<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>


																																		



<rss xmlns:ymusic="http://music.yahoo.com/rss/1.0/ymusic/" xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" xmlns:cf="http://www.microsoft.com/schemas/rss/core/2005" xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"   version="2.0">
<channel>
	<title>VOA News:  سائنس و صحت  </title>
	<link>http://www.voanews.com/urdu/news/health-science</link>
		<description>سائنس و صحت 
																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																								
	Voice of America
	</description>
	<language>ur</language> 	<copyright />
	<pubDate>Sat, 11 Feb 2012 02:57:51 GMT</pubDate>
	<dc:creator />
	<dc:date>2012-02-11T02:57:51Z</dc:date>
	<dc:language>ur</dc:language> 	<dc:rights />
	<image>
		<title>Voice of America</title>
		<link>http://www.voanews.com/urdu</link>
		<url>http://media.voanews.com/designimages/VOARSSIcon.gif</url>
	</image>


										
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>نامعلوم تک رسائی</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/lake-vostok-russia-old-life-10feb12-139090559.html</link>
				<description>قطبی جھیل دوستک کے  دوکروڑ پرانے پانی تک رسائی سے زندگی  کی ابتدا کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>ممکن ہے کہ آپ کو یہ &nbsp;علم ہو کہ دوکروڑ سال پہلے کی زندگی ، اپنی اصل اور جیتی جاگتی حالت میں آج بھی محفوظ ہے اور سائنس دان اس کی حقیقت سے پردہ اٹھانے کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں۔</p>
<p>سائنس دانوں کا خیال ہے کہ دوکروڑ سال پہلے کی زندگی دنیا کے سرد ترین براعظم انٹارکٹیکا کی جھیل ووستک(Vostok) میں اپنی اصلی حالت میں موجودہے۔</p>
<p>انٹارکٹیکا قطب شمالی کے پاس واقع دنیا کا انتہائی جنوبی براعظم ہے ، جس کا 98 فیصد برف سے ڈھکا ہوا ہے۔سردیوں میں یہاں درجہ حرارت صفر سے 90 درجے نیچے تک گر جاتا ہے۔ انٹارکٹیکا میں&nbsp; سارا سال تیز سرد ہوائیں چلتی ہیں ، جس کے باعث انسانی آبادی نہ ہونے کے برابر ہے۔</p>
<p>جھیل دوستک اس علاقے میں پائی جانے والی تقریباً چار سو جھیلوں میں سب سے بڑی ہے۔ اس کی لمبائی250 کلومیٹر اور چوڑائی 50 کلومیٹر کے لگ بھگ &nbsp;ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ کوئی بھی اس جھیل کے پانی کو دیکھ نہیں سکتا کیونکہ یہ قطبی برف کی تقریبا تین کلومیٹر موٹی تہہ کے نیچے ہے۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note"> &lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt; </span></p>
<p>سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جھیل دوستک کے پانی میں دوکروڑ سال پہلے کی زندگی اپنی اصل اور زندہ حالت میں موجود&nbsp; ہوسکتی ہے کیونکہ یہ پانی دوکروڑ&nbsp; سال سے بیرونی اثرات سے مکمل طورپر محفوظ ہے۔</p>
<p>سائنس دانوں کو اس پانی تک پہنچنے کے لیے، جسے دوکروڑ سال سے کبھی کسی نے نہیں چھوا، برف کی تین کلومیٹر موٹی چٹانی تہہ میں سوراخ کرنے کے لیے 20 سال سے زیادہ کا عرصہ لگا ہے۔</p>
<p>سائنس دانوں کا خیال ہے کہ چونکہ جھیل کے پانی کو &nbsp;اس کے گرد واقع برف کی موٹی تہہ نےاس طرح سیل کررکھاہے کہ باہر کی دنیا سے نہ توکچھ وہاں پہنچ سکتا ہے اور نہ ہی وہاں سے کوئی چیز باہر نکل سکتی ہے، اس لیے دو کروڑ سال پہلے یہاں زندگی جس حالت میں تھی، اسی حالت میں محفوظ ہے۔</p>
<p>سائنس دانوں کو اس جھیل کے پانی تک رسائی کے بعدکرہ ارض پر زندگی کی ابتدائی حالت کے بارے میں معلومات حاصل ہونے کا اس لیے بھی یقین ہے کیونکہ ایک نظریہ یہ ہے کہ اس سیارے پر زندگی کی ابتدا پانی سے ہوئی تھی اور ابتدائی زندگی ایک خلیے کے جاندار کی شکل میں تھی۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note"> &lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt; </span></p>
<p>ماہرین کا خیال ہے کہ جھیل دوستک میں زندگی اپنی ابتدائی شکل میں محفوظ ہوسکتی ہے اور ممکن ہے کہ یہ زندگی جراثیمی شکل میں ہو۔</p>
<p>سائنس دانوں کا یہ خیال بھی ہے کہ جھیل کے پانی تک رسائی میں کامیابی&nbsp; حاصل ہونے کے بعد اب یہ جاننے میں بھی مدد مل&nbsp; سکتی ہے کہ کرہ ارض پر پائی جانے والی زندگی مقامی ہے یا یہ کسی بیرونی سیارے سے آئی تھی۔ کیونکہ ایک نظریے کے مطابق زمین پر زندگی کا آغاز کسی ایسے شہاب ثاقب یا سیارجے کے ٹکرانے بعد ہوا جس پر زندگی موجود تھی۔</p>
<p>سائنس دانوں نے اس کامیابی کو &rsquo; معلوم اور نامعلوم کے درمیان ملاقات&lsquo; کا نام دیا ہے۔</p>
<p>ناسا کے ایک سائنس دان ڈاکٹر ولید عبدالعطی کا کہناہے کہ سادہ ترین الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں اس کامیابی سے ہمیں&nbsp; زندگی کے بارے میں جاننے میں مدد ملے گی۔</p>
<p>برفانی دور سے پہلے&nbsp; زمین پر &nbsp;آب وہوا گرم مرطوب تھی ۔ شدید بارشیں ہوتی تھیں اور گھنے جنگلات کی بہتات&nbsp; تھی۔ &nbsp;زمین پر ڈینوساروں کاراج تھا۔ پھر لاکھوں سال تک جاری رہنے والے سرد برفانی دور نے ڈینوساروں سمیت زندگی کی کئی اور اقسام کو مٹا دیا۔&nbsp; ماہرین کا کہناہے کہ برف کی موٹی تہوں سے سیل ہوجانے کے بعد، جھیل دوستک میں موجود زندگی&nbsp; کارابطہ بیرونی دنیا سے کٹ گیا ۔ اور اگر اس &nbsp;پانی میں زندگی اب بھی موجود ہے تو وہ زندگی کی وہی شکل ہے جو برفانی دور کے آغاز سے قبل دو کروڑ سال پہلے پائی جاتی تھی۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note"> &lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt; </span></p>
<p>دوستک جھیل کے پانی کا درجہ حرارت منفی تین درجے سینٹی گریڈ ہے۔ اگرچہ صفر درجہ حرارت پر پانی جم جاتا ہے لیکن برف کے شدید دباؤ کے باعث جھیل کا پانی مائع حالت میں ہے۔&nbsp; سائنس دانوں کا کہناہے کہ اگر اس پانی میں زندگی موجود ہے تو اس سے مریخ کے برفانی قطبی علاقوں اور مشتری اور زحل کے چاندوں پر موجود برف کی تہوں میں زندگی کے امکان&nbsp; پر تحقیق آگے بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔</p>
<p>روس کے سائنس دان لیو سویت یوگن نے، جنہوں نے جھیل کے پانی تک ڈرل کرنے کے مشن کی قیادت کی تھی، کہناہے کہ انہیں توقع ہے کہ ماہرین کو پانی کے نمونوں میں&nbsp; قبل&nbsp; ازتاریخ کا بیکٹریا مل جائے گاجس سے زندگی کی ابتدا کے بارے میں جاننے میں مدد مل سکے گی۔</p>
<p>جھیل کے پانی تک پہنچنے کے بعد ماہرین&nbsp; نے &nbsp;اس کے دہانے کو سختی سے بند کردیا گیا ہے تاکہ کروڑوں &nbsp;سال پرانے بیکٹریا کو باہر نکل کر پھیلنے کا موقع نہ ملے ۔ کیونکہ ماہرین کو خدشہ ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر تباہی بھی لا سکتا ہے۔</p>
<p>پانی کے نمونے&nbsp; حاصل کرنے کے بعد انہیں فی الحال وہیں محفوظ کردیا گیا ہے ۔ اس سال دسمبر میں&nbsp; سردیاں شروع پر ان نمونوں کو مزید تجربات کے لیے لیبارٹری میں منتقل کردیاجائے گا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 15:35:47 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139090559</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[جمیل اختر]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-10T15:35:47Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Vostok-483.jpg" length="47251" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
																																																													
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Vostok-483.jpg" medium="image" isDefault="true" height="330" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Vostok-305.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Vostok-306.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/vostok+23.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/Vostok-305.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																										</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>فیس بک کا زیادہ استعمال اداسی کا موجب، تحقیق</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/health-science/facebook-sadness-02Feb12-138880609.html</link>
				<description>ایک نئی تحقیق کے مطابق  فیس بک کا زیادہ استعمال کرنے والے افراد میں ویب سائٹ پر موجود اپنے حلقہ احباب کے لوگوں کو اپنے سے زیادہ خوش اور بہتر تصور کرنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>گزشتہ کئی برسوں کے دوران میں سامنے آنے والی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال کرنے والے افراد ان&nbsp; ذرائع سے اجتناب برتنے والوں کے مقابلے میں زیادہ افسردہ زندگی گزارتے ہیں۔</p>
