<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>


																																		



<rss xmlns:ymusic="http://music.yahoo.com/rss/1.0/ymusic/" xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" xmlns:cf="http://www.microsoft.com/schemas/rss/core/2005" xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"   version="2.0">
<channel>
	<title>VOA News:  فلم اور آرٹ  </title>
	<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment</link>
		<description>فلم اور آرٹ 
																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																								
	Voice of America
	</description>
	<language>ur</language> 	<copyright />
	<pubDate>Sat, 11 Feb 2012 02:46:50 GMT</pubDate>
	<dc:creator />
	<dc:date>2012-02-11T02:46:50Z</dc:date>
	<dc:language>ur</dc:language> 	<dc:rights />
	<image>
		<title>Voice of America</title>
		<link>http://www.voanews.com/urdu</link>
		<url>http://media.voanews.com/designimages/VOARSSIcon.gif</url>
	</image>


						
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>برلن فلم فیسٹیول کا آغاز</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Berlin_Film_Festival_10Feb12-139115574.html</link>
				<description>'کینز' کے بعد یورپ کے دوسرے بڑے فلمی میلے کا اعزاز رکھنے والے 'برلن فلم فیسٹیول' کا آغاز جمعرات کی شب انقلابِ فرانس کے پرتشدد ایام پہ بنی فرانسیسی فلم 'فیئرویل مائے کوئین' کے پریمیئر سے ہوا</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>جرمنی کے دارالحکومت برلن میں62ویں انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کا آغاز ہوگیا ہے اور اس بار فیسٹیول میں دیے جانے والے بہترین فلم کے 'گولڈن بیئر' نامی ایوارڈ کے لیے دنیا بھر سے کل 18 فلمیں میدان میں ہیں۔</p>
<p>'کینز' کے بعد یورپ کے دوسرے بڑے فلمی میلے کا اعزاز رکھنے والے 'برلن فلم فیسٹیول' کا آغاز جمعرات کی شب انقلابِ فرانس کے پرتشدد ایام پہ بنی فرانسیسی فلم 'فیئرویل مائے کوئین' کے پریمیئر سے ہوا ۔</p>
<p>ایوارڈ کی دوڑ میں شریک دیگر 17 فلموں کے ورلڈ پریمیئرز&nbsp; بھی فیسٹیول کے دوران ہوں گے جو 19 فروری تک جاری رہے گا۔</p>
<p>رواں برس فلمی میلے کا مرکزی خیال 'بہارِ عرب' کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں آنے والی سیاسی تبدیلیوں اور سرمایہ دارانہ نظام کی اصلاح اور معاشی انصاف کے حصول کے لیے امریکہ میں جاری 'آکیوپائے موومنٹ' کے تناظر میں "انتہائی سماجی اور سیاسی&nbsp; تبدیلیوں کے دور میں عوام کی زندگی اور محبت" رکھا گیا ہے۔</p>
<p>فیسٹیول کے ڈائریکٹر ڈیٹر کوسلک کے مطابق 10 روزہ فلمی میلے کے دوران میں دنیا کے مختلف ممالک سے آنے والی 400 فلموں کی نمائش کی جائے گی۔</p>
<p>کوسلک کے بقول فلمی میلے میں افریقہ سمیت دنیا کے ان خطوں کی فلمیں بھی شامل ہیں &nbsp;جنہیں بہت کم سنیما کا موضوع بنایا جاتا ہے۔</p>
<p>میلے میں دیے جانے والے 'گولڈن بیئر' ایوارڈز کی جیوری کے سربراہ برطانوی ہدایت کار مائیک لی&nbsp; ہیں جب کہ آٹھ رکنی جیوری میں ہالی ووڈ اداکار جیک گیلن ہال اور معروف ایرانی ہدایت کار اصغر فرہادی بھی شامل ہیں جن کی فلم 'نادر اینڈ سیمیں: اے سیپریشن' نے 2011ء کا 'گولڈن بیئر' حاصل کیا تھا۔</p>
<p>میلے کے دوران ہالی ووڈ کی معروف اداکارہ میرل اسٹریپ کو فلمی دنیا کے لیے ان کی خدمات پر 'گولڈن بیئر فار لائف ٹائم اچیومنٹ' سے نوازا جائےگا۔</p>
<p>میلے کے ایک خصوصی گوشے میں اسٹریپ کی تازہ ترین فلم 'دی آئرن لیڈی' کی نمائش بھی ہوگی&nbsp; جس میں ہالی ووڈ اداکارہ نے سابق برطانوی وزیرِاعظم مارگریٹ تھیچر کا کردار نبھایا ہے۔ اسٹریپ اس فلم میں اپنی ادکاری پر'آسکر' کے لیے بھی 'ہاٹ فیورٹ' قرار دی جارہی ہیں۔</p>
<p>گو کہ منفی درجہ حرارت کے حامل سخت سرد موسم میں منعقد ہونے والے 'برلن فلم فیسٹیول' کو اپنے یورپی حریف فلمی میلوں 'کینز' اور 'وینس' جیسی فلمی ستاروں کی توجہ اور تام جھام تو حاصل نہیں ہوتی ہے لیکن عوام کی بآسانی رسائی&nbsp; کے سبب اس میلے کو انفرادیت حاصل ہے۔</p>
<p>میلے میں ہالی ووڈ اسٹار انجلینا جولی کی بطورِ ہدایت کار پہلی فلم 'ان دی لینڈ آف بلڈ اینڈ ہنی' کا پریمیئر بھی ہوگا۔ بوسنیا کی جنگ پہ بنی اس فلم کے مرکزی کرداروں کے ساتھ جولی بھی میلے میں شریک ہوں گی جب کہ ان کے علاوہ ہالی ووڈ اسٹارز اوما تھرمن، رابرٹ پٹنسن اور انتونیو باندریداس بھی اپنی اپنی نئی فلموں&nbsp; کے ساتھ اس برس کے 'برلن فیسٹیول' میں شرکت کر رہے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 21:08:45 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139115574</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-10T21:08:45Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/reu-rachel-mcadams-the-vow-480-se.jpg" length="60901" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/reu-rachel-mcadams-the-vow-480-se.jpg" medium="image" isDefault="true" height="392" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/hugo5.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>امیتابھ بچن علیل ہوگئے، ہفتے کو آپریشن ہوگا</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Bollywood-Amitabh-Bachan-10Feb12-139100044.html</link>
				<description>امتیابھ بچن نے کہا کہ ڈاکٹروں کے مطابق ان کے پیٹ کی سرجری پیچیدہ نہیں تاہم انہیں آج سے ہی انجکشن دیئے جارہے ہیں اور یہ سلسلہ آئندہ کچھ دنوں تک جاری رہے گا</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>بالی ووڈ سپر اسٹار امیتابھ بچن علیل ہوگئے ہیں اورہفتے کی صبح ان کے پیٹ کا آپریشن ہوگا۔ امیتابھ نے ایک بلاگ کے ذریعےاپنے فینز کو اس آپریشن سے مطلع کیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ میرا آج بھی میڈیکل چیک اپ ہوا ہے ۔ ہفتہ 11 فروری کی صبح میرا آپریشن ہوگا لیکن میں اپنی صحت کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں بتاسکتا ۔ <br /><br /> امتیابھ نے مزید لکھا ہے کہ ڈاکٹروں کے مطابق ان کے پیٹ کی سرجری پیچیدہ نہیں تاہم انہیں آج سے ہی انجکشن دیئے جارہے ہیں اور یہ سلسلہ آئندہ کچھ دنوں تک جاری رہے گا۔انہوں نے اپنے فینز سے کہا ہے کہ وہ اپنی صحت کے بارے میں جہاں تک ممکن ہوسکا بتاتے رہیں گے۔ <br /><br /> امیتابھ نے اپنے بلاگ میں یہ بھی لکھا ہے کہ وہ اس حوالے سے خود کو بہت خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ انہیں اتنی تکلیف کے باوجود اوپر والے نے اپنا کام جاری رکھنے کی ہمت دی۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف ان کے چاہنے والوں کی دعاوٴں کے سبب ہوا۔ <br /><br /> امیتابھ نے امید ظاہر کی کہ وہ پہلے کی طرح جلد صحت یاب ہوکر پھر سے اپنا کام جاری رکھ سکیں گے ۔ <br /><br /> امیتابھ کو کافی دنوں سے پیٹ میں درد کی شکایت تھی جس کے بعد جمعہ کو سی ٹی اسکین ہوا جس کے بعد میڈیکل بورڈ نے ان کے آپریشن کا فیصلہ کیا۔<br /><br /> &nbsp;امیتابھ بچن کو اپنے زمانہ &nbsp;عروج کی ایک فلم &rdquo;قلی&ldquo; کی شوٹنگ کے دوران حادثہ پیش آیا تھا ۔ شوٹنگ کے دوران ایک میز کے کونے سےا ان کے پیٹ کو سخت نقصان تھاجس کے علاج کے لیے انہیں &nbsp;کئی ماہ تک بستر پر رہنا پڑاتھا۔ <br /><br /> اس دوران پورے ملک اور دنیا بھر سے، جہاں جہاں ان کے چاہنے والے موجود تھے ، ان کی صحتیابی کی دعائیں مانگی گئیں ، اور اس موقع پر درجنوں عوامی جذباتی مناظر بھی اخبارات کی سرخیوں کی زینت بنے تھے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 17:41:14 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139100044</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-10T17:41:14Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/AmitSurgery1002_main.jpg" length="189930" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AmitSurgery1002_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AmitSurgery1002_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>باکس آفس پر رواں ہفتے کامیاب اور ناکام ہونے والی فلمیں </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Bollywood-Box-Office-09Feb12-139027359.html</link>
				<description>چونکہ دوہفتے پہلے ریلیز ہونے والی ہٹ فلم ”اگنی پتھ“ ابھی سینماگھروں میں رش لے رہی ہے اس لئے ہوسکتا ہے ”ایک میں اور ایک تو“ کو فوری طورپر متوقع رسپانس نہ ملے </description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>نئی بالی ووڈ فلموں کی ریلیز کا &rsquo;جمعہ بازار &lsquo;کل لگنے جارہا ہے ۔ ویسے تو اس ہفتے دو فلموں کی ریلیز متوقع ہے جن میں عمران خان و کرینہ کپور کی &rdquo;ایک میں اور ایک تو&ldquo; جبکہ دوسری فلم &rdquo;ویلنٹائن نائٹ&ldquo;شامل ہے تاہم ان میں سے پہلی فلم کا لوگوں کو شدت سے انتظار ہے۔</p>
<p>فلمی صنعت پر نظر رکھنے والے کچھ مبصرین کے نزدیک چونکہ دوہفتے پہلے ریلیز ہونے والی ہٹ فلم &rdquo;اگنی پتھ&ldquo; ابھی سینماگھروں میں رش لے رہی ہے اس لئے ہوسکتا ہے &rdquo;ایک میں اور ایک تو&ldquo; کو فوری طور پر وہ رسپانس نہ ملے جس کی بہت زیادہ توقع کی جارہی ہے۔ دیکھیئے کیا ہوتا ہے۔ <br /><br /> پچھلے ہفتے ایک اور فلم &rdquo;گلی گلی چور ہے&ldquo; بھی ریلیز ہوئی تھی مگر فلم بینوں سے اسے کچھ خاص پسند نہیں کیا ۔بھارت سے موصولہ اطلاعات کے مطابق فلم نے ہفتے بھر میں صرف سوا تین کروڑ روپے کا بزنس کیا۔ویسے بھی &rdquo;اگنی پتھ&ldquo; نے جہاں اور دوسری فلموں کو اپنے سامنے کھڑا نہیں ہونے دیا وہیں &rdquo;گلی گلی ۔۔۔&ldquo;کو بھی اس نے پچھاڑ دیا۔ <br /><br /> &rdquo;اگنی پتھ&ldquo; کا ذکر نکلا ہے تو یہ بھی بتاتے چلیں کہ رہتک روشن اور پریانکا چوپڑا کی اداکاری اور کرن ملہوترا کی ڈائریکشن میں بنی یہ فلم ایک ارب روپے کا ہندسہ عبور کرچکی ہے ۔ فلم نے صرف ممبئی میں گیارہ کروڑ روپے سے زیادہ کا بزنس کیا جبکہ دیگر بڑے شہروں سے بھی اچھا بزنس کرنے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں ۔<br /><br />&rdquo;اگنی پتھ &ldquo;پر مجموعی طور پر 75کروڑ روپے خرچ ہوئے تھے جن میں سے نصف پہلے ہی سیٹیلائٹ حقوق سے حاصل ہوگئے تھے لہذا فلم نے پیسہ کمانے میں نیاریکارڈ تو قائم کرنا ہی تھا۔ <br /> &rdquo;اگنی پتھ&ldquo; کی ریلیز سے پہلے جو تین ہٹ اور اچھا بزنس کرنے والی فلمیں چل رہی تھیں مثلاً&rdquo;دی ڈرٹی پکچر&ldquo;، &rdquo;ڈان ٹو&ldquo; اور&rdquo; پلیئرز&ldquo; ان فلموں کا بزنس بھی &rdquo;اگنی پتھ&ldquo; کی وجہ سے متاثرہوا اور مجموعی طور پر تینوں فلمیں نے دس دس لاکھ سے زیادہ کا بزنس نہیں کیا۔ <br /><br /> اس حوالے سے اگر پچھلے ہفتے کی بہترین فلم کسی کو قرار دیا جاسکتا ہے تو وہ &rdquo;اگنی پتھ&ldquo;کے علاوہ اور کوئی نہیں ۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 9 Feb 2012 18:02:08 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139027359</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[وسیم اے صدیقی]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-09T18:02:08Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/BoxOfficeReport_main1.jpg" length="170236" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/BoxOfficeReport_main1.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/BoxOfficeReport_teaser1.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>کرینہ کپور کا ستارہ عروج پر</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Bollywood-Kareena-Kapoor-08Feb12-138944464.html</link>
				<description>ایجنٹ ونود“ میں ان کے ہیرو سیف علی خان ہیں ۔ فلم کے ہی کیوں۔۔ان کے دل کے ہیرو بھی وہی ہیں۔ خبرگرم ہے کہ” ایجنٹ ونود“ کی ریلیز کے فوراً بعد دونوں شادی کے بندھن میں بندھ جائیں گے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>فلمی پنڈتوں کا کہناہے کہ اگلے2 ماہ بالی ووڈ اداکارہ کرینہ کپور کے نام رہیں گے ۔ اور یہ&nbsp; کہ کم ازکم اگلے دو ماہ تک کرینہ&nbsp; ہی خبروں میں چھائی رہیں گی۔ <br /><br /> &rsquo;کرینہ جی &lsquo;قسمت کی دھنی ہیں یہ تو سب ہی جانتے ہیں ۔ اب اسی سے اندازہ لگالیجئے کہ پچھلا سارا سال فلم بین زیادہ تر کرینہ کپور کی ہی فلمیں دیکھتے رہے۔ ۔۔ایک سے ایک ہٹ اور ایک سے بڑھ کر ایک۔ ان میں سے کئی فلموں نے اوپر تلے کئی ریکارڈ بھی بنائے جیسے &rdquo;باڈی گارڈ&ldquo; اور &rdquo; را۔ون&ldquo;۔ <br /><br /> نئے سال کا یہ دوسرا مہینہ ہے اور اسی مہینے ۔۔۔بلکہ یوں کہئے کہ اگلے جمعہ کو ان کی نئی فلم &rdquo;ایک میں اور ایک تو&ldquo; ریلیز ہونے جارہی ہے ۔ اس فلم نے ریلیز سے پہلے ہی خوب شہرت حاصل کرلی ہے۔ یوں بھی بھارت میں جو فلمیں ریلیز سے پہلے ہی مشہور ہوجاتی ہیں ان میں سے بیشتر ہٹ اور سپرہٹ بھی ہوجاتی ہیں۔ یوں اگر یہ فلم ہٹ ہوئی تو بھی کرینہ کپور خبروں میں رہیں گی۔ اور اگر کامیاب نہ بھی ہوئی تو۔<br /><br />۔۔تو بھی گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔۔۔مارچ یا اگر کچھ تاریخیں&nbsp; آگے پیچھےہوئیں تو اپریل کے شروع دنوں میں ان کی ایک اور نئی فلم &rdquo; ایجنٹ ونود&ldquo; ریلیز ہونے جارہی ہے۔ ۔۔۔اور&rdquo; ایک میں اور ایک تو&ldquo; کی طرح &rdquo;ایجنٹ ونود&ldquo;نے بھی پہلے سے خبروں میں جگہ بنالی ہے۔ <br /><br /> &rdquo;ایجنٹ ونود&ldquo; میں ان کے ہیرو سیف علی خان ہیں ۔ فلم کے ہی کیوں۔۔ان کے دل کے ہیرو بھی وہی ہیں۔ خبرگرم ہے کہ&rdquo; ایجنٹ ونود&ldquo; کی ریلیز کے فوراً دونوں شادی کے بندھن میں بندھ جائیں گے۔ <br /><br />کرینہ اور سیف کئی مرتبہ اس بات کا سرعام اعلان کرچکے ہیں کہ&rdquo; ایجنٹ ونود&ldquo; کے بعد دونوں ایک ہوجائیں گے۔ <br /> <br />اور یوں فلمی پنڈتوں کی پیش گوئی سچ ہوجائے گی کہ آنے والے 2ماہ کرینہ کپور کے نام رہیں گے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 8 Feb 2012 18:01:04 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138944464</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-08T18:01:04Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Kareena0802_main.jpg" length="128322" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Kareena0802_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Kareena0802_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>اگنی پتھ ‘ایک ارب کا بزنس کرنے میں کامیاب </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Bollywood-Agnipath-06Feb12-138790569.html</link>
				<description>رہتک روشن اور پریانکا چوپڑا کی نئی فلم ”اگنی پتھ“جنوری کے آخری ہفتے میں ریلیز ہوئی تھی اور 5 فروری تک اس نے بھارت بھر سے ایک ارب روپے کما لئے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>رہتک روشن اور پریانکا چوپڑا کی نئی فلم &rdquo;اگنی پتھ&ldquo; نے ایک اور سنگ میل عبور کرلیا۔ ریلیز کے دوسرے ہی ہفتے اس فلم نے ایک ارب روپے کا بزنس کرکے سب کو حیران کردیا ہے۔ فلم جنوری کے آخری ہفتے میں ریلیز ہوئی تھی اور 5فروری تک اس نے بھارت بھر سے ایک ارب روپے کما لئے ۔ <br /> رہتک روشن اور پریانکا چوپڑا کے علاوہ فلم کے دیگر فنکاروں میں رشی کپوراور سنجے دت شامل ہیں جبکہ فلم کے پروڈیوسر کرن جوہر اور ڈائریکٹرکرن ملہوترا ہیں۔ <br /> ایک ارب روپے سے زائد کا بزنس کرنے والی یہ رہتک کی پہلی فلم ہے جبکہ اس سے قبل ان کی ایک اور فلم &rdquo;زندگی نہ ملے گی دوبارہ&ldquo; صرف 8 کروڑ روپے کے فرق سے ایک ارب کا ریکارڈ بزنس کرنے سے رہ &nbsp;گئی تھی۔ <br /> ادھر پریانکا چوپڑا کی فلم &rdquo;ڈان ٹو&ldquo; نے بھی ایک ارب روپے کا بزنس کیا تھا یوں &rdquo;اگنی پتھ&ldquo; ایک ارب روپے کا بزنس کرنے والی ان کی دوسری فلم بن گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ اپنی ساتھی فنکارہ آسین کے برابر آکھڑی ہوئی ہیں جن کی دوفلمیں &rdquo;گجنی &ldquo; اور &rdquo;ریڈی&ldquo; ایک سو کروڑ(ایک ارب روپے) کا بزنس کرکے ریکارڈ بنا چکی ہیں۔ <br /> &rdquo;اگنی پتھ&ldquo; سن 1990ء میں اسی نام سے بننے والی فلم کا ری میک ہے جس کے ہیرو بگ بی یعنی امیتابھ بچن تھے۔ اس حوالے سے کسی کو بھی یہ امید نہیں تھی کہ ری میکنگ اس قدر کامیاب ثابت ہوگی کہ دیگرفلموں کو پیچھے چھوڑ جائے گی اور &rdquo; باڈی گارڈ &ldquo;جیسی اربوں کا بزنس کرنے والی فلمیں کے ہم پلہ آکھڑی ہوگی۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Mon, 6 Feb 2012 18:00:46 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138790569</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-06T18:00:46Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Agneepath0206_main.jpg" length="177438" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Agneepath0206_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Agneepath0206_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>رتیش دیش مکھ اور جینیلیا کی شادی </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Bollywood-Wedding-03Feb12-138656379.html</link>
