<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>


																																		



<rss xmlns:ymusic="http://music.yahoo.com/rss/1.0/ymusic/" xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" xmlns:cf="http://www.microsoft.com/schemas/rss/core/2005" xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"   version="2.0">
<channel>
	<title>VOA News:  ایشیا  </title>
	<link>http://www.voanews.com/urdu/news/asia</link>
		<description>ایشیا 
																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																								
	Voice of America
	</description>
	<language>ur</language> 	<copyright />
	<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 15:08:41 GMT</pubDate>
	<dc:creator />
	<dc:date>2012-02-10T15:08:41Z</dc:date>
	<dc:language>ur</dc:language> 	<dc:rights />
	<image>
		<title>Voice of America</title>
		<link>http://www.voanews.com/urdu</link>
		<url>http://media.voanews.com/designimages/VOARSSIcon.gif</url>
	</image>


						
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>بحیرہٴ جنوبی چین: امریکہ,انڈونیشیا کی طرف سے مزیدپیش رفت پرزور</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/Clinton_Indonesia_24july11-126088098.html</link>
				<description>کلنٹن اور اُن کے انڈونیشی ہم منصب  نے آسیان اور  چین  کے سمجھوتے کو سراہا ۔ تاہم،   اُن کا کہنا تھا کہ  یہ محض ایک ابتدائی قدم کی حیثیت رکھتا ہے، اور  بحیرہٴ جنوبی چین  میں عدم استحکام اور  رقابت  کے باعث  معاملے کو حل کرنے کے لیے واضح  شرائط پر عمل درآمد کرنا ہوگا</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>اتوار کے روز امریکہ اور انڈونیشیا نےمطالبہ کیا کہ بحیرہ ٴجنوبی چین میں علاقائی تنازعات کے پُرامن تصفیے کےلیے چین اور آسیان ممالک کی طرف سےکیے گئے سمجھوتے پر فوری عمل درآمدکیا جائے۔ امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن اور انڈونیشیا کے وزیرِ خارجہ مارٹی نتالی گاوا نے بالی میں ہونے والے ایک &nbsp;&nbsp;مشترکہ &nbsp;اجلاس&nbsp; کےدوران اِس&nbsp; تنازعے پر بات چیت کی۔</p>
<p>&rsquo;وائس آف امریکہ&lsquo; کے نمائندے ڈیوڈ گولسٹ نے انڈونیشیا کے صحت افزا مقام&nbsp; &nbsp;بالی سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ</p>
<p>کلنٹن اور اُن کے انڈونیشیائی ہم منصب&nbsp; نے آسیان اور&nbsp; چین&nbsp; کے سمجھوتے کو سراہا ۔ تاہم، &nbsp;&nbsp;اُن کا کہنا تھا کہ &nbsp;یہ محض ایک ابتدائی قدم کی حیثیت رکھتا ہے، اور &nbsp;بحیرہٴ جنوبی چین &nbsp;میں عدم استحکام اور &nbsp;رقابت&nbsp; کے باعث &nbsp;معاملے کو حل کرنے کے لیے واضح&nbsp; شرائط پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔</p>
<p>بالی میں آسیان کے علاقائی فورم کے اجلاس کے بعد&nbsp; امریکہ انڈونیشیاباہمی &nbsp;مشترکہ کمیشن کےایجنڈے کےایک حصے کے طور پر دونوں اعلیٰ سفارت کاروں نے بات چیت کی۔ <br /> ایک مشترکہ اخباری &nbsp;کانفرنس &nbsp;میں ہلری کلنٹن نے کہا کہ بحیرہ ٴجنوبی چین میں بحری ذرائع کے اہم تجارتی&nbsp; راستے پر کسی تنازعے سے دور رہنے کے لیے کسی باضابطہ طریقہٴ کار پر عمل درآمد کرنا ہوگا جس کے لیے&nbsp; آسیان اور چین کوزیادہ&nbsp; تیزی سے، بلکہ فوری طور پر، آگے بڑھنا ہوگا۔</p>
<p>اُن کے بقول،اِس &nbsp;سارے تنازعات&nbsp; کے حل کے لیے،ہم سب دعوے داروں&nbsp; کے اشتراک &nbsp;پر مبنی سفارتی عمل &nbsp;کو آگےبڑھانے کی حمایت کرتے ہیں۔ہم&nbsp; جِس بات&nbsp; کی&nbsp; تائید نہیں کرتے اورسختی سےمخالف ہیں&nbsp; وہ یہ ہے کہ کوئی بھی&nbsp; ملک اپنے دعووٴں کو آگے بڑھا تے ہوئے طاقت کا استعمال کرے یا طاقت کے استعمال کی دھمکی سے کام لے۔&nbsp; <br /> چین تقریباً سارے کے سارے خطے پر اپنا حق جتاتا ہے، &nbsp;جب کہ فلپائن ، ملائیشیا، برونائی، ویتنام اور تائیوان&nbsp; کے بحیرہٴ جنوبی چین کے مختلف حصوں پر مسابقت والے دعوے ہیں۔ &nbsp;</p>
<p>ہلری کلنٹن نے کہا کہ تصفیے کا کوئی &nbsp;بھی عمل اِس طرح شروع ہونا چاہئیے کہ سارے فریقین اپنے متحارب&nbsp; دعوے&nbsp; سامنے لائیں۔ اُنھوں نے کہا کہ سارے دعووٴں کا&nbsp; تعین قانون اور سمندروں&nbsp; کےبارے میں اقوام متحدہ کے سمجھوتے کے حوالے سے ہونا چاہیئے، جِن کا&nbsp; انحصار، اُن کے بقول،&nbsp;&nbsp; علاقائی خصوصیات &nbsp;پر مبنی ہونا چاہیئے۔</p>
<p>آٹھ سال کی ناکام سفارت کاری کے بعد، انڈونیشیا اِن اجلاسوں کی میزبانی کے ذریعے ابتدائی سمجھوتے تک پہنچنے میں کامیاب رہا ہے۔</p>
<p>انڈونیشیا کے وزیرِ خارجہ نتالی گاوا نے کہا کہ اُنھیں توقع ہے کہ&nbsp; اُن کے ملک کی طرف سے مشرقی ایشیا&nbsp; سربراہ اجلاس کے انعقادسے قبل اِس عمل کی طرف مزید پیش رفت ہوگی۔&nbsp; یہ سربراہ اجلاس&nbsp; نومبر میں پہلی بار منعقد ہوگا جِس میں امریکہ بھی شریک ہوگا۔</p>
<p>نتالی گاوا کے بقول،&nbsp; ہم پوری سچائی اور ایمانداری سے یہ ٕمحسوس کرتے ہیں کہ کسی بات کو آگے بڑھنے نہ دینا،&nbsp; معاملات کو جوں کا توں رکھنا درحقیقت عدم استحکام ،&nbsp; بے یقینی کو جنم دینےاور ممکنہ غلط اندازے لگانے کا باعث بنے گا۔ اور اِسی بات سے ہم بچنا چاہتے ہیں۔ مقصد اور دعووٴں کی بنیاد &nbsp;میں شفافیت کے عنصر کا&nbsp; ہونا بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ &nbsp;تاہم،&nbsp; اِس سارے معاملے کو سفارتی&nbsp; عمل کےدائرے میں لانا&nbsp; ہوگا۔</p>
<p>ہلری کلنٹن نے کہا&nbsp; کہ امریکہ اِس بات کی حمایت کرتا ہے کہ&nbsp; علاقائی شکایات کے ازالے&nbsp; کے لیےانڈونیشیا کی حکومت اور پاپوا&nbsp; کے نمائندوں کو منصفانہ مذاکرات&nbsp; کرنا ہوں گے۔ <br /> امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ انڈونیشیا کی علاقائی یکجہتی کی حمایت کرتا ہے، جِس&nbsp; حوالے کا تعلق پاپووا کے کچھ نسلی لوگوں کی طرف سے علیحدگی اور ہمسایہ پاپوا نیو گِنی کے ساتھ متحدہونے کے مطالبوں سے ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sun, 24 Jul 2011 21:43:47 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">126088098</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[ڈیوڈ گولسٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-07-24T21:43:47Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/AP_clinton_indonesia_bali_ASEAN_24jul11.jpg" length="121005" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP_clinton_indonesia_bali_ASEAN_24jul11.jpg" medium="image" isDefault="true" height="303" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP_clinton_indonesia_bali_ASEAN_24jul11-230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>فلپائن میں مشتبہ کمیونسٹ باغیوں کا حملہ، پانچ پولیس اہلکار ہلاک</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/Philippine-Communist-24jan11-114470844.html</link>
				<description>دارالحکومت منیلا سے 360 کلومیٹر شمال میں صوبہ کاگایان میں گذشتہ شب گھات لگا کر کیے گئے حملے میں پولیس کے دو افسران زخمی بھی ہوئے ہیں۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">شمالی فلپائن میں مشتبہ کمیونسٹ باغیوں نے حملہ کر کے ایک افسر سمیت پانچ پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">پولیس کے اعلیٰ عہدے دار فرانسسکو ویلارومن نے پیر کے روز بتایا ہے کہ دارالحکومت منیلا سے 360 کلومیٹر شمال میں صوبہ کاگایان میں گذشتہ شب گھات لگا کر کیے گئے حملے میں پولیس کے دو افسران زخمی بھی ہوئے ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">ویلارومن نے کہا ہے کہ پولیس کی گاڑی کو پہلے کم از کم ایک بم دھماکے سے نشانہ بنایا گیا جس کے بعد مشتبہ طور پر نیو پیپلز آرمی (این پی اے) کے باغیوں نے اندھا دھند فائرنگ کا سلسلہ شروع کر دیا۔</p>
<p style="text-align: right;">یہ امر قابل ذکر ہے کہ چند روز قبل حکومتی اور کمیونسٹ مصالحت کاروں نے بات چیت کا عمل آئندہ ماہ ناروے میں دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ باغیوں نے 2004ء میں مذاکرات کا سلسلہ یہ کہہ کر منقطع کر دیا تھا کہ مبینہ طور پر حکومت کی کوششوں کے بعد امریکہ اور یورپ نے کمیونسٹ پارٹی اور اس کی مسلح شاخ این پی اے کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرستوں میں شامل کیا ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Mon, 24 Jan 2011 08:20:06 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">114470844</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-01-24T08:20:06Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/AP10122609032.jpg" length="88893" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP10122609032.jpg" medium="image" isDefault="true" height="332" width="512" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/philippines_communist_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="293" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>تھائی  لینڈ: بم دھماکے میں دو پولیس اہل کار ہلاک</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/thiland-bomb-blast-police-01jan11-112751879.html</link>
				<description>موٹر سائیکل میں چھپایا گیا بم اس وقت پھٹ گیا جب پولیس نے اسے ناکارہ بنانے کی کوشش کی۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">ہفتے کے روز بم کو ناکارہ بنانے والے دو پولیس اہل کار اس وقت ہلاک ہوگئے جب وہ ایک ایسے مشکوک بم کو ناکارہ بنانے کی کوشش کررہے تھے جسے موبائل فون سے اڑایا جاناتھا۔</p>
<p dir="rtl">حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے میں کم از کم آٹھ افراد زخمی بھی ہوئے جن میں چار عہدے دار شامل ہیں۔</p>
<p dir="rtl">&nbsp;یہ دھماکہ شورش زدہ جنوبی صوبے نارا تھیوات&nbsp; کی ایک کھلی مارکیٹ میں ہوا۔</p>
<p dir="rtl">پولیس کا کہنا ہے کہ ایک سبزی فروش نے حکام کو ایک مشتبہ موٹرسائیکل کی موجودگی سے آگاہ کیا تھا جسے دونوجوان قریب ہی چھوڑ کرچلے گئے تھے۔ پولیس نے زیادہ تر لوگوں کو وہاں سے ہٹا دیاتھا۔ لیکن موٹر سائیکل میں چھپایا گیا بم اس وقت پھٹ گیا جب پولیس نے اسے ناکارہ بنانے کی کوشش کی۔</p>
<p dir="rtl">عہدے داروں کا کہناہے کہ اسلامی شورش پسندوں نے تھائی لینڈ حکام کے خلاف اپنی کئی برسوں سے جاری مہم کے سلسلے میں سال نو پر تشدد کی دھمکی دی تھی۔</p>
<p dir="rtl">تھائی لینڈ کا مسلم اکثریتی جنوبی حصے میں &nbsp;2004ء کے شروع میں اس کے بعد سے تشدد کے واقعات رونما ہورہے ہیں جب مسلمان عسکریت پسندوں نے اسلحہ کے ایک ڈپو پر حملہ کرکے وہاں سے 300 رائفلیں لوٹ لیں تھیں۔&nbsp; اس کے بعد سے اب تک مسلمانوں اور بودھوں، دونوں فریقوں کے چارہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sat, 1 Jan 2011 21:24:06 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">112751879</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-01-01T21:24:06Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
										