<p>لیکن اب ایک نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے&nbsp; کہ سماجی رابطوں کے ذرائع اور ویب سائٹس، مثلاً فیس بک،&nbsp; بھی خوشی کے جذبات پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>امریکی ریاست یوٹاہ کے شہر اورم میں واقع 'یوٹاہ ویلی یونی ورسٹی' سے منسلک محققین&nbsp; کی جانب سے کی گئی ایک نئی تحقیق کے مطابق&nbsp; فیس بک کا زیادہ استعمال کرنے والے افراد میں ویب سائٹ پر موجود اپنے حلقہ احباب کے لوگوں کو اپنے سے زیادہ خوش اور بہتر تصور کرنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔</p>
<p>یونی ورسٹی کے محققین&nbsp; یہ جاننا چاہتے تھے کہ فیس بک کا استعمال کرنے والے افراد میں اپنے دوستوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے نتیجے میں کس قسم کے جذبات پروان چڑھتے ہیں۔</p>
<p>اس مقصد کے لیے محققین نے 425 نوجوان طالبِ علموں کے سامنے یہ سوال رکھا کہ کیا دوسرے&nbsp; لوگ ان سے بہتر اور زیادہ پرمسرت زندگی گزار رہے ہیں۔ بعد ازاں محققین نے طالبِ علموں کا ان بنیادوں پر جائزہ لیا کہ وہ کب سے فیس بک کا استعمال کر رہے ہیں&nbsp; اور ہر ہفتے کتنے گھنٹے سماجی رابطے کی اس ویب سائٹ کے ذریعے دوسروں کی زندگیوں میں تاک جھانک کرتے گزارتےہیں۔</p>
<p>تحقیقی مطالعے میں یہ بات سامنے آئی کہ فیس بک کا زیادہ استعمال کرنے والے طلبہ کی اکثریت دوسروں کو اپنے سے زیادہ خوش اور آسودہ خیال کرتی ہے۔</p>
<p>ماہرِ نفسیات ٹاڈ کیشڈان 'جارج میسن یونی ورسٹی' میں خوشی اور آسودگی&nbsp; جیسے مضامین کے طالبِ علم رہے ہیں اور انہوں نے یوٹاہ یونی ورسٹی کی اس تحقیق کے نتائج کا مطالعہ کیا ہے۔</p>
<p>کیشڈان کہتے ہیں کہ ایسے طلبہ کے علم میں فیس بک کے ذریعے اپنے دوستوں کے خوش گوار حالات آتے ہیں اور وہ ان کا خود سے موازنہ کرکے اپنے آپ کو کم خوش نصیب خیال کرنے لگتے ہیں۔</p>
<p>کیشڈان&nbsp; کے بقول یہ طلبہ سمجھتے ہیں کہ "مری زندگی تو اتنی دلچسپ اور اطمینان بخش نہیں ہے جتنی اوروں کی ہے" اور یہ سوچ ان میں اداسی کو جنم دیتی ہے۔</p>
<p>تحقیق کے مصنفین کا کہنا ہے کہ اس نتیجے کی ایک وجہ ان طلبہ کا 'کرسپانڈنس بائی یس' نامی نفسیاتی اثر کا شکار ہونا ہوسکتا ہے جس میں انسان دوسروں کے اصل حالات سے واقف ہوئے بغیر اس کےظاہری مزاج اور شخصیت کی بنیاد پر اس کے بارے میں رائے قائم کرلیتا ہے۔</p>
<p>مصنفین کے مطابق فیس بک پہ موجود اپنے دوستوں کے بارے میں یہ تصور کرنا بہت آسان ہے کہ وہ اتنے ہی خوش ہیں جتنا ان کی پروفائل سے ظاہر ہوتا ہے کیوں کہ لوگ عموماً سماجی رابطوں کی اس ویب سائٹ پر مثبت چیزوں کا اظہار کرتے ہیں اور منفی اور حوصلہ شکن رویوں اور واقعات&nbsp; کا ذکر نہیں کرتے۔</p>
<p>ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ فیس بک اور سماجی رابطوں کے دیگر وسائل دنیا اور لوگوں سے رابطے کا&nbsp; ایک قابلِ قدر ذریعہ ہیں۔ لیکن اگر ان کا استعمال چند "پرہیزی ہدایات" پر عمل کرتے ہوئے کیا جائے تو مناسب ہوگا۔</p>
<p>ماہرین کا مشورہ ہے کہ فیس بک پر دوسرے لوگوں کے اچھے واقعات&nbsp; کو جاننے میں زیادہ وقت صرف کرنے کے بجائے اپنے خوش گوار واقعات دوسروں کے علم میں لانا چاہئیں اور ان افراد پر توجہ دینی چاہیے جو آپ کے حقیقی دوست ہیں اور آپ کے معاملات اور حالات&nbsp; کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین نفسیات یہ مشورہ بھی دیتے ہیں کہ اگر فیس بک صارفین&nbsp; ویب سائٹ پر ایسے 'فیس بک فرینڈز'کے بجائے&nbsp; جنہیں وہ زیادہ نہیں جانتے ہیں، ان افراد سے زیادہ رابطے میں رہیں جو حقیقی زندگی میں بھی ان کے دوست ہوں تو وہ 'یوٹاہ یونی ورسٹی' کی اس تحقیق میں بیان کیے گئے اثرات سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 7 Feb 2012 21:35:41 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138880609</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-07T21:35:41Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[سائنس و صحت]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/facebook23.jpg" length="88577" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/facebook23.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/CN_Facebook_IPO_WEB4x301.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>الزائمر کی تحقیق کے لیے پانچ کروڑ ڈالر کا فنڈ</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/health-science/US-Alzheimer-07Feb12-138865294.html</link>
				<description>امریکی حکومت دماغ کے خلیوں کو تباہ کرنے والے موزی مرض، الزائمر، کی روک تھام سے متعلق جدید تحقیق کے لیے فوری طورپر پانچ کروڑ ڈالر فراہم کررہی ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکہ الزائمر پر قابو پانے کے لیے نئے اقدامات کررہاہے۔ دماغ کے خلیوں کو تباہ کرنے والے اس&nbsp; مرض میں&nbsp; لاکھوں امریکی مبتلا ہیں۔</p>
<p>حکومت نے الزائمر کے مرض کی روک تھام سے متعلق جدید تحقیق کے لیے فوری طورپر پانچ کروڑ ڈالر فراہم کررہی ہے۔&nbsp;</p>
<p>اس سال اکتوبر میں شروع ہونے والی اس سائنسی تحقیق کے لیے 2013ء کے مالی سال کے دوران آٹھ کروڑ ڈالر دیے جائیں گے۔</p>
<p>واشنگٹن میں منگل کو کیے جانے والے اعلان میں کہا گیا ہے کہ الزائمر سے متعلق لوگوں میں آگہی بیدار کرنے اور ان کی دیکھ بھال کرنے والوں کی مدد کے لیے مزید دوکروڑ 60 لاکھ ڈالر مہیا کیے جائیں گے۔</p>
<p>اعدادوشمار کے مطابق اس وقت امریکہ میں الزائمر سے متاثرہ افراد کی تعداد 50 لاکھ سے زیادہ ہے اور یہ خدشہ موجود ہے کہ 2050ء میں بڑی عمر کے امریکی باشندوں میں یہ تعداد دو گنا ہوجائے&nbsp; گی۔</p>
<p>صحت اور انسانی بھلائی کی خدمات&nbsp; کے امریکی محکمے کی سربراہ کیتھرین سبیلیوس کا کہناہے کہ اوباما انتظامیہ الزائمر کے خلاف جنگ کو قومی اہمیت کے ایک اولین مسئلے کے طورپر دیکھ رہی ہے۔</p>
<p>الزائمر کا مرض آہستہ آہستہ انسانی یاداشت اور سوچ بچار کی صلاحیتوں کو تباہ کردیتا ہے۔&nbsp; اس مرض کے نتیجے میں بہت سے افراد اپنے روزمرہ کے عام کاج کے بھی قابل نہیں رہتے۔ انہیں تازہ ترین واقعات تک بھول جاتے ہیں اور وہ اپنے قریبی عزیزوں اور دوستوں تک کو پہچاننے کے قابل نہیں رہتے۔ اور بالآخر دماغ کے خلیوں کی تباہی کا تسلسل انہیں موت کے منہ میں دھکیل دیتاہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 7 Feb 2012 18:22:57 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138865294</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-07T18:22:57Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[سائنس و صحت]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/ALZHEIMERS+scan+230.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
													
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>چوہا ہاتھی کیسے بنا</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/small-animals-elephant-dinosaurs-2feb12-138558484.html</link>
				<description>آج کا ہاتھی چھ کروڑ سال پہلے اپنے قدکاٹھ اور وزن میں چوہے کے برابر تھا۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>کسی بھی جاندار کے قدکاٹھ، جسامت اور وزن پر کئی عوامل اثرانداز ہوتے ہیں جن میں خوراک، آب وہوا اور ماحول شامل ہے۔ جس کی ایک نمایاں مثال قدیم چینی اور جاپانی فن &lsquo;بونسائی &lsquo; ہے، جس&nbsp; بڑے بڑے درختوں کو ، جو عام حالات میں 70 سے 80 فٹ تک بلند ہوتے ہیں، عام گملوں میں اگا لیا جاتا ہے۔ ان درختوں کی بلندی محض ڈیڑھ دوفٹ ہوتی ہے اور وہ باقاعدہ پھل بھی دیتے ہیں۔</p>
<p>اسی طرح خوراک اور ماحول پر کنٹرول کے ذریعے جانوروں کے وزن اور قد بھی قابو پایا جاسکتا ہے۔ مثال کے طورپر عام حالات میں ایک مرغی کا وزن ایک کلوگرام تک پہنچنے میں تقریباً چھ سے آٹھ ماہ کا عرصہ درکار ہوتا ہے ، جب کہ پولٹری فارموں میں وہ صرف چھ ہفتوں میں اس وزن کو پہنچ جاتی ہے۔</p>
<p>ہم بات کررہے تھے چوہے کی جسامت کے ہاتھی کی۔صرف ہاتھی پر ہی کیا موقوف، آج سے تقریبا ً &nbsp;چھ &nbsp;کروڑ سال پہلے تمام چوپائے،&nbsp; جن میں گائے، بیل، گھوڑے اوراسی طرح کے دوسرے بڑے بڑے جانور شامل ہیں، &nbsp;کے قد پانچ چھ انچ سے زیادہ نہیں تھے اور وزن چوہے کے برابر تھا۔&nbsp; ان کا قد اور وزن انتہائی کم ہونے کی ایک وجہ تھی&nbsp; موت کا خوف۔۔۔کیونکہ چھوٹا قد ہی انہیں گوشت خور ڈینوساروں سے بچا سکتا تھا۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اس زمین پر کروڑوں سال تک ڈینوساروں کا راج رہا ہے۔ ڈینوساروں کا ابتدائی سراغ تقریباً 13 کروڑ سال پہلے ملتا ہے۔ ڈینوسار بنیادی طور پر چھپکلی جیسے تھے۔ وہ انڈے دیتے تھے، مگر اپنے انڈے سہتے نہیں تھے۔ وہ اپنے بچوں کی&nbsp; دیکھ بھال سے بھی آزاد تھے۔چنانچہ ان کا ایک ہی کام تھا، خوراک ڈھونڈنا اور خوب سیر ہوکر کھانا۔ &nbsp;اس دور میں پورے کرہ ا رض کی فضا گرم مرطوب تھی ، حتی کہ قطبی علاقوں میں بھی برف کی بجائے جنگلات تھے اور وہاں بڑے پیمانے پر بارشیں ہوتی&nbsp; تھیں۔ دنیا بھر میں &nbsp;پانی اورنباتات کی بہتات تھی۔ خوراک کی فراوانی تھی ۔ جس کا اثر ڈینوساروں کے قداور وزن کی شکل میں ظاہر ہوا۔ دنیا کے مختلف حصوں سے دریافت ہونے والی باقیات سے یہ نشان دہی ہوتی ہے کہ ڈینوساروں کی لمبائی 100 فٹ اور وزن 80ٹن تک تھا۔</p>