				<description>شادی جمعہ کی دوپہر ممبئی کے علاقے سانتا کروز میں واقع ہوٹل گرینڈ حیات میں انجام پائی۔ دلہا کی عمر 33سال اور دلہن 24سال کی ہیں</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>بالی ووڈ اسٹارز رتیش دیش مکھ اور جینیلیا ڈی سوزا کے لئے نیا سال ہی نہیں بلکہ آج کا دن بھی ہمیشہ کے لئے یادگار بن گیا ہے ۔ سن 2003ء سے ایک دوسرے کی چاہت دلوں میں رکھنے والا یہ جوڑا آخر کار جمعہ کو شادی کے بندھن میں بندھ گیا ۔</p>
<p>شادی جمعہ کی دوپہر ممبئی کے علاقے سانتا کروز میں واقع ہوٹل گرینڈ حیات میں انجام پائی۔دلہا کی عمر 33سال اور دلہن 24سال کی ہیں۔ اس شادی پر بھارتی میڈیا نے &rsquo;کڑی نظر&lsquo; رکھی ہوئی تھی لہذا تقریب کو نمایاں کوریج تو ملنا ہی تھی۔ادھر انٹرنیٹ پر بھی اس شادی کو خاصی اہمیت ملی۔</p>
<p>شادی دوپہر کے وقت ریاست مہاراشٹر اور مراٹھی رسم و رواج کے مطابق انجام پائی۔ دلہا روایتی انداز میں برات لے کر، سرپر بڑی سی پگڑی اور لمبا سا سہراباندھے ہوٹل پہنچے ۔ انہوں نے موتی جیسے سفید رنگ کی شیروانی پہنی ہوئی تھی جسے مقامی افراد &rsquo;بند گلے کی شیروانی&lsquo; بھی کہتے ہیں ۔</p>
<p>دوسری جانب دلہن یعنی جینیلیا نے سرخ رنگ کے مراٹھی اسٹائل کے کپڑے زیب تن کئے ہوئے تھے۔ برات کی ہوٹل روانگی سے قبل دونوں خاندانوں نے بھی روایتی انداز کے مطابق شادی کی رسومات اداکیں۔</p>
<p>شادی کی تقریبات کا آغازگزشتہ منگل کو محفل موسیقی سے ہوا تھا ۔ ان تقریبات میں بالی ووڈ اسٹارز اجے دیوگن، کاجول، ابھیشیک بچن ، جیا بچن،آسین، جیکی بھاگنانی، کرن جوہر، شاہد کپور، اکشے کمار اور ساجد خان نے شرکت کی۔بھارت کے امیر ترین تاجر انیل امبانی اور ان کی اہلیہ ٹیناامبانی بھی شادی کی تقریبات میں لوگوں کی توجہ کامرکز رہے۔</p>
<p>محفل موسیقی کے ساتھ ساتھ ایک پر اہتمام دعوت بھی رکھی گئی تھی جبکہ آئندہ کل یعنی ہفتے کو استقبالیہ رکھا گیا ہے ۔</p>
<p>جنیلیا اور رتیش کی پچھلے سال گیارہ ستمبر کو منگنی ہوئی تھی تاہم اس تقریب میں چند افراد کو ہی شریک کیا گیا تھا۔ دونوں فنکاروں کی یہ پسند کی شادی ہے۔ یہ دونوں فلم &rdquo;تجھے میری قسم&ldquo;کی شوٹنگ کے دوران ایک دوسرے کے قریب آئے تھے اور تب سے ہی دونوں کے افیئرز کی خبریں عام تھیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 3 Feb 2012 18:25:53 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138656379</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-03T18:25:53Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Tie-the-knot_main.jpg" length="135627" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Tie-the-knot_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Tie-the-knot_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>مہدی حسن: ملک و قوم کا قیمتی اثاثہ</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Mehdi_Hassan_29Jan12-138294699.html</link>
				<description>پاکستان اوربیرونِ ملک کئی مقامات پرشہنشاہِ اردو  غزل کو خراجِ تحسین پیش کرنے اور اُن کی جلد صحتیابی کے لیے دعاؤں  کےحوالے سے حالیہ دنوں خصوصی شاموں کا اہتمام کیا گیا</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>نامور گلوکار مہدی حسن اِن دنوں کراچی کے ایک اسپتال میں زیرِعلاج ہیں، جب کہ اردو کلاسیکی موسیقی کے اِس درخشاں ستارے کےدنیا بھر میں موجود پرستار اُن کی صحتیابی کے لیے دعاگو ہیں۔</p>
<p>اطلاعات کے مطابق، اِنہی دِنوں، مہدی حسن کے چاہنے والوں نےپاکستان اوربیرونِ ملک کئی مقامات پرشہنشاہِ اردو غزل کو خراجِ تحسین پیش کرنے اور اُن کی جلد صحتیابی کے لیے دعاؤں &nbsp;کےاہتمام کی خاطرخصوصی شامیں منائیں۔</p>
<p>اپنے &rsquo;فکرو فن&lsquo; سیگمنٹ میں &rsquo;وائس آف امریکہ&lsquo; کی اردو سروس نے حال ہی میں مہدی حسن سے متعلق ایک پروگرام ترتیب دیا۔ &nbsp;آئیے سنتے ہیں:</p>
<p>
<object classid="clsid:02bf25d5-8c17-4b23-bc80-d3488abddc6b" width="218" height="39" codebase="http://www.apple.com/qtactivex/qtplugin.cab#version=6,0,2,0">
<param name="src" value="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+0100+FIKR+O+FUNM-H-+Hit+Songs+P-101-18-Sadia.Mp3" /><embed type="video/quicktime" width="218" height="39" src="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+0100+FIKR+O+FUNM-H-+Hit+Songs+P-101-18-Sadia.Mp3"></embed>
</object>
</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sun, 29 Jan 2012 21:44:48 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138294699</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[سعدیہ اسد]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-29T21:44:48Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/mehdiHassan_main.jpg" length="47219" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/mehdiHassan_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Mehdi-Hassan_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>آسکر کے لیے نامزدگی کا اندازہ نہیں تھا: شرمین عبید چنوئے</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/pakistan-oscar-25jan12-138026698.html</link>
				<description>شرمین پہلی پاکستانی خاتون  ہیں جن کی دستاویزی فلم کوعالمی سطح پر فلموں کے متعبر ترین سمجھے جانے والے آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔  </description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>شرمین عبید چنوئے پاکستان کی پہلی فلم ساز ہیں جنہیں آسکر ایوارڈ کی نامزدگی حاصل ہوئی ہے۔ ان کی فلم &rsquo;&rsquo;سیوونگ فیس&lsquo;&lsquo; کو &rsquo;&rsquo;مختصر دورانیے اور دستاویزی فلم&lsquo;&lsquo; کے زمرے میں ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔</p>
<p>وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے شرمین نے کہا کہ ان کی دستاویزی فلم کو ملنے والی نامزدگی نہ صرف ان کے لیے ذاتی طور پر بلکہ پاکستان کے لیے بھی ایک اعزاز کی بات ہے۔ &rsquo;&rsquo; جب پتا چلا کہ آسکر کے لیے نامزد ہوئے ہیں تو بہت خوشی ہوئی پوری ٹیم کو کیونکہ فلم کوئی اکیلا تو بناتا نہیں مگر سب سے زیادہ یہ فخر محسوس ہوا کہ آپ کہیں بھی ہوں کہیں بھی پلے بڑھے ہوں کہیں پر بھی کام کر رہے ہیں مگر آپ اچھا کوالٹی کام آگے بڑھائیں گے تو لوگ سراہیں گے اور بین الاقوامی سطح پر آپکو ایوارڈز ملیں گے۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>فلم کا مختصر خاکہ اور اسے بنانے کے محرکات کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا &rsquo;&rsquo; ڈینیئل ینگ جو میرے ساتھی ڈائریکٹر ہیں یہ ان کا آئیڈیا تھا کہ ایک پاکستانی نژاد برطانوی ڈاکٹر محمد جواد ہیں، ان کی زندگی جب وہ برطانیہ سے پاکستان آتے ہیں اور تیزاب والی جو خواتین ہیں ان کا علاج کرتے ہیں تو اس کی اسٹوری کو عکس بند کیا جائے۔ میں نے یہ پراجیکٹ دیکھ کر بولا کہ یہ بہت اہم ہے۔ ایک عورت پر ایک دفعہ تیزاب پھینک دیں تو وہ ساری عمر اس کو بھگتتی ہے۔ ڈیڑھ سال لگائے ہیں ہم نے اس فلم پر ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ آسکر تک پہنچے گی لیکن امید تھی کہ اگر ہم اچھا کام کریں گے تو لوگ بین الاقوامی سطح پر سراہیں گے۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>شرمین کا کہنا تھا کہ خواتین پر تشدد بالخصوص تیزاب سے حملے کا جو رجحان معاشرے میں پایا جاتا ہے اس کی حوصلہ شکنی کے لیے ضروری ہے کہ قانون سازی کے ساتھ ساتھ ہر سطح پر اس کے خلاف آواز اٹھائی جائے۔</p>
<p>&rsquo;&rsquo;جن خواتین پر تیزاب پھینکا جاتا ہے تو ان کے مرد سمجھتے ہیں کہ انھوں نے جو کیا وہ صحیح کیا اور یہ مائنڈ سیٹ بن جاتا ہے خصوصاً سرائیکی بیلٹ میں بہت زیادہ واقعات ہوتے ہیں تو یہ بہت تکلیف ہوئی کہ ایک ہی ملک کے اندر ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ عورتوں پر تشدد کرنا ان کا حق ہے۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>&rsquo;سیوونگ فیس&lsquo; میں دیے جانے والے پیغام سے متعلق شرمین عبید چنوئے کہتی ہیں&rsquo;&rsquo;فلم کا میسج بہت سادہ ہے کہ اگر خواتین ایک دوسرے کی مدد کریں گی تو کوئی بھی مشکل آسان ہوجاتی ہے۔ جو متاثرہ خواتین ہیں انھوں نے دوسری خواتین کی مدد لی، این جی اوز ، وکلا اور پارلیمنٹیرینز کی اور ان ہی کی مدد سے انھوں نے پارلیمنٹ کے اندر درخواست بھی دی اور اس کے تحت ایک بل پاس ہوا، ایک وکیل نے اس کا مقدمہ بھی لڑا، ان میں سے ایک خاتون کا خاوند اب جیل میں ہے ۔ اگر ہم چاہیں تو اپنے پرابلمز خود سالوو کرسکتے ہیں۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-LEFT--&gt;</span></p>
<p>شرمین متعدد دستاویزی فلمیں (ڈاکیومنٹریز) بنا چکی ہیں اور 2010ء میں ان کی فلم &rsquo;&rsquo;پاکستان: چلڈرن آف دی طالبان&lsquo;&lsquo;&nbsp;ایمی ایوارڈ حاصل کرچکی ہے۔</p>
<p>عالمی سطح پر فلموں کے سب سے متعبر سمجھے جانے والے آسکر ایوارڈز کی تقریب 26 فروری کو ہالی ووڈ میں منعقد ہوگی جبکہ شرمین کی فلم سیوونگ فیس رواں سال مارچ میں منظر عام پر آنے کی توقع ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 25 Jan 2012 09:19:55 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138026698</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[ناصر محمود]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-25T09:19:55Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Film_Saving+Face_Sharmeen_480.jpg" length="66930" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
																																												
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Film_Saving+Face_Sharmeen_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="500" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Pakistan_Films_Sharmeen_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Film_Sharmeen_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/Film_Saving+Face_Sharmeen_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																										</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>84 ویں آسکر ایوارڈز کی نامزدگیوں کا اعلان</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Oscar-Awards-Nominations-24Jan12-137975743.html</link>
				<description>فیملی ایڈونچر ڈراما 'ہیوگو' 11 نامزدگیوں کے ساتھ سرِ فہرست ہے جبکہ بلیک اینڈ وائٹ خاموش فلم 'دی آرٹسٹ' کو 10 مختلف شعبہ جات میں نامزد کیا گیا ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکہ کی 'اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز' نے فلمی دنیا کے سب سے بڑے ایوارڈز 'آسکر' کے لیے نامزدگیوں کا اعلان کردیا ہے&nbsp; ۔</p>
<p>فیملی ایڈونچر ڈراما 'ہیوگو' 11 نامزدگیوں کے ساتھ سرِ فہرست ہے جبکہ بلیک اینڈ وائٹ خاموش فلم 'دی آرٹسٹ' کو 10 مختلف شعبہ جات میں نامزد کیا گیا ہے۔</p>
<p>بیس بال کے کھیل سے متعلق فلم 'منی بال' اور جنگِ عظیم اول کی ایک کہانی&nbsp; پہ بنی اسٹیون اسپیل برگ کی 'وار ہورس' کو چھ، چھ نامزدگیاں حاصل ہوئی ہیں۔</p>
<p>بہترین فلم کے 'آسکر' کے لیے کل نو فلمیں میدان میں ہیں&nbsp; جن میں مذکورہ بالا چار فلموں کے علاوہ فیملی ڈراما 'دی ڈیسنڈنٹس'، شہری حقوق سے متعلق فلم 'دی ہیلپ' ووڈی ایلن کی 'مڈنائٹ ان پیرس'، ٹیرنس ملک کی 'دی ٹری آف لائف' اور 11/9 کے سانحے سے متعلق 'ایکسٹریملی لائوڈ اینڈ انکریڈبلی کلوز' شامل ہیں۔</p>
<p>امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ بہترین فلم کا 'آسکر' ایوارڈ 'دی ڈیسنڈنٹس' اور 'دی آرٹسٹ' میں سے کسی ایک کے سر رہے گا جو رواں ماہ ہونے والے 'گولڈن گلوب' ایوارڈز میں بالترتیب بہترین فلم&nbsp; اور بہترین مزاحیہ فلم قرار پائی تھیں۔</p>
<p>بیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں کی خاموش فلموں کے دور کی عکاسی کرنے والی فرانسیسی فلم 'دی آرٹسٹ' کی کہانی&nbsp; خاموش فلموں کے ایک ایسے اداکار کے گرد گھومتی ہے جس کا فلمی کیریئر بولتی فلموں کی آمد کے باعث &nbsp;تاریک ہوتا جارہا ہے۔</p>
<p>جب کہ 'دی ڈیسنڈنٹس' اپنے خان دان کو اکٹھا رکھنے کی کوششوں میں مصروف جزائرِ ہوائی میں بسنے والے ایک ایسے شخص&nbsp; کی کہانی&nbsp; ہے&nbsp; جس کی بیوی کشتی کے ایک حادثے کے بعد 'کوما' میں چلی گئی ہے۔</p>
<p>بہترین اداکار کے 'آسکر' کے لیے کل پانچ امیدوار میدان میں ہیں جن میں 'دی ڈیسنڈنٹس' کے جارج کلونی، 'دی آرٹسٹ' کے جین ڈجارڈن، 'منی بال' کے بریڈ پٹ، 'ٹینکر ٹیلر سولجر اسپائے' کے گیری اولڈ مین اور 'اے بیٹر لائف' کے ڈیمین بچر شامل ہیں۔</p>
<p>توقعات کے عین مطابق بہترین اداکارہ کے شعبے میں سرِ فہرست میرل اسٹریپ ہیں جنہیں فلم 'دی آئرن لیڈی' میں برطانوی وزیرِاعظم مارگریٹ تھیچر کا کردار نبھانے پر نامزد کیا گیا ہے۔</p>
<p>فلمی ناقدین ماضی میں دو بار 'آسکر' جیتنے والی اسٹریپ کو اس فلم میں ان کی اداکاری کے باعث پہلے ہی 'آسکر' کے لیے 'ہاٹ فیورٹ' قرار دے چکے ہیں۔ اسٹریپ سب سے زیادہ بار 'آسکر' کی نامزدگی حاصل کرنے والی اداکارہ بھی ہیں جنہیں 17 ویں بار اس اعلیٰ ترین فلمی ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔</p>
<p>اس شعبے میں ان کے مدِ مقابل اداکارائوں میں 'مائے ویک ود مارلن' میں ماضی کی معروف گلوکارہ و اداکارہ مارلن منرو کا کردار اداکرنے والی مشیل ولیمز، 'دی ہیلپ' کی&nbsp; ویولا ڈیوس، 'البرٹ نوبس' کی گلین کلوز اور 'دی گرل ود ڈریگن ٹیٹو' کی رونی مارا شامل ہیں۔</p>
<p>بہترین ہدایت کار کے ایوارڈ کے لیے 'دی آرٹسٹ' کے مائیکل ہزاناویشس، 'دی ڈیسنڈنٹس' کے الیگزنڈر پین، 'ہیوگو' کے مارٹن اسکورسیس، 'دی ٹری آف لائف' کے ٹیرنس ملک اور 'مڈنائٹ ان پیرس' کے ووڈی ایلن نامزد کیے گئے ہیں۔</p>
<p>حیر ت انگیز طور پر بہترین فلم کے ایوارڈ کے لیے نامزد 'وار ہارس' کے ہدایت کار اور ماضی میں دوبار 'آسکر' جیتنے والے اسٹیون اسپیل برگ اس سال بہترین ہدایت کار کی&nbsp; نامزدگی حاصل نہیں کرپائے ہیں جب کہ گزشتہ برس ریلیز ہونے والی اور 'گولڈن گلوب ایوارڈ' کی فاتح ان کی پہلی اینی میٹڈ فلم 'دی ایڈونچر آف ٹِن ٹن' بھی 'آسکر' کی نامزدگی حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔</p>
<p>بہترین اینی میٹڈ فلم کے 'آسکر' ایوارڈ کی دوڑ میں 'اے کیٹ ان پیرس'، چیکو اینڈ ریٹا'، کنگ فو پانڈا2'، 'پس ان دی بوٹس' اور 'رینگو' شامل ہیں۔</p>