										
																	
																																															</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>ایرانی وزیر خارجہ برطرف </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/Iran-Foreign-Minister-13dec10-111780994.html</link>
				<description>صدر نے منوچہر متقی کے نام اپنے خط میں ان کی خدمات کو سراہا ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">ایران کے صدرمحمود احمدی نژاد نےوزیرخارجہ منوچہرمتقی کوان کےعہدے سےبرطرف کردیاہےاورانکی جگہ جوہری پروگرام کے سربراہ علی اکبر صالحی کو&nbsp;وزارت کا نگران مقررکیاہے۔</p>
<p dir="rtl">فوری طورپراس بر طرفی کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔تاہم ایران کی سرکاری خبررساں&nbsp;ایجنسی ارناکے مطابق صدر نےمنوچہرمتقی کے نام اپنے خط میں ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا&nbsp;ہے کہ وہ ان کی کامیابی کے لیےدعا گوہیں۔&nbsp;</p>
<p dir="rtl">وزارت کی نگرانی سنبھالنے والےعلی اکبرصالحی ایران کے نائب صدراور اس کےجوہری&nbsp;توانائی کے ادارےکے سربراہ بھی ہیں۔&nbsp;خیال کیا جاتا ہے کہ وہ صدر احمدی نژاد کے کافی قریب ہیں اور ایران کے جوہری&nbsp; توانائی کے پروگرام کے حق کے بہت بڑے حامی ہیں۔</p>
<p dir="rtl">متقی کو عہدے سے ایسے وقت میں ہٹایا گیا ہے جب ایک ہفتہ قبل ہی ایران نے عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری پروگرام کے معاملے پر مزید بات چیت کرنے &nbsp;پر رضا مندی کا اظہار کیا ہے۔منوچہر متقی ان دنوں سنیگال کے دورے پر ہیں۔</p>
<p dir="rtl">امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے پیر کو اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں سمجھتیں کہ متقی کی برطرفی سے جوہری معاملے پر ہونے والے مذاکرات پر کوئی اثر پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ&nbsp; ایران کی جانب سے جو بھی شریک ہو یہ مذاکرات جاری رہنے چاہیں۔ انہوں نے ایران حکومت کے ساتھ تعلقات کو مشکل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کسی فرد سے متعلق&nbsp; نہیں۔ &nbsp;</p>
<p dir="rtl">ایرانی میں اصلاحات کی حامی ایک ویب سائٹ نے قیاس آرائی کی ہے کہ متقی کو اس لئے عہدے سے برطرف کیا گیا کیونکہ وہ جوہری معاملے پر معتدل رویہ رکھتے تھے۔ مگر ایرانی تاریخ کے ایک پروفیسر علی انصاری کا کہنا ہے کہ اس سے جوہری معاملے پر پالیسی میں کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اس سے صرف ایران کے حکومتی نظام کے اندر اس معاملے پر آرا ء میں اختلاف ظاہر ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ احمدی نژاد خارجہ پالیسی پر اپنا زیادہ کنٹرول چاہتے تھے اسی لئے وہ اپنا خصوصی نمائیندہ مقرر کرنا چاہتے تھے ۔</p>
<p dir="rtl">ایرانی امور کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سن 2005کے انتخابات کے بعد صدر احمدی نژاد نے ایران کے روحانی رہنما آیت اللہ خامنائی کے اصرار پر متقی کو وزیرخارجہ مقرر کیا تھا باوجود اسکے کہ انہوں نے ٕ مخالف رہنما علی لاریجانی کی حمایت کی تھی۔ متقی کو ابھی بھی پارلیمان کے سپیکر لاریجانی کا حمایتی تصور کیا جاتا ہے۔ &nbsp;&nbsp;</p>
<p dir="rtl">نگران وزیر خارجہ &nbsp;نے ایران میں انقلاب سے پہلے ستر کی دہائی میں امریکہ کے میسیچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی ۔</p>
<p dir="rtl">&nbsp;</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Mon, 13 Dec 2010 14:13:32 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">111780994</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ ]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-12-13T14:13:32Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/ap_bahrain_iran_mottiki_480_04Dec10.jpg" length="55938" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_bahrain_iran_mottiki_480_04Dec10.jpg" medium="image" isDefault="true" height="343" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_bahrain_iran_mottiki_230_04Dec10.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
																		
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>کین کون معاہدے  ایک متوازن اور اہم پیش رفت ہیں: ہلری کلنٹن </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/cancun-agreements-hillary-remarks-11december10-111732799.html</link>
				<description>آج یہ اعلان کرتے ہوئے مجھے خوشی محسوس ہورہی ہے کہ ہم نے کین کون معاہدے طے کیے  جو آب و ہوا کی تبدیلی کے اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن کے تحت متوازن بین الاقوامی فیصلوں  کا ایک مجموعہ ہیں۔ جو آب وہوا کی تبدیلی پر ہمارے عالمی ردعمل میں ایک بامعنی پیش رفت کی ترجمانی کرتا ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">گذشتہ سال امریکہ نے کوپن ہیگن میں آب وہوا کی تبدیلی پر منعقدہ کانفرنس میں ہونے والی پیش رفت کو آگے بڑھانے کے لیے اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ کام کیا۔ ہم نے کوپن ہیگن معاہدے کے تصور کوآگے بڑھانے کے لیے کئی اقدامات کیے ۔ اس ماہ ہم آب وہوا کی تبدیلی پر مشترکہ عالمی چیلنج سے نمٹنے کے لیے کوئی مشترکہ لائحہ عمل طے کے کے لیے کین کون مذاکرات کے ایک نئے مرحلے میں دنیا بھر کے ملکوں کے ساتھ شامل ہوئے۔</p>
<p dir="rtl">&nbsp;آج یہ اعلان کرتے ہوئے مجھے خوشی محسوس ہورہی ہے کہ ہم نے کین کون معاہدے طے کیے&nbsp; جو آب و ہوا کی تبدیلی کے اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن کے تحت متوازن بین الاقوامی فیصلوں &nbsp;کا ایک مجموعہ ہیں۔ جو آب وہوا کی تبدیلی پر ہمارے عالمی ردعمل میں ایک بامعنی پیش رفت کی ترجمانی کرتا ہے۔</p>
<p dir="rtl">یہ نتائج کوپن ہیگن معاہدے کے تمام اہم&nbsp; نکات کو آگے بڑھاتے ہیں۔ یہ گیسوں کے اخراج میں کمی کے وعدوں اورشفافیت کے ایک نظام کو بین الاقوامی مشاورت کی مناسب تفصیلات اور مندرجات اور ایسے تجزے کے ساتھ آگے بڑھاتے ہیں جو یہ اعتماد فراہم کریں گے کہ کسی بھی ملک کے وعدوں پر عمل درآمد ہورہاہے جو ایک نیا گرین کلائمیٹ فنڈ قائم کریں گے۔ ترقی پذیر ملکوں میں جنگلات کی کٹائی میں کمی کا لائحہ عمل تشکیل دیں گے ۔ ایک ٹکنالوجی میکنزم قائم کریں گے اور ایک ایسا لائحہ عمل اور کمیٹی تشکیل دیں گے جو آب وہوا سے تبدیلی سے نمٹنے کے اقدامات کے لیے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دے گی۔</p>
<p dir="rtl">کین کون معاہدے آگے کی جانب ایک متوازن اور اہم قدم ہیں۔</p>
<p dir="rtl">&nbsp;آنے والے دنوں اور مہینوں میں امریکہ اس اہم چیلنج پر دنیا کی توجہ مرکوز کرنے اوراس پیش رفت کو مسلسل آگے بڑھانے کے لیے اپنے دوستوں اورشراکت داروں کےساتھ مل کرکام کرے گا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sun, 12 Dec 2010 01:59:31 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">111732799</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-12-12T01:59:31Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Flakus_Climate_Change_Cancun_Main_230.jpg" length="48328" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Flakus_Climate_Change_Cancun_Main_230.jpg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Hillary_clinton_department_300x300_departmentstate.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
													
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>زہرہ سیارے کا جاپانی خلائی مشن ناکام</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/venus-japan-probe-mission-08december10-111518434.html</link>
				<description>کہ اکاتسوکی نامی جاپانی خلائی راکٹ کے انجن رفتار میں اس حد تک کمی کرنے میں ناکام رہے جو اسے سیارے کے مدار میں ڈالنے کے لیے درکار تھی۔ </description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">جاپان کے خلائی ادارے جاکسا نے کہاہے کہ زہرہ سیارے &nbsp;کی طرف جانے والا جاپانی راکٹ اس کے مدار میں داخل ہونے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔</p>
<p dir="rtl">جاکسا نے بدھ کے روز کہا کہ اکاتسوکی نامی جاپانی خلائی راکٹ کے انجن رفتار میں اس حد تک کمی کرنے میں ناکام رہے جو اسے سیارے کے مدار میں ڈالنے کے لیے درکار تھی۔</p>
<p dir="rtl">خلائی ادارے کا کہناہے کہ زمینی مرکز کا خلائی راکٹ سے رابطہ قائم ہے اور یہ امکان موجود ہے کہ جب وہ 2016ء میں ایک بار پھر زہرہ کے قریب سے گذرے گا تو اسے سیارے کے مدار میں لانے کی کوشش کامیاب ہوسکے گی۔</p>
<p dir="rtl">آسٹریلیا میں موجود خلائی امور کے ماہر مارس جونز نے وائس آف امریکہ سے کہا کہ خلائی راکٹ کی زہرہ کے مدار میں داخل ہونے میں ناکامی&nbsp; وقتی طورپر ایک بڑا نقصان ہے لیکن اگر جاپان کے خلائی پروگرام کے مستقبل کے حوالے سے دیکھا جائے تو یہ ایک معمولی سی ٹھوکر ہے۔</p>
<p dir="rtl">جاکسا نے 30 کروڑ مالیت کا یہ راکٹ مئی میں زہرہ کے سفر پر روانہ کیا تھا اور جاپانی سائنس دانوں کو توقع تھی کہ &nbsp;یہ مشن &nbsp;ماہرین کو یہ جاننے میں مدد فراہم کرے گا کہ زمین جیسی جسامت اور عمر رکھنے والا یہ سیارہ موسمی لحاظ سے زمین سے اتنا مختلف کیوں ہے۔ &nbsp;زمین سورج سے زہرہ کے مقابلے میں مزید چار کروڑ میل دور ہے۔</p>
<p dir="rtl">خلائی راکٹ اکاتسوکی پر ایسے آلات نصب ہیں جن کی مدد سے وہ سیارے کے گہرے بادلوں کے اندر سے زمین کی سطح کا جائزہ لے سکتا ہے ۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 8 Dec 2010 13:51:37 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">111518434</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-12-08T13:51:37Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/VENUS+PROBE+AKATSUKI.jpg" length="41048" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/VENUS+PROBE+AKATSUKI.jpg" medium="image" isDefault="true" height="231" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/venus-3001.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
													