<p>ڈینوساروں کی کئی اقسام تھیں ، جن میں سے بعض نسلیں گوشت خور تھیں۔ ان کے خوف سے&nbsp; چوپائے یعنی اپنے بچوں کو دودھ پلانے والے جانور دن بھر چھپے رہتےتھے اور رات کی&nbsp; تاریکی میں خوراک کی تلاش میں نکلتے تھے۔ خوف اور خورا ک کی قلت سے ان کے قد چھوٹے رہ گئے تھے اور ہاتھی بھی چوہے بن گئے تھے۔</p>
<p>غالباً چھ کروڑ سال پہلے ڈینوسار دنیا سے غائب ہوگئے۔ کوئی نہیں جانتا کہ آخر ایسے کیا عوامل تھے کہ ان کی نسل تک مٹ گئی۔ بعض ماہرین کا کہناہے کہ زمین پر شروع ہونے والا&nbsp; سرمائی دور ان کے خاتمے کا سبب بنا۔ کچھ کا خیال ہے کہ کسی بڑے سیارچے کے زمین سے ٹکرانے سے ہونے والی تباہی ان کے خاتمے کا سبب بنی۔ بعض کی رائے ہے کہ وہ زمین پر موجود ساری خوراک چٹ کرنے کے بعد بھوک سے مر گئے۔ ماہرین کے ایک اور گروہ کا کہناہے کہ ڈینوساروں کی بڑی جسامت ہی ان کے خاتمے کا سبب بنی کیونکہ ان کے دماغ تک یہ اطلاع ہی نہیں پہنچ پاتی تھی کہ ان کی دم یا جسم کا کوئی حصہ کسی وجہ سے زخمی ہوگیا ہے۔ خیال یہ ہے کہ ڈینوساروں کے دنیا سے مٹنے کے ایک سے زیادہ اسباب تھے۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دور میں جب موت &nbsp;&nbsp;ڈینوساروں کو نگل رہی تھی، ان کی ایک نسل اپنی جان بچانے &nbsp;میں کامیاب رہی اور یہ &nbsp;نسل آج بھی ہمارے درمیان موجود ہے جنہیں ہم پرندوں کےطور پر پہچانتے ہیں۔</p>
<p>ڈینوساروں کے خاتمے کے بعد دیگر جانوروں&nbsp; کے لیے زندگی آسان ہوگئی۔ اب وہ بلاخوف و خطر گھوم پھر سکتے تھے۔ اپنی خوراک تلاش کرسکتے تھے۔ اپنی نسل کی افزائش کرسکتے تھے۔ اپنے بچوں کو پروان چڑھا سکتے تھے۔</p>
<p>سائنس دانوں کا کہناہے کہ وزن کم کرنا سب&nbsp; سے آسان کام ہے ۔ جب لمبے عرصے تک خوراک کی کمی رہے تو متاثرہ جانداروں کے جین خود کوحالات کے مطابق ڈھال لیتے ہیں اوران کی &nbsp;آنے والی نسلیں چھوٹے&nbsp; قد کی ہوتی ہیں تاکہ ان کی خوراک کی ضروریات کم ہوں۔ لیکن یہ مرحلہ چند برسوں میں طے نہیں پاتا۔ اس کے لیے ہزاروں سال درکار ہوتے ہیں۔</p>
<p>لیکن اگر خوراک کی فراوانی ا ور ماحول اور آب و ہوا موافق ہوں توبھوک زیادہ لگتی ہے اور خوش خوراکی وزن میں اضافہ کرتی ہے۔ اور جب یہ سلسلہ طویل عرصے تک چلتا رہے تو جین کے اندر تبدیلیاں آنے لگتی ہیں اور آنے والی نسلوں کے قدکاٹھ بڑھنا شروع ہوجاتے ہیں۔ ماہرین کا کہناہے کہ&nbsp; حجم کم کرنا نسبتا ایک آسان کام ہے جب کہ قدکاٹھ بڑھانے سے تعلق رکھنے والے جین&nbsp; میں تبدیلی کا عمل بہت سست رفتار ہے۔ جس میں &nbsp;لاکھوں سال لگ سکتے ہیں۔</p>
<p>سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ کسی جانور کے قد اور جسامت میں تبدیلی کے واضح آثار کم از کم ایک لاکھ نسلوں کے بعد ظاہر ہوتے ہیں۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>آسٹریلیا کی میلبرن یونیورسٹی کے سائنس دان ڈاکٹر ایلسٹیر ایونز&nbsp; کا، جو جانووں کے سائز اور وزن میں تبدیلی پر تحقیق کرنے والی ٹیم کے سربراہ تھے، کہناہے کہ جانوروں کے قد تقریباً سات کروڑ سال پہلے بڑھنا شروع ہوئے تھے۔ یہ وہ وہ دور تھا جب ڈینوسار اپنے خاتمے کی جانب بڑھ رہے تھے۔</p>
<p>ڈاکٹر ایونز کا کہناہے کہ ڈینوسار دور کے&rsquo; چوہے ہاتھی&lsquo; اور آج کے دیوقامت ہاتھی کے درمیان&nbsp; اس کی کم ازکم دوکروڑ 40 لاکھ نسلوں کا فاصلہ ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 2 Feb 2012 13:18:12 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138558484</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[جمیل اختر]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-02T13:18:12Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Elephant-Baby-480.jpg" length="60893" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
																																																													
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Elephant-Baby-480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Elephant-Baby-300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/elephants-300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/Dinosaur-Museum-Chuxiong-300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/museum-dinosaur-300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																										</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>تپ دق ویکسین تجرباتی مراحل میں</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/health-science/TB-Vaccine-27Jan12-138205764.html</link>
				<description>طبی ماہرین کہتے ہیں کہ ٹی بی  کی دوا کے خلاف مریضوں میں پیدا ہونے والی قوت ِ مدافعت کی وجہ سے کسی نئی اور موثر دوا کی اہمیت ناگزیر ہو گئی ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>عالمی ادارہ ِ صحت نے حال ہی میں ایسے69 ملکوں کی فہرست مرتب ہے جہاں ٹی بی کے ایسے مریض پائے جاتے ہیں جن پر دوا اثر نہیں کرتی۔ اس کی وجہ ایسا بیکیڑیا ہے جو انسان میں تپ ِ دق کی ادویات کے لیے مدافعت پیدا کرتا ہے۔ عالمی ادارہ ِ صحت کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال25 ہزار افراد اس مسئلے کا شکار&nbsp; ہوتے ہیں۔ <br /> &nbsp; عالمی ادارہ ِ صحت کی سربراہ&nbsp; ڈاکٹر مارگریٹ چن کہتی ہیں کہ اس مسئلے کا فوری حل ڈھونڈنا ناگزیرہے۔</p>
<p><iframe src="http://www.youtube.com/embed/DjXvQODThYw" width="480" height="390"></iframe></p>
<p>طبی ماہرین کہتے ہیں کہ زیادہ تر چین اور بھارت جیسے ملکوں کے لوگ اس مسئلے کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔&nbsp; جس کی ایک وجہ وہاں پر مریضوں میں مرض کی درست تشخیص کا نہ ہونا یا پھر علاج کے لیے غلط دوائیں دینا ہے۔<br /> ڈاکٹر نیرج مستری ، صحت ِ عامہ کے شعبے سے منسلک ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بھارت میں بہت کم ڈاکٹر ایسے ہیں جو ٹی بی کے مریضوں کو درست ادویات دے رہے ہیں۔ان کا کہناہے کہ اگر ہم مریضوں کو غلط دوادیں گے&nbsp; اور مرض کی درست تشخیص نہیں کریں گے تو ہمیں ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔</p>
<p>طبی ماہرین کہتے ہیں کہ ٹی بی&nbsp; کی دوا کے خلاف مریضوں میں پیدا ہونے والی قوت ِ مدافعت کی وجہ سے کسی نئی اور موثر دوا کی اہمیت ناگزیر ہو گئی ہے۔<br /> جبکہ تب ِ دق سے بچاؤ کے لیے ویکسین کا استعمال بھی مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p>&nbsp;ڈاکٹر این گنز برگ ، ٹی بی سے متعلق ایک ادارے سے منسلک ہیں۔ اور ٹی بی سے بچاؤ کے لیے ایک ویکسین پر کام کر رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ انہیں امید ہے کہ 2020ء تک یہ ویکسین تیار ہو جائے گی۔</p>
<p>ان کا کہناہے کہ ٹی بی کے لیے ویکسین کی تیاری ایک طویل اور وقت طلب مرحلہ ہے۔ اس کی وجہ اس بیماری کی پیچیدہ نوعیت ہے۔ عموما لوگوں کو ٹی بی ہو جاتی ہے اور وہ برسوں تک&nbsp; بیمار نہیں پڑتے ۔ اسی لیے اس کی دوا بنانے کےلیے اور لوگوں پر تجربہ کرنے کے لیے بہت وقت چاہیئے۔</p>
<p>بی کے لیے نئی ویکسین کا انتظار بہت طویل اور صبر آزما ثابت ہو سکتا ہے۔ عالمی ادارہ ِ صحت کا کہنا ہے کہ بہت ممکن ہے کہ ٹی بی کے مریضوں کے لیے اس سال کے آخر یا اگلے سال کے شروع تک ایک نئی اور مؤثر دوا سامنے لائی جا سکے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 27 Jan 2012 17:20:16 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138205764</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[ودوشی سنہا /مدیحہ انور ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-27T17:20:16Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[سائنس و صحت]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/TB+230.jpg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>سائنس اورتیکنالوجی: سوچوسو ہوجائے!</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/health-science/IBM_Prediction_26Jan12-138167209.html</link>
				<description>IBMکا کہنا ہے کہ آئندہ پانچ برسوں میں ذہن کے ساتھ مشینوں کو کنٹرول کیا جائے گا</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>اپنے ذہن کے ذریعے کسی مشین کو کنٹرول کرنا اپنی ہی سرگرمیوں کی توانائی سے اپنے گھر میں پاور جنریٹ کرسکنا؟ یہ دو ایسی پیش رفت ہیں جِن کے بارے میں IBMکے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ آئندہ پانچ برسوں میں حقیقت کا روپ دھار لیں گی۔</p>
<p>تیکنالوجی کمپنی IBMنے اپنی تازہ ترین رپورٹ جاری کی ہے جِس کے مطابق، ماہرین کا خیال ہے کہ جلد ہی لوگ محض اپنے ذہن استعمال کرتے ہوئے بیشتر الیکٹرک ڈوائسز کو کنٹرول کرسکیں گے۔</p>
<p>IBMاور دوسرے اداروں کے سائنس داں اِس کے لیے مختلف طریقوں پر تحقیق کر رہے ہیں اور سائنسی زبان میں اِس کے لیے &rsquo;بایو انفرمیٹکس&lsquo; کی اصطلاح استعمال ہو رہی ہے۔</p>