<p>84 ویں سالانہ 'آسکرز' کے فاتحین کا اعلان 26 فروری کو ہالی ووڈ کے 'کوڈک تھیٹر' میں منعقد ہونے والی تقریب میں کیا جائے گا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 24 Jan 2012 18:18:31 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">137975743</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[عمیر بن ریاض]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-24T18:18:31Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/ap_oscar_nominations_24jan12_eng_480.jpg" length="23069" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_oscar_nominations_24jan12_eng_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="291" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/oscars_hollywood_300x300_AP.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>'بافٹا' ایوارڈز کے لیے نامزدگیوں کا اعلان</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/Bafta-Award-Nominations-17Jan2021-137515433.html</link>
				<description>برطانیہ کی فلمی دنیا کے سب سے بڑے اور 'آسکرز' کے ہم پلہ سمجھے جانے والے اعزازات 'برٹش اکیڈمی فلم ایوارڈز'کی نامزدگیوں کا اعلان کردیا گیا ہے اور گولڈن گلوب' ایوارڈز میں سرِ فہرست رہنے والی بلیک اینڈ وائٹ فلم 'دی آرٹسٹ' یہاں بھی بازی لے گئی ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>برطانیہ کی فلمی دنیا کے سب سے بڑے اور 'آسکرز' کے ہم پلہ سمجھے جانے والے اعزازات 'برٹش اکیڈمی فلم ایوارڈز'کی نامزدگیوں کا اعلان کردیا گیا ہے اور گولڈن گلوب' ایوارڈز میں سرِ فہرست رہنے والی بلیک اینڈ وائٹ فلم 'دی آرٹسٹ' یہاں بھی بازی لے گئی ہے۔</p>
<p>بیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں خاموش فلموں کے دور کی عکاسی کرنے والی فرانسیسی فلم 'دی آرٹسٹ' کو بہترین فلم، اداکار، اداکارہ، ہدایت کار اور اسکرین پلے سمیت 'بافٹا' کے نام سے معروف ان ایوارڈز کے لیے 12 مختلف شعبوں میں نامزد کیا گیا ہے۔</p>
<p>'دی آرٹسٹ' کی کہانی&nbsp; خاموش فلموں کے ایک ایسے کردار کے گرد گھومتی ہے جس کا فلمی کیریئر بولتی فلموں کی آمد کے باعث&nbsp; تاریک ہوتا جارہا ہے۔ اس مزاحیہ فلم نے اتوار کی شب لاس اینجلس میں ہونے والے 'گولڈن گلوب ایوارڈز' کی تقریب میں بہترین&nbsp; مزاحیہ فلم، بہترین مزاحیہ اداکار اور بہترین موسیقی کے ایوارڈزحاصل کیے تھے۔</p>
<p>ایوارڈز کی اس دوڑ میں 'دی آرٹسٹ' کا مقابلہ&nbsp; سرد جنگ کے زمانے کے ایک جاسوس کی کہانی&nbsp; پر مبنی&nbsp; فلم 'ٹنکر ٹیلر سولجر اسپائے' سے ہے جسے بہترین فلم، اداکار اور ہدایت کار &nbsp;سمیت 11 مختلف شعبوں میں نامزد کیا گیا ہے۔ مارٹن اسکورسیس کی فیملی ایڈونچر 'ہیوگو' نو شعبوں میں نامزد ہوئی ہے۔</p>
<p>'بافٹا' ایوارڈ کی نامزدگیوں کا اعلان منگل کو لندن میں ایک تقریب میں برطانوی اداکارہ ہالیڈے گرینجر اور 'ہیری پوٹر' سیریز کے ہیرو ڈینئل ریڈکلف نے کیا جن کی آٹھ فلموں پہ مشتمل سیریز کی اسی برس ریلیز ہونے والی&nbsp;&nbsp; آخری فلم 'ہیری پوٹر اینڈ دی ڈیتھلی ہالوز &ndash; پارٹ 2' باکس آفس پر تہلکہ مچانے کے باوجود کسی اہم شعبے میں نامزد ہونے سے محروم رہی ہے۔</p>
<p>فلم کو میک اپ، پروڈکشن ڈیزائن، سائونڈ اور اسپیشل ویژوئل افیکٹس جیسے نسبتاً غیر اہم شعبوں میں ایوارڈز کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ 'ہیری پوٹر' فلموں کے شائقین ماضی میں بھی سینمائوں میں ریکارڈ توڑ بزنس کرنے والی سیریز کی فلموں کو ایوارڈز کے اہم شعبوں میں نظر انداز کیے جانے پہ شاکی رہے ہیں۔</p>
<p>بہترین فلم کے 'بافٹا' ایوارڈز کے لیے نامزد دیگر فلموں میں بہترین فلم کا 'گولڈن گلوب ایوارڈ' جیتنے والی 'دی ڈیسنڈنٹس' کے علاوہ 'ڈرائیو' اور 'دی ہیلپ' شامل ہیں۔</p>
<p>بہترین اداکار کے شعبے میں 'دی آرٹسٹ' اور 'ٹنکر ٹیلر سولجر اسپائے' کے مرکزی اداکاروں جین ڈجارڈین اور گیری اولڈ مین کا مقابلہ 'منی بال ' کے بریڈ پٹ،&nbsp; اور 'دی ڈیسنڈنٹس' کے جارج کلونی سے ہے جنہیں اسی کردار پر بہترین اداکار کا 'گولڈن گلوب ایوارڈ' بھی مل چکا ہے۔</p>
<p>توقعات کے عین مطابق بہترین اداکارہ کے شعبے میں سرِ فہرست میرل اسٹریپ ہیں جنہیں فلم 'دی آئرن لیڈی' میں برطانوی وزیرِاعظم مارگریٹ تھیچر کا کردار بخوبی نبھانے پر نامزد کیا گیا ہے۔</p>
<p>فلمی ناقدین کی رائے ہے کہ اس فلم میں اپنی اداکاری پر بہترین اداکارہ کا 'گولڈن گلوب' پانے والی اسٹریپ صرف 'بافٹا' ہی نہیں بلکہ 'آسکر' ایوارڈ بھی اپنے نام کرنے میں کامیاب ہوجائیں گی۔</p>
<p>اس شعبے میں ان کے مدِ مقابل اداکارائوں میں 'دی آرٹسٹ' کی بیرینائیس بیجو، 'مائے ویک ود مارلن' میں ماضی کی معروف گلوکارہ و اداکارہ مارلن منرو کا کردار اداکرنے والی مشیل ولیمز، 'وی نیڈ ٹو ٹاک ابائوٹ کیون' کی ٹلڈا وائنٹن اور 'دی ہیلپ' کی&nbsp; ویولا ڈیوس ہیں۔</p>
<p>'بافٹا' ایوارڈز کی تقریب 12 فروری کو لندن کے 'رائل اوپرا ہائوس' میں منعقد ہوگی۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 17 Jan 2012 21:23:14 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">137515433</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[عمیر بن ریاض]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-17T21:23:14Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/BAFTA+(400+x+301)1.jpg" length="30573" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/BAFTA+(400+x+301)1.jpg" medium="image" isDefault="true" height="301" width="400" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/REU_BAFTA_Colin_Firth_Kings_Speech_480.jpg" medium="image" isDefault="false" height="382" width="480" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>مہدی حسن : ایک عظیم فنکار ، ایک عظیم شخصیت </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Mehdi-Hassan-17Jan12-137499463.html</link>
				<description>پاکستان فلم انڈسٹری سے وابستہ تمام افراد مہدی حسن کو جو مرتبہ عطا کرتے ہیں وہ ناصرف نہایت اعلیٰ ہے بلکہ انہیں مہدی حسن سے والہانہ محبت بھی ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>&nbsp;مہدی حسن ، پاکستان میں گائیکی کے شہنشاہ ہیں۔ یہ میدان برسوں سے ان کے نام ہے اور آئندہ کئی عشروں تک بھی شاید ان کا کوئی جواب پیدا نہ ہوسکے۔ پاکستان فلم انڈسٹری سے وابستہ تمام افراد مہدی حسن کو جو مرتبہ عطاکرتے ہیں وہ ناصرف نہایت اعلیٰ ہے بلکہ انہیں مہدی حسن سے والہانہ محبت ہے ۔ محبت اور اپنائیت ہی کا نتیجہ ہے کہ سب لوگ انہیں &rdquo;خان صاحب&ldquo; کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ <br /><br /> سینیئر صحافی محمد شاہد خان المعروف م ،ش، خ ان شخصیات میں شامل ہیں جن کا مہدی حسن کے ساتھ عروج کے دور میں بھی قریبی تعلق رہا۔انہوں نے مہدی حسن سے ایک دو نہیں ،کئی انٹرویوز کئے ، ان کے ساتھ سیمینارز میں شرکت کی، ایک ساتھ سفر بھی کیا ۔ زیر نظر تحریر مہدی حسن سے جڑی ان کی ماضی کی یادوں پر مشتمل ہے ۔ وہ مہدی حسن کے بارے میں کہتے ہیں ۔ &rdquo;مہدی حسن ابھی جس حال میں ہیں یقین نہیں آتا کہ یہ وہی مہدی حسن ہیں جو اپنی صحت کا بہت خیال رکھا کرتے تھے اور اکثر لاہور میں بھولو کے اکھاڑے میں ورزش کیا کرتے تھے&ldquo;<br /><br /> شاہد خان کے مطابق مہدی حسن نے جس گیت کو بھی اپنی آواز دی وہ گیت امر ہوگیا۔ مثلاً ابتدائی دنوں کی بات ہے ہدایات کار خلیل قیوم اپنی فلم&rdquo;فرنگی &ldquo; بنارہے تھے۔ انہوں نے فیض احمد فیض سے اپنی فلم کے لئے ایک گیت لکھوایاجس کے بول تھے&rdquo;گلوں میں رنگ بھرے باد نو بہار چلے&ldquo;۔ اس گیت کی ریکاردنگ کے لئے مہدی حسن کی خدمات لی گئیں۔ مہدی حسن نے اس گیت کو اس قدر خوبصورت انداز میں گایا کہ اس کی خوبصورتی آج تک ترو تازہ معلوم ہوتی ہے۔ مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے کہ فلم کی ریلیز سے پہلے یہ گانا ریڈیو پاکستان سے نشر ہوا تو کراچی سے لے کر خیبر تک لوگوں نے دل تھام لئے تھے۔ اس ایک گیت نے مہدی حسن کو گلی گلی مشہورکردیا تھا۔&ldquo; <br /><br /> &rdquo; فرنگی&ldquo; 18 دسمبر 1964ء کو ریلیز ہوئی تھی ۔ اسی دور میں مہدی حسن کی بے مثال آواز میں گایا ہوا ایک اور گانا ریکارڈ توڑ کامیابی سے سرفرازہوا۔ فلم&rdquo;سسرال&ldquo;کے اس گیت کے بول تھے &rdquo;جس نے میرے دل کو درد دیا&ldquo;۔بقول م ش خ ،اس گیت نے عوامی مقبولیت کا وہ ریکارڈ قائم کیا کہ ریڈیو پاکستان کے غالباً ہر پروگرام میں یہ گیت بجاکرتا تھا۔ ان گیتوں نے گویا وہی کام کیا جو خوش بختی کے پرندے ہما سے منسوب ہے۔ کہتے ہیں ہما جس کے سرپر بیٹھے وہ بادشاہ بن جاتا ہے ۔ مذکورہ دونوں گیتوں نے دیکھتے ہی دیکھتے مہدی حسن کو قسمت کا دھنی بنادیا۔ ان گیتوں کے بعد مہدی حسن کے لئے کامیابی کے دروازے کھلتے چلے گئے۔ <br /><br /> &rdquo;بنیادی طور پر خان صاحب شریف النفس انسان ہیں، ہمیشہ جونیئر آرٹسٹوں سے محبت کی ۔ان کے حوالے سے یہ بات بھی نہایت مشہور تھی کہ جس نو فنکار پر ان کی آواز ڈب ہوتی ہے وہ راتوں رات کامیاب فنکاروں کی فہرست میں آکھڑا ہوتا تھا۔ پروڈیوسر مصنف اور موسیقار خورشید انور نے ذاتی فلم کا آغافلم &rdquo;گھونگھٹ&ldquo; سے کیاتھا۔ اس کے ہیرو سنتوش کمار تھے۔ خورشید انور کی موسیقی میں جب مہدی حسن نے جو &rdquo;مجھ کو آواز دے کہاں ہے&ldquo; گایا تو لوگ سنتوش کمار کے دیوانے ہوگئے اور سنتوش اس فلم سے اتنے مشہور ہوئے کہ راتوں رات انہیں صف اول کا ہیروز شمار کیا جانے لگا۔ <br /><br /> &nbsp;ماضی کے مشہور ہیرو شاہد بھی ایسے ہی فنکار ہیں جو مہدی حسن کے گیتوں سے ہیرو بنے۔ شاہد کی پہلی فلم &rdquo;آنسو&ldquo; تھی جس کا ایک گیت &rdquo;جان جاں تو جو کہے گاوٴں میں گیت تیرے&ldquo;اس قدر مشہور و معروف ہوا کہ پاکستان تو پاکستان بھارت تک اس کی دھوم مچ گئی۔ اس گیت نے اداکار شاہد کو پہلی فلم سے ہی صف اول کے ہیروز میں لا کھڑا کیا۔<br /><br /> ایک اور گیت &rdquo;یہ دنیا رہے نہ رہے میرے ہمدم ۔۔۔کہانی محبت کی زندہ رہے گی&ldquo; بھی مہدی حسن کو گائیکی کی دنیا کا شہنشاہ بنا گیا ۔ فلمساز شباب کیرانوی نے اس گانے کو اپنی فلم &rdquo;میرا نام ہے محبت&ldquo;کے لئے ریکارڈ کرایا تھا۔ اداکار غلام محی الدین کی یہ ابتدائی فلموں میں سے تھی۔اس گانے کی شہرت سے نہ صرف فلم ہٹ ہوئی بلکہ غلام محی الدین کو بھی اس گیت نے اسٹار بنادیا ۔ <br /> <br />مہدی حسن یعنی &rsquo;خان صاحب&lsquo; کے کہنے پرنغمہ نگار خواجہ پرویز نے فلم &rdquo;چاہت &ldquo; کے لئے ایک گیت لکھا تھاجس کے بول تھے&rdquo;پیار بھرے ، دو شرمیلے نین&ldquo;۔ اس گیت کا سب سے بڑا کریڈیٹ یہ تھا کہ فلم نے محض گانے کی بنا پر سلور جوبلی کی۔اس فلم کے موسیقار تھے روبن گھوش۔ <br /> موسیقار نثار بزمی ،اداکار رنگیلا اورشاعر مشیر کاظمی کی خان صاحب سے بہت گہری دوستی تھی۔ایک مرتبہ مشیر کاظمی مرحوم نے اپنے تمام دوستوں کو یکجا کیا اور بحیثیت شاعر ، فلم ساز اور ہدایت کار فلم &rdquo;میری زندگی ہے نغمہ&ldquo;بنانے کا اعلان کیا۔</p>
<p>یہ کامیڈی ہیروز کا دور تھااور رنگیلا ان ہیروز میں سرفہرست تھے چنانچے رنگیلا کو ہی &rdquo;میری زندگی ہے نغمہ&ldquo; کے لئے کاسٹ کیا گیا ۔ اس فلم کے گیت لکھے مشیرکاظمی نے جبکہ موسیقار نثار بزمی اور پلے بیک سنگینگ مہدی حسن کی تھی۔ اس فلم کے ایک گیت&rdquo; اک حسن کی دیوی سے تجھے پیار ہوا تھا&ldquo; اتنا مشہور ہوا کہ اس دور کے سامعین میں یہ بات مشہور ہوگئی کہ خان صاحب کو داد دیئے بغیر اس گیت کو سننا &rsquo;گیت کی توہین&lsquo; ہے ۔ اس گیت کی وجہ سے رنگیلا مکمل ہیرو کی صف میں آکھڑے ہوئے۔ آج بھی یہ مہدی حسن کے سب سے زیادہ مشہور گانوں میں سرفہرست شمار ہوتا ہے۔<br /><br /> فلم&rdquo;داستان&ldquo;اگرچہ بری طرح فلاپ ہوئی لیکن اس کا ایک گانا &rdquo;قصہ غم میں تیرا نام نہ آنے دیں گے&ldquo;۔۔ خان صاحب کی کاوشوں کا نچوڑقرار دیا گیا۔ اسی طرح فلمساز اور اداکار درپن کی فلم&rdquo;عظمت&ldquo;کی شوٹنگ کے دوران درپن اور نیر سلطانہ نے مہدی حسن سے ایسٹرن اسٹوڈیو میں کہا تھا کہ خان صاحب ایسا گیت گائیں جو میری اور درپن کی زندگی کا یادگار گیت بن جائے سو ایسا ہی ہوا۔ <br /><br /> اسی گیت کے حوالے سے یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جب اس گیت کی دھوم بھارت پہنچی تو لتا منگیشکر نے خان صاحب کو وہ بات کہی جو مہدی حسن اور لتا کے حوالے سے اکثر سنی جاتی ہے ۔ یہ گیت سن کر لتا جی نے کہا تھا کہ &rdquo; مہدی حسن کے گلے میں بھگوان بولتے ہیں&ldquo; یہ اس دور کا سپر، ڈوپر ہٹ گیت تھا۔ ا س کے بول تھے &rdquo;زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں &ldquo;&nbsp;</p>
<p>شباب کیرانوی مرحوم نے جب فلم &rdquo;نیا راستہ&ldquo; بنانے کا اعلان کیا تو ایک گیت کے لئے خان صاحب کو بلوابھیجا۔ خان صاحب نے شاعری سننے کے بعد شباب کیرالوی سے کہا کہ آپ یہ گیت احمد رشدی صاحب کی آواز میں ریکارڈ کرالیں، وہ طربیہ گیت گانے کے ماہر ہیں۔ یہ خان صاحب کا بڑا پن تھا کہ انہوں نے اپنے سامنے احمد رشدی کا نام پیش کیا۔ <br /><br /> ادھر کیرالوی صاحب بھی بضد تھے کہ خان صاحب سے ہی یہ گیت گوائیں گے ۔ ان کااصرار اتنا بڑھا کہ خان صاحب کو ہار ماننا پڑا۔انہوں نے گیت گایا جو محمد علی پر فلمبند ہوا ۔ گو کہ فلم ہٹ نہیں ہوئی مگر صرف خان صاحب کے گیت کی بدولت شباب صاحب ایک بڑے مالی خسارے سے بچ گئے ۔ گیت کے بول تھے&rdquo;مجھے کر دے نا دیوانہ تیرے انداز مستانہ &ldquo;۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 17 Jan 2012 18:47:03 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">137499463</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[وسیم اے صدیقی]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-17T18:47:03Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/MehdiHassanJan17_main.jpg" length="161532" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/MehdiHassanJan17_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/MehdiHassanJan17_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>گولڈن گلوب ایوارڈز: 'دا ڈیسنڈنٹس' بہترین فلم قرار</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Golden-Globe-Awards-16Jan12-137431493.html</link>
				<description>'ہالی ووڈ فارن پریس ایسوسی ایشن' کے زیرِ اہتمام ہر سال ہونے والے 'گولڈ گلوب ایوارڈز' کا فیصلہ تنظیم کے لگ بھگ 90 اراکین کرتے ہیں</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>خاندانی مسائل کے گرد گھومتی 'دا ڈیسنڈنٹس' بہترین فلم کا 'گولڈن گلوب ایوارڈ' لے اڑی ہے جب کہ فلم کے مرکزی کردار جارج کلونی 'بہترین اداکار' قرار پائے ہیں۔</p>
<p>اتوار کی شب امریکی شہر لاس اینجلس میں ہونے والی 'انہترویں گولڈن گلوب ایوارڈ ز' کی تقریب&nbsp; میں بلیک اینڈ وائٹ دور کی خاموش فلم 'دا آرٹسٹ' بہترین&nbsp; مزاحیہ فلم، بہترین مزاحیہ اداکار اور بہترین موسیقی کے ایوارڈز کے تین ایوارڈز کے ساتھ سرِ فہرست رہی۔</p>
<p>'ہالی ووڈ فارن پریس ایسوسی ایشن' کے زیرِ اہتمام ہر سال ہونے والے 'گولڈ گلوب ایوارڈز' کا فیصلہ تنظیم کے لگ بھگ 90 اراکین کرتے ہیں۔</p>
<p>ایوارڈ کی تقریب کی میزبانی مزاحیہ اداکار اداکار رکی گریون نے کی۔ فلم 'دی آئرن لیڈی' میں سابق برطانوی وزیرِاعظم مارگریٹ تھیچر کا کردار نبھانے پر بہترین اداکارہ کا ایوارڈ میرل اسٹریپ کو دیا گیا جب کہ مارٹن سکورسیس فلم 'ہیوگو' پر بہترین ہدایت کار قرار پائے۔</p>
<p>بہترین اسکرین پلے کا ایوارڈ فلم 'مِڈ نائٹ ان پیرس' کے لیے ووڈی ایلن کے حصے میں&nbsp; آیا۔ بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ فلم 'بگنرز' کے کرسٹوفر پلمر اور بہترین معاون اداکارہ کا فلم 'دی ہیلپ' کی اوکٹاویا اسپنسر نے حاصل کیا۔</p>
<p>اسٹیون اسپل برگ کی 'دی اینڈوینچرز آف ٹِن ٹنِ' سال کی بہترین 'اینی میٹڈ فلم قرار پائی جب کہ بہترین غیر ملکی فلم کا گولڈن گلوب ایوارڈ ایران کی 'اے سیپریشن' نے جیتا۔</p>
<p>واضح رہے کہ 'گولڈن گلوب' ہالی ووڈ&nbsp; کے سالانہ 'ایوارڈ سیزن' کی پہلی بڑی تقریب ہوتی ہےجس کا اختتام&nbsp; فلمی دنیا کے سب سے بڑے ایوارڈز 'آسکرز' پہ ہوتا ہے۔</p>
<p>'آسکرز' کی منتظم 'اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز' 2011ء کے ایوارڈ زکے لیے نامزدگیوں کا اعلان 24 جنوری کو کرے گی۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Mon, 16 Jan 2012 19:56:26 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">137431493</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[عمیر بن ریاض]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-16T19:56:26Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Reuters+Golden+Globe+George+Clooney+15Jan12+230.jpg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>مہدی حسن : راجستھان کی علاج و مالی معاونت کی پیشکش</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Rajistan-Mehi-Hassan-14Jan12-137349263.html</link>