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>انڈونیشیا میں شرعی قوانین  کی آڑ میں شہریوں کوہراساں کیا جارہاہے: ہیومن رائٹس واچ</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/aceh-indonesia-humanrightswach-islamiclaw-01december10-111114589.html</link>
				<description>تنظیم کا موقف ہے کہ صوبائی انتظامیہ ان  قوانین  کے ذریعے شہریوں کو ناجائز اور نامناسب طور پر ہراساں کررہی ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">انسانی حقوق کےلیے سرگرم ایک عالمی تنظیم نے&nbsp; انڈونیشیا کے صوبے آچے کی حکومت پر اسلامی قوانین کے ذریعے شہریوں کو ناجائز طریقے سے&nbsp; ہراساں کرنے&nbsp; کا الزام عائد کیا ہے۔</p>
<p dir="rtl">بدھ کے روز جاری ہونے والی اپنی ایک طویل رپورٹ میں "ہیومن رائٹس واچ" نے&nbsp; آچے کی حکومت سے صوبے میں نافذ دو شرعی قوانین کی تنسیخ کا مطالبہ کیا ۔ ان دونوں قوانین میں سے ایک کا تعلق غیر شادی شدہ&nbsp; مرد اور عورت کے درمیان &nbsp;&nbsp;تعلقات&nbsp; کی روک تھام ، جبکہ دوسرا&nbsp; قانون مسلم شہریوں پر عوامی مقامات&nbsp; پہ مناسب لباس پہننے کی پابندی سے متعلق ہے۔</p>
<p dir="rtl">تنظیم کا موقف ہے کہ صوبائی انتظامیہ ان&nbsp; قوانین&nbsp; کے ذریعے شہریوں کو ناجائز اور نامناسب طور پر ہراساں کررہی ہے۔</p>
<p dir="rtl">آچے مسلم اکثریتی ملک انڈونیشیا کا واحد صوبہ ہے&nbsp; جسے ملکی آئین کے تحت&nbsp; اپنی حدود میں شرعی قوانین&nbsp; کے نفاذ کا خصوصی اختیار حاصل ہے۔</p>
<p dir="rtl">رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آچے&nbsp; کے پولیس حکام&nbsp;&nbsp; مرد و خواتین کے مخلوط محافل پر قانون&nbsp; کا غلط اطلاق کرتے ہوئے اسے&nbsp; مرد&nbsp; اور عورت کےدرمیان &nbsp;کسی عوامی&nbsp; مقام&nbsp; پر ہونے والی بات چیت&nbsp; اور ساتھ اٹھنے بیٹھنے&nbsp; سے روکنے کےلیے استعمال کررہے ہیں۔</p>
<p dir="rtl">تنظیم کے مطابق اس قانون کے غلط اطلاق&nbsp; اور اس کے نتیجے میں &nbsp;بنیادی انسانی حقوق&nbsp; کی خلاف ورزی کی ان گنت &nbsp;شہادتیں موصول ہوئی ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ&nbsp; اس &nbsp;قانون کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کی جانے والی ایک خاتون کو شرعی پولیس کی تحویل میں جنسی زیادتی کا نشانہ بھی بنایا گیا۔</p>
<p dir="rtl">تنظیم نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ عوامی مقامات پر لباس کے متعلق&nbsp; قانون میں مردوں کے مقابلے میں خواتین پر زیادہ&nbsp; سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔</p>
<p dir="rtl">ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ&nbsp; تنظیم انڈونیشی صدر سوسیلو بمبانگ یودھویونو&nbsp; کے سامنے صوبے کے ان تمام مقامی قوانین کا جائزہ لینے&nbsp; کا مطالبہ پیش کرے &nbsp;گی جن کے بارے میں اتنظامیہ کا موقف ہے کہ ان سے اخلاقیات کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔</p>
<p dir="rtl">ہیومن رائٹس واچ کا صدر دفتر نیویارک میں ہے جب کہ 10 ممالک میں اس کی شاخیں کام کررہی ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 1 Dec 2010 15:01:24 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">111114589</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-12-01T15:01:24Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/voa_Indonesia-Map-300.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
													
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>برمی عوام کے نظریات میں تبدیلی ناگزیر ہے، آنگ سان سوچی</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/burma-kyi-address-students-01december10-111113444.html</link>
				<description>برما میں جمہوریت کے لئے جدوجہد کرنے والی راہنما آنگ سان سوچی  نے کہا ہے کہ برمی عوام کے نظریات میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ </description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">برما میں جمہوریت کے لئے جدوجہد کرنے والی راہنما آنگ سان سوچی &nbsp;نے کہا ہے کہ برمی عوام کے نظریات میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ اپنے ہم وطنوں سے ان کا کہناتھا کہ لوگ اپنے اندر بیداری پیدا کریں ۔</p>
<p dir="rtl">نوبیل انعام یافتہ راہنما نے بدھ کو دارالحکومت رنگون میں اپنے حمامیوں کے ایک گروپ سے خطاب کے دوران کہا کہ عوام آپس میں &nbsp;اتحاد اور بہادری کا مظاہرہ کریں ۔</p>
<p dir="rtl">برما میں یکم دسمبر کو90 واں قومی دن منایا جارہا ہے ۔ اس موقع &nbsp;رنگون یونیورسٹی کے طالب علموں کی جانب سے ایک مظاہرہ بھی کیا گیا ، جنہوں نے &nbsp;1920ء میں برما &nbsp;آزادی کی تحریک شروع ہوئی تھی، &nbsp;جسے آج 90 سال مکمل ہوگئے۔</p>
<p dir="rtl">دوسری جانب اپنے ایک انٹرویو میں آنگ سان سوچی &nbsp;کا کہنا تھا کہ عوامی رویوں میں تبدیلی قومی ہم آہنگی کی جانب پہلا قدم ہوگا۔ &nbsp;انہوں نے خود پر ہونےوالی اس تنقید کا دفاع کیا جس میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے حکمراں فوجی قیادت سے مذاکرات کی خواہش کااظہار کیا ہے۔ &nbsp;انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کام مشکل ہو تو اسے چھوڑا نہیں جاسکتا &nbsp;۔</p>
<p dir="rtl">آنگ ساں سوچی کو گزشتہ ماہ رہا کیا گیا تھا۔ &nbsp;ان کی رہائی سات نومبر کو 20س سال بعد ہونے والے پہلے قومی انتخابات کے بعد عمل میں آ ئی۔</p>
<p dir="rtl">انتخابات کے نتیجے میں فوجی حمایت کی ایک سیاسی جماعت کو دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل ہوئی جبکہ سوچی &nbsp;سیاسی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 1 Dec 2010 14:38:51 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">111113444</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-12-01T14:38:51Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/AP_+New_Myanmar_13Nov2010_480.jpg" length="251916" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP_+New_Myanmar_13Nov2010_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="320" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/afp_burma_Suu_Kyi_son_23nov10_eng_300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
														
