<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>


																																		



<rss xmlns:ymusic="http://music.yahoo.com/rss/1.0/ymusic/" xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" xmlns:cf="http://www.microsoft.com/schemas/rss/core/2005" xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"   version="2.0">
<channel>
	<title>VOA News:  فلم نگر سے  </title>
	<link>http://www.voanews.com/urdu/news/film-nagar-se</link>
		<description>فلم نگر سے 
																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																								
	Voice of America
	</description>
	<language>ur</language> 	<copyright />
	<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 03:14:19 GMT</pubDate>
	<dc:creator />
	<dc:date>2012-02-10T03:14:19Z</dc:date>
	<dc:language>ur</dc:language> 	<dc:rights />
	<image>
		<title>Voice of America</title>
		<link>http://www.voanews.com/urdu</link>
		<url>http://media.voanews.com/designimages/VOARSSIcon.gif</url>
	</image>


						
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>باکس آفس پر رواں ہفتے کامیاب اور ناکام ہونے والی فلمیں </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Bollywood-Box-Office-09Feb12-139027359.html</link>
				<description>چونکہ دوہفتے پہلے ریلیز ہونے والی ہٹ فلم ”اگنی پتھ“ ابھی سینماگھروں میں رش لے رہی ہے اس لئے ہوسکتا ہے ”ایک میں اور ایک تو“ کو فوری طورپر متوقع رسپانس نہ ملے </description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>نئی بالی ووڈ فلموں کی ریلیز کا &rsquo;جمعہ بازار &lsquo;کل لگنے جارہا ہے ۔ ویسے تو اس ہفتے دو فلموں کی ریلیز متوقع ہے جن میں عمران خان و کرینہ کپور کی &rdquo;ایک میں اور ایک تو&ldquo; جبکہ دوسری فلم &rdquo;ویلنٹائن نائٹ&ldquo;شامل ہے تاہم ان میں سے پہلی فلم کا لوگوں کو شدت سے انتظار ہے۔</p>
<p>فلمی صنعت پر نظر رکھنے والے کچھ مبصرین کے نزدیک چونکہ دوہفتے پہلے ریلیز ہونے والی ہٹ فلم &rdquo;اگنی پتھ&ldquo; ابھی سینماگھروں میں رش لے رہی ہے اس لئے ہوسکتا ہے &rdquo;ایک میں اور ایک تو&ldquo; کو فوری طور پر وہ رسپانس نہ ملے جس کی بہت زیادہ توقع کی جارہی ہے۔ دیکھیئے کیا ہوتا ہے۔ <br /><br /> پچھلے ہفتے ایک اور فلم &rdquo;گلی گلی چور ہے&ldquo; بھی ریلیز ہوئی تھی مگر فلم بینوں سے اسے کچھ خاص پسند نہیں کیا ۔بھارت سے موصولہ اطلاعات کے مطابق فلم نے ہفتے بھر میں صرف سوا تین کروڑ روپے کا بزنس کیا۔ویسے بھی &rdquo;اگنی پتھ&ldquo; نے جہاں اور دوسری فلموں کو اپنے سامنے کھڑا نہیں ہونے دیا وہیں &rdquo;گلی گلی ۔۔۔&ldquo;کو بھی اس نے پچھاڑ دیا۔ <br /><br /> &rdquo;اگنی پتھ&ldquo; کا ذکر نکلا ہے تو یہ بھی بتاتے چلیں کہ رہتک روشن اور پریانکا چوپڑا کی اداکاری اور کرن ملہوترا کی ڈائریکشن میں بنی یہ فلم ایک ارب روپے کا ہندسہ عبور کرچکی ہے ۔ فلم نے صرف ممبئی میں گیارہ کروڑ روپے سے زیادہ کا بزنس کیا جبکہ دیگر بڑے شہروں سے بھی اچھا بزنس کرنے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں ۔<br /><br />&rdquo;اگنی پتھ &ldquo;پر مجموعی طور پر 75کروڑ روپے خرچ ہوئے تھے جن میں سے نصف پہلے ہی سیٹیلائٹ حقوق سے حاصل ہوگئے تھے لہذا فلم نے پیسہ کمانے میں نیاریکارڈ تو قائم کرنا ہی تھا۔ <br /> &rdquo;اگنی پتھ&ldquo; کی ریلیز سے پہلے جو تین ہٹ اور اچھا بزنس کرنے والی فلمیں چل رہی تھیں مثلاً&rdquo;دی ڈرٹی پکچر&ldquo;، &rdquo;ڈان ٹو&ldquo; اور&rdquo; پلیئرز&ldquo; ان فلموں کا بزنس بھی &rdquo;اگنی پتھ&ldquo; کی وجہ سے متاثرہوا اور مجموعی طور پر تینوں فلمیں نے دس دس لاکھ سے زیادہ کا بزنس نہیں کیا۔ <br /><br /> اس حوالے سے اگر پچھلے ہفتے کی بہترین فلم کسی کو قرار دیا جاسکتا ہے تو وہ &rdquo;اگنی پتھ&ldquo;کے علاوہ اور کوئی نہیں ۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 9 Feb 2012 18:02:09 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139027359</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[وسیم اے صدیقی]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-09T18:02:09Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/BoxOfficeReport_main1.jpg" length="170236" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/BoxOfficeReport_main1.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/BoxOfficeReport_teaser1.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>کرینہ کپور کا ستارہ عروج پر</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Bollywood-Kareena-Kapoor-08Feb12-138944464.html</link>
				<description>ایجنٹ ونود“ میں ان کے ہیرو سیف علی خان ہیں ۔ فلم کے ہی کیوں۔۔ان کے دل کے ہیرو بھی وہی ہیں۔ خبرگرم ہے کہ” ایجنٹ ونود“ کی ریلیز کے فوراً بعد دونوں شادی کے بندھن میں بندھ جائیں گے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>فلمی پنڈتوں کا کہناہے کہ اگلے2 ماہ بالی ووڈ اداکارہ کرینہ کپور کے نام رہیں گے ۔ اور یہ&nbsp; کہ کم ازکم اگلے دو ماہ تک کرینہ&nbsp; ہی خبروں میں چھائی رہیں گی۔ <br /><br /> &rsquo;کرینہ جی &lsquo;قسمت کی دھنی ہیں یہ تو سب ہی جانتے ہیں ۔ اب اسی سے اندازہ لگالیجئے کہ پچھلا سارا سال فلم بین زیادہ تر کرینہ کپور کی ہی فلمیں دیکھتے رہے۔ ۔۔ایک سے ایک ہٹ اور ایک سے بڑھ کر ایک۔ ان میں سے کئی فلموں نے اوپر تلے کئی ریکارڈ بھی بنائے جیسے &rdquo;باڈی گارڈ&ldquo; اور &rdquo; را۔ون&ldquo;۔ <br /><br /> نئے سال کا یہ دوسرا مہینہ ہے اور اسی مہینے ۔۔۔بلکہ یوں کہئے کہ اگلے جمعہ کو ان کی نئی فلم &rdquo;ایک میں اور ایک تو&ldquo; ریلیز ہونے جارہی ہے ۔ اس فلم نے ریلیز سے پہلے ہی خوب شہرت حاصل کرلی ہے۔ یوں بھی بھارت میں جو فلمیں ریلیز سے پہلے ہی مشہور ہوجاتی ہیں ان میں سے بیشتر ہٹ اور سپرہٹ بھی ہوجاتی ہیں۔ یوں اگر یہ فلم ہٹ ہوئی تو بھی کرینہ کپور خبروں میں رہیں گی۔ اور اگر کامیاب نہ بھی ہوئی تو۔<br /><br />۔۔تو بھی گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔۔۔مارچ یا اگر کچھ تاریخیں&nbsp; آگے پیچھےہوئیں تو اپریل کے شروع دنوں میں ان کی ایک اور نئی فلم &rdquo; ایجنٹ ونود&ldquo; ریلیز ہونے جارہی ہے۔ ۔۔۔اور&rdquo; ایک میں اور ایک تو&ldquo; کی طرح &rdquo;ایجنٹ ونود&ldquo;نے بھی پہلے سے خبروں میں جگہ بنالی ہے۔ <br /><br /> &rdquo;ایجنٹ ونود&ldquo; میں ان کے ہیرو سیف علی خان ہیں ۔ فلم کے ہی کیوں۔۔ان کے دل کے ہیرو بھی وہی ہیں۔ خبرگرم ہے کہ&rdquo; ایجنٹ ونود&ldquo; کی ریلیز کے فوراً دونوں شادی کے بندھن میں بندھ جائیں گے۔ <br /><br />کرینہ اور سیف کئی مرتبہ اس بات کا سرعام اعلان کرچکے ہیں کہ&rdquo; ایجنٹ ونود&ldquo; کے بعد دونوں ایک ہوجائیں گے۔ <br /> <br />اور یوں فلمی پنڈتوں کی پیش گوئی سچ ہوجائے گی کہ آنے والے 2ماہ کرینہ کپور کے نام رہیں گے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 8 Feb 2012 18:01:05 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138944464</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-08T18:01:05Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Kareena0802_main.jpg" length="128322" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Kareena0802_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Kareena0802_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>اگنی پتھ ‘ایک ارب کا بزنس کرنے میں کامیاب </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Bollywood-Agnipath-06Feb12-138790569.html</link>
				<description>رہتک روشن اور پریانکا چوپڑا کی نئی فلم ”اگنی پتھ“جنوری کے آخری ہفتے میں ریلیز ہوئی تھی اور 5 فروری تک اس نے بھارت بھر سے ایک ارب روپے کما لئے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>رہتک روشن اور پریانکا چوپڑا کی نئی فلم &rdquo;اگنی پتھ&ldquo; نے ایک اور سنگ میل عبور کرلیا۔ ریلیز کے دوسرے ہی ہفتے اس فلم نے ایک ارب روپے کا بزنس کرکے سب کو حیران کردیا ہے۔ فلم جنوری کے آخری ہفتے میں ریلیز ہوئی تھی اور 5فروری تک اس نے بھارت بھر سے ایک ارب روپے کما لئے ۔ <br /> رہتک روشن اور پریانکا چوپڑا کے علاوہ فلم کے دیگر فنکاروں میں رشی کپوراور سنجے دت شامل ہیں جبکہ فلم کے پروڈیوسر کرن جوہر اور ڈائریکٹرکرن ملہوترا ہیں۔ <br /> ایک ارب روپے سے زائد کا بزنس کرنے والی یہ رہتک کی پہلی فلم ہے جبکہ اس سے قبل ان کی ایک اور فلم &rdquo;زندگی نہ ملے گی دوبارہ&ldquo; صرف 8 کروڑ روپے کے فرق سے ایک ارب کا ریکارڈ بزنس کرنے سے رہ &nbsp;گئی تھی۔ <br /> ادھر پریانکا چوپڑا کی فلم &rdquo;ڈان ٹو&ldquo; نے بھی ایک ارب روپے کا بزنس کیا تھا یوں &rdquo;اگنی پتھ&ldquo; ایک ارب روپے کا بزنس کرنے والی ان کی دوسری فلم بن گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ اپنی ساتھی فنکارہ آسین کے برابر آکھڑی ہوئی ہیں جن کی دوفلمیں &rdquo;گجنی &ldquo; اور &rdquo;ریڈی&ldquo; ایک سو کروڑ(ایک ارب روپے) کا بزنس کرکے ریکارڈ بنا چکی ہیں۔ <br /> &rdquo;اگنی پتھ&ldquo; سن 1990ء میں اسی نام سے بننے والی فلم کا ری میک ہے جس کے ہیرو بگ بی یعنی امیتابھ بچن تھے۔ اس حوالے سے کسی کو بھی یہ امید نہیں تھی کہ ری میکنگ اس قدر کامیاب ثابت ہوگی کہ دیگرفلموں کو پیچھے چھوڑ جائے گی اور &rdquo; باڈی گارڈ &ldquo;جیسی اربوں کا بزنس کرنے والی فلمیں کے ہم پلہ آکھڑی ہوگی۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Mon, 6 Feb 2012 18:00:47 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138790569</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-06T18:00:47Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Agneepath0206_main.jpg" length="177438" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Agneepath0206_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Agneepath0206_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>رتیش دیش مکھ اور جینیلیا کی شادی </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Bollywood-Wedding-03Feb12-138656379.html</link>
				<description>شادی جمعہ کی دوپہر ممبئی کے علاقے سانتا کروز میں واقع ہوٹل گرینڈ حیات میں انجام پائی۔ دلہا کی عمر 33سال اور دلہن 24سال کی ہیں</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>بالی ووڈ اسٹارز رتیش دیش مکھ اور جینیلیا ڈی سوزا کے لئے نیا سال ہی نہیں بلکہ آج کا دن بھی ہمیشہ کے لئے یادگار بن گیا ہے ۔ سن 2003ء سے ایک دوسرے کی چاہت دلوں میں رکھنے والا یہ جوڑا آخر کار جمعہ کو شادی کے بندھن میں بندھ گیا ۔</p>
<p>شادی جمعہ کی دوپہر ممبئی کے علاقے سانتا کروز میں واقع ہوٹل گرینڈ حیات میں انجام پائی۔دلہا کی عمر 33سال اور دلہن 24سال کی ہیں۔ اس شادی پر بھارتی میڈیا نے &rsquo;کڑی نظر&lsquo; رکھی ہوئی تھی لہذا تقریب کو نمایاں کوریج تو ملنا ہی تھی۔ادھر انٹرنیٹ پر بھی اس شادی کو خاصی اہمیت ملی۔</p>
<p>شادی دوپہر کے وقت ریاست مہاراشٹر اور مراٹھی رسم و رواج کے مطابق انجام پائی۔ دلہا روایتی انداز میں برات لے کر، سرپر بڑی سی پگڑی اور لمبا سا سہراباندھے ہوٹل پہنچے ۔ انہوں نے موتی جیسے سفید رنگ کی شیروانی پہنی ہوئی تھی جسے مقامی افراد &rsquo;بند گلے کی شیروانی&lsquo; بھی کہتے ہیں ۔</p>
<p>دوسری جانب دلہن یعنی جینیلیا نے سرخ رنگ کے مراٹھی اسٹائل کے کپڑے زیب تن کئے ہوئے تھے۔ برات کی ہوٹل روانگی سے قبل دونوں خاندانوں نے بھی روایتی انداز کے مطابق شادی کی رسومات اداکیں۔</p>
<p>شادی کی تقریبات کا آغازگزشتہ منگل کو محفل موسیقی سے ہوا تھا ۔ ان تقریبات میں بالی ووڈ اسٹارز اجے دیوگن، کاجول، ابھیشیک بچن ، جیا بچن،آسین، جیکی بھاگنانی، کرن جوہر، شاہد کپور، اکشے کمار اور ساجد خان نے شرکت کی۔بھارت کے امیر ترین تاجر انیل امبانی اور ان کی اہلیہ ٹیناامبانی بھی شادی کی تقریبات میں لوگوں کی توجہ کامرکز رہے۔</p>
<p>محفل موسیقی کے ساتھ ساتھ ایک پر اہتمام دعوت بھی رکھی گئی تھی جبکہ آئندہ کل یعنی ہفتے کو استقبالیہ رکھا گیا ہے ۔</p>
<p>جنیلیا اور رتیش کی پچھلے سال گیارہ ستمبر کو منگنی ہوئی تھی تاہم اس تقریب میں چند افراد کو ہی شریک کیا گیا تھا۔ دونوں فنکاروں کی یہ پسند کی شادی ہے۔ یہ دونوں فلم &rdquo;تجھے میری قسم&ldquo;کی شوٹنگ کے دوران ایک دوسرے کے قریب آئے تھے اور تب سے ہی دونوں کے افیئرز کی خبریں عام تھیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 3 Feb 2012 18:25:54 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138656379</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-03T18:25:54Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Tie-the-knot_main.jpg" length="135627" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Tie-the-knot_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Tie-the-knot_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>گولڈن گلوب ایوارڈز: 'دا ڈیسنڈنٹس' بہترین فلم قرار</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Golden-Globe-Awards-16Jan12-137431493.html</link>
				<description>'ہالی ووڈ فارن پریس ایسوسی ایشن' کے زیرِ اہتمام ہر سال ہونے والے 'گولڈ گلوب ایوارڈز' کا فیصلہ تنظیم کے لگ بھگ 90 اراکین کرتے ہیں</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>خاندانی مسائل کے گرد گھومتی 'دا ڈیسنڈنٹس' بہترین فلم کا 'گولڈن گلوب ایوارڈ' لے اڑی ہے جب کہ فلم کے مرکزی کردار جارج کلونی 'بہترین اداکار' قرار پائے ہیں۔</p>
<p>اتوار کی شب امریکی شہر لاس اینجلس میں ہونے والی 'انہترویں گولڈن گلوب ایوارڈ ز' کی تقریب&nbsp; میں بلیک اینڈ وائٹ دور کی خاموش فلم 'دا آرٹسٹ' بہترین&nbsp; مزاحیہ فلم، بہترین مزاحیہ اداکار اور بہترین موسیقی کے ایوارڈز کے تین ایوارڈز کے ساتھ سرِ فہرست رہی۔</p>
<p>'ہالی ووڈ فارن پریس ایسوسی ایشن' کے زیرِ اہتمام ہر سال ہونے والے 'گولڈ گلوب ایوارڈز' کا فیصلہ تنظیم کے لگ بھگ 90 اراکین کرتے ہیں۔</p>
<p>ایوارڈ کی تقریب کی میزبانی مزاحیہ اداکار اداکار رکی گریون نے کی۔ فلم 'دی آئرن لیڈی' میں سابق برطانوی وزیرِاعظم مارگریٹ تھیچر کا کردار نبھانے پر بہترین اداکارہ کا ایوارڈ میرل اسٹریپ کو دیا گیا جب کہ مارٹن سکورسیس فلم 'ہیوگو' پر بہترین ہدایت کار قرار پائے۔</p>
<p>بہترین اسکرین پلے کا ایوارڈ فلم 'مِڈ نائٹ ان پیرس' کے لیے ووڈی ایلن کے حصے میں&nbsp; آیا۔ بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ فلم 'بگنرز' کے کرسٹوفر پلمر اور بہترین معاون اداکارہ کا فلم 'دی ہیلپ' کی اوکٹاویا اسپنسر نے حاصل کیا۔</p>
<p>اسٹیون اسپل برگ کی 'دی اینڈوینچرز آف ٹِن ٹنِ' سال کی بہترین 'اینی میٹڈ فلم قرار پائی جب کہ بہترین غیر ملکی فلم کا گولڈن گلوب ایوارڈ ایران کی 'اے سیپریشن' نے جیتا۔</p>
<p>واضح رہے کہ 'گولڈن گلوب' ہالی ووڈ&nbsp; کے سالانہ 'ایوارڈ سیزن' کی پہلی بڑی تقریب ہوتی ہےجس کا اختتام&nbsp; فلمی دنیا کے سب سے بڑے ایوارڈز 'آسکرز' پہ ہوتا ہے۔</p>
<p>'آسکرز' کی منتظم 'اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز' 2011ء کے ایوارڈ زکے لیے نامزدگیوں کا اعلان 24 جنوری کو کرے گی۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Mon, 16 Jan 2012 19:56:26 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">137431493</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[عمیر بن ریاض]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-16T19:56:26Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Reuters+Golden+Globe+George+Clooney+15Jan12+230.jpg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																																																		</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>ودیابالن اور ڈ رٹی پکچر‘ کی کامیابی سے بالی ووڈ کا رجحان تبدیل</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Bollywood-12Jan12-137195678.html</link>
				<description>ممبئی فلم انڈسٹری کو ان دنوں کروڑوں کا بزنس کرنے والی فلم ’ڈرٹی پکچر‘ کے فارمولے سے ملتی جلتی کہانیوں کی ضرورت ہے جس میں جوکچھ کرے ، ہیروئن ہی کرے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>&rsquo;ممبئی فلم انڈسٹری کو ضرورت ہے ایک ایسے کہانی نویس کی جو ایسی فلمی کہانی لکھ سکے جس میں ہیرو کے کرنے کے لئے کچھ نہ ہو اور کہانی ہیروئن کے گر د گھومتی ہو۔۔۔۔جس کی ہیروئن &rsquo;دبنگ &lsquo; ہو۔۔۔اور دنیا بھر کے سامنے اپنی &rsquo;ڈرٹی پکچر&lsquo; پیش کرتے ہوئے بھی نہ گھبرائے۔ اس وقت کے تمام ٹاپ فلم میکرز جن میں یش چوپڑا، کرن جوہر اور دیگر شامل ہیں ،ان سے فوری رابطہ کیا جاسکتا ہے۔۔کہانی پسند آنے پر منہ مانگے دام ملیں گے۔۔۔&lsquo;</p>
