیں</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan/memo-mansoor-10feb12-139076554.html</link>
				<description>کمیشن کے سیکرٹری لندن جا کر منصور اعجاز سے اس اسکینڈل سے متعلق شواہد حاصل کریں گے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکی قیادت کو بھیجے گئے متنازع &rsquo;&rsquo;میمو&lsquo;&lsquo; یا مراسلے کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن نے اس اسکینڈل کے اہم گواہ امریکی شہری منصور اعجاز کا بیان &rsquo;ویڈیو لنک&lsquo; کے ذریعہ ریکارڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔<br /><br />بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائض عیسیٰ کی سربراہی میں قائم تین رکنی کمیشن نے جمعہ کو جاری کیے گئے اپنے حکم نامے میں کہا ہے کہ کمیشن کے سیکرٹری لندن جا کر منصور اعجاز سے اس اسکینڈل سے متعلق شواہد حاصل کریں گے۔</p>
<p>قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں یہ پہلا موقع ہو گا کہ کسی عدالتی کارروائی میں کوئی گواہ ویڈیو لنک کے ذریعے اپنا بیان ریکارڈ کروائے گا۔</p>
<p>پاکستانی نژاد امریکی شہری کو 9 فروری کو کمیشن کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی لیکن ان کے وکیل اکرم شیخ نے کمیشن کو بتایا کہ سکیورٹی خدشات کے باعث منصور اعجاز پاکستان نہیں آ سکتے۔</p>
<p>عدالتی کمیشن نے اپنے تازہ ترین فیصلے میں کہا ہے کہ اب منصور اعجاز لندن میں رہتے ہوئے 22 فروری کو ویڈیو لنک کے ذریعے اپنا بیان ریکارڈ کروائیں۔</p>
<p>صدر آصف علی زرداری سے منسوب مراسلے کے مبینہ خالق سابق سفیر حسین حقانی کے وکیل زاہد حسین بخاری نے کمیشن کو بتایا کہ اگر منصور اعجاز پاکستان نہیں آئیں گے تو اُن کے موکل بھی آئندہ کمیشن کے سامنے اپنے بیانات ویڈیو لنک کے ذریعے ہی ریکارڈ کروائیں گے۔</p>
<p>حسین حقانی رواں ماہ سپریم کورٹ کی اجازت سے امریکہ چلے گئے تھے۔ لیکن عدالت نے کہا تھا کہ اگر انھیں مقدمے کی سماعت کے دوران&nbsp; بلوانے کی ضرورت ہوئی تو وہ پاکستان آنے کے پابند ہوں گے۔</p>
<p>ادھر میمو اسکینڈل کی تحقیقات کرنے والی پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ سینیٹر رضا ربانی نے کہا ہے کہ منصور اعجاز کو کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر ہی اپنا بیان قلمبند کرانا ہوگا کیوں کہ پارلیمانی کمیٹی اس بات کی پابند ہے کہ وہ اپنے اجلاس کے پارلیمان کی عمارت کے اندر ہی منعقد کرے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 08:26:52 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139076554</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-10T08:26:52Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Pakistan_Islamabad_High_Court_Building_Official_480_02Jan12.jpg" length="33392" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Pakistan_Islamabad_High_Court_Building_Official_480_02Jan12.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Mansoor+Ijaz.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>شام: بم دھماکوں میں 25 ہلاک</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/world/syria-blasts-10feb12-139081859.html</link>
				<description>شمالی شہر حلب میں جمعہ کو ہونے والے ان دھماکوں کا ہدف فوج کے انٹیلی جنس اداروں کی عمارت تھی اور اس میں 175 افراد زخمی بھی ہوئے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>شام کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ملک کے شمالی شہر حلب میں دو بم دھماکوں میں 25 افراد ہلاک اور 175 زخمی ہو گئے۔</p>
<p>ملک کے اقتصادی مرکز حلب میں جمعہ کو ہونے والے ان بم دھماکوں کا ہدف فوج کے انٹیلی جنس اداروں کی عمارت تھی۔ صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف ہونے والے مظاہروں سے یہ شہر نسبتاً پُرسکون تھا۔</p>
<p>انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے شام کے وسطی شہر حمص میں حکومت مخالف احتجاج میں شامل افراد کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔</p>
<p>حمص صدر بشار الاسد کے 11 سالہ آمرانہ دور اقتدار کے خلاف گزشتہ کئی ماہ سے جاری احتجاجی مظاہروں کا اہم مرکز بنا ہوا ہے اور سکیورٹی فورسز نے اس کا محاصرہ بھی کر رکھا ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 12:22:39 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139081859</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-10T12:22:39Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[دنیا]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Friends_of_Syria_4x3_web-fixed-x264-Platform_YTHQFull_640x480_2194611629.jpg" length="94368" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Friends_of_Syria_4x3_web-fixed-x264-Platform_YTHQFull_640x480_2194611629.jpg" medium="image" isDefault="true" height="480" width="640" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/SYRIA_WOUNDED.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>ایران پر حملے کے ممکنہ ردعمل پر اسرائیل میں بحث</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/israel-iran-10feb12-139074359.html</link>
				<description>اسرائیل کے وزیردفاع ایہود براک نے حال ہی میں فوجی ماہرین کی  ایک کانفرنس کو بتایا کہ موثر فوجی حملے کے لیے وقت تنگ ہوتا جا رہا ہے اور اس مسئلے سے جلد ہی، شاید یہ سال ختم ہونے سے پہلے ، نمٹا جانا چاہیئے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>چھیاسی سالہ وکیل موشی مائرون تل ابیب کے نواح&nbsp; رہتے ہیں، انھوں نے کہا کہ 21 سال قبل جب عراق کے صدر صدام حسین نے کویت پر حملہ کیا تھا اور مغربی&nbsp; اور عرب ملکوں کے اتحاد نے ان کے خلاف کارروائی&nbsp; کی تو عراق نے اسرائیل پر اسکڈ میزائل داغے۔</p>
<p>مائرون کو وہ رات یاد ہے جب سائرن کی آواز آئی اور وہ اپنی بیوی کے ساتھ، گیس ماسک لگائے گھر کے تہ خانے میں&nbsp; پہنچ گئے۔ ایک میزائل صرف نو میٹر کے فاصلے پر ان کے ڈرائیو وے میں کھڑی کار پر&nbsp; لگا۔ وہ کہتے ہیں کہ &rsquo;&rsquo;پانچ چھ مکان مکمل طور سے تباہ ہو گئے۔ سب گاڑیاں جل گئیں۔ میرا ور میری بیوی کا زندہ بچ جانا معجزے سے کم نہیں تھا۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>اسرائیل کے دشمنوں کی طرف سے جوابی کارروائی کی ان یادوں کے باوجود، اسرائیل کے اعلیٰ لیڈر آج بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ وہ علاقے&nbsp; میں ایک اور ملک، ایران پر حملے کے لیے تیار ہیں تا کہ اسے نیوکلیئر ہتھیار حاصل کرنے سے روک سکیں۔ وہ کہتے ہیں کہ فوجی کارروائی آخری حربے کے طور پر کی جائے گی، اگر بین الاقوامی برادری نے&nbsp; پس و پیش سے کام لیا۔</p>
<p>وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ نیوکلیر ایران پوری دنیا کے لیے خطرہ بن جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ &rsquo;&rsquo;نیوکلیئر اسلحہ سے لیس ایران اسرائیل کے لیے، علاقے کے لیے، اور دنیا کے لیے خطرہ ہے۔ ایران کو نیوکلیئر ہتھیار تیار کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>اسرائیل کے وزیردفاع ایہود براک نے حال ہی میں فوجی ماہرین کی&nbsp; ایک کانفرنس کو بتایا کہ موثر فوجی حملے کے لیے وقت تنگ ہوتا جا رہا ہے اور اس مسئلے سے جلد ہی، شاید یہ سال ختم ہونے سے پہلے ، نمٹا جانا چاہیئے۔</p>
<p>ماہرین کہتے ہیں کہ ایران اپنی اہم نیوکلیئر تنصیبات کو زیرِ زمین قلعے میں منتقل کر رہا ہے جسے انتہائی طاقتور بم سے بھی زیادہ نقصان نہیں پہنچے گا۔ ایرانی لیڈر کہتے ہیں کہ ان کا نیوکلیئر پروگرام بجلی پیدا کرنے اور میڈیکل ریسرچ جیسے پُر امن مقاصد کے لیے ہے اور ان کا نیوکلیئر ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔</p>
<p>لیکن ایران نے انتباہ کیا ہے کہ اگر اس پر حملہ کیا گیا تووہ جوابی کارروائی کرے گا۔ تہران کے پاس ایسے میزائل موجود ہیں جو اسرائیل تک بلکہ یورپ تک پہنچ سکتے ہیں۔ کانفرنس میں ایک ماہر نے کہا کہ تہران ایک ایسے میزائل پر کام کر رہا ہے جس&nbsp; کی پہنچ امریکہ&nbsp; تک ہو سکتی ہے۔</p>
<p>ایران کے امور کے ماہر ڈیوڈ میناشری کہتے ہیں کہ&nbsp; اسرائیلی حملے کے نتیجے میں پورا علاقہ غیر مستحکم ہو سکتا ہے ۔ ان کے مطابق &rsquo;&rsquo;ایران پر حملہ کیا گیا تو اس کے ایک طویل عرصے تک تباہ کن نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں امن کی خاطر بہتر یہی ہوگا کہ دوسرے حل تلاش کیے جائیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ دوسرے حل موجود ہیں۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>مینا شری کا خیال ہے کہ پابندیوں اور بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ کرنا چاہیئے&nbsp; تاکہ ایرانی حکومت نیوکلیئر اسلحہ کے پروگرام پر مذاکرات کرنے اور اسے ختم کرنے پر مجبور ہو جائے۔<br /> بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اسرائیل کا یکطرفہ طور پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں لیکن وہ اس قسم کی باتیں رائے عامہ کو ہموار کرنے اور اتحادی ملکوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے کر رہا ہے تا کہ وہ ایران پر اور زیادہ سخت پابندیاں عائد کردیں۔</p>
<p>لیکن میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق، اعلیٰ اسرائیلی عہدے داروں&nbsp; کا خیال ہے کہ پابندیوں سے ایران کو اپنے نیوکلیئر عزائم سے باز رہنے پر آمادہ نہیں کیا جا سکے گا۔ بعض دوسرے لوگ، جیسے فوجی تاریخ کے پروفیسر مارٹن وان کریویلڈ کہتے ہیں کہ فوجی حملے سے ایران کے نیوکلیئر پروگرام کو محض چند برسوں کے لیے مؤخر کیا جا سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بین الاقوامی برادری کو یہ بات قبول کر لینی چاہیئے کہ ایک نہ ایک دن ایران نیوکلیئر ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کر لے گا۔ انھون نے کہا کہ&rsquo;&rsquo;اس بات کا امکان ہے کہ ایرانی کہیں کہ یہ نیوکلیئر مسئلہ ہمارے لیے درد سر بن گیا ہے۔ لہٰذا، ہمیں جلد از جلد بم بنا لینا چاہیئے اور ساری دنیا کو بتا دینا چاہیئے کہ ہمارے پاس بم موجود ہے۔ پھر کوئی ہمارے قریب نہیں آ سکے گا۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>لیکن تل ابیب کے انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سیکورٹی اسٹڈیز &nbsp;کےافرائم کام کہتے ہیں کہ ایران کو نیوکلیئر بم بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے کی اجازت دینا تباہ کن ہو گا۔ ان کا کہنا ہے کہ &rsquo;&rsquo;اس طرح مشرقِ وسطیٰ&nbsp; میں استحکام&nbsp; کم ہو جائے گا۔ مشرقِ وسطیٰ کے دوسرے ملک، جیسے مصر، سعودی عرب، یا ترکی، شام، اور شاید عراق اس دوڑ میں شامل ہو سکتے ہیں۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>اگر اسرائیل&nbsp; ایران کے خلاف فوجی حملہ کرتا ہے، تو بھی، ناقدین کہتے ہیں کہ وہ ایران کی نیوکلیئر تنصیبات کو ختم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ حملہ آور جہازوں کو ایک ہزار کلو میٹرز دور ایران تک پہنچنے کے لیے، راستے میں ایندھن لینا پڑے گا۔ اور ایران کے ہمسایہ ملکوں&nbsp; کے اوپر پرواز کے لیے اسرائیل کو سمجھوتے کرنے پڑیں گے۔</p>
<p>رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کے لوگ ایران پر حملے کے بارے میں متفق نہیں ہیں۔ ایک حالیہ جائزے میں، 43 فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ حملے کے حق میں ہیں جب کہ 41 فیصد نے کہا کہ وہ اس کے خلاف ہیں۔</p>
<p>تاہم سروے میں شامل دو تہائی لوگوں نے کہا کہ ان کے خیال میں ایران بالآخر نیوکلیئر ہتھیار تیار کر لے گا۔ یروشلم کی ایک سڑک پر&nbsp; سیلز مین جاناتھن فشر نے کہا کہ &rsquo;&rsquo;میرے خیال میں جنگ ہو کر رہے گی۔ اسرائیل میں جنگ ایک نہ ایک دن ہونی ضروری ہے۔ کب ہوگی، یہ میں نہیں جانتا۔&lsquo;&lsquo;<br /> پاسکل رائے حال ہی میں اسرائیل میں آباد ہوئے ہیں۔ انھوں&nbsp; نے کہا کہ&rsquo;&rsquo;کاش کوئی سمجھوتہ ہو جائے۔ میں مذاکرات کے بغیر، فوجی حملے کے بالکل خلاف ہوں۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>21 سال پہلے جب یانیو شیمیش کے فلیٹ پر اسکڈ میزائل آکر لگا، تو ان کی عمر صرف 14 برس تھی۔ وہ آج بھی اس حملے کے ذہنی صدمے سے نہیں نکل سکے ہیں، اور کام نہیں کر سکتے۔</p>