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>معاشی  ترقی کے لیے روس کی کوششیں</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/russia-economy-usa-development-25november10-110613244.html</link>
				<description>روس غیر ملکی سرمایہ کاروں کو اپنے ملک میں سرمایہ کاری پر آمادہ کرنے کے لئے پر کشش ترغیبات کی پیشکش  کر رہا ہے ۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">عالمی معیشت&nbsp; کی خراب صورتحال کے باوجود جہاں بھارت ایک تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت بن کر ابھرا ہے وہاں چین کی معاشی برتری تیزی سے خطے کے ایک دوسرے بڑے ملک روس کو اپنی معاشی &nbsp;حالت کی بہتر ی کے لئے فوری اقدامات پر آمادہ کر رہی ہے ۔ روس غیر ملکی سرمایہ کاروں کو اپنے ملک میں سرمایہ کاری پر آمادہ کرنے کے لئے پر کشش ترغیبات کی پیشکش &nbsp;کر رہا ہے ۔حال ہی میں کی جانے والی ایک ایسی ہی ایک کوشش امریکی ریاست کیلی فورنیا کے گورنراور ہالی ووڈ کے سابق اداکار&nbsp; آرنلڈ شیوازنیگر کو روس آنے کی دعوت تھی۔ &nbsp;&nbsp;جبکہ روس کو اگلے سال تک ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں شامل کرانے کی کوششیں بھی جاری ہیں ۔</p>
<p dir="rtl">گزشتہ سال روس پرگزرنے والی معاشی ابتری کی لہر کے نشانات اب بھی ان&nbsp; خالی دفاتر میں دیکھے جا سکتے&nbsp; ہیں جو ماسکو کے&nbsp; آسمان سے باتیں کرتی عمارتوں میں بہتات سے موجود ہیں ۔ اس سال بھی روس کی معاشی بحالی کی رفتار چین ، بھارت اور برازیل سے نصف رہی &nbsp;۔ یہی بات روس میں ہونے والی ایک حالیہ کانفرنس میں شرکت کرنے والے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ذہن میں تھی ۔ ان میں روس کے لئے برطانیہ کے سابق سفیر ٹونی برینٹن بھی شامل تھے جو اب لاؤئیڈ انشورنس نام کی ایک کمپنی میں مشاورت کار ہیں ۔</p>
<p dir="rtl">ان کا کہنا ہے کہ ہر کسی &nbsp;کو احساس ہے کہ روس ایک بڑے معاشی بحران سے گزرا ہے ۔ اس کی معیشت تقریبا نو فیصد تک گراوٹ کا شکار ہوئی اور روسی انتظامیہ تسلیم کرتی ہے کہ انہوں نے بہت سے اہم سبق سیکھے ۔</p>
<p dir="rtl">اب بھی کئی غیر ملکی سرمایہ کار روس کو سرمایہ کاری کے لئے خطرناک سمجھتے ہیں، &nbsp;&nbsp;لیکن روس کو امید ہے کہ تقریبا دو دہائیوں کی تاخیر کے بعد ایک بار اس نے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں شمولیت اختیار کر لی تو سرمایہ کاروں کے خدشات دور ہو جائیں گے ۔</p>
<p dir="rtl">اینڈریو سومرز روس میں قائم امریکن چیمبر آف کامرس کے سربراہ ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ جب روس ڈبلیو ٹی او میں شامل ہو جائے گا ، جو کہ شاید اگلے موسم بہار تک ہو سکے گا،تو اسے ایک طرح سے اعتماد کا سرٹیفکیٹ مل جائے گا کہ لوگ یہاں آکر&nbsp; سرمایہ کاری کر سکتے ہیں ۔ یہ ایک طرح سے دو مختلف قسم کے سرمایہ کار ہونگے، &nbsp;ایک &nbsp;وہ جو یہاں&nbsp; رہ کر &nbsp;سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھا چکے ہیں اور دوسرے وہ جنہیں ابھی ایک فائدہ مند روس کو دریافت کرنا ہے ۔</p>
<p dir="rtl">حال ہی میں کیلی فورنیا کے گورنر آرنلڈ شیوازنیگر اور ان کی ٹیم میں شامل &nbsp;امریکی سرمایہ کو روس میں سرمایہ کاری کے مواقعوں کا قریب سے جائزہ لینے کا&nbsp; موقعہ ملا ۔ ان کا یہ دورہ &nbsp;روسی صدردمتری میڈویدیف کے اس سال کے شروع میں سیلیکون ویلی کے دورے میں ملنے والی دعوت کا جواب تھا۔ کیلی فورنیا کے گورنر &nbsp;نے اس موقع پر روس کو معاشی مواقعوں کے حوالے سے سونے کی کان قرار دیا تھا ۔</p>
<p dir="rtl">ان کا کہنا تھا کہ روس میں بہت سے معاشی مواقع موجود ہیں ۔ آپ انہیں دیکھیں تو حیران ہی ہو جائیں&nbsp; کہ یہ تو سونے کی کان جیسا ہے ۔ آپ کو صرف وہاں جانا ہے اور ان کا فائدہ اٹھانا ہے ۔</p>
<p dir="rtl">روس میں سرمایہ کاری کے لئے بڑا خطرہ بد عنوانی کو قرار دیا جاتا ہے ۔ الیگزینڈر لیبیڈیف جو ایرو فلوٹ نامی کمپنی کے ایک بڑے شیئر ہولڈر ہیں ، کہتے ہیں کہ حال ہی میں ان کے کاروباری حریفوں نے ان کے بینک پر چھاپےکے لئے پولیس کو رشوت دی تھی۔</p>
<p dir="rtl">ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل نام کی ایک عالمی تنظیم روس کو دنیا میں بد عنوانی کے لحاظ سے 154ویں نمبر پر قرار دیتی &nbsp;ہے ، یعنی&nbsp; یورپی ملکوں میں بد عنوان ترین ملک ۔</p>
<p dir="rtl">ان رکاوٹوٕ ں کے باوجود بعض غیر ملکی کمپنیاں یہاں بہت منافع &nbsp;بھی کماتی &nbsp;ہیں ۔ آئندہ تین برسوں کے دوران روس یورپ میں کاروں کی سب سے مارکیٹ بن جائے گا&nbsp; ۔ جنوبی کوریا کی کاریں بنانے والی کمپنی ہونڈائی نے حال ہی میں وہاں کار یں بنانے کا ایک پلانٹ لگایا ہے ۔ جبکہ فرانسیسی کار کمپنی رینالٹ روس کی ایک سرکاری کار کمپنی میں اپنی سرمایہ کاری کو دوگنا کر رہی ہے ۔</p>
<p>اگر امریکی سرمایہ کار روس کا رخ کرتے ہیں تو انہیں ثقافتی اعتبار سے کوئی زیادہ پریشانی نہیں ہوگی &nbsp;کیونکہ امریکی کافی اور&nbsp; امریکی برگر تر وہاں پہلے &nbsp;ہی سے دستیاب تھے مگر اب انہیں وہاں آرام کرنے کے لیے امریکی ہوٹل بھی مل سکیں گے&nbsp; ۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 25 Nov 2010 13:48:09 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">110613244</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[جیمز بروک /تابندہ نعیم]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-11-25T13:48:09Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Russia-Business-480.jpg" length="50532" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Russia-Business-480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/APgas230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>جنوبی کوریا کے وزیر دفاع مستعفی ، کشیدگی میں اضافہ</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/North-Korea-Tension-25nov10-110610524.html</link>
				<description>جنوبی کوریا نے یون پیونگ اور اس سے متصل چار دیگر جزیروں میں اپنے فوجیوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافے کا اعلان بھی کیا ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">جنوبی کوریا کے وزیر دفاع کم تائی&nbsp;ینگ&nbsp;اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں کیوں کہ شمالی کوریا کی طرف سے منگل کو کیے جانے والے مہلک حملے کے بعد سیول کی جوابی حکمت عملی پر ملک میں تنقید کی جا رہی تھی۔</p>
<p style="text-align: right;">حکومت نے اس فیصلے کا اعلان جمعرات دیر گئے ایسے وقت کیا جب خطے میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے کیوں کہ جنوبی کوریا نے یون پیونگ اور اس سے متصل چار دیگر جزیروں میں اپنے فوجیوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیول مستقبل میں ایسے حملوں کا جواب زیادہ جارحانہ انداز میں دینے کے لیے اپنے جنگی&nbsp;حکمت عملی&nbsp;میں نظر ثانی کرے گا۔&nbsp;یون پیونگ میں منگل کو جنوبی کوریا کے دو فوجیوں سمیت چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔</p>
<p style="text-align: right;">اُدھر&nbsp;شمالی کوریا نے متنبہ کیا ہے کہ اگر جنوبی کوریا نے اِس کے بقول &rdquo;بے دھڑک عسکری اشتعال انگیزی&ldquo; جاری رکھی تو وہ توپ خانے کی مدد سے مزید ایسی کارروائیاں کرسکتا ہے جیسی اُس نے رواں ہفتے جنوبی کوریا کے آبادی والے ایک ساحلی علاقے پر کی تھی۔</p>
<p style="text-align: right;">ایک بیان میں کہا گیا کہ شمالی کوریا سیول کے اشتعال انگیز اقدامات کی صورت میں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے دوسری حتیٰ کہ تیسری بار بھی ایسے حملے کرسکتا ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">شمالی کوریا کا یہ بیان خبر رساں ادارے KCNA نے ایسے وقت شائع کیا ہے جب امریکہ اور جنوبی کوریا اتوار سے شروع ہونے والی مشترکہ بحری فوجی مشقوں کی تیاریاں کر رہے ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">جمعرات کو چین نے ان فوجی مشقوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے جن کے دوران امریکہ کا ایک بڑا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن چین اور کوریا کے درمیان حساس علاقے میں آئے گا۔ چین کے وزیر خارجہ نے جنوبی کوریا کے اپنے ہم منصب کے ساتھ اس تناؤ کے بعد ملاقات بھی ملتوی کر دی ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 25 Nov 2010 13:31:18 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">110610524</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-11-25T13:31:18Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/AP101123115277.jpg" length="23879" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP101123115277.jpg" medium="image" isDefault="true" height="299" width="512" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_korea_Kim_Tae_young_25nov10_eng_300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>یمن، خود کش دھماکا 17 ہلاک</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/Yemen-Blast-24nov10-110359824.html</link>
				<description> خود کش حملہ آور نے شیعہ باغیوں کے جلوس کے قریب دھماکا کیا۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">شمالی یمن میں ایک خود کش کار بم دھماکے میں 17 شیعہ ہوتھی باغی ہلاک جب کہ 15 مزید زخمی ہو گئے ہیں ۔ باغیوں کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ حملے کی زد میں آنے والے افراد ایک مذہبی تہوار میں شرکت کے لیے سفر پر تھے جب جاف صوبے میں یہ دھماکا ہوا ۔</p>
<p style="text-align: right;">اطلاعات کے مطابق خود کش حملہ آور نے جلوس کے قریب آ کر اپنی گاڑی کو دھماکے سے اڑایا ۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت پر ہوا ہے جب ایک روز پہلے پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے نے متنبہ کیا تھا کہ شمالی یمن میں حکومت کے حامی قبائلیوں اور شیعہ باغیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے ۔</p>
<p style="text-align: right;">ادارے کے مطابق گذشتہ دس روز کے دوران اس علاقے میں 20افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ یمن کے سرحدی علاقے میں ہوتھی باغیوں اور حکومت کے نمائندوں کے درمیان فروری میں جنگ بندی کے معاہدے کے بعد سے اس وقت علاقے کو بد ترین تشدد کا سامنا ہے ۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 24 Nov 2010 12:19:02 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">110359824</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-11-24T12:19:02Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Yemen_view_city_480x300_photos.jpg" length="155007" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Yemen_view_city_480x300_photos.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Yemen_view_city_300x300_photos.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>آئی سی آر سی کو سری لنکا کے دو علاقوں میں دفاتر بند کرنے کی ہدایت</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/asia/Srilanka-ICRC-21nov10-109645214.html</link>
				<description>سری لنکا کی حکومت چاہتی ہے کہ تنظیم صرف دارالحکومت کولمبو سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے۔ </description>
													<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">سری لنکا نے انسانیت کی بنیاد پر کام کرنے والی ایک اہم بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم کو ملک کے سابق شورش زدہ شمالی صوبے میں اپنے دفاتر بند کرنے کی ہدایت کی ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کا کہنا ہے کہ سری لنکا کی حکومت چاہتی ہے کہ تنظیم Jaffina اور Vavuniya میں دفاتر بند کرکے صرف دارالحکومت کولمبو سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے۔ تنظیم کے مطابق اسے اِس اقدام کی وجوہات نہیں بتائی گئی ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">فرانسیسی خبررساں ادارے نے اطلاع دی ہے کہ Jaffina میں آئی سی آر سی کا دفتر جنگ کی وجہ سے معذور ہونے والے افراد میں مصنوعی اعضا کی تقسیم میں شریک ہے جب کہ Vavuniya میں قائم دفتر زیر حراست افراد اور اُن کے عزیز و اقارب کے درمیان ملاقاتوں میں مدد فراہم کرتا ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">سری لنکا کی سکیورٹی فورسز نے گذشتہ برس مئی کے مہینے میں تامل ٹائیگرز کو شکست دے کر آزاد تامل ریاست کے قیام کے لیے 25 سال سے جاری تحریک کو ختم کر دیا تھا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sun, 21 Nov 2010 11:53:11 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">109645214</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-11-21T11:53:11Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[ایشیا]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/RedCross480.jpg" length="33178" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/RedCross480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/RED_CROSS_300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>چین: کوئلے کی کان میں پانی بھرنے سے 28 افراد پھنس گئے</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/China-Coal-Mine-21nov10-109648499.html</link>
				<description>امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں لیکن تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ کان کن کان کے کس حصہ میں پھنسے ہوئے ہیں۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">چین کے سرکاری خبررساں ادارے نے اطلاع دی ہے کہ جنوب مغربی سیچوان صوبے میں ایک کوئلے کی کان میں پانی بھر جانے کی وجہ سے 28 کان کن اس میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">صوبائی حکام نے بتایا ہے کہ یہ حادثہ اتوار کی دوپہر نے جیانگ شہر میں واقع کان میں پیش آیا۔</p>
<p style="text-align: right;">سرکاری خبررساں ادارے کے مطابق کان میں کُل 41 افراد موجود تھے لیکن ان میں سے 13 باحفاظت باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔</p>
<p style="text-align: right;">حکام کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں لیکن تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ کان کن کان کے کس حصہ میں پھنسے ہوئے ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">چین میں کان کنی کے شعبے میں تواتر کے ساتھ حادثات پیش آتے رہتے ہیں اور صرف 2009ء میں ان واقعات میں 2,600 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sun, 21 Nov 2010 12:20:16 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">109648499</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-11-21T12:20:16Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/china-mine1.jpg" length="18064" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/china-mine1.jpg" medium="image" isDefault="true" height="352" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/web-china-mine-230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
														
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>چین: قیمتوں میں اضافے کا غصہ امریکہ پر</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/china-inflation-america-cotton-rains-18november10-108938744.html</link>
				<description>چینی حکومت قیمتوں میں اضافے کے سلسلے میں بدستور تشویش میں ہے ، جو ایک ایسے ملک کے لیے جہاں خاندان کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ کھانے پینے پر اٹھتا ہو، سیاسی طور پر ایک حساس معاملہ ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">کچھ برہم چینی صارفین&nbsp; یہ الزام لگاتے ہیں کہ ا مریکہ کی مالیاتی پالیسیاں چین میں افراط زر کا باعث بن رہی ہیں۔ یہ اعتراضات چینی حکومت کی جانب سے خورک کی قیمتوں پر کنٹرول اور ایندھن پر مالی اعانت شروع کرنے کے بعد سامنے آرہے ہیں۔</p>
<p dir="rtl">بیجنگ کی سپرمارکیٹوں میں خریداری کے لیے آنے والے لوگ تاجروں کو فہرست میں درج اپنی اشیاء کی قیمتوں میں تبدیلی کرتے ہوئے دیکھ کر انکار میں سر ہلاتے ہیں۔</p>
<p dir="rtl">پورے چین میں افراط زر کے باعث &nbsp;لہسن ،برتنوں، برگر &nbsp;اور ایندھن سمیت سینکڑوں اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہورہاہے۔</p>
<p dir="rtl">پچھلے مہینے صارفین کی قیمتوں کے عشاریے میں 4.4 فی صد اضافہ ہوا جسے مسز یو جیسے صارفین نےشدت سے محسوس کیا۔</p>
<p dir="rtl">ان کا کہنا ہے کہ انہیں اپنا شاپنگ بیگ بھرنے کے لیے اب ہر آنے والے دن پہلے سے زیادہ پیسے خرچ کرنے پڑتے ہیں جس سے ان کا معیار زندگی متاثر ہورہاہے۔</p>
<p dir="rtl">چینی حکومت کی جانب سے کی جانے والی نکتہ چینی میں اپنی آواز شامل کرتے ہوئے مسز یو&nbsp; مہنگائی کا الزام امریکہ کی مالیاتی پالیسیوں پر لگاتی ہیں۔</p>
<p dir="rtl">بیجنگ کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت &nbsp;کی جانب سے چھ کھرب ڈالر امریکی معیشت میں ڈالنے کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ چین جیسی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں پیسے کا سیلاب آئے گا ۔</p>
<p dir="rtl">انشورنس کمپنی اے آئی جی سے منسلک ماہر معاشیات ٹم کانڈن کا کہنا ہے کہ اس افراط زر کے لیے امریکہ پر مسز یو اور ان کی حکومت کی الزام&nbsp; تراشی صرف نصف حد تک درست ہے۔</p>
<p dir="rtl">وہ کہتے ہیں کہ خوراک کی قیمتوں میں اضافے کے رجحان کا&nbsp; تعلق ان کی مارکیٹ میں فراہمی کے عمل سے ہے اور ان کی قیمتیں جلد ہی مستحکم ہوجائیں گی۔</p>
<p dir="rtl">ان کا کہنا ہے کہ بارشوں کی کمی یا زیادتی یاموسمی حالات کے باعث ان اشیاء کی فراہمی میں ہمیشہ مسائل دیکھنے میں آتے ہیں۔ تاہم یہ صورت حال عارضی ہوتی ہے اور مارکیٹ میں ان کی فراہمی بہتر ہونے کے بعد قیمتیں نیچے آجاتی ہیں۔ میرا نہیں خیال کہ چینی صارفین کو مستقلاً برگر ایک یوان مہنگا ملتا رہے گا۔ میراخیال ہے کہ ان کی قیمتیں دوبارہ معمول پر آجائیں گی۔</p>
<p dir="rtl">چین میں اس سال موسم گرما میں کئی سیلاب آئے تھے اور موسم سرما کے جلد آغاز کی وجہ سے بھی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔</p>
<p dir="rtl">لیکن چینی حکومت قیمتوں میں اضافے کے سلسلے میں بدستور تشویش میں ہے ، جو ایک ایسے ملک کے لیے جہاں خاندان کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ کھانے پینے پر اٹھتا ہو، سیاسی طور پر ایک حساس معاملہ ہے۔</p>
<p dir="rtl">اخراجات پر کنٹرول کے لیے چینی کابینہ نے بدھ کے روز یہ اعلان کیا کہ وہ کم آمدنی والے افراد کو مالی اعانت&nbsp; دینے اور ایندھن کی فراہمی بڑھانے کے ساتھ ساتھ خوراک کی اہم اشیاء کی قیمتوں پر کنٹرول نافذ کررہی ہے۔</p>
<p dir="rtl">حکومت کو توقع ہے کہ اس مداخلت سے چیزوں کی قیمتوں کو تیزی سے بڑھنے سے روکا جاسکے گا۔</p>
<p dir="rtl">حکومت اجناس، تیل، چینی اور کپاس کی مارکیٹ میں استحکام لانا چاہتی ہے۔</p>
<p dir="rtl">عہدے داروں کا کہنا ہے کہ وہ قیمتوں کو بڑھنے سے روکنے کے لیے مزید اقدامات کرے گی اور قیمتوں میں اضافے کی غرض سے چیزوں کا غیر قانونی ذخیرہ کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹنے گی۔</p>
<p dir="rtl">لیکن کئی اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت کو ایک مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔ اگروہ افراط زر کے خلاف جارجارنہ اقدامات کرتی ہے تو اس سے دیہی آبادی کی آمدنیوں میں اضافے کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور معیشت کا رخ برآمدت پر زیادہ انحصار کی بجائے مقامی کھپت کی جانب مڑ سکتا ہے۔</p>
<p dir="rtl">خوراک کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے &nbsp;سے بہت سے چینیوں میں 1989ء میں تیانن من اسکوئر میں &nbsp;ہونے والے جمہوریت نواز طرز کے مظاہروں میں حصہ لینے کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے جسے کچلنے کے لیے حکومت نے ٹینک اور فوجی بھیجے تھے اور وہ ایک خونی انجام پر منتج ہوا تھا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 18 Nov 2010 14:25:04 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">108938744</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[پیٹر سمپسن/جمیل اختر]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-11-18T14:25:04Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/ap_china_food_inflation_18nov10_eng_480.jpg" length="55807" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_china_food_inflation_18nov10_eng_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="320" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/teaser75.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
														