<p>ہوسکتا ہے آپ کو یہ الفاظ کسی جانے پہچانے اخباری اشتہار کے لگے ہوں ۔ بالکل درست اندازہ لگایا ہے آپ نے۔ زبان و بیان کچھ اسی قسم کا ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ ممبئی فلم انڈسٹری کو ان دنوں کروڑوں کا بزنس کرنے والی فلم &rsquo;ڈرٹی پکچر&lsquo; کے فارمولے سے ملتی جلتی کہانیوں کی ضرورت ہے جس میں جوکچھ کرے ،ہیروئن کرے جبکہ کوئی مشہور ہیرو نہ بھی ہو توبھی چلے گا۔</p>
<p>فلم والوں کا کہنا ہے کہ کسی زمانے میں ایسی فلمی کہانیوں کو کوئی پوچھتا بھی نہیں تھا جن کی کہانی ہیروئن کے گرد گھومتی ہو لیکن حالیہ برسوں میں کامیاب ہونے والی فلموں کو دیکھیں تو انہی فلموں سے زیادہ بزنس ہوتا نظر آتا ہے جو ہیروئن بیسڈ ہوں مثلاً ودیا بالن کی فلم &rdquo;ڈرٹی پکچر&ldquo;۔بھارت سے موصولہ اطلاعات کے مطابق اس فلم کا بجٹ 15کروڑ تھا جبکہ اس فلم نے ریلیز کے ابتدائی مہینوں میں ہی 90کروڑ روپے کا بزنس کرلیا ہے۔حالانکہ اس فلم میں کوئی بڑا ہیرو بھی نہیں۔</p>
<p>اگرچہ اس دوران دو فلموں &rdquo;باڈی گارڈ&ldquo; اور &rdquo; سنگم&ldquo; نے ہیرو کے نام پر کروڑوں کا بزنس کیا مگر ان کا بجٹ بالترتیب 50اور45کروڑروپے تھا اور ان کے ہیروز نے بھی فلم میکرز سے کروڑوں کا معاوضہ لیا جبکہ بھارتی ہیروئینوں خصوصا ودیابالن کا معاوضہ ان ہیروز کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔</p>
<p>فلمی نقادوں کا کہنا ہے کہ ہیروز کے مقابلے میں ہیروئنز کا معاوضہ کم ہواور فلم میں کوئی بھاری معاوضے والا ہیرو نہ بھی ہو تو بھی اس کا فائدہ ہی ہوتا ہے۔ ایک جانب فلم ساز زیادہ منافع کماتا ہے تو دوسری جانب وہ ہیرو کے بھاری بھرکم معاوضہ سے بھی بچ جاتا ہے۔&ldquo;</p>
<p>ممبئی میں ان دنوں فلم &rdquo;ڈرٹی پکچر &ldquo;کی زبردست کامیابی کے بعد انڈسٹری کاٹرینڈ بدل رہا ہے اور ودیا بالن، کنگنا راناوت اور پریانکا جیسی ہٹ فلمیں دینے والی ہیروئنز کی ڈیمانڈ اچانک کئی گناہ بڑھ گئی ہے ۔ ایسے میں ہر فلم ساز کی خواہش یہ ہے کہ کسی ہلکی پھلکی کہانی پر فلم بنائی جائے جس کا ہیرو بھلے کوئی مشہور اداکار نہ ہو مگر اس کی ہیروئن ایسی ہو کہ فلم ابتدائی ہفتوں میں ہی کروڑوں کی رقم بٹور لے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 12 Jan 2012 19:13:52 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">137195678</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[وسیم اے صدیقی]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-12T19:13:52Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/VidyaBalan0112_main.jpg" length="145398" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/VidyaBalan0112_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/VidyaBalan0112_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>سال 2011ء کی 10کامیاب فلمیں ، بہترین فلم کا فیصلہ باقی</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Top-Ten-Movies-2011-16Dec11-135740083.html</link>
				<description>بھارت کے موخر اخبار’ ٹائمز آف انڈیا‘ نے سال 2011ء کی جن دس فلموں کو کامیاب ترین قرار دیا ہے ان کے نام اور ان کی تفصیل کچھ اس طرح ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>سال 2011ء تقریباً گزر گیا۔ اس سال بالی ووڈ میں فلمیں بنانے کے حوالے سے کئی تجربات ہوئے۔ سچے واقعات پر مبنی فلمیں بنانے سے لیکر سائنس فکشن تک۔ انسانی احساسات سے جذبات تک ہر موضوع پر فلموں کی بھرمار رہی۔ ان میں سے کچھ کو فلم بینوں نے &rsquo;پسند&lsquo;، کچھ کو&rsquo; بہت پسند&lsquo; اور کچھ کو&rsquo; ناپسند &lsquo;ٹھہرایا۔</p>
<p>پورے سال کی تمام فلموں کا تذکرہ یہاں کسی طور ممکن نہیں اس لئے صرف سال کی 10بڑی فلموں کی بات کرتے ہیں۔ ان فلموں کو &rsquo;بڑا&lsquo;ہونے کی بنیاد ان کی ناظرین میں پسندیدگی اور ان سے حاصل ہونے والی آمدنی کو بنایا گیا ہے۔ ۔۔۔تاہم ان دس فلموں میں سے ایک بہترین فلم کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔</p>
<p>بھارت کے موخر اخبار&rsquo; ٹائمز آف انڈیا&lsquo; نے سال 2011ء کی جن دس فلموں کو کامیاب ترین قرار دیا ہے ان کے نام اور ان کی تفصیل کچھ اس طرح ہے:</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>باڈی گارڈ</p>
<p>سلمان خان اور کرینہ کپور کی فلم &rdquo;باڈی گارڈ&ldquo; نے پہلے ہی دن 22 کروڑ روپے کا بزنس کرکے ایک نیا ریکارڈ بنایا۔ لیکن فلم کی کہانی اور ڈائریکشن پر کچھ زیادہ نہیں کہا جاسکتا تاہم موسیقی اور ایکشن نے فلم کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس فلم کا ایک ڈائیلاگ &rdquo; مجھ پر ایک احسان کرنا کہ مجھ پر کوئی احسان نہ کرنا&ldquo; فلم بینوں میں شہرت کا باعث بنااورجونوانوں کی طرف سے ہر جگہ دوہرایا بھی گیا۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>را۔ون</p>
<p>اس فلم کی جدید ٹیکنک اور گرافکس دونوں لاجواب رہے۔ شاہ رخ خان نے اسے سائنس فکشن تھرلر بنانے کے ساتھ ساتھ خود کو سپر ہیرو کے طور پر بھی پیش کیا۔ فلم نے زبردست بزنس کیا جبکہ فلم کے ایک گیت&rdquo; چھمک چھلو&ldquo; نے ناظرین کو سینما ہالز کی جانب متوجہ کیا۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>دی ڈرٹی پکچر</p>
<p>ایکتا کپور کی فلم &rdquo;دی ڈرٹی پکچر&ldquo; میں ودیا بالن نے جس قسم کا کردار ادا کیا ہے اس نے ہندی فلم بینوں کو چونکا دیا۔ ودیا نے فلم میں بہت ہی حیرت انگیز کردار ادا کیا ہے تاہم ناقدین کے مطابق فلم کے ذومعنی جملے ، ودیا بالن کے انتہائی مختصر کپڑے اور حرکات و سکنات ایسی تھیں کہ جس کا ذکر کرتے ہوئے بھی لوگ شرما جائیں لیکن اس کے باوجود فلم کامیابی سے دوچار ہوئی۔ اس فلم کی کامیابی سے اس تاثر کی بھی نفی ہوئی کہ کسی بھی خان ہیرو کے بغیر بننے والی فلمیں بھی کامیابی کے نئے ریکارڈ ٹوڑ سکتی ہیں۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>ریڈی</p>
<p>رومانٹک کامیڈی فلم &rdquo; ریڈی &ldquo; سلمان خان کی ہٹ فلموں کی فہرست میں نیا اضافہ ثابت ہوئی۔ڈائریکٹر نثار بزمی نے سلمان اور آسین کی جوڑی کو لیکر تھائی لینڈ میں اس فلم کی شوٹنگ کی لہذا انہیں لوکشنز کا بھی بھرپور فائدہ ہوا۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>زندگی نہ ملے گی دوبارہ</p>
<p>تین دوستوں کی اس کہانی نے فلم کی ڈائریکڑ ذویااختر کو کامیابی کی نئی سیڑھی عنایت کی۔ان کے بھائی فرحان اختر بھی بطور اداکار فلم میں موجود رہے جبکہ باقی فنکاروں مثلاً رہتک روشن ، ابھے دیول اور کترینا کیف نے بھی فلم کی کامیابی میں اپنا اپنا کردار ادا کیا۔ مجموعی طور پر دیکھیں تو &rdquo;زندگی نہ ملے گی دوبارہ&ldquo; اس سال کی ٹاپ فائیو فلموں شامل ہے۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>سنگھم</p>
<p>ایکشن اور مار دھاڑ والی فلم &rdquo;سنگھم&ldquo; کی شاندار کامیابی سے ڈائریکٹر روہت شیٹھی اور فلم کی ہیروئن کاجل اگروال کو بالخصوص بہت زیادہ فائدہ ملا۔کاجل کی یہ پہلی ہندی فلم تھی۔ اگرچہ فلم کا موضوع کرپشن کے خلاف جنگ ہے اور اس موضوع پر ہر دوسری تیسری فلم میں کام کیا جاتا ہے مگر پھر بھی&rdquo; سنگھم&ldquo;کو لوگوں نے بہت سراہا۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>راک اسٹار</p>
<p>راک اسٹار کی کہانی میں جھول ہونے کے باوجود فلم کے ہیرو رنبیر کپور اپنے کردارکے ذریعے فلم بینوں کے دلوں میں گھر کرنے میں کامیاب رہے۔ اس فلم نے پاکستانی نژاد امریکی اداکارہ نرگس فخری کو فن کی دنیا میں آگے آنے کا شاندار موقع دیا۔ فلم کی ایک اچھائی اس کا میوزک ہے جو اے آر رحمن نے ترتیب دیا جبکہ موہت چوہان کی آواز میں گائے گئے گانوں نے بھی فلم کوخوب شہرت بخشی۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>میرے برادر کی دلہن</p>
<p>یہ فلم نہ زیادہ اچھی تھی ، نہ زیادہ خراب ۔ لیکن یش راج کے بینر، عمران خان، کترینا کیف اور پاکستانی ایکٹر و سنگر علی ظفر کی اداکاری نے اسے کامیاب بنادیا۔ یہ بھی اس سال کی رومانٹک کم کامیڈی فلم تھی جس نے باکس آفس کی کھڑی پر خوب بھیڑ اکھٹی کی۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>دہلی بیلی</p>
<p>دہلی بیلی کے مکالمے ، مناظر اور باقی &rsquo; مصالحہ&lsquo; سب کا سب ایسا تھا جیسا کہ نہیں ہونا چاہئے تھا مگر حیرت انگیز طور پر یہ فلم بھی کامیاب رہی۔ عمران خان، کنال روئے کپور اور ویر داس کی اداکاری نے فلم کو سہارا دیا۔ اس کے ڈائریکٹر ابھی نوائے ڈیو کی فلم &rdquo; گیم&ldquo; اگر انہیں اندھیرے میں لے آئی تھی تو فلم &rdquo;دہلی بیلی&ldquo; انہیں فخر کے ساتھ چکاچوند روشنیوں کی جادوئی دنیا میں واپس لے آئی۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>یملا پگلا دیوانہ</p>
<p>سن دوہزار سات میں فلم &rdquo;اپنے &ldquo; کے تین ستارے سنی دیول، بوبی دیول اور دھرمیندر ایک مرتبہ پھر اس فلم میں یکجا ہوئے جس کے ڈائریکٹر تھے سمیر کارنک۔ فلم کا بجٹ بہت ہی کم تھا لیکن اسے پذیرائی خوب ملی۔ فلم بینوں کے لئے یہ بات دلچسپی سے خالی نہ تھی کہ باپ اور بیٹے ایک ساتھ کام کرتے ہوئے کس حد تک کامیاب رہتے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 16 Dec 2011 18:59:29 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">135740083</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[وسیم اے صدیقی]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-12-16T18:59:29Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Top10-films_main.jpg" length="180248" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Top10-films_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Top10-films_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>دنیا کی سب سے پست قامت خاتون بالی ووڈ میں کام کی خواہش مند</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Bollywood-Shortest-Woman-16Dec11-135735833.html</link>
				<description>'گنیز ورلڈ ریکارڈز' کے مطابق بھارت کی اس 18 سالہ نوجوان خاتون، جیوتی امگی، کا قد صرف 8ء62 سینٹی میڑ یعنی 7ء24 انچ ہے۔ جو دو برس کے بچے کے اوسط قد سے بھی چھوٹا ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>بھارت کی ایک 18 سالہ نوجوان خاتون کو 'گنیز ورلڈ ریکارڈز' نے دنیا کی سب سے پست قامت خاتون تسلیم کرلیا ہے۔</p>
<p>بھارتی ریاست مہاراشٹر کے قصبے ناگ پور میں جمعہ کو منعقدہ ایک تقریب میں 'گنیز ورلڈ ریکارڈز' کے لندن سے خصوصی طور پر بھارت آنے والے نمائندوں نے&nbsp; جیوتی امگی کے قد کی پیمائش کی جو عالمی ادارے کے مطابق صرف 8ء62 سینٹی میڑ یعنی 7ء24 انچ ہے۔</p>
<p>جیوتی کا قد امریکہ کی 22 سالہ بریجٹ جارڈن سے لگ بھگ 7 سینٹی میٹر چھوٹا ہے جو رواں برس ستمبر تک&nbsp; دنیا کی سب سے پست قامت خاتون ہونے کے اعزاز کی حامل تھیں۔</p>
<p>'گنیز' کے مطابق جیوتی امگی کا قد دو برس کے بچے کے اوسط قد سے بھی چھوٹا ہے۔</p>
<p>'گنیز' کی جانب سے قد کی پیمائش کے بعد انہیں دنیا کی پست قامت ترین خاتون تسلیم کیے جانے پر امگی نے پرنم آنکھوں&nbsp; سے صحافیوں کو بتایا کہ انہیں اپنے چھوٹے قد پر فخر ہے کیوں کہ اس کے باعث انہیں ایک منفرد شناخت ملی ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ جمعہ کو ہونے والی یہ تقریب امگی کی 18ویں سال گرہ کے موقع پر منعقد کی گئی تھی اور 'گنیز' کی جانب سے ان کا نام دنیا کی سب سے پستہ قامت خاتون کے طور پر درج کرنے کے اعلان کو امگی نے اپنے لیے "سال گرہ کا خصوصی تحفہ" قرار دیا۔</p>
<p>ساڑھی میں ملبوس امگی نے اس موقع پر اپنے مہمانوں کے ہمراہ سال گرہ کا کیک بھی کاٹا۔</p>
<p>ہائی اسکول کی طالبہ امگی کا کہنا تھا&nbsp; کہ وہ یونی ورسٹی میں جا کر تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں اور ان کا خواب بالی ووڈ کی فلموں میں کام کرنا ہے۔</p>
<p>یہ امگی کا پہلا عالمی ریکارڈ نہیں ہے بلکہ جمعہ کو 18 برس کی ہونے سے قبل تک وہ دنیا کی&nbsp; پست قامت ترین 'ٹین ایجر' ہونے کا اعزاز رکھتی تھیں۔ تاہم جمعہ کو ان کی 18ویں سال گرہ کے موقع پر انہیں لڑکی سے خاتون کی&nbsp; 'کیٹگری' میں منتقل کردیا گیا۔</p>
<p>'گنیز ورلڈ ریکارڈز' کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پچھلے دو برسوں کے دوران امگی کے قد میں صرف&nbsp; ایک سینٹی میٹر کا اضافہ ہوا ہے اور بعض طبی وجوہات کے سبب ان کا قد مزیدبڑھنے کا امکان نہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 16 Dec 2011 16:25:16 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">135735833</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-12-16T16:25:16Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Jyoti-Amge-230X230.jpg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																																																		</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>سال 2011ء کے کچھ کامیاب اور کچھ ناکام ڈائریکٹرز</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Successful-Debutant-Directors-15Dec11-135676483.html</link>
				<description>چند ڈائریکٹرز ایسے بھی تھے جن کی فلموں نے ریلیز سے پہلے تو خوب شہرت حاصل کی لیکن ریلیز کے کچھ دنوں بعد ہی انہیں ناکامی سے دوچار ہونا پڑا</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>بالی ووڈ میں سال 2011ءکے دوران بہت سے ڈائریکٹرز نے اپنے فنی کیریئر کی پہلی پہلی فلمیں ڈائریکٹ کیں ۔ ان میں سے کچھ فلمیں باکس آفس پر کامیاب تو کچھ ناکام ہوگئیں۔ کچھ ڈائریکٹرز ایسے تھے جن کی فلموں نے ریلیز سے پہلے ہی خوب شہرت حاصل کی لیکن ریلیز کے کچھ دنوں بعد ہی انہیں ناکامی سے دوچار ہونا پڑا۔</p>
<p><br /> مثال کے طور پر امیتابھ بچن کی اداکاری سے گندھی فلم&rdquo; بڈھا ہوگا تیرا باپ&ldquo; کرن راوٴ کی &rdquo;دھوبی گھاٹ &ldquo; اور پنکج کپور کی فلم &rdquo;موسم&ldquo; ۔ یہ نووارد ڈائریکٹرز کی پہلی پہلی فلمیں تھیں اور شاید ان کے ناتجربہ کاری کے سبب ہی یہ فلمیں ناکام ہوگئیں مگر کچھ فلموں نے واقعی شاندار کامیابی حاصل کی ۔ یہ فلمیں کون سی تھیں اور ان کے ڈائریکٹرز کون تھے آیئے ذیل میں تفصیل سے اس پر روشنی ڈالی جائے۔</p>
<p><br /> کرن راوٴ : دھوبی گھاٹ</p>
<p>کرن راوٴ عامر خان کی اہلیہ ہیں اور شاید یہی ایک وجہ تھی جس کے سبب ان کی پہلی فلم &rdquo; دھوبی گھاٹ&ldquo; نے ریلیز سے پہلے ہی لوگوں کی توجہ حاصل کرلی لیکن بدقسمتی سے فلم &rdquo;ٹائیں ٹائیں فش&ldquo; ثابت ہوئی۔ فلم کی ناکامی کے ساتھ ہی کرن راوٴ بھی مطمئن ہوکر بیٹھ گئیں۔ اگرچہ فلم کی پروموشن پر بہت پیسہ اور وقت خرچ کیا گیا مگر فلم بینوں کو کرن راوٴ کی ڈائریکشن اچھی نہیں لگی۔</p>
<p>ریمو ڈی سوزا : فالتو</p>
<p>بنیادی طور پر ریموڈی سوزا کوریوگرافر ہیں لیکن فلم &rdquo;فالتو&ldquo; سے انہوں نے ڈائریکشن کے شعبے میں بھی خود کو منوانے کی کوشش کی اور وہ اس کوشش میں کامیاب بھی رہے۔ &rdquo;فالتو&ldquo; کی کہانی کا پلاٹ اگرچہ بوسیدہ تھا لیکن فلم میں ایک ساتھ کئی نئے چہروں کو متعارف کرانے کا رسک کامیابی کی صورت میں نکلا۔ اس فلم کی کامیابی فلمی نقادوں کے لئے &rdquo;سرپرائز&ldquo; تھی۔ ریمو نے بہت اچھی ڈائریکشن دی۔ کوریوگرافی بھی شاندار رہی جبکہ میوزک بھی قابل ذکرتھا۔ <br /> ابھینے ڈیو :گیم او ر دہلی بیلی</p>
<p>ابھینے ڈیونے اس سال دو فلمیں دیں۔ &rdquo;گیم &ldquo;اور&rdquo; دہلی بیلی&ldquo;۔&rdquo; گیم &ldquo;کوششوں کے باوجود باکس آفس پر اپنے لئے کوئی جگہ نہ بناسکی جبکہ دہلی بیلی نے کامیابی کی ایک نئی تاریخ رقم کی۔ <br /> امول گپتے : اسٹینلے کا ڈبہ</p>
<p>امول گپتے کی فلم &rdquo; اسٹینلے کا ڈبہ&ldquo; ان کی پہلی کاوش تھی ۔ فلم کو بھارت اور بیرون بھارت کئی ایوارڈ ملے ۔ اس فلم نے ثابت کیا کہ بالی ووڈ میں بچوں کیلئے بنائی جانے والی فلم بھی کس قدر کامیاب ثابت ہوسکتی ہے۔</p>
<p>صدیقی : باڈی گارڈ</p>
<p>صدیقی نے سلمان خان کے ساتھ فلم &rdquo; باڈی گارڈ &ldquo; ڈائریکٹ کی اور راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے۔ فلم نے جس قدر کامیابی حاصل کی اور ریونیو جنریٹ کیا اسے بیان کرنے کے لئے یہاں جگہ تنگ پڑ جائے گی۔</p>
<p>پون کرپلانی : راگنی ایم ایم ایس</p>
<p>سال 2011ء میں ڈائریکٹر پون کرپلانی کی پہلی فلم &rdquo; راگنی ایم ایم ایس&ldquo;ریلیز ہوئی۔ فلم اور پون کرپلانی دونوں کو ایکتا کپور کا آشرواد حاصل تھا لہذافلم باکس آفس پر آسانی کے ساتھ اپنے لئے جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئی۔</p>
<p>لوورنجن : پیار کا پنچ نامہ</p>