<p>وہ کہہ رہے ہیں کہ انہیں ڈراؤنے خواب نظر آتے ہیں، وہ ہمیشہ خوفزدہ اور پریشان رہتے ہیں۔ وہ اپنے فلیٹ سے باہر نہیں نکلتے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں ہر وقت ڈر لگا رہتا ہے۔ بہت سے اسرائیلیوں کی طرح ، ان کی اُمید بھی یہی ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان ٹکراؤ زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں بڑھے گا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 06:21:27 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139074359</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[اسکاٹ باب]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-10T06:21:27Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Ehud+Barak+48.jpg" length="36231" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Ehud+Barak+48.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP_Ehud_Barak_Israel_18jan12.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
																	
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>امریکی کانگریس میں بلوچستان پر بحث مسلسل ہدف تنقید</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan/Pakistan-Politics-Balochistan-US-10Feb12-139086654.html</link>
				<description>وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے کہا کہ وہ صوبے کے حالات پر ممبران کو آئندہ ہفتے ایک مفصل بریفنگ دیں گے اور ان اقدامات سے آگاہ کریں گے جو امن وامن کی بہتری کے لیے کیے جارہے ہیں۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>صوبہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر امریکی کانگریس میں کی جانے والی بحث پر پاکستان میں تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔</p>
<p>پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں جمعہ کو حزب اقتدار اور حزب مخالف سے تعلق رکھنے والے اراکین نے جہاں اس بحث کو ملک کے اندرونی معاملات میں &rsquo;&rsquo;غیر ملکی مداخلت&lsquo;&lsquo; قرار دے کر اس کی سخت مذمت کی، وہیں اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ تمام تر دعووں کے باوجود صوبائی اور وفاقی حکومتیں بلوچستان میں امن و امان کی بحالی اور بلوچ عوام کے مسائل کو حل کرنے میں ناکام دیکھائی دیتی ہیں۔</p>
<p>حکمران اتحاد میں شامل عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی رکن اسمبلی بشریٰ گوہر نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے یہ امر باعث تکلیف ہے کہ بلوچستان کے معاملے پر جو بحث امریکی کانگریس کی کمیٹی میں ہوئی ہے وہ دراصل پاکستانی پارلیمان کی متعلقہ کمیٹی میں ہونی چاہیئے تھی۔</p>
<p>&rsquo;&rsquo;بلوچستان میں جو ہو رہا ہے اُس (کے سدِباب) کے لیے یہاں کی پارلیمانی کمیٹیاں موثر کارروائی نہیں کر رہی ہیں۔ ہمیں اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>حکمران پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ہمایوں عزیز کرد نے اپنی تقریر میں متنبہ کیا کہ اگر بلوچستان میں فرینٹیر کور (ایف سی) اور ریاست کے خفیہ اداروں کے کردار کو ختم نہ کیا گیا تو صورت حال قابو سے باہر ہو جائے گی۔</p>
<p>&rsquo;&rsquo;کوئی بھی بلوچستان کے بارے میں نہیں سوچتا ہے، کوئی بھی کمیٹی بنائی جائے اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا ہے &hellip; بلوچستان میں بیرونی مداخلت ہو رہی ہے اور اگر اس پر توجہ نہیں دینی ہے تو ہمیں بتائیں تاکہ ہم خود اپنا کوئی راستہ اختیار کریں، ہم نا یہاں کے رہیں گے نا وہاں کے رہیں گے۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>اراکین پارلیمان کی طرف سے بلوچستان کے بارے میں اٹھائے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے ایوان میں موجود وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے کہا کہ وہ صوبے کے حالات پر ممبران کو آئندہ ہفتے ایک مفصل بریفنگ دیں گے اور ان اقدامات سے آگاہ کریں گے جو امن وامن کی بہتری کے لیے کیے جارہے ہیں۔</p>
<p>بعد ازاں پارلیمان کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ بلوچ جنگجوایک تیسرے قوت کی مدد سے بلوچستان کو پاکستان سے علیحدہ کرنے کی سازش کررہے ہیں اور اس کا ثبوت وہ جدید اسلحہ، مواصلات کا سامان اور بھاری رقوم ہیں جو انھیں ان تخریبی کارروائیوں کے لیے فراہم کی جارہی ہیں۔</p>
<p>انھوں نے فرنٹیر کور اور دیگر سلامتی کے اداروں کا دفاع کرتے ہوئےے کہا کہ بلوچستان میں ہونے والی عام شہریوں کی ہلاکتوں میں سکیورٹی فورسز ملوث نہیں بلکہ ان کے بقول یہ ایک تیسری قوت کی کاروائی ہے جس کی کوشش ہے کہ بلوچستان پاکستان کا حصہ نہ رہے۔</p>
<p>وزیر داخلہ نے دعوی کیا کہ کراچی میں براہمداغ بگٹی کی بہن کے قتل میں جو گولیاں استعمال ہوئی ہیں وہ پاکستان میں نہیں بنتیں اور تحقیقاتی ادارے یہ سراغ لگانے کی کوشش کررہے ہیں کہ یہ گولیاں کس ملک میں بنیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس کی تفصیلات وہ پارلیمان کے آئندہ ہفتے ہونے والے اجلاس میں بتائیں گے۔</p>
<p>ایک روز قبل وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے کہا تھا کہ امریکی کانگریس کی ذیلی کمیٹی کی جانب سے صوبہ  بلوچستان کی صورت حال پر کرائی گئی سماعت پاکستان کے لیے باعث تشویش ہے۔ &rsquo;&rsquo;ہم نے واشنگٹن اور اسلام آباد میں  متعلقہ امریکی حکام سے رابطہ کرکے اُنھیں اپنے تحفظات سے آگاہ کر دیا ہے۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>ادھر امریکی انتظامیہ نے کانگریس کی کمیٹی میں بلوچستان کے معاملے ہپر بحث سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ صوبے میں تمام فریقین کو اپنے اختلافات &rsquo;&rsquo;پُرامن اور مستند سیاسی عمل&lsquo;&lsquo; کے ذریعے ملک میں رہتے ہوئے تلاش کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 14:55:22 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139086654</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[زاہد یعقوب خواجہ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-10T14:55:22Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Parliament_Building_480.jpg" length="69697" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Parliament_Building_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Parliament_Building_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
													
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>زیرِ حراست افراد کی 13 فروری کو پیشی یقینی بنائی جائے</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan/Pakistan-Justice-Rights-10Feb12-139088124.html</link>
				<description>فوج کے خفیہ اداروں کے وکیل نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ سات افراد میں سے چار پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال اور تین پارا چنار میں فوج کے تفتیشی مرکز میں موجود ہیں۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>سپریم کورٹ نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد مبینہ طور پر فوجی انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے حراست میں لیے جانے والے افراد کو 13 فروری کو عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔</p>
<p>فوج کے خفیہ اداروں، ملٹری انٹیلی جنس اور آئی ایس آئی، کے وکیل راجہ ارشاد نے عدالت کو بتایا کہ حراست میں لیے گئے 11 افراد میں سے چار مختلف بیماریوں کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں اور دیگر سات افراد میں سے چار پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال اور تین پارا چنار میں فوج کے تفتیشی مرکز میں موجود ہیں۔</p>
<p>چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے گزشتہ ہفتے اس مقدمے کی &nbsp;سماعت کے موقع پر عدالت نے راجہ ارشاد کو حکم دیا تھا کہ وہ زیرِ حراست افراد کی سپریم کورٹ میں پیشی کو یقینی بنائیں، لیکن جمعہ کو جب سماعت شروع ہوئی تو ان افراد کو پیش نہیں کیا گیا۔</p>
<p>عدالت عظمیٰ نے آئی آیس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہان کو ہدایت کی کہ وہ ان افراد کی باحفاظت عدالت میں پیشی کو یقینی بنائیں۔ چیف جسٹس نے وزارت دفاع کی سیکرٹری نرگس سیٹھی اور صوبہ خیبر پختون خواہ کے چیف سیکرٹری کو 13 فروری کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے کہا ہے۔</p>
<p>فوج &nbsp;کے راولپنڈی میں صدر دفتر &rsquo;جی ایچ کیو&lsquo; اور دیگر عسکری اہداف پر دو سال قبل ہونے والے حملوں میں ملوث ہونے کے شبے میں ان 11 افراد کو گرفتار کیا تھا لیکن ٹھوس شواہد کی عدم دستیابی کے بعد انھیں انسداد دہشت گردی کی عدالتوں نے 2009ء میں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔</p>
<p>راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے رہا کیے جانے والے ان افراد کو فوج کے خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا تھا اور اس بارے میں حفیہ ایجنسوں کے وکیل نے سپریم کورٹ کو آگاہ بھی کر دیا تھا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 14:51:29 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139088124</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-10T14:51:29Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/pakistan_+supreme+court_480.jpg" length="68586" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/pakistan_+supreme+court_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/pakistan_supreme+court_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
																	
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>شارجہ: پاکستان کو میچ جیتنے کے لیے 196 رنز درکار</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/sports/cricket-pakistan-afghanistan-10feb12-139080559.html</link>
				<description>افغانستان نے ٹاس جیت کے پہلے بیٹنگ کا فیصلہ اور اس کی پوری ٹیم انچاسویں اوورز میں 195 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>شارجہ میں کھیلے جانے والے ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میچ میں افغانستان نے جیت کے لیے پاکستان کو 196 رنز کا ہدف دیا ہے۔</p>
<p>افغانستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور اس کی پوری ٹیم انچاسویں اوورز میں 195 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ کریم صادق 40 رنز کے ساتھ نمایاں بلے باز رہے۔</p>
<p>پاکستان کی طرف سے شاہد آفریدی نے پانچ جب کہ عمر گل اور وہاب ریاض نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔</p>
<p>افغانستان کی ٹیم کو 2009ء میں ون ڈے انٹرنیشنل نیشن کا اسٹیٹس ملا تھا جب کہ کسی بھی ٹیسٹ نیشن کے ساتھ یہ اس کا پہلا ایک روزہ بین الاقوامی میچ ہے۔</p>
<p>پاکستانی ٹیم میں شاہد آفریدی، عمران فرحت، شعیب ملک، عمر اکمل اور وہاب ریاض کی واپسی ہوئی ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 14:21:26 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139080559</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-10T14:21:26Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[کھیل]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Afghan-cricket-team-530.jpg" length="191763" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Afghan-cricket-team-530.jpg" medium="image" isDefault="true" height="340" width="530" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Afghan-cricket-team-300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>سری لنکا کے صدر کا دورہ پاکستان</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan-srilanka-10feb12-139068679.html</link>
				<description>اپنے قیام کے دوران صدر پاکسے پاکستانی صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقاتوں میں دو طرفہ تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>سری لنکا کے صدر مہندا راجا پاکسے جمعہ کو دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچے ہیں جہاں وہ سیاسی قیادت سے دوطرفہ تعلقات کو مستحکم بنانے سے متعلق معاملات پر بات چیت کریں گے۔</p>
<p>اسلام آباد ایئر پورٹ آمد پر پاکستانی سینیٹ کے چیئرمین فاروق نائک اور سرحدی اُمور کے وزیر شوکت اللہ خان نے اُن کا استقبال کیا۔</p>
<p>اپنے قیام کے دوران صدر پاکسے پاکستانی صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقاتوں میں دو طرفہ تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔</p>