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>ایران کے  جوہری پروگرام پر دسمبر میں مذاکرات متوقع</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/irn-eu-usa-talks-atomicprogram-turkey-12november10-107489778.html</link>
				<description>منگل کے روز ایرانی عہدے داروں نے آسٹن کویہ تجویز پیش کی تھی کہ وہ 23 نومبر یا5 دسمبر کو ترکی میں مذاکرات منعقد کرائیں۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ توقع ہے &nbsp;یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کرسٹین آسٹن ایران کی جانب سے اس&nbsp; کے جوہری پروگرام پر پانچ دسمبر کو مذاکرات کی تجویز قبول کرلیں گی، لیکن تہران کی یہ تجویز مسترد کردیں گی کہ یہ مذاکرات ترکی میں کیے جائیں۔</p>
<p dir="rtl">خبررساں اداروں نے ایک نامعلوم سفارت کار کا&nbsp; حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ممکن ہے کہ آسٹن جمعے کے روز ایران کو باضابطہ طورپر جواب دیں اور غالب امکان یہ ہے کہ وہ یہ مذاکرات سوئزرلینڈ میں منعقد کرنے کی تجویز پیش کریں۔</p>
<p dir="rtl">&nbsp;سفارت کار کا کہنا ہے کہ آسٹن اپنا جواب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی &nbsp;کے ساتھ، جسے پی فائیو پلس ون گروپ کے نام سے جانا جاتاہے، صلاح مشورے کے بعد دیں۔</p>
<p dir="rtl">اگر یہ اجلاس ہوتا ہے تو یہ ایک سال سے زیادہ عرصے کےبعد، جب ایران &nbsp;نےاپنے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں شرکت کی&nbsp; تھی، ایسا پہلا اجلاس ہوگا۔</p>
<p dir="rtl">منگل کے روز ایرانی عہدے داروں نے آسٹن کویہ تجویز پیش کی تھی کہ وہ 23 نومبر یا5 دسمبر کو ترکی میں مذاکرات منعقد کرائیں۔</p>
<p dir="rtl">تاہم ایرانی عہدے داروں نے اس ہفتے کے آخر میں یہ زور دیا تھاکہ ایندھن کے&nbsp; مجوزہ تبادلے اور یورینیم کی افزودگی جیسے معاملات ایجنڈے پر نہ رکھے جائیں۔</p>
<p dir="rtl">اس سے قبل آسٹن نے 15 نومبر کو ویانا میں مذاکرات کی تجویز دی تھی لیکن ایرانی عہدے دار وں نے اس پر کبھی باضابطہ رضامندی ظاہر نہیں کی۔</p>
<p>امریکہ اورکئی دوسرے مغربی ممالک کاخیال ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری&nbsp; کے لیے استعمال کررہاہے۔ جب کہ تہران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔<br /> <br /></p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 12 Nov 2010 15:37:03 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">107489778</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[Jamil Ahmed]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-11-12T15:37:03Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/AP0909030150312.jpg" length="43102" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP0909030150312.jpg" medium="image" isDefault="true" height="328" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/APmahmoud+ahmadinejad.300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
													
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>شمالی کوریا اپنا جارحانہ رویہ ترک کرے: صدر اوباما</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/korea-obama-confrence-g20-11november10-107248573.html</link>
				<description>مسٹر اوباما نے کہا کہ شمالی کوریا نے جوہری طورپر غیر مسلح ہونے میں  اپنی غیررضامندی دکھائی ہے اور خود کو اشتعال انگیز کارروائیوں میں مصروف رکھا ہے ، یہ چیزیں اسے بین الاقوامی برداری میں تنہائی کی طرف لے جارہی ہیں۔ </description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">امریکی صدر براک اوباما نے جمعرات کے روز شمالی کوریا کو انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ اسے لازمی طورپر جنوبی کوریا کے خلاف جارحانہ رویہ ختم کرنا چاہیے اوربین الاقوامی امداد کی توقع رکھنے سے قبل اسے اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو روکنا ہوگا۔</p>
<p dir="rtl">مسٹر اوباما نے کہا کہ شمالی کوریا نے جوہری طورپر غیر مسلح ہونے میں&nbsp; اپنی غیررضامندی دکھائی ہے اور خود کو اشتعال انگیز کارروائیوں میں مصروف رکھا ہے ، یہ چیزیں اسے بین الاقوامی برداری میں تنہائی کی طرف لے جارہی ہیں۔</p>
<p dir="rtl">انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا کے جوہری ترقی کے پروگرام پر چھ ملکی مذاکرات شروع کرنے کا مناسب وقت ہے مگر ابھی تک اس کمیونسٹ ملک نے جوہری طور پر مستقلاً غیر مسلح ہونے &nbsp;کی سمت آگے بڑھنے کے لیے کسی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔</p>
<p dir="rtl">امریکی صدر نے یہ تبصرے میں سیؤل میں عالمی&nbsp; معاشی قوتوں کے راہنماؤں کی &nbsp;جی -20 کانفرنس سے قبل ایک پریس کانفرنس میں کیے۔ &nbsp;انہوں نے کہا کہ اگر تنہائی کا شکار شمالی کوریا جوہری طورپر غیر مسلح ہونے کے لیے تیار ہو تو امریکہ، جنوبی کوریا اور دوسرے ممالک، شمالی کوریا میں بڑے پیمانے پر موجود غربت سے نمٹنے کے لیے اسے دیر پا معاونت فراہم کرسکتے ہیں۔</p>
<p dir="rtl">شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر چھ فریقی&nbsp; مذاکرات فی الحال تعطل کاشکار ہیں ، ان کے دوبارہ شروع ہونے کی راہ میں &nbsp;سب سے بڑی رکاوٹ اس سال مارچ میں جنوبی کوریا کا ایک جنگی بحری جہاز &nbsp;کا ڈبونا تھا جس میں 46 فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ ایک بین الاقوامی تفتیش سے ظاہر ہواتھا کہ اس بحری جہاز کو شمالی کوریا نے تارپیڈو کے ذریعے ڈبویا تھا، تاہم شمالی کوریا میں اس واقعہ میں کسی بھی طرح ملوث ہونے سے انکار کرتا ہے۔</p>
<p dir="rtl">پیانگ یانگ حکومت نے اپریل 2009ء میں مذاکرات کو چھوڑ دیاتھا اور اس کے ایک مہینے کے بعد اپنا دوسرا جوہری تجربہ کیاتھا۔ شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ وہ جنوبی کوریا، امریکہ، چین، جاپان اور روس کے ساتھ دوبارہ مذاکرات میں شریک ہونے کے لیے تیار ہے۔</p>
<p dir="rtl">مگر صدر اوباما نے جمعرات کے روز کہا کہ امریکہ شمالی کوریا کی جانب سے اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو ختم کرنے کے کسی فیصلہ کن عمل کے بغیر مذاکرات میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 11 Nov 2010 16:12:18 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">107248573</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-11-11T16:12:18Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/ap_korea_US_Lee_Myung_bak_obama_11nov10_eng_480.jpg" length="31499" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_korea_US_Lee_Myung_bak_obama_11nov10_eng_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="350" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/obama-s.-korea.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
															
