<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>


																																		



<rss xmlns:ymusic="http://music.yahoo.com/rss/1.0/ymusic/" xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" xmlns:cf="http://www.microsoft.com/schemas/rss/core/2005" xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"   version="2.0">
<channel>
	<title>VOA News:  تعلیم و نوجوان  </title>
	<link>http://www.voanews.com/urdu/news/education-youth</link>
		<description>تعلیم و نوجوان 
																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																								
	Voice of America
	</description>
	<language>ur</language> 	<copyright />
	<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 18:04:50 GMT</pubDate>
	<dc:creator />
	<dc:date>2012-02-10T18:04:50Z</dc:date>
	<dc:language>ur</dc:language> 	<dc:rights />
	<image>
		<title>Voice of America</title>
		<link>http://www.voanews.com/urdu</link>
		<url>http://media.voanews.com/designimages/VOARSSIcon.gif</url>
	</image>


						
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>نامعلوم تک رسائی</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/lake-vostok-russia-old-life-10feb12-139090559.html</link>
				<description>قطبی جھیل دوستک کے  دوکروڑ پرانے پانی تک رسائی سے زندگی  کی ابتدا کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>ممکن ہے کہ آپ کو یہ &nbsp;علم ہو کہ دوکروڑ سال پہلے کی زندگی ، اپنی اصل اور جیتی جاگتی حالت میں آج بھی محفوظ ہے اور سائنس دان اس کی حقیقت سے پردہ اٹھانے کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں۔</p>
<p>سائنس دانوں کا خیال ہے کہ دوکروڑ سال پہلے کی زندگی دنیا کے سرد ترین براعظم انٹارکٹیکا کی جھیل ووستک(Vostok) میں اپنی اصلی حالت میں موجودہے۔</p>
<p>انٹارکٹیکا قطب شمالی کے پاس واقع دنیا کا انتہائی جنوبی براعظم ہے ، جس کا 98 فیصد برف سے ڈھکا ہوا ہے۔سردیوں میں یہاں درجہ حرارت صفر سے 90 درجے نیچے تک گر جاتا ہے۔ انٹارکٹیکا میں&nbsp; سارا سال تیز سرد ہوائیں چلتی ہیں ، جس کے باعث انسانی آبادی نہ ہونے کے برابر ہے۔</p>
<p>جھیل دوستک اس علاقے میں پائی جانے والی تقریباً چار سو جھیلوں میں سب سے بڑی ہے۔ اس کی لمبائی250 کلومیٹر اور چوڑائی 50 کلومیٹر کے لگ بھگ &nbsp;ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ کوئی بھی اس جھیل کے پانی کو دیکھ نہیں سکتا کیونکہ یہ قطبی برف کی تقریبا تین کلومیٹر موٹی تہہ کے نیچے ہے۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note"> &lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt; </span></p>
<p>سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جھیل دوستک کے پانی میں دوکروڑ سال پہلے کی زندگی اپنی اصل اور زندہ حالت میں موجود&nbsp; ہوسکتی ہے کیونکہ یہ پانی دوکروڑ&nbsp; سال سے بیرونی اثرات سے مکمل طورپر محفوظ ہے۔</p>
<p>سائنس دانوں کو اس پانی تک پہنچنے کے لیے، جسے دوکروڑ سال سے کبھی کسی نے نہیں چھوا، برف کی تین کلومیٹر موٹی چٹانی تہہ میں سوراخ کرنے کے لیے 20 سال سے زیادہ کا عرصہ لگا ہے۔</p>
<p>سائنس دانوں کا خیال ہے کہ چونکہ جھیل کے پانی کو &nbsp;اس کے گرد واقع برف کی موٹی تہہ نےاس طرح سیل کررکھاہے کہ باہر کی دنیا سے نہ توکچھ وہاں پہنچ سکتا ہے اور نہ ہی وہاں سے کوئی چیز باہر نکل سکتی ہے، اس لیے دو کروڑ سال پہلے یہاں زندگی جس حالت میں تھی، اسی حالت میں محفوظ ہے۔</p>
<p>سائنس دانوں کو اس جھیل کے پانی تک رسائی کے بعدکرہ ارض پر زندگی کی ابتدائی حالت کے بارے میں معلومات حاصل ہونے کا اس لیے بھی یقین ہے کیونکہ ایک نظریہ یہ ہے کہ اس سیارے پر زندگی کی ابتدا پانی سے ہوئی تھی اور ابتدائی زندگی ایک خلیے کے جاندار کی شکل میں تھی۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note"> &lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt; </span></p>
<p>ماہرین کا خیال ہے کہ جھیل دوستک میں زندگی اپنی ابتدائی شکل میں محفوظ ہوسکتی ہے اور ممکن ہے کہ یہ زندگی جراثیمی شکل میں ہو۔</p>
<p>سائنس دانوں کا یہ خیال بھی ہے کہ جھیل کے پانی تک رسائی میں کامیابی&nbsp; حاصل ہونے کے بعد اب یہ جاننے میں بھی مدد مل&nbsp; سکتی ہے کہ کرہ ارض پر پائی جانے والی زندگی مقامی ہے یا یہ کسی بیرونی سیارے سے آئی تھی۔ کیونکہ ایک نظریے کے مطابق زمین پر زندگی کا آغاز کسی ایسے شہاب ثاقب یا سیارجے کے ٹکرانے بعد ہوا جس پر زندگی موجود تھی۔</p>
<p>سائنس دانوں نے اس کامیابی کو &rsquo; معلوم اور نامعلوم کے درمیان ملاقات&lsquo; کا نام دیا ہے۔</p>
<p>ناسا کے ایک سائنس دان ڈاکٹر ولید عبدالعطی کا کہناہے کہ سادہ ترین الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں اس کامیابی سے ہمیں&nbsp; زندگی کے بارے میں جاننے میں مدد ملے گی۔</p>
<p>برفانی دور سے پہلے&nbsp; زمین پر &nbsp;آب وہوا گرم مرطوب تھی ۔ شدید بارشیں ہوتی تھیں اور گھنے جنگلات کی بہتات&nbsp; تھی۔ &nbsp;زمین پر ڈینوساروں کاراج تھا۔ پھر لاکھوں سال تک جاری رہنے والے سرد برفانی دور نے ڈینوساروں سمیت زندگی کی کئی اور اقسام کو مٹا دیا۔&nbsp; ماہرین کا کہناہے کہ برف کی موٹی تہوں سے سیل ہوجانے کے بعد، جھیل دوستک میں موجود زندگی&nbsp; کارابطہ بیرونی دنیا سے کٹ گیا ۔ اور اگر اس &nbsp;پانی میں زندگی اب بھی موجود ہے تو وہ زندگی کی وہی شکل ہے جو برفانی دور کے آغاز سے قبل دو کروڑ سال پہلے پائی جاتی تھی۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note"> &lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt; </span></p>
<p>دوستک جھیل کے پانی کا درجہ حرارت منفی تین درجے سینٹی گریڈ ہے۔ اگرچہ صفر درجہ حرارت پر پانی جم جاتا ہے لیکن برف کے شدید دباؤ کے باعث جھیل کا پانی مائع حالت میں ہے۔&nbsp; سائنس دانوں کا کہناہے کہ اگر اس پانی میں زندگی موجود ہے تو اس سے مریخ کے برفانی قطبی علاقوں اور مشتری اور زحل کے چاندوں پر موجود برف کی تہوں میں زندگی کے امکان&nbsp; پر تحقیق آگے بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔</p>
<p>روس کے سائنس دان لیو سویت یوگن نے، جنہوں نے جھیل کے پانی تک ڈرل کرنے کے مشن کی قیادت کی تھی، کہناہے کہ انہیں توقع ہے کہ ماہرین کو پانی کے نمونوں میں&nbsp; قبل&nbsp; ازتاریخ کا بیکٹریا مل جائے گاجس سے زندگی کی ابتدا کے بارے میں جاننے میں مدد مل سکے گی۔</p>
<p>جھیل کے پانی تک پہنچنے کے بعد ماہرین&nbsp; نے &nbsp;اس کے دہانے کو سختی سے بند کردیا گیا ہے تاکہ کروڑوں &nbsp;سال پرانے بیکٹریا کو باہر نکل کر پھیلنے کا موقع نہ ملے ۔ کیونکہ ماہرین کو خدشہ ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر تباہی بھی لا سکتا ہے۔</p>
<p>پانی کے نمونے&nbsp; حاصل کرنے کے بعد انہیں فی الحال وہیں محفوظ کردیا گیا ہے ۔ اس سال دسمبر میں&nbsp; سردیاں شروع پر ان نمونوں کو مزید تجربات کے لیے لیبارٹری میں منتقل کردیاجائے گا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 15:35:47 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139090559</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[جمیل اختر]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-10T15:35:47Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Vostok-483.jpg" length="47251" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
																																																													
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Vostok-483.jpg" medium="image" isDefault="true" height="330" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Vostok-305.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Vostok-306.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/vostok+23.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/Vostok-305.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																										</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>فیس بک کا زیادہ استعمال اداسی کا موجب، تحقیق</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/health-science/facebook-sadness-02Feb12-138880609.html</link>
				<description>ایک نئی تحقیق کے مطابق  فیس بک کا زیادہ استعمال کرنے والے افراد میں ویب سائٹ پر موجود اپنے حلقہ احباب کے لوگوں کو اپنے سے زیادہ خوش اور بہتر تصور کرنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>گزشتہ کئی برسوں کے دوران میں سامنے آنے والی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال کرنے والے افراد ان&nbsp; ذرائع سے اجتناب برتنے والوں کے مقابلے میں زیادہ افسردہ زندگی گزارتے ہیں۔</p>
<p>لیکن اب ایک نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے&nbsp; کہ سماجی رابطوں کے ذرائع اور ویب سائٹس، مثلاً فیس بک،&nbsp; بھی خوشی کے جذبات پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>امریکی ریاست یوٹاہ کے شہر اورم میں واقع 'یوٹاہ ویلی یونی ورسٹی' سے منسلک محققین&nbsp; کی جانب سے کی گئی ایک نئی تحقیق کے مطابق&nbsp; فیس بک کا زیادہ استعمال کرنے والے افراد میں ویب سائٹ پر موجود اپنے حلقہ احباب کے لوگوں کو اپنے سے زیادہ خوش اور بہتر تصور کرنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔</p>
<p>یونی ورسٹی کے محققین&nbsp; یہ جاننا چاہتے تھے کہ فیس بک کا استعمال کرنے والے افراد میں اپنے دوستوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے نتیجے میں کس قسم کے جذبات پروان چڑھتے ہیں۔</p>
<p>اس مقصد کے لیے محققین نے 425 نوجوان طالبِ علموں کے سامنے یہ سوال رکھا کہ کیا دوسرے&nbsp; لوگ ان سے بہتر اور زیادہ پرمسرت زندگی گزار رہے ہیں۔ بعد ازاں محققین نے طالبِ علموں کا ان بنیادوں پر جائزہ لیا کہ وہ کب سے فیس بک کا استعمال کر رہے ہیں&nbsp; اور ہر ہفتے کتنے گھنٹے سماجی رابطے کی اس ویب سائٹ کے ذریعے دوسروں کی زندگیوں میں تاک جھانک کرتے گزارتےہیں۔</p>
<p>تحقیقی مطالعے میں یہ بات سامنے آئی کہ فیس بک کا زیادہ استعمال کرنے والے طلبہ کی اکثریت دوسروں کو اپنے سے زیادہ خوش اور آسودہ خیال کرتی ہے۔</p>
<p>ماہرِ نفسیات ٹاڈ کیشڈان 'جارج میسن یونی ورسٹی' میں خوشی اور آسودگی&nbsp; جیسے مضامین کے طالبِ علم رہے ہیں اور انہوں نے یوٹاہ یونی ورسٹی کی اس تحقیق کے نتائج کا مطالعہ کیا ہے۔</p>
<p>کیشڈان کہتے ہیں کہ ایسے طلبہ کے علم میں فیس بک کے ذریعے اپنے دوستوں کے خوش گوار حالات آتے ہیں اور وہ ان کا خود سے موازنہ کرکے اپنے آپ کو کم خوش نصیب خیال کرنے لگتے ہیں۔</p>
<p>کیشڈان&nbsp; کے بقول یہ طلبہ سمجھتے ہیں کہ "مری زندگی تو اتنی دلچسپ اور اطمینان بخش نہیں ہے جتنی اوروں کی ہے" اور یہ سوچ ان میں اداسی کو جنم دیتی ہے۔</p>
<p>تحقیق کے مصنفین کا کہنا ہے کہ اس نتیجے کی ایک وجہ ان طلبہ کا 'کرسپانڈنس بائی یس' نامی نفسیاتی اثر کا شکار ہونا ہوسکتا ہے جس میں انسان دوسروں کے اصل حالات سے واقف ہوئے بغیر اس کےظاہری مزاج اور شخصیت کی بنیاد پر اس کے بارے میں رائے قائم کرلیتا ہے۔</p>
<p>مصنفین کے مطابق فیس بک پہ موجود اپنے دوستوں کے بارے میں یہ تصور کرنا بہت آسان ہے کہ وہ اتنے ہی خوش ہیں جتنا ان کی پروفائل سے ظاہر ہوتا ہے کیوں کہ لوگ عموماً سماجی رابطوں کی اس ویب سائٹ پر مثبت چیزوں کا اظہار کرتے ہیں اور منفی اور حوصلہ شکن رویوں اور واقعات&nbsp; کا ذکر نہیں کرتے۔</p>
<p>ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ فیس بک اور سماجی رابطوں کے دیگر وسائل دنیا اور لوگوں سے رابطے کا&nbsp; ایک قابلِ قدر ذریعہ ہیں۔ لیکن اگر ان کا استعمال چند "پرہیزی ہدایات" پر عمل کرتے ہوئے کیا جائے تو مناسب ہوگا۔</p>
<p>ماہرین کا مشورہ ہے کہ فیس بک پر دوسرے لوگوں کے اچھے واقعات&nbsp; کو جاننے میں زیادہ وقت صرف کرنے کے بجائے اپنے خوش گوار واقعات دوسروں کے علم میں لانا چاہئیں اور ان افراد پر توجہ دینی چاہیے جو آپ کے حقیقی دوست ہیں اور آپ کے معاملات اور حالات&nbsp; کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین نفسیات یہ مشورہ بھی دیتے ہیں کہ اگر فیس بک صارفین&nbsp; ویب سائٹ پر ایسے 'فیس بک فرینڈز'کے بجائے&nbsp; جنہیں وہ زیادہ نہیں جانتے ہیں، ان افراد سے زیادہ رابطے میں رہیں جو حقیقی زندگی میں بھی ان کے دوست ہوں تو وہ 'یوٹاہ یونی ورسٹی' کی اس تحقیق میں بیان کیے گئے اثرات سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 7 Feb 2012 21:35:41 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138880609</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-07T21:35:41Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[سائنس و صحت]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/facebook23.jpg" length="88577" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/facebook23.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/CN_Facebook_IPO_WEB4x301.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>چوہا ہاتھی کیسے بنا</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/small-animals-elephant-dinosaurs-2feb12-138558484.html</link>
				<description>آج کا ہاتھی چھ کروڑ سال پہلے اپنے قدکاٹھ اور وزن میں چوہے کے برابر تھا۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>کسی بھی جاندار کے قدکاٹھ، جسامت اور وزن پر کئی عوامل اثرانداز ہوتے ہیں جن میں خوراک، آب وہوا اور ماحول شامل ہے۔ جس کی ایک نمایاں مثال قدیم چینی اور جاپانی فن &lsquo;بونسائی &lsquo; ہے، جس&nbsp; بڑے بڑے درختوں کو ، جو عام حالات میں 70 سے 80 فٹ تک بلند ہوتے ہیں، عام گملوں میں اگا لیا جاتا ہے۔ ان درختوں کی بلندی محض ڈیڑھ دوفٹ ہوتی ہے اور وہ باقاعدہ پھل بھی دیتے ہیں۔</p>
<p>اسی طرح خوراک اور ماحول پر کنٹرول کے ذریعے جانوروں کے وزن اور قد بھی قابو پایا جاسکتا ہے۔ مثال کے طورپر عام حالات میں ایک مرغی کا وزن ایک کلوگرام تک پہنچنے میں تقریباً چھ سے آٹھ ماہ کا عرصہ درکار ہوتا ہے ، جب کہ پولٹری فارموں میں وہ صرف چھ ہفتوں میں اس وزن کو پہنچ جاتی ہے۔</p>
<p>ہم بات کررہے تھے چوہے کی جسامت کے ہاتھی کی۔صرف ہاتھی پر ہی کیا موقوف، آج سے تقریبا ً &nbsp;چھ &nbsp;کروڑ سال پہلے تمام چوپائے،&nbsp; جن میں گائے، بیل، گھوڑے اوراسی طرح کے دوسرے بڑے بڑے جانور شامل ہیں، &nbsp;کے قد پانچ چھ انچ سے زیادہ نہیں تھے اور وزن چوہے کے برابر تھا۔&nbsp; ان کا قد اور وزن انتہائی کم ہونے کی ایک وجہ تھی&nbsp; موت کا خوف۔۔۔کیونکہ چھوٹا قد ہی انہیں گوشت خور ڈینوساروں سے بچا سکتا تھا۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اس زمین پر کروڑوں سال تک ڈینوساروں کا راج رہا ہے۔ ڈینوساروں کا ابتدائی سراغ تقریباً 13 کروڑ سال پہلے ملتا ہے۔ ڈینوسار بنیادی طور پر چھپکلی جیسے تھے۔ وہ انڈے دیتے تھے، مگر اپنے انڈے سہتے نہیں تھے۔ وہ اپنے بچوں کی&nbsp; دیکھ بھال سے بھی آزاد تھے۔چنانچہ ان کا ایک ہی کام تھا، خوراک ڈھونڈنا اور خوب سیر ہوکر کھانا۔ &nbsp;اس دور میں پورے کرہ ا رض کی فضا گرم مرطوب تھی ، حتی کہ قطبی علاقوں میں بھی برف کی بجائے جنگلات تھے اور وہاں بڑے پیمانے پر بارشیں ہوتی&nbsp; تھیں۔ دنیا بھر میں &nbsp;پانی اورنباتات کی بہتات تھی۔ خوراک کی فراوانی تھی ۔ جس کا اثر ڈینوساروں کے قداور وزن کی شکل میں ظاہر ہوا۔ دنیا کے مختلف حصوں سے دریافت ہونے والی باقیات سے یہ نشان دہی ہوتی ہے کہ ڈینوساروں کی لمبائی 100 فٹ اور وزن 80ٹن تک تھا۔</p>
<p>ڈینوساروں کی کئی اقسام تھیں ، جن میں سے بعض نسلیں گوشت خور تھیں۔ ان کے خوف سے&nbsp; چوپائے یعنی اپنے بچوں کو دودھ پلانے والے جانور دن بھر چھپے رہتےتھے اور رات کی&nbsp; تاریکی میں خوراک کی تلاش میں نکلتے تھے۔ خوف اور خورا ک کی قلت سے ان کے قد چھوٹے رہ گئے تھے اور ہاتھی بھی چوہے بن گئے تھے۔</p>
<p>غالباً چھ کروڑ سال پہلے ڈینوسار دنیا سے غائب ہوگئے۔ کوئی نہیں جانتا کہ آخر ایسے کیا عوامل تھے کہ ان کی نسل تک مٹ گئی۔ بعض ماہرین کا کہناہے کہ زمین پر شروع ہونے والا&nbsp; سرمائی دور ان کے خاتمے کا سبب بنا۔ کچھ کا خیال ہے کہ کسی بڑے سیارچے کے زمین سے ٹکرانے سے ہونے والی تباہی ان کے خاتمے کا سبب بنی۔ بعض کی رائے ہے کہ وہ زمین پر موجود ساری خوراک چٹ کرنے کے بعد بھوک سے مر گئے۔ ماہرین کے ایک اور گروہ کا کہناہے کہ ڈینوساروں کی بڑی جسامت ہی ان کے خاتمے کا سبب بنی کیونکہ ان کے دماغ تک یہ اطلاع ہی نہیں پہنچ پاتی تھی کہ ان کی دم یا جسم کا کوئی حصہ کسی وجہ سے زخمی ہوگیا ہے۔ خیال یہ ہے کہ ڈینوساروں کے دنیا سے مٹنے کے ایک سے زیادہ اسباب تھے۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دور میں جب موت &nbsp;&nbsp;ڈینوساروں کو نگل رہی تھی، ان کی ایک نسل اپنی جان بچانے &nbsp;میں کامیاب رہی اور یہ &nbsp;نسل آج بھی ہمارے درمیان موجود ہے جنہیں ہم پرندوں کےطور پر پہچانتے ہیں۔</p>
<p>ڈینوساروں کے خاتمے کے بعد دیگر جانوروں&nbsp; کے لیے زندگی آسان ہوگئی۔ اب وہ بلاخوف و خطر گھوم پھر سکتے تھے۔ اپنی خوراک تلاش کرسکتے تھے۔ اپنی نسل کی افزائش کرسکتے تھے۔ اپنے بچوں کو پروان چڑھا سکتے تھے۔</p>
<p>سائنس دانوں کا کہناہے کہ وزن کم کرنا سب&nbsp; سے آسان کام ہے ۔ جب لمبے عرصے تک خوراک کی کمی رہے تو متاثرہ جانداروں کے جین خود کوحالات کے مطابق ڈھال لیتے ہیں اوران کی &nbsp;آنے والی نسلیں چھوٹے&nbsp; قد کی ہوتی ہیں تاکہ ان کی خوراک کی ضروریات کم ہوں۔ لیکن یہ مرحلہ چند برسوں میں طے نہیں پاتا۔ اس کے لیے ہزاروں سال درکار ہوتے ہیں۔</p>
<p>لیکن اگر خوراک کی فراوانی ا ور ماحول اور آب و ہوا موافق ہوں توبھوک زیادہ لگتی ہے اور خوش خوراکی وزن میں اضافہ کرتی ہے۔ اور جب یہ سلسلہ طویل عرصے تک چلتا رہے تو جین کے اندر تبدیلیاں آنے لگتی ہیں اور آنے والی نسلوں کے قدکاٹھ بڑھنا شروع ہوجاتے ہیں۔ ماہرین کا کہناہے کہ&nbsp; حجم کم کرنا نسبتا ایک آسان کام ہے جب کہ قدکاٹھ بڑھانے سے تعلق رکھنے والے جین&nbsp; میں تبدیلی کا عمل بہت سست رفتار ہے۔ جس میں &nbsp;لاکھوں سال لگ سکتے ہیں۔</p>
<p>سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ کسی جانور کے قد اور جسامت میں تبدیلی کے واضح آثار کم از کم ایک لاکھ نسلوں کے بعد ظاہر ہوتے ہیں۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>آسٹریلیا کی میلبرن یونیورسٹی کے سائنس دان ڈاکٹر ایلسٹیر ایونز&nbsp; کا، جو جانووں کے سائز اور وزن میں تبدیلی پر تحقیق کرنے والی ٹیم کے سربراہ تھے، کہناہے کہ جانوروں کے قد تقریباً سات کروڑ سال پہلے بڑھنا شروع ہوئے تھے۔ یہ وہ وہ دور تھا جب ڈینوسار اپنے خاتمے کی جانب بڑھ رہے تھے۔</p>
<p>ڈاکٹر ایونز کا کہناہے کہ ڈینوسار دور کے&rsquo; چوہے ہاتھی&lsquo; اور آج کے دیوقامت ہاتھی کے درمیان&nbsp; اس کی کم ازکم دوکروڑ 40 لاکھ نسلوں کا فاصلہ ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 2 Feb 2012 13:18:13 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138558484</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[جمیل اختر]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-02T13:18:13Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Elephant-Baby-480.jpg" length="60893" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
																																																													