<p>سرکاری میڈیا کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان مختلف معاہدوں پر دستخط بھی متوقع ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 09:16:02 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139068679</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-10T09:16:02Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/AP_Sri_Lanka_Civil_War_02Jan2009_480.jpg" length="181867" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP_Sri_Lanka_Civil_War_02Jan2009_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="320" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP_Sri_Lanka_Civil_War_02Jan2009_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>کشمیر میں بس حادثہ، 20 ہلاک</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/India-Kashmir-Bus-Accident-10Feb12-139080434.html</link>
				<description>حادثہ ضلع ڈوڈہ میں پیش آیا جہاں بس ایک خطرناک موڑ کاٹتے ہوئے دریائے چناب میں جا گری۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں جمعہ کو ایک مسافر بس دریا میں گرنے سے کم از کم 20 افراد ہلاک ہو گئے جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔</p>
<p dir="rtl">حکام کے مطابق یہ حادثہ ضلع ڈوڈہ میں پیش آیا جہاں بس ایک خطرناک موڑ کاٹتے ہوئے دریائے چناب میں جا گری۔ یہ بس اندرون ضلع ہی چلتی تھی اور مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ دشوار گزار اس ضلع کے دیہاتوں کو ملانے والی سڑکوں پر کئی خطرناک موڑ ہیں۔</p>
<p dir="rtl">مقامی آبادی اور حکام نے شدید زخیموں کے قریبی اسپتال پہنچایا لیکن ان میں اکثر جانبر نا ہو سکے، جس لوگوں نے اسپتال میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کی کمی اور ضروری ادویات کی عدم دستیابی پر احتجاج بھی کیا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 11:21:02 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139080434</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-10T11:21:02Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Jammu_Kashmir_Doda_River_Chenab_Bridge_480.jpg" length="66559" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Jammu_Kashmir_Doda_River_Chenab_Bridge_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Jammu_Kashmir_Doda_River_Chenab_Bridge_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>نگراں سیٹ اپ: پی پی  ن لیگ متفق ، ایم کیو ایم کو تحفظات</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan/Caretaker_Setup_Discussion_09Feb12-139042209.html</link>
				<description>میڈیا رپورٹس کے مطابق اگر وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف نگراں حکومت کے قیام سے متعلق کسی نکتے پر متفق نہ ہو سکے تو پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے تین ، تین ارکان پر مشتمل چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی جائے گی</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>بیسویں آئینی ترمیم میں نگراں حکومت کے قیام سے متعلق حکمراں جماعت پیپلزپارٹی اور حزب مخالف کی بڑی جماعت مسلم لیگ ن کے درمیان معاملات طے پا گئے ہیں اور نگراں حکومت کے عہدیداروں کیلئے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر نام تجویز کریں گے ۔ <br /> <br /> وفاقی وزیر مذہبی امور سیدخورشید شاہ نےاسلام آباد میں میڈیا کوبتایا کہ بیسویں ترمیم کے مسودے کے حوالے سے دو تین دن میں معاملات طے پا جائیں گے، جس کی منظوری کیلئے وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس طلب کیا جائے گا۔</p>
<p>میڈیا رپورٹس کے مطابق اگر وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف نگراں حکومت کے قیام سے متعلق کسی نکتے پر متفق نہ ہو سکے تو پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے تین، تین ارکان پر مشتمل چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی جائے گی ۔ <br /> <br /> دوسری جانب، حکمران اتحاد میں شامل ایم کیو ایم نے چھ رکنی کمیٹی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ کمیٹی میں ہر اس جماعت کونمائندگی دی جائے جس کے قومی اسمبلی میں اراکین کی تعداد دس یا دس سے زائد ہے۔ اس کمیٹی کو صرف پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے تین ، تین اراکین تک محدود نہیں ہونا چاہیئے۔ ادھر، مسلم لیگ ق نےتعلیمی نصاب سے متعلق شق بھی بیسویں آئینی ترمیم میں شامل کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ <br /> <br /> بنیادی طور پر اس ترمیم کا مقصد سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلیوں کےان اٹھائیس اراکین کے ضمنی انتخابات کو سپریم کورٹ کے حکم پر قانونی تحفظ فراہم کرنا تھا جوجعلی ووٹر لسٹوں پر ضمنی انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے۔ پارلیمنٹ سے بیسویں آئینی ترمیم منظور ہونے کی صورت میں ان اراکین کی رکنیت خود بخود بحال ہوجائے گی۔<br /> <br /> یاد رہے کہ حکومت نےاٹھارہ جنوری کو یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا اوراسپیکر نے یہ بل کمیٹی کو بھجوایا تھا۔ کمیٹی نے یہ بل منظور کرنے کی سفارش کی لیکن حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث تاحال یہ بل اسمبلی میں پیش نہیں ہو سکا۔ قومی اسمبلی میں حزب مخالف جماعت مسلم لیگ ن کاموقف تھا کہ بیسیویں آئینی ترمیم میں الیکشن کمیشن کو با اختیار بنانے کے لئے مزید شقیں شامل کی جائیں ۔<br /> <br /> سپریم کورٹ کی چاررکنی بینچ نے عمران خان کی درخواست پر حکومت کو چھ فروری تک مہلت دی تھی کہ اس حوالے سے پارلیمنٹ سے توثیق کرا لی جائے۔ تاہم، چھ فروری تک جب ایسا نہ ہو سکا تو سپریم کورٹ نے 19 اپریل 2010 کے بعد ضمنی انتخابات میں منتخب ہونے والے پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کے 28 اراکین کی رکنیت معطل کردی ۔<br /> <br /> معطل ہونے والوں میں حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے تین وزراء، وزیر خزانہ حفیظ شیخ، تیل وقدرتی وسائل کے وزیر ڈاکٹر عاصم حسین اور نارکوٹکس کے وزیر خدا بخش راجڑ شامل ہیں۔</p>
<p><br /> <br /> <br /></p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 9 Feb 2012 21:05:51 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139042209</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[وسیم اے صدیقی]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-09T21:05:51Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/CareTakerSetup.300x300.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>روسی وزیرِاعظم کے خلاف حزبِ اختلاف کی مہم تیز</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/world/Russia_Putin_Opposition_09Feb12-139050674.html</link>
				<description>پیوٹن پر سب سے سخت تنقید حریف امیدواران کے بجائے سوویت یونین کے سابق صدر میخائل گورباچووف کی جانب سے سامنے آئی ہے جنہوں نے جمعرات کو ایک تقریب سے خطاب میں ان پر کڑی نکتہ چینی کی</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>روس میں آئندہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخاب سے قبل حزبِ اختلاف کے رہنمائوں اورسیاسی مخالفین نے اہم انتخابی امیدوار اور موجودہ وزیرِاعظم ولادی میر پیوٹن کے خلاف تنقیدی مہم تیز کردی ہے۔</p>
<p>جمعرات کو سرکاری ٹی وی پر نشر کیے گئے ایک انتخابی مباحثے میں 'لبرل ڈیموکریٹک پارٹی' کے صدارتی امیدوار ولادی میر زیرینووسکی اور کمیونسٹ پارٹی کے امیدوار جیناڈی زوئیگانوف نے 'یونائیٹڈ رشیا پارٹی' کے امیدوار اور موجودہ وزیرِاعظم کو آڑے ہاتھوں لیا۔</p>
<p>زیرینووسکی نے وزیرِاعظم پیوٹن کی انتخابی مباحثوں میں غیر حاضری &nbsp;کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پیوٹن شاید اس لیے ان مباحثوں میں نہیں آنا چاہتے کیوں کہ ان کے لیے گزشتہ 13 برسوں کی اپنی کارکردگی کا دفاع کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔</p>
<p>لیکن وزیرِاعظم پیوٹن پر سب سے سخت تنقید حریف امیدواران کے بجائے سوویت یونین کے سابق صدر میخائل گورباچووف کی جانب سے سامنے آئی ہے جنہوں نے جمعرات کو ایک تقریب سے خطاب میں ان پر کڑی نکتہ چینی کی۔</p>
<p>ماسکو یونی ورسٹی میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر کا کہنا تھا کہ پیوٹن قیادت کی اہلیت کھوچکے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پیوٹن صدر منتخب ہونے میں کامیاب ہوگئے تو روس کا سیاسی بحران مزید سنگین ہوجائے گا۔</p>
<p>پیوٹن&nbsp; اس سے قبل 2001ء سے 2008ء تک مسلسل دو بار صدارت پہ فائز رہ چکے ہیں اور اب تیسری بار اس عہدے کے لیے میدان میں ہیں۔</p>
<p>مارچ میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں پیوٹن کی فتح کا امکان خاصا قوی ہے اور یہ امکان ظاہر کیا جاتا رہا ہے کہ انتخاب جیتنے کی صورت میں وہ چھ، چھ سال کی مزید دو مدتوں کے لیے 2024ء تک صدر کا عہدہ اپنے پاس رکھ سکتے ہیں۔</p>
<p>تاہم خود پیوٹن اور ان کے اتحادیوں کو بھی عوام میں بڑھتی ہوئی ناراضگی کا ادراک ہے۔</p>
<p>روسی حزبِ اختلاف کے مظاہروں کی تعداد اور شرکا میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے اور ایسے میں وزیرِاعظم پیوٹن کی انتخابی&nbsp; مہم نے 23 فروری کو اپنی ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p>منتظمین کا کہنا ہے کہ ماسکو کی گلیوں سے کریملن تک جانے والے اس جلوس میں دو لاکھ سے زائد افراد شریک ہوں گے جب کہ حزبِ اختلاف نے، جو حالیہ ہفتوں کے دوران میں بعض بہت بڑے بڑے مظاہرے کرچکی ہے،&nbsp; 26 فروری کو ایک اور جلوس نکالنے کا اعلان کر رکھا ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 09:13:39 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139050674</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-10T09:13:39Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[دنیا]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/russia-protests-main.jpg" length="157691" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/russia-protests-main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="320" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/GORBACHEV_PUTIN_HEADS.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>شام: تشدد کے واقعات میں 24 افراد ہلاک</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/world/Syria-Homs-09Feb12-139025929.html</link>
				<description>شام کے حکام باغیانہ کارروائیوں کا الزام مسلح دہشت گردوں پر لگاتے ہیں اور ان کا کہناہے کہ حالیہ دنوں میں ہونے والے کئی حملوں کی ذمہ داری ان ہی دہشت گردوں پر عائد ہوتی ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہناہے کہ وسطی شہر حمص میں سرکاری فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں&nbsp; اور حزب اختلاف کے گیارہ ماہ سے جاری حکومت مخالف مظاہروں کو پرتشدد طریقوں سے روکنے کی حالیہ لہر میں کم ازکم 24 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔</p>
<p>
<object width="480" height="350" data="http://media.voanews.com/designvideo/slideshowXML.swf?xmlfile=http://www.voanews.com/templates/SlideshowPro.xml?contentid=139011874&amp;xmlfiletype=Default" type="application/x-shockwave-flash">
<param name="data" value="http://media.voanews.com/designvideo/slideshowXML.swf?xmlfile=http://www.voanews.com/templates/SlideshowPro.xml?contentid=139011874&amp;xmlfiletype=Default" />
<param name="name" value="slideshowXML" />
<param name="bgcolor" value="#ffffff" />
<param name="align" value="middle" />
<param name="src" value="http://media.voanews.com/designvideo/slideshowXML.swf?xmlfile=http://www.voanews.com/templates/SlideshowPro.xml?contentid=139011874&amp;xmlfiletype=Default" />
<param name="allowfullscreen" value="true" />
<param name="quality" value="high" />
</object>
</p>
<p>جمعرات کے روز شہر کے متعدد اضلاع کو گولاباری کا نشانہ بنایا گیا ۔ سرگرم کارکنوں کا کہناہے کہ ہفتے کی صبح سے شروع ہونے والی&nbsp; سرکاری فورسز کی ان تازہ کارروائیوں میں اب تک سینکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔</p>
<p>شام کی جانب سے آزادانہ خبروں کی ترسیل پر پابندیوں کے باعث لڑائیوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کی تصدیق ممکن نہیں ہے۔</p>
<p>شام کے حکام باغیانہ کارروائیوں کا الزام مسلح دہشت گردوں پر لگاتے ہیں اور ان کا کہناہے کہ حالیہ دنوں میں ہونے والے کئی حملوں کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے جن میں حمص میں کاربم دھماکے کا واقعہ بھی شامل ہے۔</p>