<p>ماہرین کہتے ہیں کہ جلد وہ وقت آنے والا ہے کہ لوگوں کے پاس ایسا طریقہٴ کار ہوگا کہ کسی کو کال کرنے یا اِی میل کرنےکے بارے میں محض سوچتے ہوئے اِسے ممکن بنایا جاسکے گا!</p>
<p>برنی میرسن IBMمیں اختراع اور جدت کے شعبے کے نائب صدر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک سادہ سی صلاحیت ہے جِس میں ایک سسٹم کو کچھ کرنے کے لیے کمانڈ دی جاتی ہے۔ کچھ کہنا یا کرنا نہیں پڑتا۔ اور یوں، ایک درست نتیجہ سامنے آجاتا ہے۔ یہ حقیقتاً&nbsp; ایک&nbsp; بھرپور صلاحیت ہے جسے کوئی مفلوج یا اپاہج شخص اپنی دماغی لہروں یعنی &rsquo;برین ویوز&lsquo; کی مدد سے کاموں کے ہونے کوممکن بنا سکے گا۔ اور یوں، آزادانہ طور پر بغیر کسی مدد کے اپنی زندگیاں بہتر انداز میں گزار سکے گا۔</p>
<p>ایک اور پیش گوئی ایک ایسے طریقے کے بارے میں &nbsp;ہے جِس سے لوگ چلنے یا دوڑنے جیسی اپنی سرگرمیوں کی توانائی سے اپنے گھروں یا دفتروں کے لیے بجلی یعنی پاور حاصل کر سکتے ہیں۔برنی کہتے ہیں کہ اِسے &rsquo;مائکرو الیکٹرانک جنریشن&lsquo; کا نام یا اصطلاح &nbsp;سے جانا جاتا ہے۔</p>
<p>وہ مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ تیسری دنیا میں کسی شخص کے پاس ٹیلی فون تو ہے، لیکن اُس کی رسائی &nbsp;پاور گرڈ تک نہیں۔ جو، کافی عام سی بات ہے۔ لیکن، سچ مچ ایک جوتے کے اندر ایک ایسی چیز بنائی جاسکتی ہے جو چلنے کے عمل کے دوران اتنی توانائی کا پتا دیتی ہے جِس سے ایک بیٹری کو چارج کیا جا سکتا ہے۔ اور اِس شخص کو باقی دنیا سے مربوط کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>ایک اور پیش گوئی کے مطابق ہمارے &rsquo;پاس ورڈس&lsquo; بہت جلد قصہٴ پارینہ ہونے والے ہیں۔IBMکا کہنا ہے کہ &rsquo;بایومیٹرکس تیکنالوجی&lsquo; میں ہونے والی پیش رفت سے پاس ورڈس غیر ضروری ہوجائیں گے۔</p>
<p>انتہائی عام &rsquo;بایو میٹرکس&lsquo; میں سے انسانوں کی شناخت کے لیے استعمال ہونے والی چیزیں فنگر پنٹس، چہرہ اور آواز کی پہچان اور پُتلی کی اسکیننگ ہے۔وہ کہتے ہیں کہ یہ تیکنالوجی جلد ہی رقم حاصل کرنے والی مشینوں یعنی ATMمشینوں اور دوسری چیزوں کے لیے استعمال ہونے لگے گی۔</p>
<p>تفصیل کے لیے آڈیو رپورٹ:</p>
<p>
<object classid="clsid:02bf25d5-8c17-4b23-bc80-d3488abddc6b" width="202" height="39" codebase="http://www.apple.com/qtactivex/qtplugin.cab#version=6,0,2,0">
<param name="src" value="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+1300+19139540+Science+in+News+IBM+PredictionsBG-01-25.Mp3" /><embed type="video/quicktime" width="202" height="39" src="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+1300+19139540+Science+in+News+IBM+PredictionsBG-01-25.Mp3"></embed>
</object>
</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 27 Jan 2012 00:46:24 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138167209</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[فائزہ المصری/ بہجت گیلانی]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-27T00:46:24Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[سائنس و صحت]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/AP110113063835MAIN.jpg" length="36206" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP110113063835MAIN.jpg" medium="image" isDefault="true" height="375" width="512" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP110113063835TEASER.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>گلوبل فنڈ کے لیے 750 ملین ڈالرز کا عطیہ</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/health-science/Funds-For-AIDS-Malaria-TB-26Jan12-138129113.html</link>
				<description>اس عطیے کا اعلان جمعرات کو بلِ گیٹس کے فلاحی ادارے 'بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاوٴنڈیشن' نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں جاری عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس کے دوران کیا</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>تین مہلک ترین بیماریوں- ایڈز، ملیریا اور تپِ دق- کے خلاف سرگرمِ عمل عالمی ادارے کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے 750 ملین ڈالرز کے عطیے کی پیش کش ہوئی ہے۔</p>
<p>عطیے کا اعلان جمعرات کو معروف ٹیکنالوجی فرم 'مائیکروسوفٹ' کے بانی بلِ گیٹس کے فلاحی ادارے 'بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن' نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں جاری عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس کے دوران کیا۔</p>
<p>بِل گیٹس کا کہنا ہے کہ اس عطیہ کے نتیجے میں 'گلوبل فنڈ ٹو فائٹ ایڈز، ملیریا اینڈ ٹیوبر کلوسس' کی کارکردگی پر ڈرامائی اثرات پڑیں گے۔</p>
<p>عالمی فنڈ کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی سرگرمیوں اور حکمتِ عملی سے دنیا بھر میں 65 لاکھ افراد کی زندگیاں بچائی ہیں&nbsp; جب کہ ادارے کو امید ہے کہ اس کے تعاون سے چلنے والے منصوبوں کے نتیجے میں رواں سال مزید 10 لاکھ لوگوں کو مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھا جاسکے گا۔</p>
<p>'گلوبل فنڈ' کی بنیاد 10 سال قبل ڈالی گئی تھی اور اپنے قیام سے اب تک یہ ادارہ تین ہلاکت خیز بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے طریقوں اور منصوبوں کی تشکیل میں شہریوں، سائنس دانوں اور حکومتوں کی اعانت کرتا آرہا ہے۔</p>
<p>ادارے کا کہنا ہے کہ کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں زیرِ علاج ایڈز کے کل مریضوں&nbsp; میں سے نصف اس کے منصوبوں سے مستفید ہورہے ہیں۔</p>
<p>ادارے کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ دنیا بھر میں ملیریا کے 65 فی صد اور تپِ دق کے 85 فی صد مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات اس کے تعاون سے بہم پہنچائی جارہی ہیں۔</p>
<p>صحت کی عالمی تنظیموں کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ایڈز اور ملیریا کے سب سے زیادہ مریض افریقہ کے صحرائے صحارا کے جنوبی ممالک میں موجود ہیں جب کہ ان ممالک میں تپِ دق سے ہونے والی ہلاکتوں کی شرح بھی دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 26 Jan 2012 17:15:29 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138129113</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-26T17:15:29Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[سائنس و صحت]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/AP+Bill+and+Melinlda+Gates+26Jan12+480.jpg" length="40960" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP+Bill+and+Melinlda+Gates+26Jan12+480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="349" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/gates_bill_davos_300x300_reuters.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>بند آنکھوں کے خواب</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/dreams-human-19jan12-137659898.html</link>
				<description>خواب سچے بھی ہوسکتے ہیں مگر ان کا تناسب آٹے میں نمک کے برابر ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>زیادہ دور پرے کی بات نہیں ہے کہ اکثر اخباروں اور رسالوں میں ایسے مستقل کالم اور صفحات شائع ہوتے تھے جن میں خوابوں کی تعبیر بتائی جاتی تھی۔ اکثر گھروں میں، اور اکثر پرتکلف محفلوں میں اپنے خواب سنانے کا رواج عام تھا&nbsp; مگر اب ایسا کم کم ہوتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لوگوں نے خواب دیکھنے چھوڑ دیے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ جدید دور کی مصروفیات میں ان کے پاس اپنے خواب سنانے کا وقت نہیں رہا۔</p>
<p>ماہرین کا کہناہے کہ خواب ہر کوئی دیکھتا ہے، خواہ وہ نوزائیدہ بچہ ہو یاسوسال سے بھی بڑی عمر کا بزرگ۔ &nbsp;ایک اندازے کے مطابق انسان اپنی نیند کے دوران تقریباً ہر ڈیڑھ گھنٹے کے بعد خواب دیکھتا ہے اور نارمل نیند &nbsp;میں چار سے سات خواب آتے ہیں۔</p>
<p>کسی بھی سوئے ہوئے شخص کے پاس کچھ دیر بیٹھ کر آپ یہ جان سکتے ہیں کہ اس نے کب کب خواب دیکھا۔ کیونکہ خواب دیکھتے وقت آنکھوں کی پتلیاں&nbsp; تیزی سے حرکت کرتی ہیں۔ عموماً &nbsp;یہ عمل چند منٹ تک جاری رہتا ہے، لیکن بعض صورتوں میں اس کا دورانیہ 45 منٹ تک بھی ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہناہے کہ&nbsp; خواب دیکھتے وقت انسان کے دماغ کا ایک حصہ ، جس کا تعلق ہمارے تحت الاشعور سے ہے، انتہائی فعال ہوجاتا ہے ۔ جس &nbsp;میں آنکھوں کی پتلیاں حرکت کرنے لگتی ہیں۔&nbsp; یہ نیند کی کمزور حالت کہلاتی ہے۔ گہری نیند میں انسان کوئی خواب نہیں دیکھتا۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>خواب ہر کوئی دیکھتا ہے مگر بہت کم لوگ ایسے ہیں جنہیں جاگنے کے بعد اپنے خواب یاد رہتے ہیں۔ خواب صرف وہی یاد رہتے ہیں ، جنہیں دیکھنے کے دوران آنکھ کھل جائے۔ نفسیات کے ماہرین کا کہناہے کہ جاگنے کے پہلے پانچ منٹ کے اندر انسان آدھے سے زیادہ خواب بھول جاتا ہے، جب کہ&nbsp; اگلے پانچ منٹ میں&nbsp; وہ 90 فی صد خواب اس کی یاداشت سے نکل جاتے ہیں۔</p>