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Elephant-Baby-480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Elephant-Baby-300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/elephants-300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/Dinosaur-Museum-Chuxiong-300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/museum-dinosaur-300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																										</media:group>
																						</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>بند آنکھوں کے خواب</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/dreams-human-19jan12-137659898.html</link>
				<description>خواب سچے بھی ہوسکتے ہیں مگر ان کا تناسب آٹے میں نمک کے برابر ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>زیادہ دور پرے کی بات نہیں ہے کہ اکثر اخباروں اور رسالوں میں ایسے مستقل کالم اور صفحات شائع ہوتے تھے جن میں خوابوں کی تعبیر بتائی جاتی تھی۔ اکثر گھروں میں، اور اکثر پرتکلف محفلوں میں اپنے خواب سنانے کا رواج عام تھا&nbsp; مگر اب ایسا کم کم ہوتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لوگوں نے خواب دیکھنے چھوڑ دیے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ جدید دور کی مصروفیات میں ان کے پاس اپنے خواب سنانے کا وقت نہیں رہا۔</p>
<p>ماہرین کا کہناہے کہ خواب ہر کوئی دیکھتا ہے، خواہ وہ نوزائیدہ بچہ ہو یاسوسال سے بھی بڑی عمر کا بزرگ۔ &nbsp;ایک اندازے کے مطابق انسان اپنی نیند کے دوران تقریباً ہر ڈیڑھ گھنٹے کے بعد خواب دیکھتا ہے اور نارمل نیند &nbsp;میں چار سے سات خواب آتے ہیں۔</p>
<p>کسی بھی سوئے ہوئے شخص کے پاس کچھ دیر بیٹھ کر آپ یہ جان سکتے ہیں کہ اس نے کب کب خواب دیکھا۔ کیونکہ خواب دیکھتے وقت آنکھوں کی پتلیاں&nbsp; تیزی سے حرکت کرتی ہیں۔ عموماً &nbsp;یہ عمل چند منٹ تک جاری رہتا ہے، لیکن بعض صورتوں میں اس کا دورانیہ 45 منٹ تک بھی ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہناہے کہ&nbsp; خواب دیکھتے وقت انسان کے دماغ کا ایک حصہ ، جس کا تعلق ہمارے تحت الاشعور سے ہے، انتہائی فعال ہوجاتا ہے ۔ جس &nbsp;میں آنکھوں کی پتلیاں حرکت کرنے لگتی ہیں۔&nbsp; یہ نیند کی کمزور حالت کہلاتی ہے۔ گہری نیند میں انسان کوئی خواب نہیں دیکھتا۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>خواب ہر کوئی دیکھتا ہے مگر بہت کم لوگ ایسے ہیں جنہیں جاگنے کے بعد اپنے خواب یاد رہتے ہیں۔ خواب صرف وہی یاد رہتے ہیں ، جنہیں دیکھنے کے دوران آنکھ کھل جائے۔ نفسیات کے ماہرین کا کہناہے کہ جاگنے کے پہلے پانچ منٹ کے اندر انسان آدھے سے زیادہ خواب بھول جاتا ہے، جب کہ&nbsp; اگلے پانچ منٹ میں&nbsp; وہ 90 فی صد خواب اس کی یاداشت سے نکل جاتے ہیں۔</p>
<p>نابینا افراد بھی عام انسانوں کی طرح ہر رات خواب دیکھتے ہیں، مگر ان کے خواب دوسرے لوگوں سے قدرے مختلف ہوتے ہیں۔ جو افراد پیدائشی نابینا نہیں ہوتے، ان کے خواب بہت حد تک عام لوگوں جیسے ہوتے ہیں جب کہ پیدائشی نابینا افراد اپنے خوابوں میں شکلیں نہیں دیکھتے ، لیکن ان کے خوابوں میں آوازیں، چیزوں کو چھو کر محسوس کرنے ، جذبات اور محسوسات دوسروں کی نسبت زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔</p>
<p>خواب صرف انسان ہی نہیں بلکہ تقریباً ہر زی روح دیکھتا ہے۔ اگر آپ کے گھر میں بلی، کتا یا کوئی اور پالتو جانور موجود ہے تو آپ سوتے میں اس کی آنکھوں کی پتلیوں کی حرکت سے یہ جان سکتے ہیں کہ وہ اس وقت خواب دیکھ رہاہے۔</p>
<p>کئی لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے کبھی کوئی خواب نہیں دیکھا۔ ماہرین کا کہناہے کہ اس دعوے کی حقیقت یہ ہے کہ بیدار ہونے پر وہ اپنے خواب بھول چکے ہوتے ہیں۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>کئی لوگ یہ کہتے ہیں ہیں انہیں&nbsp; اپنے خوابوں میں عجیب و غریب شکلیں اور چہرے دکھائی دیتے ہیں۔ جب کہ نفسیات کے ماہرین اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ انسان خواب میں صرف وہی &nbsp;چہرے دیکھتا ہے جسے وہ &nbsp;اپنی زندگی میں کہیں نہ کہیں &nbsp;اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ چکاہوتا ہے۔ ہم روزانہ بہت سے افراد کو دیکھتے ہیں۔ عمر بڑھنے کے ساتھ &nbsp;ہماری نظروں میں آنے والے چہروں کی تعداد ہزاروں بلکہ لاکھوں تک پہنچ جاتی ہے۔ ہم ان میں سے زیادہ تر کو نہیں جانتے&nbsp; مگر وہ شکلیں ہمارے تحت الا شعور میں محفوظ ہوجاتی ہیں۔&nbsp; چونکہ خواب دیکھنے کے عمل میں ہمارا شعور کام نہیں کررہا ہوتا اس لیے تحت الاشعور میں محفوظ شکلیں گڈمڈ ہوکر &nbsp;بعض اوقات عجیب صورت اختیار کرلیتی ہیں&nbsp; اور وہ ہمیں عام انسانوں سے مختلف نظر آتی ہیں۔</p>
<p>ہماری آنکھیں روزانہ لاکھوں ہزاروں رنگوں کا نظارہ کرتی ہیں ، مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے زیادہ تر خواب سفید و سیاہ یعنی بلیک اینڈ وائٹ ہوتے ہیں۔ لیکن ایک حالیہ مطالعاتی رپورٹ سے ظاہر ہوا ہے کہ خوابوں میں رنگ دیکھنے والے افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ماہرین کا کہناہے کہ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ اب ہمارا زیادہ تر وقت کلر ٹیلی ویژن کے سامنے گذرتا ہے ۔ اس کے رنگ اور کردار ہمارے شعور میں جذب ہوکر ہمارے خوابوں میں ظاہر ہورہے ہیں۔</p>
<p>کچھ لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں اپنے خوابوں میں غیب سے اشارےملتے ہیں۔ کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ سچے خواب دیکھتے ہیں۔ ایک مطالعاتی جائزے کے مطابق&nbsp; کم ازکم 18 فی صد لوگ زندگی میں کم ازکم ایک سچا خواب ضرور &nbsp;دیکھتے ہیں، جب کہ&nbsp;&nbsp; مختلف علاقوں اور کمیونیٹز کے لحاظ سے 63 سے 98 فی صد لوگ سچے خوابوں پر یقین رکھتے ہیں۔ دوسری جانب سائنس دانوں&nbsp; کا کہنا ہے کہ خواب سچے ہونے کا امکان اتنا ہی ہے جتنا کہ بعض لوگ روزمرہ زندگی میں کچھ چیزوں کا قبل ازوقت درست اندازہ لگالیتے ہیں۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>بعض لوگ اپنے خوابوں میں خود کو فضاؤں میں &nbsp;پرندوں کی طرح اڑتا ہوادیکھتے ہیں۔ بعض&nbsp; افراد خود کو روح کی طرح ہلکا پھلکا اور لمحوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ آتا جاتا دیکھتے ہیں۔ ماہرین کا کہناہے کہ&nbsp; ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ خواب دیکھنے کے عمل میں شعور ہمارے ساتھ نہیں ہوتا، اور خوابوں کو تحت الشعور میں موجود ہماری خواہشیں اور آرزوئیں کنٹرول کررہی ہوتی ہیں۔</p>
<p>خواب دیکھنے کے دوران انسان&nbsp; کی نیند گہری نہیں ہوتی ، اس لیے &nbsp;بسا اوقات اردگرد کی آوازیں بھی خواب کا حصہ بن جاتی ہیں۔مثال کے طورپر اگر کوئی شخص گاڑی میں&nbsp; سفر کے دوران یہ خواب دیکھ رہا ہو کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف ہے تو خواب کے &nbsp;دوران کئی ایسے &nbsp;لمحات آسکتے ہیں جس میں وہ یہ محسوس کرے کہ وہ گاڑی یا کسی اور سواری میں دوستوں کے پاس آجارہاہے یا اردگرد کی آوازوں سے منسلک اشکال اس کے خواب کا حصہ بن رہی ہیں۔</p>
<p>اور سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ خراٹے لینے والے نہ صرف یہ کہ دوسروں کی نیند خراب کرتے ہیں بلکہ جب تک وہ خراٹے&nbsp; لیتے رہتے ہیں، خود بھی کوئی خواب نہیں دیکھ سکتے۔</p>
<p>بند آنکھوں کے خواب عموماً خواب ہی رہتے ہیں جب کہ جاگتی آنکھوں کے خوابوں کو انسان&nbsp; کوششوں سے حقیقت بنا سکتا ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 19 Jan 2012 12:23:43 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">137659898</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[جمیل اختر]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-19T12:23:43Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Dream-480.jpg" length="159781" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
																																																													
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Dream-480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="310" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Dream+waves-300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/dreaming-300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/Brain+and+dreams-300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/Dream+waves-300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																										</media:group>
																						</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>گلابی رنگ لڑکیوں کی شناخت کیوں؟</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/why-pink-color-for-girls-14jan12-137343058.html</link>
				<description>نصف صدی پہلے تک لڑکے گلابی رنگ کے کپڑے پہننا پسند کرتے تھے جب کہ لڑکیوں کا پسندیدہ رنگ نیلا تھا۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>گلابی رنگ شاید تمام لڑکیوں کا پسندیدہ نہ ہو اوردوسرے رنگ بھی ان کے لیے کشش رکھتے ہوں مگر دنیا بھر عموماً گلابی رنگ کوخواتین بالخصوص لڑکیوں سے منسوب کیا جاتا ہے اوران کے ملبوسات اور عام استعمال کی &nbsp;&nbsp;اکثر اشیاء میں گلابی رنگ کی جھلک نمایاں ہوتی ہے۔</p>
<p>ریڈی میڈ گارمنٹس کی دکانوں پر آپ کو لڑکیوں کے ملبوسات میں گلابی رنگ واضح طورپر دکھائی دے گا۔ نوزائیدہ اور شیر خوار بچیوں کے زیادہ تر ملبوسات تو ہوتے ہی گلابی رنگ کے ہیں۔ اسی طرح لڑکیوں کے استعمال کی دوسری چیزیں، مثلاً ان کے اسکول بیگ، کاپیوں کے کور، پنسلیں ، قلم اور اسٹیشنری کی اکثر چیزوں میں&nbsp; گلابی رنگ زیاد ہ نظر آئے گا۔</p>
<p>مغربی ممالک کے اکثر گھروں میں لڑکیوں کے کمروں میں گلابی پینٹ کیا جاتا ہے اور اس کمرے کا فرنیچر اور روزمرہ ضرورت کی &nbsp;دوسری اشیاء بھی گلابی یا اس کے ملتے جلتے شیڈز کی ہوتی ہیں۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>ویلنٹائن ڈے کے موقع پردنیا بھر میں گلابی اور سرخ رنگ کے پھول اور کارڈ کروڑوں کی تعداد میں &nbsp;فروخت ہوتے ہیں۔</p>
<p>ایسے والدین بھی ایک بڑی تعداد میں موجود ہیں جو اپنی بچیوں کو پیار سے پنکی یا روزی یا گلابو کہہ کر پکارتے ہیں۔جس کی ایک واضح مثال بے نظر بھٹو کی ہےجنہیں گھر میں پنکی کہا جاتاتھا۔</p>
<p>رنگ کی شناخت صرف لڑکیوں اور خواتین تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس دائرے میں لڑکے اور مرد بھی آتے ہیں اور نیلے رنگ کو ان سے منسوب کیا جاتا ہے۔</p>
<p>&nbsp;گارمنٹس کی دکانوں میں مردوں کے زیادہ تر لباس نیلے یا اس سے ملتے جلتے شیڈز میں ہوتے ہیں۔ آپ کو اچھے &nbsp;گرم مردانہ سوٹ زیادہ تر گہرے سے ہلکے اور سیاہی مائل نیلے رنگوں میں ہی ملیں گے۔ برانڈ کمپنیاں&nbsp; مردوں کی شیونگ کریمیں ،جل ، شیمپو اور روزہ مرہ استعمال کی دوسری اشیاء زیادہ تر نیلی پیکنگ میں ہی فروخت کے لیے پیش &nbsp;کرتی ہیں۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>اکثر گھروں میں لڑکوں کے کمروں میں نیلا رنگ کیا جاتا ہے۔ ان کی اسٹیشنری کی زیادہ تر اشیاء بھی اسی رنگ کی ہوتی ہیں۔</p>
<p>کیا جنس کے اعتبار سے رنگوں کی پسند انسان کے جین میں شامل ہے؟ &nbsp;اس کی وجہ نفسیاتی ہے یا اس کا تعلق ثقافتی روایات اور تاریخ سے ہے؟</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ ان سب باتوں کاجواب نفی میں ہے۔ زیادہ دور پرے کی بات نہیں ہے رنگوں کی یہ تخصیص&nbsp; بالکل الٹ تھی۔ آج سے صرف چھ عشرے پہلے تک یہ سمجھاجاتاتھا کہ گلابی اور سرخ رنگ لڑکوں اور مردوں کے لیے ہوتے ہیں جب کہ لڑکیوں کو نیلا رنگ پہننا چاہیے۔</p>
<p>اس سوچ&nbsp; میں تبدیلی کا آغاز&nbsp; غالباً پچھلی صدی&nbsp; کے ابتدائی برسوں میں&nbsp; ہوا، &nbsp;جس کی بڑے پیمانے پر مخالفت کی گئی ۔ خاص طور پر لڑکیوں کو گلابی رنگ کے کپڑے پہنانے&nbsp; کے خلاف اخبارات نے مہم چلائی۔&nbsp; ایک امریکی اخبار&rsquo; سنڈے سینٹی نل&lsquo;مارچ 1914 ء کی ایک اشاعت میں لکھا کہ اگر آپ اپنے چھوٹے بچوں کو رنگوں کی شناخت دینا چاہتے ہیں تو لڑکوں کے لیے گلابی اور لڑکیوں کے لیے نیلے رنگ کاانتخاب کریں۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>اسی طرح ایک اور جریدے&rsquo; لیڈیز ہوم جرنل&lsquo; نے جون 1918ء میں&nbsp; اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ اگرچہ رنگوں کے چناؤ کے مسئلے پر کافی تنوع پایا جاتا ہے مگر ایک تسلیم شدہ اصول یہ ہے کہ گلابی رنگ لڑکوں کے لیے ہے جب کہ نیلا لڑکیوں کے لیےہے۔</p>
<p>اس دور کے کئی ناولوں اور کہانیوں میں بھی جہاں کرداروں کے لباس&nbsp; کا ذکر کیا گیا ہے، وہاں زیادہ تر لڑکیاں نیلے اور لڑکے گلابی رنگوں میں ملبوس دکھائی دیتے ہیں۔</p>
<p>گلابی اور نیلے رنگ کی یہ بحث لگ بھگ چار عشرے تک &nbsp;چلی اور 1950 ء کے لگ بھگ رنگوں کی مروجہ &nbsp;ترتیب الٹ گئی ۔ جس کے بعد یہ تسلیم کرلیا گیا کہ گلابی&nbsp; لڑکیوں اور نیلا لڑکوں کا رنگ ہے۔</p>
<p>اس تبدیلی میں دو چیزوں نے اہم کردار ادا کیا ۔ پہلا ہٹلر کی نازی حکومت &nbsp;اور دوسرا ریڈی میڈ گارمنٹس بنانے والی برانڈ کمپنیوں نے۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>لیکن اس سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ کئی سوسال تک نیلے کو لڑکیوں اور گلابی کو لڑکوں کا رنگ کیوں سمجھا جاتا رہا۔ &nbsp;مغربی معاشرے میں اس کی کڑیاں قبل از مسیح کے دور سے ملتی&nbsp; ہیں۔ روایات کے مطابق حضرت مریم&nbsp; نیلالباس پہنتی تھی۔ ان سے عقیدت کے اظہار کے لیے عیسائی معاشروں میں لڑکیوں کو نیلالباس پہنایا جاتاتھا۔ ماضی میں یہ تصور بھی عام تھا کہ چونکہ آسمان نیلا ہوتا ہے اس لیے یہ رنگ تقدس اور پاکیزگی کی علامت ہے ۔چنانچہ لوگ اپنی بچیوں کو نیلےلباس میں دیکھنا پسند کرتے تھے۔</p>
<p>ہمارے ہاں &nbsp;آج بھی لڑکیوں کے اکثر اسکولوں کا &nbsp;یونیفارم نیلا ہے اور دنیا کے اکثر ملکوں میں گرل کائیڈ ز نیلا لباس پہنتی ہیں جس کی بنا پر ہمارے ہاں انہیں نیلی چڑیا بھی کہاجاتا ہے۔</p>
<p>ماضی میں گلابی رنگ&nbsp; کی کوئی اپنی علیحدہ حیثیت نہیں تھی اور اسے سرخ رنگ کے ایک شیڈ کے طورپر دیکھا جاتاتھا۔ چونکہ جنگوں میں مرد حصہ&nbsp; لیتے تھے اور اپنا خون بہاتےتھے جس کا &nbsp;اظہار وہ سرخ لباس پہن کرکرتے تھے۔ ماضی کی پینٹنگز میں اعلیٰ حکومتی عہدے داروں ، فوجیوں اور معززین کے ملبوسات میں سرخ رنگ کی جھلک &nbsp;نمایاں&nbsp; طورپر دکھائی دیتی ہے۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>لیکن چین کا ماضی ایک مختلف تصویر پیش کرتا ہے۔ قدیم چین میں لڑکوں کو نیلے اور لڑکیوں کو سرخ کپڑے پہنائے جاتےتھے۔ اس کی وجہ خالصتاً معاشی تھی۔ ماضی میں کپڑے کو نیلا رنگ دینا خاصا مہنگا تھا جب کہ اس کے مقابلے میں سرخ رنگ پر سب سے کم خرچ آتاتھا۔اکثر مشرقی معاشروں کی طرح چین میں بھی لڑکوں کو لڑکیوں پر فوقیت دی جاتی تھی اس لیے لڑکوں کو نیلے اور لڑکی کو سرخ کپڑے پہنائے جاتے تھے۔اس قدیم روایت کو&nbsp; ماؤزئے تنگ نے توڑ کر پوری قوم کو نیلی یونیفارم پہنا دی۔</p>
<p>اس &nbsp;تبدیلی میں جرمن نازیوں نے غیر دانستہ طورپر اہم کردار ادا کیا۔ نازیوں نے &nbsp;اپنی جیلوں میں قیدیوں کے لیے مختلف رنگوں کے لباس مقرر کررکھے تھے تاکہ دور سے ہی پہچان لیا جائے کہ وہ کس جرم کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ مثلاً وہ یہودیوں کو نیلا اور ہم جنس پرستوں کو گلابی یونیفارم&nbsp; پہناتےتھے۔ چنانچہ رفتہ رفتہ گلابی رنگ نسوانیت کی علامت بن گیا اور &nbsp;یورپ اورمغربی ممالک کے ہم جنس پرستوں نے اس رنگ کو اپنی &nbsp;شناخت کے طورپر تسلیم کرلیا۔اب &nbsp;ان کی تقریبات میں یہ رنگ نمایاں دکھائی دیتا ہے اور ان کی &nbsp;&nbsp;معاشی سرگرمیوں&nbsp; کو پنک برنس یعنی گلابی کاروبار کہاجاتا ہے۔</p>
<p>غالباً 1950ء کے لگ بھگ ریڈی میڈ ملبوسات کی کمپنیوں نے لڑکیوں کے لباس ڈیزائن کرتے ہوئے گلابی رنگ کو ترجیح دینی شروع کردی، پھر گڑیاں ، کھلونے اور بچیوں کے استعمال کی چیزیں تیار کرنے والی کمپنیاں بھی اس جانب راغب ہونے لگیں اوراس کے بعد کے برسوں میں گلابی رنگ نے&nbsp; تقربیاً دو ہزار سال &nbsp;سے مروج نیلے رنگ کو نکال کر دنیا بھر میں قبولیت اور مقبولیت کی سند حاصل کرلی۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sat, 14 Jan 2012 14:27:23 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">137343058</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[جمیل اختر]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-14T14:27:23Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/women+india-480.jpg" length="149600" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
																																																																																															
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/women+india-480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="360" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/women+india-300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Valentine-300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/baby+taiwan-300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/women+afghanistan-300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/women+japan-300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/pink-300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																										</media:group>
																						</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>بھوتوں کی سائنسی حقیقت</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/ghost-secience-12dec11-135441428.html</link>
				<description>کیا آئن سٹائن کا نظریہ اضافیت  بھوتوں کے وجود کی تصدیق کرتا ہے؟</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>کیا آپ بھوت پکڑنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟</p>
<p>دنیا کے تقریباً ہرحصے میں ایسے عامل اور ماہر موجود ہیں جن کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ بھوتوں کو پکڑ سکتے ہیں اور انہیں بھاگنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔ ان دعوؤں کی حمایت اور مخالفت میں بہت کچھ کہا جاتا ہے اور لاکھوں افراد ایسے ہیں جویہ خواہش کرتے ہیں کہ الہ دین کے چراغ کے جن کی طرح ان کے قبضے میں بھی کوئی جن بھوت آجائے اور ان کی زندگی آسان ہوجائے۔</p>
<p>سوال یہ ہے کہ بھوت کیا کچھ کرسکتے ہیں، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ آیا اس دنیا میں ان کا کوئی وجود ہے بھی یا نہیں؟</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے بھوتوں پر پر یقین رکھنے والوں کی تعداد نمایاں طورپر زیاد ہے۔ پس ماندہ معاشروں کی تو بات ہی چھوڑئیے،&nbsp; ترقی یافتہ ممالک میں بھوتوں کی موجودگی پر یقین کرنے والے اکثریت میں ہیں۔&nbsp; امریکہ میں تو ہرسال اکتوبر کے آخر میں ہالووین کے نام سے&nbsp; بھوتوں اور روحوں کو خوش کرنے کا دن بھی منایا جاتا ہے۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>اور سب سے بڑھ کر یہ کہ امریکہ میں پرانے اور پیچیدہ مقدمات سے متعلق&nbsp; ٹیلی ویژن چینل پر&nbsp; دکھائی جانے والی متعدد رپورٹوں میں پولیس بعض دفعہ اندھے جرائم کے مجرموں تک پہنچنے کے لیے عالموں کے ذریعے بھوتوں کی مدد بھی حاصل کرتی ہے۔</p>
<p>مشرق اور مغرب میں بھوتوں پر الگ الگ نظریات اور تصورات پائے جاتے ہیں۔ کچھ عقائد میں انہیں ایک علیحدہ مخلوق کے طورپر دیکھا جاتا ہے، مثلاً جن وغیرہ، &nbsp;جب کہ مغرب میں اکثر کا یہ خیال ہے کہ&nbsp; بھوت انسانوں اور حیوانوں کی بھٹکی ہوئی روحیں ہیں۔ ہم اس مضمون میں روحوں کے نظریے پر ہی بات کریں گے۔</p>
<p>بھوتوں کا نظریہ یہ اتنا ہی پرانا جتنا کہ انسانی تاریخ۔ کئی قبل از تاریخ کھنڈرات اور قدیم غاروں کی دیواروں پر بنی تصویریں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ اپنے شعور کے ابتدائی دور میں بھی انسان بھوتوں پر یقین رکھتا تھا۔</p>
<p>دنیا بھر میں ایسے افراد بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں جو انہیں دیکھنے، یا ان سے ہم کلام ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ان میں سے کئی ایک کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ بھوتوں کے ساتھ رہ رہے ہیں۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>بھوتوں پر ہالی وڈ کی کئی کامیاب فلمیں ریلز ہوچکی ہیں اور امریکہ اور یورپ میں ان پر کئی مشہور ٹی ویژن سیریل دکھائے جاچکے ہیں۔ لیکن بھوتوں سے متعلق علوم کے ماہرین کا کہناہے کہ ٹیلی ویژن اور فلموں میں بھوتوں کو ڈراونے انداز میں پیش کیا جاتا ہے جبکہ بھوتوں کی اکثریت صلح پسند ہوتی ہے۔اور وہ نقصان پہنچانے سے گریز کرتے ہیں۔</p>
<p>مغربی دنیا میں بھوتوں کے اکثر عامل پیرا سائیکالوجی کے ماہر کہلاتے ہیں۔ ایک عامل جان کاکوبا نے اپنی کتاب &rsquo;گوسٹ ہنٹرز&lsquo; میں لکھا ہے کہ آئن سٹائن کا نظریہ اضافیت بھوتوں کی موجودگی کو ثابت کرتا ہے۔ جس کے مطابق توانائی کو فنا نہیں کیا جاسکتا۔ وہ کہتے ہیں کہ روح توانائی کی ایک قسم ہے، جو برقی مقناطیسی قوت کی صورت میں جسم میں رہتی ہے۔ جسم مرجاتا ہے لیکن روح نہیں مرتی، کیونکہ وہ ایک توانائی ہے۔ جب کہ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جس طرح جسم مٹی کے ساتھ مل کرمٹی ہوجاتاہے، اسی طرح جسم میں موجود توانائی حرارت میں تبدیل ہوکر فضا میں تحلیل ہوجاتی ہے۔</p>
<p>پیرا سائیکالوجی کےاکثر ماہرین جان کاکوبا کے ہی نظریات پر یقین رکھتے ہیں۔</p>
<p>انسان کاجسمانی نظام بجلی پر کام کرتا ہے جو جسم کے اندر ہی پیدا ہوتی ہے۔ مخصوص کیمروں کے ذریعے جسم سے خارج ہونے والی خفیف برقی لہروں کی تصویر اتاری جاسکتی ہے۔ عاملوں کا کہناہے جسم کی موت کے بعد یہ برقی توانائی یا روح دوسری دنیا میں چلی جاتی ہے، لیکن جو افراد مرتے وقت انتقام یا محبت کے شدید ترین جذبات کی کیفیت سے گذر رہے ہوتے ہیں، ان کی روحیں اپنے مقصد کی تکمیل تک دنیا میں ہی رک جاتی ہیں، جو بھوت بن جاتی ہیں۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>صرف انسانی روحیں ہی بھوت کی شکل میں ظاہر نہیں ہوتیں بلکہ کئی گھریلو پالتو جانور، مثلاً ایسے کتوں اور بلیوں کی روحیں بھی ان کے مرنے کے بعد بھوت بن جاتی ہیں جنہیں اپنے مالکوں سے شدید محبت ہوتی ہے یا وہ کوئی خاص انتقام لینا چاہتی ہیں۔&nbsp; یہ روحیں اکثر اپنے مالکوں کا پیچھا کرتی رہتی ہیں۔</p>
<p>اکثر عاملوں کا کہنا ہے کہ بھوت از خود کچھ نہیں کرسکتے۔ انہیں اپنا مشن مکمل کرنے کے لیے انسانی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ مدد کے لیے ہمارے اردگرد منڈلاتے رہتے ہیں۔ جب ان کا کام پورا ہوجاتا ہے تو باقی روحوں کی طرح&nbsp; وہ بھی دوسری دنیا میں چلے جاتے ہیں۔</p>
<p>پیرا سائیکالوجی&nbsp; کے ماہرین &nbsp;کا کہنا ہے کہ بعض انسانوں کا جسمانی برقی مقناطیسی نظام بہت توانا ہوتا ہے یا وہ مشق کے ذریعے وہ اپنی یہ قوت اتنی زیادہ بڑھا لیتے ہیں کہ دوسروں کی سوچ اور خیالات پر اثرانداز ہونے کے قابل ہوجاتے ہیں، جس کی ایک نمایاں مثال ہپناٹزم اور ٹیلی پیتھی کے ماہرین ہیں۔ &nbsp;لیکن جب کسی غلطی کی وجہ&nbsp; سے وہ اپنی مقناطیسی لہروں کو کنٹرول نہیں کرپاتے تو وہ توانائی بھی بھوت کی شکل اختیار کرلیتی ہیں۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>پیرا سائیکالوجی کے ان ماہرین کو اپنے نظریے پر اتنا پختہ یقین ہے کہ وہ بھوت پکڑنے کے لیے سائنسی آلات استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً قطب نما، برقی مقناطیسی لہروں کا کھوج لگانے والے میٹر،&nbsp; حرارت اور توانائی کی لہروں کی تصویر اتارنے والے کیمرے، اور مخصوص قسم کے سکینر وغیرہ،&nbsp; لیکن وہ اپنا یہ ٹریڈ سیکریٹ نہیں بتاتے کہ وہ کس طرح بھوتوں سے ہم کلام ہوتے ہیں۔</p>
<p>بھوتوں کی تصویریں اور ویڈیوز بڑی تعداد میں یوٹیوب اور انٹرنیٹ کی کئی سائٹس پر موجود ہیں۔ لیکن سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ زمین کے مخصوص مقناطیسی میدان، اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بعض مقامات پر ایسے چھوٹے چھوٹے برقی دائرے بن جاتے ہیں، جو الیکٹرانک آلات پر بھوت کی شکل میں دکھائی دیتے ہیں۔</p>
<p>بھوتوں سے منسوب زیادہ تر واقعات قدیم اور متروک عمارتوں، کھنڈرات، اجاڑ اور ویران جگہوں، نیم تاریک اور ٹھنڈے مقامات پر رونما ہوتے ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ اور اسی طرح کے اور بھی کئی ایسے سوالات ہیں جن کا ابھی تک پیرا سائیکالوجی کے ماہرین اور سائنس دانوں کے پاس کوئی ٹھوس جواب موجود نہیں ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Mon, 12 Dec 2011 16:15:06 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">135441428</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[جمیل اختر]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-12-12T16:15:06Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Ghost-482.jpg" length="66755" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
																																																																														