<p>ڈائریکٹر لوورنجن نے بھی سال 2011ء میں ہی اپنی پہلی فلم &rdquo;پیار کا پنچ نامہ&ldquo;بناکر ڈائریکشن کے شعبے میں طبع آزمائی کی ۔ فلم نے اپنے اوپر خرچ ہونے والی رقم نکال لی۔ <br /> وکاس بہل اور نتیش تیواری : چلر پارٹی</p>
<p>وکاس بہل اور نتیش تیواری سال 2011ء میں بچوں کے لئے فلم &rdquo; چلر پارٹی&ldquo; لے کر میدان میں آئے ۔ اس فلم کے لئے سلمان خان نے بھی خاصی محنت کی ۔ دونوں ڈائریکٹرز اپنے شعبے میں نام بنانے میں کامیاب رہے۔</p>
<p>روہت دھون :</p>
<p>ڈیوڈ دھون کے بیٹے روہت دھون اپنی پہلی فلم &rdquo;دیسی بوائز&ldquo; لے کر حاضر ہوئے ۔ فلم نے اوسطاً بزنس کیا لیکن روہت ڈائریکشن کے فن میں کامیاب رہے۔<br /> بیجوائے نمبی یار : شیطان</p>
<p>انہوں نے فلم &rdquo;شیطان &ldquo;ڈائریکٹ کی۔ فلم کا تصور اچھا تھا۔ موسیقی بھی دلکش ثابت ہوئی لیکن فلم عوام کو متاثر نہ کرسکی ۔</p>
<p>روشن عباس : آلویز کبھی کبھی</p>
<p>روشن عباس نے اپنی پہلی فلم &rdquo; آلویز کبھی کبھی &ldquo; کے نام سے متعارف کرائی ۔ انہیں شاہ رخ خان کی مکمل حمایت بھی حاصل رہی لیکن فلم بری طرح ناکامی سے دوچار ہوئی۔</p>
<p>مذکورہ بالا ڈائریکٹرز کے علاوہ پروین دباس فلم &rdquo; صحیح دھندے، غلط بندے&ldquo;، راگھو دھر فلم &rdquo; مائی فریند پنٹو&ldquo; پوری جگن ناتھ فلم &rdquo; بدھا ہوگا تیرا باپ&ldquo; اور پنکچ کپور فلم &rdquo; موسم&ldquo; کے ساتھ پہلی مرتبہ ڈائریکشن کی فیلڈ میں داخل ہوئے لیکن ان کی ڈائریکٹ کی ہوئی فلمیں فلم بینوں کو اپنی جانب قطعی متوجہ نہ کرسکیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 15 Dec 2011 19:11:46 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">135676483</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[وسیم اے صدیقی]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-12-15T19:11:46Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/debudant-Directors_main.jpg" length="125036" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/debudant-Directors_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/debudant-Directors_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>تنہا زندگی گزارنے والی عظیم  گلوکارائیں</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Unmarrid-Playback-Singers-13Dec11-135512938.html</link>
				<description> بھارت سے بلبلِ ہند لتا منگیشکر، سلکھشنا پنڈت اور پاکستان سے مہناز، اور حدیقہ کیانی کے نام اس لحاظ سے انتہائی منفرد نظر آتے ہیں کہ ان گلوکاراؤں نے اب تک شادی نہیں کی</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>پاکستان اور بھارت کی فلمی موسیقی خواتین پلے بیک سنگرز یا گلوکاراوٴں کے ذکر کے بغیر کبھی مکمل نہیں ہوسکتی۔ زہرہ بائی انبالے والی، خورشید بیگم، امیر بائی کرناٹکی، مبارک بیگم، اختری بائی، آشا بھونسلے، نورجہاں، شمشاد بیگم، ثریا، رینوکا دیوی، راجکماری اور پارول گھوش سمیت بے شمار نام ایسے ہیں جو موسیقی کی دنیا کی انمٹ پہچان ہیں ۔ ان تمام خواتین گلوکاراوٴں کے گائے ہوئے بے شمار گانے ایسے ہیں جن کی چمک آج تک ماند نہیں پڑی۔</p>
<p>ثریا سے شریا گھوشال تک کے اس سفر میں بھارت سے بلبلِ ہند لتا منگیشکر، سلکھشنا پنڈت جبکہ پاکستان سے مہناز کے نام اس لحاظ سے انتہائی منفرد نظر آتے ہیں کہ ان گلوکاراؤں نے اب تک شادی نہیں کی ۔<br /> <br /> &nbsp;یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ شادی شدہ گلوکاراؤں کی آوازوں میں وقت کے ساتھ اس قدر تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں کہ ان کی آج کی آواز اپنی ہی ابتدائی آواز سے قطعی طور پر مختلف ہو گئی ہے لیکن ثریا کی آواز ان کے آخری گیتوں تک اپنی بھرپور شناخت رکھتی تھی۔ اسی طرح فلم&rdquo; محل&ldquo; میں گایا ہوا لتا منگیشکر کا پہلا فلمی گیت &rdquo;آئے گا، آئے گا&ldquo; ہو یا ان کی گائیکی کے آخری دور میں فلم &rdquo;دل تو پاگل ہے&lsquo; &lsquo;کا ٹائیٹل گیت ، لتا منگیشکر کی آواز کہیں بھی اپنے سامع پر اثرانداز ہوئے بغیر نہیں گزری۔<br /> <br /> &nbsp;گیت &rdquo;دل تو پاگل ہے، دل دیوانہ ہے&ldquo; کی خاص بات یہ ہے کہ جہاں اس گیت کو گانے والی لتا منگیشکر اپنی ستر کی دہائی میں ہوتے ہوئے بھی کنواری ہیں ۔۔۔ آئیے نظر ڈالتے ہیں پاکستان اور بھارت کی چند غیر شادی شدہ گلوکاراؤں کی زندگیوں پر: <br /> <br /> ثریا<br /> غیر شادی شدہ گلوکاراؤں میں ثریا کا نام سر فہرست ہے۔ ان کا پورا نام ثریا جمال شیخ تھا لیکن وہ ثریا کے نام سے ہی مشہور تھیں۔ انہوں نے 1940 اور 1950 کی دہائیوں میں اداکارہ اور پلے بیک سنگر کے طور پربھی بڑا نام کمایا۔ ثریا کے گیت آج بھی کانوں میں رس گھولتے ہیں۔ثریانے 1948 ء سے 1951ء تک چھ فلموں میں دیو آنند کے ساتھ کام کیا۔ 1948ء میں فلم &rdquo;ودیا&ldquo; کے گیت &rsquo;کنارے کنارے چلے جائیں گے&ldquo; کی شوٹنگ کے دوران کشتی الٹ گئی لیکن دیو آنند نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ثریا کو بچالیا اور یہیں سے ثریا دیو آنند کو پسند کرنے لگی۔ <br /> <br /> ثریا کی محبت کا جواب دیو آنند نے بھی محبت سے دیا۔ دیو آنند نے باقاعدہ ثریا کا ہاتھ مانگا اور اس کے لیے تین ہزار روپے کی ہیرے کی انگوٹھی بھی بھیجی، لیکن ثریا کی نانی نے مذہب کی وجہ سے اس رشتے کی مخالفت کردی۔ اس رشتے سے انکار کے بعد 1951ء میں ریلیز ہونے والی فلم &rsquo;دو ستارے&lsquo; آخری فلم تھی جس میں ان دونوں نے ایک ساتھ کام کیا ۔ ثریا کی کامیاب فلموں میں &rdquo;مرزا غالب&ldquo;، &rdquo;دل لگی&ldquo; اور&rdquo; انمول گھڑی&ldquo; سمیت بہت سی فلمیں شامل ہیں۔ <br /> <br /> لتا منگیشکر<br /> لتا منگیشکر دنیا بھر میں مقبول گلوکارہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انھیں سب سے زیادہ گیت ریکارڈ کرانے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ لتا جی نے بھی ایک طویل زندگی گزارنے کے باوجود شادی نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی پہلی اور آخری محبت موسیقی ہے اور اب یہ سمجھا جائے کہ ان کی شادی موسیقی سے ہو چکی ہے۔ ایک اور اعزاز جوانہیں حاصل ہے، وہ یہ ہے کہ انھوں نے بھارت بھر کے فلمی حلقے پر اپنی شخصیت اور مزاج سے انتہائی مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔ لتا جی نے کم و بیش پچاس ہزار گیت گا ئے ہیں ۔ <br /> <br /> سلکھشنا پنڈت<br /> &nbsp;سلکھشنا پنڈت بھارت کی وہ خوش قسمت ترین گلوکارہ ہیں جنہوں نے فلمی دنیا میں گلوکارہ کی حیثیت سے بچپن میں قدم رکھا اور اپنا پہلا گیت لتا منگیشکر کے ساتھ گایا۔ 1967ء میں ریلیز ہونے والی فلم &rsquo;تقدیر&lsquo;کے لیے گایا جانے والا یہ گیت &rsquo;سات سمندر پار سے&lsquo; اس قدر مقبول ہوا کہ ایوارڈز کی لائن لگ گئی۔ سلکھشنا نے 1970ء اور 1980ء کی دہائیوں میں اداکاری کے جوہر بھی دکھائے۔ <br /> <br /> اپنے گیارہ سالہ گلوکاری کے دور میں سلکھشنا پنڈت نے بے شمار ایوارڈز حاصل کیے۔ ایک بار اپنے ایک انٹر ویومیں سلکھشنا نے کہا تھا کہ ان کے گیارہ سالہ سنگنگ کیریئر میں انتہائی کم گیتوں کا مطلب ان کی ناکامی نہیں ہے، بلکہ ایسا اس لیے ہے کہ وہ گانے کے بول، فلم میں گانے کی سچویشن، کمپوزیشن اور دیگر باتوں پر غور کر نے کے بعد اس بات کا فیصلہ کرتی ہیں کہ وہ گائیں گی یا نہیں۔ <br /> <br /> &nbsp;ماضی میں معروف پاکستانی گلوکار پرویز مہدی کے ساتھ سلکھشنا پنڈت کی ایک سی ڈی بھی ریلیز ہوچکی ہے، جس نے کافی مقبولیت حاصل کی تھی۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 13 Dec 2011 16:42:15 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">135512938</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[وسیم اے صدیقی]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-12-13T16:42:15Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Unmarried-Singers_main.jpg" length="144335" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Unmarried-Singers_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Unmarried-Singers_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>’ڈان ٹو‘ فلم بینوں کے ساتھ ساتھ شاہ رخ خان اور فرحان اختر بھی ریلیز کے منتظر</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Bollywood-Don2-12Dec11-135451433.html</link>
				<description>اس میں کوئی شک نہیں کہ’‘’ ڈان ٹو “کا انتظار صرف فلم بینوں کو ہی نہیں بلکہ خود ’ریل لائف۔۔ ڈان‘ یعنی شاہ رخ خان کو بھی ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>سال 2011ء رفتہ رفتہ اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے ۔ گزشتہ بارہ مہینوں کے دوران ایک کے بعد ایک اور ایک سے بڑھ کر ایک بالی ووڈ فلمیں ریلیز ہوئیں۔ بہت سی فلمیں ایسی تھیں جو ریلیز سے قبل ہی خاصی شہر ت سمیٹنے کا سبب بنیں۔ انہی فلموں میں سے اب ایک فلم &rdquo; ڈان 2&ldquo; اس ماہ کی 23تاریخ کو ریلیز ہونے جارہی ہے ۔</p>
<p>اس میں کوئی شک نہیں کہ&rsquo;&lsquo;&rsquo; ڈان ٹو &ldquo;کا انتظار صرف فلم بینوں کو ہی نہیں بلکہ خود &rsquo;ریل لائف۔۔ ڈان&lsquo; یعنی شاہ رخ خان کو بھی ہے ۔&rdquo; را۔ون&ldquo; کو خاطرخواہ کامیابی نہ ملنے کے بعد انہیں ایک ایسی فلم کی ضرورت ہے جو انہیں اداکاری کے میدان میں ایک مرتبہ پھر &rsquo;بادشاہ &lsquo;ثابت کرسکے۔</p>
<p>&rdquo;ڈان ٹو&ldquo; کی کامیابی کے لئے شاہ رخ خان کوئی کسر اٹھانہیں رکھ رہے ۔ اس کی زبردست تشہیر کی جارہی ہے ۔ اسے ٹو ڈی کے ساتھ ساٹھ تھری ڈی فارمیٹ میں بھی ریلیز کیا جارہا ہے ۔ انہیں &rdquo;را۔ون&ldquo; سے یہ تجربہ بھی ہوا ہے کہ لوگ ٹو ڈی کے بجائے تھری ڈی فلموں کو زیادہ پسند کررہے ہیں۔ کیا شاہ رخ خان کے یہ تجربات اگلی فلم کے حوالے سے کامیاب ثابت ہوں گے ؟؟اور کیا &rdquo;ڈان ٹو&ldquo; باکس آفس پر کامیابی کے نئے ریکارڈ بنا سکے گی؟؟ کیوں کہ سب کچھ کرگزرنے کے باوجود&rdquo; را۔ون&ldquo; صرف اتنا ہی کما سکی جتنا اس پر خرچ آیا تھا۔</p>
<p>&rdquo;ڈان ٹو&ldquo; امیتابھ بچن کی 80ء کی دھائی میں بننے والی فلم &rdquo;ڈان&ldquo; کا دوسرا سیکوئل ہے۔ اس سے قبل &rdquo;ڈان ون&ldquo; سن 2006ء میں ریلیز ہوئی تھی۔ سیکوئل کے ڈائریکٹر فرحان اختر ہیں جن کی ایک اور فلم &rdquo;زندگی نہ ملے گی دوبارہ&ldquo; رواں سال ہی ریلیز ہوئی تھی جس نے کامیابی کے ساتھ ساتھ فرحان کو ایک نئی پہچان بخشی۔ &rdquo;ڈان ٹو&ldquo; انہیں کس حد تک شہرت دلاسکے گی ، اس بات کا فیصلہ جاننے کے لئے خود فرحان اختر بھی&rdquo; ڈان ٹو&ldquo; کی ریلیز کے منتظر ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Mon, 12 Dec 2011 18:40:31 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">135451433</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-12-12T18:40:31Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Don2_main.jpg" length="101889" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Don2_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Don2_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>دیوآنند کا آخری سفر تیار ، جسد خاکی کل فنا ہوجائے گا </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Dev-Anand-Last-Rites-09Dec11-135331058.html</link>
				<description>دیوآنند کی موت کے ساتھ ہی بالی ووڈ فلموں کا ایک دور ختم ہورہا ہے۔ ان کی آخری فلم ’چارج شیٹ ‘ دوماہ پہلے ہی ریلیز ہوئی تھی</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>بالی ووڈ فلموں کے&rsquo;سدابہار ہیرو&lsquo;، دیوآنند کا وجود ہفتے کی صبح ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس دنیا سے فنا ہوجائے گا۔ ان کی آخری رسومات لندن میں ہی اداکردی جائیں گی جہاں گزشتہ اتوار ان کا انتقال ہوگیا تھا۔ بعد ازاں، ان کی خاک ممبئی لائی جائے گی جہاں ان کی یاد میں ایک پروگرام منعقد ہوگا۔ یہ وہی ممبئی شہر ہے جہاں سے انہوں نے ساٹھ سالوں تک فلمی دنیا پر راج کیا۔ <br /><br /> ان کی آخری رسومات کی لندن میں ادائیگی کا فیصلہ جمعرات کی صبح ان کی اہلیہ کلپنا کارتک اور بیٹی دیوینہ کی برطانیہ آمد کے بعد کیا گیا۔ دیوآنند کے اہل خانہ کے مطابق رسومات 10 دسمبر کی صبح گیارہ بجکر چالیس منٹ پر مقامی شمشان گھاٹ پر اداکی جائیں گی۔ ممبئی روانگی سے قبل اسی دن دوپہر دو بجے&rsquo; بھارتیہ ودیابھون &lsquo; میں ان کی یاد میں ایک پروگرام ترتیب دیا جائے گا۔ یہ یادگاری پروگرام ممبئی میں ہونے والے پروگرام کے علاوہ ہے۔ <br /><br /> دیوآنند ہارٹ اٹیک کے باعث 3دسمبر کو88 سال کی عمر میں لندن میں واقع &rsquo;واشنگٹن ہوٹل &lsquo;میں قیام کے دوران اس دنیا سے کوچ کرگئے تھے۔ ان کی موت کے وقت ان کے صاحبزادے سنیل ان کے قریب تھے۔ <br /><br /> دیوآنند کی موت کے ساتھ ہی بالی ووڈ فلموں کا ایک دور ختم ہورہا ہے۔ ان کی آخری فلم &rdquo;چارچ شٹ &ldquo; دوماہ پہلے ہی ریلیز ہوئی تھی ۔ وہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کی تحصیل نارووال کے علاقے شکرگڑھ میں پیدا ہوئے تھے لیکن چالیس کی دھائی میں فلموں میں کام کی غرض سے انہیں ممبئی آنا پڑا۔ ان کی پہلی فلم &rdquo;ہم ایک ہیں&ldquo; تھی ۔ <br /><br />انہوں نے اداکاری کے ساتھ ساتھ ہدایت کاری کے فرائض بھی انجام دیئے۔ &rdquo; سی آئی ڈی&ldquo;، &rsquo;&lsquo;&rsquo;گائیڈ&ldquo; ، &rdquo;ہرے راما ہرے کرشنا&ldquo; اور&rdquo; جیول تھف&ldquo; ان کی یاد گار اور کامیاب ترین فلمیں شمار ہوتی ہیں۔ <br /><br />دیوآنند نے اداکاری میں کبھی کسی کو کاپی نہیں کیا بلکہ ان کا اپنا ایک منفرد اسٹائل تھا اس اسٹائل کو نہ تو کوئی کاپی کرسکا اور نہ ہی کسی اور پر یہ اسٹائل جچا۔ لہذا، &nbsp;وہ اپنے فن میں یکتا تھے۔ <br /> <br />دیوآنند زندگی بھر یہ کہتے رہے کہ وہ مرتے دم تک کام کرتے رہنا چاہتے ہیں اور ہوا بھی ایسا ہی۔ 30 ستمبر کو ان کی آخری فلم &rdquo; چارچ شیٹ&ldquo; ریلیز ہوئی تھی جس کے بعد وہ ایک اور فلم پر کام کررہے تھے لیکن اس سے پہلے کہ ان کا کام مکمل ہوتا موت نے انہیں اپنی آغوش میں لے لیا۔ <br /> <br />نئی نسل کی بہت سی اداکارائیں اور اداکار زندگی بھر ان کے احسان مند رہیں گے، کیوں کہ انہیں دیو آنند نے ہی پہلی مرتبہ فلموں میں بریک دیا تھا۔ ان فنکاروں میں ٹینا منیم اور زینت امان بھی شامل ہیں۔ <br /><br />جس دور میں انہوں نے اداکاری شروع کی اس دور میں دلیپ کمار اور راج کپور جیسے منجھے ہوئے فنکار پہلے سے انڈسٹری میں موجودتھے ، ایسے میں دیوآنند کا کامیاب ہونا اور اپنا منفرد مقام بنانا واقعی جوئے شیرلانے کے مترادف تھا لیکن دیوآنند اس میں خوب کامیاب رہے۔ <br /> <br />دیوآنند نے انگریزی لڑیچر میں گریجویشن کیا تھا ۔ وہ جب ممبئی آئےتویہاں پہلے سے ان کے بڑے بھائی چیتن آنند موجود تھے ۔ دیوآنند کو فلم انڈسٹری میں پہلا کام پربھات اسٹوڈیو نامی فلم پروڈکشن کمپنی میں ملا ۔ یہ فلم تھی &rdquo;ہم ایک ہیں&ldquo; اس فلم کے لئے انہیں ساڑھے تین سو روپے معاوضہ ملا تھا اور زمانے میں یہ رقم خاصی بڑی تصور کی جاتی تھی۔ <br /> <br />انہی دنوں دیو آنند کو ان کے بھائی چیتن آنند نے اپنی پہلی فلم &rdquo; نیچا نگر &ldquo; میں کاسٹ کیا ۔ اس فلم کو کینز فلم فیسٹیول میں ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اسی دوران ان کی ملاقات اس وقت کی مشہور پلے بیک سنگر اور اداکارہ ثریا سے ہوئی۔ دونوں کی &nbsp;ملاقات پیار میں بدلی اور نوبت شادی تک بھی پہنچی لیکن ثریا کی نانی نہیں مانی۔ 1954میں دیوآنند نے اداکارہ کلپنا کارتک سے شادی کرلی لیکن ثریا زندگی بھر کنواری ہی رہیں۔ <br /> <br />بعد کے سالوں میں دیو آنند کی معرکتہ الآرافلم &rdquo;ضدی&ldquo; آئی جس نے دیوآنند کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا۔ دیوآنند اس وقت کے نمبر ون ہیرو شمار ہونے لگے۔ &rdquo;گائیڈ &ldquo;دیو صاحب کی پہلی رنگین فلم تھی جو 1960ء میں ریلیز ہوئی ۔ اس میں ان کی ہیروئن وحیدہ رحمن تھیں ۔ ان کی پے ددپے کامیاب ہونے والی ان فلموں نے انہیں دلیپ کمار اور راج کپور کے ہم پلہ لاکھڑاکیا۔ <br /> <br />دیوآنند کو ان کے کام کے عوض بے شمار ایوارڈز سے نوازا جاتا رہا۔ ان میں 2001ء میں دیا جانے والا بھارت کا سب قابل فخر ایوارڈ پدما بھوشن اور 2002ء میں ملنے والا دادا صاحب پھالکے ایوارڈ بھی شامل ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 9 Dec 2011 18:43:40 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">135331058</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[وسیم اے صدیقی]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-12-09T18:43:40Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/DevAnand_main.jpg" length="132345" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/DevAnand_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/DevAnand_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>دولت کی دیوی فلمی ستاروں پر مہربان </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Bollywood-Stars-Fees-08Dec11-135250893.html</link>