<p>نابینا افراد بھی عام انسانوں کی طرح ہر رات خواب دیکھتے ہیں، مگر ان کے خواب دوسرے لوگوں سے قدرے مختلف ہوتے ہیں۔ جو افراد پیدائشی نابینا نہیں ہوتے، ان کے خواب بہت حد تک عام لوگوں جیسے ہوتے ہیں جب کہ پیدائشی نابینا افراد اپنے خوابوں میں شکلیں نہیں دیکھتے ، لیکن ان کے خوابوں میں آوازیں، چیزوں کو چھو کر محسوس کرنے ، جذبات اور محسوسات دوسروں کی نسبت زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔</p>
<p>خواب صرف انسان ہی نہیں بلکہ تقریباً ہر زی روح دیکھتا ہے۔ اگر آپ کے گھر میں بلی، کتا یا کوئی اور پالتو جانور موجود ہے تو آپ سوتے میں اس کی آنکھوں کی پتلیوں کی حرکت سے یہ جان سکتے ہیں کہ وہ اس وقت خواب دیکھ رہاہے۔</p>
<p>کئی لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے کبھی کوئی خواب نہیں دیکھا۔ ماہرین کا کہناہے کہ اس دعوے کی حقیقت یہ ہے کہ بیدار ہونے پر وہ اپنے خواب بھول چکے ہوتے ہیں۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>کئی لوگ یہ کہتے ہیں ہیں انہیں&nbsp; اپنے خوابوں میں عجیب و غریب شکلیں اور چہرے دکھائی دیتے ہیں۔ جب کہ نفسیات کے ماہرین اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ انسان خواب میں صرف وہی &nbsp;چہرے دیکھتا ہے جسے وہ &nbsp;اپنی زندگی میں کہیں نہ کہیں &nbsp;اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ چکاہوتا ہے۔ ہم روزانہ بہت سے افراد کو دیکھتے ہیں۔ عمر بڑھنے کے ساتھ &nbsp;ہماری نظروں میں آنے والے چہروں کی تعداد ہزاروں بلکہ لاکھوں تک پہنچ جاتی ہے۔ ہم ان میں سے زیادہ تر کو نہیں جانتے&nbsp; مگر وہ شکلیں ہمارے تحت الا شعور میں محفوظ ہوجاتی ہیں۔&nbsp; چونکہ خواب دیکھنے کے عمل میں ہمارا شعور کام نہیں کررہا ہوتا اس لیے تحت الاشعور میں محفوظ شکلیں گڈمڈ ہوکر &nbsp;بعض اوقات عجیب صورت اختیار کرلیتی ہیں&nbsp; اور وہ ہمیں عام انسانوں سے مختلف نظر آتی ہیں۔</p>
<p>ہماری آنکھیں روزانہ لاکھوں ہزاروں رنگوں کا نظارہ کرتی ہیں ، مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے زیادہ تر خواب سفید و سیاہ یعنی بلیک اینڈ وائٹ ہوتے ہیں۔ لیکن ایک حالیہ مطالعاتی رپورٹ سے ظاہر ہوا ہے کہ خوابوں میں رنگ دیکھنے والے افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ماہرین کا کہناہے کہ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ اب ہمارا زیادہ تر وقت کلر ٹیلی ویژن کے سامنے گذرتا ہے ۔ اس کے رنگ اور کردار ہمارے شعور میں جذب ہوکر ہمارے خوابوں میں ظاہر ہورہے ہیں۔</p>
<p>کچھ لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں اپنے خوابوں میں غیب سے اشارےملتے ہیں۔ کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ سچے خواب دیکھتے ہیں۔ ایک مطالعاتی جائزے کے مطابق&nbsp; کم ازکم 18 فی صد لوگ زندگی میں کم ازکم ایک سچا خواب ضرور &nbsp;دیکھتے ہیں، جب کہ&nbsp;&nbsp; مختلف علاقوں اور کمیونیٹز کے لحاظ سے 63 سے 98 فی صد لوگ سچے خوابوں پر یقین رکھتے ہیں۔ دوسری جانب سائنس دانوں&nbsp; کا کہنا ہے کہ خواب سچے ہونے کا امکان اتنا ہی ہے جتنا کہ بعض لوگ روزمرہ زندگی میں کچھ چیزوں کا قبل ازوقت درست اندازہ لگالیتے ہیں۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>بعض لوگ اپنے خوابوں میں خود کو فضاؤں میں &nbsp;پرندوں کی طرح اڑتا ہوادیکھتے ہیں۔ بعض&nbsp; افراد خود کو روح کی طرح ہلکا پھلکا اور لمحوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ آتا جاتا دیکھتے ہیں۔ ماہرین کا کہناہے کہ&nbsp; ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ خواب دیکھنے کے عمل میں شعور ہمارے ساتھ نہیں ہوتا، اور خوابوں کو تحت الشعور میں موجود ہماری خواہشیں اور آرزوئیں کنٹرول کررہی ہوتی ہیں۔</p>
<p>خواب دیکھنے کے دوران انسان&nbsp; کی نیند گہری نہیں ہوتی ، اس لیے &nbsp;بسا اوقات اردگرد کی آوازیں بھی خواب کا حصہ بن جاتی ہیں۔مثال کے طورپر اگر کوئی شخص گاڑی میں&nbsp; سفر کے دوران یہ خواب دیکھ رہا ہو کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف ہے تو خواب کے &nbsp;دوران کئی ایسے &nbsp;لمحات آسکتے ہیں جس میں وہ یہ محسوس کرے کہ وہ گاڑی یا کسی اور سواری میں دوستوں کے پاس آجارہاہے یا اردگرد کی آوازوں سے منسلک اشکال اس کے خواب کا حصہ بن رہی ہیں۔</p>
<p>اور سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ خراٹے لینے والے نہ صرف یہ کہ دوسروں کی نیند خراب کرتے ہیں بلکہ جب تک وہ خراٹے&nbsp; لیتے رہتے ہیں، خود بھی کوئی خواب نہیں دیکھ سکتے۔</p>
<p>بند آنکھوں کے خواب عموماً خواب ہی رہتے ہیں جب کہ جاگتی آنکھوں کے خوابوں کو انسان&nbsp; کوششوں سے حقیقت بنا سکتا ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 19 Jan 2012 12:23:41 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">137659898</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[جمیل اختر]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-19T12:23:41Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Dream-480.jpg" length="159781" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
																																																													
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Dream-480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="310" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Dream+waves-300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/dreaming-300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/Brain+and+dreams-300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/Dream+waves-300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																										</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>خواتین کو تحفظ فراہم کرنے والا آلہ</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/health-science/Security-Device-For-Women-17Jan12-137491628.html</link>
				<description>حال ہی میں ایک بھارتی کمپنی  نے  ایک ایسا الیکٹرانک نظام تیار  کیا ہے جسے خواتین کسی خطرے کی صورت  میں اپنی مدد  کے لیے استعمال کرسکتی ہیں</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>بھارت میں اب خواتین&nbsp; کی ایک بڑی تعداد ملکی معاشی ترقی میں حصہ لے رہی ہے۔ لیکن جہاں بڑے شہروں میں ان کے لئے کام اور ملازمت کے مواقع بڑھے ہیں، وہاں ملازمت پیشہ خواتین کو کئی مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑ رہاہے&nbsp; جن میں سب سے اہم مسئلہ ہے ان کا تحفظ۔&nbsp; حال ہی میں ایک بھارتی کمپنی&nbsp; نے&nbsp; ایک ایسا الیکٹرانک نظام تیار&nbsp; کیا ہے جسے خواتین کسی خطرے کی صورت&nbsp; میں اپنی مدد&nbsp; کے لیے استعمال کرسکتی ہیں۔</p>
<p>چینا سیکا ان بہت سی بھارتی خواتین میں سے ایک ہیں جو دفتر میں کام کرتی ہیں۔ دفتر سے نکلتے ہوئے انہیں رات ہو جاتی ہے ۔ وہ ٹیکسی سے گھر کے نزدیکی سٹاپ تک جاتی ہیں جہاں سے ان کا گھر پانچ سے دس منٹ کی پیدل مسافت پر ہے۔</p>
<p>ٹیکسی میں بیٹھتے وقت چینا&nbsp; اپنے موبائل پر ایک سافٹ وئیر فائٹ بیک کی&nbsp; مدد لیتی ہیں جو بطور ِ خاص ان جیسی خواتین کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہ سافٹ وئیر جی پی ایس&nbsp; کی مدد سے ان خواتین کے راستے کا ریکارڈ رکھنا شروع کر دیتا ہے۔</p>
<p>جگدیش مشرا،&nbsp; یہ سافٹ وئیر تیار کرنے والی کمپنی کے سربراہ ہیں۔ ان کا کہناہے کہ خواتین&nbsp; خطرے کی صورت میں&nbsp; ایک بٹن دباسکتی ہیں ۔ اوران کا یہ پیغام فوری طور پر&nbsp; موبائل میسج، ای میل اور فیس بک کے ذریعے ان دوستوں اور رشتہ داروں تک پہنچ جاتا ہے جن کا نام متاثرہ خاتون کے فائٹ بیک سافٹ ویئر&nbsp; کی فہرست میں موجود ہوتا ہے۔</p>
<p>2010 میں حکومتی اعدادوشمارکے مطابق دہلی میں خواتین کو ہراساں کرنے کے چار سو کے قریب واقعات درج کیے گئے۔ جس سے دہلی میں خواتین کی حفاظت کے مسائل اجاگر ہوئے۔</p>
<p>کلپنا وشواناتھ، خواتین کے حقوق کے تحفظ کی تنظیم &rsquo;&rsquo;جاگو ری &lsquo;&lsquo; سے منسلک ہیں۔ یہ تنظیم بھارتی شہروں کو خواتین کے لیے زیادہ محفوظ بنانے کے لیے سرگرم ہے۔ ان کا کہناہے کہ اگر ہمارے شہروں میں سماج،&nbsp; پولیس اور بنیادی ڈھانچے کو مسائل درپیش&nbsp; ہیں تو ہمیں ان کی طرف توجہ دینا ہوگی۔</p>