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Ghost-482.jpg" medium="image" isDefault="true" height="330" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Ghost-302.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/ghost-303.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/ghost-305.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/Ghost--304.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/ghost-300..jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																										</media:group>
																						</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>مینڈک زلزلے سے پیشگی آگاہ  ہوجاتے ہیں</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/earthquake-toad-research-6dec11-135088448.html</link>
				<description>مینڈکوں کو تین روز پہلے پتا چل جاتا ہے کہ زلزلہ آنے والا ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>ممکن ہے کہ آپ کے لیے یہ خبر دلچسپی کا باعث ہوکہ مینڈکوں کو کئی گھنٹے اور بسااوقات دو تین روز پہلے ہی پتا چل جاتا ہے کہ زلزلہ آنے والا ہے اور وہ اپنے بچاؤ کے لیے محفوظ مقامات کی طرف بھاگنا شروع کردیتے ہیں۔</p>
<p>قدرت نے کئی جانوروں اور پرندوں کو ناگہانی خطرات سے پیشگی خبردار کرنے کی صلاحیت عطا کی &nbsp;ہے۔ مثلاً بارش سے قبل کئی پرندے محفوظ مقامات کی طرف اڑنے لگتے ہیں۔ آندھی سے کافی دیر &nbsp;پہلے جھینگروں کی آوازیں بند ہوجاتی ہیں، خطرے کی بوسونگھ کر گھوڑے اچانک مخصوص انداز میں ہنہنانے لگتے ہیں، اسی طرح جنگل کے جانور خطرے کو قبل از وقت بھانپ&nbsp; کر جان بچانے کے لیے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔</p>
<p>لیکن اپریل2009ء میں اٹلی کے علاقےلاکویلا میں&nbsp; تقریباً چھ درجے شدت کے &nbsp;زلزلے سے پہلے کسی کو یہ علم نہیں تھا کہ مینڈکوں کو اس ناگہانی آفت کا تین روز پہلے ہی پتا چل گیا تھا۔</p>
<p>لاکویلا میں زلزلے سے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلی تھی اور بڑے زلزلے کے بعد ہفتوں تک &nbsp;چھوٹے زلزلوں کے &nbsp;ہزاروں جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔</p>
<p>زلزلے کو قدرتی آفات میں سب سے زیادہ خطرناک تصور کیاجاتا ہے کیونکہ زلزلہ کسی کو سنبھلنے، سوچنے سمجھنے اور جان بچانے کا موقع نہیں دیتا اور لمحوں میں ہنستی بستی آبادیاں ملبوں کا ڈھیر بن جاتی ہیں۔چند سال قبل پاکستان کے شمالی علاقے میں&nbsp; ایک تباہ کن زلزلے سے صرف چند منٹ میں درجنوں آبادیاں کھنڈر بن گئی تھیں اور 80 ہزار سے زیادہ افراد موت کے منہ میں چلے گئےتھے۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>ہماری زمین بڑی بڑی چٹانی پرتوں پر قائم ہے، جن &nbsp;کے کونے ایک دوسرے کے اوپر رکھے ہیں۔ زمین کے گہرائیوں میں درجہ حرارت کی تبدیلی ، اندورنی دباؤ اور بعض دوسرے عوامل کی وجہ سے یہ چٹانیں آہستہ آہستہ کھسکتی رہتی ہیں۔ جب ایک چٹان دوسری چٹان سے ہٹتی ہے تو زمین کی سطح پر کئی سو میل تک زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے جاتے ہیں۔ اور پھر بعد میں ہلکے جھٹکے (آفٹر شاکس )اس وقت تک آتے رہتے ہیں جب تک کھسکنے والی چٹان نئی جگہ پر مضبوطی سے جم نہیں جاتی۔</p>
<p>آج کے جدید سائنسی دور میں &nbsp;ماہرین یہ جانتے ہیں کہ دنیا کے کون کون سے شہر اور آبادیاں اس مقام پر واقع ہیں جہاں زمین کی تہہ میں چٹانیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں اور ان کے کھسکنے کے امکانات موجود ہیں، لیکن ابھی&nbsp; تک ایسا کوئی نظام تیار نہیں کیا جاسکا جس سے پہ پتا چل سکے کہ چٹانوں کے کھسکنے کا عمل کب شروع ہوگا۔</p>
<p>لیکن دو سال پہلے اٹلی کے ایک تالاب سے زلزلہ آنے سے پہلےزیر تجربہ &nbsp;مینڈکوں کے اچانک فرار نے سائنس دانوں کو ایک نئی راہ دکھائی۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>ہوا یہ کہ ایک ماہر حیاتیات مس گرانٹ ، اٹلی کے شہر لاکویلا میں&nbsp; مینڈکوں پر تحقیق کررہی تھیں۔ &nbsp;تالاب میں 90 کے لگ بھگ مینڈک رکھے گئے&nbsp; تھے لیکن جب زلزلے سے تین روز پہلے 80 سے زیادہ مینڈک&nbsp; گھبراہٹ کے عالم میں &nbsp;تالاب چھوڑ کر بھاگ گئے تو انہوں نے ناسا کے ماہرین سے رابطہ کیا۔</p>
<p>سائنسی جریدے زولوجی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زلزلے سے&nbsp; تین روز قبل تالاب میں زیر تجربہ مینڈکوں کا فرار&nbsp; محض کوئی اتفاق نہیں تھا، کیونکہ&nbsp; انہیں زلزلے کے کئی روز بعدآفٹرشاکس کی شدت کم ہونے پر دوبارہ تالاب میں رہنے پر مجبور کیا جاسکا تھا۔</p>
<p>ناسا کے ماہرین نے اندازہ لگایا کہ زیر زمین چٹانوں کے کھسکنے سے پہلے یقیناً ایسی&nbsp; کیمیائی تبدیلیاں آتی ہیں ، جسے مینڈکوں کا حسیاتی نظام محسوس کرلیتا ہے اور انہیں اپنی جان بچا کر بھاگنے پر مجبور کردیتا ہے۔</p>
<p>تجربات سے انہیں معلوم ہوا کہ چٹانیں اچانک اپنی جگہ نہیں چھوڑتیں بلکہ شدید دباؤ کے تحت یہ عمل کئی روز پہلے شروع ہوجاتا ہے۔ اس دوران چٹانیں برقائے ہوئے ذرات خارج کرنا شروع کردیتی ہیں&nbsp; جو زمین کی سطح پر موجود پانی&nbsp; کو متاثر کرتے ہیں۔ ناسا کے سائنس دان فرائیڈ من&nbsp; &nbsp;کا کہناہے کہ بہت ممکن ہے کہ پانی میں یا اس کےقریب رہنے والے کچھ&nbsp; جانداروں پر،مثلاً مینڈک وغیرہ، زمین کے اندر سے خارج ہونے والی برقی لہروں&nbsp; کا شدید اثرہوتا ہو جس سے بچنے کے لیے وہ وہاں سے چلے جاتے ہوں۔</p>
<p>ناسا ہی کے ایک اور سائنس دان ڈاکٹر فرینڈ کہتے ہیں کہ زلزلے سے قبل چٹانوں سے نکلنے والے والے برقی ذرات زمین کی سطح پر آکر ہوا میں آئن پیدا کردیتے ہیں۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>آئن مثبت چارج رکھنے والے برقی ذرات ہوتے ہیں۔ فضا میں ان کی زیادتی کئی لوگوں میں&nbsp; سردرداور متلی کی کیفیت پیدا کردیتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے خون میں دباؤ بڑھانے والے ہارمونز کی سطح بھی بلند ہوجاتی ہے۔ لیکن چونکہ فضا&nbsp; میں برقی ذرات&nbsp; کی موجودگی کی اور بھی کئی وجوہات ہوتی ہیں&nbsp; اس لیے سردرد اورمتلی کو زلزلے کی پیش گوئی نہیں سمجھا جاسکتا۔</p>
<p>جب کہ ماہرین کا کہناہے کہ کسی ایسی جگہ سے جو فالٹ زون یعنی زلزلوں کے امکانی علاقے میں واقع ہو، پانی سے بڑے پیمانے پر مینڈکوں کے فرار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔</p>
<p>اس کے علاوہ کئی دوسرے عوامل بھی زلزلے کے امکان کی نشان دہی کرتے ہیں۔ مثلاً اکثر پالتو جانورزلزلے سے کئی گھنٹے قبل گھبراہٹ اور پریشانی میں عجیب و غریب حرکات کرنے لگتے ہیں۔ فالٹ زون میں زلزلے سے پہلے فضا میں تابکاری کی سطح بڑھ جاتی ہے اور کرہ ہوائی کے آئن زون میں&nbsp; برقی ذرات کی مقدار تبدیل ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر آسمان پر بادل ہوں تووہ اس سے کہیں مختلف دکھائی دیتے ہیں جیسا کہ عموماً نظر آتے ہیں۔</p>
<p>مینڈکوں نے سائنس دانوں کے لیے تحقیق کے نئے دروازے کھول دیے ہیں اوریہ امکان پیدا ہوگیا ہے کہ مستقبل قریب میں زلزلے سے کئی گھنٹے قبل اس کی پیش گوئی کی جاسکے گی۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ زلزلہ پیما مراکز میں مینڈک پالے جائیں گے بلکہ ایسا نظام تیار کیا جاسکتاہے جو زیر زمین چٹانوں سے خارج ہونے والے برقی ذرات کی مؤثر پیمائش کرکے خطرے سے پیشگی خبردار کرسکے گا۔</p>
<p>
<object classid="clsid:02bf25d5-8c17-4b23-bc80-d3488abddc6b" width="530" height="47" codebase="http://www.apple.com/qtactivex/qtplugin.cab#version=6,0,2,0">
<param name="src" value="http://media.voanews.com/audio/Yasmin-Toads-2nd+version.Mp3" /><embed type="video/quicktime" width="530" height="47" src="http://media.voanews.com/audio/Yasmin-Toads-2nd+version.Mp3"></embed>
</object>
</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 6 Dec 2011 13:45:03 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">135088448</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[جمیل اختر]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-12-06T13:45:03Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/toad-480.jpg" length="67766" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
																																																													
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/toad-480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Toad-302.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Earthquake+faul+line-301.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/Toad-303.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/Pak+earthquake-300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																										</media:group>
																						</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>آئن سٹائن کے دماغ کی نمائش</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/einstein-brain-display-30nov11-134741628.html</link>
				<description>فلاڈلفیا کے ایک میڈیکل میوزیم میں بیسویں صدی کے عظیم سائنس دان ڈاکٹر البرٹ آئن سٹائن کا دماغ کی پہلی بار نمائش  کے لیے رکھا گیا ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>البرٹ آئن سٹائن زندگی بھر کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے اور توانائی اور مادے کے تعلق کی گتھیاں سلجھانے کا سوچتے رہے، مگر اس دوران شاید انہوں نے کبھی یہ نہیں سوچا ہوگا کہ ایک روز ان کا دماغ نمائش کے لیے رکھا جائے گا اور لوگ حیرت سے اسے دیکھ کر سوچیں گے کہ یہی ہے وہ دماغ جس نے ایٹم توڑ کر توانائی حاصل کرنے کانظریہ پیش کیا تھا اور جس نے کہا تھا کہ کائنات کی کوئی چیز روشنی کی رفتار کو نہیں پہنچ سکتی۔</p>
<p>جدید طبیعاتی سائنس کی بنیاد آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت پر قائم ہے، مگر چند ماہ قبل یورپ میں قائم جوہری طبیعات کی دنیا کی سب سے بڑی زیر زمین تجربہ گاہ میں&nbsp; یہ نظریہ باطل ہوچکاہے اور روشنی سے بھی تیزرفتار ذرات نیوٹرینو دریافت کرلیے گئے ہیں۔</p>
<p>ان دنوں امریکی شہر فلاڈلفیا کے مووٹرمیوزیم اینڈ ہسٹاریکل میڈیکل لیبارٹری میں آئن سٹائن کے دماغ کی نمائش جاری ہے۔ اس نمائش میں ان کے دماغ&nbsp; کو46 ٹکڑوں کی شکل میں سلائیڈوں پر پیش کیا گیا ہے۔ 20 ویں صدی کے اس عظیم ترین سائنس دان کے دماغ کی یہ پہلی نمائش ہے۔</p>
<p>عجائب گھر کی کیوریٹر اینا ڈوڈی کا کہناہے کہ میوزیم میں آنے والے دماغ کی 45 سلائیڈوں کو اپنی اصلی حالت میں دیکھ سکتے ہیں جب کہ ایک سلائیڈ کو خردبینی عدسے کے ذریعے بڑا کرکے دکھانے کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>آئن سٹائن کا انتقال 1955ء میں 76 سال کی عمر میں ہواتھا۔ موت کے اسباب کا پتا لگانے کے لیے ڈاکٹر ٹامس ہاروے نے ان کا پوسٹ مارٹم کیاتھا۔اس دوران ڈاکٹر نے ان کا دماغ بھی معائنہ کے لیے باہر نکالا مگر وہ اسے دوبارہ کھوپڑی کے اندر رکھنے میں ناکام رہے اور انہوں نے دماغ کو اپنے ہی پاس رکھ لیا۔ ڈاکٹر ہاروے نے دعویٰ کیا تھا کہ آئن سٹائن کے بیٹے نے انہیں دماغ لے جانے کی اجازت دی تھی۔ لیکن اس پر کھڑے ہونے والے تنازع میں ڈاکٹر ہاروے کو اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑے، مگر عظیم سائنس دان کا دماغ انہی کی تحویل میں رہا۔</p>
<p>ڈاکٹر ہاروے کو اپنی ابتدائی &nbsp;تحقیق سے پتا چلا کہ دماغ کے دونوں حصوں کو ڈھاپنے والی مخصوص تہہ موجود نہیں تھی اور دماغ کے خلیوں کا حفاظتی حصہ بھی نمایاں طورپر بڑا تھا۔ گویا آئن سٹائن کا دماغ عام افراد سے کچھ مختلف تھا۔</p>
<p>اس واقعہ کے کئی سال کے بعد ڈاکٹر ٹامس ہاروے نے آئن سٹائن کے دماغ کے کچھ حصے مزید تحقیق کے لیے نیورو سائنس دانوں کو بجھوائےتا کہ وہ یہ جائزہ لیں کہ دماغ کے کس حصے نے &nbsp;انہیں 20 ویں صدی کا ذہین ترین سائنس دان بنانے میں مدد دی تھی۔</p>
<p>تفصیلی معائنے&nbsp; اور متعدد تجربات سے گذرنے کے بعد ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ آئن سٹائن کے دماغ کے وہ حصے جن کا تعلق بول چال اور زبان سے ہوتا ہے، نسبتاً چھوٹے تھے ، جب کہ ریاضی اور سوچ بچار سے متعلق حصے ایک نارمل دماغ کی نسبت15 فی صد بڑے&nbsp; تھے ۔ اس کے علاوہ نیوران، یعنی تمام دماغی امور انجام دینے والے خلیوں کے&nbsp; گرد مخصوص حفاظتی تہہ &rsquo; &nbsp;گلیال &lsquo; بھی عام افراد کی نسبت بڑی تھی۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>1999ء میں کینیڈا کے شہر ہملٹن&nbsp; میں واقع مک ماسٹر یونیوسٹی میں دماغی&nbsp; امور کے ماہرین کی ایک اور ٹیم کوتفصیلی معائنے سے پتا چلا کہ آئن سٹائن کے دماغ کے سامنے کے حصے&nbsp; میں ایک خلا موجود تھا۔ ماہرین نے اندازہ لگایا کہ اس خلاکے باعث اس حصے میں واقع نیوران کی کاررکردگی نمایاں طور پر بہتر بنانے میں مدد ملی ۔اور اسی لیے ان کی سوچ ایک عام آدمی سے مختلف تھی۔ آئن سٹائن کا خود بھی یہ کہناتھا کہ وہ جو کچھ سوچتے ہیں ،اسے تصور کی آنکھ سے دیکھ بھی رہے ہوتے ہیں۔ &nbsp;</p>
<p>ماہرین کا کہناہے کہ آئن سٹا ئن کے دماغ کا ایک اور نمایاں پہلو یہ ہے کہ اگرچہ ان کا انتقال 76 سال کی عمر میں ہواتھا مگردماغ کی ساخت دیکھ کرایسا لگتا ہے جیسے وہ کسی نوجوان شخص کا دماغ ہو۔</p>
<p>ڈاکٹر ٹامس ہاورے نے چونکہ اپنی تربیت کے دوران کچھ وقت فلاڈلفیا کی اسی لیبارٹری میں گذارا تھا۔ اس لیے انہوں نے دماغ پر تحقیق کے لیے &nbsp;اس میڈیکل میوزیم کے ایک ماہر ولیم ایریچ&nbsp; &nbsp;سے رابطہ کرکے&nbsp; اس کی 46 سلائیڈز بنوائیں۔ ہر سلائیڈ&nbsp; کی موٹائی انسانی بال سے بھی کم تھی۔ جنہیں انہوں نے &nbsp;ایک خصوصی بکس میں محفوظ کرلیا۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>سلائیڈیں بننے کے بعد آئن سٹائن کے دماغ کا ایک نیا سفر شروع ہوا۔&nbsp; کچھ عرصہ یہ سلائیڈیں ولیم ایریچ کے پاس رہیں۔ 1967ء میں ایریچ کے انتقال کے بعد ان کی بیوہ نے وہ بکس ایک&nbsp; اور ڈاکٹر ایلن سٹائن برگ کے حوالے کردیا۔&nbsp; جنہوں نے مزید تحقیق کے لیے اسے&nbsp; فلاڈلفیا کے چلڈرن ہاسپٹل کے نیوروسرجن ڈاکٹر لکی رورک ایڈمز کو دے دیا۔</p>
<p>ڈاکٹر ایڈمز نے اپنی تحقیق مکمل کرنے کے بعدحال ہی میں آئن سٹائن کے دماغ کی سلائیڈوں کا مکمل سیٹ مووٹر میوزیم کو عطیہ میں دیا ہے۔لائیو سائنس میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر ایڈمز نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ آئن سٹائن کے دماغ کو میڈیکل سائنس کی تاریخ کے ایک اہم حصے کے طور پر مووٹر میوزیم&nbsp; میں رکھ دیا جائے۔</p>
<p>میڈیکل ہسٹری میوزیم کی عہدے دار ڈورڈی کا کہناہے کہ کچھ عرصے تک&nbsp; آئن سٹائن کے دماغ کی&nbsp; نمائش اسی عجائب گھر میں جاری رہے گی، بعد میں&nbsp; دوسرے عجائب گھروں میں&nbsp; اسے نمائش کے لیے بھیجا جائے گا۔</p>
<p>آڈیو ملاحظہ ہو۔</p>
<p>
<object classid="clsid:02bf25d5-8c17-4b23-bc80-d3488abddc6b" width="416" height="65" codebase="http://www.apple.com/qtactivex/qtplugin.cab#version=6,0,2,0">
<param name="src" value="http://media.voanews.com/audio/Yasmin-+Einstein1.Mp3" /><embed type="video/quicktime" width="416" height="65" src="http://media.voanews.com/audio/Yasmin-+Einstein1.Mp3"></embed>
</object>
</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 30 Nov 2011 12:52:45 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">134741628</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[جمیل اختر]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-11-30T12:52:45Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/AlbertEinstein-480.jpg" length="72473" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
																																																													