				<description>آج کل فلمیں کم وقت میں لاکھوں اور کروڑوں روپے کمانے کا آسان نسخہ بن چکا ہے۔  بس شرط یہ ہے کہ قسمت کی دیوی آپ پر مہربان ہو</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>ممکن ہے آج سے کچھ سال پہلے تک فلموں میں کام کرنا محض کچھ لوگوں کا شوق اورشہرت کا جنون ہوتا ہو مگر آج فلمیں&nbsp; کم &nbsp;وقت میں لاکھوں اور کروڑوں روپے کمانے کا آسان نسخہ بن چکا ہے ۔۔ بس شرط یہ ہے کہ قسمت کی دیوی آپ پربھی اسی طرح مہربان ہو۔۔۔جیسا کہ&rsquo; خان ہیروز&lsquo; پر ہے۔&nbsp;پھر بات خان ہیروز تک ہی محدود نہیں بلکہ ہیروئنز، ڈائریکٹرز، مصنف ، شاعر، ، سنگرز، گوریوگرافر، سیٹ ڈیزائنرز وغیرہ وغیرہ ۔۔۔سب کے سب کروڑوں کے معاہدے کر رہے ہیں۔ یہاں تک کے گلیمر کی دنیا میں اس کی کوئی انتہا فی الحال نظر نہیں آتی۔ آیئے ذرا اس پر تفصیل سے بات کی جائے۔ <br /> <br /> ہیروز : جن کا معاوضہ کروڑوں سے شروع ہوتا ہے <br /> عامر خان، سلمان خان اور شاہ رخ خان وہ ہیروز ہیں جو آج اپنے کام کی سب سے زیادہ قیمت وصول کرتے ہیں ۔ بھارتی ٹی وی چینل &rsquo; این ڈی ٹی وی&lsquo; کی ایک رپورٹ کے مطابق ان تینوں ہیروز کا معاوضہ 21کروڑ سے شروع ہوتا ہے جبکہ یہ تینوں اپنی اپنی آنےوالی فلموں کے پروڈیوسرز بھی ہیں مثلاً عامر خان فلم&rdquo; تلاش&ldquo;، شاہ رخ خان فلم &rdquo; ڈان ٹو&ldquo; اور سلمان خان فلم&rdquo; دبنگ ٹو&ldquo; کے پروڈیوسر ہیں لہذا ان کی آمدنی کا بڑا حصہ فلم کی مجموعی آمدنی سے جڑا ہوا ہے ۔ شواہد موجود ہیں کہ ان ہیروز کی فلموں کا منافع کروڑوں اور اربوں روپے تک جاپہنچتاہے۔ <br /> <br /> اداکارائیں : کترینا سب پر بازی لے گئیں<br /> کچھ درپردہ اطلاعات تھیں کہ کترینہ کیف کو پروڈیوسر وشنو بھاگوانی نے اپنی آنے والی فلم کے لئے 20 کروڑ روپے کی آفر کی تھی تاہم مصدقہ اطلاعات یہ ہیں کہ اس وقت کرینہ کپور فلموں میں کام کرنے کے سب سے زیادہ پیسے لیتی ہیں۔ انہیں فلم&rdquo; گول مال تھری&ldquo; میں کام کرنے کے ساڑھے تین کروڑ روپے اداکئے گئے جبکہ آنے والی فلم &rdquo; ہیروئن&ldquo; کے لئے انہوں نے پانچ کروڑ روپے لئے ہیں۔ <br /> دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ یہ فلم مجموعی طور پر جتنامنافع کمائے گی اس میں بھی کرینہ کا حصہ ہوگا۔ اندازہ لگایئے کہ یہ رقم ملالی جائے تو ایک ہیروئن کا صرف ایک فلم میں کام کرنے کا کل معاوضہ کتنے کروڑ تک جا پہنچے گا۔ کبھی یہ لمبی چوری رقمیں خواب و خیال رہی ہوں گی مگر آج حقیقت ہیں۔<br /> <br /> ڈائریکٹرز : ایک فلم کی فیس 15کروڑ روپے مع25فیصد منافع <br /> راج کمار ہیرانی &rdquo;منا بھائی ایم بی بی ایس&ldquo; سے لیکر &rdquo;تھری ایڈیٹس &ldquo;تک سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے ڈائریکٹرز شمار ہوتے ہیں ۔ ان کی ایک فلم ڈائریکٹ کرنے کا معاوضہ 15کروڑ روپے ہے جبکہ فلم کے منافع میں ان کا 25فیصد حصہ اس کے علاوہ ہوتا ہے ۔ <br /> <br /> مصنف : ان کے بھی دن پھر گئے <br /> فلم &rdquo;تھری ایڈیٹس&ldquo; کے مصنف ابھی جیت جوشی سب سے زیادہ معاوضہ لیکرایک فلم کی کہانی لکھتے ہیں ۔ &rdquo; تھری ایڈیٹس &ldquo;کی کامیابی کے بعد وہ &nbsp;ایک فلم کے تین کروڑ روپے ڈیمانڈ کرتے ہیں۔ <br /> <br /> موسیقار : اے آر رحمن آسکر ایوارڈ کے بعد سب سے مہنگے <br /> &nbsp;اے آر رحمن ایک فلم کی دھنیں ترتیب دینے کا سب سے زیادہ معاوضہ وصول کرتے ہیں ۔ آسکر ایوارڈ کے بعد ان کی قیمت ڈبل اور ٹرپل ہوگئی ہے ۔ آج وہ ایک فلم کی موسیقی ترتیب دینے کے پانچ سے آٹھ کروڑ روپے لیتے ہیں۔ان کے بعد دوسرا نمبر موسیقار پریتم کا ہے ۔ وہ ایک فلم کے تین کروڑ روپے لیتے ہیں ۔ اس کے علاوہ اگر وہ کسی&nbsp; ایک گانے کا میوزک تیار کریں تو اس کے 25لاکھ روپے وصول کرتے ہیں ۔ <br /> <br /> کوریوگرافرز : ایک گانے کے 50 لاکھ <br /> فرح خان اور ریمو ڈی سوزا موجودہ وقت کے سب سے بڑے اور مہنگے کوریوکرافر تصور ہوتے ہیں۔ ویسے گنیش ہیگڈے اور ویبھوی مرچنٹ بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ ان سب کا معاوضہ فی گانا 25سے 50 لاکھ روپے ہے۔ <br /> <br /> شاعر<br /> گذرے دنوں میں &nbsp;شاعروں کی غربت اور بے روزگاری کے قصے اب پرانے ہوچکے ہیں ۔ آج کا شاعر۔۔ اور وہ بھی جاوید اختر جیسا بڑا اور منجھا ہوا شاعر۔۔ ایک گانا لکھنے کے 10 لاکھ روپے لیتا ہے ۔ ان کے بعد پروسون جوشی کانمبر آتا ہے جو ایک گانے کے آٹھ لاکھ روپے لیتے ہیں۔ <br /> <br /> سنگرز<br /> آج کے سنگرز یعنی گلوکار بھی کسی سے پیچھے رہنے والے نہیں۔ سونو نگم موجودہ دور میں سب سے زیادہ رقم لے کر ایک گانا گاتے ہیں۔ یہ بھی ایک گانا گانے کے دس لاکھ روپے لیتے ہیں۔ <br /> <br /> ان کے مقابلے میں خواتین گلوکاروں &nbsp;کی بات کریں تو سنیدھی چوہان اور شریا گوشال کا ذکر سب سے پہلے آتا ہے ۔ وہ &nbsp;ایک گانے کے ڈھائی لاکھ روپے لیتی ہیں جبکہ یہ دونوں جب کسی اسٹیج پر یا کسی محفل میں یہی گانا گائیں تو ان کی فی گانا &nbsp;آمدنی کہیں سے کہیں جاپہنچتی ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 8 Dec 2011 16:33:25 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">135250893</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[وسیم اے صدیقی]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-12-08T16:33:25Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/highestPaisStar_main.jpg" length="149798" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/highestPaisStar_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/highestPaisStar_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>‘اداکاری کے ساتھ ساتھ گلوکاری کرنے والے فلمی ہیروز کا  ڈبل رول</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Bollywood-Actors-Singers-06Dec11-135099258.html</link>
				<description>بالی ووڈ کی فلمی دنیا میں ایسے فنکاروں پر ایک نظر جو ایکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ پلے بیک سنگنگ بھی کرتے رہے ہیں</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>&rsquo;ایک پنتھ دو کاج &lsquo;کی مثال توآپ نے سنی ہی ہوگی ۔بالی ووڈ فلموں کے کچھ فنکار ایسے ہیں جنہوں نے اس ضرب المثل کو حقیقت کا روپ دیتے ہوئے دنیا کو بیک وقت دو فنون سے روشناس کرایا۔ مثلاً ان کی پہلی پہچان تو اداکاری ہے مگر وہ اداکاری کے ساتھ ساتھ فلموں میں شوقیہ گلوکاری بھی کرتے رہے ۔ اگرچہ انہوں نے گلوکاری کی باقاعدہ کسی سے تربیت نہیں لی مگر ان کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے اداکاری کے ساتھ ساتھ گلوکاری میں بھی نام کمایا ۔</p>
<p>آئیے آج ایسے ہی فنکاروں پر سرسری نظر ڈالی جائے جو ایکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ پلے بیک سنگنگ بھی کرتے رہے :</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>امیتابھ بچن</p>
<p>اداکاری کے ساتھ ساتھ گلوکاری کرنے والوں میں سب سے پہلا نام امیتابھ بچن کا آتا ہے۔ یہ وہ فنکار ہے جسے ایک زمانے میں ریڈیو آڈیشن میں یہ کہہ کر فیل کردیا گیا تھا کہ ان کی آواز میں کوئی دم نہیں۔</p>
<p>یہ بات شاید ان کے دل میں گھر کرگئی اور انہوں نے اپنے فن میں وہ مہارت پیدا کی کہ ناصرف ان کی مکالمہ ادائیگی دوسرے فنکاروں کے لئے ایک مثال بن گئی بلکہ انہوں نے اپنی آواز سے وہ جادو جگایا کہ لوگ ان سے اداکاری کے ساتھ ساتھ گلوکاری بھی کرانے لگے۔</p>
<p>امیتابھ نے ایک دو نہیں پوری ستائس فلموں کے گانے اپنی آواز میں ریکارڈ کرائے۔ 1979ء میں دو فلموں یعنی &rdquo;دی گریٹ گیمبلر&ldquo; اور &rdquo; مسٹر نٹور لال&ldquo; میں امیتابھ نے جب اپنی بھاری آواز میں گیت گائے تو شائقین فلم نے ان کی اداکاری کی طرح ان کی صداکاری کو بھی بہت سراہا۔ &rdquo; گریٹ گیمبلر&ldquo; کی موسیقی راہول دیو برمن، جبکہ &rdquo;مسٹر نٹور لال&ldquo; کی موسیقی راجیش روشن نے ترتیب دی تھی۔</p>
<p>فلم &rdquo; مسٹر نٹور لال&ldquo; کے گیت &rdquo;میرے پاس آؤ میرے دوستو ایک قصہ سنو&lsquo; &lsquo; نے تو امیتابھ کے لیے گیتوں کی لائن لگا دی۔ فلم &rdquo;لاوارث&ldquo; میں ان کے گیت &rdquo;میرے انگنے میں تمھارا کیا کام ہے&ldquo; نے کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ آج بھی یہ گیت ہر جگہ سنا اور گایا جاتا ہے۔</p>
<p>مذکورہ فلموں کے علاوہ جن فلموں میں امیتابھ بچن نے اپنی آواز کا جادو جگایا ان میں &rdquo;سلسلہ،&ldquo; &rdquo;مہان&ldquo;، &rdquo;پکار&ldquo;، &rdquo;شرابی&ldquo;، &rdquo;طوفان&ldquo;، &rdquo;جادوگر&ldquo;، &rdquo;خدا گواہ&ldquo;، &rdquo;میجر صاحب&ldquo;، &rdquo;سوریا ونشی&ldquo;، &rdquo;عکس&ldquo;، &rdquo;کبھی خوشی کبھی غم&ldquo;، &rdquo;امان&ldquo; وغیرہ شامل ہیں۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>عامر خان</p>
<p>فلم &rdquo;ہم ہیں راہی پیار کے&ldquo; کا گیت &rdquo;چکنی صورت تو کہاں تھا اب تلک یہ بتا&ldquo; کس نے نہیں سنا ہوگا، اس گیت میں نظر آنے والا من موہنا معصوم سا لڑکا بالی ووڈ کا وہ ہیرو ہے جس نے بھارتی فلمی صنعت کو نہ صرف بطور اداکار کامیاب فلمیں دیں بلکہ بطور ہدایتکار اور گلوکار بھی اپنا لوہا منوایا ہے۔ ۔۔جی ہاں بات ہورہی ہے مسٹر پرفیکٹ یعنی عامر خان کی۔</p>
<p>بے شمار فلموں میں کام کرنے کے بعد اچانک 1998 میں ریلیز ہونے والی فلم&rsquo; &rsquo;غلام&ldquo; میں بطور گلوگار عامر خان نے جب &rdquo;آتی کیا کھنڈالا&lsquo; &lsquo;گایا تو نوجوانوں کی زبانوں پر یہ گیت ایسا رچ بس گیا کہ اس گیت نے نوجوانوں کی عام بول چال کے حصے کی شکل اختیار کرلی۔</p>
<p>اس گیت کے بعد عامر نے اور بھی بہت سے گیت گائے۔ فلم &rdquo;فنا &ldquo;میں عامر نے کاجول، سونونگم اور سنیدھی چوہان کے ساتھ گیت &rdquo;میرے ہاتھ میں&lsquo; گا کر شائقین کے دل جیت لیے تھے۔ ان گیتوں کے بعد عامر کے گیت مقبولیت کی سند حاصل کرنے لگے اور انھوں نے بہت سی فلموں میں نہ صرف سولو گیت گائے بلکہ بالی ووڈ کی نامور گلوکاراؤں کے ساتھ دوگانوں کے علاوہ بہت سے کورس گیت بھی گائے۔</p>
<p>عامر نے جن گیتوں میں گلوکاری کی ان میں فلم &rdquo;تارے زمین پر&ldquo;، &rdquo;میلہ&ldquo; خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ عامر نے کئی البمز کے لیے بھی گیت گائے ۔ انہوں نے شان، ہری ہرن، ادیت نارائن، الکا یاگنک، سونو نگم ، سنیدھی چوہان اور بالی ووڈ کے صف اول کے کئی گلوکاروں کے ساتھ گیت گائے ہیں جو خاص و عام میں آج بھی مقبول ہیں۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>&nbsp;نانا پاٹیکر</p>
<p>نانا پاٹیکر کا شمار بھارت کے مقبول ترین اداکاروں میں ہوتاہے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا مقابلہ اطالوی نژاد امریکی اداکار الپا چینو ہی سے کیا جا سکتا ہے جس نے ہالی ووڈ میں اپنی منفرد اداکاری سے زبانوں کی سرحدیں عبور کر کے بین الاقوامی شہرت حاصل کرلی تھی۔</p>
<p>&nbsp;نانا پاٹیکر بھی ایک ایسے ہی ورسٹائل فنکار ہیں، جنھیں جذباتی اداکاری میں ملکہ حاصل ہے۔ نانا نے جہاں فلم بینوں کو اپنی اداکاری سے اپنا فین بنایا ہے، وہیں اپنی آواز اور موسیقی کے آلات کے ملاپ سے ایک ایسا گیت عوام کو دیا جسے عوامی ہی کہا جا سکتا ہے۔ &rdquo;ایک مچھر&ldquo; جیسا گیت گا کر نانا نے اداکاری کے بعد سرتال کی دنیا میں بھی اپنے قدم انتہائی مضبوط کرلیے ہیں۔</p>
<p>اس کے بعد ایک اور گیت &rdquo;جو ہوتا اس کو ہونے دے، جو روتا اس کو رونے دے&ldquo; نے بھی خاصی مقبولیت حاصل کی۔ میوزک ڈائریکٹر سنجیو کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ گیت نانا پاٹیکر کی شخصیت اور ان کی آواز کو سامنے رکھ کر تیار کیا تھا اور اس کی دھن خاص طور پر انھی کے لیے کمپوز کرائی تھی۔ نانا پاٹیکر اگرچہ گلوکاری کے میدان میں وہ رنگ نہیں جما پائے جو امیتابھ بچن نے جمایا تھا تاہم اپنے عوامی رنگ کی وجہ سے نانا مقبولیت کی بلندیوں پر ہیں۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>رنبیر کپور</p>
<p>بالی ووڈ اداکا رنبیر کپور نے اپنی اداکاری سے تو فلم بینوں کو اپنا دیوانہ بنایا ہی تھا مگر ایسا لگتا ہے کہ وہ بالی ووڈ میں باقاعدہ گلوگار بننے کے لیے پر تول رہے ہیں۔ اپنی فلم &rdquo;راک اسٹار&ldquo; کی نمائش سے قبل فلم کی پروموشن کیلئے رنبیر کپور نے ممبئی میں کنسرٹ کر ڈالا۔ اس کنسرٹ میں رنبیر کے ساتھ فلم کے ڈائریکٹر امتیاز علی اور موسیقار اے آر رحمن بھی شریک ہوئے۔ کنسرٹ میں گلوکاروں نے فلم &rdquo; راک اسٹار&ldquo; کے گانے گائے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 6 Dec 2011 16:26:35 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">135099258</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[وسیم اے صدیقی]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-12-06T16:26:35Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/ActorsCumSinghers_main.jpg" length="113609" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ActorsCumSinghers_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ActorsCumSinghers_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>عامر خان اور کرن راوٴ کے یہاں بیٹے کی پیدائش</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Aamir-Khan-Kiran-Rao-Baby-Boy-05Dec11-135033683.html</link>
				<description>یہ عامر خان کی دوسری جبکہ کرن راوٴ کی پہلی شادی ہے۔ عامر کی پہلی بیوی کا نام رینہ دت تھا جن سے عامر خان کے دو بچے یعنی ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہیں </description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>بالی ووڈ سپر اسٹار عامر خان اور کرن راوٴ کے یہاں &rsquo;ننھا منا مہمان&lsquo; آگیا ہے۔ وہ دونوں ایک بچے کے ماں باپ بن گئے ہیں ۔ بھارت کے تمام ذرائع ابلاغ نے اس حوالے سے عامر اور کرن کے بیان کو نمایاں انداز میں جگہ دی ہے ۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا ہے کہ &rdquo;ہم بیٹے کو پاکر بہت خوش ہیں ۔ اس بچے کی پیدائش ہمارے لئے بہت معنی رکھتی ہے۔ ایک اس اعتبار سے کہ اس خوشی کا ہمیں بہت انتظار کرنا پڑا اور دوسرا اس لحاظ سے کہ بہت مشکلوں کے بعد ہمیں یہ راحت ملی ہے۔ دراصل طبی پیچیدگیوں کے سبب نارمل طریقے سے ہمارے یہاں اولاد نہیں ہوسکتی تھی اس لئے ہمیں &rdquo;آئی وی ایف۔ سروگیسی &ldquo;طریقہ اختیار کرنا پڑا۔ ہمیں خوشی ہے کہ سب کچھ اچھی طرح سے ہوگیا&ldquo;</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ &rdquo; ہم اس دنیا کے خالق کی عظمت کے شکرگزار ہیں، ساتھ ہی سائنسی ایجادات کے کمالات اور اپنے دوستوں و رشتے داروں کے بھی شکر گزار ہیں جنہوں نے ہمیں اپنی دعاوٴں میں ہر پل یاد رکھا&ldquo;</p>
<p>یہ عامر خان کی دوسری جبکہ کرن راوٴ کی پہلی شادی ہے۔ عامر کی پہلی بیوی کا نام رینہ دت تھا جن سے عامر خان کے دو بچے یعنی ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہیں۔ دونوں نے 15سال تک ایک ساتھ رہنے کے باوجود علیحدگی اختیار کرلی۔</p>
<p>عامر اور کرن کی ملاقات سن 2001ء میں فلم &rdquo;لگان &ldquo;کے سیٹ پر ہوئی تھی ۔ کرن راوٴ اس فلم کی اسسٹنٹ ڈائریکٹرتھیں ۔ تین سال بعد دونوں نے شادی کرلی ۔ کرن راوٴ اس سے پہلے 2009ء بھی ماں بننے والی تھیں لیکن طبی پیچیدگی کے سبب ان کا یہ خواب پائے تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔</p>
<p>عامر کے پہلے بیٹے کا نام جنید جبکہ لڑکی کا نام ارا ہے۔ عامر نے رینہ کو سنہ 2002ء میں طلاق دی تھی جبکہ کرن سے انہوں نے 2005ء میں شادی کی تھی۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Mon, 5 Dec 2011 17:00:14 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">135033683</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-12-05T17:00:14Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/AmirKhanKiranRao_main.jpg" length="90652" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AmirKhanKiranRao_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AmirKhanKiranRao_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>بالی ووڈ فلموں کی’ انقلابی‘ اداکارہ : زینت امان </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Bollywood-Zeenat-Aman-02Dec11-134910968.html</link>