<p>چین ، جس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام پر قرار داد کے موقع پر روس کا ساتھ دیا تھا، کہناہے کہ وہ شام میں حزب اختلاف کے گروپوں کے ساتھ تعلق قائم کرنے اور ان کے ساتھ رابطوں میں رہنے کا خواہش مند ہے۔ جمعرات کو چین کا یہ اعلان ، اس ہفتے شام کی حکومت مخالف تنظیموں کے بیجنگ کے دورے&nbsp; میں&nbsp; حکام کے ساتھ بات چیت کے بعد سامنے آیا ہے۔</p>
<p>شام کے صدر بشارالاسد نے حکومت مخالفین کےساتھ بات چیت کے لیے نائب صدر فاروق الشرع کے تقرر کا وعدہ کیاہے ۔ لیکن حزب اختلاف کی تنظیموں نے حکومت کے ساتھ بات چیت کو مسترد کردیا ہے۔</p>
<p>ایک اور خبرکےمطابق جمعرات کو جرمنی نے کہاکہ وہ&nbsp; ملک میں شام کی حکومت مخالف تنظیموں کی جاسوسی کے شبے میں دوافراد کی گرفتاری کے بعد برلن میں واقع شام کے سفارت خانے سے منسلک چار سفارت کاروں کو ملک سے نکال رہاہے۔</p>
<p>جرمنی کی وزارت خارجہ نے منگل کی گرفتاریوں کے بعد اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ شام کے سفیر کو طلب کرکے یہ بتادیا گیا ہے کہ جرمنی اس طرح کا طرزعمل برداشت نہیں کرے گا۔ گرفتار کیے گئے افراد میں سے ایک شام کاشہری ہے جب کہ دوسرے کے پاس جرمنی اور لبنان کی قومیت ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 9 Feb 2012 17:44:48 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139025929</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-09T17:44:48Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[دنیا]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Reuters+Syria+smoke+9Feb12+230.jpg" medium="image" isDefault="true" height="306" width="306" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>امریکی اخبارات سے: افغان خانہ جنگی کا حل</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/usa/US-Press-Roundup-09Feb12-139030734.html</link>
				<description>امریکی عہدہ داروں کا یہ تاثُّر پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ افغان صدر حامد کرزئی، امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی سنجیدہ کوششوں کی راہ میں رکاوٹ ہیں: اخباری رپورٹ</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>کیا افغانستان ایک پُر امن مستقبل کی طرف جا رہا ہے؟&nbsp; اس پر &rsquo;لاس انجلس ٹائمز&lsquo; کہتا ہے کہ پیٹر تھامسن کی نظر میں جو اس ملک میں چار سال تک امریکی سفیررہ چکے ہیں، افغانستان کی&nbsp; خانہ&nbsp; جنگی&nbsp; کے حل کے لئے ضروری ہےکہ یہ افغان عوام کی اپنی کوششوں کا نتیجہ ہو۔</p>
<p>لیکن، جیسا کہ اخبار کی نامہ نگار لارا کِنگ کابل سے، ایک مراسلے میں بتاتی ہیں، امریکی عہدہ داروں کا یہ تاثُّر پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ طالبان کےساتھ مذاکرات شروع کرنےکی جو بھی سنجیدہ کوشش امریکہ کرتا ہے اس میں افغان صدر حامد کرزئی سب سے بڑی رکاوٹ بنتے ہیں۔ اخبار کا سوال ہے کہ اگر افغانوں کویہ مسئلہ خود حل کرنا ہے اور افغانوں کے درمیان اس پر اتّفاق رائے&nbsp; نہیں کہ یہ مسئلہ کیونکر حل ہوگا،&nbsp; تو پھر حل کیسے آئے گا۔</p>
<p>اخبار کہتا ہے کہ دوسری بار منتخب ہونے کے بعد مسٹر کرزئی بار بار کہہ چکے ہیں کہ&nbsp; ان کی اولین ترجیح یہ ہے کہ اس خُونی جنگ کا&nbsp; کوئی سیاسی تصفیہ ہو۔ لیکن&nbsp; انہوں نے امریکہ کی&nbsp; اُن کوششوں میں باربارروڑے اٹکائے ہیں جن کا مقصد باغیوں کو مذاکرات کی میز پر لانا تھا۔ اور انہوں نے کئی ایسے اقدامات کئے جن کا مقصد جان بوجھ کر امریکہ کو اشتعال دلانا تھا۔</p>
<p>&rsquo;لاس انجلس ٹائمز&lsquo; کہتا ہے کہ طالبان کی طرف سے امریکہ کے ساتھ مفاہمت&nbsp; کے مقصد سے&nbsp; قطر میں&nbsp; ایک دفتر&nbsp; کھولنے سے قبل&nbsp; مسٹر کرزئی نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا&nbsp; تھا&nbsp; کہ یہ رابطے نہ ہوں۔ بلکہ انہوں نے قطر سے&nbsp; اپنا سفیر بھی واپس بلالیا&nbsp; تھا۔ اور شکایت&nbsp; کی تھی کہ ان کی حکومت کو ان اہم مذاکرات&nbsp; سے بے خبر رکھا گیا تھا۔ امریکی دباؤ کے تحت مسٹر کرزئی نے بادل ناخواستہ&nbsp; قطر&nbsp; کے اس انتظام&nbsp; کو قبول کیا تھا۔</p>
<p>لیکن، اس کے چند ہفتوں کے اندرمسٹر کرزئی نے سعودی عرب میں باغیوں کے ساتھ&nbsp; متوازی مذاکرات کرنے کی کوشش کی تھی، اور یہ شکایت کی تھی&nbsp; کہ انہیں کلیدی گُفت و شنید سے بے خبر رکھا گیا تھا۔ خود باغیوں نے اس کی تردید کر دی تھی کہ&nbsp; اُن کا سعودی&nbsp; عرب میں&nbsp; مذاکرات کرنے کا کوئی ارادہ تھا۔</p>
<p>پچھلے ہفتے مسٹر کرزئی نے دورے پر آئی ہوئی پاکستانی&nbsp; وزیر خارجہ حنا ربّانی&nbsp; کھر کی حمایت&nbsp; حاصل&nbsp; کرنے کی کوشش کی، جنہوں نےایک نیوز کانفرنس کو بتا یا کہ پاکستان امن کے ایسے عمل&nbsp; کا حامی ہے&nbsp; جس کی&nbsp; قیادت&nbsp; افغانوں کے ہاتھ میں ہو۔ اس میں اشارتہً&nbsp; یہ انتباہ&nbsp; تھا کہ قطرمیں متوقع امن مذاکرات جو رُخ اختیار&nbsp; کرتے ہیں۔ اس پرامریکہ کا بُہت زیادہ تصرُف نہ ہو ۔&nbsp;&nbsp;&nbsp;</p>
<p>اخبارکہتا ہے کہ اس کے نتیجے میں امریکہ اور اس کے اتّحادیوں کے لئے تکلیف دہ سہی۔&nbsp;&nbsp;&nbsp; انہیں&nbsp; اعلانیہ یہ کہنا پڑ رہا&nbsp; ہے&nbsp; کہ امن کا کوئی بھی عمل&nbsp; افغان قیادت میں ہوگا،باوجودیکہ طالبان کرزئی انتظامیہ کو غیر متعلّق&nbsp; سمجھتے ہیں۔ اخبار کہتا ہے کہ صدر کرزئی کی مایوسی اس وجہ سے بھی ہے کہ انہوں نے اپنے طور سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی راہ کھولنے کی جو سرتوڑ کوشش کی تھی وہ بُری طرح ناکام ہوئی تھی۔</p>
<p>اخبار کہتا ہے باہمی عدم اعتماد کے ہوتے ہوئے طالبان اور امریکی عہدیدار اشارہ دے چکے ہیں کہ قطر مذاکرات سے پہلے اعتماد سازی کےاقدام ہوں، مثلاً قیدیوں کا تبادلہ یا افغانستان کے بعض علاقوں میں محدود جنگ بندی۔&nbsp; لیکن مسٹر کرزئی جتا چکے ہیں کہ ایسے اقدامات&nbsp; اُنہیں کے دستخطوں سے&nbsp; ہونگے۔</p>
<p>&rsquo;وال سٹریٹ جرنل&lsquo; کے مطابق ایسے میں جب&nbsp; شام کے شہر حامز میں سرکاری&nbsp; فوجوں کی ٹینکوں اور&nbsp; راکیٹوں&nbsp; سے گولہ بار ی جاری ہے اور&nbsp; پانچ دن سے محصور&nbsp; اس شہر میں درجنوں مزید لوگ ہلاک ہوئے ہیں، تُرکی نے جس قدرجلد ممکن ہو ایک&nbsp; بین الاقوامی&nbsp; سربراہ اجلاس طلب کیا ہے&nbsp; جس میں وسط مشرقی اور عالمی طاقتیں شرکت کریں گی ا ور صدر بشارالاسد&nbsp; پر اقتدار سے الگ&nbsp; ہونے پر&nbsp; زور دیں گی۔ ترکی کے وزیر خارجہ&nbsp; احمد داؤد اوغلُو نے&nbsp; کہا ہے کہ ہم شام کو اپنے حال&nbsp; پر&nbsp; نہیں چھوڑیں گے۔</p>
<p>اخبار &rsquo;نیو یارک نیوز ڈے&lsquo; کہتا ہے نیویارک کی ریاست میں دو عشروں سے یہ بحث&nbsp; جاری&nbsp; ہے کہ&nbsp; کلیساؤں کو پبلک سکولوں کی عمارات میں عبادت کی سروس منعقد کرنے کی اجازت ہونی چاہئے۔</p>
<p>ایک ادارئے میں اخبار کہتا ہے کہ ان سروسز سے کلیسا کو مملکت سےعلیٰحدہ رکھنے کے مروّجہ اصولوں کی&nbsp; خلاف ورزی ہوتی ہے۔</p>
<p>نیویارک شہر کے عہدہ داروں کی یہ کوشش کہ اس کی اجازت نہ ہو۔ سنہ1994 سے مختلف عدالتوں کے زیر سماعت رہی ہے اور اب ایک وفاقی عدالت نے بالآخر اسے ممنوع قرار دیا ہے۔ لیکن اس نے یہ واضح نہیں کیا کہ&nbsp; آیا&nbsp; ان عمارات میں سکول کے اوقات کے بعد ایسی سروسز&nbsp;&nbsp; آئین کے خلاف ہونگی۔</p>
<p>آڈیو رپورٹ سنیئے:</p>
<p>
<object classid="clsid:02bf25d5-8c17-4b23-bc80-d3488abddc6b" width="258" height="46" codebase="http://www.apple.com/qtactivex/qtplugin.cab#version=6,0,2,0">
<param name="src" value="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+0100++US+PRESS+ROUNDP+FEB+09-+12+++++++-++SDA.Mp3" /><embed type="video/quicktime" width="258" height="46" src="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+0100++US+PRESS+ROUNDP+FEB+09-+12+++++++-++SDA.Mp3">&nbsp;</embed>
</object>
</p>
<p>&nbsp;</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 9 Feb 2012 18:52:31 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139030734</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[صلاح الدین احمد]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-09T18:52:31Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[ امریکہ]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/AFGHANISTAN+Karzai+230.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>ایران پرحملے کے اثرات پوری مسلم دنیا پرمرتب ہوں گے:پاکستانی سفیر </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/world/Iran_Envoy_09Feb12-139058454.html</link>
				<description>’  اسرائیل کو کسی پر بھی حملہ نہیں کرنا چاہئیے، اور تمام  معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنا  چاہئیے‘</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر، واجد شمس الحسن کا کہنا ہےکہ اگر اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو اُس کے اثرات پوری مسلم دنیا پرمرتب ہونگے، خاص طور پر پاکستان اور بھارت کے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والےحضرات&nbsp; &rsquo;اِس سے لاتعلق نہیں رہ سکتے&lsquo;۔</p>
<p>جمعرات کو &rsquo; وائس آف امریکہ&lsquo; اردو سروس سے بات کرتے ہوئے،&nbsp; اُن کا کہنا تھا کہ جِس&nbsp; برطانوی اخبار کو اُنھوں نے انٹرویو دیا اُس نے اُن کی بات &nbsp;کو، &rsquo; توڑ مروڑ کر پیش کیا&lsquo;۔&nbsp;</p>
<p>پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ &rsquo;میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ صرف پاکستان پر ہی اِس کے اثرات مرتب ہونگے، بلکہ میں نے کہا تھا کہ، &nbsp;پورے خطے پر اِس کے گہرے اثرات مرتب ہونگے&lsquo;۔</p>
<p>تاہم، جب اُن سے پوچھا گیا&nbsp; کہ&nbsp; حملے کی صورت میں پاکستان کا کیا اقدام ہو گا، تو اُن کا کہنا تھا کہ &rsquo;پاکستان اور ایران کی دوستی ہے، اور ایران ہمارا بہت پرانا دوست ہے&lsquo;۔</p>
<p>واجد شمس الحسن کا کہنا تھا کہ&nbsp; ایسے کسی حملے کی صورت میں باقی اثرات کےعلاوہ، &rsquo;دہشت گردی کے بڑھ جانے کا خدشہ ہوگا&lsquo;۔</p>
<p>اُن کا کہنا تھا کہ&rsquo; عرب ممالک بھی، اپنے اختلافات &nbsp;بھلا کر، اسرائیل کے خلاف ایران کا ساتھ دیں گے&lsquo;۔</p>
<p>تاہم، اُنھوں نے کہا کہ، &rsquo;اسرائیل کو کسی پر بھی حملہ نہیں کرنا چاہئیے، اور تمام معاملات کو افہام و تفہیم سےحل کرنا چاہئیے&lsquo;۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 00:42:24 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139058454</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[انجم ہیرلڈ گِل]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-10T00:42:24Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[دنیا]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Wajid-Shamsul-Hasan-300X300.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>’سوئس حکام کو خط لکھنے میں تاخیر نقصان دہ ہو سکتی ہے‘</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/court-appeal-09feb12-138987019.html</link>
				<description>اگر حکومت عدالتی فیصلے کے مطابق سوئس حکام کو خط لکھ دے تو  توہین عدالت کے معاملے پر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو جاری کیا گیا اظہار کا وجوہ نوٹس واپس لے لیا جائے گا۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>پاکستان کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ صدر آصف علی زرداری کے خلاف سوئٹرزلینڈ میں قائم مبینہ بدعنوانی کے مقدمات کو دوبارہ کھولنے کے لیے اگر خط لکھ دیا جائے تو توہین عدالت کے معاملے پر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو جاری کیا گیا اظہار کا وجوہ نوٹس واپس لے لیا جائے گا۔</p>
<p>مسٹر گیلانی پر توہین عدالت کے الزام میں فرد جرم عائد کرنے کے عدالتی فیصلے کے خلاف &rsquo;انٹرا کورٹ&lsquo; اپیل کی جمعرات کو عدالت عظمیٰ کے آٹھ رکنی بینچ کے سامنے سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ حکومت کی جانب سے سوئس حکام کو خط لکھنے میں مزید تاخیر نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
<p>اُنھوں نے وزیراعظم گیلانی کے وکیل اعتزاز احسن کی تیار کردہ 200 صفحات پر مشتمل اپیل میں عدلیہ سے متعلق اُن حوالوں پر بھی اعتراضات اُٹھائے جن میں جج صاحبان کی رہائی اور بعد ازاں بحالی کے علاوہ سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف توہین عدالت کا ذکر کیا گیا تھا۔</p>
<p>چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا کہنا تھا کہ ان حوالوں سے بظاہر یہ تاثر ملتا ہے کہ مسٹر گیلانی اپنے اقدامات کے بدلے میں عدالت سے ریلیف چاہتے ہیں۔</p>