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AlbertEinstein-480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="290" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Einstein-301.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/einstein-304.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/brain-305.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/Einstein-301.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																										</media:group>
																						</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>خون کی کاشت</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/human-blood-rice-china-14nov11-133797313.html</link>
				<description>چینی سائنس دانوں نے چاول کے پودے میں انسانی جین کی پیوند کاری سے  خون کا اہم جزو پلازما حاصل کرلیا۔ </description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>یونیورسٹی کالج لندن کے شعبہ جینیات کے پروفیسر اسٹیو جونز&nbsp; کا کہناہے کہ انسان کا 50 فی صد ڈی این اے کیلے جیسا ہے۔ گویا کیلا انسان کا نصف رشتے دار ہے۔ کئی ماہرین اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ لیکن اب حال ہی میں انکشاف ہوا ہے کہ کیلے کی طرح چاول بھی انسان کا &nbsp;رشتے دار ہے اور اس کا انسا ن سے خون کارشتہ ہے۔چاول &nbsp;سے نہ صرف خون حاصل کیا جاسکتا ہے بلکہ اسے اصلی خون کی طرح بلاخوف خطر مریضوں کودیا بھی جاسکتا ہے۔</p>
<p>سائنس دانوں کا کہناہے کہ چاول کے پودوں میں &nbsp;انسانی ڈی این اے کی پیوند کاری کر کے خون کا ایک اہم جزو پلازما حاصل کیا جاسکتا ہے۔جسے اسپتالوں میں ان مریضوں کے علاج کے&nbsp; لیے استعمال کیا جاسکتا ہے،جنہیں خون کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔</p>
<p>ماہرین کو توقع ہے کہ چاول کی جینیاتی فصل کاشت کرکے اتنی بڑی مقدار میں انسانی خون کا متبادل حاصل کیا جاسکتا ہے کہ پھر شاید خون کا&nbsp; عطیہ دینے والوں کی ضرورت باقی نہ رہے۔</p>
<p>دنیا بھر میں خون کی بڑھتی ہوئی طلب اور اس کے مقابلے میں عطیہ دینے والوں کی کمی نے سائنس دانوں کی توجہ خون کے ایسے متبادل تیار کرنے پر مرکوز کروا دی ہے ، جو اپنی خصوصیات کے اعتبار سے اصلی انسانی خون جیسا ہو اور اس کا استعمال انسانی صحت کے لیے محفوظ ہو۔</p>
<p>حال ہی میں برطانوی سائنس دانوں نے سٹم سیل سے لیبارٹری میں اصلی خون تیار کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ لیبارٹری میں تیار کیا جانے والا خون ایک عشرے کے اندر&nbsp; میڈیکل اسٹوروں پر کھلے عام ملنے لگے گا جو&nbsp; تین سال تک کے لیے قابل استعمال ہوگا جب کہ اصلی خون 42 دن کے بعد اپنی افادیت کھو بیٹھتا ہے۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>اور اب حال ہی میں چین کے سائنس دانوں نے یہ چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے چاول کے پودے میں جینیاتی تبدیلی کرکے&nbsp; کامیابی کے ساتھ ایسی فصل اگالی ہے جو انسانی خون کا حقیقی متبادل فراہم کرسکتی ہے۔</p>
<p>انسانی خون کے تین بنیادی حصے ہیں ، یعنی سرخ خلیے، پلیٹ لٹس&nbsp; اور پلازما۔</p>
<p>سرخ خلیے پھیپھڑوں سے آکسیجن لے کر دماغ اور جسم کے تمام حصوں تک پہنچاتے ہیں اور استعمال شدہ کاربن ڈائی اکسائیڈ واپس پھیپھڑوں میں&nbsp; لاتے ہیں جو انہیں سانس کے ذریعے خارج کردیتے ہیں۔</p>
<p>&nbsp;پلیٹ لٹس جمنے کی صلاحیت رکھنے والے باریک ذرات ہوتے ہیں۔ یہ جسم سے خون کا اخراج روکتے ہیں اور زخم کو بند کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ بعض امراض میں، جن میں ڈینگی بخار بھی شامل ہے، خون میں پلیٹ لٹس کی مقدار کم ہوجاتی ہے اور جسم سے خون بہنا شروع ہوجاتا ہے جو زندگی کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔</p>
<p>خون کا تیسرا اور سب سے بڑا&nbsp; بنیادی جزو پلازما کہلاتا ہے جوایک خاص پروٹین&rsquo; ہیومن سیرم&nbsp; البومین &lsquo; پر مشتمل ہوتا ہے۔ خون کی شدید کمی کی صورت میں مریض کو عموماً پلازما&nbsp; دیا جاتا ہے۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>چین کی ووہان یونیورسٹی کے سائنس دانوں کا کہناہے کہ چاول میں جینیاتی تبدیلیاں کرکے بڑی مقدار میں &rsquo;ہیومن سیرم البومین&lsquo; کاشت کیا جاسکتا ہے ، جو اسپتالوں میں خون، بالخصوص پلازما کی بڑھتی ہوئی ضرورت پوری کرسکتا ہے۔ اس وقت پلازما عطیے سے حاصل ہونے والے خون&nbsp; سے تیار کیا جاتا ہے۔</p>
<p>خون کا 55 فی صد حصہ پلازما پر مشتمل ہوتا ہے۔ پازما&nbsp; خون میں سب سے اہم کردار ا دا کرتا ہے۔ جن میں ہارمونز، وٹامنز ، معدنیات اور خوراک فراہم کرنے والے دیگر مرکبات کو جسم کے تمام حصوں تک پہنچانا اوراستعمال شدہ فاسد مادوں کو اخراج کے لیے جگراور گردوں تک واپس لے جاناشامل ہے۔گویا پلازما خوراک کی فراہمی اور اندورنی صفائی جیسے اہم ترین امور انجام دیتا ہے۔</p>
<p>پلازما خون کے دباؤ کو بھی اعتدال پر رکھنے میں مدد دیتا ہے۔</p>
<p>وسطیٰ چین میں واقع ووہان یونیورسٹی کے سائنس دان ڈاکٹر دائی چنگ یانگ ، جو اس تحقیق کے سربراہ ہیں، کہتے ہیں کہ ہیومن سیرم البومین&nbsp; ایک انتہائی اہم پروٹین ہے&nbsp; اور دنیا کے اسپتالوں میں اس کی سالانہ مانگ کا تخمینہ 500 ٹن سے زیادہ ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر یانگ کی ٹیم کا دعویٰ ہے کہ چاول کے پودے میں جینیاتی تبدیلی کے ذریعے انسانی پلازما کا یہ بنیادی جزو بڑی مقدار میں باآسانی حاصل کیا جاسکتا ہے۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>چاول سے پلازما کی تیاری کے لیے ڈاکٹر یانگ نے ایک منفرد طریقہ استعمال کیا۔ انہوں نے چاولوں کی ایک قسم میں بیکٹریا کی مدد سے انسانی ڈی این اے داخل کیا، جس سے چاول کے پودے انسانی خون کا پلازما تیار کرنے لگے۔</p>
<p>جریدے &rsquo;پروسیڈنگ&nbsp; آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز&lsquo; میں شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چاول سے حاصل ہونے والا پروٹین کیمیائی اور طبی لحاظ سے اصلی خون جیسا ہے۔ڈاکٹر یانگ کا کہناہے کہ چوہوں پر کیے جانے والے تجربات حوصلہ افزا ہیں جس سے اس کے&nbsp; انسانوں میں استعمال کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر دائی چنگ یانگ اپنے&nbsp; تجربات جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ ان کا کہناہے کہ اب وہ چاولوں کی فصل&nbsp; سے انسانی خون میں شامل دوسرے اجزاء مثلاً سرخ خلیے جنہیں ہیموگلوبین کہا جاتا ہے، حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔</p>
<p>ان کی ٹیم چاولوں میں جینیاتی تبدیلی کرکے ذیابیطس کے مرض پر قابوپانے والا پروٹین تیار کرنے کے تجربات بھی کررہی ۔</p>
<p>چین میں کچھ عرصے سے انسانی جین کی پیوندکاری پر تحقیقی کام ہورہاہے۔ چند ماہ پہلے چین کے سائنس دانوں نے گائے میں انسانی جین داخل کرکے&nbsp; ایک منفرد نسل کی تین سو ایسی گائیں تیار کی تھیں جن سے حاصل ہونے والے دودھ میں انسانی دودھ کی تمام خصوصیات موجود تھیں۔ لیکن اس تحقیق کے منظر عام پر آنے کے بعد دنیا بھر میں جانوروں کے حقوق کی تنظیموں نے شدید نکتہ چینی کی تھی۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Mon, 14 Nov 2011 12:49:48 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">133797313</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[جمیل اختر]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-11-14T12:49:48Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Rice-480.jpg" length="65056" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
																																																													
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Rice-480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Rice-303.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Rice-302.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/Rice-303.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/lab-300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																										</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>واشنگٹن میں ’مستقبل کے رہنما  کانفرنس‘ </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/usa/US-Pakistan-Foundation-25Oct11-132536568.html</link>
				<description>کانفرنس کی افتتاحی تقریب 21  اکتوبر کو وہائٹ ہاؤس میں ہوئی۔ جس میں  اوباما انتظامیہ کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اور فارن پالیسی سپیچ رائٹر نے نوجوانوں کوجنوبی ایشیا  سے متعلق صدر اوباما کی پالیسی اور ترجیحات سے آگاہ کیا  </description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>گذشتہ دنوں وائٹ ہاؤس میں &rsquo;مستقبل کے راہنماؤں کی تشکیل &lsquo; کے نام سے ایک کانفرنس&nbsp; منعقد ہوئی ۔ جس کا ایک نمایاں پہلو اس میں امریکہ کی 16 ریاستوں سے تعلق رکھنے والے165 پاکستانی نژاد طالب علموں کی شرکت تھی۔ جن میں سے اکثر ہائی اسکولوں کے طالب علم تھے۔</p>
<p>اس کانفرنس کا اہتمام یوایس پاک فاؤنڈیشن نے کیاتھا۔</p>
<p>کانفرنس کی افتتاحی تقریب 21 &nbsp;اکتوبر کو وہائٹ ہاؤس میں ہوئی۔ جس میں&nbsp; اوباما انتظامیہ کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اور دیگر سینیر حکام نے&nbsp; نوجوانوں کوجنوبی ایشیا&nbsp; سے متعلق صدر اوباما کی پالیسی اور ترجیحات سے آگاہ کیا۔&nbsp;</p>
<p>&nbsp;تنظیم کے ایگزیکٹو ڈائیریکٹر عرفان ملک کا کہنا ہے کہ اس کانفرنس کا مقصد پاکستانی نژاد امریکی نوجوانوں کو مستقبل میں قائدانہ کردار کے لئے تیار کرنا ہے۔ گزشتہ سال اس کانفرنس میں &nbsp;پندرہ امریکی ریاستوں سے 175 طالب علم شریک ہوئے تھے۔</p>
<p>وہائٹ ہاؤس میں منعقدہ تقریب میں امریکہ کے آرگنائیزیش آف اسلامک کانفرنس کے لیے خصوصی مندوب رشاد حسین، اوباما&nbsp; انتظامیہ کے پال ٕمونٹیرونے بین المذاہب مکالمے پر بات کی جبکہ&nbsp; نیشنل سیکیورٹی کونسل میں میں گلوبل انگیجمنٹ کے ڈائرکٹر شارق ظفر اور تمنا ثلیق الدین&nbsp; نےبھی نوجوانوں سے مختلف امور پر بات چیت کی۔ اس کے بعد نوجوان طالب علموں کو &nbsp;کیپیٹل ہل لے جایا گیا &nbsp;جہاں کینن بلڈنگ میں &nbsp;کانفرنس کے باقاعدہ سیشن کا آغاز ہوا۔</p>
<p>کانفرنس کے اجلاس میں مسلمان کمیونیٹی&nbsp; کے لیے امریکی دفترِ خارجہ &nbsp;کی نمائندہ&nbsp; فرح پنڈت، پاکستانی نژاد ویٹ لفٹر خاتون کلثوم عبداللہ اور پاکستانی نژاد امریکی کاروباری شخصیت&nbsp; مسلم لاکھانی کے علاوہ کئی نمایاں شخصیات نے نوجوانوں کو اپنے تجربات سے آگاہ کیا۔</p>
<p>&nbsp;اسی شام پاکستانی سفارتخانے نے کانفرنس کے شرکاء کے اعزاز میں &nbsp;ایک عشائیے کا اہتمام کیا جس میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی نے نوجوانوں سے خطاب کیا۔</p>
<p>عرفان ملک نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ کانفرنس میں شریک ایسے پاکستانی نژاد امریکیوں نے بھی اپنے خیالات کااظہار کیا جو یا تو امریکی حکومت یا پھر یہاں کے &nbsp;بڑے کاروباری اداروں سے منسلک ہیں۔ انہوں نے شرکاء کو&nbsp; یہ بتایا کہ مخصوص شعبوں میں جانے کے لیے کن مضامین کی تعلیم درکار ہوتی ہے۔</p>
<p>عرفان ملک کا کہنا تھا کہ کانفرنس کے چار سیشن ہوئے جن میں پہلا اور سب سے مفید سیشن اپنی ثقافتی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے قائدانہ &nbsp;کردار ادا کرنے کا تھا۔&nbsp; ماہرین نے نوعمر طالب علموں کو بتایا کہ آگے بڑھنے کے لئے یہ دونوں چیزیں ساتھ ساتھ کامیابی سے چل سکتی ہیں۔ دیگر اجلاسوں &nbsp;میں انہیں پبلک سپیکنگ، اپنا تعارفی خاکہ تحریر کرنے اور اسکول اور کالج میں تعلیم کے دوران ہراساں کیے جانے سے متعلق تھا۔</p>
<p>اس کانفرنس میں پاکستانی نژاد طالب علموں &nbsp;کی ملاقات ان &nbsp;بھارتی اور یہودی نوجوانوں سے &nbsp;بھی کروائی گئی، جو یہاں نمایاں مقام حاصل کرنے کے بعد اپنے شعبوں میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے بچوں کو اپنے تجربات سے آگاہ کیا۔</p>
<p>کانفرنس کےاخراجات کےمتعلق عرفان ملک کا کہنا تھا کہ منتظمین نے بچوں سے صرف 175 ڈالر رجسٹریشن فیس لی، جس سے ان کے کھانے، ٹرانسپورٹیشن اور&nbsp; کانفرنس کے لیے مسودات &nbsp;کی اشاعت کےنصف اخراجات ادا ہوئے ، جب کہ &nbsp;باقی اخراجات تنظیم نے خود برداشت کیے۔</p>
<p>عرفان ملک نے بتایا کہ اس &nbsp;کانفرنس کے ذریعے نوجوان طالب علموں کو&nbsp; امریکی سیاست، تجارت اور برنس میں نمایاں مقام حاصل کرنے والے پاکستانی نژاد امریکیوں&nbsp; سے براہ راست بات چیت کرنے کا موقع ملا۔ جنہوں نے انہیں اپنے تجربات سے آگاہ کرتے ہوئے کامیابیاں حاصل کرنے کے لیے مفید مشورے دیے۔</p>
<p>یو ایس پاک&nbsp; فاؤنڈیشن،&nbsp; پاکستانی امریکیوں کی ایک اور تنظیم&rsquo; پاک پیک&lsquo;&nbsp;کی ایک &nbsp;ذیلی شاخ ہے۔ عرفان ملک&nbsp;کا کہناتھا کہ پاک پیک&nbsp; کے &nbsp;زیادہ تر مقاصد سیاسی ہیں۔ چنانچہ ایک ایسی تنظیم بنانے کی ضرورت محسوس ہوئی جوپاکستانی امریکیوں کو ان کے حقوق سے آگاہ کرنے ، ان کے حصول کی جدوجہد کرنے اور امریکہ &nbsp;میں پاکستانی کمیونٹی &nbsp;کی شناخت کو بہتر بنانے کے لیے کام کرے۔</p>
<p>تنظیم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ اس کانفرنس کے ذریعے ہمار مقصدپاکستانی نژاد امریکیوں کو یہ بتانا تھا کہ اس ملک میں آگے بڑھنے کےلیے انہیں مساوی مواقع حاصل ہیں۔ اور انہیں اپنی صلاحتیوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ان سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 26 Oct 2011 16:22:56 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">132536568</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[انجم ہیرالڈ گل]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-10-26T16:22:56Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[ امریکہ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/USPAK--480.jpg" length="41995" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/USPAK--480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="320" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Rashad+Hussain--300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>پراسرار دائرے</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/crops-circles-mysterious-01oct11-130920878.html</link>
				<description>گذشتہ چالیس سال کے دوران دنیا کے مختلف حصوں میں اگائی جانے والی فصلوں میں دس ہزار سے زیادہ پراسرار دائرے ظاہر ہوچکے ہیں۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>کھیتوں میں نمودار ہونے والے پراسرار دائرے اور اشکال عموماً 30 سے 40 فٹ یا بعض اوقات اس سے بڑی ہوتی ہیں اوران میں اتنی نفاست اور مہارت ہوتی ہے کہ یوں لگتا ہے جسے کسی نے انہیں پرکار اور جیومیٹری کے دیگر آلات کی مدد سے بنایا ہے۔</p>
<p>بعض دائروں کے گرد &nbsp;چھلے کی شکل کی پگڈنڈیاں بھی ہوتی ہے۔ جوکبھی کبھی ایک دوسرے کو کاٹتے ہوئے خوبصورت پھول اور جیومیٹری کی دلکش اور پرکشش اشکال بناتی ہیں۔</p>
<p>ان&nbsp; دائرہ نما اشکال کو جب کسی بلند مقام سے دیکھا جائے، یا ان کا فضائی جائزہ لیاجائے تو وہ بہت دلکش لگتی ہیں اور دل بے اختیار ان کے تخلیق کار کو داد دینے کو چاہتا ہے۔ مگر دوسری جانب ، جس علاقے میں یہ دائرے اور اشکال&nbsp; ظاہر ہوتی ہیں، وہاں خوف وہراس پھیل جاتا ہے۔ کیونکہ اکثر مقامی باشندے انہیں آسیب یا کسی دوسرے سیارے سے آنے والی &nbsp;مخلوق کا کام سمجھتے ہیں۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>&nbsp;پراسرار دائروں کی خبریں گذشتہ 40 سال سے منظر عام پر آرہی ہیں مگر حالیہ برسوں میں ان کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوچکا ہے۔ اور اب وہ برطانیہ کے ونچسٹر کے دیہی علاقوں تک ہی محدود نہیں رہے بلکہ افریقہ کے صحراؤں سے آسٹریلیا کے دور افتادہ علاقوں تک میں نمودار ہورہے ہیں۔</p>
<p>پراسرار دائرے کون بنارہاہے؟</p>
<p>1972ء میں دوبرطانوی باشندوں آرتھر شٹل وڈ اور برائس بانڈ نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے سٹال ہل کے علاقے میں رات کی تاریکی میں ایک اڑن طشتری دیکھی۔ جس سے نکلنے والی تیز روشنی&nbsp; نے ایک قریبی کھیت میں کھڑی فصل پر دائرہ بنایا۔ جس سے دائرے کے اندر کھڑے پودے گر گئے اور اڑن طشتری وہاں سے چلی گئی۔</p>
<p>کچھ عرصے کے بعد برٹش کولمبیا میں آٹھ افراد نے یہ گواہی دی کہ انہوں نے اڑن طشتریوں کو فصلوں کے دائرے بناتے ہوئے دیکھا ہے۔</p>
<p>کئی لوگوں کا خیال ہے کہ پراسرار دائرے آسیب یا جنات بنارہے ہیں۔ کیونکہ یہ دائرے اکثر ان علاقوں کی فصلوں میں بنتے ہیں جہاں آس پاس قبل از مسیح آبادیوں کے کھنڈرات یا باقیات موجود ہیں۔ مثلاً برطانیہ میں سالسبری اور سٹون ہینج ، لانگ باروز اور چاک ہارسز وغیرہ کے علاقے۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>بعض ماہرین کا کہناہے کہ ان دائروں کی تخلیق میں زمین کی مقاطیسی لہروں کا ہاتھ ہے، کیونکہ جن علاقوں میں یہ دائرے ظاہر ہوتے ہیں وہاں عموماً مقناطیسی لہریں بہت طاقت ور ہیں۔</p>
<p>ماحولیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آلودگی اور عالمی درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ پراسرار دائروں کا ایک سبب ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جیسے جیسے عالمی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، دائروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔</p>
<p>آسٹریلیا کے برائن سالرنے اپنے ایک مضمون میں کہا ہے کہ انہیں پراسرار دائروں کے اندر آواز کی ہائی فریکوئنسی لہروں کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں۔</p>
<p>جب کہ کئی ماہرین نے پراسرار دائروں کے اندر تابکاری کی پیمائش بھی کی ہے، لیکن وہ یہ بتانے سے قاصر رہے ہیں کہ کھیت کے اس مخصوص حصے میں تابکاری کہاں سےآئی ۔</p>
<p>دائروں کا طلسم</p>
<p>برطانیہ کے ایک ریسرچر رچ اینڈرز نےاپنی تحقیق میں لکھا ہے کہ دائروں کے اندر تابکاری کے شواہد موجد تھے۔ قطب نما کام نہیں کررہا تھا۔ موبائل فونز کے سنگلز وصول نہیں ہورہے تھے۔ کیمرہ اور بجلی کے دیگرآلات نے اپنا کام چھوڑ دیا تھا۔ دائرے میں داخل ہونے والے افراد نے سردرد، متلی اور جسم کے مختلف حصوں میں درد کی شکایت کی اوران کی یہ کیفیت کئی دن بعد تک&nbsp; برقرار رہی۔ جب کہ دائرے کے قریب کھڑی گاڑیوں کی بیٹریاں ناکارہ ہوگئیں۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>اینڈرز کا کہنا ہے کہ دائرے کے اندر موجود پودے ایک خاص انداز میں زمین پر گرے ہوئے تھے۔ جب ان پر تجربات کیے گئے تو پتا چلا کہ کسی &nbsp;انتہائی گرم لہر کے گذرنے سے پودوں کے تنوں کے نچلے حصوں کے خلیے کمزور ہوگئے تھے۔ اور ان میں کھڑا رہنے کی سکت باقی نہیں رہی تھی۔ لیکن اگلے سال زمین کے متاثرہ حصے میں بوئی جانے والی فصل کی پیداوار تقریباً 40 فی صد زیادہ ہوئی۔</p>
<p>حیرت انگیزبات یہ ہے فصلوں میں یہ دائرے عموماً رات کی تاریکی میں بنتے ہیں ۔ اکثر اوقات یہ عمل رات کے ساڑھے گیارہ اور صبح چار بجے کے درمیان ہوتا ہے اور دائرہ یا ڈیزائن بننے میں ایک منٹ سے بھی کم وقت لگتا ہے۔</p>
<p>70 کے عشرے کے بعد سے 2011ء تک&nbsp; دنیا کے مختلف ملکوں میں فصلوں کے دس ہزار سے زیادہ پراسرار دائرے اور اشکال&nbsp; رپورٹ ہوچکی ہیں۔ یہ اشکال تقریباً 1900 اقسام کی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 90 فی صد دائرے برطانیہ میں دیکھے گئے ہیں جب کہ باقی دس فی صد کا تعلق امریکہ،&nbsp; افریقہ، کینیڈا، آسٹریلیا، جنوبی امریکہ، روس اور جاپان سے ہے۔</p>
<p>انسانی ہاتھ</p>
<p>1991 ءمیں جریدے سائنٹیفک امریکن میں میٹ ریڈلی کا ایک مضمون شائع ہوا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہوں نے لوگوں کو بےوقوف بنانے کے لیے ایک رسی اور لکڑی کے ایک ٹکڑے کی مدد سے شمالی انگلستان میں دائرے بنائے تھے۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>سائنسی جریدے &rsquo;فزکس ورلڈ&lsquo; کے جولائی کے شمارے میں یورنیوسٹی آف آریگان کے میٹریلز سائنس انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ٹیلر کا ایک مضمون شائع ہوا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ کھڑی فصلوں میں اس طرح کے دائرے لیزر کی شعاعوں، مائیکرو ویوز اور گلوبل پوزیشننگ سسٹم، یعنی جی پی ایس کی مدد سے بنائے جاسکتے ہیں۔</p>
<p>مگر یہ سوال تشنہ ہے کہ دور افتادہ دیہی علاقوں میں جدید سائنسی آلات کی مدد سے، سب کی نظروں سے چھپ کر دائرے بنانے کے مقاصد کیا ہیں؟ اگر چند مہم جو افراد یہ کام کررہے ہیں تو ایسی ہزاروں کارروائیوں کے باوجود ان میں سے کسی کو آج تک پکڑا یا دیکھا کیوں نہیں جاسکا۔</p>
<p>پراسرار دائرے مسلسل بن رہے ہیں۔ مگر کسی کے پاس اس سوال کا تسلی بخش جواب نہیں ہے کہ انہیں کون بنارہا ہے اور کیوں بنا رہا ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sun, 2 Oct 2011 01:38:52 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">130920878</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[جمیل اختر]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-10-02T01:38:52Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Wiltshire-Wheat-Low-481.jpg" length="60666" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
																																																																														