				<description>زینت امان پہلی بھارتی ہیروئن ہیں جنھیں اپنے بولڈ کرداروں کی وجہ سےشہرت ملی اور انھوں نے فلم بینوں کے ذہنوں میں روایتی فلمی عورت کے کردار کا تصور ہی بدل کر رکھ دیا تھا</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>زینت امان 70 کی دہائی میں بننے والی فلموں کا ایک &nbsp;بڑا نام ہے ۔ وہ ان خوش قسمت اداکاراوٴں میں سے ایک ہیں جن کی شہرت آج بھی &rsquo;ماند &lsquo;نہیں پڑی۔ انہوں نے اپنے بعد آنے والی ہیروئنوں کے لئے کام کی نئی منزلیں ، نئی راہیں متعین کیں۔ <br /><br /> وہ پہلی بھارتی ہیروئن ہیں جنھیں اپنے بولڈ کرداروں کی وجہ سےشہرت ملی۔ انھوں نے فلم بینوں کے ذہنوں میں روایتی فلمی عورت کے کردار کا تصور ہی بدل کر رکھ دیاتھا۔ ان سے قبل فلموں کی عورت روایات میں لپٹی ، انتہائی مجبور اور فرمانبردار سمجھی جاتی تھی۔<br /><br /> &nbsp;زینت امان کی والدہ ہندو جبکہ والد مسلمان گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والد امان اللہ خان 1960ء میں ریلیز ہونے والی فلم &rdquo;مغل اعظم&ldquo; اور&rdquo; پاکیزہ&ldquo; جیسی یادگار فلموں کے اسکرپٹ رائٹر تھے۔ زینت بہت چھوٹی تھیں کہ ان کے والدین میں علیحدگی ہوگئی۔پھر جب وہ 13سال کی ہوئیں تو ان کے والد اس دنیا سے کوچ کرگئے جبکہ ماں نے دوسری شادی کرلی اور جرمنی چلی گئیں۔ <br /><br /> زینت امان نے اپنے کیریئر کی بنیاد بھارت میں رکھی جو بعد میں آنے والی اداکاراؤں کے لیے مثال بن گیا۔ انھوں نے فلم انڈسٹری میں اپنا راستہ 1970ء کی&rdquo; مس ایشیا پیسفک&ldquo; کا ٹائٹل جیتنے کے بعد کیا۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی پہلی خاتون تھیں۔ <br /><br />انھوں نے او پی رہلن کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم&rdquo; ہلچل &ldquo;سے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا لیکن یہ فلم فلاپ ہوگئی۔ اس کے بعد اوپی رہلن ہی کی دوسری فلم &rdquo;ہنگامہ&ldquo; میں انہوں نے کام کیا لیکن اتفاق سے یہ فلم بھی بری طرح ناکام ہوگئی۔<br /><br />لیکن ان کی تیسری فلم &rdquo;ہرے راما، ہرے کرشنا&ldquo;اس قدر پسند کی گئی کہ وہ راتوں رات سپر اسٹار بن گئیں ۔ اس فلم میں ایک مغربی اور جذباتی طور پر مضطرب مے نوش لڑکی کے کردار نے انھیں نہ صرف ملک گیر شہرت عطا کی بلکہ انھیں اس وقت کی صف اول کی اداکارہ ممتاز سے بھی آگے لاکھڑا کیا۔<br /><br /> زینت امان کو اس فلم میں بہترین پرفارمنس کے لئے فلم فیئر ایوارڈ دیا گیا۔اس فلم کا ایک گیت &rdquo;دم مارو دم&ldquo;اس قدر مقبول ہوا کہ اسے مذہبی گیت کی سی حیثیت حاصل ہوگئی ۔ یہ گانا آج بھی سدا بہار گیتوں میں شمار ہوتا ہے۔ حال ہی میں دپیکا پڈکون نے اس گیت کے ر ی مکس ورژن میں پرفارم کیا ہے، لیکن اس گیت کو وہ مقبولیت ہرگز نہیں مل سکی جو اصل گیت کو مل چکی تھی۔<br /><br /> اس کے بعدزینت کی ایک اور فلم &rdquo;یادوں کی بارت&ldquo; ریلیز ہوئی۔ اس فلم کے گیت &rdquo;چرا لیاہے تم نے جو دل کو &ldquo; میں ان کے گٹار بجانے کے انداز نے فلم کو ہٹ کر دیا۔ زینت متواتر فلم انڈسٹری کی تمام رکاوٹیں عبور کرتی رہیں اورانہوں نے اپنے لیے ایسے کردار منتخب کیے جو ان کرداروں سے یکسر مختلف تھے جو اس دور کی &rdquo;عام&ldquo; اداکارائیں ادا کرتی چلی آرہی تھیں۔<br /> <br /><strong> زینت کے کردار </strong><br /> زینت امان نے ایسے متعدد کردار ادا کئے جو اس سے قبل اس دور کی ہیروئنیں اداکرتے ہوئی گھبراتی تھیں۔ زینت امان نے فلم &rdquo;روٹی کپڑا اور مکان&ldquo; میں ایک موقع پرست عورت کا کردار ادا کیا جو ایک ارب پتی شخص کی خاطر اپنے محبوب کو ٹھکرا دیتی ہے۔ <br /><br />فلم&rsquo;منورنجن&ldquo; میں ایک لا ابالی طوائف کا کردار ادا کیا، فلم &rdquo;دھند&ldquo; میں شادی کے بعد بھی جنسی معاملات میں ملوث عورت کا کردار ادا کیا اور فلم &rdquo;پریم شاستر&ldquo; میں ایسی لڑکی کا کردار ادا کیا جو ایک ایسے لڑکے سے محبت کر بیٹھتی ہے جو اس کی ماں کی محبت میں گرفتارہوتا ہے۔ <br /><br />زینت نے آہستہ آہستہ لیکن مستقل مزاجی سے فلم میں اس عورت کے تصور کو بالکل بدل کر رکھ دیا جو اپنے شوہر یا محبوب کی فرمانبرداری کی قسمیں کھانے تک محدود رہتی تھی۔<br /><br /> &nbsp;زینت امان نے راج کپور کی فلم &rdquo;ستیم شیوم سندرم&ldquo; میں بھی بھرپور کردار ادا کیا۔ اس فلم نے فلم بینوں کے ذہنوں پر جو تاثر چھوڑا وہ فلم کی اصل کہانی سے یکسر مختلف تھا، یعنی یہ فلم عورت کے اندرونی حسن پر مبنی تھی لیکن اس فلم پر زینت امان کی جنسی کشش غالب آگئی۔ یہ فلم زینت امان کی مختصر ترین ساڑھیوں اور ان کے ساتھی اداکار ششی کپور کے ساتھ بوس و کنار کے مناظر کی وجہ سے خبروں کا حصہ بن گئی لیکن زینت امان نے اپنی رجحان ساز طبیعت کے تحت &nbsp;فلم میں اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کیا۔<br /><br /> تاہم زینت کے بالی ووڈ میں رہنے کا موقع اس وقت کھٹائی میں پڑ گیا جب دھرمیندر کے علاوہ ریکس ہیریسن اور سلویا مائلز جیسے بین الاقوامی اداکاروں کے ساتھ انہوں نے فلم&rdquo; شالیمار&ldquo; میں کام کیا۔ یہ فلم اپنے کمزور اسکرپٹ کی بدولت باکس آفس پر بری طرح ناکام ہوئی۔ <br /><br /> &rdquo;ڈان&ldquo; وہ فلم تھی جس نے زینت امان کے کیریئر کو کئی ناکام فلموں کے بعد کامیابی کی طرف بڑھنے میں مدد دی۔ انہوں نے فلم میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا اور ثابت کیا کہ وہ امیتابھ بچن کی&rsquo; ایکشن فل&lsquo; مہارت کے سامنے اس کے مقابلے میں کام کرسکتی ہیں۔ <br /><br /> اپنے شاندار فلمی کیریئر کے دوران فلم &rdquo;عبداللہ&ldquo; کے سیٹ پر ان کا افیئر پہلے سے کئی مرتبہ شادی شدہ اداکار سنجے خان کے ساتھ چل نکلا۔کہا جاتا ہے کہ زینت امان نے خفیہ طور پر نکاح کرلیا لیکن سنجے اور اس کی بیوی زرینہ خان کی جانب سے ایک محفل میں زینت امان پر مبینہ حملے کے بعد دونوں میں علیحدگی ہوگئی۔ اس جسمانی حملے میں زینت امان کی ایک آنکھ مستقل طور پر خراب ہوگئی۔کئی سال بعد انھوں نے یہ بات ریکارڈ پر کہی کہ سنجے خان سے شادی ان کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ <br /><br /> اس کے بعد انھوں نے مظہر خان سے شادی کا ارادہ کرلیا جو ایک باصلاحیت اداکارتھا مگر وہ بہت زیادہ کامیاب نہیں تھا۔ مظہر خان سے ان کا رشتہ بھی دھماکہ خیز ثابت ہوا۔ وہ دونوں جب بھی ملتے ہر مرتبہ ان میں لڑائی ہوتی۔ <br /><br />بعد میں انھوں نے اچانک شادی کرلی جس نے انڈسٹری کے ہر فرد کو حیران کردیا۔&nbsp;ان کی شادی بھی ان کے تعلقات کی طرح پرتشدد ثابت ہوئی، یہاں تک کہ زینت امان نے کئی مرتبہ عوام کے درمیان الزام عائد کیا کہ اس کا شوہر تشدد &nbsp;کرتا ہے۔ <br /><br />ان کی شادی اپنے منطقی انجام تک پہنچنے کو تھی کہ اتنے میں مظہرکو کینسر ہو جانے کی خبر ملی۔ پھر یہ ہوا کہ زینت امان نے اس کا خیال رکھنا شروع کردیا اور کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی تمام جمع پونجی 1988ء میں اس وقت مظہر کی بیماری پر خرچ کردی جب وہ اپنی بیماری سے آخری جنگ لڑ رہا تھا۔<br /><br /> شوہر کی وفات کے بعد انہیں مستقل مسائل کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ان کا اپنے سسرال والوں کے ساتھ دونوں بیٹوں اذان اور ذہان کی حوالگی کے معاملے پر جھگڑا چل رہا تھا۔ زینت آخر کار اپنے بچوں کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئیں اوروقت کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی تمام تر توجہ ان کی نگہداشت اور اپنا کھویا ہوا وقار دوبارہ حاصل کرنے پر مرکوز کردی۔<br /><br /> زینت امان سلور اسکرین کی طرف لوٹ آئیں اور &rdquo;بھوپال ایکسپریس&ldquo; اور &rdquo;بوم&ldquo; جیسی فلموں میں کام کیا، جو مشکل ہی سے فلم بینوں کے ذہنوں پر اپنا تاثر قائم کرسکیں۔ آج زینت امان ایک خاموش زندگی گزار رہی ہیں اور کبھی کبھار کسی ایوارڈشو یا کسی تقریب میں نظر آجاتی ہیں۔ حال ہی میں زینت امان نے آئی آئی جے یو کے تحت موجودہ وقت کی بڑی اداکاراؤں کے ساتھ ایک ہی ریمپ پر واک کی ہے۔<br /><br /> &nbsp;زینت امان کو بالی ووڈ میں کام کرنے والے ایسے انقلابی چہروں میں شمار کیا جاتا ہے جس نے اپنے بولڈ روئیے اور قوت ارادی سے تن تنہا ہی بھارتی سنیما کا مزاج بدل کر رکھ دیا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 2 Dec 2011 17:27:06 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">134910968</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[وسیم اے صدیقی]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-12-02T17:27:06Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Zeenat-Aman-main.jpg" length="175355" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Zeenat-Aman-main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="375" width="600" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Zeenat-Aman-230X230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>’شیلا کی جوانی‘ کے بعد کترینہ کیف کا نیا آئٹم سانگ ’چکنی چنبیلی‘</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Bollywood-Katrina-Kaif-01Dec11-134837248.html</link>
				<description>بھا رتی میڈیا سے آنے والی اطلاعات کے مطابق اس گانے کے لئے کترینہ بہت محنت کررہی ہیں اور دن رات ریہرسل میں مصروف ہیں</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>کترینہ کا نیا آئٹم سانگ &rdquo; چکنی چنبیلی &ldquo; آخری مراحل میں پہنچ گیا ہے ۔ گانے کی ریہرسل ممبئی کے مشہور اسٹوڈیو&rsquo; فلم سٹی &lsquo;میں جاری ہے ۔ اسے آپ اگلے ماہ یعنی 26 جنوری کوریلیز ہونے والی فلم &rdquo;اگنی پتھ&ldquo; میں دیکھ سکیں گے۔</p>
<p>بھا رتی میڈیا سے آنے والی اطلاعات کے مطابق اس گانے کے لئے کترینہ بہت محنت کررہی ہیں اور دن رات ریہرسل میں مصروف ہیں۔ &rdquo; اگنی پتھ &ldquo;کے ڈائریکٹر کرن ملہوترا ہیں۔</p>
<p>&rdquo;اگنی پتھ&ldquo;سنہ 1990ء کی کامیاب فلم ہے جس کا ری میک بھی اسی نام سے بنایا جارہا ہے۔ پرانی &rdquo;اگنی پتھ&ldquo; میں امیتابھ ہیرو اور مادھوی ہیروئن تھیں۔ اسے یش چوپڑا نے ڈائریکٹ کیا تھا۔</p>
<p>کترینا کا کہنا ہے کہ &rdquo;نیا گانا ان کے پچھلے ہٹ آئٹم سانگ &rdquo; شیلا کی جوانی&ldquo; سے بالکل مختلف ہے ۔ کرن جوہر میرے دوست ہیں جب انہوں نے مجھے تفصیلات بتائیں تو مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں نے فوراً ہی گیت پکچرائز کرانے پر رضامندی ظاہر کردی۔ آئٹم سانگ کے ڈانس ڈائریکٹر گنیش آچاریہ ہیں ۔ اس گیت کو میں نے چیلنج کے طور پرقبول کیا ہے&ldquo;</p>
<p>کترینہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں گانے کے تھیم پر پرفیکٹ انداز میں اتر نے کے لئے پورے تین کلو وزن کم کرنا پڑا۔ فلم کے ہیروٴ رہتک روشن کا کہنا ہے کہ کترینہ نے گانے پر شاندار پرفارمنس دی ہے۔ فلم کے ساتھی فنکار سنجے دت نے بھی کترینہ اور اس گانے &rdquo;چکنی چنبیلی&ldquo; کی بھرپور انداز میں تعریف کی ہے۔</p>
<p>بھارت کے موخر اخبارات کے مطابق آئٹم سانگ &rdquo;چکنی چنبیلی&ldquo; مراٹھی ہٹس کا ہندی ری مکس ہے ۔ کترینہ نے اس گانے کے لئے بھارت کے لوک رقص &rdquo;لاوڑی&ldquo;کی باقاعدہ تربیت لی ہے ۔ یہ لوک رقص بھارت کے بہت سے گانوں کے لئے استعمال میں لایا جاتا رہا ہے ۔ ماضی کی ہیروئن بندو، مادھوری دکشت ، شلپا شیٹھی اور نمرتا شروڈکر وغیرہ اس ڈانس پر ہٹ سانگ دے چکی ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 1 Dec 2011 17:38:12 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">134837248</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[وسیم اے صدیقی]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-12-01T17:38:12Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Katrina-Item_main.jpg" length="102252" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Katrina-Item_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Katrina-Item_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>امیتابھ اورسری دیوی فلم ”انگلش ونگلش “ میں ایک مرتبہ پھر ساتھ نظرآئیں گے</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/English-Winglish-30Nov11-134760168.html</link>
				<description>اس سے قبل بھی، بالی ووڈ میگا اسٹار امتیابھ بچن، اور سری دیوی فلم ” خداگواہ “ میں ایک ساتھ کام کرچکے ہیں</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>بالی ووڈ میگا اسٹار امتیابھ بچن کوآپ جلد ہی نئی فلم &rdquo;انگلش ونگلش&ldquo; میں کام کرتا دیکھ سکیں گے۔&nbsp; یہ وہی فلم ہے جس سے ماضی کی سپر اسٹار سری دیوی کی واپسی ہورہی ہے۔ اس سے قبل امتیابھ بچن اور سری دیوی فلم &rdquo; خداگواہ &ldquo; میں ایک ساتھ کام کرچکے ہیں۔</p>
<p>ٹائمز آف انڈیا &lsquo;نے خبر دی ہے کہ فلم &rdquo;انگلش ونگلش &ldquo; کو ساوٴتھ انڈین فلم میکر آر بالاکرشنن کی اہلیہ گوری شندے ڈائریکٹ کررہی ہیں۔</p>
<p>امیتابھ اس سے قبل بالاکرشنن کے ساتھ فلم &rdquo;چینی کم &ldquo; اور &rdquo;پا&ldquo; میں کام کرچکے ہیں ۔&nbsp; ان کا کہنا ہے کہ وہ گوری کے ساتھ کام کرکے خوشی محسوس کریں گے ۔&nbsp; امیتابھ کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ بالاکرشنن کے ساتھ دوبارہ کام کرنے کے خواہشمند ہیں ۔&nbsp; ان کا کہنا ہے کہ وہ بالاکرشنن کی جانب سے کسی نئی فلم کی اسکرپٹ کے منتظر ہیں۔</p>
<p>امتیابھ نے &rdquo;انگلش ونگلش&ldquo; کے حوالے سے سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ ٹوئیٹر پر پیغام دیا ہے کہ بالاکرشنن کے ساتھ کام کرنا ان کے لئے خوشی کا باعث ہوگا ۔&nbsp; انہوں نے بالاکرشنن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میرے لئے جلد اسکرپٹ تیارکریں ۔</p>
<p>&rdquo;انگلش ونگلش&ldquo; متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی ایک عام گھریلو بھارتی عورت کی کہانی ہے جس کی کمزور انگلش کا سب مذاق اڑاتے ہیں ۔ بلاخر اس کی قسمت بدلتی ہے اور اسے انگریزی سیکھنے کے لئے امریکہ جانے کا موقع مل جاتا ہے۔</p>
<p>سری دیوی اور امیتابھ بچن نے 1992ء میں فلم &rdquo;خداگواہ&ldquo; میں ایک ساتھ کام کیا تھا ۔&nbsp; سری دیوی جن کی مشہور فلموں میں &rdquo;چاندنی،&nbsp; &rdquo;مسٹر انڈیا &ldquo; اور&nbsp; &rdquo;صدمہ &ldquo; سرفہرست ہیں ، وہ 14 سال کی طویل مدت کے بعد اس فلم کے ذریعے ایک مرتبہ پھر اسکرین پر نظر آئیں گی۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 30 Nov 2011 17:21:12 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">134760168</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-11-30T17:21:12Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/AmitSriDevi_main.jpg" length="130556" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AmitSriDevi_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AmitSriDevi_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>اجے دیوگن کے معاوضے میں اضافہ</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Bollywood-Ajay-Devgan-28Nov11-134608583.html</link>
				<description>اجے دیوگن کی آنے والی فلم ”بول بچن “کے حقوق 53 کروڑ سے بڑھ کر 94 کروڑ روپے کے ہوگئے ہیں۔ اس فلم میں اجے کے ساتھ ابھیشیک بچن بھی ہیں</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>ممبئی کی &rsquo;ٹکسالی &lsquo;زبان میں کہیں تو حالیہ فلم &rdquo;سنگھم&ldquo; کے ہیرو اجے دیوگن کے &rsquo;بھاوٴ &lsquo;بڑھ گئے ہیں۔۔۔مطلب یہ کہ ان کی آنے والی فلم &rdquo;بول بچن &ldquo;کے حقوق 53کروڑ سے بڑھ کر 94کروڑ روپے کے ہوگئے ہیں ۔</p>
<p>ٹائمز آف انڈیا نے خبر دی ہے کہ کچھ دنوں پہلے ان کی نئی فلم &rdquo;بول بچن&ldquo; کے حقوق خریدنے کے لئے ایک کمپنی سے ڈیل ہورہی تھی جس نے تمام کوششوں کے باوجود دنیا بھر میں فلم کی نمائش کے حقوق خریدنے کے لئے 53 کروڑ روپے کی قیمت لگائی تھی ۔</p>
<p>اجے کی کوشش تھی کہ انہیں زیادہ رقم ملے لیکن کمپنی اپنی شرائط پر اڑی ہوئی تھی لہذا ڈیل سے پہلے ہی معاملہ ادھورا رہ گیا۔</p>
<p>اجے ڈیل کی ناکامی پرکچھ مایوس اورکچھ اداس ہوگئے تھے لیکن ان کی قسمت نے یاوری کی ۔۔اور ہوا یوں کہ اسٹار اسٹودیوز نے انہیں &rdquo;بول بچن&ldquo; کے رائٹس خریدنے کے لئے 94 کروڑ روپے کی آفر کردی جسے اجے نے فوراً ہی قبول کرلیا کیوں کہ انہیں پہلی ڈیل کے مقابلے میں 41 کروڑ روپے کا فائدہ ہورہا ہے ۔ <br /><br /> 94 کروڑ روپے کی یہ رقم ا س حوالے سے اہم ہے کہ ابھی تک اجے کی کسی بھی فلم کی اتنی بھاری قیمت نہیں لگی۔ اجے دیوگن اورروہت شیٹھی کا پہلے سے ہی اس فلم کو ایک ساتھ کرنے کا معاہدہ موجود ہے۔<br /><br />فلم &rdquo;بول بچن&ldquo; کے یونٹ ترجمان نے اس خبر کی تصدیق کی ہے۔ فلم میں اجے کے ساتھ ابھیشیک بچن بھی ہیں ۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Mon, 28 Nov 2011 17:01:03 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">134608583</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-11-28T17:01:03Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/AjayDevgan_main.jpg" length="144234" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AjayDevgan_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AjayDevgan_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>ایشیا کی سب سے پرکشش اداکارہ، کرینہ کپور</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Most-Attractive-Asian-Actress-25Nov11-134498103.html</link>