				<description>اُن کے مداحوں کی محبت کا اندازہ اِس بات سے لگایا جا سکتاہے کہ بھارت کی مساجد کے ساتھ ساتھ مندروں میں بھی اُن کی جلد صحت یابی کی دعائیں مانگی جا رہی ہیں</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>مہدی حسن کا بھارتی ریاست راجستھان سے &rsquo;جنم کا رشتہ&lsquo; ہے۔ وہ اِسی ریاست کے ایک چھوٹے سے علاقے لونا میں پیدا ہوئے تھے۔ شاید اسی رشتے کو نبھاتے ہوئے راجستھان کی حکومت نے مہدی حسن کے بھارت میں علاج معالجے اور خرچ ہونے والے تمام اخراجات خود برداشت کرنے کی پیش کش کی ہے۔</p>
<p>بھارت کے سب سے بڑے خبررساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا، نجی ٹی وی چینل زی نیوز اور آئی بی این لائیو کے مطابق ریاستی وزیر اعلیٰ اشوک گہلوٹ نے مہدی حسن کے صاحبزادے آصف مہدی سے فون پر بات کرتے ہوئے انہیں بھارت میں علاج اوراس سلسلے میں مالی معاونت کی پیشکش کی۔</p>
<p>وزیراعلیٰ نے ریاست کے چیف سیکریٹری کو ہدایت کی کہ وہ مہدی حسن کے اہل خانہ سے رابطے میں رہیں۔</p>
<p>&nbsp;دوسری جانب، مہدی حسن کی شدید علالت پر ان کے بھارتی مداحوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ راجستھان میں مقیم ان کے بچپن کے دوست نارائن سنگھ شیخاوت اور دیگر افراد مہدی حسن کی جلد صحت یابی اور درازی عمر کے لیے دعائیں مانگ رہے ہیں۔</p>
<p>&nbsp;مہدی حسن سے ان کے مداحوں کی محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتاہے کہ بھارت کی مساجد کے ساتھ ساتھ مندروں میں بھی اُن کی جلد صحت یابی کی دعائیں مانگی جا رہی ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sat, 14 Jan 2012 19:24:32 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">137349263</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[وسیم اے صدیقی]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-14T19:24:32Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/mehdiHassan_main.jpg" length="47219" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/mehdiHassan_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Mehdi-Hassan_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>کس حال میں ہیں مہدی حسن</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Mehdi_Hassan_13Jan12-137305983.html</link>
				<description>سب کے دل میں بس ایک ہی خواہش ہے کہ مہدی حسن جلد اچھے ہوجائیں</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>آغا خان اسپتال کےپرائیوٹ ونگ کی تیسری منزل کا کمرہ نمبر310اِن دنوں پاکستان کے عظیم گلوکار مہدی حسن کی آرام گاہ بنا ہوا ہے۔</p>
<p>&nbsp;اِس کمرے کی بائیں جانب لگے بیڈ پر چار ڈاکٹروں کے گھیرے میں وہی مہدی حسن جو اپنی سریلی آواز کی بدولت دنیا بھر میں پہچانے جاتے ہیں، &nbsp;دور تک پھیلی خاموشیوں کے ہاتھ تھامے لیٹے ہوئے ہیں۔ جسم ہے کہ مختلف قسم کی نالیوں میں جکڑا ہوا ہے۔ آنکھیں بند ہیں، ہونٹ ٹھہرے ہوئے۔صرف سانس کی تیز تیز آوازجینے کا پتہ دیتی ہے۔</p>
<p>کمرے میں ڈھیرساری جدید مشینیں بھی لگی ہوئی ہیں ۔ کوئی دل کی دھڑکن بتاتی ہے تو کوئی نبص کا پتہ دیتی ہے۔ کمرے میں آنے کی اجازت ہر ایک کو نہیں۔ صرف گنتی کے افراد ہی اندر جاسکتے ہیں وہ بھی بغیر آہٹ کے۔</p>
<p>آئی سی یو کے باہر مہدی حسن کے اہل خانہ جمع ہیں۔ سب کے چہرے پر فکر مندی چھائی ہے۔ سب کے دل میں بس ایک ہی خواہش ہے کہ مہدی حسن جلد اچھے ہوجائیں۔ ان کے بڑے صاحبزادے عارف حسن اور ان کے جواں سال بیٹے حسن مہدی تیمارداری میں مگن ہیں ۔</p>
<p>حسن مہدی نے وی او اے کے ساتھ تبادلہٴ خیال کے دوران بتایا کہ ڈاکٹروں نے آج یعنی جمعہ کو وینٹی لیٹر ہٹا دیا ہے۔ ان کے دادا یعنی مہدی حسن کی حالت قدرے بہتر ہے ۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ حالت اسٹیبل یعنی مستحکم ہوگئی ہے تاہم مزید بہتری کے لئے دعاکرنی ہوگی۔</p>
<p>اُنہوں نے یہ بھی بتایا کہ چار دن گزرنے کے باوجود کسی سرکاری اہلکارنے اُن سے رابطہ نہیں کیا۔ البتہ، بھارت سے مسلسل فون آ رہے ہیں۔ مکیش بھٹ سے لیکر لتا منگیشکر تک سبھی نے خان صاحب کی خیریت دریافت کی ہے ۔ بھارت کی جانب سے علاج معالجے کی بھی پیشکش ہوئی ہے ۔ حسن مہدی کا کہنا ہے کہ علاج پر خاصی رقم خرچ ہوگئی ہے جبکہ مزید پیسے کی ضرورت ہے ۔</p>
<p>مہدی حسن کے صاحبزادے عارف مہدی نے بتایا کہ مہدی حسن کوچار روز قبل یعنی 10جنوری کی رات کراچی کے آغاخان اسپتال میں سانس لینے میں شدید تکلیف کے باعث داخل کرایا گیا تھا ۔ان کی حالت اتنی نازک اور جسم اتنا لاغر تھا کہ انہیں فوری طور پر انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل کرنا پڑا۔ مہدی حسن کی عمر اس وقت84سال ہے۔ انہیں 12سال سے پھیپھڑوں کا مرض لاحق ہے۔</p>
<p>اسپتال میں داخلے کے فوری بعد ان کا مکمل چیک اپ کیا گیا ، ان کا ایم آر آئی اسکین اور بلڈ ٹیسٹ کئے گئے جس کے بعد انہیں وینٹی لیٹرسے منسلک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ تاہم جمعہ کو انہیں وینٹی لیٹر سے ہٹالیا گیا ۔</p>
<p>عارف حسن کے مطابق مہدی حسن نے نہ صرف ایک ماہ سے بولنا چھوڑا ہوا ہے بلکہ انہیں پچھلے دو سال سے مصنوعی طریقے سے کھانا کھلایاجاتا ہے۔ اس وقت مہدی حسن ڈاکٹروں کی کڑی نگرانی میں ہیں۔ انہیں پچھلے سال علاج کی غرض سے بھارت جانا تھا مگر ڈاکٹرز نے انہیں سفر کی اجازت نہیں دی ۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 13 Jan 2012 22:07:54 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">137305983</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[وسیم اے صدیقی]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-13T22:07:54Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/mehdiHassan_teaser.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>ودیابالن اور ڈ رٹی پکچر‘ کی کامیابی سے بالی ووڈ کا رجحان تبدیل</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Bollywood-12Jan12-137195678.html</link>
				<description>ممبئی فلم انڈسٹری کو ان دنوں کروڑوں کا بزنس کرنے والی فلم ’ڈرٹی پکچر‘ کے فارمولے سے ملتی جلتی کہانیوں کی ضرورت ہے جس میں جوکچھ کرے ، ہیروئن ہی کرے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>&rsquo;ممبئی فلم انڈسٹری کو ضرورت ہے ایک ایسے کہانی نویس کی جو ایسی فلمی کہانی لکھ سکے جس میں ہیرو کے کرنے کے لئے کچھ نہ ہو اور کہانی ہیروئن کے گر د گھومتی ہو۔۔۔۔جس کی ہیروئن &rsquo;دبنگ &lsquo; ہو۔۔۔اور دنیا بھر کے سامنے اپنی &rsquo;ڈرٹی پکچر&lsquo; پیش کرتے ہوئے بھی نہ گھبرائے۔ اس وقت کے تمام ٹاپ فلم میکرز جن میں یش چوپڑا، کرن جوہر اور دیگر شامل ہیں ،ان سے فوری رابطہ کیا جاسکتا ہے۔۔کہانی پسند آنے پر منہ مانگے دام ملیں گے۔۔۔&lsquo;</p>
<p>ہوسکتا ہے آپ کو یہ الفاظ کسی جانے پہچانے اخباری اشتہار کے لگے ہوں ۔ بالکل درست اندازہ لگایا ہے آپ نے۔ زبان و بیان کچھ اسی قسم کا ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ ممبئی فلم انڈسٹری کو ان دنوں کروڑوں کا بزنس کرنے والی فلم &rsquo;ڈرٹی پکچر&lsquo; کے فارمولے سے ملتی جلتی کہانیوں کی ضرورت ہے جس میں جوکچھ کرے ،ہیروئن کرے جبکہ کوئی مشہور ہیرو نہ بھی ہو توبھی چلے گا۔</p>
<p>فلم والوں کا کہنا ہے کہ کسی زمانے میں ایسی فلمی کہانیوں کو کوئی پوچھتا بھی نہیں تھا جن کی کہانی ہیروئن کے گرد گھومتی ہو لیکن حالیہ برسوں میں کامیاب ہونے والی فلموں کو دیکھیں تو انہی فلموں سے زیادہ بزنس ہوتا نظر آتا ہے جو ہیروئن بیسڈ ہوں مثلاً ودیا بالن کی فلم &rdquo;ڈرٹی پکچر&ldquo;۔بھارت سے موصولہ اطلاعات کے مطابق اس فلم کا بجٹ 15کروڑ تھا جبکہ اس فلم نے ریلیز کے ابتدائی مہینوں میں ہی 90کروڑ روپے کا بزنس کرلیا ہے۔حالانکہ اس فلم میں کوئی بڑا ہیرو بھی نہیں۔</p>
<p>اگرچہ اس دوران دو فلموں &rdquo;باڈی گارڈ&ldquo; اور &rdquo; سنگم&ldquo; نے ہیرو کے نام پر کروڑوں کا بزنس کیا مگر ان کا بجٹ بالترتیب 50اور45کروڑروپے تھا اور ان کے ہیروز نے بھی فلم میکرز سے کروڑوں کا معاوضہ لیا جبکہ بھارتی ہیروئینوں خصوصا ودیابالن کا معاوضہ ان ہیروز کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔</p>
<p>فلمی نقادوں کا کہنا ہے کہ ہیروز کے مقابلے میں ہیروئنز کا معاوضہ کم ہواور فلم میں کوئی بھاری معاوضے والا ہیرو نہ بھی ہو تو بھی اس کا فائدہ ہی ہوتا ہے۔ ایک جانب فلم ساز زیادہ منافع کماتا ہے تو دوسری جانب وہ ہیرو کے بھاری بھرکم معاوضہ سے بھی بچ جاتا ہے۔&ldquo;</p>
<p>ممبئی میں ان دنوں فلم &rdquo;ڈرٹی پکچر &ldquo;کی زبردست کامیابی کے بعد انڈسٹری کاٹرینڈ بدل رہا ہے اور ودیا بالن، کنگنا راناوت اور پریانکا جیسی ہٹ فلمیں دینے والی ہیروئنز کی ڈیمانڈ اچانک کئی گناہ بڑھ گئی ہے ۔ ایسے میں ہر فلم ساز کی خواہش یہ ہے کہ کسی ہلکی پھلکی کہانی پر فلم بنائی جائے جس کا ہیرو بھلے کوئی مشہور اداکار نہ ہو مگر اس کی ہیروئن ایسی ہو کہ فلم ابتدائی ہفتوں میں ہی کروڑوں کی رقم بٹور لے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 12 Jan 2012 19:13:52 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">137195678</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[وسیم اے صدیقی]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-12T19:13:52Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/VidyaBalan0112_main.jpg" length="145398" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/VidyaBalan0112_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/VidyaBalan0112_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>مایہ ناز گلوکار مہدی حسن علالت کے باعث اسپتال میں داخل</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Singer-Mehdi-Hasan-11Jan12-137106103.html</link>
				<description>مہدی حسن پچھلے12 سالوں سے پھیپھڑوں کے مرض میں مبتلا ہیں۔ اس دوران انہیں کئی مرتبہ اسپتالوں میں داخل ہونا پڑا۔ اس وقت بھی علالت کے باعث انہیں شدید کمزوری کا سامنا ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>پاکستان کے مایہ ناز گلوگار اور غزل گائیک مہدی حسن کو علالت کے باعث کراچی کے آغا خان اسپتال میں داخل کرادیا گیا ہے۔ مہدی حسن کے صاحبزادے عارف مہدی کے مطابق انہیں سانس لینے میں تکلیف کا سامنا ہے جبکہ دیگر شکایات بھی ہیں ۔ ان کا سوڈیم لیول بھی بڑھا ہوا ہے جس کے سبب انہیں منگل کی شب ایمرجنسی وارڈ میں داخل کرایا گیا ۔</p>
<p>مہدی حسن پچھلے12 سالوں سے پھیپھڑوں کے مرض میں مبتلا ہیں ۔ اس دوران انہیں کئی مرتبہ اسپتالوں میں داخل ہونا پڑا۔اس وقت بھی علالت کے باعث انہیں شدید کمزوری کا سامنا ہے۔</p>
<p>مہدی حسن ایسے فنکار ہیں جن کا نام پاکستان کی فلمی اور غیر فلمی موسیقی میں ہمیشہ نگینے کی طرح چمکتا رہا ہے۔ انہوں نے18جولائی1927ء کوبھارتی ریاست راجستھان میں آنکھ کھولی تھی۔ان کے والد استاد عظیم خان اور چچا استاد اسماعیل خان اس دور کے نامور کلاسیکل موسیقار تھے ۔ مہدی حسن نے انہی دونوں سے فنی تربیت حاصل کی تھی ۔ وہ بہت چھوٹی عمر سے پاکستان کی گائیکی کے افق پر جگمارہے ہیں ۔</p>
<p>مہدی حسن نے شروع ہی سے محنت کی ۔۔ہر شعبے میں۔ یہاں تک کہ نامساعد حالات کے سبب انہیں سائیکلیں بھی مرمت کرنا پڑیں اور ایک دور میں وہ مکینک بھی رہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ گائیکی کا ریاض کرنا نہ بھولتے۔ یہی محنت انہیں پچاس کی دہائی میں ریڈیو پاکستان لے آئی جہاں سے انہوں نے باقاعدہ گائیکی کا آغاز کیا۔ پہلے ٹھمری اور بعد میں غزلیں گانا شروع کیں اور بہت جلد فن کی دنیا میں چھاتے چلے گئے ۔</p>
<p>انہوں نے فلمی گانے گائے تو بھی لا ثانی رہے۔ پاکستانی فلموں کے ہزاروں گیت اور غزلیں مہدی حسن کے نام سے منسوب ہوئیں ۔ انہوں نے فلمی دنیا کو دوعشروں سے بھی زیادہ کا وقت دیا لیکن پھر اچانک آنے والی بیماری کے سبب سن80 میں انہیں فلمی دنیا کو خیرباد کہنا پڑا۔</p>
<p>بیماری کے سبب ہی انہوں لاہور سے کراچی آنا اور مستقل گھر بسانا پڑا۔ کراچی ان کا آبائی شہر ہے۔ مہدی حسن بھارت اور پاکستان دونوں جگہ یکساں مقبول ہیں۔ بھارت کے تمام نامور گلوکار مہدی حسن کا دم بھرتے ہیں۔ بھارت میں مہدی حسن لتا منگیشکر جیسی لیجنڈ سنگر کے ساتھ بھی اپنی آواز کا جادو جگا چکے ہیں۔ لتا بھی مہدی حسن کو بہت بڑا گلوکار تسلیم کرتی ہیں۔</p>
<p>مہدی حسن اپنے فن کی بدولت دنیا بھر سے ایوارڈز حاصل کرچکے ہیں، انہیں تمغہ امتیاز ، پرائیڈ آف پرفارمنس ، ہلال امیتاز اور دیگر درجنوں ایوارڈزبھی دیئے گئے ۔ ان کی شاندار غزلوں میں &rdquo; آج تک یاد ہے وہ پیار کا منظر، آنکھوں سے ملیں آنکھیں، آپ کی آنکھوں نے ، آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے، اب کے ہم بچھڑے، اپنوں نے غم دیئے تو یاد آگیا، چلتے ہو تو چاند کو چلئے اور دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے &ldquo; شامل ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 11 Jan 2012 18:19:42 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">137106103</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[وسیم اے صدیقی]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-11T18:19:42Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Mehdi-Hassan.jpg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>اردو ترکی کا لفظ ہے، جِس کا تلفظ ’اوردو‘ ہے اور معنی فوج کے ۔۔ </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Urdu_HalilToker_28Dec11-136334213.html</link>
				<description>لیکن،  میرے لیے یہ ’محبت کی زبان‘ ہے۔ اِس کے ذریعے مجھے ایسے دوست ملے جو میرے رشتہ داروں سے زیادہ میرے قریب ہیں: استنبول یونی ورسٹی کے اردو شعبے کے سربراہ خلیل توقر</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>کئی برس پہلے&rsquo; وائس آف امریکہ&lsquo; کے ساتھ ایک خصوصی گفتگو میں پروفیسرخلیل توقر نے&rsquo;اردو اور بر صغیر کے مسلمانوں کے ساتھ اپنی قربت اور یگانگت&lsquo; &nbsp;کا ذکر کیا۔</p>
<p>اِس انٹرویو میں خلیل توقر نے بتایا کہ اُنھوں نے اردو استنبول یونی ورسٹی میں پڑھی۔ پھر اردو کے ساتھ اتنی رغبت بڑھی کہ اسی زبان میں شاعری شروع کردی۔&nbsp; اپنی شاعری&nbsp; کا تذکرہ کرتے ہوئے اُنھوں نے یہ دلچسپ انکشاف کیا کہ ُان کی اہلیہ کا تعلق لاہور سے ہے۔ شادی سے قبل اُنھوں نے اپنے جذبات کے اظہار کے لیے شاعری کو ذریعہ بنایا۔</p>
<p>وہ کہتے ہیں : &rsquo;ہوا یہ کہ میں اپنا درد و الم، شکوہ شکایات جو دوسروں سے چھپا رہا تھا تو میں اسے اپنی اہلیہ سے چھپانے کے لیے شاعری کا سہارا لیا، &nbsp;تاکہ اُن کو میری باتیں بری نہ لگیں ۔ اور یوں میں شعر کہتا رہا ۔ پھر، بعد میں، میری اہلیہ نے میرے اشعار جمع کرنا شروع کردیے&rsquo;۔</p>
<p>&rsquo;اب میرے کلام کے دو مجموعے ہیں۔ ایک کا نام ہے&rsquo; ایک قطرہ آنسو&lsquo; اور&rsquo; آخری فریاد&lsquo;۔ ویسے، میں خود بنیادی طور پر بے حد شرمیلا ہوں۔ اِس لیے، میں دوسروں کو اپنی شاعری نہیں دکھاتا۔ زیادہ تر میں آزاد شاعری کرتا ہوں۔ میں نے &nbsp;شاعری کے لیے باقاعدہ شاگردی اختیا ر نہیں کی۔&nbsp; مجھے شروع سے کلاسیکی شاعری کا شوق ہے۔ مجھے میر، غالب، فیض&nbsp; اور ن م راشد بہت پسند ہیں&lsquo;۔</p>
<p>خلیل توقر کہتے ہیں کہ میں شاعری کرتے ہوئے یہ سوچتا ہوں کہ اپنے اندر کے درد و الم کو بیا ن کروں۔ &rsquo;میں نے ایک ادبی رسالہ &rsquo;ارتباط&lsquo; کے نام سے نکالا ، جس کا مقصد نئی نسل کو اپنے صدیوں پرانے تعلقات سے روشناس کرانا &nbsp;اور اُن کی تجدید کرنا تھا۔ &nbsp;</p>
<p>&nbsp;</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-LEFT--&gt;</span></p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note"> </span></p>
<p><strong>چند اشعار:</strong></p>