<p>لیکن اعتزاز احسن نے اپنے موکل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ججوں کی بحالی سے متعلق مسٹر گیلانی کے فیصلوں کا ذکر کرنے کا مقصد عدالتی کارروائی پر ہرگز اثر انداز ہونا نہیں۔ اُنھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ متعلقہ مندرجات کو اپیل سے حذف کر دیا جائے، جس کو قبول کر لیا گیا۔</p>
<p>مقدمے کی سماعت جمعہ تک ملتوی کر دی گئی اور وکیل صفائی کو دن 11 بجے تک اپنے دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔</p>
<p>اس سے قبل جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے 2 فروری کو جاری کیے گئے اپنے حکم نامے میں وزیراعظم گیلانی پر 13 فروری کو فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے انھیں عدالت کے روبرو پیش ہونے کی ہدایت کی تھی۔</p>
<p>اعتزاز احسن نے اپنے موکل کی جانب سے بدھ کو &rsquo;انٹرا کورٹ&lsquo; اپیل دائر کی تھی جس میں عدالتی فیصلے پر 50 سے زائد قانونی اعتراضات اٹھائے تھے۔</p>
<p>متنازع قومی مصالحتی آرڈیننس یا این آر او کو کالعدم قرار دینے سے متعلق عدالت عظمٰی کے فیصلے پر عمل درآمد میں تاخیر کی پاداش میں سپریم کورٹ نے وزیراعظم گیلانی کو اس سے قبل 19 جنوری کو طلب کیا تھا جس کو بجا لاتے ہوئے وہ عدالت میں پیش بھی ہوئے تھے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 07:09:20 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138987019</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-10T07:09:20Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/PM-SC_main.jpg" length="54492" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/PM-SC_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Iftikhar_Chaudhry_Chief_+Justice_Pakistan.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>صومالی تنظیم 'الشباب' کا 'القاعدہ' سے الحاق</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/world/Somalia_AlShabab_AlQaida_09Feb12-139048869.html</link>
				<description>تنظیم کو مشرقی افریقہ کے لیے ایک بڑھتا ہوا خطرہ قرار دیا جارہا ہے جس کے سدِ باب کے لیے پڑوسی ممالک کینیا اور ایتھوپیا کی حکومتوں نے اپنے فوجی دستے صومالیہ بھیج رکھے ہیں</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>'القاعدہ' کے ایک رہنما نےدعویٰ کیا ہےکہ مسلح صومالی تنظیم 'الشباب' نے دہشت گردی کے عالمی نیٹ ورک سے الحاق کرلیا ہے۔</p>
<p>انٹرنیٹ پہ القاعدہ کی سرگرمیوں کے نگران ادارے'سائیٹ انٹیلی جنس گروپ' کے مطابق القاعدہ کے سربراہ ایمن الزواہری نے جمعرات کو جاری کیے گئے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں اس خبر کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p>ادارے کے مطابق اپنے پیغام میں الظواھری نے"خوش خبری" دیتے ہوئے کہا ہے کہ "یہودی اور صلیبی مہم جوئی" کے خلاف جدوجہد میں 'الشباب' القاعدہ کی جہادی تحریک میں شامل ہوگئی ہے۔</p>
<p>اس سے قبل 'الشباب' القاعدہ سے منسلک ہونے کا اعلان کرچکی ہے اور گزشتہ برس عالمی نیٹ ورک کے سربراہ اسامہ بن لادن کی امریکی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد جون میں صومالی تنظیم نے بن لادن کے جانشین الزواہری سے وفاداری نبھانے کا اعلان کیا تھا۔</p>
<p>'الشباب' گزشتہ پانچ برسوں سے صومالیہ میں اقوامِ متحدہ کی اعانت سے قائم حکومتی انتظام کا تختہ الٹ کر ملک میں اسلامی شریعت کے نفاذ کے لیے کمزور عبوری حکومت کے خلاف کاروائیوں میں مصروف ہے۔</p>
<p>تنظیم کو مشرقی افریقہ کے لیے ایک بڑھتا ہوا خطرہ قرار دیا جارہا ہے جس کے سدِ باب کے لیے پڑوسی ممالک کینیا اور ایتھوپیا کی حکومتوں نے اپنے فوجی دستےصومالیہ بھیج رکھے ہیں۔</p>
<p>تنظیم کے جنگجووں اور علاقائی ممالک کے اتحاد 'افریقی یونین' کے فوجی دستوں کے مابین بھی صومالی دارالحکومت موغادیشو میں جھڑپیں آئے روز کا معمول ہیں۔</p>
<p>امریکی حکومت نے'الشباب' کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 9 Feb 2012 22:29:39 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139048869</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-09T22:29:39Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[دنیا]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/AP110217138665_Somalia_alShabab_05AUG11.jpg" length="112253" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP110217138665_Somalia_alShabab_05AUG11.jpg" medium="image" isDefault="true" height="374" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP110217138665_TEASE_Somalia_alShabab_05AUG11.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>انڈونیشیا:  پیر سے بالی بم دھماکوں کے مقدمے کی سماعت </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/world/Indonesia-Terror-Trial-09Feb12-139026814.html</link>
				<description>2002ء کے بالی بم دھماکوں میں، انڈونیشیا کے تفریحی جزیرے، بالی، پر دہشت گرد حملوں میں 200 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں بڑی تعداد میں غیر ملکی سیاح بھی شامل تھے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>انڈونیشیا نے کہاہے کہ پیر کے روز سے&nbsp; 2002ء کے بالی بم دھماکوں کے مقدمے کی سماعت ایشیا کے ایک انتہائی مطلوب مشتبہ دہشت گرد کے خلاف شروع ہورہی ہے۔ انڈونیشیا کے اس تفریحی جزیرے پر دہشت گرد حملوں میں 200 سے زیادہ افرا دہلاک ہوگئے&nbsp; تھے جن میں بڑی تعداد میں غیر ملکی سیاح بھی شامل تھے۔</p>
<p>پراسیکیورٹرز نے مغربی جکارتہ کی ایک عدالت سے کہا ہے کہ&nbsp; مشتبہ دہشت&nbsp; گرد عمر پاتک&nbsp;&nbsp; پر لوگوں کو منصوبہ بندی کے تحت ہلاک کرنے اور بالی کے نائٹ کلبوں میں حملوں کے لیے استعمال کیے جانے والے بم تیار کرنے کا الزام عائد کرے۔</p>
<p>عمر پاتک کو 2000ء میں کرسمس کی شام کے موقع پر دارلحکومت میں گرجاگھروں پر مہلک حملوں میں اپنے مبینہ کردار کی بنا پر اس سے ملتے جلتے الزامات کا بھی سامنا ہے ۔</p>
<p>پاتک کو جنوری 2001ء میں ایبٹ آباد سے گرفتارکرنے کے بعد انڈونیشیا بھیج دیا گیاتھا۔&nbsp;</p>
<p>بعدازاں ایبٹ آباد میں امریکی کمانڈوز نے ایک خفیہ کارروائی کے دوران گذشتہ سال دو مئی کو القاعدہ کے راہنما اسامہ بن لادن کو ہلاک کردیاتھا۔</p>
<p>انڈونیشی حکام کا کہناہےکہ پاتک اپنی گرفتاری سے قبل&nbsp; اسامہ بن لادن سے ملاقات کی کوشش کررہاتھا۔</p>
<p>حکام&nbsp; نے یہ بھی کہاہے کہ پاتک نے بالی کے بم دھماکوں میں اپنے کردار کا اقرار کرلیا ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 9 Feb 2012 17:58:01 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139026814</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-09T17:58:01Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[دنیا]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_indonesia_sabang_230_february2009.jpg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																																																		</item>
													
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>امریکہ میں نئے جوہری بجلی گھروں کی تعمیر</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/usa/US_Nuclear_Power_Plants_09Feb12-139036734.html</link>
				<description>جن نئے ری ایکٹرز کی منظوری دی  گئی ہے اُن کی تعمیری لاگت کا تخمینہ 14 ارب ڈالرز لگایا ہے اور وہ 2016ء اور 2017ء تک پیداوار شروع کردیں گے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکہ میں جوہری سرگرمیوں کے منتظم ادارے نے تین عشروں کے تعطل کے بعد ملک میں نئے جوہری بجلی گھروں کی تعمیر کی منظوری دیدی ہے۔</p>
<p>بجلی کی پیداوار کے مقامی ادارے 'سدرن کمپنی' نے جنوبی ریاست جارجیا میں واقع 'واگٹیل' نامی اپنے بجلی گھر میں دو نئے جوہری ری ایکٹرز تعمیر کرنے کی اجازت مانگی تھی جسے 'نیوکلیئرریگولیٹری کمیشن (این آر سی)' نے جمعرات کو منظور کرلیا۔</p>
<p>واضح رہے کہ امریکہ میں اس وقت کل 104 جوہری ری ایکٹرز کام کر رہے ہیں اور ملک میں بجلی کی کل پیداوار کا 20 فی صد فراہم کرتے ہیں۔</p>
<p>اِس سے قبل 'این آر سی' نے آخری بار 1978ء میں جوہری بجلی گھر کی تعمیر کا لائسنس جاری کیا تھا جس کے ایک برس بعد امریکی ریاست پنسلوانیا کے علاقے 'تھری مائل آئی لینڈ' میں قائم جوہری بجلی گھر میں رونما ہونے والے ایک حادثے کے بعد عوامی فضا جوہری بجلی گھروں کی تعمیر کے حق میں نہیں رہی تھی۔</p>
<p>اس کے علاوہ معاشی بحران، جوہری بجلی&nbsp; کی پیداواری لاگت میں اضافہ اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں کمی کے سبب بھی نئے جوہری ری ایکٹرز کی تعمیر کے لیے دائر درخواستوں&nbsp; میں کمی آئی تھی جب کہ گزشتہ برس جاپان کے 'فوکو شیما جوہری بجلی گھر' کے حادثے کے بعد امریکی جوہری بجلی گھروں کی صنعت کو کڑی نگرانی&nbsp; اور جانچ پڑتال سے گزرنا پڑا تھا۔</p>
<p>'این آر سی' نے جن نئے ری ایکٹرز کی منظوری دی ہے ان کی تعمیری لاگت کا تخمینہ 14 ارب ڈالرز لگایا ہے اور وہ 2016ء اور 2017ء تک پیداوار شروع کردیں گے۔</p>
<p>نئے ری ایکٹرز کی منتظم کمپنی پہلے ہی مجوزہ تعمیرات کے لیے مختص زمین کی تیاری پر کئی لاکھ ڈالرز خرچ کرچکی ہے&nbsp; جہاں پہلے ہی کمپنی کے زیرِ انتظام دو دوسرے جوہری ری ایکٹرز بجلی پیدا کر رہے ہیں۔</p>
<p>امریکی محکمہ توانائی نے مذکورہ منصوبے کے لیے آٹھ ارب ڈالرز سے زائد کے ضمانتی قرضے کی منظوری دی ہے۔</p>
<p>دریں اثنا نو مختلف رضاکار تنظیموں نے نئے ری ایکٹرز کی تعمیر کے لائسنسوں کے اجراء کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کا عندیہ دیا ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 9 Feb 2012 20:04:18 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139036734</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-09T20:04:18Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[ امریکہ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/ap_us_nuclear_plant_vogtle_480_april2010.jpg" length="45279" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_us_nuclear_plant_vogtle_480_april2010.jpg" medium="image" isDefault="true" height="320" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_us_nuclear_plant_vogtle_230_april2010.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
													
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>پاک امریکہ تعلقات کی جلد بحالی پر زور</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan/US-Pakistan-Diplomacy-09Feb12-139008949.html</link>
				<description>کیمرون منٹر نے کہا کہ تعلقات معمول پر آنے سے افغانستان میں امن و استحکام کی کوششوں کو بھی تقویت ملے گی۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>پاکستان میں امریکہ کے سفیر کیمرون منٹر نے دوطرفہ تعلقات کی جلد از جلد بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں جاری پارلیمانی عمل مکمل ہونے کے منتظر ہیں۔</p>
<p>اسلام آباد میں جمعرات کو ایک تقریب میں شرکت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ مسائل کا بہترین حل مذاکرات ہی ہوتے ہیں۔</p>
<p>امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ پاک امریکہ تعلقات معمول پر آنے سے افغانستان میں امن و استحکام کی کوششوں کو بھی تقویت ملے گی۔</p>
<p>اُنھوں نے مہمند ایجنسی میں سرحدی چوکیوں پر نیٹو کے حملے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے ایک مرتبہ پھر کہا کہ یہ &rsquo;غیر ارادی&lsquo; تھا۔</p>
<p>&rsquo;&rsquo;ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ایک دوسرے سے رابطے برقرار رکھیں اور ایسا طریقہ کار وضع کریں جس کی مدد سے مستقبل میں ایسے واقعات سے محفوظ رہا جا سکے۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>کمیرون منٹر نے پاک افغان سرحد پر رابطوں کو موثر بنانے کے لیے بدھ کو پاکستان، افغانستان اور نیٹو کے فوجی حکام کے مابین ہونے والے اجلاس کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسائل کو حل کرنے کا یہ ہی طریقہ ہے۔</p>
<p>اعلیٰ عسکری عہدیداروں کا یہ اجلاس سرحدی علاقے طورخم میں قائم فوجی رابطوں کے ایک مشترکہ مرکز میں ہوا تھا۔ مہمند ایجنسی میں نیٹو کے فضائی حملے کے بعد &nbsp;تینوں ممالک کا یہ پہلا فوجی رابطہ تھا۔</p>
<p>مہمند ایجنسی میں سرحدی چوکیوں پر نیٹو کے مہلک حملے پر پاکستان نے سخت ردعمل کے طور اپنی سرزمین کے راستے افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کو رسد کی ترسیل پر پابندی عائد کر دی تھی جو تاحال برقرار ہے۔</p>