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>پاک بھارت کشیدگی کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں:  اوباما</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/obama-india-pressconfrence-8november10-106892388.html</link>
				<description>صدر اوباما نے امید ظاہر کی کہ بھارت اور پاکستان کشمیر میں جاری کشیدگی میں کمی لانے کیلئے راہیں تلاش کر یں گے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">امریکی صدر براک اوباما نے بھارت کو پاکستان کے ساتھ کشیدگی کم کرنے میں مدد فراہم کرنے کی پیشکش کو دہرایا ہے تاہم اْن کا کہنا ہے کہ امریکہ دونوں ملکوں کے درمیان موجود کشمیر سمیت دیگر تنازعات کا کوئی حل مسلط نہیں کر سکتا۔</p>
<p dir="rtl">پیر کو نئی دہلی میں بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ سےباضابطہ ملاقات کے بعد ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب میں صدر اوباما نے امید ظاہر کی کہ بھارت اور پاکستان کشمیر میں جاری کشیدگی میں کمی لانے کیلئے راہیں تلاش کر یں گے۔</p>
<p dir="rtl">پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں بھارتی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ وہ مذاکرات کا خیر مقدم کریں گے تاہم ان کے مطابق اسلام آباد سے بات چیت کا عمل پاکستان میں سرگرم دہشت گرد عناصر کی موجودگی میں نہیں ہو سکتا۔</p>
<p dir="rtl">بھارت 2008ء میں ممبئی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں ملوث انتہاپسندوں کی پشت پناہی کا الزام پاکستان پہ عائد کرتا آیا ہے۔ اِن حملوں میں 160 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔</p>
<p dir="rtl">پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک بھارتی نیوز چینل کو دئیے گئے اپنے حالیہ انٹرویو میں پاکستان میں شدت پسند عناصر کے خاتمے کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا ملک بھارت سے مذاکرات کا خواہاں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کا ملک دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور "ہم نے نہ تو پاکستان کی سرزمین کو بھارت سمیت کسی ملک کے خلاف استعمال ہونے دیا ہے اور نہ ہونے دیں گے"۔</p>
<p dir="rtl">نیوز کانفرنس میں اوباما کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارت ایک عالمی قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے اور امریکہ اور بھارت کے دوطرفہ تعلقات کی نوعیت موجودہ صدی کی سمت کی تعین کرئے گی۔</p>
<p dir="rtl">انہوں نے کہا کہ امریکہ اور بھارت اس بات پر متفق ہیں کہ تمام ممالک کو مل کر یہ امریقینی بنانا ہو گا کہ دہشت گرد دنیا کے کسی بھی حصے میں پناہ حاصل نہ کر سکیں۔</p>
<p dir="rtl">دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ امریکہ اور بھارت ایشیا اور باقی دنیا میں امن و استحکام کیلئے مل جل کر کردار ادا کرتے رہیں گے۔</p>
<p dir="rtl">ایک سوال کے جواب میں بھارتی وزیرِ اعظم نے کہا کہ دونوں ممالک نے دوطرفہ"اسٹرٹیجک ڈائیلاگ" کے سلسلے کو مزید وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا ہے تاکہ اس میں دنیا کے دیگر حصوں خصوصاً افریقہ اور افغانستان کے معاملات بھی زیرِ بحث لائے جاسکیں۔</p>
<p dir="rtl">پریس کانفرنس کے دوران صدر اوباما اور وزیر اعظم من موہن سنگھ نے دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے کئی نئے معاہدوں کا خاکہ بھی پیش کیا جن کا مقصد دہشت گردی کا انسداد، خفیہ معلومات کا تبادلہ اور جوہری ہتھیاروں کا عدم پھیلاوٴ ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ اور موسمیاتی تبدیلی کے سدباب کی غرض سے تعاون کیلئے بھی معاہدے کیے گئے ہیں۔</p>
<p dir="rtl">دونوں رہنماوٴں کا کہنا تھا کہ انہوں نے توانائی کے صاف ذرائع کے فروغ اور اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر بھی گفتگو کی۔</p>
<p dir="rtl">صدر اوباما کا بھارت کا چار روزہ دورہ منگل کو اختتام پذیر ہو رہا ہے جس کے بعد وہ اپنے ایشیائی ممالک کے دس روزہ دورے کی اگلی منزل انڈونیشیا پہنچیں گے۔</p>
<p dir="rtl">صدراوباما اپنے دورے کے دوران جنوبی کوریا بھی جائیں گے جہاں وہ دنیا کے 20 بڑے صنعتی ممالک کی نمائندہ تنظیم جی 20 کے سربراہ اجلاس میں شریک ہوں گے۔ صدر اوباما کے دورہ ایشیا کی آخری منزل جاپان ہوگی۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Mon, 8 Nov 2010 16:38:00 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">106892388</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-11-08T16:38:00Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/ap_obama_india_speaker_8nov10.jpg" length="34845" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_obama_india_speaker_8nov10.jpg" medium="image" isDefault="true" height="387" width="512" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/uzbek_india_us_obama.jpg" medium="image" isDefault="false" height="265" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>برما میں 20 سال بعد عام انتخابات</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/Burma-Election-07nov10-106844083.html</link>
				<description> امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے آسٹریلیا کے شہر ملبرن میں کہا کہ غیر شفاف انتخابی عمل فوجی حکومت کی زیادتیوں کو افشا کرتا ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">برما میں اتوار کو بیس برس کے دوران پہلی مرتبہ عام انتخابات کا انعقاد ہو رہا ہے لیکن ناقدین کی رائے میں یہ ملک کے فوجی حکمرانوں کو اقتدار میں رکھنے کی کوشش ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">حزب اختلاف کی مرکزی جماعت &rsquo;نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی&lsquo; نے یہ موقف اختیار کرتے ہوئے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا ہے کہ اِن سے متعلق قوانین غیر منصفانہ ہیں، لیکن دیگر کئی چھوٹی جماعتیں نظام میں تبدیلی کی اُمید کے ساتھ اِن میں حصہ لے رہی ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">عین اُس وقت جب برما میں ووٹنگ کا آغاز ہوا، امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے آسٹریلیا کے شہر ملبرن میں یونیورسٹی کے طالب علموں سے خطاب میں کہا کہ غیر شفاف انتخابی عمل فوجی حکومت کی زیادتیوں کو افشا کرتا ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">برما کے قومی آئین کے تحت پارلیمان کی ایک چوتھائی نشستیں ملک کے فوجی رہنماؤں کے لیے مخصوص ہیں جب کہ انتخابات میں حصہ لینے والے بیشتر امیدواروں کا تعلق فوج کی حمایت یافتہ جماعت &rsquo;یونین سولیڈیریٹی اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی&lsquo; سے ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">اتوار کو ووٹنگ کا آغاز مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بجے ہوا اور یہ سلسلہ دس گھنٹے تک جاری رہے گا۔ ملک میں اہل رائے دہندگان کی تعداد تقریباً دو کروڑ نوے لاکھ ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">حکام نے انتخابی عمل کا جائزہ لینے کی غرض سے برما میں داخل ہونے کی خواہش رکھنے والے بین الاقوامی معاینہ کاروں اور صحافیوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ملک میں پہلے ہی معقول تعداد میں سفارت کار اور میڈیا کے نمائندے موجود ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sun, 7 Nov 2010 09:11:48 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">106844083</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-11-07T09:11:48Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Burma_Elections_31_Oct_2010_AP.jpg" length="104359" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Burma_Elections_31_Oct_2010_AP.jpg" medium="image" isDefault="true" height="348" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_burma_karen_voter_300_eng_06nov10.jpg" medium="image" isDefault="false" height="298" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>چین : دو مختلف حادثات میں 14 ہلاک</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/China-Accidents-03oct10-104234029.html</link>
				<description>فیکٹری کی دیوار گرنے سے چھ افراد ہلاک ہوئے جب کہ ایک زیر تعمیر عمارت منہدم ہونے کے نتیجے میں آٹھ مزدور مارے گئے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">&lt;!--IMAGE--&gt;</p>
<p style="text-align: right;">چین میں زیر تعمیر عمارت اور ایک فیکٹری کی دیوار منہدم ہونے کے واقعات میں کم از کم چودہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق مشرقی صوبے شان دونگ میں اتوار کو ایک فیکٹری کی زیر تعمیر دیوار گرنے سے چھ افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے۔</p>
<p style="text-align: right;">ایک روز قبل شمال مغربی شان زی صوبے کے دارالحکومت ژی آن میں ایک چار منزلہ زیر تعمیر رہائشی عمارت منہدم ہو نے سے آٹھ مزدور ہلاک اور تین زخمی ہو گئے تھے۔</p>
<p style="text-align: right;">مقامی حکام نے بتایا ہے کہ اس حادثے کی وجہ ناقص تعمیری مواد کا استعمال ہو سکتا ہے۔ پولیس تعمیراتی منصوبے میں شامل دو ٹھیکاداروں کو تلاش کر رہی ہے جو عمارت منہدم ہونے کے بعد وقوعہ سے فرار ہو گئے تھے۔</p>
<p style="text-align: right;">غیر محفوظ تعمیرات چین میں ایک بڑا مسئلہ ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sun, 3 Oct 2010 12:44:05 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">104234029</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-10-03T12:44:05Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
																											
																	
																																																	<media:group>
																																							<media:content url="http://media.voanews.com/images/VOA_chinese_Laborer1_9mar10_300.jpg" medium="image" isDefault="true" height="225" width="300" />
																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/VOA_chinese_Laborer2_9mar10_300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="225" width="300" />
																																																										</media:group>
																						</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>کمبوڈیا میں جنگی جرائم کی عدالت کا دفاع</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/un-cambodia-27oct2010-105992418.html</link>
				<description>بان کی مون نے کمبوڈیا کے وزیر اعظم سے کہا ہے کہ مبینہ طور پر جنگی جرائم میں ملوث کمیونسٹ پارٹی کے سابق ارکان کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے قائم خصوصی عدالت کو کام جاری رکھنا چاہیئے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کمبوڈیا کے وزیر اعظم ہن سین سے کہا ہے کہ مبینہ طور پر جنگی جرائم میں ملوث کمیونسٹ پارٹی کے سابق ارکان کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے قائم خصوصی عدالت کو کام جاری رکھنا چاہیئے۔</p>
<p style="text-align: right;">جمعرات کو فنوم پن کے علاقے میں بدنامِ زمانہ Toul Sleng جیل کا دورہ کرتے ہوئے مسٹر بان کا کہنا تھا کہ کمیونسٹ پارٹی کے ارکان جن کو کھمیر روج بھی کہا جاتا ہے، کو اقتدار سے ہٹائے جانے کے 30 برس بعد بھی &rdquo;انسانی مصائب کی چیخ و پکار&ldquo; سنائی دیتی ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">Toul Sleng میں 14 ہزار سے زائد افراد کوتشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا تھا اور اب اس جیل کو نسل کشی سے متعلق ایک عجائب گھر کا درجہ دے دیا گیا ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">کھمیر روج کے عہدیدار Kaing Guek Eav جو Tuol Sleng کے نگران رہے تھے ، کو جولائی میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں کام کرنے والی جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی عدالت نے مجرم قرار دیا تھا۔</p>
<p style="text-align: right;">لیکن کمبوڈین وزیر اعظم نے مسٹر بان کو بدھ کے روز بتایا تھا کہ کھمیر روج کے چار مزید رہنماؤں کے خلاف مقدمے چلانے کے بعد عدالت کو بند کر دیا جانا چاہیئے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 28 Oct 2010 10:39:47 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">105992418</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-10-28T10:39:47Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/480-khmer-ban-ki-moon-hun-sen-ap.jpg" length="49410" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/480-khmer-ban-ki-moon-hun-sen-ap.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Carmichael+Hun+Sen+Ban+Ki+Moon+Cambodia+230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>ٹوکیو میں پارک کی جگہ مارکیٹ کی تعمیر کے خلاف مظاہرہ</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/Japan-Nike-26sep10-103817599.html</link>
				<description>مظاہرے میں وہ بے گھر افراد بھی شامل تھے جو شیبُویا نامی علاقے کے مییاشیٹا پارک میں رہا کرتے تھے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں ایک عوامی تفریح گاہ کی تجارتی مرکز میں تبدیلی کے منصوبے کے خلاف اتوار کو احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں شریک تقریباً دو سو افراد میں وہ بے گھر لوگ بھی شامل تھے جو کبھی شیبُویا نامی علاقے کے مییاشیٹا پارک میں رہا کرتے تھے لیکن مقامی حکام نے ان کو وہاں سے بے دخل کر دیا۔</p>
<p style="text-align: right;">تعمیراتی منصوبے کے مطابق کھلاڑیوں کے لیے ملبوسات اور دیگر اشیاء بنانے والی امریکی کمپنی نائکی اس تفریح گاہ کی زمین پر ایک مارکیٹ کے علاوہ سکیٹ بورڈنگ پارک بھی بنائے گی ۔ نائکی شہری حکام کو دس برس تک سالانہ دو لاکھ ڈالر ادا کرے گی جس کی پاداش میں اُس کو نئی تعمیر کے لیے مخصوص نام استعمال کرنے کا حق حاصل ہو گا۔</p>
<p style="text-align: right;">جہاں بعض حلقوں نے اس منصوبے کو خوش آمدیدکہا ہے وہیں ایسے لوگ بھی ہیں جو اس کو ٹوکیو میں موجود بے گھر افراد کے خلاف اقدام قرار دے رہے ہیں۔ جاپان کے دارالحکومت میں ہزاروں افراد تفریح گاہوں، پلوں کے نیچے اور زیر زمین ریل کے نظام میں گتے اور پلاسٹک سے بنائی گئی پناہ گاہوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sun, 26 Sep 2010 14:53:02 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">103817599</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-09-26T14:53:02Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/voa_chinese_japan_st_view.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>چین کا امریکی مصنوعات پرانٹی ڈمپنگ ڈیوٹی کا فیصلہ</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/China-Chicken-26sep10-103815009.html</link>
				<description> لاگت ِ ِپیداوار سے بھی کم قیمت پر امریکی برائلرکی مصنوعات کی ذخیرہ کاری سےچین کی مقامی صنعت کو خاصا نقصان پہنچا ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">چین نے کہا ہے کہ وہ امریکہ سے درآمد کی جانے والی مرغی کے گوشت کی بعض مصنوعات پر 105 فیصد سے زائد انٹی ڈمپنگ ڈیوٹی لگائے گا اور اس فیصلے پر پیر سے عمل درآمد شروع کر دیا جائے گا۔</p>
<p style="text-align: right;">چینی وزارت خارجہ نے اتوار کو اپنی ویب سائٹ پر جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی برائلرکی مصنوعات کی ذخیرہ کاری سے مقامی صنعت کو خاصا نقصان پہنچا ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">بیان کے مطابق ایسی امریکی کمپنیاں جنھوں نے مرغی کے گوشت کی مصنوعات کی درآمدات کے بارے میں تحقیقات میں تعاون کیا ہے وہ ذخیرہ کاری پر&nbsp;50 فیصد ڈیوٹی ادا کریں گی جب کہ دوسری تمام کمپنیوں کے لیے یہ شرح 105 فیصد سے زائد ہو گی۔ یہ فیصلہ آئندہ پانچ سال تک نافذالعمل رہے گا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sun, 26 Sep 2010 11:44:13 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">103815009</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-09-26T11:44:13Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/voa_chinese_CHICKENS_480.jpg" length="214867" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/voa_chinese_CHICKENS_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="405" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/voa_chinese_CHICKENS_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>چین کی کرنسی پالیسی کا دفاع</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/china-us-currency-23sep10-103614729.html</link>
				<description>بیجنگ کی طرف سے 2008ء میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں یوان کی قدر کا تعین کرنے کے بعد سے عالمی منڈی میں چینی مصنوعات کی قیمت دوسرے ممالک کی مصنوعات کی نسبت کم ہو گئی ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">چینی وزیر اعظم وین جیاباؤنے امریکی قانون سازوں کی اُن شکایات کو مسترد کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ چین کی طرف سے اپنی کرنسی کی قدر کی سخت نگرانی کے باعث امریکہ کو دوطرفہ تجارت میں بھاری خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">مسٹر وین نے نیو یارک میں کاروباری حضرات کے ایک گروپ کو بتایا کہ تجارتی حجم میں عدم توازن کی اصل وجہ سرمایہ کاری اور تجارت سے متعلق نظام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیجنگ دانستہ طور پر امریکہ سے تجارتی عدم توازن نہیں چاہتا ۔</p>
<p style="text-align: right;">بیجنگ کی طرف سے 2008ء میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں یوان کی قدر کا تعین کرنے کے بعد سے عالمی منڈی میں چینی مصنوعات کی قیمت دوسرے ممالک کی مصنوعات کی نسبت کم ہو گئی ہے۔ امریکی قانون سازوں اور کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ اس عمل سے چین کو ایک غیر منصفانہ تجارتی فائدہ ہوا ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">امریکی ایوان کی &rdquo;ویز اینڈ مینز کمیٹی&ldquo; جمعہ کو ایک بل پر رائے شماری کررہی ہے جس کا مقصد چین پر زور دینا ہے کہ وہ اپنی کرنسی کی قدر میں اضافہ کرے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 23 Sep 2010 12:51:31 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">103614729</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورورپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-09-23T12:51:31Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
										