<p>اہلِ دل &nbsp;سے کر لیا&nbsp; عہدِ وفا&nbsp; &nbsp;پھر&nbsp; کیا &nbsp;ہوا</p>
<p>جامِ غم میں بھر دیا غم بے وفا پھر کیا ہوا</p>
<p>بر سرِ عالم کہا&nbsp; ہٹ جا مری رہ سے خلیل</p>
<p>زندگی سے کر دیا مجھ کو خفا پھر&nbsp; کیا &nbsp;ہوا</p>
<p>جنونِ محبت کی سرحد سے آگے</p>
<p>بٹھا کر اکیلے میرے یار بھاگے</p>
<p>چھپایا غمِ دہر &nbsp;قلبِ حزیں &nbsp;میں</p>
<p>فرشتے مری آہ سن کے نہ جاگے</p>
<p>&nbsp;</p>
<p><strong>ایک آزاد نظم کا اقتباس:</strong></p>
<p>انسانیت کہاں گئی ہے انسانو</p>
<p>مجھے اب تک اس کی تلاش رہتی ہے</p>
<p>تھک گیا لاچار ہوا بے بس رہا</p>
<p>برسوں سے دھونڈتا رہتا ہوں اسے</p>
<p>نہیں ملا اس کا نشان تک مجھے</p>
<p>آڈیو رپورٹ سنیئے:</p>
<p>
<object classid="clsid:02bf25d5-8c17-4b23-bc80-d3488abddc6b" width="210" height="37" codebase="http://www.apple.com/qtactivex/qtplugin.cab#version=6,0,2,0">
<param name="src" value="http://media.voanews.com/audio/Web-Dr-+Halil+Toker-Dec-27+2011.Mp3" /><embed type="video/quicktime" width="210" height="37" src="http://media.voanews.com/audio/Web-Dr-+Halil+Toker-Dec-27+2011.Mp3">&nbsp;</embed>
</object>
</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 28 Dec 2011 21:36:38 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">136334213</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[اسد نذیر]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-12-28T21:36:38Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
																											
																	
																																																	<media:group>
																																							<media:content url="http://media.voanews.com/images/halil_toker.300x300.jpeg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/halil_toker.300x300.jpeg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																										</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>اردو کے معروف مستشرق پروفیسر رالف رسل کا یادگار انٹرویو</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Urdu_Ralph_Russel_22Dec11-136106533.html</link>
				<description>رالف رسل صاحب  21 مئی 1918ء میں پیدا ہوئے، تقریباً نوّے سال کی عمر پائی اور 14 ستمبر 2008 ءمیں اس جہانِ فانی سے کوچ کیا</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>سب کہاں&nbsp; کچھ&nbsp; لالہ و گل&nbsp; میں نمایاں&nbsp; ہوگئیں</p>
<p>خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں</p>
<p>چند برس پہلے جب پروفیسر رالف رسل حیات تھے ، تب ہم نے ان سے فرمائش کی تھی کہ وہ غالب کے پسندیدہ اشعار سنائیں&nbsp; تو &nbsp;دوسرے اشعار کے علاوہ انہوں نے یہ شعر بطور خاص سنایا تھا۔</p>
<p>&rsquo;وائس آف امریکہ&lsquo; کی&rsquo; اردو سروس&lsquo; کے ساتھ اُن کی یہ مختصر گفتگو ہمارے پاس تبرکاً محفوظ ہے اور اب آپ بھی اسے سُن سکتے ہیں۔</p>
<p>رالف رسل صاحب &nbsp;21 مئی 1918ء میں پیدا ہوئے، تقریباً نوّے سال کی عمر پائی اور 14 ستمبر 2008 ءمیں اس جہانِ فانی سے کوچ کیا۔</p>
<p>دوسری جنگِ عظیم کے دوران ہندوستان گئے ، وہیں &nbsp;اردو سے تعلق استوار ہوا ، اور پھر یہ تعلق اوڑھنا بچھونا بن گیا، ولایت واپسی کے بعدلندن یونی ورسٹی کے مشرقی اور افریقی &nbsp;مطالعات کے شعبے سے منسلک رہے اور&nbsp; سینکڑوں طلباء کو اردو زبان و ادب سے روشناس کیا۔</p>
<p>درس و تدریس کے ساتھ ساتھ تحقیق و تصنیف کا سلسلہ بھی&nbsp; جاری رہا۔ علی گڑھ یونی ورسٹی کے پروفیسر خورشیدالاسلام کے ساتھ مل کر غالب کے خطوط اور حالاتِ زندگی پر کام کیا۔ زندگی کے آخری دنوں میں غالب کے اردو اور فارسی کلام کا انگریزی میں ترجمہ کیا ۔</p>
<p>منسلک انٹرویو میں پروفیسر رالف رسل نے بڑے دلچسپ انداز میں اعتراف کیا کہ انگریز کے لیے اردو غزل کا سمجھنا واقعی ایک مشکل کام ہے۔ مگر رسل صاحب&nbsp; کے لیے ایسا نہیں۔ وہ تو غالب کے عاشقوں میں سے ایک تھے۔ باتیں تو انہوں نے اور بھی کیں&nbsp; سو &nbsp;بقیہ باتیں انہیں کی اواز میں سنئیے۔۔۔۔</p>
<p>
<object classid="clsid:02bf25d5-8c17-4b23-bc80-d3488abddc6b" width="210" height="37" codebase="http://www.apple.com/qtactivex/qtplugin.cab#version=6,0,2,0">
<param name="src" value="http://media.voanews.com/audio/Web--Professor+Ralph+Raussle.Mp3" /><embed type="video/quicktime" width="210" height="37" src="http://media.voanews.com/audio/Web--Professor+Ralph+Raussle.Mp3"></embed>
</object>
</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 22 Dec 2011 22:41:13 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">136106533</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[اسد نذیر]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-12-22T22:41:13Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
										
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Ralph_Russel.300x300.jpeg" length="35779" type="unknown" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Ralph_Russel.300x300.jpeg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Ralph_Russel.300x300.jpeg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>سرد  جنگ کے موضوع پر چند اہم فلمیں</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Cold-War-Movies-20Dec11-135934968.html</link>
				<description>اگرچہ ڈیوڈ لین کی فلم، ڈاکٹر زیواگو، یوری زیواگو اور  ایک کیمونسٹ  لیڈر کی بیوی لارا کے درمیان محبت کی کہانی ہے، لیکن اس میں  روس میں اشتراکی نظام  پر بھی بات کی گئی ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>1946ءمیں&nbsp; برطانوی وزیر اعظم&nbsp; ونسٹن چرچل نے امریکہ میں ایک تقریر کے دوران یورپ میں&nbsp; مشرق اور مغرب&nbsp; کے درمیان&nbsp; موجود فرق کو آئرن کرٹن یعنی لوہے کی ایک دیوار سے تشبیہ دی تھی۔ ان کی تقریر نے اس&nbsp; سرد جنگ کے آغاز کا اشارہ دیا تھا&nbsp; جس کا اختتام 1991ءمیں سویت یونین کے خاتمے سے ہوا۔ اس دوران بننے والی کئی&nbsp; امریکی فلمو ں میں امریکہ اور سویت یونین کے تعلقات کو بھی موضوع بنایا گیا تھا۔ جس میں ڈیوڈ لین کی فلم ڈاکٹر زیواگو&nbsp; بھی شامل ہے۔</p>
<p>اگرچہ فلم&nbsp; یوری زیواگو اور&nbsp; ایک کیمونسٹ&nbsp; لیڈر کی بیوی لارا کے درمیان محبت کی کہانی ہے ، لیکن اس میں&nbsp; روس میں اشتراکی نظام&nbsp; پر بھی بات کی گئی ہے۔</p>
<p>پیٹر رولبرگ جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں فلم سٹیڈیز کے پروفیسر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیوڈ لین نے اس فلم میں&nbsp; روسیوں&nbsp; کو سرد جنگ کے موضوع پر&nbsp; بننے والی دوسری فلموں کے مقابلے میں نہایت مختلف دکھایا ہے۔</p>
<p>فلم میں&nbsp; ریمنڈ شا نامی ایک سپاہی کو دکھایا گیا ہے جسے کیمونسٹ&nbsp; امریکی صدر کے قتل پر اکساتے ہیں۔&nbsp; پروفیسر پیٹر کا کہنا ہے کہ فلم نے امریکیوں کے لیے ایک&nbsp; انتباہ کا کام کیا۔</p>
<p>سٹینلے کبرک کی فلم ڈاکٹر سٹرینج لو کیوبا کے میزائل کرائسس کے دو سال بعد&nbsp; 1964ء میں منظر عام پر آئی تھی۔ جس میں امریکی فضائیہ کا ایک مخبوط الحواس جنرل سوویت یونین پر نیوکلیئر&nbsp; حملے کا حکم دیتا ہے۔ اس مزاحیہ سیاسی فلم میں امریکہ پر ایک جوہری حملے کا خطرہ بھی&nbsp; منڈلاتا دکھایا گیا ہے۔</p>
<p>1966ء میں فلم&nbsp; رشین آر کمنگ ، رشین آر کمنگ میں&nbsp; سوویت یونین کے طرف سے پائے جانے والے خطرات&nbsp; پر طنز کیا گیا&nbsp;&nbsp; تھا۔جبکہ جیمز بانڈ کی فلم&nbsp; ہر میجیسٹیز سپائی 007 ، میں&nbsp; جاسوسی کے طریقوں کو ہالی وڈ کا تڑکا لگا کر پیش کیا گیا تھا۔</p>
<p>اور 1970ء میں&nbsp; بننے والی فلموں میں&nbsp; مصالحتی حکمت عملی اور&nbsp; امریکہ اور روس کے تعلقات میں استواری&nbsp; دکھائی گئ تھی۔ اس زمانے میں بننے والی ایک فلم&nbsp; دی بلیو برڈ&nbsp; تھی جسے ایک امریکی اور ایک&nbsp; روسی پرودکشن کمپنی نے مل بنایا تھا۔ اس فلم میں معروف اداکارہ الیزبتھ ٹیلر نے بھی کام کیا تھا۔</p>
<p>لیکن پھر 1979ءمیں روس کے افغانستان پر حملے اور رونالڈ ریگن کا امریکی صدر بننے کے بعد مصالحت پر مبنی اس دور کاخاتمہ ہوگیا اور&nbsp;&nbsp; سوویت یونین کے خلاف بننے والی فلموں&nbsp; کی واپسی بھی۔</p>
<p>فلم راکی 6 میں امریکہ اور روس کی دشمنی کو&nbsp; نہایت واضاحت کے ساتھ دکھایا گیا ۔ اس فلم میں اداکار سلویسٹر سٹالن نے مرکزی کردار ادا کیا تھا</p>
<p>1980ء کی دہائی میں بننے والی فلموں میں بھی روسی اتداد&nbsp; کو&nbsp; مختلف فلموں میں موضوع بنایا گیا ۔ فلم ماسکو آن ہڈسن میں&nbsp; ایک روسی موسیقار کی کہانی بیان کی گئی ہے جو نیو یارک آتا ہے اور سرمایہ دارانہ نظام کا حصہ بن جاتا ہے۔</p>
<p>سوویت یونین کے بدلتے حالات کو 1990ءکی ایکشن سے بھرپور فلم&nbsp; دی ہنٹ فار ریڈ اکتوبر میں دکھایا گیا&nbsp; جس میں سوویت یونین کے&nbsp; زوال کو موضوع بنایا گیا۔</p>
<p>رابرٹ الٹمن کی فلم ریڈی ٹو ویر&lsquo; نے روس کے ٹوٹنے کے بعد کے جدید&nbsp; ماسکو کو دکھایا گیا ہے جہاں لوگ دنیا بھر کے سامنے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 20 Dec 2011 17:52:19 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">135934968</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[پینی لو پولو /ثاقب الاسلام]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-12-20T17:52:19Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/doctor-zhivago-300X300.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>سال 2011ء کی 10کامیاب فلمیں ، بہترین فلم کا فیصلہ باقی</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Top-Ten-Movies-2011-16Dec11-135740083.html</link>
				<description>بھارت کے موخر اخبار’ ٹائمز آف انڈیا‘ نے سال 2011ء کی جن دس فلموں کو کامیاب ترین قرار دیا ہے ان کے نام اور ان کی تفصیل کچھ اس طرح ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>سال 2011ء تقریباً گزر گیا۔ اس سال بالی ووڈ میں فلمیں بنانے کے حوالے سے کئی تجربات ہوئے۔ سچے واقعات پر مبنی فلمیں بنانے سے لیکر سائنس فکشن تک۔ انسانی احساسات سے جذبات تک ہر موضوع پر فلموں کی بھرمار رہی۔ ان میں سے کچھ کو فلم بینوں نے &rsquo;پسند&lsquo;، کچھ کو&rsquo; بہت پسند&lsquo; اور کچھ کو&rsquo; ناپسند &lsquo;ٹھہرایا۔</p>
<p>پورے سال کی تمام فلموں کا تذکرہ یہاں کسی طور ممکن نہیں اس لئے صرف سال کی 10بڑی فلموں کی بات کرتے ہیں۔ ان فلموں کو &rsquo;بڑا&lsquo;ہونے کی بنیاد ان کی ناظرین میں پسندیدگی اور ان سے حاصل ہونے والی آمدنی کو بنایا گیا ہے۔ ۔۔۔تاہم ان دس فلموں میں سے ایک بہترین فلم کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔</p>
<p>بھارت کے موخر اخبار&rsquo; ٹائمز آف انڈیا&lsquo; نے سال 2011ء کی جن دس فلموں کو کامیاب ترین قرار دیا ہے ان کے نام اور ان کی تفصیل کچھ اس طرح ہے:</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>باڈی گارڈ</p>
<p>سلمان خان اور کرینہ کپور کی فلم &rdquo;باڈی گارڈ&ldquo; نے پہلے ہی دن 22 کروڑ روپے کا بزنس کرکے ایک نیا ریکارڈ بنایا۔ لیکن فلم کی کہانی اور ڈائریکشن پر کچھ زیادہ نہیں کہا جاسکتا تاہم موسیقی اور ایکشن نے فلم کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس فلم کا ایک ڈائیلاگ &rdquo; مجھ پر ایک احسان کرنا کہ مجھ پر کوئی احسان نہ کرنا&ldquo; فلم بینوں میں شہرت کا باعث بنااورجونوانوں کی طرف سے ہر جگہ دوہرایا بھی گیا۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>را۔ون</p>
<p>اس فلم کی جدید ٹیکنک اور گرافکس دونوں لاجواب رہے۔ شاہ رخ خان نے اسے سائنس فکشن تھرلر بنانے کے ساتھ ساتھ خود کو سپر ہیرو کے طور پر بھی پیش کیا۔ فلم نے زبردست بزنس کیا جبکہ فلم کے ایک گیت&rdquo; چھمک چھلو&ldquo; نے ناظرین کو سینما ہالز کی جانب متوجہ کیا۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>دی ڈرٹی پکچر</p>
<p>ایکتا کپور کی فلم &rdquo;دی ڈرٹی پکچر&ldquo; میں ودیا بالن نے جس قسم کا کردار ادا کیا ہے اس نے ہندی فلم بینوں کو چونکا دیا۔ ودیا نے فلم میں بہت ہی حیرت انگیز کردار ادا کیا ہے تاہم ناقدین کے مطابق فلم کے ذومعنی جملے ، ودیا بالن کے انتہائی مختصر کپڑے اور حرکات و سکنات ایسی تھیں کہ جس کا ذکر کرتے ہوئے بھی لوگ شرما جائیں لیکن اس کے باوجود فلم کامیابی سے دوچار ہوئی۔ اس فلم کی کامیابی سے اس تاثر کی بھی نفی ہوئی کہ کسی بھی خان ہیرو کے بغیر بننے والی فلمیں بھی کامیابی کے نئے ریکارڈ ٹوڑ سکتی ہیں۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>ریڈی</p>
<p>رومانٹک کامیڈی فلم &rdquo; ریڈی &ldquo; سلمان خان کی ہٹ فلموں کی فہرست میں نیا اضافہ ثابت ہوئی۔ڈائریکٹر نثار بزمی نے سلمان اور آسین کی جوڑی کو لیکر تھائی لینڈ میں اس فلم کی شوٹنگ کی لہذا انہیں لوکشنز کا بھی بھرپور فائدہ ہوا۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>زندگی نہ ملے گی دوبارہ</p>
<p>تین دوستوں کی اس کہانی نے فلم کی ڈائریکڑ ذویااختر کو کامیابی کی نئی سیڑھی عنایت کی۔ان کے بھائی فرحان اختر بھی بطور اداکار فلم میں موجود رہے جبکہ باقی فنکاروں مثلاً رہتک روشن ، ابھے دیول اور کترینا کیف نے بھی فلم کی کامیابی میں اپنا اپنا کردار ادا کیا۔ مجموعی طور پر دیکھیں تو &rdquo;زندگی نہ ملے گی دوبارہ&ldquo; اس سال کی ٹاپ فائیو فلموں شامل ہے۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>سنگھم</p>
<p>ایکشن اور مار دھاڑ والی فلم &rdquo;سنگھم&ldquo; کی شاندار کامیابی سے ڈائریکٹر روہت شیٹھی اور فلم کی ہیروئن کاجل اگروال کو بالخصوص بہت زیادہ فائدہ ملا۔کاجل کی یہ پہلی ہندی فلم تھی۔ اگرچہ فلم کا موضوع کرپشن کے خلاف جنگ ہے اور اس موضوع پر ہر دوسری تیسری فلم میں کام کیا جاتا ہے مگر پھر بھی&rdquo; سنگھم&ldquo;کو لوگوں نے بہت سراہا۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>راک اسٹار</p>
<p>راک اسٹار کی کہانی میں جھول ہونے کے باوجود فلم کے ہیرو رنبیر کپور اپنے کردارکے ذریعے فلم بینوں کے دلوں میں گھر کرنے میں کامیاب رہے۔ اس فلم نے پاکستانی نژاد امریکی اداکارہ نرگس فخری کو فن کی دنیا میں آگے آنے کا شاندار موقع دیا۔ فلم کی ایک اچھائی اس کا میوزک ہے جو اے آر رحمن نے ترتیب دیا جبکہ موہت چوہان کی آواز میں گائے گئے گانوں نے بھی فلم کوخوب شہرت بخشی۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>میرے برادر کی دلہن</p>
<p>یہ فلم نہ زیادہ اچھی تھی ، نہ زیادہ خراب ۔ لیکن یش راج کے بینر، عمران خان، کترینا کیف اور پاکستانی ایکٹر و سنگر علی ظفر کی اداکاری نے اسے کامیاب بنادیا۔ یہ بھی اس سال کی رومانٹک کم کامیڈی فلم تھی جس نے باکس آفس کی کھڑی پر خوب بھیڑ اکھٹی کی۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>دہلی بیلی</p>
<p>دہلی بیلی کے مکالمے ، مناظر اور باقی &rsquo; مصالحہ&lsquo; سب کا سب ایسا تھا جیسا کہ نہیں ہونا چاہئے تھا مگر حیرت انگیز طور پر یہ فلم بھی کامیاب رہی۔ عمران خان، کنال روئے کپور اور ویر داس کی اداکاری نے فلم کو سہارا دیا۔ اس کے ڈائریکٹر ابھی نوائے ڈیو کی فلم &rdquo; گیم&ldquo; اگر انہیں اندھیرے میں لے آئی تھی تو فلم &rdquo;دہلی بیلی&ldquo; انہیں فخر کے ساتھ چکاچوند روشنیوں کی جادوئی دنیا میں واپس لے آئی۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>یملا پگلا دیوانہ</p>