<p>لیکن کمیرون منٹر نے جمعرات کو انکشاف کیا کہ افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کو رسد کی فراہمی کے لیے پاکستانی فضائی حدود کا استعمال جاری ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 9 Feb 2012 14:39:18 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139008949</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[محمد اشتیاق]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-09T14:39:18Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/US_Ambassador_Cameron_Munter_480.jpg" length="75986" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/US_Ambassador_Cameron_Munter_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP+US+Amb+to+Pakistan+Cameron+Munter+300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>کانگریس کی کمیٹی میں بلوچستان پر بحث باعث تشویش</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan-us-balochistan-09feb12-139004144.html</link>
				<description>ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بظاہر امریکی انتظامیہ بھی پاکستان کا موقف بخوبی سمجھتی ہے  کیوں کہ واشنگٹن میں محکمہ خارجہ نے کانگریس کی کمیٹی کی کارروائی سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>پاکستان نے کہا ہے کہ امریکی کانگریس کی ذیلی کمیٹی کی جانب سے صوبہ بلوچستان کی صورت حال پر کرائی گئی سماعت اس کے لیے باعث تشویش ہے۔</p>
<p>وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے جمعرات کو اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا &rsquo;&rsquo;ہم نے واشنگٹن اور اسلام آباد میں متعلقہ امریکی حکام سے رابطہ کرکے اُنھیں اپنے تحفظات سے آگاہ کر دیا ہے۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>اُنھوں نے کہا کہ بظاہر امریکی انتظامیہ بھی پاکستان کا موقف بخوبی سمجھتی ہے کیوں کہ واشنگٹن میں محکمہ خارجہ نے کانگریس کی کمیٹی کی کارروائی سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p>امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان وِکٹوریا نولنڈ نے بدھ کو واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلوچستان کے معاملے پر امریکہ کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔</p>
<p>&rsquo;&rsquo;ہم بلوچستان کے تمام فریقین کو اپنے اختلافات پُرامن اور سیاسی عمل کے ذریعے حل کرنے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>ادھر پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں اراکین نے امریکی کانگریس کی کمیٹی کے اقدام کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس کو ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا۔</p>
<p>کانگریس کی کمیٹی کی عوامی سماعت میں پانچ امریکی قانون سازوں کے علاوہ حقوق انسانی کی علم بردار تنظیموں کے نمائندوں اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی تھی۔</p>
<p>بریفنگ کے شرکاء نے پاکستانی صوبے میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا دعویٰ کرتے ہوئے ان میں سے بیشتر کا الزام سرکاری سکیورٹی فورسز پر عائد کیا تھا۔</p>
<p>البتہ بریفنگ میں اس بات کا بھی اعتراف کیا گیا کہ کالعدم بلوچ انتہاپسند تنظیمیں صوبے میں ہدف بنا کر قتل اور تشدد کے دیگر واقعات میں ملوث ہیں۔</p>
<p>حکمران پاکستان پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ سابق ادوار میں اپنائی گئی بعض پالیسیوں کی وجہ سے بلوچ عوام احساس محرومی کا شکار رہے، جس کو دور کرنے کے لیے حکومت نے &rsquo;&rsquo;آغازِ حقوقِ بلوچستان&lsquo;&lsquo; کے نام سے ایک جامع ترقیاتی منصوبہ شروع کر رکھا ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے بدھ کو اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ حکومت بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے بلوچ قائدین سے بامعنی مذاکرات پر یقین رکھتی ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 9 Feb 2012 13:10:35 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139004144</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[یاسر علی منصوری]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-09T13:10:35Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/abdul+basit+spokesman_480.jpg" length="55528" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/abdul+basit+spokesman_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/abdul+basit+spokesman_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
													
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>شمالی وزیرستان: ڈرون حملے میں اہم عسکریت پسند رہنما ہلاک</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan-drone-09feb12-138994104.html</link>
				<description>افغان سرحد سے ملحق اس قبائلی علاقے میں 24 گھنٹوں کے دوران یہ دوسرا میزائل حملہ ہے۔ بدھ کو میران شاہ بازار کے قریب سپلگاہ نامی علاقے میں ڈرون حملے میں 10 شدت پسند ہلاک ہوئے تھے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مبینہ امریکی ڈرون حملے میں القاعدہ سے منسلک ایک اہم عسکریت پسند رہنما سمیت کم از کم چار مشتبہ شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔</p>
<p>انٹیلی جنس عہدے داروں کا کہنا ہے کہ جمعرات کو علی الصباح بغیر پائلٹ سے داغے گئے ان میزائلوں کا ہدف عسکریت پسندوں کے زیر استعمال ایک مکان ہے جس میں عسکریت پسند رہنما بدر منصور بھی مارا گیا۔</p>
<p>حکام کے مطابق بدر منصور پاکستانی طالبان کے ایک گروپ کا سربراہ تھا جس کے علاقے میں القاعدہ کے قریبی روابط تھے۔</p>
<p>افغان سرحد سے ملحق اس قبائلی علاقے میں 24 گھنٹوں کے دوران یہ دوسرا میزائل حملہ ہے۔ بدھ کو میران شاہ بازار کے قریب سپلگاہ نامی علاقے میں ڈرون حملے میں 10 شدت پسند ہلاک ہوئے تھے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 9 Feb 2012 06:34:21 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138994104</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-09T06:34:21Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/US_Seychelles_drone_480x300_AP.jpg" length="105943" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/US_Seychelles_drone_480x300_AP.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP+Seychelles+US+Drone+13Dec11+230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>جنوبی امریکی ریاستوں میں بارشوں کی کمی کے معیشت پراثرات</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/usa/Texas-Cattle-09Feb12-139028209.html</link>
				<description>سب سے بڑا مسئلہ گھاس کی عدم دستیابی ہے اور کسی دوسری جگہ سے مویشیوں کے لیے چارہ منگوانا  بہت مہنگا پڑتا ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکی شعبہ زراعت کا کہنا ہے کہا جنوبی ریاستوں میں&nbsp; شدید خشک سالی کے باعث ،&nbsp; امریکہ میں گلہ بانی کا پیشہ گزشتہ&nbsp; 60 برسوں میں مقبولیت کی&nbsp;&nbsp; سب سے کم سطح پر آ گیاہے۔ اس کی وجہ سے بڑے گوشت کی قیمتیں بھی&nbsp; 17 فیصد زیادہ ہو گئی ہیں۔ &nbsp;امریکی ریاست&nbsp; ٹیکساس میں مویشی پالنےوالے&nbsp; بڑی&nbsp; بے صبری سے بارش کے منتظر ہیں۔</p>
<p>مارک سکاٹ&nbsp; کے پاس پچھلے سال&nbsp; موجودہ تعداد سے&nbsp; تین گناہ زیادہ مویشی تھے لیکن بارشیں نہ&nbsp; ہونے کے باعث انھوں نے مویشی بیچنے شروع کر دیے تھے ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے ریوڑ میں 60 سے 70 فیصد مویشی فروخت کرچکاہوں کیونکہ&nbsp; خشک سالی&nbsp; بڑھتی جا رہی تھی۔</p>
<p>سکاٹ کا کہنا ہےکہ سب سے بڑا مسئلہ گھاس کی عدم دستیابی ہے اور کسی دوسری جگہ سے مویشیوں کے لیے چارہ منگوانا&nbsp; بہت مہنگا پڑتا ہے۔</p>
<p>سکاٹ نے اپنے کچھ مویشی ایسی&nbsp; ریاستوں میٕں بھیج دیے ہیں جہاں خشک سالی کا اثر زیادہ نہیں ہے۔لیکن انہیں اس پر&nbsp; اضافی اخراجات برداشت کرنے پڑے۔ لیکن&nbsp; ٹیکساس کے کچھ علاقوں میں&nbsp; حالیہ دنوں میں&nbsp; بارشوں کے باعث گھاس اگنے کے امکانات پیدا ہوگئے&nbsp; ہیں۔</p>
<p>ٹیکساس کی اے&nbsp; اینڈ ایم یونیورسٹی مکے ایک سائنس دان ڈیوڈ اینڈرسن ، ریاست ٹیکساس میں خشک سالی کے بعد مویشیوں پر اس کے&nbsp; اثرات پر&nbsp; تحقیق کررہے ہیں۔ ان کا کہناہے کہ اس سال ٹیکساس میں&nbsp; گوشت فراہم کرنے والے&nbsp; مویشیوں کی تعداد میں 1920ءکے بعد سے سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی ہے۔</p>
<p>ایڈرسن کاکہنا ہے کہ کچھ گلہ بانوں کو اس سال سردیوں میں بھی بارشیں نہ ہونے سے پریشانی کاسامنا کرنا پڑرہاہے، جس کااثر براہ راست مویشیوں پر پڑ رہاہے۔ جس کے باعث پچھلے سال امریکی گوشت کی برآمد ات میں 20 فیصد تک کم ہوچکا ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 9 Feb 2012 18:13:01 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139028209</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[گریگ فلیکس /ثاقب الاسلام]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-09T18:13:01Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[ امریکہ]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/1+Monks_Cowboys_+Brother+Placid+teaser.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>چین: جوہری بجلی گھر کی تعمیر کے خلاف احتجاج</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/world/China-Nuclear-09Feb12-139027944.html</link>
				<description>چین کے سرکاری اخبار 'گلوبل ٹائمز' نے منصوبے کے ناقد اور مقامی رضاکار سن بِن  کے حوالے سے کہا ہے کہ علاقے کے عوام مجوزہ بجلی گھر کو مقامی آبادی کے لیے ایک ٹائم بم سمجھتے ہیں</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>مشرقی چین کے حکام نے مرکزی حکومت سے علاقے میں جوہری بجلی گھر کی تعمیر کے منصوبے سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کیا ہے کیوں کہ اس سے زلزلوں کا شکار رہنے والے اس علاقے کی مقامی آبادی کی سلامتی خطرے میں پڑسکتی ہے۔</p>
<p>چین کے سرکاری اخبار 'گلوبل ٹائمز' کے مطابق چین کے مشرقی صوبے آنہوئی کی 'وانگ جیانگ' نامی کاؤنٹی&nbsp; کے حکام نے مجوزہ بجلی گھر کی تعمیر کےخلاف مہم کا آغاز کردیا ہے۔</p>
<p>اخبار کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال نومبر میں تیار کی گئی ایک رپورٹ میں مجوزہ بجلی گھر کی پائیداری پہ خدشات کا اظہار کیا گیا تھا جس کے گزشتہ ہفتے انٹرنیٹ کے ذریعے منظرِ عام پر آنے کے بعد اس معاملہ نے پورے ملک کی توجہ حاصل کرلی ہے۔</p>
<p>اخبار نے منصوبے کے ناقد اور مقامی رضاکار سن بِن&nbsp; کے حوالے سے کہا ہے کہ علاقے کے عوام مجوزہ بجلی گھر کو مقامی آبادی کے لیے ایک ٹائم بم سمجھتے ہیں۔</p>
<p>اخبار کے مطابق نومبر میں تیار کی گئی رپورٹ میں نشان دہی کی گئی تھی کہ بجلی گھر جس&nbsp; کاؤنٹی میں تعمیر کیا جارہا ہے وہ زلزلوں کی فالٹ لائن پر واقع ہے جہاں "زلزلوں کا آنا ایک معمول ہے"۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ منصوبے کے حوالے سے تیار کی گئی ماحولیاتی اثرات کی ابتدائی&nbsp; رپورٹوں میں علاقے کے 'فالٹ زون' پر واقع ہونے کا&nbsp; تذکرہ نہیں کیا گیا تھا۔</p>
<p>گزشتہ برس مارچ میں جاپان میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں 'فوکوشیما بجلی گھر' کے حادثے کے بعد مذکورہ چینی پلانٹ کا تعمیراتی عمل مزید تحقیقی مطالعے کی غرض سے معطل کردیا گیا تھا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 9 Feb 2012 18:09:39 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139027944</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-09T18:09:39Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[دنیا]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/PNN_Iran-nuclear_230.jpg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>مالدیپ: سابق صدر کے وارنٹ گرفتاری جاری</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/world/Maldieves-09Feb12-139027584.html</link>