<p>سافٹ وئیر بنانے والے کہتے ہیں کہ دہلی اور کئی دیگر شہروں کے سینیئر پولیس افسران نے اس سافٹ وئیر میں دلچسپی دکھائی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ اس کی معلومات تک پولیس کی رسائی کو ممکن بنایا جائے۔ لیکن اس سلسلے کے مراحل طے کرنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 17 Jan 2012 17:24:19 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">137491628</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[کرٹ ایچن/مدیحہ انور]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-17T17:24:19Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[سائنس و صحت]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/voa_india_fight_back_480_12jan2012.jpg" length="50673" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/voa_india_fight_back_480_12jan2012.jpg" medium="image" isDefault="true" height="320" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/voa_india_fight_back_230_12jan2012.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>غیر متعدی بیماریاں صحت عامہ کے لیے بڑا چیلنج ہیں: عالمی ادارہ صحت</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/health-science/Health-16Jan12-137423383.html</link>
				<description>دنیا بھر میں غیر متعدی بیماریاں، جیسے موٹاپا، ذیابیطس، دل کے امراض، سرطان اور اس طرح کے کئی دوسرے پیچیدہ امراض کے پھیلاؤ میں اضافہ ہورہاہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>عالمی ادارہ صحت کی ڈائریکٹر جنرل نے کہا ہے کہ&nbsp; مستقبل میں غیر متعدی بیماریاں&nbsp; صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج&nbsp; ہوں گی۔</p>
<p>دنیا بھر میں موٹاپے، ذیابیطس ، دل کے امراض ، سرطان اور پیچیدہ امراض کے پھیلاؤ میں اضافہ ہورہاہے۔ ان امراض کو ماضی میں کھاتے پیتے اور صاحب ثروت افراد کی بیماریاں سمجھا جاتاتھا مگر اب یہ غریب اور درمیانی آمدنی رکھنے والے ممالک میں لوگوں کی زندگیوں کے لیے ایک ابھرتے ہوئے خطرے کے طورپر سامنے آرہی ہیں۔</p>
<p>عالمی ادارہ صحت کے&nbsp; اعلیٰ عہدے داروں کی سالانہ میٹنگ کے افتتاحی اجلاس&nbsp; میں تقریر کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل مارگریٹ چن نے عالمی سطح پر صحت کی صورت حال کا ایک جائزہ پیش کرتے ہوئے کئی اہم مسائل کے حل کے لیے اقدامات کی اپیل کی۔</p>
<p>ڈاکٹر چن نے 34 رکنی بورڈ پر زور دیا کہ وہ غیر متعدی امراض کی وجوہات پر قابو پانے کے لیے کام کریں ۔ ڈائریکٹر جنرل کا کہناتھا کہ غیر متعدی امراض لہروں کی شکل میں معاشرے کواپنی&nbsp; لپیٹ میں لیتے ہیں، اور اس وقت زیادہ تر ترقی پذیر ممالک پیچیدہ اور انسان کی قوت مدافعت پر ضرب لگانے والے&nbsp; امراض کی پہلی لہر کے تجربے سے گذررہے ہیں۔</p>
<p>ڈاکٹر چن نے کہا کہ مثال کے طور پر اس وقت دنیا بھر میں ذیابیطس میں مبتلا لگ بھگ 34 کروڑ 60 لاکھ افراد میں نصف کو یہ علم ہی نہیں ہے کہ وہ اس موذی مرض میں مبتلا ہوچکے ہیں۔&nbsp; انہوں نے کہا کہ ان میں سے اکثر افراد کو اس وقت تک اپنے علاج کا خیال ہی نہیں آئے گاجب تک ان کا مرض شدید صورت اختیار نہیں کرلے گا۔انہوں نے مزید کہاکہ عالمی ادارہ صحت ایسے اقدامات کو ترجیح دے رہاہے جن کی مدد سے ایسی کسی بھی افسوس ناک صورت حال کو پیدا ہونے سے روکا جاسکے۔</p>
<p>ڈاکپر چن نے نئی صدی کے پہلے عشرے میں صحت کے شعبے میں ہونے والی نمایاں کامیابیوں کا بھی ذکر کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہاکہ ایچ ائی وی ایڈز اور تپ دق کے مریضوں میں کمی آرہی ہے۔ ملیریا کا مرض بھی اپنے زوال کی جانب بڑھ رہاہے۔ اسی طرح&nbsp; سب صحارا افریقہ میں کیے جانے والے اقدامات کے نتیجے میں کم عمر بچوں کی شرح اموات میں&nbsp; گذشتہ ساٹھ سال کے دوران&nbsp; پہلی بار سالانہ ایک کروڑ کی کمی آئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں دوران زچگی ماؤں کی اموات بھی اب کم ہونا شروع ہوگئی ہیں۔</p>
<p>عالمی ادارہ صحت کی ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ عالمی سطح پر اب پولیو غائب ہونے کے درجے تک پہنچ چکاہے۔ حال ہی میں بھارت نے جو پولیو سے متاثرہ چار ملکوں میں شامل ہے ، اعلان کیا ہے کہ گذشتہ ایک سال کے دوران وہاں پولیو کا ایک بھی کیس سامنے نہیں آیا۔</p>
<p>صحت کے عالمی ادارے کی سربراہ نے&nbsp; اپنی تقریر میں لوگوں کی آمدنیوں میں بڑھتے ہوئے عدم توازن ، اور نوجوانوں کے لیے مواقعوں کی کمی پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مالیاتی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق&nbsp; ان معاشروں میں جہاں آمدنیوں میں تفاوت کم ہے، صحت کا عمومی معیار بہتر ہے۔ان کا کہناتھاکہ ایسی سیاسی پالیسیاں جن کے نتیجے میں امیر اور غریب کے فرق کو کم کرنے میں مدد ملے، صحت کے معیار کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Mon, 16 Jan 2012 17:31:44 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">137423383</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-16T17:31:44Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[سائنس و صحت]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Fat_230X230.jpeg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																																																		</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>گلابی رنگ لڑکیوں کی شناخت کیوں؟</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/why-pink-color-for-girls-14jan12-137343058.html</link>
				<description>نصف صدی پہلے تک لڑکے گلابی رنگ کے کپڑے پہننا پسند کرتے تھے جب کہ لڑکیوں کا پسندیدہ رنگ نیلا تھا۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>گلابی رنگ شاید تمام لڑکیوں کا پسندیدہ نہ ہو اوردوسرے رنگ بھی ان کے لیے کشش رکھتے ہوں مگر دنیا بھر عموماً گلابی رنگ کوخواتین بالخصوص لڑکیوں سے منسوب کیا جاتا ہے اوران کے ملبوسات اور عام استعمال کی &nbsp;&nbsp;اکثر اشیاء میں گلابی رنگ کی جھلک نمایاں ہوتی ہے۔</p>
<p>ریڈی میڈ گارمنٹس کی دکانوں پر آپ کو لڑکیوں کے ملبوسات میں گلابی رنگ واضح طورپر دکھائی دے گا۔ نوزائیدہ اور شیر خوار بچیوں کے زیادہ تر ملبوسات تو ہوتے ہی گلابی رنگ کے ہیں۔ اسی طرح لڑکیوں کے استعمال کی دوسری چیزیں، مثلاً ان کے اسکول بیگ، کاپیوں کے کور، پنسلیں ، قلم اور اسٹیشنری کی اکثر چیزوں میں&nbsp; گلابی رنگ زیاد ہ نظر آئے گا۔</p>
<p>مغربی ممالک کے اکثر گھروں میں لڑکیوں کے کمروں میں گلابی پینٹ کیا جاتا ہے اور اس کمرے کا فرنیچر اور روزمرہ ضرورت کی &nbsp;دوسری اشیاء بھی گلابی یا اس کے ملتے جلتے شیڈز کی ہوتی ہیں۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>ویلنٹائن ڈے کے موقع پردنیا بھر میں گلابی اور سرخ رنگ کے پھول اور کارڈ کروڑوں کی تعداد میں &nbsp;فروخت ہوتے ہیں۔</p>
<p>ایسے والدین بھی ایک بڑی تعداد میں موجود ہیں جو اپنی بچیوں کو پیار سے پنکی یا روزی یا گلابو کہہ کر پکارتے ہیں۔جس کی ایک واضح مثال بے نظر بھٹو کی ہےجنہیں گھر میں پنکی کہا جاتاتھا۔</p>
<p>رنگ کی شناخت صرف لڑکیوں اور خواتین تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس دائرے میں لڑکے اور مرد بھی آتے ہیں اور نیلے رنگ کو ان سے منسوب کیا جاتا ہے۔</p>
<p>&nbsp;گارمنٹس کی دکانوں میں مردوں کے زیادہ تر لباس نیلے یا اس سے ملتے جلتے شیڈز میں ہوتے ہیں۔ آپ کو اچھے &nbsp;گرم مردانہ سوٹ زیادہ تر گہرے سے ہلکے اور سیاہی مائل نیلے رنگوں میں ہی ملیں گے۔ برانڈ کمپنیاں&nbsp; مردوں کی شیونگ کریمیں ،جل ، شیمپو اور روزہ مرہ استعمال کی دوسری اشیاء زیادہ تر نیلی پیکنگ میں ہی فروخت کے لیے پیش &nbsp;کرتی ہیں۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>اکثر گھروں میں لڑکوں کے کمروں میں نیلا رنگ کیا جاتا ہے۔ ان کی اسٹیشنری کی زیادہ تر اشیاء بھی اسی رنگ کی ہوتی ہیں۔</p>
<p>کیا جنس کے اعتبار سے رنگوں کی پسند انسان کے جین میں شامل ہے؟ &nbsp;اس کی وجہ نفسیاتی ہے یا اس کا تعلق ثقافتی روایات اور تاریخ سے ہے؟</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ ان سب باتوں کاجواب نفی میں ہے۔ زیادہ دور پرے کی بات نہیں ہے رنگوں کی یہ تخصیص&nbsp; بالکل الٹ تھی۔ آج سے صرف چھ عشرے پہلے تک یہ سمجھاجاتاتھا کہ گلابی اور سرخ رنگ لڑکوں اور مردوں کے لیے ہوتے ہیں جب کہ لڑکیوں کو نیلا رنگ پہننا چاہیے۔</p>
<p>اس سوچ&nbsp; میں تبدیلی کا آغاز&nbsp; غالباً پچھلی صدی&nbsp; کے ابتدائی برسوں میں&nbsp; ہوا، &nbsp;جس کی بڑے پیمانے پر مخالفت کی گئی ۔ خاص طور پر لڑکیوں کو گلابی رنگ کے کپڑے پہنانے&nbsp; کے خلاف اخبارات نے مہم چلائی۔&nbsp; ایک امریکی اخبار&rsquo; سنڈے سینٹی نل&lsquo;مارچ 1914 ء کی ایک اشاعت میں لکھا کہ اگر آپ اپنے چھوٹے بچوں کو رنگوں کی شناخت دینا چاہتے ہیں تو لڑکوں کے لیے گلابی اور لڑکیوں کے لیے نیلے رنگ کاانتخاب کریں۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>اسی طرح ایک اور جریدے&rsquo; لیڈیز ہوم جرنل&lsquo; نے جون 1918ء میں&nbsp; اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ اگرچہ رنگوں کے چناؤ کے مسئلے پر کافی تنوع پایا جاتا ہے مگر ایک تسلیم شدہ اصول یہ ہے کہ گلابی رنگ لڑکوں کے لیے ہے جب کہ نیلا لڑکیوں کے لیےہے۔</p>