										
																	
																																															</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>کرغزستان: ووٹوں کی دوبارہ گنتی پر اتفاق</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/kyrgyz-recounting-13oct2010-104854599.html</link>
				<description> پانچوں سیاسی جماعتیں ووٹوں کی دوبارہ گنتی پر آمادہ ہو گئی ہیں جس کے نتیجے میں مخلوط حکومت میں ایک چھٹی جماعت شامل ہو سکتی ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">کرغزستان میں اتوار کو ہونے والے انتخابات میں کامیاب ہونے والی پانچ سیاسی جماعتیں ووٹوں کی دوبارہ گنتی پر آمادہ ہو گئی ہیں جس کے نتیجے میں مخلوط حکومت میں ایک چھٹی جماعت شامل ہو سکتی ہے۔ ارنامیس Ar-Namysپارٹی کے سربراہ اکیلبک زایارووAkylbek Zhaparovنے بدھ کے روز کہا ہے کہ اس منصوبے پر پانچوں سیاسی جماعتوں کے قائدین متفق ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">قوم پرست بوتن کرغزستان پارٹی 4.8 فیصد ووٹ حاصل کرسکی تھی جو کہ پارلیمان میں نمائندگی کے لیے درکار پانچ فیصد ووٹوں سے کم ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">پارٹی کے تقریباً دو سو ارکان نے منگل کو ایک احتجاجی ریلی نکالی اور ووٹوں کی گنتی کا دوبارہ مطالبہ کیاتھا۔ جماعت کے سربراہ اداخان مدوماروو Adakhan Madumarovکا کہنا تھا کہ انتخابی حکام نے ملک میں ووٹروں کی تعداد میں اضافہ کردیا تھا تاکہ ان کی جماعت پانچ فیصد ووٹ حاصل نہ کرسکے۔ ان کی پارٹی نے ابھی تک دوبارہ گنتی کے فیصلے پر ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">کامیاب ہونے والی جماعتوں میں قوم پرست Ata-Zhurt، روس کی حامی ارنامیس، حکومت کی حامی سوشل ڈیموکریٹ ، Ata-Mekenاور Respublika پارٹی شامل ہیں جنہوں نے ابھی حکومت یا حزب اختلاف کا ساتھ دینے کا فیصلہ نہیں کیا۔</p>
<p style="text-align: right;">روس کے وزیرخارجہ سرگئی لاوروو نے منگل کے روز ماسکو میں کہا تھا کہ ان کے ملک کو خدشہ ہے کہ سابقہ سویت ریاست کرغزستان میں پارلیمانی حکومت کے قیام میں مشکلات ہوسکتی ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ مخلوط حکومت کے قیام کے بعد روس ان کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">نئی مخلوط حکومت اس موجودہ حکومت کی جگہ لے گی جو رواں سال ہلاکت خیزبغاوت کے نتیجے میں صدر کرمان باقیوف کا تختہ الٹے جانے کے بعد وجود میں آئی تھی۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 13 Oct 2010 13:24:13 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">104854599</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-10-13T13:24:13Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/ap_kyrgyzstan_election_10oct10_eng_480.jpg" length="29587" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_kyrgyzstan_election_10oct10_eng_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="328" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP_Kyrgyzstan_Elections_Vote_Count_1_300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>ایشیائی ممالک میں روایتی ثقافتی میلے</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/asia-festivals-23sep10-103620474.html</link>
				<description>یہ تقریبات ایک ایسے وقت ہورہی ہیں جب سیلاب ، مٹی کے تودے گرنے او ر طوفانوں کے باعث بہت سے لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">براعظم ایشیا ء کے بہت سے ممالک میں موسم میں تغیروتبدل کے باوجود خزاں کے وسط میں منعقد ہونے والے روایتی ثقافتی میلوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">جنوبی کوریا میں منگل کو شروع ہونے والی شدید بارشیں ملک میں سیلابی ریلوں اور دارالحکومت سیول کے ہزاروں گھروں کی بجلی کی بندش کا باعث بنی ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">سیلاب کے باعث بار ہ ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا جب کہ دو افرا د کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">رواں ہفتے کے اواخر میں کورین &rdquo;تھینکس گِونگ ڈے&ldquo; کے موقع پر اپنے خاندانوں سے ملنے کے لیے جانے والوں کو سیلاب میں ڈوبی ہوئی سٹرکوں پر شدید ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑا۔ محکمہ موسمیات کا کہناہے کہ سیول میں ریکارڈ 30 سینٹی میڑ بارش ہوئی۔</p>
<p style="text-align: right;">چین میں روایتی ثقافتی میلے کا آغاز بدھ کو ہوا۔ چین میں یہ تقریبات ایک ایسے وقت ہورہی ہیں جب سیلاب ، مٹی کے تودے گرنے او ر طوفانوں کے باعث بہت سے لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 23 Sep 2010 14:09:00 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">103620474</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورورپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-09-23T14:09:00Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
										
										
																	
																																															</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>کپتان کی حراست پر چین کا جاپان کو انتباہ</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/china-japan-captain-22sep10-103521324.html</link>
				<description>یہ واقعہ دونوں ملکوں کے درمیان متنازع جزائر کے قریب سات ستمبر کو پیش آیااور یہ دونوں ایشیائی حریفوں کے درمیان گذشتہ کئی برسوں میں سنگین ترین سفارتی کشیدگی کا موجب بنا۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">چین کے وزیراعظم وین جیاباؤ نے جاپان کو متنبہ کیا ہے کہ اگر اس نے چینی ماہی گیروں کی کشتی کے کپتان کو رہا نہ کیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔</p>
<p style="text-align: right;">رواں ماہ کے اوائل میں یہ چینی کشتی چین کے مشرقی سمندر میں جاپان کے سمندری محافظوں کی کشتیوں سے ٹکرا گئی تھی۔ جاپان نے 14ماہی گیروں کو گذشتہ ہفتے رہا کردیا تھا تاہم کشتی کے کپتان اب بھی اس کی تحویل میں ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژینہوا کے مطابق وزیراعظم وین نے یہ انتباہ منگل کو دیر گئے نیویارک میں چائنیز امریکن کے ایک گروپ سے بات چیت کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کپتان کو رہا نہ کیا گیا تو بیجنگ اس بارے میں &rdquo;مزید کارروائیاں&ldquo;کرے گا۔</p>
<p style="text-align: right;">جاپان کی کابینہ کے چیف سیکرٹری یو شیتوسینگوکو نے بدھ کو ٹوکیو میں صحافیوں کو بتایا کہ حکومت چین سے اس معاملے پر &rdquo;اعلیٰ سطحی مذاکرات&ldquo; کرنے پر آمادہ ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">یہ واقعہ دونوں ملکوں کے درمیان متنازع جزائر کے قریب سات ستمبر کو پیش آیااور یہ دونوں ایشیائی حریفوں کے درمیان گذشتہ کئی برسوں میں سنگین ترین سفارتی کشیدگی کا موجب بنا۔</p>
<p style="text-align: right;">چین نے اس واقعے کے بعد بہت سے سفارتی تبادلوں بشمول رواں ہفتے اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کے درمیان ہونے والی ملاقات کو منسوخ کردیا ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">یہ متنازع جزائر ویسے تو غیر آباد ہیں لیکن ان علاقوں میں ماہی گیری کے علاوہ زیر آب تیل اور گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">چینی کپتان پر فرد جرم عائد کرنے یا نہ کرنے کے لیے جاپان کے پاس 29ستمبر تک کا وقت ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 22 Sep 2010 13:07:10 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">103521324</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورورپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-09-22T13:07:10Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/China_fishing_boat_Japan_8_Sept_2010_AFP.jpg" length="206425" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/China_fishing_boat_Japan_8_Sept_2010_AFP.jpg" medium="image" isDefault="true" height="318" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Jiabao_300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>انڈونیشیا: پولیس پر حملے میں تین اہلکار ہلاک</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/indonesia-violence-22sep10-103519534.html</link>
				<description> موٹر سائیکلوں پر سوار ایک درجن کے قریب مسلح افراد نے علی الصباح جزیرہ سماٹرا کے علاقے ڈِلی ساردانگ میں پولیس اسٹیشن کا گھیراؤ کیا اور فائرنگ کی۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">انڈونیشیا کے مغربی حصے میں بدھ کے روز ایک پولیس اسٹیشن پر مسلح افراد کے حملے میں تین اہلکار ہلاک ہوگئے ۔</p>
<p style="text-align: right;">حکام کے مطابق موٹر سائیکلوں پر سوار ایک درجن کے قریب مسلح افراد نے علی الصباح جزیرہ سماٹرا کے علاقے ڈِلی ساردانگ میں پولیس اسٹیشن کا گھیراؤ کیا اور فائرنگ کی۔</p>
<p style="text-align: right;">اس واقعے میں ملوث افراد کا تعلق بظاہر ان دہشت گرد وں سے معلوم ہوتا ہے جن کے مختلف ٹھکانوں پر پولیس نے اتوار کے روز چھاپہ مار کارروائیاں کی تھیں اور اس دوران تین افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ پولیس نے دیگر پندرہ افراد کو گرفتار بھی کرلیا تھا۔</p>
<p style="text-align: right;">اس مشتبہ دہشت گرد گروپ پر گذشتہ ماہ مِدان میں ہونے والی ایک بینک ڈکیتی اور اس دوران ایک پولیس افسر کی ہلاکت میں ملوث ہونے کا بھی شبہ ہے۔ پولیس کا ماننا ہے کہ یہ گروپ اپنی کارروائیوں کے لیے پیسہ حاصل کرنے کی کوشش کررہا تھا۔</p>
<p style="text-align: right;">پولیس کا کہنا ہے کہ ان میں ایک شخص کا تعلق ابوبکر بشیر کی سربراہی میں سرگرم مشتبہ دہشت گرد گروپ سے ہے۔ بشیر پر الزام ہے کہ وہ مغربی صوبے آچے میں دہشت گرد گروپ کی تربیت کے لیے رقم اکٹھی کرتا ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">دستاویزات سے پتا چلا ہے کہ یہ گروپ ہوٹلوں، مغربی ملکوں کے سفارتخانوں اور یوم آزادی کی تقریب پر بم حملوں کی منصوبہ بندی کررہا تھا۔ اس تقریب میں انڈونیشیا کے صدر بھی شریک تھے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 22 Sep 2010 12:51:37 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">103519534</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-09-22T12:51:37Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Indonesia_230X230.jpeg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																																																		</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>شدت پسندوں کے حملے میں 23 تاجک فوجی ہلاک</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/tajikistan-clash-20sep10-103263859.html</link>
				<description> وزارتِ دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ  اس دہشت گردی کی کارروائی میں شامل حملہ آوروں کا تعلق پاکستان، افغانستان اور چیچنیا سے تھا ۔ </description>
													<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">تاجکستان میں حکام نے بتایا ہے کہ شدت پسندوں نے ایک فوجی قافلے پر حملہ کر کے 23 فوجیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔یہ حملہ تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے سے اڑھائی سو کلومیٹر مشرق میں افغان سرحد سے ملحقہ راشت وادی میں کیا گیا۔</p>
<p style="text-align: right;">تاجک وزارتِ دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اتوار کو ہونے والی اس دہشت گردی کی کارروائی میں شامل حملہ آوروں کا تعلق پاکستان، افغانستان اور چیچنیا سے تھا ۔</p>
<p style="text-align: right;">ایک فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق تاجک صدر امام علی رحمانوف نے اپنی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ حالات کو معمول پر لانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں۔</p>
<p style="text-align: right;">تاجک فوجی اُن شدت پسندوں کو بھی تلاش کر رہے ہیں جو 23 اگست کو دوشنبے کی ایک جیل سے محافظوں کو ہلاک کرنے کے بعد فرار ہو گئے تھے۔ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ فرار ہونے والے قیدیوں کے القاعدہ سے بھی رابطے ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">گذشتہ ہفتے تاجک حکام نے افغان سرحدکے قریب کم از کم بیس طالبان جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا ۔ حکام کا کہنا ہے کہ طالبان اور القاعدہ سے تعلق رکھنے والے جنگجو نیٹو کی کارروائیوں سے بچنے کے لیے افغانستان سے تاجکستان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">تاجکستان مسلم اکثریت&nbsp;والی ایک وسط ایشیائی ریاست ہے اور اس کی افغانستان کے ساتھ تقریباً تیرہ سو کلومیٹر طویل سرحد ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Mon, 20 Sep 2010 08:02:53 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">103263859</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-09-20T08:02:53Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
										