<p>سن دوہزار سات میں فلم &rdquo;اپنے &ldquo; کے تین ستارے سنی دیول، بوبی دیول اور دھرمیندر ایک مرتبہ پھر اس فلم میں یکجا ہوئے جس کے ڈائریکٹر تھے سمیر کارنک۔ فلم کا بجٹ بہت ہی کم تھا لیکن اسے پذیرائی خوب ملی۔ فلم بینوں کے لئے یہ بات دلچسپی سے خالی نہ تھی کہ باپ اور بیٹے ایک ساتھ کام کرتے ہوئے کس حد تک کامیاب رہتے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 16 Dec 2011 18:59:28 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">135740083</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[وسیم اے صدیقی]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-12-16T18:59:28Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Top10-films_main.jpg" length="180248" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Top10-films_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Top10-films_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>دنیا کی سب سے پست قامت خاتون بالی ووڈ میں کام کی خواہش مند</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Bollywood-Shortest-Woman-16Dec11-135735833.html</link>
				<description>'گنیز ورلڈ ریکارڈز' کے مطابق بھارت کی اس 18 سالہ نوجوان خاتون، جیوتی امگی، کا قد صرف 8ء62 سینٹی میڑ یعنی 7ء24 انچ ہے۔ جو دو برس کے بچے کے اوسط قد سے بھی چھوٹا ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>بھارت کی ایک 18 سالہ نوجوان خاتون کو 'گنیز ورلڈ ریکارڈز' نے دنیا کی سب سے پست قامت خاتون تسلیم کرلیا ہے۔</p>
<p>بھارتی ریاست مہاراشٹر کے قصبے ناگ پور میں جمعہ کو منعقدہ ایک تقریب میں 'گنیز ورلڈ ریکارڈز' کے لندن سے خصوصی طور پر بھارت آنے والے نمائندوں نے&nbsp; جیوتی امگی کے قد کی پیمائش کی جو عالمی ادارے کے مطابق صرف 8ء62 سینٹی میڑ یعنی 7ء24 انچ ہے۔</p>
<p>جیوتی کا قد امریکہ کی 22 سالہ بریجٹ جارڈن سے لگ بھگ 7 سینٹی میٹر چھوٹا ہے جو رواں برس ستمبر تک&nbsp; دنیا کی سب سے پست قامت خاتون ہونے کے اعزاز کی حامل تھیں۔</p>
<p>'گنیز' کے مطابق جیوتی امگی کا قد دو برس کے بچے کے اوسط قد سے بھی چھوٹا ہے۔</p>
<p>'گنیز' کی جانب سے قد کی پیمائش کے بعد انہیں دنیا کی پست قامت ترین خاتون تسلیم کیے جانے پر امگی نے پرنم آنکھوں&nbsp; سے صحافیوں کو بتایا کہ انہیں اپنے چھوٹے قد پر فخر ہے کیوں کہ اس کے باعث انہیں ایک منفرد شناخت ملی ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ جمعہ کو ہونے والی یہ تقریب امگی کی 18ویں سال گرہ کے موقع پر منعقد کی گئی تھی اور 'گنیز' کی جانب سے ان کا نام دنیا کی سب سے پستہ قامت خاتون کے طور پر درج کرنے کے اعلان کو امگی نے اپنے لیے "سال گرہ کا خصوصی تحفہ" قرار دیا۔</p>
<p>ساڑھی میں ملبوس امگی نے اس موقع پر اپنے مہمانوں کے ہمراہ سال گرہ کا کیک بھی کاٹا۔</p>
<p>ہائی اسکول کی طالبہ امگی کا کہنا تھا&nbsp; کہ وہ یونی ورسٹی میں جا کر تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں اور ان کا خواب بالی ووڈ کی فلموں میں کام کرنا ہے۔</p>
<p>یہ امگی کا پہلا عالمی ریکارڈ نہیں ہے بلکہ جمعہ کو 18 برس کی ہونے سے قبل تک وہ دنیا کی&nbsp; پست قامت ترین 'ٹین ایجر' ہونے کا اعزاز رکھتی تھیں۔ تاہم جمعہ کو ان کی 18ویں سال گرہ کے موقع پر انہیں لڑکی سے خاتون کی&nbsp; 'کیٹگری' میں منتقل کردیا گیا۔</p>
<p>'گنیز ورلڈ ریکارڈز' کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پچھلے دو برسوں کے دوران امگی کے قد میں صرف&nbsp; ایک سینٹی میٹر کا اضافہ ہوا ہے اور بعض طبی وجوہات کے سبب ان کا قد مزیدبڑھنے کا امکان نہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 16 Dec 2011 16:25:15 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">135735833</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-12-16T16:25:15Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Jyoti-Amge-230X230.jpg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																																																		</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>سال 2011ء کے کچھ کامیاب اور کچھ ناکام ڈائریکٹرز</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Successful-Debutant-Directors-15Dec11-135676483.html</link>
				<description>چند ڈائریکٹرز ایسے بھی تھے جن کی فلموں نے ریلیز سے پہلے تو خوب شہرت حاصل کی لیکن ریلیز کے کچھ دنوں بعد ہی انہیں ناکامی سے دوچار ہونا پڑا</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>بالی ووڈ میں سال 2011ءکے دوران بہت سے ڈائریکٹرز نے اپنے فنی کیریئر کی پہلی پہلی فلمیں ڈائریکٹ کیں ۔ ان میں سے کچھ فلمیں باکس آفس پر کامیاب تو کچھ ناکام ہوگئیں۔ کچھ ڈائریکٹرز ایسے تھے جن کی فلموں نے ریلیز سے پہلے ہی خوب شہرت حاصل کی لیکن ریلیز کے کچھ دنوں بعد ہی انہیں ناکامی سے دوچار ہونا پڑا۔</p>
<p><br /> مثال کے طور پر امیتابھ بچن کی اداکاری سے گندھی فلم&rdquo; بڈھا ہوگا تیرا باپ&ldquo; کرن راوٴ کی &rdquo;دھوبی گھاٹ &ldquo; اور پنکج کپور کی فلم &rdquo;موسم&ldquo; ۔ یہ نووارد ڈائریکٹرز کی پہلی پہلی فلمیں تھیں اور شاید ان کے ناتجربہ کاری کے سبب ہی یہ فلمیں ناکام ہوگئیں مگر کچھ فلموں نے واقعی شاندار کامیابی حاصل کی ۔ یہ فلمیں کون سی تھیں اور ان کے ڈائریکٹرز کون تھے آیئے ذیل میں تفصیل سے اس پر روشنی ڈالی جائے۔</p>
<p><br /> کرن راوٴ : دھوبی گھاٹ</p>
<p>کرن راوٴ عامر خان کی اہلیہ ہیں اور شاید یہی ایک وجہ تھی جس کے سبب ان کی پہلی فلم &rdquo; دھوبی گھاٹ&ldquo; نے ریلیز سے پہلے ہی لوگوں کی توجہ حاصل کرلی لیکن بدقسمتی سے فلم &rdquo;ٹائیں ٹائیں فش&ldquo; ثابت ہوئی۔ فلم کی ناکامی کے ساتھ ہی کرن راوٴ بھی مطمئن ہوکر بیٹھ گئیں۔ اگرچہ فلم کی پروموشن پر بہت پیسہ اور وقت خرچ کیا گیا مگر فلم بینوں کو کرن راوٴ کی ڈائریکشن اچھی نہیں لگی۔</p>
<p>ریمو ڈی سوزا : فالتو</p>
<p>بنیادی طور پر ریموڈی سوزا کوریوگرافر ہیں لیکن فلم &rdquo;فالتو&ldquo; سے انہوں نے ڈائریکشن کے شعبے میں بھی خود کو منوانے کی کوشش کی اور وہ اس کوشش میں کامیاب بھی رہے۔ &rdquo;فالتو&ldquo; کی کہانی کا پلاٹ اگرچہ بوسیدہ تھا لیکن فلم میں ایک ساتھ کئی نئے چہروں کو متعارف کرانے کا رسک کامیابی کی صورت میں نکلا۔ اس فلم کی کامیابی فلمی نقادوں کے لئے &rdquo;سرپرائز&ldquo; تھی۔ ریمو نے بہت اچھی ڈائریکشن دی۔ کوریوگرافی بھی شاندار رہی جبکہ میوزک بھی قابل ذکرتھا۔ <br /> ابھینے ڈیو :گیم او ر دہلی بیلی</p>
<p>ابھینے ڈیونے اس سال دو فلمیں دیں۔ &rdquo;گیم &ldquo;اور&rdquo; دہلی بیلی&ldquo;۔&rdquo; گیم &ldquo;کوششوں کے باوجود باکس آفس پر اپنے لئے کوئی جگہ نہ بناسکی جبکہ دہلی بیلی نے کامیابی کی ایک نئی تاریخ رقم کی۔ <br /> امول گپتے : اسٹینلے کا ڈبہ</p>
<p>امول گپتے کی فلم &rdquo; اسٹینلے کا ڈبہ&ldquo; ان کی پہلی کاوش تھی ۔ فلم کو بھارت اور بیرون بھارت کئی ایوارڈ ملے ۔ اس فلم نے ثابت کیا کہ بالی ووڈ میں بچوں کیلئے بنائی جانے والی فلم بھی کس قدر کامیاب ثابت ہوسکتی ہے۔</p>
<p>صدیقی : باڈی گارڈ</p>
<p>صدیقی نے سلمان خان کے ساتھ فلم &rdquo; باڈی گارڈ &ldquo; ڈائریکٹ کی اور راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے۔ فلم نے جس قدر کامیابی حاصل کی اور ریونیو جنریٹ کیا اسے بیان کرنے کے لئے یہاں جگہ تنگ پڑ جائے گی۔</p>
<p>پون کرپلانی : راگنی ایم ایم ایس</p>
<p>سال 2011ء میں ڈائریکٹر پون کرپلانی کی پہلی فلم &rdquo; راگنی ایم ایم ایس&ldquo;ریلیز ہوئی۔ فلم اور پون کرپلانی دونوں کو ایکتا کپور کا آشرواد حاصل تھا لہذافلم باکس آفس پر آسانی کے ساتھ اپنے لئے جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئی۔</p>
<p>لوورنجن : پیار کا پنچ نامہ</p>
<p>ڈائریکٹر لوورنجن نے بھی سال 2011ء میں ہی اپنی پہلی فلم &rdquo;پیار کا پنچ نامہ&ldquo;بناکر ڈائریکشن کے شعبے میں طبع آزمائی کی ۔ فلم نے اپنے اوپر خرچ ہونے والی رقم نکال لی۔ <br /> وکاس بہل اور نتیش تیواری : چلر پارٹی</p>
<p>وکاس بہل اور نتیش تیواری سال 2011ء میں بچوں کے لئے فلم &rdquo; چلر پارٹی&ldquo; لے کر میدان میں آئے ۔ اس فلم کے لئے سلمان خان نے بھی خاصی محنت کی ۔ دونوں ڈائریکٹرز اپنے شعبے میں نام بنانے میں کامیاب رہے۔</p>
<p>روہت دھون :</p>
<p>ڈیوڈ دھون کے بیٹے روہت دھون اپنی پہلی فلم &rdquo;دیسی بوائز&ldquo; لے کر حاضر ہوئے ۔ فلم نے اوسطاً بزنس کیا لیکن روہت ڈائریکشن کے فن میں کامیاب رہے۔<br /> بیجوائے نمبی یار : شیطان</p>
<p>انہوں نے فلم &rdquo;شیطان &ldquo;ڈائریکٹ کی۔ فلم کا تصور اچھا تھا۔ موسیقی بھی دلکش ثابت ہوئی لیکن فلم عوام کو متاثر نہ کرسکی ۔</p>
<p>روشن عباس : آلویز کبھی کبھی</p>
<p>روشن عباس نے اپنی پہلی فلم &rdquo; آلویز کبھی کبھی &ldquo; کے نام سے متعارف کرائی ۔ انہیں شاہ رخ خان کی مکمل حمایت بھی حاصل رہی لیکن فلم بری طرح ناکامی سے دوچار ہوئی۔</p>
<p>مذکورہ بالا ڈائریکٹرز کے علاوہ پروین دباس فلم &rdquo; صحیح دھندے، غلط بندے&ldquo;، راگھو دھر فلم &rdquo; مائی فریند پنٹو&ldquo; پوری جگن ناتھ فلم &rdquo; بدھا ہوگا تیرا باپ&ldquo; اور پنکچ کپور فلم &rdquo; موسم&ldquo; کے ساتھ پہلی مرتبہ ڈائریکشن کی فیلڈ میں داخل ہوئے لیکن ان کی ڈائریکٹ کی ہوئی فلمیں فلم بینوں کو اپنی جانب قطعی متوجہ نہ کرسکیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 15 Dec 2011 19:11:46 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">135676483</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[وسیم اے صدیقی]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-12-15T19:11:46Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/debudant-Directors_main.jpg" length="125036" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/debudant-Directors_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/debudant-Directors_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>2011ء کی متنازع اداکارائیں </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Controversial-Actoresses-14Dec11-135590408.html</link>
				<description>بھارت اور پاکستان فلم انڈسٹریوں کی بعض مشہور اداکارائیں سال بھر کسی نہ کسی تنازع میں گھری رہیں</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>سال 2011ء کا تھکا ہارا سورج غروب ہونے کے قریب ہے۔ بالی ووڈ فلم انڈسٹری کے جھلملاتے آسمان پر نظر ڈالیں تومتعدد ستارے اس سال بہت عروج پردکھائی دیتے ہیں لیکن کچھ ستارے ایسے بھی ہیں جوغالباً سال بھر ہی کسی نہ کسی تنازع میں گھرے رہے۔ ان میں پہلا نام بھارتی ٹی وی پروگراموں اور فلموں میں کام کرنے والی پاکستانی اداکارہ وینا ملک کا آتا ہے۔ <br /> <br /> وینا ملک <br /> وینا پہلے تو ٹی وی رئیلٹی شو &rdquo;بگ باس&ldquo; سیزن فور میں اشمیت کے ساتھ کام کرکے شہ سرخیوں میں رہیں تو سال 2011ء کے آخری مہینوں میں ایک فیشن میگزین کے سرورق پر چھپنے والی ان کی قابل اعتراض تصویر نے ان کے چرچے زبان زد عام کردیئے ۔ یہاں تک کہ انہیں ایک نہیں لاکھ وضاحتیں کرنا پڑیں لیکن ان وضاحتوں سے مزید معاملہ بگڑگیا۔ پہلے انہوں نے تصاویر کو جعلی قرار دیا پھر کہا کہ یہ &rdquo;فلاں ٹریک &ldquo;سے کھینچی گئی ہیں اور ہرگز عریاں نہیں۔ دوسری جانب ان کے والد نے بھی ان پر سخت تنقید کرتے ہوئے ان سے لاتعلقی ظاہر کی۔<br /> <br /> &nbsp;ان تمام معاملات کے باوجود وینا ایک ٹی وی رئیلٹی شو &rdquo;سوئمور&ldquo; اور ایک تھری ڈی ہاررفلم حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔ &rdquo;سوئمور&ldquo; میں انہیں اپنا جیون ساتھی خود چننا پڑے گا۔ اس پروگرام کے لئے انہیں ساڑھے چار کروڑ روپے کی آفر ہوئی تھی۔ <br /> <br /> &nbsp;صوفیہ حیات <br /> بھارتی ماڈل گرل صوفیہ حیات بھی رواں سال اپنے متنازع لباس کے سبب خبروں کی سرخیوں میں رہیں۔ انہوں نے اس سال اپنی سالگرہ کے موقع پر سرعام جس لباس میں سب کے سامنے کیک کاٹا اس کے چرچے ایک لمبے عرصے تک میڈیا میں چرچا کا موضوع بنے رہے۔ <br /> <br /> پونم پانڈے<br /> پونم پانڈے بھی سال 2011ء کے دوران تنازعات میں گھری رہیں۔ اپنی بے باک ماڈلنگ کے سبب انہوں نے خوب &rdquo;نام &ldquo; کمایا۔ <br /> <br /> سیالی بھگت<br /> سیالی بھگت وہ اداکارہ ہیں جن کا نام رواں سال اپنے ساتھی فنکاروں کے خلاف بیانات دینے کے حوالے سے خوب اچھالا۔ انہوں نے شنے آہوجہ ، ساجد خان، آریہ ببر اور امیتابھ بچن تک کو نہیں چھوڑا۔ انہوں نے بگ بی پر اپنے ساتھ غلط رویہ روا رکھنے کا بھی الزام لگایا۔ یہی نہیں بلکہ ان کی جانب سے یہ سنگین الزام بھی عائد کیا گیا کہ کچھ فنکار انہیں &nbsp;ہراساں کرتے رہے ہیں۔ <br /> &nbsp;<br /> راکھی ساونت <br /> راکھی ساونت نے اپنے آئٹم سانگ کے حوالے سے چھڑنے والے تنازع میں بھارت کے سماجی کارکن اننا ہزارے کا نام لیکراس معاملے کو مزید سنگین بنایا دیا۔ راکھی ساونت چاہتی تھیں کہ سنسر بورڈ والے ان کاقابل اعتراض گانا &rdquo;جوانی کی بینک&ldquo; بغیر کسی اعتراض کے جاری کردیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ گانا کس حد تک قابل اعتراض ہے اس کا فیصلہ اننا ہزارے کریں ۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 14 Dec 2011 17:48:53 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">135590408</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[وسیم اے صدیقی]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-12-14T17:48:53Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/EntNews1412_main.jpg" length="116042" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/EntNews1412_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/EntNews1412_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>تنہا زندگی گزارنے والی عظیم  گلوکارائیں</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Unmarrid-Playback-Singers-13Dec11-135512938.html</link>
				<description> بھارت سے بلبلِ ہند لتا منگیشکر، سلکھشنا پنڈت اور پاکستان سے مہناز، اور حدیقہ کیانی کے نام اس لحاظ سے انتہائی منفرد نظر آتے ہیں کہ ان گلوکاراؤں نے اب تک شادی نہیں کی</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>پاکستان اور بھارت کی فلمی موسیقی خواتین پلے بیک سنگرز یا گلوکاراوٴں کے ذکر کے بغیر کبھی مکمل نہیں ہوسکتی۔ زہرہ بائی انبالے والی، خورشید بیگم، امیر بائی کرناٹکی، مبارک بیگم، اختری بائی، آشا بھونسلے، نورجہاں، شمشاد بیگم، ثریا، رینوکا دیوی، راجکماری اور پارول گھوش سمیت بے شمار نام ایسے ہیں جو موسیقی کی دنیا کی انمٹ پہچان ہیں ۔ ان تمام خواتین گلوکاراوٴں کے گائے ہوئے بے شمار گانے ایسے ہیں جن کی چمک آج تک ماند نہیں پڑی۔</p>