<p>اس دور کے کئی ناولوں اور کہانیوں میں بھی جہاں کرداروں کے لباس&nbsp; کا ذکر کیا گیا ہے، وہاں زیادہ تر لڑکیاں نیلے اور لڑکے گلابی رنگوں میں ملبوس دکھائی دیتے ہیں۔</p>
<p>گلابی اور نیلے رنگ کی یہ بحث لگ بھگ چار عشرے تک &nbsp;چلی اور 1950 ء کے لگ بھگ رنگوں کی مروجہ &nbsp;ترتیب الٹ گئی ۔ جس کے بعد یہ تسلیم کرلیا گیا کہ گلابی&nbsp; لڑکیوں اور نیلا لڑکوں کا رنگ ہے۔</p>
<p>اس تبدیلی میں دو چیزوں نے اہم کردار ادا کیا ۔ پہلا ہٹلر کی نازی حکومت &nbsp;اور دوسرا ریڈی میڈ گارمنٹس بنانے والی برانڈ کمپنیوں نے۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>لیکن اس سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ کئی سوسال تک نیلے کو لڑکیوں اور گلابی کو لڑکوں کا رنگ کیوں سمجھا جاتا رہا۔ &nbsp;مغربی معاشرے میں اس کی کڑیاں قبل از مسیح کے دور سے ملتی&nbsp; ہیں۔ روایات کے مطابق حضرت مریم&nbsp; نیلالباس پہنتی تھی۔ ان سے عقیدت کے اظہار کے لیے عیسائی معاشروں میں لڑکیوں کو نیلالباس پہنایا جاتاتھا۔ ماضی میں یہ تصور بھی عام تھا کہ چونکہ آسمان نیلا ہوتا ہے اس لیے یہ رنگ تقدس اور پاکیزگی کی علامت ہے ۔چنانچہ لوگ اپنی بچیوں کو نیلےلباس میں دیکھنا پسند کرتے تھے۔</p>
<p>ہمارے ہاں &nbsp;آج بھی لڑکیوں کے اکثر اسکولوں کا &nbsp;یونیفارم نیلا ہے اور دنیا کے اکثر ملکوں میں گرل کائیڈ ز نیلا لباس پہنتی ہیں جس کی بنا پر ہمارے ہاں انہیں نیلی چڑیا بھی کہاجاتا ہے۔</p>
<p>ماضی میں گلابی رنگ&nbsp; کی کوئی اپنی علیحدہ حیثیت نہیں تھی اور اسے سرخ رنگ کے ایک شیڈ کے طورپر دیکھا جاتاتھا۔ چونکہ جنگوں میں مرد حصہ&nbsp; لیتے تھے اور اپنا خون بہاتےتھے جس کا &nbsp;اظہار وہ سرخ لباس پہن کرکرتے تھے۔ ماضی کی پینٹنگز میں اعلیٰ حکومتی عہدے داروں ، فوجیوں اور معززین کے ملبوسات میں سرخ رنگ کی جھلک &nbsp;نمایاں&nbsp; طورپر دکھائی دیتی ہے۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>لیکن چین کا ماضی ایک مختلف تصویر پیش کرتا ہے۔ قدیم چین میں لڑکوں کو نیلے اور لڑکیوں کو سرخ کپڑے پہنائے جاتےتھے۔ اس کی وجہ خالصتاً معاشی تھی۔ ماضی میں کپڑے کو نیلا رنگ دینا خاصا مہنگا تھا جب کہ اس کے مقابلے میں سرخ رنگ پر سب سے کم خرچ آتاتھا۔اکثر مشرقی معاشروں کی طرح چین میں بھی لڑکوں کو لڑکیوں پر فوقیت دی جاتی تھی اس لیے لڑکوں کو نیلے اور لڑکی کو سرخ کپڑے پہنائے جاتے تھے۔اس قدیم روایت کو&nbsp; ماؤزئے تنگ نے توڑ کر پوری قوم کو نیلی یونیفارم پہنا دی۔</p>
<p>اس &nbsp;تبدیلی میں جرمن نازیوں نے غیر دانستہ طورپر اہم کردار ادا کیا۔ نازیوں نے &nbsp;اپنی جیلوں میں قیدیوں کے لیے مختلف رنگوں کے لباس مقرر کررکھے تھے تاکہ دور سے ہی پہچان لیا جائے کہ وہ کس جرم کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ مثلاً وہ یہودیوں کو نیلا اور ہم جنس پرستوں کو گلابی یونیفارم&nbsp; پہناتےتھے۔ چنانچہ رفتہ رفتہ گلابی رنگ نسوانیت کی علامت بن گیا اور &nbsp;یورپ اورمغربی ممالک کے ہم جنس پرستوں نے اس رنگ کو اپنی &nbsp;شناخت کے طورپر تسلیم کرلیا۔اب &nbsp;ان کی تقریبات میں یہ رنگ نمایاں دکھائی دیتا ہے اور ان کی &nbsp;&nbsp;معاشی سرگرمیوں&nbsp; کو پنک برنس یعنی گلابی کاروبار کہاجاتا ہے۔</p>
<p>غالباً 1950ء کے لگ بھگ ریڈی میڈ ملبوسات کی کمپنیوں نے لڑکیوں کے لباس ڈیزائن کرتے ہوئے گلابی رنگ کو ترجیح دینی شروع کردی، پھر گڑیاں ، کھلونے اور بچیوں کے استعمال کی چیزیں تیار کرنے والی کمپنیاں بھی اس جانب راغب ہونے لگیں اوراس کے بعد کے برسوں میں گلابی رنگ نے&nbsp; تقربیاً دو ہزار سال &nbsp;سے مروج نیلے رنگ کو نکال کر دنیا بھر میں قبولیت اور مقبولیت کی سند حاصل کرلی۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sat, 14 Jan 2012 14:27:19 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">137343058</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[جمیل اختر]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-14T14:27:19Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/women+india-480.jpg" length="149600" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
																																																																																															
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/women+india-480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="360" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/women+india-300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Valentine-300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/baby+taiwan-300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/women+afghanistan-300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/women+japan-300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/pink-300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																										</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>پولیو کے خلاف بھارتی کوششوں کا سنگ میل</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/southasia/India-Health-Polio-13Jan12-137266618.html</link>
				<description>ایک سال مکمل ہونے کے بعد بھی بچوں کو اپاہج بنا دینے والے اس وائرس کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>بھارت میں جمعہ کو ایک سال مکمل ہونے کے بعد بھی پولیو وائرس کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا ہے اور اس موقع کی مناسبت سے امریکہ کی وزیر برائے صحت و انسانی خدمات کیتھلین سِبلس نے نئی دہلی میں بچوں کو اپاہج بنا دینے والی اس بیماری سے بچاؤ کے قطرے پلائے۔</p>
<p>انسداد پولیو کی بھارتی مہم کے اس سنگ میل کو عالمی سطح پر اس وائرس کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششوں میں ایک بڑی فتح قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p>بھارت کی کامیابی سے اُن ملکوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے جہاں اس ضدی مرض کو  ہمیشہ کے لیے شکست دینے کی آُمیدیں ختم ہونا شروع ہو گئی تھیں۔</p>
<p>اگر آنے والے ہفتوں میں پولیو کے کسی نئے کیس کی نشاندہی نہیں ہوتی تو بھارت کو اُن چار ممالک کی فہرست سے خارج کر دیا جائے گا جہاں یہ وائرس وبائی صورت میں موجود ہے۔ دیگر تین ملکوں میں پاکستان، افغانستان اور نائیجریا شامل ہیں۔</p>
<p>پولیو وائرس کے خلاف بھارت کی کامیابی کا کریڈیٹ حکومت کی عالمی ادارہ صحت، یونیسف اور روٹری انٹرینشنل کے ساتھ پولیو کے خلاف جنگ میں شراکت داری کو دیا گیا ہے جن کے ارکان نے انسداد پولیو کی عالمی کوششوں میں ایک ارب ڈالرز سے زائد کی مالی معاونت کی ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 13 Jan 2012 10:23:38 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">137266618</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-13T10:23:38Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[جنوبی ایشیا]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/reuters_india_polio_prevention_480_dec2008.jpg" length="39423" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/reuters_india_polio_prevention_480_dec2008.jpg" medium="image" isDefault="true" height="320" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/reuters_india_polio_prevention_230_dec2008.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>پھپھڑوں کے کینسر کی تشخیص میں پیش رفت</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/health-science/Lung-Cancer-05Jan12-136741608.html</link>
				<description>طبی سائنس اور تحقیق سے منسلک کئی امریکی تحقیقی ادارے کوئی ایسا طریقہ ِ علاج ڈھونڈنے کی کوشش کررہے ہیں جس سے اس موذی مرض کی جلد  تشخیص ہونے میں مدد مل سکے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>ماہرین کے ایک جائزے کے مطابق دنیا بھر میں&nbsp; پھیپھڑوں کے کینسر کی وجہ سے&nbsp; ہر سال پندرہ لاکھ افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر سال&nbsp; تقریباً چودہ لاکھ پاکستانیوں میں اس موذی مرض کی تشخیص ہوتی ہے ۔ طبی سائنس اور تحقیق سے منسلک کئی امریکی تحقیقی ادارے کوئی ایسا طریقہ ِ علاج ڈھونڈنے کی کوشش کررہے ہیں جس سے اس موذی مرض کی جلد&nbsp; تشخیص ہونے میں مدد مل سکے۔تاکہ بروقت علاج سے مریض کو موت کے لقمہ اجل بننے سے بچایا جاسکے۔</p>
<p>اس سلسلے میں ایک نئی مشین تیار کی گئی ہے جو سانس میں موجود مختلف مختلف کیمیائی مادوں کا پتا لگاتی ہے۔ ڈاکٹر پیٹرمازون کہتے ہیں کہ ہم سب کے سانس میں کیمیائی مادے موجود ہوتے ہیں۔ لیکن جن لوگوں کو کینسر ہوتا ہے ان کے سانس میں موجود کیمیائی&nbsp; مادے مختلف ہوتے ہیں۔</p>