										
																	
																																															</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>کرغزستان میں امریکہ کے زیر استعمال ہوائی اڈے کی اہمیت </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/Krygyzstan-US-Base-16sep10-103032314.html</link>
				<description>مناس پر پچاس لاکھ گیلن ایندھن کے ذخیرے سے، فضائی ٹینکر ایندھن بھرتے ہیں اور پرواز کے دوران ہی، افغانستان جانے والے جہازوں میں اسے منتقل کر دیتے ہیں۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">گذشتہ چھہ مہینوں کے دوران، کرغزستان میں سڑکوں پرنکلے ہوئے عوام کے ہجوم نے ایک صدر کا تختہ الٹ دیا، نسلی فسادات میں سینکڑوں افراد ہلاک کر دیے گئے اور دو علاقائی سیاست دانوں نے بغاوت کردی۔&nbsp; دس اکتوبر کو وہاں انتخاب ہونے والا ہے&nbsp;جس کے نتیجے میں وہاں ایک نئی پارلیمانی حکومت قائم ہو گی۔ ان تمام ہنگاموں کے دوران، امریکہ&nbsp;کرغزستان میں ایک ہوائی اڈا چلا رہا ہے&nbsp;جہاں سے اتحادی افواج کے سپاہی پرواز کرتے ہیں اور افغانستان میں داخل ہوتے ہیں۔</p>
<p dir="rtl">امریکی فضائیہ کے سپاہیوں کے لیے مناس ایئر ٹرانزٹ سینٹر، وسط ایشیا کے قلب میں امریکہ کی سرزمین کے چھوٹے سے ٹکڑے کی طرح ہے۔ یہاں سے صرف دو گھنٹے کی پرواز کے بعد، وہ اپنی اصل منزل یعنی افغانستان پہنچ جاتے ہیں جہاں لڑائی کا بازار گرم ہے۔</p>
<p dir="rtl">امریکی پائلٹوں&nbsp; کے لیے، مناس میں پرواز کے دوران پیٹرول بھرنے کا انتظام موجود ہے ۔ مناس پر پچاس لاکھ گیلن ایندھن کے ذخیرے سے، فضائی ٹینکر ایندھن بھرتے ہیں اور پرواز کے دوران ہی، افغانستان جانے والے جہازوں میں اسے منتقل کر دیتے ہیں۔ اس طرح ان جہازوں کو اس پہاڑی ملک میں کہیں بھی اترنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔</p>
<p dir="rtl">جنوب کے راستے&nbsp; پاکستان سے ہو کر آنے والے ٹرکوں پر طالبان کے حملوں کی وجہ سے کرغزستان کا یہ شمالی ہوائی راستہ، بہت اہم اور قیمتی ہو گیا ہے ۔ مناس سینٹر کے کمانڈر، کرنل Dwight Sones &nbsp;کہتے ہیں کہ اپنے محلِ وقوع&nbsp; اور آس پاس کے ملکوں میں اپنے حلقہ اثر کی وجہ سے، کرغزستان، وسط ایشیا کا سب سے اہم ملک بن گیا ہے۔ لیکن جون کے وسط میں، جب کرنل Sones ابھی وہاں پہنچے ہی تھے کہ مناس سے 320 &nbsp;کلومیٹر کے فاصلے پر اوش میں کرغز اور ازبک نسل کے لوگوں کے درمیان خونریز جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ ماضی میں کرغزستان میں سیاسی سطح پر امریکی اڈے کی مخالفت ہوتی رہی ہے۔ گذشتہ سال، کرغز پارلیمینٹ نے 78 &nbsp;کے مقابلے میں ایک ووٹ سے امریکیوں کو نکالنے کا فیصلہ کیا تھا۔</p>
<p dir="rtl">واشنگٹن نے اس مشکل کا حل یہ نکالا کہ اڈے کا سالانہ کرایہ تقریباً چار گنا، یعنی چھ کروڑ ڈالر کر دیا۔ کرغز اسکالر، علی شیر خادموف&nbsp; کہتے ہیں کہ سیاست دانوں نے 10 &nbsp;اکتوبر کے انتخاب سے قبل، امریکی اڈے کو سیاسی فُٹ بال کی طرح&nbsp; استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔</p>
<p dir="rtl">انھوں نے کہا کہ &rsquo;&rsquo;ان پارٹیوں نے ایک بار پھر اڈے کو بند کرنے کے لیے ہنگامہ شروع کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہماری ساری پریشانیوں کی جڑ یہی امریکی اڈا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ بعض سیاست داں ، اس امید پر اس اڈے کو بند کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس طرح کرغزستان میں استحکام آ جائے گا اور اس کا اقتدارِ اعلیٰ بحال ہو جائے گا&lsquo;&lsquo;۔</p>
<p dir="rtl">روس کی طرف سے بھی امریکی اڈے کی مخالفت ہو رہی ہے۔ ماسکو نے 1876ء &nbsp;سے 1991ء تک، یعنی سوویت یونین کے زوال تک، کرغزستان پر حکومت کی۔ دنیا میں کرغزستان واحد ملک ہے&nbsp; جس میں امریکہ اور روس دونوں کے اڈے موجود ہیں۔</p>
<p dir="rtl">Leonid Bondarets روسی اڈے پر مشیر کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔ یہ اڈہ Kant &nbsp;میں ہے جو امریکی اڈے سے صرف 40 &nbsp;کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ &rsquo;&rsquo;امریکی اڈا 2001ء میں عارضی طور پر، ایک سال کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ ان کے خیال میں یہ اڈا&nbsp; اس علاقے میں امریکہ کی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے۔ اس کے ذریعے وسط ایشیا &nbsp;کا تیل اور گیس اور افغانستان کی معدنیات &nbsp;امریکہ کی دسترس میں آجائیں گی&lsquo;&lsquo;۔</p>
<p dir="rtl">کرغزستان میں روس کا&nbsp; کافی اثرو رسوخ ہے۔ 30 سال سے زیادہ عمر کے بیشتر لوگ روسی زبان بولتے ہیں۔ کرغزستان کے کارکنوں کا پانچواں حصہ روس میں کام کرتا ہے۔ یہ لوگ جو پیسہ بھیجتے ہیں، وہ 53 لاکھ آبادی کی خشکی سے گھرے ہوئے اس غریب ملک کے لیے&nbsp; بہت اہم ہے ۔</p>
<p dir="rtl">مناس&nbsp; میں امریکی، مقامی آبادی کا دِل جیتنے کے لیے سخت کوشش کر رہے ہیں۔ امریکی سرمایے سے کنوئیں کھودے جا رہے ہیں، اسکولوں پر چھتیں ڈالی جا رہی ہیں، عورتوں کے لیے پناہ گاہیں تعمیر کی جا رہی ہیں اور مقامی دستکاریاں خریدی جا رہی ہیں۔</p>
<p dir="rtl">بیس کمانڈر&nbsp; کرنل Sones &nbsp;کے مطابق &rsquo;&rsquo;ہم سماجی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے ہیں۔ ہم اپنی وردیاں اتار کر کھیل کے کپڑے پہن لیتےہیں، والی بال اور&nbsp; ساکر&nbsp; کھیلتے ہیں، بیلے (ballet) دیکھنے جاتے ہیں، میئرز سے ملتے ہیں۔ یہ سب&nbsp; ٹیم کے طور پر کام کرنے کی کوشش کا حصہ ہے&lsquo;&lsquo;۔</p>
<p dir="rtl">بشکک کے سیاسی تجزیہ کار، Valentin Bogatyrev &nbsp;کبھی مناس کے اڈے پر نہیں گئے ہیں۔ لیکن وہ محسوس کرتے ہیں کہ امریکی اڈے کی جانب کرغزستان کے لوگوں کا رویہ نرم ہوتا جا رہا ہے۔</p>
<p dir="rtl">انھوں نے کہا کہ &rsquo;&rsquo;عوامی سیاستداں&nbsp; یہ بات سمجھنے لگے ہیں کہ اس اڈے کی وجہ سے قومی بجٹ&nbsp; اور&nbsp; ترقیاتی منصوبوں کے لیے&nbsp; اور بشکک کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے لیے&nbsp; پیسہ ملتا ہے اور مقامی لوگوں کو روزگار ملتا ہے۔ اس طرح کرغزستان کی ہر آن ہر لمحے بدلتی سیاست میں، امریکہ&nbsp; کو امید ہے کہ خیر سگالی کے جذبے اور ڈالروں کی مدد سے، افغانستان میں داخل ہونے کا یہ اہم راستہ کھلا رہے گا&lsquo;&lsquo;۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 16 Sep 2010 09:00:18 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">103032314</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[جیمز بروک]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-09-16T09:00:18Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
										
										
																	
																																															</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>جوہری معائنہ کاروں پر ایران کی پابندی پر تنقید</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/iran-iaea-16sep2010-103033729.html</link>
				<description>ایران نے آئی اے ای اے کے ان دو معائنہ کاروں پر عالمی ادارے کو غلط معلومات فراہم کرنے کا الزام لگا نے کے بعد رواں برس ان پر پابندی کا اعلان کیا تھا</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">امریکہ اور دیگر مغربی ممالک نے ایران کی طرف سے اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے ادارے &rdquo;آئی اے ای اے&ldquo; کے معائنہ کاروں پر پابندی کو عالمی ادارے پر دباؤ ڈالنے کی کوشش قرار دیا ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">امریکی سفیر Glyn Davies نے ایک روز قبل ویانہ میں کہا کہ آئی اے ای اے کو تہران کے خلاف کارروائی پر غور کرنا چاہیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ معائنہ کار عالمی ادارے کو ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے درست معلومات فراہم کرتے ہیں اور ان کے خلاف پابندی ایران کی جانب سے ایک غیر معمولی عمل ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">&lt;!--IMAGE--&gt;</p>
<p style="text-align: right;">ایران نے آئی اے ای اے کے ان دو معائنہ کاروں پر عالمی ادارے کو غلط معلومات فراہم کرنے کا الزام لگا نے کے بعد رواں برس ان پر پابندی کا اعلان کیا تھا۔</p>
<p style="text-align: right;">ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے امریکی ٹی وی این بی سی سے گفتگو میں معائنہ کاروں پر پابندی کا دفاع کرتے ہوئے اسے درست قرار دیا۔ اُنھوں نے بتایا کہ اگر ایران پر اس کے متنازع جوہری پروگرام کے سلسلے میں عائد کی گئی پابندیاں ایک سو گنا بڑھا بھی دی جائیں تو بھی ایران خود اپنی ضروریات پوری کر سکتا ہے اور اس کو امریکہ کی ضرورت نہیں ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">آئی اے ای اے کے سربراہ Yukiya Amano کے مطابق ایران کے اقدامات ان دعوؤں کی تصدیق میں رکاوٹ بن رہے ہیں کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔ لیکن امریکہ اور اس کے متعدد اتحادیوں کا کہنا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">اقوام متحدہ میں امریکی سفیر سوزن رائس نے عالمی تنظیم کی سکیورٹی کونسل کو بتایا کہ اس بات کا &rdquo;واضع ثبوت&ldquo; موجود ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے پائے جانے والے تحفظات دور کرنے کے لیے اقدامات کرنے سے عاری ہے۔ انھوں نے بتایا کہ تہران اقوام متحدہ کی پابندیوں کی مستقل خلاف ورزی کر رہا ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">اقوام متحدہ نے ایران کی طرف سے جوہری مواد کی افزودگی روکنے سے انکار کے بعد رواں برس جون میں اس کے خلاف پابندیوں کے چوتھے مرحلے کا اعلان کیا تھا۔ برطانیہ، فرانس اور امریکی سفیروں کا کہنا ہے کہ عالمی تنظیم ان پابندیوں کی نگرانی کے لیے ماہرین کے چناؤ میں انتہائی سستی سے کام لے رہا ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 16 Sep 2010 09:52:01 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">103033729</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-09-16T09:52:01Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
										
																											
																	
																																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/33-us_iran_nuclear_210_1.jpg" medium="image" isDefault="true" height="178" width="210" />
																																																																			</item>
																																																																									</channel>
</rss>