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Wiltshire-Wheat-Low-481.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/circle-302-.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Crop_circles-303.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/crops+circle-304.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/oliverscastle-305.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/circle-302-1.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																										</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>صدر براک اوباما کا تعلیمی اصلاحات پر زور</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/education-youth/Obama-Education-24Sep11-130497883.html</link>
				<description>ہفتے کے روز اپنے ہفتہ وار خطاب میں مسٹر اوباما نے کہا کہ تعلیمی اصلاحات نہ صرف  بچوں کی بہتری کے لیے  درست سمت  اقدام ہے ، بلکہ اس میں ملک کی بھی بہتری ہےاور یہ ہمارے مستقل کے لیے بھی فائدہ مند ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>صدر اوباما نے کہاہے کہ یہ وقت امریکہ کے تعلیمی معیار کو بلندکرنے اور معیشت کو ترقی دینے کے اقدامات کا ہے۔</p>
<p>ہفتے کے روز اپنے ہفتہ وار خطاب میں مسٹر اوباما نے کہا کہ تعلیمی اصلاحات نہ صرف&nbsp; بچوں کی بہتری کے لیے&nbsp; درست سمت&nbsp; اقدام ہے ، بلکہ اس میں ملک کی بھی بہتری ہےاور یہ ہمارے مستقل کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ انہوں نے کہا کہ&nbsp; یہ ٹیچرز کو ملازمتیں فراہم کرنے اور اسکولوں کا معیاربہتر بنانے کا وقت ہے۔</p>
<p>جمعے کے روز صدر اوباما نے اعلان کیاتھا کہ ملک کے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لیے بہت کچھ کرنے کی گنجائش موجود ہے اور اساتذہ کو چاہیے کہ&nbsp; بجائے اس کے کہ وہ بچوں کو امتحان کے لیے تیار کریں،&nbsp; انہیں علم حاصل کرنے کی جانب راغب کریں۔</p>
<p>صدر اوباما نے اپنی ریڈیو اور انٹرنیٹ تقریر میں یہ بھی کہا ہے کہ اس وقت ملازمتوں سے متعلق&nbsp; کانگریس کے سامنے جو بل موجود ہے، اس کے ذریعے اسکولوں کو مزید ٹیچرز مہیا کیے جائیں گے اور 35 ہزار اسکولوں کو جدید بنایا جاسکے گا جس سے یہ یقینی بنانے میں مدد ملے گی کہ ملک کا ہر بچہ معیاری تعلیم حاصل کرسکے گا۔</p>
<p>دوسری جانب ری پبلیکن پارٹی کی جانب سے ہفتہ وار خطاب میں سینیٹر سوزن کولنز نے کہا کہ ان کی جماعت یہ چاہتی ہے کہ حکومت کی جانب سے نافذ کردہ غیر ضروری ضوابط کو ختم کیا جائے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ نئے قوانین کی منظوری سے قبل اس بارے میں تفصیلی جائزہ لیاجاناچاہیے کہ ان کے کاروباروں پر کیا اثرات پڑیں گے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sat, 24 Sep 2011 16:14:05 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">130497883</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-09-24T16:14:05Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[تعلیم و نوجوان]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/ap_us_obama_education_23Sep11-resized.jpg" length="58652" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_us_obama_education_23Sep11-resized.jpg" medium="image" isDefault="true" height="322" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/US_president_Obama_weekly_address_300x300_White_House.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>جدید سائنس کی ٹیڑھی اینٹ،کیا نظریہ اضافیت غلط ثابت ہوجائیگا؟</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/health-science/Speed-of-Light-23Sep11-130425453.html</link>
				<description>نئی  سائنسی تحقیق نے آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کی صداقت پر، جو ایٹم کی ساخت اور کائنات کے اسرار ورموز کی بنیاد ہے، سوال کھڑے کردیے ہیں۔ </description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>اب سائنس دانوں کے سامنے سوال یہ ہے کہ آیا جدید سائنس کی بنیاد ایک ٹیڑھی اینٹ پر رکھی گئی ہے؟</p>
<p>آج تک یہ کہاجاتا رہاہے کہ اس کائنات کی سب سے تیزرفتار چیز روشنی ہے ، جس کی گرد کوئی نہیں پاسکتا ۔ اس نظریے کو جدید سائنس کی بنیاد سمجھا جاتا ہے ،مگرسائنس دانوں کی ایک ٹیم&nbsp; نے اپنے &nbsp;حالیہ تجربات کے بعد اسے باطل قرار دے دیا ہے ۔</p>
<p>آج کی جدید طبعیات، جس کاتعلق، ایٹم کی ساخت اور کائنات کے اسرار ورموز سے ہے، آئن سٹائن کے نظریہ اضافت پر کام کررہی ہے۔ انہوں نے یہ نظریہ &nbsp;1905ء میں پیش کیا تھا جس کے مطابق&nbsp; توانائی اور مادے کو ایک دوسرے میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ ان کےنظریے میں روشنی کی رفتار کو بنیادی&nbsp; اہمیت دی گئی ہے۔ جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ &nbsp;ایک لاکھ 86 ہزارمیل فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتی ہے۔</p>
<p>روشنی کائنات کی ایک &nbsp;اہم ترین توانائی ہے اور اس کائنات میں موجود &nbsp;چیزوں کے وجود کا احساس ہمیں روشنی ہی دلاتی ہے۔ جدید فزکس میں&nbsp; ستاروں ، سیاروں اور کہکشاؤں کے درمیان فاصلوں اور رفتار کا تعین روشنی کی رفتار سے ہی کیا جاتا ہے۔ مگر اب فزکس اور کائنات کی تخلیق پر تحقیق کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی تجربہ گاہ کے سائنس دانوں نے کہاہے کہ مسلسل تین سال سے جاری ان کے حالیہ تجربوں سے یہ ثابت ہوا کہ&rsquo; نیوٹرینو&lsquo; کی رفتار روشنی کی رفتار سے تیز ہے۔</p>
<p>نیوٹرینوکیاہے؟</p>
<p>نیوٹرینو ایٹم کا انتہائی مختصر جزو ہے ۔ اس میں مادے کی انتہائی قلیل مقدار ہوتی ہے۔ اس پر کوئی منفی یا مثبت برقی چارج نہیں ہوتا۔ وہ بلاروک ٹوک ہر چیز کے اندر سے، اپنے وجود کا احساس دلائے ، یا اس میں کوئی تبدیلی لائے بغیر گذر سکتا ہے۔ &nbsp;نیوٹرینو کائنات میں ہر جگہ موجود ہے۔ سورج کے اندر سے روشنی، حرارت اور دیگر تابکاری کے ساتھ نیوٹرینو بھی خارج ہورہاہے۔ اور یہ عمل کائنات میں توانائی اور&nbsp; تابکاری پیدا کرنے والی ہر چیز میں جاری ہے۔</p>
<p>کائنات کی تخلیق&nbsp; سے متعلق تحقیق کے لیے گذشتہ چند برسوں &nbsp;سے جنیوا کے نزدیک سب سے بڑی تجربہ گاہ &rsquo;سرن &lsquo; میں ایسے ذرات پر تجربات کیے جارہے ہیں جنہیں بعض سائنس دان &rsquo;گارڈ پارٹیکل&lsquo; بھی کہتے ہیں۔ اور ان&nbsp; کے بارے میں یہ تصور ہے کہ وہ کائنات کی ہر چھوٹی سے چھوٹی اکائی میں موجود ہے۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>سرن لیبارٹر&nbsp; میں&nbsp; تحقیق کرنے والے سائنس دانوں کے ایک ترجمان ایتونیوفریدیتالتو نے23 ستمبر&nbsp; کو یہ اعلان کیا کہ تجربات سے یہ ثابت&nbsp; ہوگیاہے کہ نیوٹرینو کی رفتار روشنی کی رفتار سے زیادہ ہے۔ اگرچہ یہ فرق بہت معمولی ہے۔</p>
<p>اس تجربے کے دوران نیوٹرینوز کو سرن لیبیاٹری سے اٹلی میں سات سو کلو میٹر کے فاصلے پر واقع گران ساسو کی تجربہ گاہ میں بھیجا گیا اور اس کی رفتار کی پیمائش کی گئی۔انہوں نے بتایا کہ نیوٹرینو کی بیم اپنے مقررہ مقام پر روشنی کے مقابلے میں 60 نینو سیکنڈ پہلے پہنچ گئی۔ ایک سیکنڈ کا ایک ارب واں حصہ نینو سیکنڈ کہلاتا&nbsp; ہے۔</p>
<p>ترجمان نے کہاہے کہ اس اعلان سے قبل سائنس دانوں نے اپنے نتائج کی بار بار جانچ پڑتال کی ہے اور ہر طرح&nbsp; کے اطمینان اور تصدیق&nbsp; کے بعد یہ&nbsp; نتائج جاری کیے جارہے ہیں۔ ترجمان نے یہ بھی کہا کہ اس تحقیق کو دنیا بھر کے سائنس دانوں کے مطالعے اور مزید تحقیق&nbsp; و تصدیق کے لیے ویب پر ڈالا جارہاہے۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>سیرن لیبارٹری&nbsp; ایک زیر زمین تجربہ گاہ ہے جو روم سے 120 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔اس لیبارٹری میں &nbsp;جوہری ذرات کو کائنات میں پائی جانے والی کائناتی لہروں سے محفوظ رکھنے کے&nbsp; خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس طرح کی&nbsp; چھوٹی تجربہ گاہیں امریکہ میں بھی موجود ہیں۔</p>
<p>نئے امکانات کیا ہیں؟</p>
<p>ان نتائج کے بعد عام سائنسی معمولات پر بظاہر کوئی بڑا اثرنہیں پڑے گا مگرروشنی کی رفتار اور وقت سے متعلق&nbsp; سائنسی قوانین کا ممکن ہے کہ پھر سے جائزہ لینا پڑے۔</p>
<p>رفتار کی طرح وقت کائنات کی ایک اہم حقیقت ہے۔رفتار اور وقت کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ جیسے جیسے رفتار بڑھتی ہے، وقت اسی&nbsp; تناسب سے سست پڑتاجاتا ہے۔جس نسبت سے وقت سست پڑتا ہے، اسی تناسب سے عمر میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ مثال کے طورپر اگر کوئی شخص کسی ایسے خلائی جہاز میں سوار ہوجاتا ہے جس کی رفتار روشنی کی رفتار کے دسویں حصے کے برابر ہے۔ تو اس شخص کی عمر زمین پر رہنے والوں کے مقابلے میں دس گنا زیادہ ہوگی۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>اس اصول کے تحت جب کوئی چیز روشنی کی رفتار کو پہنچ جائے تو وقت کی رفتار صفر ہوجاتی ہے۔ گویا وقت تھم جاتا ہے۔ چونکہ ایسا ناممکن سمجھا جاتا ہے، اس لیے سائنس دان اب تک یہ کہتے آئے ہیں کہ کوئی چیز روشنی کی رفتار کو نہیں پہنچ سکتی۔</p>
<p>لیکن اب اس نئی دریافت کے بعد، ٹائم مشین کا تصور کے تصور پر بھی سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔&nbsp; یعنی ایسی مشین کی ایجاد کے بارے میں&nbsp; جس کے ذریعے انسان اپنے ماضی میں سفر کرسکے اور خود کو ماضی میں چلتا پھرتا دیکھ سکے۔&nbsp; کیونکہ نیوٹرینو نے روشنی کی رفتار سے زیادہ رفتار حاصل کرنے کے بعد بھی اپنا سفر جاری رکھاہے اور وہ ماضی یعنی واپسی کی طرف نہیں گئے۔</p>
<p>روشنی سے تیز رفتار جوہری ذرے کی دریافت سائنسی دنیا کی ایک ایسی اہم ترین پیش رفت ہے جس نے آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کے ایک صدی کے طلسم &nbsp;کو توڑدیا ہے۔ مگر سائنس میں کوئی چیز حرف آخر نہیں ہوتی اور آج کے جدید سائنس کی بلندوبالا عمارت کی بنیادیں ماضی کے سائنسی نظریات کی قبروں میں پیوسط ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 23 Sep 2011 17:01:04 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">130425453</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[جمیل اختر]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-09-23T17:01:04Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[سائنس و صحت]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/large-hadron-collider-480.jpg" length="83388" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
																																																													
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/large-hadron-collider-480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="320" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Albert-Einstein300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/hedron-collider-330.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/Gof+Particle-301.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/God+Particle-305.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																										</media:group>
																						</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>دماغ کی بیٹری</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/electronic-cap-brain-speed-19sep11-130111668.html</link>
				<description>سائنس دانوں کا کہناہے کہ بجلی کی مدد سے دماغ کی کارکردگی بڑھائی جاسکتی ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>اب آپ کو اپنی دماغی صلاحیتیں بڑھانے کے لیے بادام اور ٹانک کھانے اور دماغی ورزشیں کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ سائنس دانوں نے بیٹری سے چلنے والی ایک الیکٹرانک ٹوپی تیار کرلی ہے۔ اسے پہن کر جب بٹن دبائے جاتے ہیں&nbsp; تودماغ&nbsp; کچھ یوں تیز ہوجاتا ہے جیسے کسی نے کار کے ایکسی لیٹر پر پاؤں رکھ دیا ہو۔</p>
<p>انسانی دماغ اپنے زیادہ تر افعال کی ادائیگی برقی پیغامات کے ذریعے کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی دماغ میں اتنی بجلی موجود ہوتی ہے جس سے 20 واٹ تک کا ایک بلب جلایا جاسکتا ہے۔ دماغ اپنی ضرورت کی بجلی خود پیدا کرتا ہے۔</p>
<p>سائنسی ترقی کے اس دور میں رفتار کی اہمیت دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ انتہائی تیزی رفتار &nbsp;کمپیوٹر بنائے جارہے ہیں۔ ہوا سے باتیں کرنے والی گاڑیاں تیار ہورہی ہیں۔ انسان&nbsp; کم سے کم وقت میں دوسرے سیاروں تک پہنچنے کی کوششیں کررہاہے۔ غرض زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے کہ جس میں برق رفتاری اہمیت حاصل نہ کررہی &nbsp;ہو۔</p>
<p>انسانی دماغ ایک مخصوص رفتار سے کام کرتا ہے، جس میں قدرے کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ مثال کے طورپر اسے کوئی &nbsp;نئی چیز سیکھنے اور اسے ذہن نشین کرنے کے لیے کچھ وقت درکار ہوتا ہے۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ آئندہ &nbsp;چند عشروں میں انسانی&nbsp; دماغ تیزرفتاری کی اس دوڑ میں پیچھے رہ جائے گا۔ &nbsp;چنانچہ سائنس دان&nbsp; کچھ عرصے سے دماغ کی کارکردگی کی رفتار بڑھانے کے طریقوں پر تحقیق کررہے ہیں۔ اس سلسلے میں دماغ میں کمپیوٹر چپ نصب کرنے کی تجویز بھی سامنے آچکی ہے۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>کچھ عرصے سے ایسی سائنس فکشن فلمیں بھی بن رہی ہیں جن کے بعض کرداروں کی کھوپڑیوں پر کمپیوٹر پراسیسر بھی لگے ہوتے ہیں۔ &nbsp;لیکن برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنس دان ایک اور پہلو پر سوچ رہے ہیں۔</p>
<p>ان کا خیال ہے کہ دماغ کو بیرونی ذرائع سے اضافی بجلی فراہم کرکے اس کی فعالیت بڑھائی&nbsp; جاسکتی ہے، خاص طور پر سیکھنے کی صلاحیت۔</p>
<p>گذشتہ 20 برسوں کے دوران انسانی دماغ کے بارے میں سائنس دانوں کے علم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اب وہ دماغ کے مختلف حصوں کے افعال اور کارکردگی کے متعلق پہلے سے کہیں بہتر جانتے ہیں۔</p>
<p>دماغ کی فعالیت اور کارکردگی کے سلسلے میں بجلی کا استعمال 1940 کے عشرے سے ہورہا ہے۔ مگر یہ استعمال زیادہ تر ذہنی امراض کے اسپتالوں میں علاج معالجے تک محدود ہے۔ جہاں مریضوں کو برقی جھٹکے دے کر دماغ کی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔</p>
<p>آکسفورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دماغ کے قدرتی برقی نظام کی طاقت میں قدرے اضافہ کردیاجائے تو اس کے کام کرنے کی &nbsp;رفتار اور کارکردگی دونوں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اپنے تجربات کے دوران انہیں معلوم ہوا کہ دماغ کو بیرونی ذریعے سے جتنی زیادہ بجلی فراہم کی جاتی ہے ،اسی رفتار سے دماغ کی کارکردگی بھی بڑھتی ہے، لیکن صرف ایک خاص حد تک۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>اس سال کے شروع میں پروفیسر جوہنسن&nbsp; برگ کی ٹیم نے 15 رضاکاروں کو ایک مخصوص برقی ٹوپی پہنائی جس کے ذریعے انہیں &nbsp;پیشانی سے کنپٹی تک دس منٹ کے لیے بجلی فراہم کی گئی۔&nbsp; اور اس کے بعد پیانوسیکھنے اور معمے حل کرنے کے لیے دیے گئے۔ ماہرین کو پتا چلا کہ انہیں سیکھنے میں پہلے کی نسبت کم وقت لگا اور معمے حل کرنے میں&nbsp; پہلے سے کم مشکل پیش آئی۔</p>
<p>ٹیلی گراف سے پروفیسر جوہنس برگ نے اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ بجلی کی دس منٹ کی خوراک سے رضاکاروں &nbsp;کے دماغ کی تیزی تقریباً آدھ گھنٹے تک برقرار رہی۔ ان کاکہنا تھا کہ &nbsp;اگر دماغ کو کچھ مدت کے لیے دس منٹ تک روزانہ &nbsp;باقاعدگی سے بجلی کی خوراک دی جائے تو اس کی کارکردگی اور تیزی کو زیادہ وقت تک برقرار رکھا جاسکتا ہے۔</p>
<p>&nbsp;پروفیسر جوہنسن برگ کا کہناہے کہ فی الحال یہ تجربات سیکھنے سے متعلق دماغ کے حصوں پر کیے گئے۔ لیکن دماغ کے دوسرے حصوں کی کارکردگی اور رفتار کو بھی بیٹری کے ذریعے برقی رو فراہم کرکے بڑھایا جاسکتا ہے۔</p>
<p>&nbsp;سائنس دانوں کو توقع ہے کہ الیکٹرانک ٹوپی فالج کے مریضوں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگی&nbsp; اور &nbsp;فالج سے متاثرہ &nbsp;بینائی واپس لانے، اعضاء کی حرکات بحال کرنے،&nbsp; اور زبان اور توجہ کے ارتکاز کی خرابیوں کو دور کرنے میں مدد مل سکے گی۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>الیکٹرانک ٹوپی ان افراد کے لیے بھی فائدہ مند ہے جن کا دماغ ہر وقت بے مقصد تانے بانے میں الججھا رہتا ہے، یا جو ایک لمحے کو نچلے نہیں بیٹھ سکتے۔ کیونکہ سائنس دانوں کا کہناہے کہ الیکٹرانک ٹوپی میں برقی رو کی سمت الٹ دینے سے دماغ کے اس حصے کی کارکردگی سست پڑجاتی ہے۔</p>
<p>اور الیکٹرانک ٹوپی سے متعلق آخری خبر، جو شاید آپ کو اچھی نہ لگے، یہ ہے کہ وہ ابھی&nbsp; تجرباتی مراحل سے گذررہی ہے اور اسے مارکیٹ میں آنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Mon, 19 Sep 2011 13:14:58 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">130111668</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[جمیل اختر]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-09-19T13:14:58Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/brain-4801.jpg" length="40780" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
																																																													
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/brain-4801.jpg" medium="image" isDefault="true" height="320" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/brain-302.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/brain-303.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/brain-306.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/brain-302.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																										</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>’41 فیصد لڑکیاں بنیادی تعلیم حاصل کرنے سے قاصر‘</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan/Pakistan-Education-Girls-14jul11-125560648.html</link>
				<description>موجودہ حالات میں پاکستان میں لڑکیوں کے لیے اپنی بنیادی تعلیم مکمل کرنے کا امکان ہی 50 فیصد ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>عالمی سطح پر تعلیم کے شعبے میں سرگرم تنظیم &rsquo;گلوبل کیمپین فار ایجوکیشن&lsquo; نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں ایشیائی ممالک کے حوالے سے جو اعداد و شمار پیش کیے ہیں وہ حوصلہ افزا نہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 41 فیصد لڑکیاں بنیادی تعلیم مکمل نہیں کر پاتی ہیں جب کہ ہمسایہ ملک بھارت میں یہ شرح 30 فیصد ہے۔<br /><br />گلوبل کیمپین فار ایجوکیشن کی معاون برطانوی تنظیم &rsquo;اوکسفیم&lsquo; کے پاکستان میں عہدے دارسعید الحسن نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ ملک میں خصوصاً لڑکیوں کی بنیادی تعلیم کے حوالے سے حالات کبھی بھی تسلی بخش نہیں رہے۔</p>
<p><span class="field-note container display-block margin-bottom-small">&lt;!--IMAGE--&gt;</span></p>
<p>اُنھوں نے کہا کہ پاکستان میں لڑکوں کی شرح خواندگی 69 فیصد اور لڑکیوں کی 45 فیصد ہے، جب کہ ملک میں قائم تقریباً ڈیڑھ لاکھ پرائمری اسکولوں میں سے 45 فیصد لڑکوں اور 31 فیصد لڑکیوں کے لیے ہیں۔</p>
<p>اوکسفیم کے عہدے دار کا کہنا تھا کہ حکومت سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی زیادہ توجہ اس صنفی فرق کو ختم کرنے اور تعلیم کے فروغ پر مرکوز کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ موجودہ حالات میں پاکستان میں لڑکیوں کے لیے اپنی بنیادی تعلیم مکمل کرنے کا امکان ہی 50 فیصد ہے۔</p>
<p>سعید الحسن نے اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت شعبہِ تعلیم کی صوبوں کو منتقلی کے اقدام کو خوش آئند قرار دیا لیکن اُنھوں نے پاکستان میں اکثر تجزیہ کاروں کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے پر عمل درآمد سے قبل صوبوں کی استعداد بڑھانا ناگزیر تھا۔</p>
<p>&rdquo;یہ فوری فیصلہ تو لے لیا گیا ہے لیکن شاید باقاعدہ کوئی گراؤنڈ ورک اس حوالے سے نہیں ہوا یہ نہیں دیکھا گیا کہ صوبوں میں یہ ذمہ داری نبھانے کی استعداد ہے یا نہیں۔ وزارت تعلیم سے بات کریں تو وہ بھی ایک دباؤ کا شکار ہے کیوں کہ صوبوں کو اس نئی صورت حال سے واضح آگاہی نہیں ہے۔&ldquo;</p>
<p>البتہ حکومت اور ملک کی بیشتر سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ اختیارات کی مرکز سے صوبوں کو منتقلی کے علم میں ابتدائی طور پر مشکلات کا سامنا ہو گا لیکن مستبقل میں اس فیصلے کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے کیوں کہ اختیارات اور وسائل کی منتقلی کے بعد صوبے اپنی کارکردگی کے خود ذمہ دار ہوں گے اور ناکامی کا الزام وفاق پر نہیں ڈالا جا سکے گا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 14 Jul 2011 13:59:21 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">125560648</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[یاسر علی منصوری]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-07-14T13:59:21Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
																											