<p>ثریا سے شریا گھوشال تک کے اس سفر میں بھارت سے بلبلِ ہند لتا منگیشکر، سلکھشنا پنڈت جبکہ پاکستان سے مہناز کے نام اس لحاظ سے انتہائی منفرد نظر آتے ہیں کہ ان گلوکاراؤں نے اب تک شادی نہیں کی ۔<br /> <br /> &nbsp;یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ شادی شدہ گلوکاراؤں کی آوازوں میں وقت کے ساتھ اس قدر تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں کہ ان کی آج کی آواز اپنی ہی ابتدائی آواز سے قطعی طور پر مختلف ہو گئی ہے لیکن ثریا کی آواز ان کے آخری گیتوں تک اپنی بھرپور شناخت رکھتی تھی۔ اسی طرح فلم&rdquo; محل&ldquo; میں گایا ہوا لتا منگیشکر کا پہلا فلمی گیت &rdquo;آئے گا، آئے گا&ldquo; ہو یا ان کی گائیکی کے آخری دور میں فلم &rdquo;دل تو پاگل ہے&lsquo; &lsquo;کا ٹائیٹل گیت ، لتا منگیشکر کی آواز کہیں بھی اپنے سامع پر اثرانداز ہوئے بغیر نہیں گزری۔<br /> <br /> &nbsp;گیت &rdquo;دل تو پاگل ہے، دل دیوانہ ہے&ldquo; کی خاص بات یہ ہے کہ جہاں اس گیت کو گانے والی لتا منگیشکر اپنی ستر کی دہائی میں ہوتے ہوئے بھی کنواری ہیں ۔۔۔ آئیے نظر ڈالتے ہیں پاکستان اور بھارت کی چند غیر شادی شدہ گلوکاراؤں کی زندگیوں پر: <br /> <br /> ثریا<br /> غیر شادی شدہ گلوکاراؤں میں ثریا کا نام سر فہرست ہے۔ ان کا پورا نام ثریا جمال شیخ تھا لیکن وہ ثریا کے نام سے ہی مشہور تھیں۔ انہوں نے 1940 اور 1950 کی دہائیوں میں اداکارہ اور پلے بیک سنگر کے طور پربھی بڑا نام کمایا۔ ثریا کے گیت آج بھی کانوں میں رس گھولتے ہیں۔ثریانے 1948 ء سے 1951ء تک چھ فلموں میں دیو آنند کے ساتھ کام کیا۔ 1948ء میں فلم &rdquo;ودیا&ldquo; کے گیت &rsquo;کنارے کنارے چلے جائیں گے&ldquo; کی شوٹنگ کے دوران کشتی الٹ گئی لیکن دیو آنند نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ثریا کو بچالیا اور یہیں سے ثریا دیو آنند کو پسند کرنے لگی۔ <br /> <br /> ثریا کی محبت کا جواب دیو آنند نے بھی محبت سے دیا۔ دیو آنند نے باقاعدہ ثریا کا ہاتھ مانگا اور اس کے لیے تین ہزار روپے کی ہیرے کی انگوٹھی بھی بھیجی، لیکن ثریا کی نانی نے مذہب کی وجہ سے اس رشتے کی مخالفت کردی۔ اس رشتے سے انکار کے بعد 1951ء میں ریلیز ہونے والی فلم &rsquo;دو ستارے&lsquo; آخری فلم تھی جس میں ان دونوں نے ایک ساتھ کام کیا ۔ ثریا کی کامیاب فلموں میں &rdquo;مرزا غالب&ldquo;، &rdquo;دل لگی&ldquo; اور&rdquo; انمول گھڑی&ldquo; سمیت بہت سی فلمیں شامل ہیں۔ <br /> <br /> لتا منگیشکر<br /> لتا منگیشکر دنیا بھر میں مقبول گلوکارہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انھیں سب سے زیادہ گیت ریکارڈ کرانے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ لتا جی نے بھی ایک طویل زندگی گزارنے کے باوجود شادی نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی پہلی اور آخری محبت موسیقی ہے اور اب یہ سمجھا جائے کہ ان کی شادی موسیقی سے ہو چکی ہے۔ ایک اور اعزاز جوانہیں حاصل ہے، وہ یہ ہے کہ انھوں نے بھارت بھر کے فلمی حلقے پر اپنی شخصیت اور مزاج سے انتہائی مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔ لتا جی نے کم و بیش پچاس ہزار گیت گا ئے ہیں ۔ <br /> <br /> سلکھشنا پنڈت<br /> &nbsp;سلکھشنا پنڈت بھارت کی وہ خوش قسمت ترین گلوکارہ ہیں جنہوں نے فلمی دنیا میں گلوکارہ کی حیثیت سے بچپن میں قدم رکھا اور اپنا پہلا گیت لتا منگیشکر کے ساتھ گایا۔ 1967ء میں ریلیز ہونے والی فلم &rsquo;تقدیر&lsquo;کے لیے گایا جانے والا یہ گیت &rsquo;سات سمندر پار سے&lsquo; اس قدر مقبول ہوا کہ ایوارڈز کی لائن لگ گئی۔ سلکھشنا نے 1970ء اور 1980ء کی دہائیوں میں اداکاری کے جوہر بھی دکھائے۔ <br /> <br /> اپنے گیارہ سالہ گلوکاری کے دور میں سلکھشنا پنڈت نے بے شمار ایوارڈز حاصل کیے۔ ایک بار اپنے ایک انٹر ویومیں سلکھشنا نے کہا تھا کہ ان کے گیارہ سالہ سنگنگ کیریئر میں انتہائی کم گیتوں کا مطلب ان کی ناکامی نہیں ہے، بلکہ ایسا اس لیے ہے کہ وہ گانے کے بول، فلم میں گانے کی سچویشن، کمپوزیشن اور دیگر باتوں پر غور کر نے کے بعد اس بات کا فیصلہ کرتی ہیں کہ وہ گائیں گی یا نہیں۔ <br /> <br /> &nbsp;ماضی میں معروف پاکستانی گلوکار پرویز مہدی کے ساتھ سلکھشنا پنڈت کی ایک سی ڈی بھی ریلیز ہوچکی ہے، جس نے کافی مقبولیت حاصل کی تھی۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 13 Dec 2011 16:42:14 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">135512938</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[وسیم اے صدیقی]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-12-13T16:42:14Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Unmarried-Singers_main.jpg" length="144335" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Unmarried-Singers_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Unmarried-Singers_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>’ڈان ٹو‘ فلم بینوں کے ساتھ ساتھ شاہ رخ خان اور فرحان اختر بھی ریلیز کے منتظر</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Bollywood-Don2-12Dec11-135451433.html</link>
				<description>اس میں کوئی شک نہیں کہ’‘’ ڈان ٹو “کا انتظار صرف فلم بینوں کو ہی نہیں بلکہ خود ’ریل لائف۔۔ ڈان‘ یعنی شاہ رخ خان کو بھی ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>سال 2011ء رفتہ رفتہ اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے ۔ گزشتہ بارہ مہینوں کے دوران ایک کے بعد ایک اور ایک سے بڑھ کر ایک بالی ووڈ فلمیں ریلیز ہوئیں۔ بہت سی فلمیں ایسی تھیں جو ریلیز سے قبل ہی خاصی شہر ت سمیٹنے کا سبب بنیں۔ انہی فلموں میں سے اب ایک فلم &rdquo; ڈان 2&ldquo; اس ماہ کی 23تاریخ کو ریلیز ہونے جارہی ہے ۔</p>
<p>اس میں کوئی شک نہیں کہ&rsquo;&lsquo;&rsquo; ڈان ٹو &ldquo;کا انتظار صرف فلم بینوں کو ہی نہیں بلکہ خود &rsquo;ریل لائف۔۔ ڈان&lsquo; یعنی شاہ رخ خان کو بھی ہے ۔&rdquo; را۔ون&ldquo; کو خاطرخواہ کامیابی نہ ملنے کے بعد انہیں ایک ایسی فلم کی ضرورت ہے جو انہیں اداکاری کے میدان میں ایک مرتبہ پھر &rsquo;بادشاہ &lsquo;ثابت کرسکے۔</p>
<p>&rdquo;ڈان ٹو&ldquo; کی کامیابی کے لئے شاہ رخ خان کوئی کسر اٹھانہیں رکھ رہے ۔ اس کی زبردست تشہیر کی جارہی ہے ۔ اسے ٹو ڈی کے ساتھ ساٹھ تھری ڈی فارمیٹ میں بھی ریلیز کیا جارہا ہے ۔ انہیں &rdquo;را۔ون&ldquo; سے یہ تجربہ بھی ہوا ہے کہ لوگ ٹو ڈی کے بجائے تھری ڈی فلموں کو زیادہ پسند کررہے ہیں۔ کیا شاہ رخ خان کے یہ تجربات اگلی فلم کے حوالے سے کامیاب ثابت ہوں گے ؟؟اور کیا &rdquo;ڈان ٹو&ldquo; باکس آفس پر کامیابی کے نئے ریکارڈ بنا سکے گی؟؟ کیوں کہ سب کچھ کرگزرنے کے باوجود&rdquo; را۔ون&ldquo; صرف اتنا ہی کما سکی جتنا اس پر خرچ آیا تھا۔</p>
<p>&rdquo;ڈان ٹو&ldquo; امیتابھ بچن کی 80ء کی دھائی میں بننے والی فلم &rdquo;ڈان&ldquo; کا دوسرا سیکوئل ہے۔ اس سے قبل &rdquo;ڈان ون&ldquo; سن 2006ء میں ریلیز ہوئی تھی۔ سیکوئل کے ڈائریکٹر فرحان اختر ہیں جن کی ایک اور فلم &rdquo;زندگی نہ ملے گی دوبارہ&ldquo; رواں سال ہی ریلیز ہوئی تھی جس نے کامیابی کے ساتھ ساتھ فرحان کو ایک نئی پہچان بخشی۔ &rdquo;ڈان ٹو&ldquo; انہیں کس حد تک شہرت دلاسکے گی ، اس بات کا فیصلہ جاننے کے لئے خود فرحان اختر بھی&rdquo; ڈان ٹو&ldquo; کی ریلیز کے منتظر ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Mon, 12 Dec 2011 18:40:30 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">135451433</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-12-12T18:40:30Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Don2_main.jpg" length="101889" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Don2_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Don2_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>دیوآنند کا آخری سفر تیار ، جسد خاکی کل فنا ہوجائے گا </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Dev-Anand-Last-Rites-09Dec11-135331058.html</link>
				<description>دیوآنند کی موت کے ساتھ ہی بالی ووڈ فلموں کا ایک دور ختم ہورہا ہے۔ ان کی آخری فلم ’چارج شیٹ ‘ دوماہ پہلے ہی ریلیز ہوئی تھی</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>بالی ووڈ فلموں کے&rsquo;سدابہار ہیرو&lsquo;، دیوآنند کا وجود ہفتے کی صبح ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس دنیا سے فنا ہوجائے گا۔ ان کی آخری رسومات لندن میں ہی اداکردی جائیں گی جہاں گزشتہ اتوار ان کا انتقال ہوگیا تھا۔ بعد ازاں، ان کی خاک ممبئی لائی جائے گی جہاں ان کی یاد میں ایک پروگرام منعقد ہوگا۔ یہ وہی ممبئی شہر ہے جہاں سے انہوں نے ساٹھ سالوں تک فلمی دنیا پر راج کیا۔ <br /><br /> ان کی آخری رسومات کی لندن میں ادائیگی کا فیصلہ جمعرات کی صبح ان کی اہلیہ کلپنا کارتک اور بیٹی دیوینہ کی برطانیہ آمد کے بعد کیا گیا۔ دیوآنند کے اہل خانہ کے مطابق رسومات 10 دسمبر کی صبح گیارہ بجکر چالیس منٹ پر مقامی شمشان گھاٹ پر اداکی جائیں گی۔ ممبئی روانگی سے قبل اسی دن دوپہر دو بجے&rsquo; بھارتیہ ودیابھون &lsquo; میں ان کی یاد میں ایک پروگرام ترتیب دیا جائے گا۔ یہ یادگاری پروگرام ممبئی میں ہونے والے پروگرام کے علاوہ ہے۔ <br /><br /> دیوآنند ہارٹ اٹیک کے باعث 3دسمبر کو88 سال کی عمر میں لندن میں واقع &rsquo;واشنگٹن ہوٹل &lsquo;میں قیام کے دوران اس دنیا سے کوچ کرگئے تھے۔ ان کی موت کے وقت ان کے صاحبزادے سنیل ان کے قریب تھے۔ <br /><br /> دیوآنند کی موت کے ساتھ ہی بالی ووڈ فلموں کا ایک دور ختم ہورہا ہے۔ ان کی آخری فلم &rdquo;چارچ شٹ &ldquo; دوماہ پہلے ہی ریلیز ہوئی تھی ۔ وہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کی تحصیل نارووال کے علاقے شکرگڑھ میں پیدا ہوئے تھے لیکن چالیس کی دھائی میں فلموں میں کام کی غرض سے انہیں ممبئی آنا پڑا۔ ان کی پہلی فلم &rdquo;ہم ایک ہیں&ldquo; تھی ۔ <br /><br />انہوں نے اداکاری کے ساتھ ساتھ ہدایت کاری کے فرائض بھی انجام دیئے۔ &rdquo; سی آئی ڈی&ldquo;، &rsquo;&lsquo;&rsquo;گائیڈ&ldquo; ، &rdquo;ہرے راما ہرے کرشنا&ldquo; اور&rdquo; جیول تھف&ldquo; ان کی یاد گار اور کامیاب ترین فلمیں شمار ہوتی ہیں۔ <br /><br />دیوآنند نے اداکاری میں کبھی کسی کو کاپی نہیں کیا بلکہ ان کا اپنا ایک منفرد اسٹائل تھا اس اسٹائل کو نہ تو کوئی کاپی کرسکا اور نہ ہی کسی اور پر یہ اسٹائل جچا۔ لہذا، &nbsp;وہ اپنے فن میں یکتا تھے۔ <br /> <br />دیوآنند زندگی بھر یہ کہتے رہے کہ وہ مرتے دم تک کام کرتے رہنا چاہتے ہیں اور ہوا بھی ایسا ہی۔ 30 ستمبر کو ان کی آخری فلم &rdquo; چارچ شیٹ&ldquo; ریلیز ہوئی تھی جس کے بعد وہ ایک اور فلم پر کام کررہے تھے لیکن اس سے پہلے کہ ان کا کام مکمل ہوتا موت نے انہیں اپنی آغوش میں لے لیا۔ <br /> <br />نئی نسل کی بہت سی اداکارائیں اور اداکار زندگی بھر ان کے احسان مند رہیں گے، کیوں کہ انہیں دیو آنند نے ہی پہلی مرتبہ فلموں میں بریک دیا تھا۔ ان فنکاروں میں ٹینا منیم اور زینت امان بھی شامل ہیں۔ <br /><br />جس دور میں انہوں نے اداکاری شروع کی اس دور میں دلیپ کمار اور راج کپور جیسے منجھے ہوئے فنکار پہلے سے انڈسٹری میں موجودتھے ، ایسے میں دیوآنند کا کامیاب ہونا اور اپنا منفرد مقام بنانا واقعی جوئے شیرلانے کے مترادف تھا لیکن دیوآنند اس میں خوب کامیاب رہے۔ <br /> <br />دیوآنند نے انگریزی لڑیچر میں گریجویشن کیا تھا ۔ وہ جب ممبئی آئےتویہاں پہلے سے ان کے بڑے بھائی چیتن آنند موجود تھے ۔ دیوآنند کو فلم انڈسٹری میں پہلا کام پربھات اسٹوڈیو نامی فلم پروڈکشن کمپنی میں ملا ۔ یہ فلم تھی &rdquo;ہم ایک ہیں&ldquo; اس فلم کے لئے انہیں ساڑھے تین سو روپے معاوضہ ملا تھا اور زمانے میں یہ رقم خاصی بڑی تصور کی جاتی تھی۔ <br /> <br />انہی دنوں دیو آنند کو ان کے بھائی چیتن آنند نے اپنی پہلی فلم &rdquo; نیچا نگر &ldquo; میں کاسٹ کیا ۔ اس فلم کو کینز فلم فیسٹیول میں ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اسی دوران ان کی ملاقات اس وقت کی مشہور پلے بیک سنگر اور اداکارہ ثریا سے ہوئی۔ دونوں کی &nbsp;ملاقات پیار میں بدلی اور نوبت شادی تک بھی پہنچی لیکن ثریا کی نانی نہیں مانی۔ 1954میں دیوآنند نے اداکارہ کلپنا کارتک سے شادی کرلی لیکن ثریا زندگی بھر کنواری ہی رہیں۔ <br /> <br />بعد کے سالوں میں دیو آنند کی معرکتہ الآرافلم &rdquo;ضدی&ldquo; آئی جس نے دیوآنند کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا۔ دیوآنند اس وقت کے نمبر ون ہیرو شمار ہونے لگے۔ &rdquo;گائیڈ &ldquo;دیو صاحب کی پہلی رنگین فلم تھی جو 1960ء میں ریلیز ہوئی ۔ اس میں ان کی ہیروئن وحیدہ رحمن تھیں ۔ ان کی پے ددپے کامیاب ہونے والی ان فلموں نے انہیں دلیپ کمار اور راج کپور کے ہم پلہ لاکھڑاکیا۔ <br /> <br />دیوآنند کو ان کے کام کے عوض بے شمار ایوارڈز سے نوازا جاتا رہا۔ ان میں 2001ء میں دیا جانے والا بھارت کا سب قابل فخر ایوارڈ پدما بھوشن اور 2002ء میں ملنے والا دادا صاحب پھالکے ایوارڈ بھی شامل ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 9 Dec 2011 18:38:50 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">135331058</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[وسیم اے صدیقی]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-12-09T18:38:50Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/DevAnand_main.jpg" length="132345" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/DevAnand_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/DevAnand_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>مشہور مصور ڈیاگو رویرا کے فن پاروں کی نمائش</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Diego-Rivera-09Dec11-135324423.html</link>
				<description>میکسیکو سے  تعلق رکھنے والے مشہور فن کار ڈیاگو رویرا، جو ۱۹۵۰ میں فوت ہو چکے ہیں، کے کئی شاہ پارے آج کل نیویارک کے ماڈرن آرٹ میوزیم کی زینت بنے ہوئے ہیں</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>دیواروں پر تصویر کشی&nbsp; ایک قدیم فن ہے ، مگر ماضی کی طرح آج بھی آرٹ میں دلچسپی رکھنے والوں میں بڑا مقبول ہے۔ امریکہ میں یہ فن میورلز کہلاتا ہے اور یہاں اس فن کے مشہور آرٹسٹ کا نام ہے ڈیاگورویرا۔میکسیکو سے&nbsp; تعلق رکھنے والے اس فن کار کے کئی شاہ پارے نیویارک کے ماڈرن آرٹ میوزیم کی زینت ہیں۔ ان کا انتقال 1950ء میں ہواتھا ۔ 2002ء میں بنائی جانے والی ایک فلم فریدا میں ان کی شخصیت کو موضوع بنایاگیا ہے۔</p>
<p>فلم میں ڈیاگو رویرا&nbsp; کا کردار الفریڈ مولینا نے ادا کیا ہے۔ ڈیاگو ایک کامیونسٹ تھے اور انھوں نے اس حوالے سے بہت زیادہ&nbsp;&nbsp; میورلز بنائے۔</p>
<p>آج 80 سال بعد بھی ڈیاگو کے آرٹ کو دیکھنے میں فن کے پرستار ماڈرن آرٹ میوزیم جاتے ہے۔ جہاں پانچ ایسے&nbsp; بڑے میورلز رکھے گئے ہیں جو انہوں نے 1931ء میں بنائے تھے۔&nbsp; ان میورلز&nbsp; میں ڈیاگو کی میکسیکو کی تاریخ میں&nbsp; دلچسپی&nbsp; بھی جھلکتی ہے اور&nbsp; ان کی سرمایہ دارانہ نظام اور&nbsp; نو آبادیاتی&nbsp; نظام سے نفرت بھی۔</p>
<p>جس کی ایک مثال فروزن ایسٹس نامی میورل&nbsp; ہے جس میں نیویارک کی اونچی عمارات دکھائی گئی ہیں۔ اور ان کے نیچے ڈیاگو کی طبقاتی نظام کی بارے میں سوچ۔</p>
<p>عجائب گھر کے کیوریٹر لی ڈکر مین کا کہناہے کہ&nbsp; ڈیاگو نے&nbsp; اپنے آرٹ میں&nbsp; موجودہ دور کی تمام مشہور عمارات کو ایک مختلف طریقے سے پیش کیا ہے ۔ ان عمارتوں&nbsp; کے نیچے بے روزگاروں کے لیے شیلٹر دکھائی دیتے ہیں ۔ اور اس کے نیچے ایک بینک ہے جہاں شہر کے امیر ترین افراد اپنی دولت کا حساب کتاب کرنے کھڑے ہیں۔</p>
<p>نومبر کے آغاز سے شروع ہونے والی اس نمائش میں لوگوں نے گہری دلچسپی کا اظہار کیاہے۔فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والی ایک تاریخ دان اینا لوپز کہتی ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈیاگو کا پیغام آج کے دور سے بھی مناسبت اور اہمیت رکھتا ہے۔</p>
<p>نمائش میں ڈیاگو کی بنائی ہوئی واٹر کلرز کی پینٹنگز بھی ہیں۔ جن میں&nbsp; سے کچھ&nbsp; انھوں نے&nbsp; ماسکو میں بنائی تھیں۔ ان میں ڈیاگو کی ایک&nbsp; بہت مشہور&nbsp; پینٹنگ بھی شامل ہے جو&nbsp; مین ایٹ کروس روڈز کے نام سے جانی جاتی ہے۔&nbsp; اس پینٹنگ کو راک فیلر فیملی نے&nbsp; مین ہیٹن میں قائم راک فیلر سینٹر میں&nbsp; رکھا تھا،&nbsp; لیکن&nbsp; اس میں شامل&nbsp; ایک کردار پرانہیں&nbsp; اعتراض تھا۔ لیکن فلم فریدا&nbsp; میں دکھایا گیا ہے کہ&nbsp; ڈیاگو نے اس کردار کو اپنی پینٹنگ سے حذف کرنے سے انکار کر دیا تھا اور اس پینٹنگ کو&nbsp; تلف کر دیا گیا تھا۔</p>
<p>ڈیاگو نے واپس میکسیکو جاکر اسی طرح کا ایک اور میورل بنایا اور اسے میکسیکو میں نمائش کے لیے رکھا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 9 Dec 2011 16:49:07 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">135324423</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[کیرولین ویور /ثاقب الاسلام]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-12-09T16:49:07Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Art_-_Diego_Rivera_at_MOMA_FOR_WEB_SD-fixed-x264-YoutubeHQwTag_640x480_2173828623.jpg" length="109232" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Art_-_Diego_Rivera_at_MOMA_FOR_WEB_SD-fixed-x264-YoutubeHQwTag_640x480_2173828623.jpg" medium="image" isDefault="true" height="480" width="640" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_ny_rivera_exhibit_moma_230_08nov2011.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>دولت کی دیوی فلمی ستاروں پر مہربان </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Bollywood-Stars-Fees-08Dec11-135250893.html</link>