				<description>سابق صدر محمد ناشید کی جماعت 'مالدیوین ڈیموکریٹک پارٹی' کے ایک عہدیدار کے مطابق ملک کی ایک عدالت نے سابق صدر اور ان کی کابینہ میں شامل سابق وزیرِ دفاع کی گرفتاری کا حکم دیا ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>مالدیپ کی عدالت نے حال ہی میں&nbsp; مستعفی ہونے والے ملک کے پہلے منتخب&nbsp; جمہوری صدر کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں جنہوں&nbsp; نے ملک میں رہنے اور قانونی کاروائی کا مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p>سابق صدر محمد ناشید کی جماعت 'مالدیوین ڈیموکریٹک پارٹی' کے ایک عہدیدار کے مطابق ملک کی ایک عدالت نے سابق صدر اور ان کی کابینہ میں شامل سابق وزیرِ دفاع کی گرفتاری کا حکم دیا ہے تاہم دونوں افراد کے خلاف عائد الزامات تاحال واضح نہیں ہوسکے ہیں۔</p>
<p>دریں اثنا سابق صدر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ انہیں جلد جیل بھیج دیا جائے گا۔ جمعرات کو اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محمد ناشید نے امید ظاہر کی کہ عالمی برادری&nbsp; مالدیپ کے سیاسی بحران&nbsp; پر فوری ردِ عمل کا اظہار کرے گی۔</p>
<p>سابق صدر کا مزید کہنا تھا&nbsp; کہ وہ قانونی کاروائی کے خوف سے ملک نہیں چھوڑیں گے کیوں کہ ان کے بقول ایسا کرنے سے "ملک&nbsp; ان لوگوں کے ہاتھ میں چلا جائے گا جو اسے تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں"۔</p>
<p>گزشتہ روز سابق صدر کے حامیوں اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپیں دارالحکومت مالے اور دیگر قریبی&nbsp; جزائر تک پھیل گئی تھیں۔ نیشنل پولیس کمشنر عبداللہ ریاض کے مطابق جھڑپوں کے دوران میں مظاہرین نے مختلف جزائر کے 18 تھانوں&nbsp; کو تباہ کردیا اور کئی سرکاری دفاتر میں توڑ پھوڑ کی۔</p>
<p>ملک کے نئے وزیرِ داخلہ محمد جمیل احمد کے بقول تشدد کی حالیہ لہر کی مالدیپ کی جدید تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔</p>
<p>یاد رہے کہ محمد ناشید نے ملک میں جاری احتجاجی مظاہروں اور پولیس افسران کی بغاوت کے بعد منگل کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔</p>
<p>صدر کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ گزشتہ تین ہفتوں سے جاری تھا جس کا آغاز صدر کی جانب سے 'مس کنڈکٹ' اور حزبِ اختلاف کے رہنماؤں کے ساتھ رعایت برتنے کے الزامات میں ملک کے ایک اعلیٰ جج&nbsp; کی گرفتاری کا حکم دینے کے ردِ عمل میں ہوا تھا۔</p>
<p>مالدیپ کے اس وقت کے نائب صدروحید حسن، ملک کی سپریم کورٹ اور اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے گرفتار جج کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔</p>
<p>سابق صدر نے اپنے استعفیٰ کو بغاوت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے نائب صدر پہ سازش میں شریک ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ تاہم وحید حسن نے، جو ناشید کے استعفیٰ کے بعد ملک کی صدارت سنبھالے ہوئے ہیں، سابق صدر کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 9 Feb 2012 18:04:55 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139027584</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-09T18:04:55Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[دنیا]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_maldives_former_president_7feb12_eng_230.jpg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																																																		</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>باکس آفس پر رواں ہفتے کامیاب اور ناکام ہونے والی فلمیں </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Bollywood-Box-Office-09Feb12-139027359.html</link>
				<description>چونکہ دوہفتے پہلے ریلیز ہونے والی ہٹ فلم ”اگنی پتھ“ ابھی سینماگھروں میں رش لے رہی ہے اس لئے ہوسکتا ہے ”ایک میں اور ایک تو“ کو فوری طورپر متوقع رسپانس نہ ملے </description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>نئی بالی ووڈ فلموں کی ریلیز کا &rsquo;جمعہ بازار &lsquo;کل لگنے جارہا ہے ۔ ویسے تو اس ہفتے دو فلموں کی ریلیز متوقع ہے جن میں عمران خان و کرینہ کپور کی &rdquo;ایک میں اور ایک تو&ldquo; جبکہ دوسری فلم &rdquo;ویلنٹائن نائٹ&ldquo;شامل ہے تاہم ان میں سے پہلی فلم کا لوگوں کو شدت سے انتظار ہے۔</p>
<p>فلمی صنعت پر نظر رکھنے والے کچھ مبصرین کے نزدیک چونکہ دوہفتے پہلے ریلیز ہونے والی ہٹ فلم &rdquo;اگنی پتھ&ldquo; ابھی سینماگھروں میں رش لے رہی ہے اس لئے ہوسکتا ہے &rdquo;ایک میں اور ایک تو&ldquo; کو فوری طور پر وہ رسپانس نہ ملے جس کی بہت زیادہ توقع کی جارہی ہے۔ دیکھیئے کیا ہوتا ہے۔ <br /><br /> پچھلے ہفتے ایک اور فلم &rdquo;گلی گلی چور ہے&ldquo; بھی ریلیز ہوئی تھی مگر فلم بینوں سے اسے کچھ خاص پسند نہیں کیا ۔بھارت سے موصولہ اطلاعات کے مطابق فلم نے ہفتے بھر میں صرف سوا تین کروڑ روپے کا بزنس کیا۔ویسے بھی &rdquo;اگنی پتھ&ldquo; نے جہاں اور دوسری فلموں کو اپنے سامنے کھڑا نہیں ہونے دیا وہیں &rdquo;گلی گلی ۔۔۔&ldquo;کو بھی اس نے پچھاڑ دیا۔ <br /><br /> &rdquo;اگنی پتھ&ldquo; کا ذکر نکلا ہے تو یہ بھی بتاتے چلیں کہ رہتک روشن اور پریانکا چوپڑا کی اداکاری اور کرن ملہوترا کی ڈائریکشن میں بنی یہ فلم ایک ارب روپے کا ہندسہ عبور کرچکی ہے ۔ فلم نے صرف ممبئی میں گیارہ کروڑ روپے سے زیادہ کا بزنس کیا جبکہ دیگر بڑے شہروں سے بھی اچھا بزنس کرنے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں ۔<br /><br />&rdquo;اگنی پتھ &ldquo;پر مجموعی طور پر 75کروڑ روپے خرچ ہوئے تھے جن میں سے نصف پہلے ہی سیٹیلائٹ حقوق سے حاصل ہوگئے تھے لہذا فلم نے پیسہ کمانے میں نیاریکارڈ تو قائم کرنا ہی تھا۔ <br /> &rdquo;اگنی پتھ&ldquo; کی ریلیز سے پہلے جو تین ہٹ اور اچھا بزنس کرنے والی فلمیں چل رہی تھیں مثلاً&rdquo;دی ڈرٹی پکچر&ldquo;، &rdquo;ڈان ٹو&ldquo; اور&rdquo; پلیئرز&ldquo; ان فلموں کا بزنس بھی &rdquo;اگنی پتھ&ldquo; کی وجہ سے متاثرہوا اور مجموعی طور پر تینوں فلمیں نے دس دس لاکھ سے زیادہ کا بزنس نہیں کیا۔ <br /><br /> اس حوالے سے اگر پچھلے ہفتے کی بہترین فلم کسی کو قرار دیا جاسکتا ہے تو وہ &rdquo;اگنی پتھ&ldquo;کے علاوہ اور کوئی نہیں ۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 9 Feb 2012 18:02:09 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139027359</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[وسیم اے صدیقی]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-09T18:02:09Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/BoxOfficeReport_main1.jpg" length="170236" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/BoxOfficeReport_main1.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/BoxOfficeReport_teaser1.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>بھارت میں بچپن کی شادیوں کے خلاف مہم </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/world/India-Child-Marriages-09Feb12-139026629.html</link>
				<description>عالمی منڈی میں بھارت ایک اہم معاشی قوت ہے اور ذرا تصور کریں اگر یہاں عورتوں اور لڑکیوں کو آزادی دے دی جائے تو یہ ملک کتنی بلندیوں تک پہنچ سکتا ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>ایک معروف عالمی تنظیم &rsquo; ایلڈرز&lsquo; نے بھارت میں بچپن کی شادیوں کے رواج کے خلاف&nbsp; عوامی سطح پر مہم چلانے کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p>جنوبی افریقہ کے آرچ بشپ ڈسمنڈ ٹوٹو نے، جو اس تنظیم کے سربراہ ہیں، جمعرات کو نئی دہلی میں یہ اعلان کیا کہ ان کی مہم &rsquo;بچیاں دلہنیں نہیں ہیں&lsquo; بھارت میں ایک حقیقی مؤثر کردار ادا کرے گی۔</p>
<p>ان کا کہناتھا کہ عالمی منڈی میں بھارت ایک اہم معاشی قوت ہے اور ہم یہ کہتے ہیں کہ ذرا تصور کریں اگر یہاں عورتوں اور لڑکیوں کو آزادی دے دی جائے&nbsp; تو یہ ملک کتنی بلندیوں تک پہنچ سکتا ہے۔</p>
<p>ایلڈرز ، ان&nbsp; سابق عالمی راہنماؤں کی تنظیم ہے جو ان اہم برائیوں کے خاتمے کے لیے سرگرم ہیں جن سے دنیا بھر میں انسانیت کو مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔</p>
<p>آئرلینڈ کی پہلی خاتون صدر میری روبن سن کہتی ہیں کہ بچین کی شادیوں نے اس تنظیم کی توجہ اپنی جانب اس لیے&nbsp; مبذول کروائی ہے کیونکہ اس سے دنیا بھر&nbsp; بڑی تعداد میں بچے اس کا شکار ہورہے ہیں۔</p>
<p>ان کا کہناتھا کہ بچین کی شادی کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے ۔ یہ سالانہ ایک کروڑ بچیوں کا معاملہ ہے۔ یعنی دوسرے لفظوں میں دس برسوں میں دس کروڑ&nbsp; بچیوں کی شادی خلاف معمول ان کی مرضی جانے بغیر ، بلکہ اکثر اوقات ان کے علم میں یہ لائے بغیر کردی جاتی ہے کہ ان کا جیون ساتھی کون ہوگا۔</p>
<p>بھارت میں گذشتہ کئی عشروں سے بچین کی شادی غیر قانونی ہے ، لیکن مطالیاتی جائزے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ دنیا بھر میں ہر سال 18 برس سے کم جن کم عمر لڑکیوں کی شادی کی جاتی ہے ، ان میں سے ایک تہائی کاتعلق بھارت سے ہوتا ہے۔</p>
<p>بھارت میں 2006ء کے قومی سطح کی ایک جائزہ رپورٹ سے معلوم ہوا تھا کہ 20 سے 24 سال کی شادی شدہ ہر پانچ میں سے ایک خاتون کی شادی&nbsp; 15 برس کی عمر کو پہنچنے سے قبل کردی گئی&nbsp; تھی۔</p>
<p>بچین کی شادیوں کے بارے میں اکثر یہ کہاجاتا ہے کہ ان کاتعلق قبل از تاریخ کی مذہبی روایات سے ہے اور یہ چیز ذہنوں میں&nbsp; بیٹھ چکی ہے کہ لڑکیاں بوجھ ہوتی ہیں جنہیں جتنی جلدی ممکن ہو گھر سے رخصت کردینا چاہیے ۔</p>
<p>ایلا بھٹ ، جو بھارت میں تجارت پیشہ خواتین کی سب سے بڑی بھارتی تنظیم کی بانیوں میں شامل ہیں، کہتی ہیں کہ عالمی ترقیاتی اہداف کے حصول میں&nbsp; بچپن کی شادیوں کے مسئلے کا حل ایک بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔&nbsp;</p>
<p>ان کا کہنا ہے کہ غربت کی طرح بچپن کی شادی بھی تشدد کی ایک قسم ہےاور یہ تشدد کی ایک ایسی قسم ہے جو معاشرے کی رضامندی کے ساتھ جاری ہے۔<br /> &rsquo;بچیاں دلہنیں نہیں ہوتیں&lsquo; کے نام سے شروع کی جانے والی مہم نے 80 سے زیادہ ممالک میں عوامی سطح پر کام کرنے والی تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کردیا ہے۔ ایلڈرز کا کہناہے کہ اس مہم کے ذریعے کم عمری کی شادیاں روکنے کے لیے تعلیم اور پارلیسیوں کے ذریعےمقامی کمیونیٹیز میں شعور بیدار کیا جائے گا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 9 Feb 2012 17:54:18 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139026629</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-09T17:54:18Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[دنیا]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Child-Bride-300X300.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>چین کے نائب صدر کا دورہ امریکہ</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/world/China-US-09Feb12-139025754.html</link>
				<description>چین کے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ شام، تبت اور تجارت جیسے معاملات پر چین امریکہ تعلقات میں حالیہ اختلافات کے باوجود، دونوں ممالک کے تعلقات میں مجموعی طورپر بہتری آئے گی</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>چین ایک ایسے موقع پر جب اگلے ہفتے نائب صدر ژی جن پنگ اپنا امریکہ کا دورہ شروع کرنے والے ہیں،&nbsp; دونوں ملکوں کے درمیان تعاون بڑھانے کی اہمیت پر زور دے رہاہے۔&nbsp; لیکن ایک عہدے دار کا کہناہے کہ چین اپنے قومی مفاد کے لیے زیادہ مؤثر اقدامات کرے گا چاہے اس کا یہ عمل دوسرے ممالک کو برہم ہی کیوں نہ کردے۔</p>
<p>چین کے نائی وزیر خارجہ Cui Tiankai نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ&nbsp; شام، تبت اور تجارت جیسے معاملات پر چین امریکہ&nbsp; تعلقات میں&nbsp; حالیہ&nbsp; اختلافات کے باوجود ، دونوں ممالک کے تعلقات میں مجموعی طورپر بہتری آئے گی۔</p>
<p>ان کا کہناتھا کہ انہیں توقع ہے کہ جب تک دونوں ممالک پچھلے سال دونوں صدور کی ملاقات میں ایک دوسرے کے احترام اور باہمی مفادات کی بنیاد پر تعاون کے لیے مقرر کردہ راستے پر آگے بڑھتے رہیں گے، دوطرفہ تعلقات بہتری کی جانب گامزن رہیں گے۔</p>
<p>ان سے چین&nbsp; کے نائب صدر کے وہائٹ ہاؤس کے دورے کے موقع پر امکانی&nbsp; تناؤ کے&nbsp; پس منظر میں سوال کیا گیا،&nbsp; کیونکہ چین کے اقوام متحدہ میں شام کے خلاف اس&nbsp; قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دیاتھا جسے امریکی حمایت حاصل تھی۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کے مقابلے میں اس طرح کے بہت کم ووٹ دیے ہیں&nbsp; اور یہ فیصلے انتہائی غوروخوص کے بعد کیے گئے تھے۔</p>
<p>کوئی کا کہناتھا کہ شام کے خلاف اقوام متحدہ کی کارروائی پر اختلاف کے باوجود ، امریکہ سمیت دوسرے ممالک اور چین کے درمیان تعاون&nbsp; میں بہتری کو خارج ازامکان قرار نہیں دیاجاسکتا ۔</p>