																	
																																																	<media:group>
																																							<media:content url="http://media.voanews.com/images/Swat-Girls-School-300X300.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Swat-Girls-School-300X300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																										</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>امریکی تعلیمی نظام کا اسکول واؤچرز پروگرام</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/education-youth/School-Vouchers-09Jun11-123552014.html</link>
				<description>ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں خرچ کی جانے والی رقم سرکاری  سکول سسٹم  کی اصلاح کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>عالمی معاشی بحران کے دورمیں امریکہ میں تعلیمی شعبے کے حوالے سے ایک بحث یہ بھی جاری ہے کہ سرکاری بجٹ&nbsp; سےایسے والدین کی مالی مدد کی جائے یا نہیں،&nbsp; جو اپنے بچوں کوامریکہ کے مفت سرکاری سکولوں کے بجائے مہنگے پرائیویٹ سکولوں میں پڑھانا چاہتے ہیں ۔ امریکہ میں ایسے&nbsp; والدین کوحکومت کی طرف سے ایسے سکول واؤچرز فراہم کئے جاتے ہیں، جن سے کم وسائل یافتہ والدین بھی اپنے بچوں کے لئے مہنگے پرائیویٹ سکولوں کی فیس ادا کر رہے ہیں&nbsp; ۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں خرچ کی جانے&nbsp; والی رقم&nbsp; سرکاری&nbsp; سکول سسٹم&nbsp; کی اصلاح کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے</p>
<p>امریکہ کے ایک پرائیویٹ &nbsp;سکول میں تقریبا نوے بچوں کو ابتدائی کلاسزسے لے کر ہائی سکول تک کی&nbsp; تعلیم دی جاتی ہے۔ اس سکول کی سالانہ فیس گیارہ ہزار ڈالر ہے جس کی وجہ سے کم آمدنی والے افراد اپنے بچوں کو یہاں نہیں پڑھا پاتے ۔ مگر یہاں پڑھنے والے بچوں کے والدین کا&nbsp; خیال ہے کہ انفرادی توجہ کی وجہ سے&nbsp; ان کے بچوں کے لئے نئی دنیا کے دروازے کھل گئے ہیں ۔</p>
<p>نیہا اور اس جیسے بہت سے بچوں کو حکومت کی جانب سے اسکو ل کی فیس میں&nbsp; مدد کے لیے سکول واؤچرز دئیے جاتے ہیں۔ والدین کے نزدیک ایسے پرائیویٹ سکول ان کے علاقوں&nbsp; میں موجود پبلک سکولوں سے&nbsp; زیادہ محفوظ اور بہتر ہیں۔</p>
<p>ڈومینیق&nbsp; ری پبلک سے تعلق رکھنے والے&nbsp; جوزف کیلی ا سکول واؤ چرز کی مدد سے اپنی تین بیٹیوں کی سکول کی فیس ادا کر رہے ہیں۔ کیلی کے گیارہ بچے ہیں ۔&nbsp; جنہیں شکایت ہے کہ &nbsp;سرکاری ا&nbsp; سکولوں میں بچوں کو &nbsp;نظر انداز کیا جاتا ہے۔</p>
<p>سرکاری تعلیمی نظام کے حامیوں کی مخالفت کے باجوود سرکاری امداد کا یہ پروگرام جاری ہے۔ فاؤنڈیشن آف ایجوکیشن چوائس &nbsp;امریکہ کی ایک ایسی تعلیمی تنظیم ہے جو سکول واؤچرز کی حمایت کرتی ہے۔ اس تنظیم کا کہنا ہے کہ بہت سی ریاستوں میں اس حوالے سے قانون پاس کیا جا&nbsp; چکا ہے جبکہ چند ریاستوں میں یہ قانون زیر ِ غور ہے۔ ان نئے قوانین کے باعث ان واؤچرز کے ذریعے ان والدین کو رقم مہیا کی جا سکے گی جو اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکول بھیجنا چاہتے ہیں۔ <br /> اعتدال پسند عناصر اس بل کے حمایتی ہیں لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اس&nbsp; قانون کے باعث ملک میں تمام اسکولوں کو پرائیویٹ بنانے کا رجحان فروغ پائے گا۔&nbsp;&nbsp;</p>
<p><iframe src="http://www.youtube.com/embed/ULTNuQ8RzPw" width="480" height="390"></iframe></p>
<p>واشنگٹن کے مئیر گیری وینسنٹ اس قانون کی مخالفت کرتے ہیں۔ ان کو ان کے ہی شہر کی پولیس نے اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ سکول واؤچر سسٹم کے حوالے سے امریکی حکومت کی مخالفت میں کیے جانے والے ایک احتجاج میں شریک تھے۔&nbsp;</p>
<p>&nbsp;ناتھن سینڈرز&nbsp; واشنگٹن ٹیچرز یونین کے صدر ہیں۔ ان کے نزدیک واؤچرز کے حوالے سے ایسے قوانین مشکلات پیدا کریں گے۔</p>
<p>امریکہ میں ان واؤچرز کے حق اور مخالفت میں بحث جاری ہے۔ اور امریکہ کا شعبہ ِ تعلیم سب کے دلائل پر&nbsp; غور کر رہا ہے۔ ان کی تحقیق کے مطابق&nbsp; واشنگٹن کے پرائیویٹ ا سکولوں میں زیر تعلیم&nbsp; بچوں کے تعلیمی معیار &nbsp;اور کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔دوسری جانب پرائیویٹ سکولوں میں بچوں کے پاس ہونے کی شرح پبلک اسکولوں کی نسبت زیادہ رہی۔ جس سے&nbsp; والدین اور بچے دونوں ہی مطمئن دکھائی دیتے ہیں۔ <br /> <br /></p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 9 Jun 2011 16:05:46 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">123552014</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[لورل برومین/مدیحہ انور]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-06-09T16:05:46Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[تعلیم و نوجوان]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/dc_school_vouchers_300_eng_07jun11.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>اندرون سندھ گھوسٹ اسکولوں کی بھر مار</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/education-youth/Sindh-Education-Ghost-Schools-08Jun11-123461524.html</link>
				<description>گھوسٹ اسکول، ایسے اسکول ہیں جو سرکاری کاغذات میں تو اپنا وجود رکھتے ہیں لیکن کئی وجوہات کی بنا پر عملی طورپر ان میں کام نہیں ہورہا</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>صوبہ سندھ میں سرکاری اعداد شمار کے مطابق گھوسٹ اسکو لوں کی تعداد ساڑھے چھ ہزار سے زیادہ&nbsp; ہے&nbsp; جن کے اساتذہ اور دفتری عملہ &nbsp;گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کر رہا ہیے۔ تا ہم تعلیم سے متعلق ایک غیر سرکاری تنظیم کمیونٹی ڈیولپمنٹ فا ؤنڈیشن کے سروے کے مطابق ان اسکولوں کی تعداد دس&nbsp; ہزار سے بھی زیادہ ہے۔</p>
<p>گھوسٹ اسکول ، ایسے اسکول ہیں جو سرکاری کاغذات میں تو اپنا وجود رکھتے ہیں لیکن کئی وجوہات کی بنا پر عملی طورپر ان میں کام نہیں ہورہا۔ مثلاً جن دیہاتوں میں گھوسٹ اسکول موجود ہیں، وہاں کے بچے تعلم سے محروم ہیں اور جہالت کی وجہ سے قبائلی جھگڑوں میں اضافہ ہورہاہے۔ جب کہ گھوسٹ اسکول تعلیم کی شرح اور معیار کو گھٹانے کا باعث بھی بن رہے ہیں۔<br /><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE--&gt;</span></p>
<p>ایک مقامی اخبار کے سروے کے مطابق اندرون سندھ کے علاقوں کند کوٹ،کشمور، گھوٹکی ،شکارپور،خانپور،گڑھی خیرو، جیکب آباد ،خیرپور،لکھی غلام شاہ و دیگر مقامات پر 2005ء سے 2010ء&nbsp; تک چار سو سے زیادہ&nbsp; افراد ان قبائلی تنازعات کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔</p>
<p>&nbsp;کشمور سے&nbsp; حیدرآباد تک کے&nbsp; &nbsp;علا قوں میں قائم&nbsp;&nbsp; زیادہ تر سرکاری اسکولوں پرمقامی وڈیروں ،بااثر شخصیات نے&nbsp;&nbsp; قبضے کرکے انہیں جانوروں کے باڑوں، یا گوداموں&nbsp; میں تبدیل کردیا ہیے</p>
<p>صرف جیکب آباد ،شکارپور،اور کشمور میں گھو سٹ اسکو لوں کی تعداد تین سو سے زیادہ ہے۔</p>
<p>شکارپور کے گوٹھ منظور علی&nbsp; شاہ کے&nbsp; رہا ئشی دیدار علی نے وائس آف امریکہ کو&nbsp; بتایا کہ ان کے گاؤں میں اسکول تعمیر ہوئے دس سال سے زیادہ&nbsp; کا&nbsp;&nbsp; عرصہ گذر چکا&nbsp; ہے لیکن آج تک اس&nbsp; نے کسی استاد یا&nbsp;&nbsp; اسکول کے عملے کو وہاں&nbsp; آتے ہوئے نہیں دیکھا&nbsp; اور اب&nbsp; اسکول کی عمارت ہمارے وڈیرے کے جانور باندھنے کے لیے استعمال کی جارہی ہے۔&nbsp; جبکہ ضلعی انتظامیہ کو شکایت درج&nbsp; کرنے کے باوجود کوئی نتیجہ برآمد نہیں نکلا۔&nbsp; <br />&nbsp;<span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE--&gt;</span>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;</p>
<p>ضلع جیکب آباد میں 90 سے زیادہ گھوسٹ اسکول ہیں، تاہم ضلعی ایجوکیشن آفیسر کا کہناہے کہ نئی بھرتیاں ہونے کے بعد اکثر اسکول کھول دیے گئے ہیں۔</p>
<p>ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر حاجی عبدلعزیز اوڈھو کا کہنا ہے&nbsp; کہ سرکاری کاغذات میں بہت سے اسکول ایسے ہیں جن کا زمین پر سرے سے کوئی&nbsp; و جود ہی نیں ہے تو اس سے کچھ مسائل پیدا ہورہے ہیں۔</p>
<p>ایک سماجی راہنما&nbsp; جان اوڈاں نے بتایا کہ گھوسٹ اسکولوں کی باعث ان علاقوں میں رہنے والے بچے تعلیم حاصل نہیں کر سکتے اور ان کے والدین کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو دوردراز علاقوں میں قائم اسکولوں میں پڑھاسکیں۔&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;</p>
<p>غیر سرکاری تنطیم کمیونٹی ڈیولپمنٹ فاؤنڈیشن کے صدر غلام محمد سومرو نے رابطہ کرنے پر بتایاکہ جب دو سال قبل اسکولوں کا سروے کیا گیا تو ہماری تنظیم نے اپنی رپورٹ میں یہ سفارشات دی تھیں&nbsp; کہ صوبہ سندھ کے معاشرے میں پھیلنے والی برائیوں کی ایک وجہ تعلیم کی کمی ہے جن میں قبائلی جھگڑے&nbsp; اور امن و امان جیسے مسائل شامل ہیں ۔رپورٹ میں&nbsp; اسکولوں فوری طور پر کھولنے پر زور دیا گیاتھا ۔۔لیکن دو سال گذرنے کے باوجود کوئی عمل نہیں کیا گیا۔</p>
<p>سندھ پرائمری اسکول ایسوسی ایشن کے راہنما انتظار چھلگری کا کہنا ہے کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ کاغذات میں درج&nbsp; حکومتی عدادو شمارغلط ہیں&nbsp; کیونکہ اس میں سے&nbsp; اکثر اسکول سرے سے کوئی وجود ہی نہیں رکھتے ۔دوسری بات یہ ہے کہ جن اسکولوں میں اساتذہ نہیں تھے وہاں پر نئی بھرتیوں&nbsp; کے بعداساتذہ&nbsp; تعینات کردیے گئے ہیں۔</p>
<p>صوبائی سیکریٹریٹ&nbsp; میں تعلیم سے متعلق ایک عہدے دار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر&nbsp;&nbsp; بتایا کہ سندھ حکومت نے گذشتہ سال کے بجٹ میں فروغ تعلیم&nbsp; اور بند اسکولوں کو کھولنے کے علاوہ سرکاری اسکولوں میں تعلیم کے میعارکو&nbsp; بہتر کرنے کے لیے&nbsp; تعلیمی بجٹ چار ارب روپے سے بڑھا کر چھ ارب روپے کردیا تھا اور نئے&nbsp; صوبائی بجٹ میں تعلیم کے شعبے میں مزید اضافہ کی تجاویز زیر غور ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 8 Jun 2011 15:37:32 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">123461524</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[مکیش  روپیتا]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-06-08T15:37:32Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[تعلیم و نوجوان]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Pakistan+ghost+school-001.jpg" length="136555" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
																																												
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Pakistan+ghost+school-001.jpg" medium="image" isDefault="true" height="380" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Pakistan+ghost+school-300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Pakistan+ghost+shcool-012.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="340" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/Pakistan+ghost+shcool-01-300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																										</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>سائنس فکشن اور تعلیم</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/education-youth/Science-Fiction-Education-05Jun11-123191968.html</link>
				<description>سائنس فکشن سے سائنس کی بنیادی تعلیم کے علاوہ اور بہت کچھ بھی  سیکھا جاسکتا ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>&rsquo;فزکس آرگ ڈاٹ کام&lsquo; پر شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ آج کل سائنس کے جِن مشکل سوالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اُن میں سے ایک یہ ہے کہ ہم کس طرح زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو سائنس کےشعبے کی طرف راغب کریں۔ اور اِس مقصد کے لیے بہت سے کالجوں میں اب ایک ایسا طریقہ شروع کیا گیا ہے کہ اپنے نصاب میں ایسے کورس شامل کیے جائیں جِن میں سائنس پڑھانے کے لیے سائنس فکشن کو استعمال کیا جائے۔</p>
<p>اُن کا کہنا ہے کہ آخر سُپر ہیروز &rsquo;اسٹار ٹریک&lsquo; اور &rsquo;ہیری پوٹر&lsquo;&nbsp; زندگی اور کائنات اور ہر چیز کے بارے میں ہمیں&nbsp; کیوں نہیں پڑھا سکتے؟کم از کم،&nbsp; اِس سوال پر غور تو کرسکتے ہیں اور اُن کے فائدوں پر بحث تو کرسکتے ہیں۔اِن کلاسوں میں سب سے زیادہ سائنٹیفک کلاس سپر ہیروز کی سائنس کی کلاس ہے۔</p>
<p>یہ ایک کورس ہے جو یونیورسٹی آف کیلوفورنیا میں پڑھایا جاتا ہے۔ سُپر ہیرو&rsquo; فُلئڈ ڈائنےمکس&lsquo; کے لیے ہوا میں تیرتا ہوا ایک پوسٹر بوائے بن جاتا ہے۔ طلبہ سُپر مین کے مخصوص لباس سے فزکس کے کچھ بنیادی تصورات کے بارے میں سیکھ سکتے ہیں اور اِس طرح یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ &rsquo;لوئس لین&lsquo; کتنی تیزی سے زمین کی طرف بڑھ رہی ہے اور&nbsp; اِسے زمین پر اترنے سے پہلے پکڑنے کے لیے سپر مین کو کتنی رفتار سے اڑنا ہوگا۔</p>
<p>ایسی کلاسوں میں اِس قسم کے سوالات بھی کیے جاتے ہیں کہ &rsquo;اسپائیڈر سلک&lsquo; کی طاقت کیا ہے؟ اور اِس طرح،&nbsp; &rsquo;دِنڈو وومین&lsquo; اور دوسرے سپر ہیروز کو بھی فزکس کے بنیادی تصورات کی وضاحت کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔</p>
<p>اگر پرائمری اور سیکنڈری اسکولز کے اساتذہ بچوں کو پڑھانے کے لیے سپر مین اور بیٹ مین استعمال کریں تو کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ بچوں میں کم عمری ہی میں سائنس میں دلچسپی پیدا کرائی جاسکتی ہے۔</p>
<p>فراٹسبرگ یونیورسٹی میں سائنس آف ہیری پوٹر پر ایک کلاس&nbsp; کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اِس کلاس میں سائنس کے مشکل سوالات زیرِ بحث آتے ہیں۔ مثال کے طور پر تین سروں والا کتا، جس کی وضاحت غالباً&nbsp; جینیاتی انجنئرنگ کرسکتی ہے اور اُڑتے ہوئے جھاڑو اور اُن کا گرنا إِس طرح کے موضوعات ہیں&nbsp; جِن کے ذریعے پرواز اور کششِ ثقل کی فزکس کے بارے میں گفتگو کا موقع مل سکتا ہے۔</p>
<p>سائنس فکشن سے سائنس کے بنیادی تعلیم کے علاوہ بھی اور بہت کچھ سیکھا جاسکتا ہے۔</p>
<p>جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں اسٹار ٹریک میں پیش کیے جانے والے گہرے سائنسی موضوعات پڑھائے جاتے ہیں۔ مثلاً&nbsp; ، کیا انسانی روبوٹ&nbsp; کی طرح کے ڈیٹا کی مدد سے کوئی انسان بنایا جاسکتا ہے؟ اِس طرح،&nbsp; نسل اور مابعد الطبیعات کے موضوعات بھی زیرِ بحث آسکتے ہیں اور&nbsp; اِس طرح فطرت اور حقیقت اور وقت کے سفر کے موضوعات کا بھی احاطہ کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>&rsquo;فزکس آرگ ڈاٹ کام&lsquo; کا کہنا ہے کہ سائنس کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طالب علم ممکن ہے کہ اِن کلاسوں میں داخلہ نہ لیں، لیکن اِن کلاسوں سے سائنس کے بارے میں ہر طرح کی معلومات میں کچھ نہ کچھ اضافہ ہوسکتا ہے اور ممکن ہے کہ یہ کلاسیں پڑھنے والے کچھ طالب علموں کو سائنس میں اتنی زیادہ دلچسپی پیدا ہوجائے کہ وہ اپنی آئندہ کی تعلیم کے لیے سائنس کا شعبہ چن لیں۔</p>
<p>آڈیو رپورٹ سنیئے:</p>
<p>
<object classid="clsid:02bf25d5-8c17-4b23-bc80-d3488abddc6b" width="236" height="36" codebase="http://www.apple.com/qtactivex/qtplugin.cab#version=6,0,2,0">
<param name="src" value="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+1400+SciTech+-+Science+Fiction+as+Education-+NM-05-31.Mp3" /><embed type="video/quicktime" width="236" height="36" src="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+1400+SciTech+-+Science+Fiction+as+Education-+NM-05-31.Mp3">&nbsp;</embed>
</object>
</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sun, 5 Jun 2011 17:59:17 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">123191968</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[نیلوفر مغل]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-06-05T17:59:17Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[تعلیم و نوجوان]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Superman_ap_300x300.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>ساؤنڈ ویژن:  بچوں کی تربیت کے لیے ویب سائٹ</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/world/Sound-Vision-22May11-122415219.html</link>
				<description>بچوں کےلیے کارٹون بنانے والے ادارے  کے بانی مجاہد خان سے گفتگو</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکہ میں رہنے والے مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ بچوں کو دوسری ضروری تعلیم کے ساتھ ساتھ صحیح اسلامی تعلیمات سے بھی آشنہ کرنا ہوتا ہے جس کے لیے وقت کی کمی اور بسا اوقات اسلامی تعلیمی اداروں اور مساجد کی دوری آڑے آتی ہے۔نتیجتاً، بچے ٹیلیویژن پر وہی پروگرام اور کارٹون دیکھ پاتے ہیں جو اُنھیں میسر ہوں۔</p>
<p>اِنہی مشکلات کو مدِ نظر رکھتے شکاگو&nbsp; میں قائم ایک ادارے &rsquo;ساؤنڈ ویژن&lsquo; نے بچوں کی تربیت کے لیے ایک ویب سائٹ&nbsp; کے علاوہ کارٹون پروگرام &rsquo;ایڈمز ورلڈ&lsquo; کا آغاز کیا ہے۔انگریزی زبان میں یہ کارٹون &rsquo;سی ڈیز&lsquo; پر مل جاتا ہے۔</p>
<p>ساؤنڈ ویژن کے بانی مجاہد خان نے ایک انٹرویو میں عمران صدیقی کوبتایا کہ&nbsp; امریکہ میں وقت اور وسائل کی کمی کے باعث&nbsp; ہر مسلمان بچہ اسلامی اسکول نہیں جا پاتا۔ باقی بچوں کو اسلام اور مذہب کی تعلیم کا کیسے پتا چلے گا جب اِس&nbsp; بات کا کوئی بندوبست اور اہتمام نہ ہو۔</p>
<p>اُن کے الفاظ میں &rsquo;ہم نے سوچا کہ اگر بچے مسجد نہیں جاسکتے تو ہم مسجد کو بچوں کے پاس لے جائیں۔ اور اِس کے لیے ہم نے مضامین، اسلامی گانے اور پُتلی کھیل&nbsp; کے ذریعے معلومات کو بچوں تک پہنچانے کی کوشش کی&nbsp; ہے۔&lsquo;</p>
<p>اُنھوں نے بتایا کہ ادارے کا آغاز 1988ء میں ہوا اور تب سے نہ صرف امریکی مسلمان &rsquo;ایڈمز ورلڈ&lsquo; سے فائدہ اٹھارہے ہیں بلکہ وہ مسلمان جو امریکہ میں نہیں رہتے وہ بھی اپنے بچوں کے لیے اُن کی اسلامی پراڈکٹس استعمال کر رہے ہیں۔</p>
<p>مجاہد خان کا کہنا تھا کہ ادارے کا مقصد&nbsp; اچھےانسان اور بہتر شہری&nbsp; پیدا&nbsp; کرنے میں معاونت دینا ہے اوراِس طرح کی&nbsp; معلومات&nbsp; خطبات سے بھی اور&nbsp; کتابوں سے بھی دی جاسکتی ہے۔&nbsp; لیکن،&nbsp; کیونکہ بچے کھیل کود پسند کرتے ہیں، اِس لیے ساؤنڈ وژن بچوں میں کھیل کود کے ذریعے وہ معلومات فراہم کرتا ہے جو اُن کے والدین کی خواہشات کےمطابق ہے۔</p>
<p>ایڈمز ورلڈ بنانے والوں کا کہنا ہے کہ اِس طرح کے پروگرام امریکہ میں مسلمان بچوں کواسلامی طور طریقے سیکھنے میں مدد کرتے ہیں۔</p>
<p>تفصیل کےلیےآڈیو رپورٹ سنیئے:</p>
<p>
<object classid="clsid:02bf25d5-8c17-4b23-bc80-d3488abddc6b" width="210" height="27" codebase="http://www.apple.com/qtactivex/qtplugin.cab#version=6,0,2,0">
<param name="src" value="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+0100+Muslims+in+America---muslim+children+puppet+show.Mp3" /><embed type="video/quicktime" width="210" height="27" src="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+0100+Muslims+in+America---muslim+children+puppet+show.Mp3">&nbsp;</embed>
</object>
</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Mon, 23 May 2011 19:51:02 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">122415219</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[خالد حمید]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-05-23T19:51:02Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[دنیا]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/photos-girl.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
													