				<description>ایک حالیہ سروے کے مطابق کرینہ کپور کو ایشیا کی پرکشش ترین اداکارہ کا اعزاز حاصل ہوا جبکہ کترینا کیف دوسرے نمبر پر آئیں</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>بالی ووڈ ایکٹریس کرینہ کپور نے ایشیا کی سب سے پر کشش ایکٹریس کی ریس جیت لی ہے ۔ اس ریس میں انھوں نے کترینا کیف کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے، حالانکہ کترینا پچھلے سال اس ریس میں سرفہرست تھیں ۔<br /> <br /> بھارت کے ایک موقر اخبار &rsquo;ٹائمز آف انڈیا &lsquo;کی ایک رپورٹ کے مطابق ہفتہ وار میگزین &rdquo;ایسٹرن آئی&ldquo;کی جانب سے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئیٹر پر ایک سروے کرایا گیا تھا جس میں لوگوں سے ایشیا کی سب سے پرکشش ایکٹریس منتخب کرنے کے لئے کہا گیا تھا۔ سروے میں حصہ لینے والے لوگوں کی اکثریت نے کرینہ کے حق میں ووٹ دیا۔ <br /> &nbsp;<br /> حال ہی میں &rdquo;باڈی گارڈ&ldquo; اور&rdquo; را۔ون&ldquo;</p>
<p>&nbsp;جیسی ہٹ فلمیں دینے والی کرینہ کپور کویہ ریس جیتنے کے لئے خاصی مشقت کرنا پڑی</p>
<p>&nbsp;کیوں کہ وہ صرف ایک فیصد ووٹ لیکر دوسری اداکاراوٴں سے ممتاز قرارپائیں۔<br /> <br /> کرینہ کپورکے بعد دوسرے نمبر پر آئیں کترینا کیف۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کترینا کیف مسلسل تین سالوں تک یہ اعزاز بہت واضح فرق سے حاصل کرتی رہی ہیں۔اس فہرست میں پریانکا چوپڑا تیسرے اور بپاشا باسو چوتھے نمبرپر رہیں جبکہ دپیکا پڈکون ساتویں نمبر پر رہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 25 Nov 2011 18:31:54 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">134498103</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-11-25T18:31:54Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Karina_main.jpg" length="122072" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Karina_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Karina_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>پاکستانی سرزمین پر جنم لینے والے مشہور ترین بھارتی فنکار</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Pakistani-Born-Indian-Film-Artists-24Nov11-134459438.html</link>
				<description>بھارتی فلمی صنعت میں شہرت کی بلندیوں کو چھونے والے بہت سے فنکار، آج کے، پاکستانی علاقوں میں پیدا ہوئے ہیں</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ بھارتی فلمی صنعت میں شہرت کی بلندیوں کو چھونے والے بہت سے فنکار پاکستانی علاقوں میں پیدا ہوئے جبکہ ان میں سے بعض نے تو عمر کا ابتدائی حصہ اسی سرزمین پر گزارا مگر فلموں میں نام کمانے کا شوق انہیں کھینچ کر ممبئی لے گیا۔ان فنکاروں کی فہرست دلیپ کمار سے شروع ہوکر جوہی چاوٴلہ تک جاتی ہے۔جنہوں نے اپنی خدادادصلاحیتوں سے وہ شہرت حاصل کی &nbsp;کہ طویل عرصے تک ان کا نام جگماتا رہے گا۔ پیش ہے اسی حوالے سے کچھ تفصیلات : <br /> <br /> بھارت میں پشاور کی پہچان : دلیپ کمار<br /> &nbsp;بھارتی فلموں کے مقبول ترین ہیروز میں سب سے پہلا نام دلیپ کمار کا لیا جاتا ہے۔ دلیپ کمار جیسی شہرت بہت ہی کم فنکاروں کو نصیب ہوئی۔&rdquo; مغل اعظم&ldquo;، &rdquo;دیوداس&ldquo;،&rdquo; ٹیکسی ڈرائیور&ldquo;،&rdquo; آن&ldquo;،&rdquo; انداز&ldquo;،&rdquo; عدل جہانگیر&ldquo;، &rdquo;امر&ldquo;اور&rdquo; دیدار&ldquo; سمیت چھ سو سے زائد فلموں میں کام کرنے والے دلیپ کمار اگرچہ آج ممبئی کے انتہائی پوش علاقے پالی ہل، باندرا میں رہائش پذیر ہیں۔ &nbsp;لیکن وہ پشاور کے علاقے قصہ خوانی بازار کے محلہ خداداد کے ایک پٹھان گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کاخاندان 1930ءاور 1940ءکے درمیانی عرصے میں ممبئی منتقل ہوا تھا۔ دلیپ کمار ، جن کا اصلی نام محمد یوسف خان ہے، 1943ء میں اداکارہ دیویکا رانی کی مدد سے فلمی دنیا میں آئے۔ دیویکا رانی بمبئی ٹاکیز کے مالک ہمانشو رائے کی بیوی تھیں۔ <br /> <br /> راج کپور : پشاورکاایک اور ستارہ <br /> &nbsp;نامور اداکار اور ہدایت کار راج کپور14 دسمبر 1924ء کو پشاور میں پیدا ہوئے۔فلموں میں &rsquo;کلیپ بوائے&lsquo; کے طور پر اپنی فنی زندگی کا آغاز کرنے والے راج کپور نے اگرچہ اپنے والد پرتھوی راج کپور کی فنی وراثت کے دباوٴ میں اپنا تخلیقی سفر طے کیا، لیکن اس سفر میں انھوں نے اپنا ایک خاص مقام پیدا کیا۔ &rdquo;آوارہ&ldquo;، &rdquo;میرا نام جوکر&ldquo;،&rdquo; شری چارسو بیس&ldquo;، &rdquo;جس دیش میں گنگا بہتی ہے&ldquo;اور&rdquo; سنگم&ldquo; جیسی سپر ہٹ فلموں کے ہیرو راج کپور نے&rdquo; برسات&ldquo; اور&rdquo; رام تیری گنگا میلی &ldquo;جیسی فلموں کی ہدایات بھی دیں ۔وہ چار دہائیوں تک فلم کے افق پر راج کرتے رہے۔ <br /> <br /> راج کپور کے حوالے سے یہ بات بھی نہایت دلچسپ ہے کہ بھارت کے علاوہ روس اور مشرق وسطیٰ تک دیکھے جانے والا یہ فنکار اگرچہ میٹرک کے امتحان میں فیل ہوگیا تھا لیکن آج ان کا نام &nbsp;بھارت کی یونیورسٹیوں میں &rsquo;سنیما&lsquo; کے موضوع پرہونے والی تحقیق کا ایک اہم موضوع کی حیثیت رکھتا ہے۔<br /> <br /> ونود کھنہ : پشاور کا تیسرا فنکار <br /> &nbsp;بھارت کی فلمی صنعت کے انتہائی مقبول ہیرو ونود کھنہ، جنھوں نے بھارتی فلمی صنعت پر کئی دہائیوں تک راج کیا تھا، اور جنھوں نے بہت سی فلمیں پروڈیوس کرنے کے علاوہ بھارتی سیاسی میدن میں ہلچل مچادی تھی،6 اکتوبر 1946ء کو پشاور میں پیدل ہوئے تھے۔ سنیل دت کی فلم من کا میت سے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کرنے والے ونود کھنہ نے جانباز، انسان، جنم کنڈلی، راجپوت، انصاف، میں تلسی تیرے آنگن کی اور بے شمار فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔ <br /> <br /> قادر خان: بلوچستان کے علاقے پشین کے پیدائشی <br /> &nbsp;بالی ووڈ کے انتہائی مقبول ولن اور کامیڈین قادر خان بھی ان بھارتی نامور اداکاروں میں شامل ہیں جو پاکستان میں پیدا ہوئے ۔ ان کی پیدائش 22 اکتوبر 1935 ءکو بلوچستان کے علاقے پشین میں ہوئی ۔ وہ ابتداء میں ممبئی کے ایک کالج میں پروفیسر بھی رہے۔ کالج ہی کے ایک ڈرامے میں کام کرتا دیکھ کر دلیپ کمار ان کی اداکاری سے اتنے متاثر ہوئے کہ انھوں نے قادر خان کو فلموں میں کام کرنے پر راضی کرلیا۔ اس بڑے فنکار نے بھارت کی لگ بھگ تین سو فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے، اور سو کے قریب فلموں کے ڈائیلاگ لکھے۔ ان کی فلم &rdquo;روٹی&ldquo; پر انھیں بھارتی وزیر اعظم مرار جی ڈیسائی کی جانب سے نقد ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔<br /> <br /> جہلم کے رہائشی سنیل دت<br /> &nbsp;ریڈیو شوز میں معروف شخصیات کے انٹرویو کر کے کامیابی کے زینے طے کرنے والے سنیل دت بھارتی فلموں کے انتہائی کامیاب ہیرو، سماجی کارکن اور سیاستدان ثابت ہوئے۔ انھوں نے بے شمار فلموں میں اپنی بیوی نرگس کے مقابل بھی ہیرو کا کردار ادا کیا۔ بر صغیر کا یہ نامور اداکار بھی پاکستان میں ہی پیدا ہوا تھا۔ سنیل دت نے 6 جون 1930ءکو پاکستان کے شہر جہلم میں آنکھ کھولی اور ان کا انتقال 74 سال کی عمر میں 25 مئی 2005ء کو ممبئی میں ہوا۔ <br /> <br /> مذکورہ بالا فنکاروں کے علاوہ اور بھی نامور بھارتی فنکار پاکستان میں پیدا ہوئے۔ ان میں فلم ڈائریکٹر شیکھر کپور، ماضی کی مقبول ترین فلم &rsquo;دیوار&lsquo; اور آج کے دور کی مقبول ترین فلم &rdquo;ویر زارا &ldquo;کے ڈائریکٹر یش چوپڑا ، برصغیر کے نامور گلوکار محمد رفیع، بھارت کی پہچان بننے والی شہرت یافتہ فلم &rdquo;مدر انڈیا&ldquo; اور مقبول ترین فلم&rdquo; سنگم &ldquo;میں بھرپور اداکاری کے جوہر دکھانے والے راجندر کمار، فلم &rdquo;روٹی کپڑا اور مکان&ldquo;، &rdquo;دو بدن&ldquo; اور بے شمار فلموں کے ہیرو منوج کمار، ہزاروں گیتوں کا تحفہ دینے والے موسیقار آنند بخشی، سینکڑوں گیتوں کو لفظوں کی مالا میں پرونے والے گیت نگار گلزار، اداکارہ بلراج ساہنی، &rdquo;لارنس آف عربیہ &ldquo;سے مقبولیت حاصل کرنے والے اداکار آئی ایس جوہر، فلم &rdquo;دی ڈارک نائٹ&ldquo; میں کام کرنے والی اداکارہ شرلین گروور، فلم پروڈیوسر رام آنند ساگر، اداکار اوم پرکاش اور بہت سے نام شامل ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 24 Nov 2011 17:40:57 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">134459438</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[وسیم اے صدیقی]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-11-24T17:40:57Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Artists_main.jpg" length="100228" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Artists_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Artists_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>نئی فلم ”راک اسٹار“ ریلیز ہوگئی ، رنبیر کپور اور اے آر رحمن ہٹ ہوگئے</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Bollywood-New-Movie-Rock-Star-23Nov11-134400168.html</link>
				<description>اس فلم کے مصنف اور ڈائریکٹر امتیاز علی ہیں۔ کاسٹ میں رنبیر کپور ، نر گس فخری ، ادیت راوٴ حیدری، کومک مشرا، پی یوش مشرا، شہناز پٹیل اورماضی کے مقبول فنکار اور حال ہی میں انتقال کرجانے والے شمی کپورشامل ہیں</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>ڈائریکٹر امتیاز علی اور رنبیر کپور ونر گس فخری کی اداکاری سے سجی نئی فلم &rdquo;راک اسٹار&ldquo;ریلیز ہوچکی ہے ۔ امتیاز علی ڈائریکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ اس فلم کے مصنف بھی ہیں جبکہ دیگر کاسٹ میں ادیت راوٴ حیدری، کومک مشرا، پی یوش مشرا، شہناز پٹیل اورماضی کے مقبول فنکار اور حال ہی میں انتقال کرجانے والے شمی کپورشامل ہیں۔ یہ شمی کپور کی آخری فلم ہے۔</p>
<p>امیتاز علی پہلے ہی اپنی پچھلی تین فلموں &rdquo;سوچا نہ تھا&ldquo;، &rdquo;جب وی میٹ&ldquo; اور&rdquo; لو آج کل&ldquo; میں اپنی صلاحیت اور اسکرپٹ پر پوری گرفت رکھنے والے ڈائریکٹر کی حیثیت سے بہت اچھی شناخت بناچکے ہیں۔ ان فلموں کا موضوع اور ٹریٹمنٹ بھلے ہی الگ ہو لیکن ان فلموں میں امتیاز نے محبت کے الگ الگ فلیور زکو پیش کرکے خود کو دوسروں سے منفرد ثابت کیا ہے۔</p>
<p>امتیاز علی کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ کہانی کے کرداروں کے عین مطابق کاسٹ چنتے ہیں ۔&rdquo;راک اسٹار &ldquo; میں بھی انہوں نے اسی اصول کو آگے بڑھایا ہے۔ ابتدا میں فلم کے پروڈیوسرسنیل ہیروئن کے کردار کے لئے کرینہ کپور کو ڈراپ کرکے دپیکا پڈکون کو لینا چاہتے تھے لیکن امیتاز علی نئی اداکارہ نرگس فخری کو لینے پر بضد رہے۔</p>
<p>فلم ریلیز ہونے کے بعد امیتاز کی اس چوائس پر سب کے فیصلے غلط ثابت ہوئے ۔ نرگس نے اپنی بھولی صورت اور شرارتی آنکھوں کے سہارے کشمیری لڑکی ہیر کے کردار کو نہایت جاذب نظر بنادیا ۔</p>
<p>فلم کی شوٹنگ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی، ریاست ہماچل پردیش ، کشمیر اور چیکوسلواکیہ میں کی گئی ہے ۔ یہی نکتہ اس فلم کا سب سے خوبصورت پہلو بن گیا ہے۔ امیتاز نے کہانی کی ڈیمانڈ پر سینکڑوں کی بھیڑ کے درمیان رنبیر کپور کے کئے سین شوٹ کئے ۔ یہی سین&rdquo; راک اسٹار&ldquo; کو ایسی فلم بناتے ہیں جو ینگسٹرز اور کچھ نیا دیکھنے والوں کی کسوٹی پر سوفیصدی کھرا اترتے ہیں۔</p>
<p>فلم کی کہانی کالج میں زیر تعلیم ایک نوجوان جناردن جاکھڑ(رنبیر کپور) کے گرد گھومتی ہے جس کا بچپن سے یہ خواب ہے کہ ایک دن وہ راک میوز ک کا شہنشاہ کہلائے۔ مڈل کلاس اورلمبی چوڑی فیملی میں رہنے والے سب سے چھوٹے جناردن کا یہی جنون اسے دوسروں سے ممتاز کردیتا ہے۔ بھولی صورت اور اپنے سادہ سے پہناوے کی وجہ سے اس کے دوست اکثر اس کے میوز ک کا مذاق اڑاتے ہیں ۔</p>
<p>جناردن کالج اور دوستوں میں جے جے اور جارڈن کے نام سے مشہور ہے ۔ ہر وقت گیٹار ہاتھوں میں لئے جے جے کو جہاں بھی موقع ملتا ہے وہیں اپنے میوزک سے دوسروں کا دل جیتنے کی کوشش کرتا ہے۔</p>
<p>اسی دوران کالج کی سب سے خوبصورت لڑکی ہیر (نرگس فخری) سے اس کی ملاقات ہوجاتی ہے ۔ شروع میں دونوں میں ایک دوسرے میں نونک جھونک ہوتی ہے مگر پھر ہیر اسے چاہنے لگتی ہے لیکن دو ماہ بعد ہی اس کی شادی کرکے چیکوسلواکیہ بھیج دیا جاتا ہے۔ بس یہیں سے کہانی ایک نیا موڑ لیتی ہے۔</p>
<p>رنبیر کپور اپنے کردار میں خوب جچے ہیں ۔ شاید یہ ان کی اب تک کی سب سے خوب صورت اداکاری والی فلم ہے ۔ سیدھے سادے جناردن سے لاکھوں افراد کے پسندیدہ&rdquo; راک اسٹار&ldquo; بننے تک کے رول میں رنبیر نے بہت محنت کی ہے ۔ نرگس انٹرول کے بعد اوور ایکٹنگ کا شکار نظر آتی ہیں۔ فلم کے کئی مناظر میں تو وہ محض شوپیس بنی نظر آتی ہیں۔</p>
<p>اے آر رحمن کی موسیقی اسکرپٹ اور فلم کے ماحول پر سو فیصدی فٹ بیٹھتی ہے۔ راک میوزک کے دیوانے ینگسٹرز کو رحمن کا میوزک اور موہت چوہان کی آواز جھومنے پر مجبور کردیتے ہیں ۔ فلم کے دو گانے &rdquo;ساڈا حق&ldquo; اور&rdquo; ڈنگ ڈنگ&ldquo; پہلے ہی میوزک چارٹ پر سرفہرست ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 23 Nov 2011 17:07:51 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">134400168</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-11-23T17:07:51Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/RockStar_main.jpg" length="135000" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/RockStar_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/RockStar_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>بالی وڈ  کے سدا بہار بوڑھے ہیرو</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Bollywood-Ever-Green-Heroes-22Nov11-134333083.html</link>
				<description>کسی بھی فلمی ہیرو کا خیال آتے ہی ذہن میں اس کی عمر کاعمومی تاثر 25یا 26 سال سے زیادہ کا نہیں ابھرتا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس وقت بالی ووڈ کے جتنے بھی ہیروہیں وہ ’فورٹی پلس ‘ہیں</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>کچھ ہی سال پہلے کی بات ہے شاہ رخ خان ، رانی مکھرجی اور کاجول پر پکچرائز ہونے والا ایک گانا بھارت اور پاکستان کے ہر گھر میں دن رات بجا کرتا تھا ۔ گانے کے بو ل تھے &rdquo;تم پاس آئے ،یوں مسکرائے تم نے &nbsp;نہ جانے کیا سپنے دکھائے، ۔۔۔!! گانے کا تھیم ہی یہ ہے کہ &rdquo;جواں سال &ldquo;لڑکااور لڑکی ایک دوسرے کے ساتھ پیار کا اظہار کررہے ہیں۔۔مگر اسکرین سے ذراہٹ کر سوچئے ۔۔ کیا واقعی شاہ رخ خان اتنے ہی &rdquo;جواں سال&ldquo; ہیں کہ انہیں اس عمر میں &rdquo;کچھ کچھ &ldquo;ہونے کی &rsquo;شکایت &lsquo; ہو !!</p>