				<description>آج کل فلمیں کم وقت میں لاکھوں اور کروڑوں روپے کمانے کا آسان نسخہ بن چکا ہے۔  بس شرط یہ ہے کہ قسمت کی دیوی آپ پر مہربان ہو</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>ممکن ہے آج سے کچھ سال پہلے تک فلموں میں کام کرنا محض کچھ لوگوں کا شوق اورشہرت کا جنون ہوتا ہو مگر آج فلمیں&nbsp; کم &nbsp;وقت میں لاکھوں اور کروڑوں روپے کمانے کا آسان نسخہ بن چکا ہے ۔۔ بس شرط یہ ہے کہ قسمت کی دیوی آپ پربھی اسی طرح مہربان ہو۔۔۔جیسا کہ&rsquo; خان ہیروز&lsquo; پر ہے۔&nbsp;پھر بات خان ہیروز تک ہی محدود نہیں بلکہ ہیروئنز، ڈائریکٹرز، مصنف ، شاعر، ، سنگرز، گوریوگرافر، سیٹ ڈیزائنرز وغیرہ وغیرہ ۔۔۔سب کے سب کروڑوں کے معاہدے کر رہے ہیں۔ یہاں تک کے گلیمر کی دنیا میں اس کی کوئی انتہا فی الحال نظر نہیں آتی۔ آیئے ذرا اس پر تفصیل سے بات کی جائے۔ <br /> <br /> ہیروز : جن کا معاوضہ کروڑوں سے شروع ہوتا ہے <br /> عامر خان، سلمان خان اور شاہ رخ خان وہ ہیروز ہیں جو آج اپنے کام کی سب سے زیادہ قیمت وصول کرتے ہیں ۔ بھارتی ٹی وی چینل &rsquo; این ڈی ٹی وی&lsquo; کی ایک رپورٹ کے مطابق ان تینوں ہیروز کا معاوضہ 21کروڑ سے شروع ہوتا ہے جبکہ یہ تینوں اپنی اپنی آنےوالی فلموں کے پروڈیوسرز بھی ہیں مثلاً عامر خان فلم&rdquo; تلاش&ldquo;، شاہ رخ خان فلم &rdquo; ڈان ٹو&ldquo; اور سلمان خان فلم&rdquo; دبنگ ٹو&ldquo; کے پروڈیوسر ہیں لہذا ان کی آمدنی کا بڑا حصہ فلم کی مجموعی آمدنی سے جڑا ہوا ہے ۔ شواہد موجود ہیں کہ ان ہیروز کی فلموں کا منافع کروڑوں اور اربوں روپے تک جاپہنچتاہے۔ <br /> <br /> اداکارائیں : کترینا سب پر بازی لے گئیں<br /> کچھ درپردہ اطلاعات تھیں کہ کترینہ کیف کو پروڈیوسر وشنو بھاگوانی نے اپنی آنے والی فلم کے لئے 20 کروڑ روپے کی آفر کی تھی تاہم مصدقہ اطلاعات یہ ہیں کہ اس وقت کرینہ کپور فلموں میں کام کرنے کے سب سے زیادہ پیسے لیتی ہیں۔ انہیں فلم&rdquo; گول مال تھری&ldquo; میں کام کرنے کے ساڑھے تین کروڑ روپے اداکئے گئے جبکہ آنے والی فلم &rdquo; ہیروئن&ldquo; کے لئے انہوں نے پانچ کروڑ روپے لئے ہیں۔ <br /> دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ یہ فلم مجموعی طور پر جتنامنافع کمائے گی اس میں بھی کرینہ کا حصہ ہوگا۔ اندازہ لگایئے کہ یہ رقم ملالی جائے تو ایک ہیروئن کا صرف ایک فلم میں کام کرنے کا کل معاوضہ کتنے کروڑ تک جا پہنچے گا۔ کبھی یہ لمبی چوری رقمیں خواب و خیال رہی ہوں گی مگر آج حقیقت ہیں۔<br /> <br /> ڈائریکٹرز : ایک فلم کی فیس 15کروڑ روپے مع25فیصد منافع <br /> راج کمار ہیرانی &rdquo;منا بھائی ایم بی بی ایس&ldquo; سے لیکر &rdquo;تھری ایڈیٹس &ldquo;تک سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے ڈائریکٹرز شمار ہوتے ہیں ۔ ان کی ایک فلم ڈائریکٹ کرنے کا معاوضہ 15کروڑ روپے ہے جبکہ فلم کے منافع میں ان کا 25فیصد حصہ اس کے علاوہ ہوتا ہے ۔ <br /> <br /> مصنف : ان کے بھی دن پھر گئے <br /> فلم &rdquo;تھری ایڈیٹس&ldquo; کے مصنف ابھی جیت جوشی سب سے زیادہ معاوضہ لیکرایک فلم کی کہانی لکھتے ہیں ۔ &rdquo; تھری ایڈیٹس &ldquo;کی کامیابی کے بعد وہ &nbsp;ایک فلم کے تین کروڑ روپے ڈیمانڈ کرتے ہیں۔ <br /> <br /> موسیقار : اے آر رحمن آسکر ایوارڈ کے بعد سب سے مہنگے <br /> &nbsp;اے آر رحمن ایک فلم کی دھنیں ترتیب دینے کا سب سے زیادہ معاوضہ وصول کرتے ہیں ۔ آسکر ایوارڈ کے بعد ان کی قیمت ڈبل اور ٹرپل ہوگئی ہے ۔ آج وہ ایک فلم کی موسیقی ترتیب دینے کے پانچ سے آٹھ کروڑ روپے لیتے ہیں۔ان کے بعد دوسرا نمبر موسیقار پریتم کا ہے ۔ وہ ایک فلم کے تین کروڑ روپے لیتے ہیں ۔ اس کے علاوہ اگر وہ کسی&nbsp; ایک گانے کا میوزک تیار کریں تو اس کے 25لاکھ روپے وصول کرتے ہیں ۔ <br /> <br /> کوریوگرافرز : ایک گانے کے 50 لاکھ <br /> فرح خان اور ریمو ڈی سوزا موجودہ وقت کے سب سے بڑے اور مہنگے کوریوکرافر تصور ہوتے ہیں۔ ویسے گنیش ہیگڈے اور ویبھوی مرچنٹ بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ ان سب کا معاوضہ فی گانا 25سے 50 لاکھ روپے ہے۔ <br /> <br /> شاعر<br /> گذرے دنوں میں &nbsp;شاعروں کی غربت اور بے روزگاری کے قصے اب پرانے ہوچکے ہیں ۔ آج کا شاعر۔۔ اور وہ بھی جاوید اختر جیسا بڑا اور منجھا ہوا شاعر۔۔ ایک گانا لکھنے کے 10 لاکھ روپے لیتا ہے ۔ ان کے بعد پروسون جوشی کانمبر آتا ہے جو ایک گانے کے آٹھ لاکھ روپے لیتے ہیں۔ <br /> <br /> سنگرز<br /> آج کے سنگرز یعنی گلوکار بھی کسی سے پیچھے رہنے والے نہیں۔ سونو نگم موجودہ دور میں سب سے زیادہ رقم لے کر ایک گانا گاتے ہیں۔ یہ بھی ایک گانا گانے کے دس لاکھ روپے لیتے ہیں۔ <br /> <br /> ان کے مقابلے میں خواتین گلوکاروں &nbsp;کی بات کریں تو سنیدھی چوہان اور شریا گوشال کا ذکر سب سے پہلے آتا ہے ۔ وہ &nbsp;ایک گانے کے ڈھائی لاکھ روپے لیتی ہیں جبکہ یہ دونوں جب کسی اسٹیج پر یا کسی محفل میں یہی گانا گائیں تو ان کی فی گانا &nbsp;آمدنی کہیں سے کہیں جاپہنچتی ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 8 Dec 2011 16:33:24 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">135250893</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[وسیم اے صدیقی]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-12-08T16:33:24Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/highestPaisStar_main.jpg" length="149798" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/highestPaisStar_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/highestPaisStar_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>‘اداکاری کے ساتھ ساتھ گلوکاری کرنے والے فلمی ہیروز کا  ڈبل رول</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Bollywood-Actors-Singers-06Dec11-135099258.html</link>
				<description>بالی ووڈ کی فلمی دنیا میں ایسے فنکاروں پر ایک نظر جو ایکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ پلے بیک سنگنگ بھی کرتے رہے ہیں</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>&rsquo;ایک پنتھ دو کاج &lsquo;کی مثال توآپ نے سنی ہی ہوگی ۔بالی ووڈ فلموں کے کچھ فنکار ایسے ہیں جنہوں نے اس ضرب المثل کو حقیقت کا روپ دیتے ہوئے دنیا کو بیک وقت دو فنون سے روشناس کرایا۔ مثلاً ان کی پہلی پہچان تو اداکاری ہے مگر وہ اداکاری کے ساتھ ساتھ فلموں میں شوقیہ گلوکاری بھی کرتے رہے ۔ اگرچہ انہوں نے گلوکاری کی باقاعدہ کسی سے تربیت نہیں لی مگر ان کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے اداکاری کے ساتھ ساتھ گلوکاری میں بھی نام کمایا ۔</p>
<p>آئیے آج ایسے ہی فنکاروں پر سرسری نظر ڈالی جائے جو ایکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ پلے بیک سنگنگ بھی کرتے رہے :</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>امیتابھ بچن</p>
<p>اداکاری کے ساتھ ساتھ گلوکاری کرنے والوں میں سب سے پہلا نام امیتابھ بچن کا آتا ہے۔ یہ وہ فنکار ہے جسے ایک زمانے میں ریڈیو آڈیشن میں یہ کہہ کر فیل کردیا گیا تھا کہ ان کی آواز میں کوئی دم نہیں۔</p>
<p>یہ بات شاید ان کے دل میں گھر کرگئی اور انہوں نے اپنے فن میں وہ مہارت پیدا کی کہ ناصرف ان کی مکالمہ ادائیگی دوسرے فنکاروں کے لئے ایک مثال بن گئی بلکہ انہوں نے اپنی آواز سے وہ جادو جگایا کہ لوگ ان سے اداکاری کے ساتھ ساتھ گلوکاری بھی کرانے لگے۔</p>
<p>امیتابھ نے ایک دو نہیں پوری ستائس فلموں کے گانے اپنی آواز میں ریکارڈ کرائے۔ 1979ء میں دو فلموں یعنی &rdquo;دی گریٹ گیمبلر&ldquo; اور &rdquo; مسٹر نٹور لال&ldquo; میں امیتابھ نے جب اپنی بھاری آواز میں گیت گائے تو شائقین فلم نے ان کی اداکاری کی طرح ان کی صداکاری کو بھی بہت سراہا۔ &rdquo; گریٹ گیمبلر&ldquo; کی موسیقی راہول دیو برمن، جبکہ &rdquo;مسٹر نٹور لال&ldquo; کی موسیقی راجیش روشن نے ترتیب دی تھی۔</p>
<p>فلم &rdquo; مسٹر نٹور لال&ldquo; کے گیت &rdquo;میرے پاس آؤ میرے دوستو ایک قصہ سنو&lsquo; &lsquo; نے تو امیتابھ کے لیے گیتوں کی لائن لگا دی۔ فلم &rdquo;لاوارث&ldquo; میں ان کے گیت &rdquo;میرے انگنے میں تمھارا کیا کام ہے&ldquo; نے کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ آج بھی یہ گیت ہر جگہ سنا اور گایا جاتا ہے۔</p>
<p>مذکورہ فلموں کے علاوہ جن فلموں میں امیتابھ بچن نے اپنی آواز کا جادو جگایا ان میں &rdquo;سلسلہ،&ldquo; &rdquo;مہان&ldquo;، &rdquo;پکار&ldquo;، &rdquo;شرابی&ldquo;، &rdquo;طوفان&ldquo;، &rdquo;جادوگر&ldquo;، &rdquo;خدا گواہ&ldquo;، &rdquo;میجر صاحب&ldquo;، &rdquo;سوریا ونشی&ldquo;، &rdquo;عکس&ldquo;، &rdquo;کبھی خوشی کبھی غم&ldquo;، &rdquo;امان&ldquo; وغیرہ شامل ہیں۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>عامر خان</p>
<p>فلم &rdquo;ہم ہیں راہی پیار کے&ldquo; کا گیت &rdquo;چکنی صورت تو کہاں تھا اب تلک یہ بتا&ldquo; کس نے نہیں سنا ہوگا، اس گیت میں نظر آنے والا من موہنا معصوم سا لڑکا بالی ووڈ کا وہ ہیرو ہے جس نے بھارتی فلمی صنعت کو نہ صرف بطور اداکار کامیاب فلمیں دیں بلکہ بطور ہدایتکار اور گلوکار بھی اپنا لوہا منوایا ہے۔ ۔۔جی ہاں بات ہورہی ہے مسٹر پرفیکٹ یعنی عامر خان کی۔</p>
<p>بے شمار فلموں میں کام کرنے کے بعد اچانک 1998 میں ریلیز ہونے والی فلم&rsquo; &rsquo;غلام&ldquo; میں بطور گلوگار عامر خان نے جب &rdquo;آتی کیا کھنڈالا&lsquo; &lsquo;گایا تو نوجوانوں کی زبانوں پر یہ گیت ایسا رچ بس گیا کہ اس گیت نے نوجوانوں کی عام بول چال کے حصے کی شکل اختیار کرلی۔</p>
<p>اس گیت کے بعد عامر نے اور بھی بہت سے گیت گائے۔ فلم &rdquo;فنا &ldquo;میں عامر نے کاجول، سونونگم اور سنیدھی چوہان کے ساتھ گیت &rdquo;میرے ہاتھ میں&lsquo; گا کر شائقین کے دل جیت لیے تھے۔ ان گیتوں کے بعد عامر کے گیت مقبولیت کی سند حاصل کرنے لگے اور انھوں نے بہت سی فلموں میں نہ صرف سولو گیت گائے بلکہ بالی ووڈ کی نامور گلوکاراؤں کے ساتھ دوگانوں کے علاوہ بہت سے کورس گیت بھی گائے۔</p>
<p>عامر نے جن گیتوں میں گلوکاری کی ان میں فلم &rdquo;تارے زمین پر&ldquo;، &rdquo;میلہ&ldquo; خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ عامر نے کئی البمز کے لیے بھی گیت گائے ۔ انہوں نے شان، ہری ہرن، ادیت نارائن، الکا یاگنک، سونو نگم ، سنیدھی چوہان اور بالی ووڈ کے صف اول کے کئی گلوکاروں کے ساتھ گیت گائے ہیں جو خاص و عام میں آج بھی مقبول ہیں۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>&nbsp;نانا پاٹیکر</p>
<p>نانا پاٹیکر کا شمار بھارت کے مقبول ترین اداکاروں میں ہوتاہے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا مقابلہ اطالوی نژاد امریکی اداکار الپا چینو ہی سے کیا جا سکتا ہے جس نے ہالی ووڈ میں اپنی منفرد اداکاری سے زبانوں کی سرحدیں عبور کر کے بین الاقوامی شہرت حاصل کرلی تھی۔</p>
<p>&nbsp;نانا پاٹیکر بھی ایک ایسے ہی ورسٹائل فنکار ہیں، جنھیں جذباتی اداکاری میں ملکہ حاصل ہے۔ نانا نے جہاں فلم بینوں کو اپنی اداکاری سے اپنا فین بنایا ہے، وہیں اپنی آواز اور موسیقی کے آلات کے ملاپ سے ایک ایسا گیت عوام کو دیا جسے عوامی ہی کہا جا سکتا ہے۔ &rdquo;ایک مچھر&ldquo; جیسا گیت گا کر نانا نے اداکاری کے بعد سرتال کی دنیا میں بھی اپنے قدم انتہائی مضبوط کرلیے ہیں۔</p>
<p>اس کے بعد ایک اور گیت &rdquo;جو ہوتا اس کو ہونے دے، جو روتا اس کو رونے دے&ldquo; نے بھی خاصی مقبولیت حاصل کی۔ میوزک ڈائریکٹر سنجیو کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ گیت نانا پاٹیکر کی شخصیت اور ان کی آواز کو سامنے رکھ کر تیار کیا تھا اور اس کی دھن خاص طور پر انھی کے لیے کمپوز کرائی تھی۔ نانا پاٹیکر اگرچہ گلوکاری کے میدان میں وہ رنگ نہیں جما پائے جو امیتابھ بچن نے جمایا تھا تاہم اپنے عوامی رنگ کی وجہ سے نانا مقبولیت کی بلندیوں پر ہیں۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>رنبیر کپور</p>
<p>بالی ووڈ اداکا رنبیر کپور نے اپنی اداکاری سے تو فلم بینوں کو اپنا دیوانہ بنایا ہی تھا مگر ایسا لگتا ہے کہ وہ بالی ووڈ میں باقاعدہ گلوگار بننے کے لیے پر تول رہے ہیں۔ اپنی فلم &rdquo;راک اسٹار&ldquo; کی نمائش سے قبل فلم کی پروموشن کیلئے رنبیر کپور نے ممبئی میں کنسرٹ کر ڈالا۔ اس کنسرٹ میں رنبیر کے ساتھ فلم کے ڈائریکٹر امتیاز علی اور موسیقار اے آر رحمن بھی شریک ہوئے۔ کنسرٹ میں گلوکاروں نے فلم &rdquo; راک اسٹار&ldquo; کے گانے گائے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 6 Dec 2011 16:26:35 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">135099258</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[وسیم اے صدیقی]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-12-06T16:26:35Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/ActorsCumSinghers_main.jpg" length="113609" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ActorsCumSinghers_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ActorsCumSinghers_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>عامر خان اور کرن راوٴ کے یہاں بیٹے کی پیدائش</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Aamir-Khan-Kiran-Rao-Baby-Boy-05Dec11-135033683.html</link>
				<description>یہ عامر خان کی دوسری جبکہ کرن راوٴ کی پہلی شادی ہے۔ عامر کی پہلی بیوی کا نام رینہ دت تھا جن سے عامر خان کے دو بچے یعنی ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہیں </description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>بالی ووڈ سپر اسٹار عامر خان اور کرن راوٴ کے یہاں &rsquo;ننھا منا مہمان&lsquo; آگیا ہے۔ وہ دونوں ایک بچے کے ماں باپ بن گئے ہیں ۔ بھارت کے تمام ذرائع ابلاغ نے اس حوالے سے عامر اور کرن کے بیان کو نمایاں انداز میں جگہ دی ہے ۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا ہے کہ &rdquo;ہم بیٹے کو پاکر بہت خوش ہیں ۔ اس بچے کی پیدائش ہمارے لئے بہت معنی رکھتی ہے۔ ایک اس اعتبار سے کہ اس خوشی کا ہمیں بہت انتظار کرنا پڑا اور دوسرا اس لحاظ سے کہ بہت مشکلوں کے بعد ہمیں یہ راحت ملی ہے۔ دراصل طبی پیچیدگیوں کے سبب نارمل طریقے سے ہمارے یہاں اولاد نہیں ہوسکتی تھی اس لئے ہمیں &rdquo;آئی وی ایف۔ سروگیسی &ldquo;طریقہ اختیار کرنا پڑا۔ ہمیں خوشی ہے کہ سب کچھ اچھی طرح سے ہوگیا&ldquo;</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ &rdquo; ہم اس دنیا کے خالق کی عظمت کے شکرگزار ہیں، ساتھ ہی سائنسی ایجادات کے کمالات اور اپنے دوستوں و رشتے داروں کے بھی شکر گزار ہیں جنہوں نے ہمیں اپنی دعاوٴں میں ہر پل یاد رکھا&ldquo;</p>
<p>یہ عامر خان کی دوسری جبکہ کرن راوٴ کی پہلی شادی ہے۔ عامر کی پہلی بیوی کا نام رینہ دت تھا جن سے عامر خان کے دو بچے یعنی ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہیں۔ دونوں نے 15سال تک ایک ساتھ رہنے کے باوجود علیحدگی اختیار کرلی۔</p>
<p>عامر اور کرن کی ملاقات سن 2001ء میں فلم &rdquo;لگان &ldquo;کے سیٹ پر ہوئی تھی ۔ کرن راوٴ اس فلم کی اسسٹنٹ ڈائریکٹرتھیں ۔ تین سال بعد دونوں نے شادی کرلی ۔ کرن راوٴ اس سے پہلے 2009ء بھی ماں بننے والی تھیں لیکن طبی پیچیدگی کے سبب ان کا یہ خواب پائے تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔</p>
<p>عامر کے پہلے بیٹے کا نام جنید جبکہ لڑکی کا نام ارا ہے۔ عامر نے رینہ کو سنہ 2002ء میں طلاق دی تھی جبکہ کرن سے انہوں نے 2005ء میں شادی کی تھی۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Mon, 5 Dec 2011 17:00:14 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">135033683</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-12-05T17:00:14Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/AmirKhanKiranRao_main.jpg" length="90652" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AmirKhanKiranRao_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AmirKhanKiranRao_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
																																																																									</channel>
</rss>