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>امریکہ میں مسلمان: حجاب پہننے والی خواتین کے بارے میں جریدہ</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/usa/hijab-muslim-magazine-usa-18may11-122179464.html</link>
				<description>شکاگو میں رہنے والی ایک مسلمان خاتون صدف سید نے حجاب پہننے والی خواتین کی تصاوریر اور انٹرویوز پر مبنی ایک جریدہ نکالتی ہیں جس کا نام ہے iCoverجو  کہ اپنی نوعیت کا پہلا امریکی جریدہ ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>شکاگو میں رہنے والی ایک مسلمان خاتون صدف سید نے حجاب پہننے والی خواتین کی تصاوریر اور انٹرویوز پر مبنی ایک جریدہ نکالتی ہیں جس کا نام ہےiCover ،&nbsp; جو کہ اپنی نوعیت کا پہلا امریکی جریدہ ہے۔</p>
<p>وائس آف امریکہ کے ٹی وی پروگرام &rsquo;خبروں سے آگے &lsquo; عمران صدیقی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں،&nbsp; صدف سید نےبتایا کہ اُنھوں نے یہ جریدہ تقریباً&nbsp;&nbsp; ساڑھے تین برس قبل شروع کیا تھا۔&nbsp;&nbsp; اُن کو اِس بات کی ضرورت اِس لیے محسوس ہوئی کیونکہ 9/11کے دہشت گرد حملوں کے بعد امریکی میڈیا میں مسلمانوں سے، جن میں مسلمان خواتین بھی شامل ہیں، بہت سے سوالات &nbsp;کیے جانے لگے، مثلاً&nbsp; &nbsp;یہ کون &nbsp;لوگ ہیں؟ کیسے کپڑے پہنتے ہیں؟ حجاب کیوں پہنتے ہیں؟&nbsp; حجاب کا مطلب کیا ہے؟ کہیں اُنھیں شوہر نے مجبور تو نہیں کیا؟ حجاب کے پیچھے کیا کہانی ہے؟</p>
<p>صدف 1992ء سے فوٹوگرافی کرتی آئی ہیں۔ اُن کے خیال میں اسلام اور مسلمان عورتوں کے بارے میں&nbsp; اصل باتیں سامنے لانے کا یہ ایک اچھا موقعہ تھا۔ &nbsp;خاص طور پر اِس عنوان سے کتابوں کی دستیابی نہ ہونے کے باعث&nbsp; خاصی مشکل درپیش تھی۔</p>
<p><iframe src="http://www.youtube.com/embed/NuBSQinTMrs" width="480" height="390"></iframe></p>
<p>یہ معلوم کرنے پر کہ مسلمان خواتین کی تصاویر لینا&nbsp; دقت طلب &nbsp;اور مشکل کام ہوگا،&nbsp; اُنھوں نے کہا&nbsp; کہ امریکہ میں خواتین جانتی ہیں کہ مسلمان عورتوں کا صحیح امیج&nbsp; نہیں پیش &nbsp;کیا جارہا۔</p>
<p>اُن کے بقول، تصویر کشی سے قبل &nbsp;اجازت کی غرض سے وہ متعلقہ حضرات سے ملتی ہیں۔ &rsquo; اِس بات کی اجازت لیتی ہوں، کنٹریکٹ پر دستخط کیے جاتے ہیں۔ ملنے پر اُن کی تشفی ہو جاتی ہے کہ تصویر کیوں کھینچی جارہی ہے۔ میں اُنھیں قائل کرتی ہوں کہ میں پوری ذمہ داری سے مسلمان خواتین کی صحیح نمائندگی کرنے کا کام کرنا چاہتی ہوں۔&lsquo;</p>
<p>جریدے کو شروع کرنے کے لیے صدف سید کو دو سال تک امریکہ کے بیشتر شہروں میں سفر کرنا پڑا۔</p>
<p>اُنھوٕں نے بتایا کہ وہ شکاگو میں رہتی ہیں ، جب کہ تصویر کشی کے کام کی خاطر&nbsp; اُنھیں &nbsp;امریکہ کے مشرقی اور مغربی ساحلوں تک کا سفر کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p>تفصیل کے لیے آڈیو رپورٹ سنیئے:</p>
<p>
<object classid="clsid:02bf25d5-8c17-4b23-bc80-d3488abddc6b" width="210" height="32" codebase="http://www.apple.com/qtactivex/qtplugin.cab#version=6,0,2,0">
<param name="src" value="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+1300+MUSLIMS+IN+AMERICA----MUSLIM+WOMEN+MAGAZINE.Mp3" /><embed type="video/quicktime" width="210" height="32" src="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+1300+MUSLIMS+IN+AMERICA----MUSLIM+WOMEN+MAGAZINE.Mp3"></embed>
</object>
</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 18 May 2011 19:05:52 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">122179464</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[خالد حمید]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-05-18T19:05:52Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[ امریکہ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/RELIG_HIJAB-BOOK_480.jpg" length="43947" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/RELIG_HIJAB-BOOK_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="280" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/RELIG_HIJAB-BOOK_TB_300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>امریکی تعلیمی نظام میں اصلاحات کتنی کامیاب</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/education-youth/Education-Reform-USA-11May11-121639784.html</link>
				<description>واشنگٹن کے تھنک ٹینک ہیرٹیج فاؤنڈیشن کی لنڈسی برک کے مطابق موجودہ قوانین امریکہ کے شعبہ تعلیم کی اصلاح میں ناکام ثابت ہوئے ہیں</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>طالب علموں کی قابلیت جانچنے کا پیمانہ تو ہیں امتحانات مگر کیا امتحانوں کے نتائج سامنے رکھ کر کامیاب اور ناکام اساتذہ میں&nbsp; بھی تفریق&nbsp; کی جاسکتی ہے؟ اور کیا اسی بنیا د پر تعلیمی اداروں کو&nbsp;&nbsp; اچھے اور برے&nbsp; میں تقسیم کیا جا سکتا ہے؟&nbsp; اس تناظرمیں امریکہ کے تعلیمی نظام میں اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں۔</p>
<p>امریکہ کے سرکاری سکولوں کی اصلاح کے&nbsp; لئے صدر بش کےدور میں متعارف کرائے گئے ایک قانون&rsquo; کسی بچے کو پیچھے نہیں چھوڑا جاسکتا&lsquo; کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ اگر سرکاری فنڈز حاصل کرنے والے&nbsp; کسی سکول کے طلبہ کی کارکردگی اچھی نہ ہو، تو&nbsp; طلبہ کی کارکردگی بہتر بنانا اسکول کی ذمہ داری ہو گی ورنہ ان کو فراہم کی جانے والی سرکاری رقوم روک لی جائیں گی ۔&nbsp; لیکن واشنگٹن کے تھنک ٹینک ہیرٹیج فاؤنڈیشن کی لنڈسی برک کے مطابق یہ قانون&nbsp; امریکہ کے شعبہ تعلیم کی اصلاح میں ناکام ثابت ہوا ہے ۔</p>
<p>ان کا کہناہے کہ یہ قانون امریکہ کی دونوں سیاسی جماعتوں&nbsp; میں زیادہ مقبول نہیں&nbsp; ہے۔ اس میں بہت سختیاں ہیں، اور طلبہ کی کارکردگی میں بہتری کا بھی کوئی خاص ثبوت نہیں۔</p>
<p>اس قانون کے تحت سکولوں کو&nbsp; سرکاری رقوم کی فراہمی کے لئے طلبہ کی کارکردگی کو بنیاد بنایا گیا تھا۔ لیکن بعض امریکی ریاستوں میں یہ&nbsp; الزام سامنے آیا&nbsp; کہ وہاں طلبہ کو جان بوجھ کر رعایتی&nbsp; نمبروں سے پاس کیا جا رہا تھا&nbsp; یا اس قانون کو کسی اور طرح استعمال کیا جا رہا تھا ۔&nbsp; &nbsp;&nbsp;بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے &nbsp;گروروائٹ ہرسٹ کہتے ہیں کہ امریکہ کےا سکولوں میں بھی&nbsp; طلبہ کا ہر سال کے شروع اور آخر میں&nbsp; امتحان لیا جائے۔ تو اساتذہ اور سکولوں کی کارکردگی کا جائزہ امتحانوں کے نتائج کے ذریعے لیا جا سکتاہے ۔</p>
<p>بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے اسکالر گرور وائٹ ہرسٹ کا کہناہے کہ جب طلبہ کسی ٹیچر کی کلاس میں داخل ہوتے ہیں تو آپ کے پاس ان کے امتحانوں کے نتائج موجود ہوتے ہیں۔ ان&nbsp; کا&nbsp; اُس دوسرے امتحان کے نتائج سے موازنہ کیا جاسکتا ہے جو طلبہ سال کے آخر میں دیتے ہیں۔ اعداد و شمار کے درست موازنے سے اساتذہ کی کارکردگی&nbsp; کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا ہے کہ ان امتحانوں میں ایک ہی طرح کے امتحانات کی مدد سے نہ صرف امریکہ بھر میں&nbsp; مختلف سکولوں کی کارکردگی کا موازنہ کیا جا سکتا ہے۔ بلکہ دوسرے ملکوں کے نظام تعلیم&nbsp; کی نسبت&nbsp; امریکی نظام تعلیم کو پرکھا بھی جا سکتا ہے۔</p>
<p><iframe src="http://www.youtube.com/embed/uKLCn71pUFQ" width="480" height="390"></iframe></p>
<p>لیکن قابل اساتذہ کی نشاندہی کے بعد اگلا قدم کیا ہو؟ ہیرٹیج فاؤيڈیشن کی لنڈسی برک کہتی ہیں کہ اچھی کارکردگی پر اساتذہ کی حوصلہ افزائی کے لئے&nbsp; انعام دیا جانا&nbsp; چاہیے۔&nbsp;&nbsp;</p>
<p>ان کا کہناہے کہ میرا خیال ہے کہ اگر ہم کارکردگی کی بنیاد پر ایسی ترغیبات اپنائیں جن سے&nbsp; اساتذہ کو طلبہ کی کارکردگی میں بہتری لانے پر انعام دیا جائے تو نہ صرف طلبہ کی کارکردگی&nbsp; بہتر نہیں ہو گی، بلکہ دوسرے پیشوں سے بھی لوگ شعبہ تعلیم کا رخ کریں گے، اور اساتذہ کا میعار بھی&nbsp; بہترہوگا۔</p>
<p>برک کہتی ہیں کہ امریکی ریاست فلوریڈا میں امتحانوں میں کارکردگی کے لیے اعلی میعار قائم کرنے سے طلبہ کو بہت فائدہ ہو اہے۔&nbsp;</p>
<p>وہ کہتی ہیں کہ فلوریڈا میں طلبہ کی کارکردگی کوایف سی اے ٹی نامی ایک امتحان کے ذریعے جانچا جاتا ہے۔ طلبہ کی کارکردگی کی بنیاد پر ان کے سکولوں کو اےسے ایف تک ایک گریڈ دیا جاتا ہے۔ اگر چار سال کے عرصے میں کوئی سکول دو مرتبہ فیل ہو، تو&nbsp; اس کے طلبہ کو اپنی مرضی کا کوئی دوسرا سکول چننے کی اجازت ہوتی ہے۔&nbsp;</p>
<p>لیکن بعض مبصرین کے مطابق کچھ علاقوں میں برے سکولوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ طلبہ کو بہتر سکول کا انتخاب میسر ہی نہیں۔ واشنگٹن کے تھنک ٹینک کیٹو انسٹی ٹیوٹ کے &nbsp;نیل میک کلوسکی کا کہنا ہے کہ ریاست فلوریڈا میں کچھ جماعتوں میں بہتری کے آثار نمایاں ہیں&nbsp; لیکن&nbsp; مزید تحقیق کے بغیر اس ریاست میں &nbsp;شعبہ تعلیم کی اصلاح کے اقدامات کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔</p>
<p>تحقیق اور اعداد و شمار سے یہ ثابت ہوا ہے کہ طلبہ اور ان کے والدین کو سکولوں کے&nbsp; انتخاب&nbsp; کا اختیار دینے سے نہ صرف طلبہ کی کارکردگی بہترہوئی ہے، بلکہ بہت سے پرائیویٹ سکولوں کے قریب واقع سرکاری سکولوں کی کارکردگی میں بھی بہتری آئی ہے۔ اسکولوں کے آپس میں مقابلے کی وجہ سے ان کا میعار بہتر ہو جاتا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا ہے کہا سکولوں کو ان کی کارکردگی کی بنیاد پر سرکاری رقوم دینے کے بجائے اگر والدین کو اپنے بچوں کا سکول منتخب کرنے کا اختیار دیا جائے۔ اور انہیں تعلیم کا خرچ پورا کرنے کے لیے ٹیکس میں سالانہ چھوٹ دی جائے تو اسکولوں کو ذہین طلبہ حاصل کرنے&nbsp;&nbsp; کے لیے خود ہی اپنا میعار بہتر کرنا پڑے گا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 11 May 2011 16:07:41 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">121639784</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[آمنہ خان]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-05-11T16:07:41Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[تعلیم و نوجوان]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP_Harvard_University_Graduates_111_300.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>امیگریشن اصلاحات معیشت کی بہتری کے لیے ضروری ہیں، اوباما</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/usa/obama-immigration-10may11-121596189.html</link>
				<description>صدر اوباما نے ایک ایسے نظام کی تجویز دی جس سے امریکہ میں رہنے والے ایک کروڑ دس لاکھ سے ذیادہ غیر قانونی تارکین وطن کو شہریت دی جاسکے، اور غیر ملکی طلبا امریکہ میں کام کرنے کے علاوہ یہاں اپنے کاروبار بھی شروع کر سکیں۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ امینگرینٹس نے امریکہ کو مظبوط اور خوشحال بنایا ہے۔ صدر اوباما نے میکسیکو کی سرحد کے ساتھ واقع ٹیکساس ریاست کے شہر ایل پاسو میں امیگریشن قوانین میں اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امیگریشن کا موجودہ نظام شکستہ&nbsp; ہو چکا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس نظام کے شکستہ ہونے سے معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے کیونکہ غیر قانونی تارکین وطن کا استحصال کیا جا رہا ہے اور انہیں معمول سے بہت کم اجرتیں دی جارہی ہیں۔ جبکہ وہ کمپنیاں جو کہ قوانین کی پابندی کرتے ہوئے غیر قانونی ورکرز کو ملازمت نہیں دے تیں وہ قمیتوں کو کم رکھنے کے مقابلے میں پیچھے رہ جاتیں ہیں۔</p>
<p>صدر اوباما نے ایک ایسے نظام کی تجویز دی جس سے امریکہ میں رہنے والے ایک کروڑ دس لاکھ سے ذیادہ غیر قانونی تارکین وطن کو شہریت دی جاسکے، اور غیر ملکی طلبا امریکہ میں کام کرنے کے علاوہ یہاں اپنے کاروبار بھی شروع کر سکیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 10 May 2011 21:38:17 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">121596189</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-05-10T21:38:17Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[ امریکہ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/AP+Obama+Immigration480.jpg" length="34940" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP+Obama+Immigration480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP+Obama+Immigration.230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>جارج میسن یونیورسٹی میں پاکستانی طالب علموں کی رنگارنگ تقریب</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/education-youth/Pakistani-Students-in-George-Mason-University-27Apr11-120787194.html</link>
				<description>گذشتہ دنوں واشنگٹن کے مضافات میں واقع جارج میسن یونیورسٹی میں پاکستانی طالب علموں نے ایک محفل سجائی</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں بہار کی آمد کے ساتھ ہی مختلف تقاریب اور میلے منعقد ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور اس موقع پر&nbsp; یہاں کی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم&nbsp; پاکستانی&nbsp; بھی طالب علم بھی مختلف&nbsp; تفریحی پرگرامز ترتیب دیتے ہیں، جن کا مقصد&nbsp; پاکستانی کمیونٹی کو اکھٹے ہونے کا موقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ&nbsp; اور ان کی فلاح وبہبود کے کاموں میں حصہ لینا بھی ہوتا ہے۔ اسی سلسلے سے گذشتہ دنوں واشنگٹن کے مضافات میں واقع جارج میسن یونیورسٹی میں پاکستانی طالب علموں نے ایک محفل سجائی۔</p>
<p>ٹاڈ&nbsp; شے ایک امریکی ہیں اور ان&nbsp; کا تعلق واشنگٹن ڈی سی کے نواحی علاقے&nbsp; میری لینڈ سے&nbsp; علاقے سے ہے۔ وہ پاکستان میں ایک سماجی کارکن کی حیثیت سے کافی عرصے سے کام کر رہے ہیں ،&nbsp; اور یہاں جارج میسن&nbsp; یونیورسٹی میں انہوں نے&nbsp; پاکستانی طلبہ کے ساتھ مل کر بہار کا استقبال&nbsp; دل دل پاکستان کے نغمے کے ساتھ کیا۔</p>
<p>واشنگٹن کے نواحی علاقوں میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے ، اور یونیورسٹیوں میں&nbsp;&nbsp;&nbsp; بہت سے طلبہ زیر&nbsp; تعلیم ہیں ۔ جن میں سے اکثر یہاں ہی پیدا ہوئے ہیں۔ ایسے طالب علموں کو پاکستانی ثقافت اور کلچر سے قریب رکھنے کے پاکستانی طلبہ کی تنظیمیں ایسی تقریبات منعقد کرتی رہتی ہیں جہاں پاکستانی امریکن طلبہ کو پاکستان کے بارے میں جاننے کا زیادہ سے زیادہ موقع ملے۔</p>
<p>تقریب میں شامل ایک پاکستانی کا کہناتھا کہ یہاں&nbsp; کافی&nbsp; پاکستانی کمیونٹی ہے ۔ یہاں پیدا ہونے والے بچے پاکستان کے حالات کے بارے میں بہت کچھ جاننا چاہتے ہیں اور ہم انھیں اس حوالے سے معلومات فراہم کرتے ہیں۔</p>
<p>اور اس کے ساتھ ساتھ&nbsp; پاکستانی کمیونٹی کے مدد کے لیے&nbsp; سرگرم غیر سرکاری ادارے بھی ان تقریبات میں شریک ہوکر&nbsp; یہاں اور&nbsp; پاکستان میں موجود ضرورت مند وں کی مدد کے لیے لوگوں کو متحرک کرتے ہیں۔ سیدہ عائشہ ایک مقامی خیراتی ادارے کے لیے رضاکارانہ طور پر کام کرتی ہیں</p>
<p>&nbsp;ہیں۔ ان کا کہناتھا کہ&nbsp; ایسی تقریبات کے ذریعے ہمیں&nbsp; یہ موقع ملتا ہے کہ ہم یہاں لوگوں کو ان اداروں کے بارے میں بتائیں ۔۔</p>
<p>اسی مناسبت سے پاکستانی طلبہ نے ٹاڈ شے کو اپنی اس تقریب میں مدعو کیا ۔ وہ&nbsp; گزشتہ چھ سال سے پاکستان کے شمالی علاقوں میں&nbsp; زلزے کے بعد سے وہاں امدادی کام کررہے ہیں۔&nbsp; ان کا خیراتی ادارہ پاکستانی&nbsp;&nbsp; کشمیر میں صحت اور تعلیم کی سہولتیں فراہم کررہا ہے۔ ۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ یہ کام مقامی پاکستانی امریکن ڈاکٹروں کی مدد سے کررہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ میں 2005ء کے زلزلے کے بعد&nbsp; پاکستانی امریکی ڈاکٹروں کے ایک گروپ کے ساتھ متاثرہ علاقوں میں گیا تھا۔ لیکن وہاں کے حالات دیکھ کر وہیں رک گیا اور ابھی&nbsp; تک وہاں کام کررہا ہوں۔</p>
<p>ٹاڈ کا کہنا ہے کہ پاکستانی آبادی کا 43 فیصد 15 سال سے کم عمر بچوں پر مشتمل ہے۔ اور انھیں یہاں یہ سب&nbsp; دیکھ کر لگ رہا ہے کہ یہاں بسنے والے پاکستانی اپنے بھائیوں کا درد سمجھتے ہیں۔</p>
<p>&nbsp;ان کا کہنا تھا&nbsp; کہ&nbsp; میں امریکہ کی مختلف یونیورسٹیوں میں جن پاکستانی نژاد طالب علموں سے&nbsp; ملا، تومجھے لگا کہ وہ پاکستان کی امید ہیں۔ وہ پاکستان کو بدل سکتے ہیں۔ ان کے اندر پاکستان کے حالات بدلنے کی امنگ&nbsp; اور جذبہ موجود ہے۔</p>
<p>ٹاڈ کا کہنا ہے کہ وہ یہاں پاکستانی امریکی بچوں کے ساتھ دل دل پاکستان گا کر&nbsp; پاکستان سے اپنی محبت کا اظہار کررہے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ لوگ انھیں&nbsp; امریکن پاکستانی کہتے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 27 Apr 2011 16:18:53 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">120787194</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[ثاقب الاسلام]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-04-27T16:18:53Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[تعلیم و نوجوان]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Jazz_4_Justice-standardQT01.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>آن لائن تعلیم ۔۔ برطانوی اسٹوڈنٹس بھارتی ٹیچرز سے ریاضی پڑھ رہے ہیں</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/education-youth/Online-Education-21Apr11-120362824.html</link>
				<description>والدین کا کہنا ہے کہ انھوں نے آن لائن تعلیم سے بچوں میں بہتری دیکھی ہے اور وہ اس طریقہ کار سے مطمئن ہیں</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>ایک زمانہ تھا کہ ہندوستان پر برطانیہ کا راج تھا اور اس کی فضاؤں میں یونین جیک لہراتاتھا اور اور وہ انہیں اچھے برے کی تمیز سکھاتا تھا اور آزادی کے64 سال بعد کا منظر نامہ یہ ہے کہ برطانوی طالب علم بھارتی اساتذہ سے پڑھ رہے اور وہ بھی ریاضی جیسا مضمون انٹرنیٹ کے ذریعے۔</p>
<p>دن کے ساڑھے تین بج چکے ہیں&nbsp; اور لندن میں واقع رین ہیم&nbsp; پرائمری سکول کے بچے&nbsp; ریاضی کی کلاس کی تیاری کر رہے ہیں۔</p>
<p>ہزاروں کلو میٹر دور&nbsp; بھارت&nbsp;&nbsp; میں&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; ان کے اساتذہ&nbsp; بھی پڑھانے کی تیاری میں ہیں۔&nbsp; انٹرنیٹ&nbsp; نے&nbsp; اس&nbsp; ہزاروں کلومیٹر کے فاصلے پر&nbsp; بیٹھے مختلف لوگوں کو ایک ہی کلاس میں&nbsp; پڑھنے اور پڑھانے کو ممکن بنا دیا ہے۔ جہاں ہر بچے کے لیے ایک الگ&nbsp;&nbsp; ٹیچر آن لائن&nbsp; موجود ہے ۔</p>
<p>الٹس&nbsp; بیسن&nbsp; ایک ٹیچر ہیں۔ وہ اپنے طالب علموں سے مطمئن ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ بچوں کے رزلٹس بہت اچھے آئے ہیں۔ وہ بچے جو کلاس میں&nbsp; اتنا اچھا&nbsp; نہیں سمجھ سکتے تھے&nbsp; آن لائن لیپ ٹاپ پر بہتر&nbsp; نتائج دکھا رہے ہیں۔ سب سے بڑی خوبی یہ ہےکہ ہر بچے کو انفرادی طورپر&nbsp; ایک ٹیچر کی خصوصی توجہ حاصل رہتی ہے۔</p>
<p>الٹس کے شاگرد اپنے آن لائن ٹیچر سے خوش&nbsp; نظر آتے ہیں۔ سمعیہ قادر ایک طالبہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ آن لائن کلاس سے مجھے بہت مدد مل رہی ہے، بعض اوقات کلاس میں اساتذہ کی آواز صاف سنائی نہیں دیتی&nbsp; لیکن آن لائن یہ مسئلہ نہیں ہے۔</p>
<p>عبدالفاضل بھی آن لائن تعلیم حاصل کرنے والا ایک طالب علم ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ&nbsp; آن لائن&nbsp; سب مختلف&nbsp; موضوعات&nbsp; پر بات کر رہے ہوتے ہیں اور ہر ایک کو ٹیچر کی انفرادی توجہ حاصل ہوتی ہے۔</p>
<p>ہر بچے کے لیے ایک الگ ٹیچر کا&nbsp; خیال پیش کرنے والی کمپنی برائٹ سپارک ایجوکیشن&nbsp; کے بانی ٹام ہوپر ۔ان کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعے کے اس طریقے میں بچے بہت&nbsp; پر اعتماد نظر آتے ہیں۔ اور معیاری&nbsp; تعلیم&nbsp; کے لیے یہی بنیادی&nbsp; نکتہ ہے۔ آپ انھیںٕ تعلیم حاصل کرنے پر اختیار دیں اور آپ دیکھیں گے کہ وہ&nbsp; بہت کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔</p>
<p>رین ہیم پرائمری سکول یورپ کے ان چند سکولوں میں شامل ہے جہاں آن لائن تعلیم کی سہولت متعارف کروای گئی ہے۔ انہیں20 سے 25 ڈالر فی گھنٹہ کے حساب سے اساتذہ بھی دستیاب ہیں اور&nbsp; روایتی تعلیم کے طریقہ کار کے مقابلے میں خرچ بھی&nbsp; آدھا&nbsp; ہے۔لیکن کچھ لوگ&nbsp; اس سے ناخوش بھی ہیں۔</p>
<p>&nbsp;کیون کورٹنی برطانیہ کی نیشنل یونین آف ٹیچرز کے جنرل سیکرٹری ہیں۔ ان کا کہناہے کہ میرے خیال سے کلاس روم کا اپنا ایک ماحول ہوتا ہے جہاں طلبہ اور اساتذہ کے درمیان&nbsp; ایک تعلق بنتا ہے۔ بچوں کو&nbsp; فوری ردعمل چاہیے ہوتا ہے جو شاید آن لائن حاصل نہ ہوسکے ۔ میرے خیال سے دنیا کے ایک امیر ملک ہونے کے ناطے ہم اساتذہ اور بچوں کے اس حقیقی&nbsp; تعلق کو قائم رکھنے کے ذرائع رکھتے ہیں۔</p>
<p>جبکہ برائٹ پارک ایجوکیشن&nbsp; کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ تعلیم روایتی تعلیم میں رہ جانے والی کمی کو دور کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ اور اس سے روایتی اساتذہ کی نوکریوں کو بھی کوئی خطرہ نہیں ہے۔</p>
<p>والدین کا کہنا ہے کہ انھوں نے آن لائن تعلیم سے بچوں میں بہتری دیکھی ہے اور وہ اس طریقہ کار سے مطمئن دکھائی دیتے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 21 Apr 2011 15:50:28 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">120362824</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[ہنری رج ول/ ثاقب الاسلام]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-04-21T15:50:28Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[تعلیم و نوجوان]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Myanmar+students+use+internet+access+at+an+internet+cafe+Wednesday_April+1_2009+in+Yangon-AP-230.jpg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																																																		</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>بہبود کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں: میری لینڈ مسلم کونسل </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/education-youth/community_welfare_19apr11-120235274.html</link>
				<description>اُنھوں نےکمیونٹی پر  زور دیا کہ  اُنھیں چاہیئے کہ معاشرتی بہبود کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں،  ورنہ وہ پیچھے رہ جائیں گے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>میری لینڈ مسلم کونسل کی صدر اِرما حفیظ نے کہا ہے کہ اُن کی تنظیم پاکستانی نژاد امریکی نوجوانوں کوامریکہ &nbsp;کے سیاسی اور سماجی کاموں میں شامل کرنے کی تگ و دو کررہی ہے۔</p>
<p>&rsquo;وائس آف امریکہ&lsquo; کے پروگرام &rsquo;مسلمز اِن امریکہ&lsquo; کو ایک انٹرویو میں اُنھوں نےکمیونٹی پر زور دیا کہ اُنھیں چاہیئے کہ معاشرتی بہبود کےکاموں میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیں، ورنہ وہ پیچھے رہ جائیں گے۔</p>
<p>&nbsp;اسکول کے بچوں کی مثال دیتے ہوئے، اِرما حفیظ نے کہا کہ جب تک والدین اساتذہ کے ساتھ ملیں گے نہیں اورپبلک اور پرائیویٹ اسکولوں میں تعلیم لینےوالےبچوں کی تدریس، بہبود اورکارکردگی &nbsp;کی خبرگیری نہیں کریں گے،&nbsp; تب تک اُن کی تعلیم کے فروغ کوکیسےیقینی بنایا جا سکتا ہے؟</p>
<p>ساتھ ہی، اُنھوں نےکہا کہ خوش &nbsp;آئند بات یہ ہے کہ اب &nbsp;ایسا نہیں ہےاور کمیونٹی کے&nbsp; والدین، خواتین یا خاندان کےدیگر افراد &nbsp;کی زیادہ تعداد &nbsp;&nbsp;فعال کردار ادا کرنے لگے ہیں اور اسکولوں کی پیرنٹ ٹیچر ایسو سی ایشنوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگے ہیں۔</p>
<p>&nbsp;اِرما نےکہا کہ اگر والدین فعال ہوں اور پیرنٹ ٹیچر اجلاسوں میں شریک ہوں توبچوں کی بہبود کے کئی ایک کام کروائے جا سکتے ہیں، مثلاً ماہِ رمضان میں روزےرکھنے والےبچوں کی سہولت کے لیے امتحانی ٹیسٹ کی تاریخ نہ رکھنا یا عید کے دِن چھٹی کی سہولت کا بندوبست کرنا، تاکہ بچےاضافی زحمت سےبچ جائیں، اُن کی غیرحاضری نہ لگے اور ہائی اسکول کے گریڈ میں کوئی فرق نہ آنے پائے۔</p>
<p>تفصیل کےلیےآڈیورپورٹ سنیئے:</p>
<p>
<object classid="clsid:02bf25d5-8c17-4b23-bc80-d3488abddc6b" width="214" height="33" codebase="http://www.apple.com/qtactivex/qtplugin.cab#version=6,0,2,0">
<param name="src" value="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+1300+Muslims+in+America----MCM+working+for+muslim+youth-+Khalid+Hamid+03-21.Mp3" /><embed type="video/quicktime" width="214" height="33" src="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+1300+Muslims+in+America----MCM+working+for+muslim+youth-+Khalid+Hamid+03-21.Mp3"></embed>
</object>
</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 19 Apr 2011 21:28:44 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">120235274</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[خالد حمید]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-04-19T21:28:44Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[تعلیم و نوجوان]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/irma_300x300.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>بیرون ملک زیرتعلیم اسکالرزاور طالب علموں کے مستقبل کو خطرہ</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan/pakistan-higher-education-06apr11-119317749.html</link>
				<description> ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے اختیارات کو اگر تقسیم کر دیا گیا تو بیرون اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی اسکالز اور طالب علموں کے لیے نا صرف اپنی تعلیم جاری رکھنا مشکل ہوجائے گا بلکہ حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر شاید وہ کبھی وطن واپس نہ آ پائیں۔ </description>
													<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے نگران ادارے &rsquo;ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)&lsquo; کے چیئرمین جاوید لغاری نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پانچ ہزار سے زائد پاکستانی اسکالرز اور طالب علم اس وقت امریکہ سمیت دنیا کے 30 ممالک میں سرکاری اخراجات پر اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">اُنھوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگراُن کے ادارے کے اختیارات کو تقسیم کر دیا گیا تو نا صرف ان سب افراد کے لیے بیرون ملک اپنی تعلیم جاری رکھنا مشکل ہوجائے گا بلکہ حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر شاید وہ کبھی وطن واپس نہ آ پائیں جس سے پاکستان ان ذہین افراد سے محروم ہو جائے گا۔</p>
<p style="text-align: right;">جاوید لغاری نے کہا کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن ایک خود مختار ادارے کے طور پر کام کرتا ہے اور براہ راست وزیراعظم کو جوابدہ ہے اس لیے اس کے اختیارات کو کم کرنے یا اسے غیر موثر بنانے سے ملک میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں حالیہ برسوں میں جو بہتری آئی ہے وہ بھی متاثر ہو گی۔</p>
<p style="text-align: right;">ایچ ای سی کے چیئرمین نے کہا کہ&nbsp;اُنھیں&nbsp;پاکستان کی تمام سرکاری یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں کی حمایت حاصل ہے اور اُنھوں نے دو اجلاسوں میں حکومت سے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو ختم نہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ &rdquo;دنیا ایک طرف چل رہی ہے، کیا ہماری حکومت الٹی طرف چلے گی۔ ہم تو پوری کوشش کر رہے ہیں اگر وہ ہماری بات سنیں اور سمجھیں تو اس میں سب کی بھلائی ہے اس میں ملک کی بھلائی &ldquo;۔</p>
<p style="text-align: right;">ہائیرایجوکیشن کمیشن اراکین پارلیمنٹ اور ممبران صوبائی اسمبلیوں کی ڈگریوں کی جانچ پڑتال بھی کر رہی ۔ جاوید لغاری نے بتایا کہ ایچ ای سی کے خاتمے کے بعد شاید کوئی اور ادارہ اتنی افادیت کے ساتھ ڈگریوں کی چھان بین نہ کرسکے اور اس عمل میں سالوں لگ جائیں۔</p>
<p style="text-align: right;">سابق وفاقی وزیر اور 'ہائیر ایجوکیشن کمیشن' کے بانی چیئرمین ڈاکٹر عطاء الرحمن نے بھی کہا ہے کہ&nbsp;ایچ ای سی کے اختیارات کی منتقلی سے ملک میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کو نقصان پہنچے گا۔</p>
<p style="text-align: right;">گذشتہ ہفتے وفاقی وزیر سینیٹر رضا ربانی نے ایک بیان میں اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے اختیارات کی صوبوں کو منتقلی کا عندیہ دیا تھا جس بعد اس ممکنہ اقدام کی مخالفت اوراحتجاج کا سلسلہ شروع ہے۔<br /><br />دریں اثناء امریکہ نے کہا ہے کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے لیے یوا یس ایڈ کی طرف سے دی جانے والی مالی امداد روکنے سے متعلق مقامی میڈیا کی اطلاعات درست نہیں ہیں ۔ اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ&rdquo; یوایس ایڈ نے ایچ ای سی کی کوئی امداد نہیں روکی اور نہ ہی اب تک اُس کا ایسا کوئی ارادہ ہے&ldquo; ۔</p>
<p style="text-align: right;">سفارت خانے کا کہنا ہے کہ ہے یوایس ایڈ کے ذریعہ امریکہ پہلے ہی ایچ ای سی کو 2010ء کے لیے مختص کردہ امداد فراہم کرچکا ہے اور مزید کسی پروگرام کا تعین اس سال کے آخر میں کیا جائے گا جب امریکی کانگریس 2011ء کے لیے امداد کی منظور ی دے گی۔</p>
<p style="text-align: right;">&nbsp;&rdquo;یوایس ایڈ سالانہ دوکروڑ امریکی ڈالرامداد کے ساتھ اپنی نوعیت کے سب سے بڑے فل برائیٹ پروگرام کے لیے اعانت فراہم کرتا ہے۔ اس پروگرام پر امریکی محکمہ خارجہ ایچ ای سی کے اشتراک سے عمل درآمد کرتا ہے۔ پاکستان کے ساتھ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبے میں اشتراک بھی ایچ ای سی کے ذریعے ہی کیا جاتا ہے&ldquo;۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 7 Apr 2011 14:42:33 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">119317749</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[محمد اشتیاق]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-04-07T14:42:33Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/javed+leghari+chairman+higher+education+commission+seminar_480.jpg" length="73857" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/javed+leghari+chairman+higher+education+commission+seminar_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/javed+leghari+chairman+higher+education+commission_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>محقق و ادیب ڈاکٹر نبی بخش بلوچ انتقال کرگئے</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan/Dr-Baloch-Passed-Away-06Apr11-119343479.html</link>
				<description>پاکستان کے معروف محقق، ادیب اور دانشور ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کو ان کی تحقیقی خدمات کے اعتراف میں ہلالِ امتیاز سمیت کئی قومی اور بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا تھا</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>پاکستان کے معروف محقق، ادیب اور دانشور ڈاکٹر نبی بخش بلوچ بدھ کے روز دل کے عارضے کے باعث صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد میں انتقال کرگئے۔ ان کی عمر&nbsp; 93 برس تھی۔</p>
<p>انہیں منگل اور بدھ کی درمیانی شب دل کا دورہ پڑنے&nbsp; کے باعث حیدرآباد کے مقامی اسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں وہ جانبر نہ ہوسکے۔</p>
<p>ڈاکٹر بلوچ کا شمار اردو اور سندھی زبان وادب&nbsp; کے اہم ترین&nbsp; لکھاریوں میں ہوتا تھا اور انہیں سندھ کی ثقافت اور تاریخ پر ایک 'اتھارٹی' کی حیثیت حاصل تھی۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE--&gt;</span></p>
<p>انہوں نے سندھ کی لوک داستانوں&nbsp; کے ایک ضخیم مجموعہ کی تدوین کی جو 7 جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ ان کے اہم ترین علمی اور تحقیقی کارناموں میں 5 جلدوں پر مشتمل سندھی لغت کی تدوین اور شاہ عنایت اور شاہ عبداللطیف بھٹائی جیسے سندھ کے معروف کلاسیکی شعراء کے مجموعوں کی ترتیب&nbsp; بھی شامل ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر بلوچ کو اردو، سندھی، فارسی اور عربی پر عبور حاصل تھا اور انہوں نے ان زبانوں میں سندھ کی ثقافت، ادب، تاریخ اور تہذیب پر درجنوں کتابیں&nbsp; اور تحقیقی مقالے تحریر کیے۔ انہیں ان کی تحقیقی خدمات کے اعتراف میں ہلالِ امتیاز سمیت کئی قومی اور بین الاقوامی اعزازات سے بھی نوازا گیا۔</p>
<p>16 دسمبر 1917 کو صوبہ سندھ کے ضلع سانگھڑ کی تحصیل سنجھورو میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر نبی بخش بلوچ نے&nbsp; بمبئی کے جونا گڑھ کالج سے بی-اے، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے عربی میں ایم-اے اور ایل-ایل-بی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ 1946 میں وہ امریکہ چلے گئے جہاں انہوں نے کولمبیا یونیورسٹی سے تعلیم میں پی ایچ ڈی&nbsp; کیا۔ ان کے مقالے کا موضوع&nbsp; "پاکستان میں اساتذہ کی تعلیم" تھا۔</p>
<p>امریکہ سے واپسی پر انہوں نے سندھ یونیورسٹی میں پاکستان&nbsp; کا پہلا "ڈپارٹمنٹ آف ایجوکیشن" قائم&nbsp; کیا&nbsp; اور اس کے سربراہ رہے۔ بعد ازاں انہوں نے سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔</p>
<p>ڈاکٹر بلوچ اسلام آباد میں 'بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی' کے قیام&nbsp; میں بھی شریک رہے۔&nbsp; بعد ازاں&nbsp; انہیں سندھی زبان&nbsp; کے تحفظ اور فروغ کے ادارے 'سندھی لینگویج اتھارٹی' کے قیام کے بعد اس کا پہلا سربراہ مقرر کیا گیا۔</p>
<p>ڈاکٹر بلوچ اپنی وفات تک سندھ یونیورسٹی&nbsp; سے وابستہ اور علمی و تحقیقی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔&nbsp; ان کی تدفین ان کی وصیت کے مطابق سندھ یونیورسٹی کے حاطے میں دفن ان کے دیرینہ ساتھی اور یونیورسٹی کے بانی وائس چانسلر علامہ آئی آئی قاضی کے پہلو میں کی جائے گی۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 7 Apr 2011 14:41:58 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">119343479</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[عمیر بن ریاض]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-04-07T14:41:58Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
																											