<p>چین کے اعلیٰ عہدے دار نے یہ بھی کہا کہ نائب صدر کے دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان&nbsp; کئی معاہدے ہوسکتے ہیں&nbsp; لیکن ان کا یہ بھی کہناتھا کہ ان کے اس دورے کااصل مقصد تجارتی حجم میں نمایاں اضافہ کرنا نہیں ہے۔</p>
<p>ان کا کہناتھا کہ مبصرین کو چین کے نائب صدر کے دورے کو خرید وفروخت کے ٹرپ یا ایک ایسے دورے کے طورپر نہیں دیکھنا چاہیے&nbsp; جو بقول ان کے ،جس میں&nbsp; مہمان اپنے میزبان کو تحائف پیش کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ چین کے لیے&nbsp; ہائی ٹیک امریکی برآمدات پر عائد کنٹرول ختم کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیجنگ اپنی کرنسی&nbsp; کے تبادلے کے نظام کوبہتر بنانے کے عزم سے وابستہ ہے، لیکن اس سمت وہ اپنی سہولت کے مطابق آگے بڑھے گا۔</p>
<p>بیجنگ یونیورسٹی کے فارن افیئرز کالج میں سفارت کاری کے شعبے کے پروفیسر Xiong Zhiyong کا کہناہے کہ ملک کے اندورنی&nbsp; تحفظات کے مقابلے میں&nbsp; غیر ملکی سفارتی پالیسی کو کم تر درجہ حاصل رہاہے۔</p>
<p>ان کا کہناتھا کہ غیر ملکی معاملات کا انحصار اندرون ملک پالیسی پر ہوتا ہے ۔ چنانچہ زیادہ اہم یہ ہے کہ چین کے راہنما اپنے اندورنی مسائل پر زیادہ توجہ دیں۔</p>
<p>اس کےساتھ ساتھ بیجنگ یونیورسٹی کے پروفیسر کا یہ بھی کہناتھا کہ چین امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور اس کا خیال&nbsp; ہے&nbsp; کہ اپنے اندورنی معاملات اور معاشی مسائل سے مؤثر طور پر نمٹنے سے ہی دونوں ممالک کے تعلقات کو زیادہ بہتر بنایا جاسکتا ہے۔</p>
<p>اگلے ہفتے چین کے نائب صدر ژی واشنگٹن ، آئیوا اور کیلی فورنیا کا دورہ کرنے والے ہیں ۔ امریکہ نے&nbsp; چین کی ایک ایسی شخصیت کے دورے میں اہم مقامات کو شامل کیا ہے جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ مستقبل میں چین کے سربراہ ہوسکتے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 9 Feb 2012 17:41:30 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139025754</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-09T17:41:30Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[دنیا]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Cui-Tiankai-300X300.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>52 ہزار امریکی شہریوں کو ویزوں کا اجراء</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan/Pakistan-Visas-US-09Feb12-139011394.html</link>
				<description>پاکستانی وزیر خارجہ کے مطابق 2009ء سے 2011ء کے دوران دفاعی مشیر کے دفتر سے منظوری کے بعد 2,202 امریکی اہلکاروں اور سفارت کاروں کو ویزے جاری کیے گئے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>واشنگٹن میں قائم پاکستانی سفارت خانے نے 2008ء سے 2011ء کے دوران مجموعی طور پر 52,049 امریکی شہریوں کو ویزے جاری کیے۔</p>
<p>یہ اعداد و شمار پارلیمنٹ کے جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں پیش کیے گئے وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کے تحریری جواب میں فراہم کیے گئے ہیں۔</p>
<p>پاکستانی وزیر خارجہ کے مطابق 2009ء سے 2011ء کے دوران دفاعی مشیر کے دفتر سے منظوری کے بعد 2,202 امریکی اہلکاروں اور سفارت کاروں کو ویزے جاری کیے گئے۔</p>
<p>حنا ربانی کھر کے بقول پاک امریکہ تعلقات ہماری خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہیں لیکن گزشتہ سال نومبر میں مہمند ایجنسی میں پاکستانی چوکیوں پر نیٹو کے حملے کے بعد امریکہ کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کا از سر نو جائزہ لینے کا کام جاری ہے۔</p>
<p>اُنھوں نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات کی حتمی شکل، نوعیت اور دائرکار کا تعین پارلیمنٹ کرے گی اور حکومت اسے رہنما اصول کے طور پر اپنائے گی۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 9 Feb 2012 15:19:03 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139011394</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[زاہد یعقوب خواجہ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-09T15:19:03Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Pakistan_Hina_Rabbani_Khar_Foreign_Minister_Address_National_Assembly_4801.jpg" length="59420" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Pakistan_Hina_Rabbani_Khar_Foreign_Minister_Address_National_Assembly_4801.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Pakistan_Hina_Rabbani_Khar_Foreign_Minister_Interview_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>القاعدہ کی مرکزی قیادت کی طاقت میں کمی</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/us-asia-drones-09feb12-138989929.html</link>
				<description>بن لادن کی ہلاکت، افغانستان اور پاکستان میں انٹیلی جنس اور اسپیشل آپریشنز نیٹ ورکس کو مضبوط بنانے اور ڈرونز کے حملوں کی وجہ سے اس علاقے میں القاعدہ کی طاقت بہت کم ہو گئی ہے۔ </description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>دہشت گرد تنظیم القاعدہ کا خوف آج بھی موجود ہے اور اس کے تانے بانے کئی براعظموں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ لیکن امریکی انٹیلی جنس کے اعلیٰ عہدے دار کہتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان میں جو&nbsp;القاعدہ&nbsp; کے گڑھ تھے، اس تنظیم کی طاقت بہت کم ہو گئی ہے۔ خاص طور سے گذشتہ مئی میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد اس کا زور ٹوٹ گیا ہے۔</p>
<p>حال ہی میں امریکی&nbsp;کانگریس میں انٹیلی جنس کی سماعتوں میں&nbsp;اس دہشت گرد گروپ کے بارے میں جو اسامہ بن لادن کے ذہن کی پیداوار ہے، بات چیت ہوئی۔</p>
<p>سینیٹر سیکسبے کیمبلس نے کہا&rsquo;&rsquo;ہم نے بے شمار بریفنگز میں انٹیلی جنس افسروں سے سنا ہے کہ القاعدہ کی مرکزی قیادت کو اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>یو ایس نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جیمز کلیپر نے اس خیال کی تصدیق کی۔ انھوں نے کہا&rsquo;&rsquo;جب تک ہم القاعدہ پر دباؤ جاری رکھیں گے، ہم سمجھتے ہیں کہ&nbsp;عالمی جہادی تحریک کے لیے اس کی مرکزی قیادت کی اہمیت بڑی حد تک محض علامتی&nbsp;ہو گی۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>دباؤ&nbsp;ڈالنے کا ایک طریقہ ڈرونز کا&nbsp;استعمال ہے&nbsp;جنہیں نگرانی اور جاسوسی&nbsp;یا حملوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ صدر براک اوباما نے حال ہی میں ایک آن لائن ویب چیٹ میں پہلی بار ڈرونز کے ذریعے حملوں کا اعتراف کیا۔ انھوں نے کہا&rsquo;&rsquo;ظاہر ہے کہ ڈرونز کے بہت سے حملے پاکستان کے قبائلی علاقے، فاٹا میں کیے گئے ہیں۔ یہ حملے القاعدہ کے مشتبہ افراد کے خلاف ہوئے ہیں جو افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحد کے دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں موجود تھے۔ ان تک کسی اور طریقے سے پہنچنے کے لیے شاید&nbsp;ہمیں کہیں زیادہ بڑی فوجی کارروائی کرنی پڑتی۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>صدر نے یہ بھی کہا کہ ان&nbsp;ہوائی حملوں میں&nbsp;ہلاک و زخمی ہونے والے سویلین باشندوں کی تعداد بہت کم ہے۔&rsquo;&rsquo;یہ حملے بڑی حد تک&nbsp;القاعدہ اور اس سے وابستہ&nbsp;لوگوں کے خلاف کیے گئے ہیں اور بالکل&nbsp;نشانے پر لگے ہیں۔ اس طریقے کے استعمال میں ہم نے بڑی احتیاط سے کام لیا ہے۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>تھامس لینچ واشنگٹن کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں&nbsp;جنوبی ایشیا کے امور کے ماہر ہیں۔&nbsp;وہ کہتے ہیں کہ بن لادن کی ہلاکت، افغانستان اور پاکستان میں انٹیلی جنس اور اسپیشل آپریشنز&nbsp;نیٹ ورکس کو مضبوط بنانے&nbsp;اور ڈرونز کے حملوں کی وجہ سے اس علاقے میں القاعدہ کی طاقت بہت کم ہو گئی ہے۔</p>
<p>لینچ کا اندازہ ہے کہ اب صرف تین افراد باقی بچے ہیں جو اس بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم کو دوبارہ منظم کرنے کے اہل ہیں۔&rsquo;&rsquo;اس بات کا امکان نہیں ہے کہ یہ لوگ باہر نکلیں گے اور خود کو ڈرون حملوں کے خطرے میں ڈالیں گے۔ ان لوگوں نے سبق سیکھ لیا ہے۔ امکان یہی ہے کہ یہ لوگ بڑے شہری علاقوں کے آس پاس رہیں گے&nbsp;جہاں انہیں نشانہ بنانے کے لیے ہمیں پاکستانیوں کی حمایت اور مدد کی ضرورت ہو گی۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>لینچ جو امریکی فوج کے ریٹائرڈ کرنل ہیں، کہتے ہیں کہ ان کی رائے میں ڈرون حملوں کو جاری رکھنے سے، فائدے کے بجائے الٹا نقصان ہو گا۔ اگرچہ&nbsp;خیال یہی ہے کہ یہ حملے پاکستانی انٹیلی جنس کی مدد&nbsp;سے کیے جاتے ہیں، لیکن پاکستان نے ان حملوں کی مذمت کی ہے اور انہیں اپنی خود مختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔</p>
<p>انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کے بارے میں&nbsp;تشویش کا یہ صرف ایک پہلو ہے۔</p>
<p>ٹام پارکر واشنگٹن میں انسانی حقوق کے گروپ ایمنسٹی انٹرنیشنل&nbsp;سے وابستہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکی حکومت نے اس بات کی وضاحت نہیں کی ہے کہ ڈرونز کے حملے اپنے دفاع کے نام پر کیے جا رہے ہیں یا یہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا حصہ ہیں۔&rsquo;&rsquo;عالمی سطح پر مسلح تنازع کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ دنیا میں کہیں بھی ایسے لوگوں کو ہلاک کرنے کے حق کا دعویدار ہے جنہیں وہ دہشت گرد سمجھتا ہے۔ اس میں پاکستان ضرور شامل ہے، اور یمن بھی شامل ہے، لیکن اگر اس دلیل کو تسلیم کیا جائے، تو اس میں میکسیکو، پیرس، لائبیریا، جنوبی افریقہ اور گواتیمالا&nbsp;&nbsp; کو بھی شامل&nbsp;کرنا ہوگا، اور بات یہاں ختم نہیں ہوتی، اس میں امریکہ کی سڑکوں کو بھی شامل کرنا ہوگا۔ اب یہ خطرناک بات ہوگی۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>انسانی حقوق کے گروپ&nbsp;اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ صدر اوباما یا&nbsp;اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر کو القاعدہ کے خلاف امریکہ کی خفیہ کارروائیوں&nbsp;کے&nbsp;دائرۂ کار کے بارے میں زیادہ وضاحت سے بات کرنی چاہیئے ۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 9 Feb 2012 06:11:04 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138989929</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[سوزان پریسٹو]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-09T06:11:04Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/AFP_US_Unmanned_Drone_Predator_4801.jpg" length="129775" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AFP_US_Unmanned_Drone_Predator_4801.jpg" medium="image" isDefault="true" height="320" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/qaeda_laden_300x300_reuters.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>بلوچستان: قطر کے وزیر چھ کروڑ روپے سے محروم</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/balochistan-qatar-looted-09feb12-139005679.html</link>
				<description>قطر کے وزیر پٹرولیم شیخ علی عبداللہ تھانی التھانی شکار پر تھے اور مسلح افراد نے ان کی گاڑی روک کر رقم لوٹ لی۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>پاکستان کے جنوب مغربی صوبے بلوچستان میں شکار کی غرض سے آئے ہوئے قطر کے شاہی خاندان کے افراد سے نامعلوم مسلح افراد نے چھ کروڑ روپے لوٹ لیے۔</p>
<p>مقامی سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ جمعرات کو ضلع تربت کے علاقے اوشاب میں پیش آیا جہاں قطر کے وزیر پٹرولیم شیخ علی عبداللہ تھانی التھانی شکار پر تھے اور مسلح افراد نے ان کی گاڑی روک کر رقم لوٹ لی۔</p>
<p>شیخ علی قطر کے شاہی خاندان کی اعلیٰ کونسل کے ممبر بھی ہیں۔</p>
<p>مقامی حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں لیکن تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 9 Feb 2012 13:49:58 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139005679</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-09T13:49:58Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/63-Ziarat-Residency-Balochistan.jpg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																																																		</item>
																																																																	</channel>
</rss>