<p>دوسری جانب سلمان خان نے فلم &rdquo; دبنگ &ldquo; ایک گانا بہت دبنگ انداز میں گایا ہے &rdquo;تیرے مست مست دو نین، میرے دل کا لے گئے چین ۔۔۔&ldquo;سلمان خان 45 سال کے پیٹے میں ہیں ، کیا واقعی اس عمر میں بھی کسی کے مست مست نین ، دل کا چین اڑا سکتے ہیں!!۔۔حقیقت میں کچھ ہویا نہ ہو بالی ووڈ فلموں میں تو یہ لازمی سا ہے۔ <br /> <br />کسی بھی فلمی ہیرو کا خیال آتے ہی ذہن میں اس کی عمر کاعمومی تاثر 25یا 26 سال سے زیادہ کا نہیں ابھرتا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس وقت بالی ووڈ کے جتنے بھی ہیروہیں وہ &rsquo;فوٹی پلس &lsquo;ہیں یعنی ان کی عمر 40 اور50سال کے درمیان ہے ۔بے شک ان کی بدولت فلموں نے کروڑوں اور اربوں کا بزنس کیا ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج کے کامیاب ترین فلمی ہیروز کی عمر ڈھل گئی ہے اوروہ &rsquo;بوڑھے&lsquo; ہونے لگے ہیں۔ <br /> <br />اس فہرست میں &rsquo;خان ہیروز&lsquo;کا نمبر سب سے پہلے آتا ہے جو 1990ء کے عشرے میں آئے لیکن آج 20 سال کا وقفہ گزرجانے کے باوجود انہیں نہ صرف بطور ہیروز کاسٹ کیا جارہا ہے بلکہ ان کی فلمیں آج بھی سب سے زیادہ بزنس کررہی ہیں۔ ان کی معاوضہ بھی اصل نوجوان ہیروز سے کہیں زیادہ ہے جبکہ میڈیا بھی آج تک انہی کو سب سے زیادہ کوریج دیتا ہے ۔<br /> <br />سلمان خان 45سال کے ہوگئے لیکن &rdquo; وانٹیڈ&ldquo;، &rdquo; دبنگ &ldquo;، &rdquo;ریڈی&ldquo;اور &rdquo;باڈی گارڈ&ldquo;کی زبردست کامیابی نے ثابت کیا کہ آج بھی انہی کی مارکیٹ سب سے&rsquo; ہائی&lsquo; ہے حالانکہ ان کے بال گرنے لگے ہیں اور وہ حال ہی میں امریکا سے سرجری کراکر واپس آئے ہیں ۔<br /> <br />یہی کچھ شاہ رخ خان کے ساتھ ہے۔ انہیں کمر کی تکلیف ہے لیکن پچھلے مہینے ہی میں ان کی کروڑوں روپے کی لاگت سے بنی فلم&rdquo; را۔ون&ldquo; ریلیز ہوئی ہے جس میں وہ بطور سپر ہیرو نظر آئے ہیں ۔ فرحان اختر کی فلم &rdquo;ڈان ٹو &ldquo;بھی عنقریب ریلیز ہونے والی ہے اور اس کے ہیرو بھی شاہ رخ خان ہی ہیں حالانکہ ڈھلتی ہوئی عمر کے آثار اب شاہ رخ کے چہرے پر نمایاں ہونے لگے ہیں۔ <br /> <br />ان دونوں سے ذرا نظر ہٹاکر عامر خان اور سیف علی خان کی طرف دیکھیں تو یہ بھی 40 کو کراس کرچکے ہیں۔ اجے دیوگن &rdquo;سنگھم &ldquo; میں کسی نو عمر لڑکے کی طرح ہیروئن کی ساتھ گانے گاتے نظر آتے ہیں حالانکہ وہ شادی شدہ اور بچے والے ہیں اور عمر کی کم و بیش اتنی ہی بہاریں دیکھ چکے ہیں جتنی عامر خان یا سیف علی خان نے دیکھی ہیں۔ <br /> <br />بالی ووڈ کے ہی دو ہیروز ایسے بھی ہیں جوعمر کی پچاس سے زیادہ بہاریں دیکھ چکے ہیں۔ 51 سالہ انیل کپور اور سنجے دت۔لیکن بڑی عمر کے باوجود آج بھی ان دونوں کو ہیروز کے روپ میں دیکھنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے ۔ &rdquo;ڈبل ڈھمال&ldquo; اور&rdquo; چتور سنگھ ٹو اسٹار&ldquo; سنجے دت کی حالیہ فلمیں ہیں جبکہ انیل کپور ہالی ووڈ فلموں کے بعد اب بالی ووڈ فلموں کارخ کررہے ہیں۔ ان کا فلموں میں ہیروز کے طور پر کام کرنے کا شوق ابھی بھی ماندھ نہیں پڑا ہے۔ <br /> <br />اب ذکر کچھ بوڑھی ہوتی ہیروئنز کا۔ مادھوری ڈکشٹ 44اور سری دیوی 48سال کے پیٹے میں ہیں۔ یہ دونوں ناصرف فلموں میں واپسی کا ارادہ کرچکی ہیں بلکہ نئی فلمیں بھی سائن کرچکی ہیں۔ یہ وہ اداکارائیں ہیں جوکئی کئی سال پہلے شادی کرکے اپنی اپنی دنیا میں مگن ہوگئی تھیں اور فلموں سے کنارہ کش ہوگئی تھیں لیکن اب ایک بار پھر ان کی واپسی ہورہی ہے۔ <br /> <br />ان دونوں ہیروئز نے 1980ءاور 1990ءکے عشرے میں فلمی دنیا میں قدم رکھا تھا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ سری دیوی فلم &rdquo;انگلش ونگلش &ldquo;میں لیڈنگ رولز کے لئے اپنا وزن تک کم کرچکی ہیں ۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 22 Nov 2011 17:48:42 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">134333083</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[وسیم اے صدیقی]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-11-22T17:48:42Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/oldHeroes_main.jpg" length="131108" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/oldHeroes_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/oldHeroes_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>وینا ملک کو پہلی تھری ڈی ہارر فلم مل گئی</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Veena-Malik-3D-Movie-21Nov11-134257398.html</link>
				<description>وینا کا کہنا تھا کہ ان کی یہ فلم اصلی تھری ڈی ہوگی، دوسری تھری ڈی فلموں کی طرح نہیں کہ اس کے ٹو ڈی فارمیٹ کو تھری ڈی میں تبدیل کردیا جائے لہذا ایک ایک سین میں کئی کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>بھارت میں موجود پاکستانی اداکارہ وینا ملک کو پہلی تھری ڈی ہارر فلم مل گئی ہے۔فلم کی شوٹنگ بھی شروع ہوگئی ہے جو جنوبی بھارت کے ایک جنگل میں جاری ہے۔ سیکورٹی وجوہات کے باعث شوٹنگ کا اصل مقام خفیہ رکھا جارہا ہے۔ وینا ملک کا کہنا ہے کہ انہیں ایڈونچر کے سبب شوٹنگ میں بہت مزہ آرہا ہے۔</p>
<p>بھارتی جریدے &rsquo;انڈیا ٹو ڈے&lsquo; کی ایک رپورٹ کے مطابق وینا ملک نے اپنی نئی فلم سے متعلق کچھ تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ تھری ڈی ہارر مووی ہے جس کے فلمساز ہیمنت مدھوکر ہیں جو زیادہ تر تیلگو فلمیں بنانے کے حوالے سے مشہور ہیں۔</p>
<p>وینا کا کہنا ہے کہ ابھی فلم کا نام شو نہیں کیا جارہا ۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ فلم کی شوٹنگ ایسی جگہ ہورہی ہیں جہاں نہ لگژری ہوٹلز ہیں اور نہ ہی ہوٹل جیسا آرام۔ دراصل یہ ایک جنگل ہے ۔ وینا کا کہنا تھا کہ ان کی یہ فلم اصل میں تھری ڈی ہوگی، دوسری تھری ڈی فلموں کی طرح نہیں کہ اس کے ٹو ڈی فارمیٹ کو تھری ڈی میں تبدیل کردیا جائے لہذا ایک ایک سین میں کئی کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فلم میں ان کا کردار&rsquo; ہارر&lsquo; ہونے کے ساتھ ساتھ&rsquo; تھرلر&lsquo; بھی ہے۔</p>
<p>اطلاعات کے مطابق وینا نے فلم کے تمام اسٹنٹس خود شوٹ کرائے ہیں اور کسی ڈپلیکیٹ کا سہارا نہیں لیا۔ وینا کا کہنا ہے کہ انہیں پہلی مرتبہ اس طرح کا کام کرنے کا موقع ملا ہے لہذا انہیں بہت ہی لطف آرہا ہے۔</p>
<p>تھری ڈی فلم کے علاوہ وینا ان دنوں ایک ٹی وی رئیلٹی شو &rdquo;سوئمور&ldquo; میں بھی کام کررہی ہیں جبکہ اس سے قبل وہ&rdquo; بگ باس &ldquo;کے چوتھے سیشن میں کام کرکے خوب نام کماچکی ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Mon, 21 Nov 2011 19:10:47 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">134257398</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-11-21T19:10:47Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/veenamalik_main1.jpg" length="72778" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/veenamalik_main1.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/veenamalik_teaser1.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>جونیئر بچن کے گھر’ جونیئر ایشوریہ‘ کا جنم، مقامی میڈیا کے لئے اسپیشل ایونٹ </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Bachan-Baby-Girl-16Nov11-133966038.html</link>
				<description>بچی کا جنم ممبئی کے سیون ہلز اسپتال میں بدھ کی صبح تقریباً پونے دس بجے ہوا۔ جنم کی اطلاع سب سے پہلے بچی کے دادا یعنی امیتابھ بچن نے سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ ٹوئیٹر کے ذریعے دی</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>جس کا انتظار تھا وہ شاہکار آگیا۔ جی ہاں بالی ووڈ اداکارہ ایشوریہ رائے اور ابھیشیک بچن کے یہاں ایک نئی اور معصوم بچی نے جنم لے لیا ہے۔ یہ وہی جنم ہے جس کے چرچے پہلی مرتبہ رواں سال جون میں سنائی دیئے تھے۔ پھر اس کے بعد تو گویا بہت سے حوالے اس خبر کے ساتھ جڑتے چلے گئے۔ <br /> بچی کا جنم ممبئی کے سیون ہلز اسپتال میں بدھ کی صبح تقریباً پونے دس بجے ہوا۔ جنم کی اطلاع سب سے پہلے بچی کے دادا یعنی امیتابھ بچن نے سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ ٹوئیٹر کے ذریعے دی۔ اس کے فوری بعد ابھیشیک بچن نے بھی ٹوئٹ کیا اور یہ خوشخبری لوگوں سے شیئر کی۔ <br /> موخر بھارتی جریدے &rdquo;انڈیا ٹوڈے &ldquo; کی ایک رپورٹ کے مطابق ایشوریہ کی عمر اس وقت 38سال ہے اور وہ ممبئی کے علاقے اندھیری ایسٹ میں واقع انتہائی ماڈرن اور لگژری سیون ہلز اسپتال میں داخل ہیں۔ان کا کمرہ عمارت کی پانچویں منزل پر ہے۔ یہاں تین کمرے بک ہیں۔ ایک میں ایشوریہ، دوسرے میں بچن خاندان کے افراد جبکہ تیسرے کمرے میں ایشوریہ رائے کے گھروالے مقیم ہیں۔ اس پورے فلور پر سوائے بچن اور رائے فیملی کے کسی کو جانے کی اجازت نہیں۔ <br /> ایشوریہ کو ہفتے کی شام اسپتال منتقل کیا گیا تھا اور تبھی سے اسپتال میں انتہائی سخت سیکورٹی ہے۔ ایشوریہ کی نند شریما نے پچھلے سال اسی اسپتال میں بیٹے کو جنم دیا تھا۔ ایشوریہ معمول کے چیک اپس کی غرض سے اسپتال آتی جاتی رہی ہیں ۔ ہفتے کی شام کووہ اپنے شوہر اور ایک اور نند شویتا نندہ کے ہمراہ اسپتال آئی تھیں۔ <br /> امیتابھ نے گزشتہ روز بھی ٹوئٹ کیا تھا کہ نئے مہمان کی آمد میں ابھی ایک اور دن لگے گا۔اپنے پیغام میں انہوں نے یہ بھی لکھا کہ اس وقت پورا خاندان ان کے قریب موجود اور خوشیوں سے سرشار ہے ، ہر طرف خوب چہل پہل ہے۔ <br /> ایشوریہ اور ابھیشیک کی شادی سن 2007ء میں ہوئی تھی ۔ پیدائش میں تاخیر کے سبب بچن خاندان کو ایشوریہ کی صحت سے متعلق کچھ افواہوں کا بھی سامنا کرنا پڑاجبکہ کچھ من گھٹ فسانے بھی سننے کو ملے۔ اسی دوران یہ خبر بھی آئی کہ امیتابھ نے بچے کی پیدائش سے متعلق میڈیا پر پابندی لگانے کی درخواست بھی دائر کی ہے تاہم امیتابھ نے اسے غلط قرار دیا۔ <br /> دوسری جانب جیسے ہی ایشوریہ کے ماں بننے کی خبر آئی بھارتی ٹی وی چینلز کے ساتھ ساتھ پاکستانی چینلز پربھی اسے بریکنگ نیوز کے طور پر پیش کیا گیا جبکہ میڈیا پر دن بھر یہ خبر مسلسل گردش کرتی رہی۔ دونوں ممالک کے میڈیا کے لئے خوشی کا یہ لمحہ اسپیشل ایونٹ بنارہا۔ <br /> ایشوریہ کے ماں بننے سے متعلق متعدد خبروں کے ساتھ ساتھ کچھ دلچسپ پہلو بھی سامنے آتے رہے ۔ بیٹا ہوگا یا بیٹی اس حوالے سے بھی بہت زیادہ خبریں اور افواہیں گردش کررہی تھیں۔ بھارت سے موصولہ بعض اطلاعات میں یہاں تک کہا گیا کہ بیٹے یا بیٹی کی پیدائش پر کروڑوں روپے کا سٹہ لگا ہوا تھا اور جوں جوں وقت گزر رہا تھا سٹے کی رقم میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ <br /> بچے کی جنس کے ساتھ ساتھ تاریخ پیدائش کے حوالے سے بھی بڑے پیمانے پر سٹہ کھیلے جانے کی اطلاعات تھیں ۔ زیادہ تر افراد نے ایشوریہ کے یہاں گیارہ گیارہ گیارہ یعنی گیارہ نومبر دوہزار گیارہ کو بچے کی پیدائش پر سٹہ کھیلا ۔ گیارہ نومبر کے بعد سب سے زیادہ سٹہ 14نومبر کی تاریخ پر لگا تاہم آج یہ تمام تاریخیں غلط ثابت ہوگئیں۔<br /> <br /></p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 16 Nov 2011 16:44:12 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">133966038</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-11-16T16:44:12Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/AshAbhi_main.jpg" length="155173" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AshAbhi_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AshAbhi_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>ودیا بالن کی آنے والی فلم ’ڈرٹی پکچر‘ ریلیز سے پہلے ہی مشہور ہوگئی</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Bollywood-Dirty-Picture-14Nov11-133813608.html</link>
				<description>“عشقیہ“ ودیا کی فنی زندگی میں زبردست تبدیلی کا سبب بنی۔ اب ان کی نئی فلم ”ڈرٹی پکچر“ کے بارے میں بھی یہ اندازہ لگایا جارہا ہے کہ یہ بھی ودیا کو نئی زندگی دے کرجائے گی</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>بڑی کاسٹ اور بڑے بجٹ کی فلم &rdquo;را۔ون &ldquo;کی ریلیز کے بعد اب بالی ووڈ میں سب سے زیادہ جس فلم کے چرچے ہیں وہ ہے &rdquo;ڈرٹی پکچر&lsquo;۔ فلم کی شہرت کا سبب اداکارہ ودیا بالن کا&rsquo; بولڈ گیٹ اپ&lsquo; ہے۔فلم کے ٹریلر اور ویڈیو کو دیکھ کر لگتا ہے کہ شاید فلم کا نام شوٹنگ مکمل ہونے کے بعد ودیا کی تصویروں کو دیکھ کر رکھا گیا ہے۔</p>
<p>ان تصاویر نے بھارت میں ایک جانب تو خوب ہلچل مچائی ہوئی ہے تو دوسری جانب یہی تصاویر فلم کی زبردست پروموشن کاسبب بنی ہوئی ہیں۔ بھارتی میڈیا سے آنے والی خبروں کے مطابق فلمی پنڈتوں کا اندازہ ہے کہ&rdquo; فلم ریلیزہوتے ہی سب کے چھکے چھڑا دے گی&ldquo;۔ حالانکہ جس وقت &rdquo;ڈرٹی پکچر&ldquo; ریلیز ہوگی ، تین اور مشہور فلمیں &rdquo;راک اسٹار&ldquo;، &rdquo;دیسی بائز&ldquo;اور &rdquo; ڈان ٹو&ldquo; اس کے مقابلے کے لئے میدان میں ہوں گی۔ یوں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ان چاروں فلموں کا آپس میں سخت مقابلہ متوقع ہے۔</p>
<p>ملن لوتھریا کے ڈائریکشن میں بنی &rdquo;ڈرٹی پکچر&ldquo; کی پروڈیوسرز ایکتا کپور اور شوبھا کپور ہیں ، اس لئے بھی فلم سے زیادہ توقعات وابستہ ہیں۔ ادھر ودیابالن کے ساتھ ساتھ نصیر الدین شاہ ، تشار کپور اور عمران ہاشمی بھی فلم میں اداکاری کے جوہر دکھاتے نظر آئیں گے۔</p>
<p>&rdquo;ڈرٹی پکچر&ldquo; کی &rsquo;قبل از ریلیز&lsquo; شہرت کا ایک اور سبب یہ بھی ہے کہ فلم کی کہانی ساوٴتھ انڈین اداکارہ سلک اسمیتا کے ساتھ پیش آئے حقیقی واقعات کے گر د گھومتی ہے۔ سلک اسمیتا اپنے منفرد لائف اسٹائل اور لباس کے سبب اپنی زندگی میں خاصی متنازع رہیں تاہم 1996ء میں انہوں نے خود کش کرلی تھی ۔ انہوں نے یہ انتہائی قدم کیوں اٹھایا، اس بارے میں آج تک کوئی کچھ نہیں جانتا ۔ اس پر اسراریت نے انہیں اور بھی زیادہ مشہور کردیا ہے۔</p>
<p>&rdquo;ڈرٹی پکچر &ldquo;2دسمبر کور یلیز ہونے جارہی ہے۔ ودیا کے بقول اس فلم میں انہوں نے کافی محنت کی ہے۔ ان کی پہلی فلم&rdquo; پری نیتا&ldquo; تھی جس میں ودیا نے سادہ مزاج والی لڑکی کا رول اداکیا تھا ۔ یہ سنجیدہ کریکٹر تھا ۔ اس کے بعد ان کی جو بھی فلم ریلیزہوئی اس میں ان کا کردار سنجیدہ ہی رہامثلا &rdquo;پا&ldquo; اور &rdquo;نوون کلڈ جیسیکا&ldquo;۔۔مگر پھر&rdquo; عشقیہ&ldquo; سے انہوں نے یہ ٹرینڈ بدلا۔</p>
<p>&rdquo;عشقیہ&ldquo; ودیا کی فنی زندگی میں زبردست تبدیلی کا سبب بنی۔ اب ان کی نئی فلم &rdquo;ڈرٹی پکچر&ldquo; کے بارے میں بھی یہ اندازہ لگایا جارہا ہے کہ یہ بھی ودیا کو نئی زندگی دے کرجائے گی۔فلم ڈسٹری بیوٹرز اپنے تجربے کی بنیاد پر پیشگوئی کررہے ہیں کہ فلم کو اچھا خاصا بزنس ملے گا۔۔۔ لیکن اس کے باوجود فلم کی قسمت کا فیصلہ 2دسمبر کو ہی ہوگا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Mon, 14 Nov 2011 17:17:17 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">133813608</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-11-14T17:17:17Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/VidyaInDartyPicture_main.jpg" length="81674" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/VidyaInDartyPicture_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/VidyaInDartyPicture_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>بچن خاندان میں ولادت، میڈیا کے لئے حیرت انگیز ضابطہ اخلاق جاری</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Aishwaria-Child-Birth-Expexted-Soon-09Nov11-133541143.html</link>
				<description>بچن خاندان کے چاہنے والوں میں اس وقت سب سے بڑی خوشی کی خبر یہی ہے کہ بہت جلد بچن خاندان میں ایک نئے فرد کا اضافہ ہونے والا ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>بالی ووڈ فلم انڈسڑی کے شوقین اور خاص کر ایشوریہ رائے کے چاہنے والوں کی دیوانگی کا ان دنوں یہ عالم ہے کہ کسی بھی وقت خوشی کے شادیانے بجانے کو بیتاب ہیں ۔ان کی نظر میں اس وقت سب سے بڑی خوشی کی خبر یہی ہے کہ بہت جلد بچن خاندان میں ایک نئے فرد کا اضافہ ہونے والا ہے۔ <br /><br /> اسے بچن خاندان کی خوش نصیبی ہی کہیے کہ ان کی زندگی میں جو بھی خوشی کا لمحہ آتا ہے وہ &rsquo;ایک نیا ریکارڈ &lsquo;بناجاتا ہے۔ اب اس حوالے کو ہی دیکھ لیں کہ جب سے ایشوریہ رائے کے &rdquo;پیر بھاری &ldquo;ہونے کی اطلاعات آئی ہیں جانے کتنے&rdquo; عبداللہ بے گانوں کی شادی میں دیوانے&ldquo; ہوگئے ہیں۔ اور انہوں نے &nbsp;ہر راز کو خبر اورہر خبر کو راز بنادیا ہے۔ مثلاًایشوریہ رائے نے یہ &nbsp;دیوالی کیسے منائی، وہ کیا خوراک لیتی ہیں؟ انہوں نے کون سے اسپتال میں اپنا نادرج کرایا ہے، ولادت کب ہوگی وغیرہ وغیرہ۔۔گویا کوئی خبر ایسی نہیں جو زبان زد عام نہ ہوئی ہو۔</p>