																	
																																																	<media:group>
																																							<media:content url="http://media.voanews.com/images/Nabi-Bakhsh-Baloch-300X300.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/nabi.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																										</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>ایچ ای سی کی صوبوں کو منتقلی'تعلیمی خودکشی' ہوگی:  ڈاکٹر عطاء </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan/Karachi-Higher-Education-Commission-05Apr11-119254634.html</link>
				<description>'ہائیر ایجوکیشن کمیشن' کے سابق بانی چیئرمین ڈاکٹر عطاء الرحمن نے 'ایچ ای سی' کی وفاق سے صوبوں کو منتقلی کو قومی المیہ قرار دیا ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>پاکستان کے سابق وزیرِسائنس وٹیکنالوجی اور 'ہائیر ایجوکیشن کمیشن' کے سابق بانی چیئرمین ڈاکٹر عطاء الرحمن نے 'ایچ ای سی' کی وفاق سے صوبوں کو منتقلی کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے قومی المیہ قرار دیا ہے۔</p>
<p>وائس آف امریکہ' سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے معروف پاکستانی سائنسدان کا کہنا تھا کہ ملک میں اعلیٰ تعلیم کے ریگولیٹری ادارے کی تحلیل کا فیصلہ بدنیتی پر مبنی ہے اوراگر اس پر عمل کیا گیا تو ان کے بقول ملک میں اعلیٰ تعلیمی معیار تباہی کا شکار ہوجائے گا۔</p>
<p>واضح رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے18 ویں آئینی ترمیم کے تحت کئی وزارتوں سمیت &rsquo;ہائیر ایجوکیشن کمیشن&lsquo; کے بیشتر اختیارات بھی صوبوں کو منتقل کیے جارہے ہیں۔ اس ضمن میں 'ایچ ای سی' کے آرڈیننس میں ترامیم متعارف کی جائیں گی جس کے بعد کمیشن کی خود مختار وفاقی حیثیت کو ختم کرکے اس کے اختیارات صوبائی حکومتوں کو سونپ دئیے جائیں گے جو آئندہ اپنی حدود میں قائم سرکاری جامعات کی فنڈنگ اور دیگر معاملات کی ذمہ دار ہوں گی۔</p>
<p>وی او اے' سے گفتگو میں ڈاکٹر عطاء کا کہنا تھا کہ ایچ ای سی کو صوبوں کے حوالے کرنے کا منصوبہ ایک احمقانہ قدم ہے کیونکہ ان کے بقول اس کے باعث ملک میں ہر صوبے کی یونیورسٹیز کا علیحدہ تعلیمی معیار اور نظام ہوگا۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE--&gt;</span></p>
<p>انہوں نے کہا کہ جو صوبائی حکومتیں ابتدائی تعلیمی اداروں اور اسکولوں کا نظام درست طور پر چلانے کی اہل نہ ہوں انہیں جامعات جیسے اعلیٰ اداروں کا انتظام سونپنا دانشمندانہ اقدام قرار نہیں دیا جاسکتا۔</p>
<p>ڈاکٹر عطاء الرحمن کے بقول ایچ ای سی کو صوبوں کے حوالے کرنے سے جامعات میں سیاسی مداخلت بڑھ جائے گی اور اس کا نتیجہ مالی بے ضابطگیوں اور کرپشن کی صورت میں سامنے آئے گا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایچ ای سی کے کسی عہدیدار پر پچھلے 10 سال میں آج تک کرپشن اور خلافِ میرٹ کام کرنے کا کوئی الزام نہیں لگا اور ان کے بقول ادارے کے معاملات کی یہی شفافیت &rsquo;سیاستدانوں سے برداشت نہیں ہورہی&lsquo;۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ سیاستدان 'ایچ ای سی' پر اس لیے برہم ہیں کہ اس ادارے نے ان کی ڈگریاں جعلی قرار دیں اور اس ضمن میں ہر قسم کا دباؤ قبول کرنے سے انکار کردیا۔ ان کے بقول کرپٹ سیاستدان اس ادارے کی خودمختاری سے نالاں ہیں اور اسے تحلیل کرکے سبق سکھانا چاہتے ہیں تاکہ آئندہ کوئی ان کی ڈگریوں پر انگلی نہ اٹھا سکے۔</p>
<p>ڈاکٹر عطاء کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کی پالیسیوں کو'قومی ترقیاتی منصوبوں' سے ہم آہنگ رکھنے کیلئے مرکزی نظام وضع کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اس ضمن میں بھارت اور جنوبی کوریا کی مثالیں پیش کیں جہاں ان کے بقول یونیورسٹیز کے حوالے سے 'سینٹرل ویژن اور اسٹریٹیجی' مرکزی سطح پر مرتب کی جاتی ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر عطاء نے کہا کہ صوبوں کی نظریں اس ادارے کے فنڈز پر لگی ہوئی ہیں لیکن انہیں اس ضمن میں مایوسی ہوگی کیونکہ ان کے بقول وفاق کی جانب سے صوبوں کو جامعات کیلئے مزید فنڈز فراہم کرنے سے انکار کردیا گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے 'ایچ ای سی' کو صوبوں کے حوالے کرنے کے فیصلے کو &rsquo;تعلیمی خود کشی&lsquo; اور &rsquo;خود ساختہ بحران&lsquo; قرار دیتے ہوئے فیصلے کی منسوخی کا مطالبہ بھی کیا۔</p>
<p>ڈاکٹرعطاالرحمٰن کا انٹرویو سنیئے:</p>
<p>
<object classid="clsid:02bf25d5-8c17-4b23-bc80-d3488abddc6b" width="187" height="29" codebase="http://www.apple.com/qtactivex/qtplugin.cab#version=6,0,2,0">
<param name="src" value="http://media.voanews.com/audio/Dr+Atta+Sound+clip1.mp3" /><embed type="video/quicktime" width="187" height="29" src="http://media.voanews.com/audio/Dr+Atta+Sound+clip1.mp3"></embed>
</object>
</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 6 Apr 2011 15:40:42 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">119254634</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[عمیر بن ریاض]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-04-06T15:40:42Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/011-1-ata-480.jpg" length="46011" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
																											
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/011-1-ata-480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/atta-ur-rahman--300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/ata+n+umair-300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="150" width="300" />
																																																										</media:group>
																						</item>
									
													
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>دنیا کا تیز ترین سپر کمپیوٹر </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/Supper-Computer-25Mar11-118653479.html</link>
				<description>سپر کمپیوٹر پہلے پہل 1960ء کے عشرے میں کنٹرول ڈیٹا کارپوریشن نے  متعارف کرائےتھے۔ تاہم 1980 کی دہائی میں کئی اور کمپنیاں بھی اس  میدان میں آگئیں</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ وہ اگلے سال ایک نیا سپر کمپیوٹر &rsquo;ٹائی ٹن&lsquo; متعارف کرارہے ہیں جو دنیا کا سب سے تیز رفتار کمپیوٹر ہوگا۔ اس وقت دنیا کا تیز ترین سپر کمپیوٹر چین کے پاس ہے،جسے 2010ء میں&nbsp; تیز ترین سپر کمپیوٹر بنانے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔</p>
<p>جس رفتار سے ڈیجٹل ٹیکنالوجی ترقی کررہی ہے، اس کے پیش نظر ماہرین کا کہناہے کہ چند سال کے بعد آج کے&nbsp; بڑے بڑے سپر کمپیوٹروں کے مقابلے میں عام لیپ ٹاپ زیادہ تیز رفتار ہوں گے اور ان پر آج کے سپر کمپیوٹروں کی نسبت زیادہ ڈیٹا پراسسنگ کی جاسکے گی۔</p>
<p>سپر کمپیوٹر پہلے پہل 1960ء کے عشرے میں کنٹرول ڈیٹا کارپوریشن نے&nbsp; متعارف کرائےتھے۔ تاہم 1980 کی دہائی میں کئی اور کمپنیاں بھی اس&nbsp; میدان میں آگئیں ۔</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دور&nbsp; میں استعمال ہونے والے سپر کمپیوٹروں سے آج کے موبائل فونز کے مائیکرو پراسیسرز زیادہ تیز رفتار ہیں۔</p>
<p>&nbsp;سائنس کی اصطلاح میں سپر کمپیوٹر&nbsp; اس ڈیجیٹل مشین کو کہا جاتا ہے جس کے ذریعے انتہائی تیزی کے ساتھ اعدادوشمار اور معلومات کی پراسسنگ کی جاسکے۔ تیز رفتار پراسسنگ کی زیادہ تر ضرورت جوہری سائنس، موسم کی پیش گوئیوں ، دفاع اور خلائی&nbsp; سائنس کے شعبوں میں پڑتی ہے۔تاہم اب زندگی کی تیزرفتاری نے زندگی کےاکثر شعبوں کو سپر کمپیوٹر کا محتاج بنا دیا ہے۔</p>
<p>امریکہ میں شاید ہی کوئی یونیورسٹی ایسی ہو جہاں سپر کمپیوٹر نصب نہ ہوں۔&nbsp; تعلیمی اداروں کے سپر کمپیوٹرز سائنسی تجربات&nbsp; کے تجزیوں اور تحقیقی کاموں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔</p>
<p>سپر کمپیوٹر عام کمپیوٹر سے بہت بڑا ہوتا ہے۔ چند عشرے قبل تک ایک سپر کمپیوٹر کی تنصیب کے لیے بہت بڑی عمارت درکار ہوتی تھی اور وہ بہت&nbsp; وزنی ہوتا تھا۔&nbsp; تاہم جیسے جیسے ڈیجٹل آلات کے سائز مختصر ہورہے ہیں، کمپیوٹر ز کا جحم بھی کم ہوتا جارہاہے۔ اس کااندازہ ا س چیز سے لگایا جاسکتا ہے کہ آج کل آپ کے گھر میں کسی میز پر جو ایک ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر رکھا ہوا ہے، اس کی قوت اور صلاحت&nbsp; اور رفتار ، 80 کے عشرے کے ان سپرکمپیوٹروں سے کہیں بہتر ہے جنہیں بڑے بڑے کمروں میں نصب کیا گیاتھا۔</p>
<p>عام کمپیوٹر میں پراسسنگ کے لیے ایک مائیکروپراسیسر ہوتاہے۔ آج کے اکثر کمپیوٹروں میں ایسے مائیکروپراسیسر نصب ہوتے ہیں جن کی کم ازکم دو، یا چار یا اس سے زیادہ پرتیں ہوتیں ہیں۔ گویا دوسرے لفظوں میں ایک وقت میں کمپیوٹر میں ایک سے زیادہ&nbsp; مائیکروپراسیسر کام کررہے ہوتے ہیں۔ جب کہ سپر کمپیوٹروں میں انتہائی تیزرفتار مائیکروپراسیسرز کی تعداد سینکڑوں بلکہ ہزاروں میں ہوتی ہے۔</p>
<p>ان دنوں امریکی سائنس دان جس سپر کمپیوٹر کے ڈائزئن پر کام کررہے ہیں ، اس میں یہ صلاحیت موجود ہوگی کہ وہ ایک&nbsp; سیکنڈ میں ریاضی کے&nbsp; دولاکھ کھرب سوال حل کرسکے۔</p>
<p>ماہرین کا کہناہے کہ اس وقت چین میں نصب دنیا کا تیزترین سپر کمپیوٹر ایک سیکنڈ میں ریاضی کے 25 ہزار کھرب سوال حل کرسکتا ہے۔</p>
<p>&nbsp;ایک عام کیلکولیٹر کمپیوٹر کی سادہ ترین ابتدائی شکل ہے جس پر ایک وقت میں صرف ایک سوال حل کرکیا جاسکتا ہے۔&nbsp; جب کہ عام کمپیوٹر پر آپ ایک ساتھ درجنوں فائلیں کھول کر ان پر بیک وقت&nbsp; کام کرسکتے ہیں۔</p>
<p>اگر سپر کمپیوٹر کی کارکردگی کو انسانی صلاحیت کے پیمانے پر جانچا جائے تو نئے&nbsp; سپر کمپیوٹر کی صلاحیت کو اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ وہ ایک دن میں اعدادوشمار کا اتنا کام کرسکتا ہے جسے بصورت دیگر ایک کھرب 20 ارب افراد&nbsp; ، جن کے پاس اپنے اپنے کیلکولیٹر ہوں، 50 سال میں سرانجام دیں&nbsp; گے۔</p>
<p>دس کروڑ ڈالر مالیت کا یہ سپر کمپیوٹر امریکہ کے محکمہ توانائی کے لیے تیار کیا جارہاہے جسے ریاست ٹینی سی کے شہر اوک رج کی نیشنل لیبارٹری میں نصب کیاجائے گا۔</p>
<p>اگلے سال امریکہ میں صرف &rsquo; ٹائی ٹن&lsquo; سپر کمپیوٹر کا ہی افتتاح نہیں ہوگا بلکہ آئی بی ایم کمپنی بھی کیلی فورنیا کی قومی لیبارٹری میں ایک نیا سپر کمپیوٹر نصب کررہی ہے۔</p>
<p>کمپیوٹر کے شعبے میں کئی عشروں تک امریکہ کو واضح برتری حاصل رہی ہے ۔ مگر 2010ء میں چین نے&nbsp; امریکہ سے یہ اعزاز چھین لیاتھا۔ اگرچہ اگلے سال یہ اعزاز دوبارہ امریکہ کو مل جائے گا ،لیکن ماہرین کا کہناہے کہ چین اور جاپان میں کمپیوٹر ٹیکنالوجی کاشعبہ جس تیز رفتاری سے ترقی کررہاہے&nbsp; اس کے پیش نظر امریکہ کے لیے اپنے اس اعزاز کا دفاع آسان نہیں ہوگا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 25 Mar 2011 23:03:56 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">118653479</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[جمیل اختر]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-03-25T23:03:56Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/supperComputer-480.jpg" length="75467" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/supperComputer-480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Supercomputer-300X300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>امریکہ میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ  کی کوششیں </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/US-Higher-Education-02Mar11-117246058.html</link>
				<description>اوباما انتظامیہ نے زیاد ہ سے زیادہ نوجوانوں کی اعلی تعلیم تک رسائی ممکن بنانے کے لیئے ایک نئے پروگرام کا آغاز کیا ہے  </description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکہ میں بارہویں جماعت تک تعلیم مفت ہے لیکن&nbsp; اس کے بعد کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم پرکافی اخراجات آتے ہیں جس کے باعث&nbsp;&nbsp; بہت سےنوجوان یہاں کالج جانے کی بجائے ملازمت کو ترجیح دیتے ہیں۔&nbsp; اوباما انتظامیہ نے زیاد ہ سے زیادہ نوجوانوں کی اعلی تعلیم تک رسائی ممکن بنانے کے لیئے ایک پروگرام کا آغاز کیا ہے&nbsp; ۔اس سلسلے میں&nbsp; واشنگٹن کی ہاورڈ یونیورسٹی میں&nbsp; وائسز ان ایکشن&nbsp; کے نام سے ایک سیمنار منعقد کیا گیا، جس میں امریکہ بھر سے طالب علم شریک ہوئے۔</p>
<p>اس سیمنار میں&nbsp; طالب علموں نے نہ صرف اپنے خیالات کا اظہار کیا بلکہ ان کی آواز امریکی محکمہ تعلیم تک پہنچانے کا بھی انتظام کیا گیاتھا۔</p>
<p>البرٹو ریٹانا امریکی محکمہ تعلیم سے منسلک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ&nbsp; اکیسویں صدی کے چیلینجزکو دیکھتے ہوئے آج کی نوجوان نسل سے مکالمہ بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان ہماری کمیونٹی کا بہت اہم حصہ ہیں۔ وہ ان تمام کوششوں کا محور ہیں۔اس کی کامیابی اور ناکامی سے ان کا فائدہ اور نقصان جڑا ہے۔ ہم نے پچھلے پانچ &nbsp;مہینے میں پورے ملک&nbsp; میں طالب علموں &nbsp;سے ملاقات کی ، ان کی آواز سنی اور ان کے مسائل&nbsp; جاننے کی کوشش کی ہے۔</p>
<p>یہ سیمنار صدر اوبامہ کی ان کوششوں کاحصہ ہے جس کے تحت&nbsp; سال 2020 تک ہائی سکول کے زیادہ سے زیادہ طالب علموں کو کالج ڈگری کی طرف&nbsp; مائل کرنا ہے ۔ جس کے لیے پورے ملک سے طالب علموں کو واشنگٹن کی ہاورڈ یونیورسٹی میں مدعو کیا گیا تھا۔</p>
<p>اس سمٹ میں شریک طالب علموں &nbsp;نے مختلف&nbsp; پروگراموں &nbsp;اور مباحثوں کے ذریعے اپنے خیالات&nbsp; اورنظریات &nbsp;نہ &nbsp;صرف دوسرے طالب ساتھیوں کے ساتھ بانٹے بلکہ محکمہ تعلیم کے اعلی عہدے داروں سے بھی براہ راست بات چیت کی۔</p>
<p>رسلین علی محکمہ تعلیم کے سماجی حقوق کے شعبے سے منسلک ہیں۔&nbsp; ان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں کم آمدنی والے گھرانے&nbsp; اور کچھ اقلیتیں اعلیٰ تعلیم صرف اس لیے حاصل نہیں کر پاتی کیونکہ انھیں مناسب مدد میسر نہیں ۔ آج کے نوجوان تعلیم سے نہیں گھبراتے بلکہ تعلیمی نظام کی پیچیدگیوں سے خائف ہیں۔</p>
<p>ان کا کہناتھا کہ یہ فرضی باتیں ہیں کہ بچے پڑھائی کو مشکل سمجھتے ہیں۔آج ہم نے سنا کہ بچے&nbsp; اگر تعلیم مکمل نہیں کر پاتے تو یہ ان مسائل کے باعث ہے۔&nbsp; اور وہ چاہتے ہیں کہ تعلیمی نظام میں ان کی آواز بھی شامل ہو اور ان کی بھی سنی جائے۔</p>
<p>سیمنار میں شریک والدین نے کہا کہ عام آدمی تک اعلی تعلیم کی رسائی کو آسان ترین بنانا وقت کی ضرورت ہے اور اس کے لیے سب کو ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا</p>
<p>امریکی محکمہ تعلیم کے عہدے داروں نے امریکی تعلیمی نظام میں بہتری لانے کی ان کوششوں کو پاکستان جیسے ترقی پزیر ممالک کے لیے بھی&nbsp; اہم قرار دیا اور کہا کہ مقصد محض&nbsp; خواندگی کی شرح میں اضافہ نہیں بلکہ اعلی تعلیم تک زیادہ سے زیادہ افراد کی رسائی ممکن بنانا ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 2 Mar 2011 17:21:57 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">117246058</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[ثاقب الاسلام]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-03-02T17:21:57Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/tunisia_panel_230_20jan11.jpg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																																																		</item>
																																																																									</channel>
</rss>