<p><strong>&rsquo;بچن بے بی&lsquo; کی پیدائش پرحیرت انگیز ضابطہ اخلاق کا اجرا</strong><br /> لوگوں کی اس &rdquo;موضوع &ldquo;میں ابھی سے حد درجہ دلچسپی کو دیکھتے ہوئے یہ خوف پیدا ہوگیا تھا کہ جس دن بچن فیملی میں نئے فرد کا اضافہ ہوگا جانے اس روز میڈیا خاص طورپر الیکٹرانک میڈیا کہیں تمام حدود و قیود ہی نہ پھلانگ جائے۔ &nbsp;مجبوراًٹی وی چینلز کی تنظیم براڈ کاسٹ ایڈیٹرز ایسوسی ایشن یعنی بی ای اے کوحیرت انگیز ضابطہ اخلاق جاری کرنا پڑا۔ <br /><br />برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اگرچہ اس ضابطہ اخلاق کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے تاہم تنظیم کے ارکان تنظیم کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں لہذا اس حوالے سے باہمی رضامندی کے تحت تمام ملکی ٹی وی چینلز اس ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل کرنے کے پابند ہوں گے۔ <br /><br /> دس نکات پر مشتمل ضابطہ اخلاق کے مطابق بچے کی پیدائش کی خبرکو بطور بریکنگ نیوز پیش نہیں کیا جاسکے گا نہ ہی اس پر&rdquo; تجزیے&ldquo;کئے جاسکیں گے۔ پیدائش سے قبل یا بعداز پیدائش ٹی وی چینل ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں اعلیٰ صحافتی اقدار کو ملحوظ خاطر رکھیں گے ۔پیدائش کی خبر اسپتال کے مصدقہ ذرائع یا بچن خاندان کے کسی قریبی فرد سے کنفرم کرنے کے بعد ہی آن آئیر کی جاسکے گی۔ اسے بطور ٹکر بھی نہیں چلایاجاسکے گا۔ <br /><br /> ضابطہ اخلاق میں ٹی وی چینلز کو اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ کوئی بھی چینل اسپتال یا بگ بی کے گھر کے باہر کوئی او بی وین کھڑا نہیں کرسکے گا۔ ٹی وی چینلز صرف پریس کانفرنس میں مدعو کئے جانے کے بعد ہی خبر آن آئیر کرسکیں گے۔ ہونے والے بچے کی تصویر بھی خاندانی ذرائع سے حاصل کرنے کے بعد ہی استعمال میں لائے جاسکے گی، اسے اپنے طور پر حاصل کرنے کے لئے کسی بھی قسم کی غیر اخلاقی دوڑ نہیں لگائی جاسکتی۔ <br /><br />ضابطہ اخلاق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بچے کی قسمت کے حوالے سے بھی کوئی پیش گوئی نہیں کی جاسکے گی ۔ <br /><br /> اس ضابطہ اخلاق پر کس حد تک عمل ہوگا یہ تو خیر آنے والا وقت ہی بتا سکے گا تاہم اس ضابطے کو جاری کرنے کی اصل وجوہات وہی ہیں جو اوپر بیان کی گئی ہیں یعنی لوگوں کا تجسس اور اشتیاق۔ پاکستان سے شائع ہونے والا روز نامہ &rdquo;جنگ&ldquo; بھارتی میڈیا کے حوالے سے یہ خبر بھی دے چکا ہے کہ بچے کی پیدائش کے لئے بچن خاندان کی طرف سے ایک انتہائی اعلیٰ اور جدید ترین اسپتال میں ایک ڈی لکس وی آئی پی کمرہ مختص کیا گیا ہے جو 10 سے 15 نومبر تک کے لئے بک ہوا ہے ۔<br /><br /> اخبار کے مطابق بھارتی میڈیا رپورٹس میں تو ہونے والے بچے کی متوقع تاریخیں تک اعلان کردی گئی ہیں ۔ ان رپورٹس کے مطابق ولادت کی متوقع تاریخ 11/11/11 ہوسکتی ہے ۔&nbsp; جب کہ دوسری جانب &nbsp;خود امیتابھ بچن میڈیا سے درخواست کرچکے ہیں کہ وہ ولادت کے سلسلے میں قیاس آرائیوں سے گریز کرے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 9 Nov 2011 17:11:58 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">133541143</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[وسیم اے صدیقی]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-11-09T17:11:58Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Ashwarya_main.jpg" length="129427" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Ashwarya_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Ashwarya_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>شاہ رخ خان کا ایک پرستار جس نے اپنے گھر کو ’شاہ رخ خان کا صنم کدہ‘ بنالیا</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Shahrukh-Khan-Fan-04Nov11-133251478.html</link>
				<description>بھارتی شہر لکھنو کے رہائشی 38 سالہ وشال سنگھ شاہ رخ سے اس قدر محبت کرتے ہیں کہ لفظ ’محبت‘ بھی ان کی بے پناہ محبت کے آگے ”محدود“ محسوس ہوتا ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>کوئی پرستار اپنے پسندیدہ فنکار سے کس حد تک محبت کرسکتا ہے، اس کا کوئی پیمانہ ابھی تک ایجاد نہیں ہوا ۔ بھارتی شہر لکھنو کے رہائشی 38 سالہ وشال سنگھ کے پاس بھی اپنے پسندیدہ ترین فنکار شاہ رخ خان سے اپنی محبت اور لگن کو ناپنے اور اسے ظاہر کرنے کا کوئی پیمانہ نہیں ہے۔ وہ شاہ رخ سے اس قدر محبت کرتے ہیں کہ لفظ&rsquo; محبت&lsquo;بھی ان کی بے پناہ محبت کے آگے&rdquo; محدود&ldquo; محسوس ہوتا ہے۔ حرف عام میں اس محبت کو &rdquo;بلاکی دیوانگی&ldquo; ہی کہا جاسکتا ہے۔</p>
<p>برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے وشال کی شاہ رخ خان سے دیوانگی کی حد تک محبت کے مختلف پہلووٴں کو اپنی ایک خاص رپورٹ میں بیان کیا ہے جس کے مطابق وشال پیشے کے اعتبار سے تاجر ہیں اور ان کا پسندیدہ مشغلہ فلمیں ۔۔۔اور وہ بھی خاص کر شاہ رخ خان کی فلمیں دیکھنا ہے ۔</p>
<p>وہ شاہ رخ خان کی &rsquo;پوجا &lsquo;کرتے ہیں ، ان کی محبت میں وشال نے اپنا گھر صنم کدہ بنایا ہوا ہے۔ گھر کا کوئی کونہ ایسا نہیں جہاں شاہ رخ کی تصویر نہ لگی ہو۔ انہوں نے گھر کی تمام دیواروں پر انچ ،انچ کے فاصلے پر شاہ رخ خان کی تصویریں پلاسٹر کرائی ہوئی ہیں۔ دیواروں پر ٹائلز سے بڑا بڑا شاہ رخ خان کا نام لکھوایا گیا ہے۔</p>
<p>کمروں میں بطور انیٹرئیر شاہ رخ کے بڑے بڑے پوسٹرز، کٹ آوٴٹس اور ان کی مورتیاں بھی سجی ہوئی ہیں۔ اس کہانی کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ وشال کی جس روز شادی تھی ، اس سے ایک رات قبل وہ&nbsp; 1300 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ممبئی میں شاہ رخ خان کے گھر کے باہر ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے بے تاب کھڑے تھے۔</p>
<p>یہ تو کچھ بھی نہیں ۔ وشال کا کہنا تو یہاں تک ہے کہ وہ اپنے پیارے فنکار کے لئے کچھ بھی کرگزرنے پر تیار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وشال اپنے گھر کوشاہ رخ خان کی درگاہ کہتے ہیں۔اس گھر میں موجود تکیوں تک پر شاہ رخ خان کی تصویر والے غلاف آپ کو نظرا ٓئیں گے۔</p>
<p>دیوانگی کی انتہا تو یہ ہے کہ انہوں نے اپنا نام تک تبدیل کرکے &rdquo; وشارخ خان&ldquo; رکھ لیا ہے ۔ چلئے یہاں تک تو ٹھیک تھا مگر دیوانگی کے اس درجہ کو آپ کیا کہیں گے کہ وشال نے اپنے بیٹے کا نام بھی وہی رکھا ہے جو شاہ رخ خان کے بیٹے کا نام ہے یعنی آریان۔ جبکہ وشال نے اپنی بیٹی کا نام &rdquo;سمرن &ldquo;اس لئے رکھا ہے کہ شاہ رخ خان کی سپر ہٹ فلم &rdquo; دل والے دلہنیا لے جائیں گے&ldquo; کی ہیروئن کاجول کا نام فلم میں &rsquo;سمرن&lsquo; ہی تھا۔</p>
<p>وشال کی اس دیوانگی پر ان کے اہل خانہ کیا سوچتے ہیں، اس سوال پر وشال کا کہنا ہے کہ پہلے پہل گھروالے یہ سب دیکھ کر پریشان ہوتے تھے مگر بعد میں انہیں بھی احساس ہوگیا کہ شاہ رخ سے میرا پیار کبھی ختم نہیں ہوسکتا لہذا انہوں نے اس صورتحال سے سمجھوتا کرلیا ہے۔</p>
<p>وشال اپنی بیوی رچی سنگھ کو بھی لکھنو سے ممبئی لاکر شاہ رخ خان کا دیدار کراچکے ہیں۔ شاہ رخ اکثر اپنے گھر آنے والے پرستاروں سے ملتے رہتے ہیں ،وہ وشال سے ان کے گھر آنے کا وعدہ بھی کرچکے ہیں مگر ابھی تک یہ وعدہ پورا نہیں ہوا۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے شاہ رخ خان کا 46 واں جنم دن تھا اور اس خوشی میں وشال نے بدھ کے روز ریلیز ہونے والی ان کی نئی فلم&rdquo; را۔ون &ldquo;دیکھی حالانکہ ایک ہفتے کے دوران وہ تین مرتبہ پہلے بھی یہ فلم دیکھ چکے تھے۔ وشال کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے چہیتے فنکار کی سالگرہ پر کیک کاٹا، ڈانس کیا اور چوتھی بار ان کی فلم &rdquo;را۔ون &ldquo;دیکھی اور خوب انجوائے کیا۔<br /><br />وشال سنگھ اور ان کی بیوی رچی سنگھ کے گھر، موبائل فون اور گاڑی پر شاہ  رخ خان کی تصویریں کیسی لگتی ہیں آپ بھی دیکھئے اس سلائیڈ شو میں۔</p>
<p>
<object id="slideshowXML720x525" width="720" height="525" data="http://media.voanews.com/designvideo/slideshowXML720x525.swf" type="application/x-shockwave-flash">
<param name="align" value="middle" />
<param name="allowScriptAccess" value="always" />
<param name="FlashVars" value="xmlfile=http://www.voanews.com/templates/SlideshowPro.xml?contentid=133254003&amp;xmlfiletype=Default" />
<param name="allowFullScreen" value="true" />
<param name="quality" value="high" />
<param name="bgcolor" value="#ffffff" />
<param name="src" value="http://media.voanews.com/designvideo/slideshowXML720x525.swf" />
<param name="name" value="slideshowXML720x525" />
<param name="allowfullscreen" value="true" />
</object>
</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 4 Nov 2011 18:22:37 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">133251478</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[وسیم اے صدیقی]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-11-04T18:22:37Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Shah-Rukh-Khan-230X230.jpg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																																																		</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>بالی ووڈ کی حقیقی فنکارہ ہیما مالنی، اپنے پورے کیرئیر میں ہمیشہ' نمبر ون' رہیں</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Bollywood-Hema-Malini-03Nov11-133173273.html</link>
				<description>ہیما آج ساٹھ برس سے زیادہ کی ہیں لیکن اکثر لوگوں کو وہ پہلے سے زیادہ خوبصورت اور باوقار لگتی ہیں</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>ستر کی دہائی میں بالی ووڈ کو یکے بعد دیگرے ایسی کئی نوجوان فنکارائیں میسر آئیں جنہوں نے اپنے گلیمرس چہرے سے فلمی دنیا کو نئی سمتوں سے روشناس کرایا مثلاً ہیما مالنی، شرمیلا ٹیگور، ڈمپل کپاڈیا، ممتاز، زینت امان ، پروئن بابی وغیرہ۔</p>
<p>ان اداکاراؤں نےبالی ووڈ کوجس مقام پر پہنچایا وہ اپنے آپ میں ایک کارنامہ ہے۔ ان اداکاراوٴں نے پردہ سیمیں پر اپنی معصوم اداوٴں، فنِ مہارت اور خوبصورتی سے انگنت نا قابل فراموش کردار نبھائے۔ ہیما مالنی بھی انہی اداکاروں میں سے ایک ہیں ۔ ہیما نے 70ء اور 80 ء کی دہائیوں کے ہندی سنیما کو بام عروج پر پہنچایا۔</p>
<p>ہیما آج ساٹھ برس سے زیادہ کی ہیں لیکن اکثر لوگوں کو وہ پہلے سے زیادہ خوبصورت اور باوقار لگتی ہیں۔ ہیما بالی ووڈ کی پہلی اور شاید واحد ڈریم گرل ہیں۔ انہیں اپنی اداکارانہ صلاحیتوں اور خوب صورتی پر "پدما شری ایوارڈ" بھی مل چکا ہے۔</p>
<p>تعلیم یافتہ ہیما مالنی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے جدوجہد کے دور سے انتہائی عروج کے دور تک کبھی جسم کی نمائش کا سہارا نہیں لیا۔ آج بھی یہ بات کی جا سکتی ہے کہ ان کی کوئی ایک بھی تصویر یا ویڈیو معیار سے گری ہوئی پیش نہیں کی جاسکتی۔ ہیمااپنے پروقار ظاہری حسن کے ساتھ ساتھ اپنی بہترین اداکاری کے بل بوتے پر آگے بڑھی ہیں۔</p>
<p>ہیما مالنی وجنتی مالا کے بعددوسری تامل ہیروئن تھیں جنھوں نے بالی ووڈ میں خوب ہلچل مچائی۔ ہیما مالنی اکتوبر 1948ء میں آر چکرورتی کے گھر تامل خاندان" آئینگر" میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے پندرہ سال کی عمر میں پہلی مرتبہ فلم میں کام کیا، لیکن وہ فلم مکمل نہ ہوسکی ۔ فلم کے ڈائریکٹر سری دھر ہیما مالنی کے دبلے پتلے جسم کو کسی کردار میں نبھانے کا کوئی فیصلہ نہ کرسکے تھے ۔ آخر میں آکر اسی سبب انہوں نے فلم درمیان میں ہی روک دی۔ جبکہ، اس واقعے کے صرف چار سال بعد ہیما نے فلم &rsquo;سپنوں کا سوداگر&lsquo; میں لیجنڈری ہیرو راج کپور کے مقابل کام کر کے اپنے فن اور اپنے حسن کا وہ لوہا منوایا کہ دنیا عش عش کر اٹھی۔</p>
<p>یہ فلموں میں ہیما مالنی کا آغاز تھا جبکہ اگلی دو دہائیوں میں انہوں نے بڑے بڑے کردار ادا کر کے سب سے زیادہ پسند کی جانے والی اداکارہ کا اعزاز حاصل کرلیا۔ ہیما میں مختلف کرداروں کو نبھانے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ یہ خوبی کم اداکاروں میں ہوتی ہے۔</p>
<p>ہیما ان کرداروں کو بھی آسانی سے ادا کرنے کی حامی بھر لیا کرتی تھیں جن سے 1960ء کی دہائی کی ہیروئینں انکار کردیا کرتی تھیں، مثلاً 1971ء میں بننے والی فلم "انداز" میں انہوں نے ایک جوان سال بیوہ؛ 1971 ء میں فلم "لال پتھر" میں منفی کردار ادا کیا تھا حالانکہ اس سے پہلے اس دور کی ہیروئنیں ایسے کردار ادا کرنے سے منع کردیا کردیا کرتی تھیں۔</p>
<p>1972ء میں انھوں نے فلم &rdquo;سیتا اور گیتا&ldquo; میں سنجیو کمار اور دھرمیندر کے مقابل ڈبل رول ادا کر کے سب کو حیران کردیا۔ اس فلم میں اپنی خوبصورت اداکاری پرانھیں پہلا فلم فیئر بیسٹ ایکٹریس ایوارڈ ملا۔ اس کے بعد سے تووہ اپنے پورے کیریئر میں نمبر ون ہی رہیں۔</p>
<p>پھر وہ وقت بھی آیا جب بھارت کی نہایت بڑی اوربلاک بسٹر فلم &rsquo;شعلے&lsquo; ریلیز ہوئی۔ اس فلم نے نہ صرف اداکاروں کی زندگیوں کو بدل کر رکھ دیا بلکہ بھارتی سنیما کی بھی تاریخ بدل کر رکھ دی۔ اس فلم میں ہیما مالنی نے ایک تانگے والی &rsquo;بسنتی&lsquo; کا کردار اس خوبصورتی سے نبھایا کہ اس کے بعد ان کے پاس ایک کے بعد ایک 28 فلموں کی لائن لگ گئی۔ ان فلموں میں &rdquo;ڈریم گرل، چرس، نیا زمانہ، راجا جانی، دی برننگ ٹرین&ldquo;کے علاوہ بہت سی خوبصورت اور یادگار فلمیں شامل ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 3 Nov 2011 17:44:47 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">133173273</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[وسیم اے صدیقی]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-11-03T17:44:47Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/hemaMalini_main.jpg" length="72039" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/hemaMalini_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="316" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/hemaMalini_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>کرینہ کپور بھی مادام تساوٴ میوزیم کی زینت بن گئیں</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/Kareena-Kapoor-Madame-Tussaud-01Nov11-133007058.html</link>
				<description>مادام تساوٴ میوزیم دنیا بھر کی مشہور و معروف شخصیات کے مومی مجسموں کے حوالے سے عالمی شہرت رکھتا ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>بالی ووڈ ایکٹریس کرینہ کپور کا مجسمہ بھی برطانیہ کے مشہور مادام تساوٴ میوزیم کی زینت بن گیا ہے۔ اس مجسمے پر ایک لاکھ پچاس ہزار پونڈز (یعنی ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد) خرچ ہوئے ہیں جبکہ اس کی تیار میں چار ماہ صرف ہوئے ہیں۔</p>
<p>یہ میوزیم دنیا بھر کی مشہور و معروف شخصیات کے مومی مجسموں کے حوالے سے عالمی شہرت رکھتا ہے۔ان مجسموں کی خاصیت یہ ہے کہ یہ سب کے سب پہلی نظر میں حقیقت کا گماں دیتے ہیں۔ ۔۔۔اس حد تک کہ اگر وہ شخصیت اپنے مجسمے کے برابر میں کھڑی ہوجائے تو ایک لمحے کے لئے یہ پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے کہ اصل کون ہے اور مجسمہ کون۔</p>
<p>ہرسال دنیا بھر سے لاکھوں سیاح ان مجسموں کو دیکھنے آتے ہیں جبکہ سیاح ان مجسموں کے ساتھ اپنی تصویرکھنچوانے میں بھی فخر محسوس کرتے ہیں۔میوزیم میں جس شخصیت کامجسمہ نمائش کے لئے رکھا جاتا ہے وہ اسے اپنے لئے اعزاز سمجھتی ہے۔</p>
<p>مقامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بھارتی اداکارہ کرینہ کپور کا بھی مومی مجسمہ نمائش کے لئے پیش کیاگیا۔ کرینہ بھی اسے اپنے لئے ایک بیش قیمتی اعزاز سمجھتی ہیں اس لئے مجسمہ کی نقاب کشائی کے وقت ہونے والی تقریب میں انہوں نے ناصرف خود شرکت کی بلکہ ان کی والدہ ببیتا کپور بھی ان کے ساتھ لندن پہنچیں۔</p>
<p>اپنے مجسمے کو دیکھ کر کرینہ حیرت زدہ ہوگئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مجسمہ بنانے والے نے کمال کردیا۔ لگتا ہے مجسمہ ابھی بول اٹھے گا۔ مجسمے کی نمائش جنوری 2012ء تک جاری رہے گی۔</p>
<p>چالیس سے زائد فلموں میں ہیروئن کا کردار اداکرنے والی کرینہ کپور بالی ووڈ فلموں کا &rsquo;آئیکون&lsquo; ہیں۔ ان کی پے در پے تین فلموں &rdquo;تھری ایڈیٹ&ldquo;،&rdquo;باڈی گارڈ&ldquo;اور &rdquo;را۔ون&ldquo; نے باکس آفس پر سب سے زیادہ بزنس کرنے والی کامیاب فلموں کا ریکارڈ بنایا ہے۔مجسمے کی نقاب کشائی کے وقت میوزیم میں ایک ہزار سے زائد لوگ جمع تھے۔ ان میں سے بیشتر ایسے تھے جو دور دراز علاقوں سے وہاں تک پہنچے تھے۔</p>
<p>میوزیم میں بالی ووڈ شخصیات کے مجسموں کے لئے ایک علیحدہ کمرہ مختص کیا گیا ہے۔ میوزیم میں شاہ رخ خان،سلمان خان، رہتک روشن، امیتابھ بچن اور ایشوریہ رائے کے مجسمے موجود ہیں۔ اب کرینہ کا مجسمہ بھی ان میں شامل ہوگیا ہے۔</p>
<p>میوزیم کے حوالے سے کچھ دلچسپ حقائق بھی گاہے بگاہے سامنے آتے رہتے ہیں مثلاً رائٹر کی ایک اور خبر کے مطابق رہتک روشن کا مجسمہ ان سرفہرست دس مجسموں میں شامل ہے جنہیں دیکھنے والوں نے اسے کمال مہارت کے سبب بوسہ دیا۔ بوسہ دینے والوں میں 20فیصدمردشامل تھے جبکہ باقی خواتین تھیں۔یہ مجسمہ رواں سال جنوری میں نمائش کے لئے پیش کیا گیا تھا۔</p>
<p>واضح رہے کہ پچھلے سال شاہ رخ خان کا مجسمہ بھی ان دس مجسموں میں شامل تھا جنہیں سب سے زیادہ بوسہ دیا گیا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 1 Nov 2011 16:35:20 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">133007058</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-11-01T16:35:20Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[فلم اور آرٹ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/KareenaWaxStatue_main.jpg" length="114444" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/KareenaWaxStatue_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/KareenaWaxStatue_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
																																																																									</channel>
</rss>