<p>ڈاکٹر پیٹر مازون کینسر کے منسلک سانس میں کیمیائی مادوں پر تحقیق کرنے والی&nbsp; ٹیم کے سربراہ تھے۔&nbsp; انہوں نے&nbsp; ریاست اوہائیو کے شہر کلیولینڈ کے کلیولینڈ کلینک میں 200 سے زائد افراد کے سانسوں کا تجزیہ کیا۔ جس سے معلوم ہوا کہ ان میں سے 92 افراد پھیپھڑوں کے کینسر&nbsp; میں مبتلا تھے جبکہ کئی ایک&nbsp; میں اس مرض کے نمایاں امکانات موجودتھے۔&nbsp;</p>
<p>ان کا کہناتھا کہ ہمیں معلوم ہوا کہ کسی بھی انسان کے سانس کا تجزیہ کرکے اس میں پھیپھڑوں کے کینسر کی 80 سے 85 فیصدتک درست تشخیص کرنا ممکن ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر مازون کا کہناہے کہ کا کہنا ہے کہ سانس کے تجزئیے سے انسانی جسم میں کینسر کے بارے میں خاصی معلومات اکٹھی کی جا سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر آخری مراحل والے کینسر کے مریضوں کے سانس کی نوعیت ان مریضوں سے مختلف تھی جن کا کینسر ابتدائی مرحلے میں تھا۔</p>
<p>لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ عام لوگوں کے لیے سانس کے ٹیسٹ کی سہولت مہیا کرنے سے پہلے اس پر ابھی مزید کام کی ضرورت ہے۔</p>
<p>مستقبل&nbsp; میں یہ ٹیسٹ مریضوں کے لیے عام چیک اپ کے دوران استعمال کیا جا سکے گا تاکہ ابتدائی مراحل میں کینسر کی تشخیص ممکن بنائی جا سکے۔ <br /> ماہرین کا اندازہ ہے کہ سانس کے تجزئیے کے اس ٹیسٹ کےساتھ ساتھ کیٹ سکین جیسے دیگر ٹیسٹوں کی مدد سے ڈاکٹرز&nbsp; مریضوں میں معمولی اور مہلک ٹیومرز&nbsp; کی تشخیص بھی کر سکیں گے، جس سے مریض کا علاج جلد شروع کرنا ممکن ہو سکے گا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 5 Jan 2012 16:38:36 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">136741608</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[ودوشی سنہا/رضانقوی]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-05T16:38:36Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[سائنس و صحت]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/ukr_lung_cancer_300.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>انٹارکٹیکا کےتیزی سے پگھلتےگلیشئر</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/health-science/Antarctic_Ice_Melt_28Dec11-136344953.html</link>
				<description>مغربی انٹارکٹیکا کے اس علاقے میں برف کے پگھلنے سے گزشتہ چند برسوں میں سمندر کی سطح میں سات  فیصد اضافہ ہوا ہے: ماہرین</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>سائنسدانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم دسمبر کے وسط میں انٹارکٹیکا جا رہی ہے جہاں وہ بر اعظم&nbsp; میں گلیشئر کی&nbsp; تیزی سے پگھلتی ہوئی برف کے بارے میں جائزہ لےگی۔</p>
<p>سائنسداں&nbsp; برف کے ایک ٹکڑے پر اپنا کیمپ قائم کریں گے جو امریکہ کے&nbsp; McMurdo ریسرچ سٹیشن سے 2600 کلومیٹر کی مسافت پر ہے۔ ان کی اس ریسرچ اور مشاہدے سے مدد مل سکے گی کہ آب وہوا کی تبدیلی سے انٹارکٹیکا میں برف پگھلنے کے بارے میں درست انداز میں پیشگوئی کرنا ممکن ہو گا۔ اور، برف پگھلنے کے نتیجے میں آنے والی صدیوں&nbsp; میں&nbsp; عالمی سطح پر سطح آب میں اضافہ ہو گا۔</p>
<p>اس سائنسی مہم کا ہدف پائن آئی لینڈ گلیشئر ہے جس کی چوڑائی2300مربع میٹر اور یہ 500میٹر گہرا ہے ۔</p>
<p>مغربی انٹارکٹیکا کے اس علاقے میں برف کے پگھلنے سے گزشتہ چند برسوں میں سمندر کی سطح میں سات&nbsp; فیصد اضافہ ہوا ہے۔یہ بات ناسا کے ماہر اور ٹیم لیڈر&nbsp; Robert Bindschadler نے بتائی ۔ وہ گلیشیئر ز کے ماہر ہیں۔</p>
<p>وہ کہتے ہیں کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں انٹارکٹیکا میں برف پگھل رہی ہے اور سطح سمندر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں ہمیں جانا ہے ۔اور اس سلسلے میں ہم نے پائن آئی لینڈ گلیشیئر کا انتخاب کیا ہے کیونکہ یہ سب سے زیادہ تیزی سے حرکت کرنے والا گلیشیئر ہے۔ اور یہی وہ گلیشیئر ہے جس کی برف سطح&nbsp; سمندرکے نیچے تیزی سے پگھل رہی ہے۔ اور ہمارے اندازے کے مطابق بعض مقامات پر ہرسال 100میٹر سے زائد برف پگھل جاتی ہے اور یہ شرح بے حد زیادہ ہے۔</p>
<p>اس مہم کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ آخر یہاں ہو کیا رہا ہے۔ بنڈ شیڈلر کہتے ہیں برف کے پگھلنے کی وجہ ہوا ۔ پانی اور برف کا باہمی امتزاج ہے جبکہ برف کی تہ کے نیچے خلا سےحرارت اٹھتی ہے۔ٹیم کو اب یہ معلوم کرنا ہے کہ برف کی تہ کے نیچے موجود خلا کی شکل کیسی ہے۔&nbsp;&nbsp; &nbsp;&nbsp;&nbsp; &nbsp;&nbsp;&nbsp; &nbsp;</p>
<p>بنڈ شیڈلر کہتے ہیں کہ ہمیں اس کی تفصیل معلوم نہیں&nbsp; اور ہم اپنے مشاہدے اور تجربے سے یہی معلوم کریں گے۔</p>
<p>سیٹلائیٹس گلیشیئر کی پیمائش کرتے ہوئے اس کی حرکت کو بھی نوٹ کر سکتے ہیں لیکن یہ برف کی تہ کے نیچے ہونے والی تبدیلی<br />&nbsp;پتہ نہیں چلا سکے۔</p>
<p>بنیادی طور پر اس طریقے کے تحت اس 500میٹر&nbsp; موٹے برف کے شیلف میں 27سینٹی میٹر حجم کا ایک سوراخ بنایا جائیگا&nbsp; اور اس کے لئے پمپ کے ذریعے گرم پانی استعمال ہو گا۔ ایک طرح سے یہ انتہائی بنیادی طریقہ ہے لیکن اس کے لئے شدید محنت درکار ہے۔اسے برف کے اندر دور تک پہنچانے کے لئے ہلکا اور پورٹیبل ہونا چاہئے۔</p>
<p>جب ڈرل پانی کی تہ تک پہنچ جاتی ہے تو پھر سائنسدان ایک کیمرہ نیچے بھیجیں گے&nbsp; جو برف کی تہ کے نیچے کی صورتحال کا مشاہدہ کرے گا اور&nbsp; اسے سیل کر دیگا۔ Stanton کا کہنا ہے کہ یہ ٹیم پروفائلر نامی ایک آلہ بھی نصب کریگی جو ایک کیبل کی مدد سے اوپر نیچے حرکت کر سکتی ہے اور برف کے نیچے اور سمندر کی تہ سے اوپر کے&nbsp; درجہ حرارت۔سیلن اور بہاو&nbsp; کا تعین کر سکتی ہے۔</p>
<p>اور پھر گہرائی میں سنسروں اور altimeter کی مدد سے برف کے پگھلنے کی رفتار کا پتہ چلایا جا سکتا ہے۔ <br /><br />پائن آئی لینڈ گلیشیر پر موجود کیمپ ضرورت کے لئے توانائی ہوا&nbsp; کی مدد سے چلنے والے جنریٹر ۔ شمسی پینل&nbsp; اور&nbsp; بیٹریاں استعمال کرے گا۔ اور سان ڈئیگو میں ان کے سکول میں موجود ان کے ساتھیوں سے رابطہ استوار رکھنے میں مدد&nbsp; ملے گی۔</p>
<p>اور سٹینٹن کے مطابق برف کے پگھلنے کے بارے میں کی جانے والی تحقیق کی حکمت عملیمیں تبدیلی کر نا ممکن رہے گا۔ پائن آئی لینڈ گلیشیر کی اس مہم کے لئے نیشنل سائنس فاونڈیشن اور امریکہ کے خلائی ادارے&nbsp; ناسا نے فنڈز فراہم کئے ہیںٕ۔ سمندر کے ماہر Timothy Stanton نے کہا ہے کہ اس تحقیق سے برف کے پگھلنے کی شرح&nbsp; اور ہمارے سیارے پر تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں کا علم ہو سکے گا۔</p>
<p>آڈیو رپورٹ سنیئے:</p>
<p>
<object classid="clsid:02bf25d5-8c17-4b23-bc80-d3488abddc6b" width="219" height="37" codebase="http://www.apple.com/qtactivex/qtplugin.cab#version=6,0,2,0">
<param name="src" value="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+1400+NEW+SCi++TECH+1624503+Massive+Antarctic+Ice+Melt-Skirble-BG-12-27.Mp3" /><embed type="video/quicktime" width="219" height="37" src="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+1400+NEW+SCi++TECH+1624503+Massive+Antarctic+Ice+Melt-Skirble-BG-12-27.Mp3"></embed>
</object>
</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 29 Dec 2011 00:14:05 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">136344953</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[روزان اسکربل/ بہجت گیلانی]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-12-29T00:14:05Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[سائنس و صحت]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/AP_Antarctic_11111111_480.jpg" length="111615" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP_Antarctic_11111111_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="296" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Pine+Island+Glacier+Antarctica.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>سرکاری اسپتالوں پر مریضوں کا بڑھتا ہوا رش</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan/pakistan-health-28dec11-136307048.html</link>
				<description>ڈاکٹر بتول نے کہا کہ  دیہاتوں کی سطح پر صحت عامہ  کا بنیادی نظام  بہتر بنا کر ہی عوام کو معیاری سہولتیں کی فراہمی ممکن ہو سکتی ہے۔ </description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>پاکستان کی آبادی کی اکثریت دیہی علاقوں میں مقیم ہے۔ ان علاقوں میں جہاں پینے کے صاف پانی اور &nbsp;نکاسی آب جیسی بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے وہیں صحت کے مراکز کی تعداد بھی&nbsp; نہ ہونے کے برابر ہے۔</p>
<p>پسماندہ علاقوں میں&nbsp; سہولتوں کی عدم فراہمی کے باعث &nbsp;مریضوں کی بڑی تعداد &nbsp;علاج کے لیے شہروں کا رخ کرتی ہے اور &nbsp;شہروں میں موجود سرکاری اسپتال اپنی استعداد سے دوگنی تعداد میں مریضوں کو صحت کی سہولتیں فراہم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔</p>
<p>وفاقی&nbsp; دارالحکومت کے &nbsp;بڑے سرکاری اسپتال &rsquo;پمز&lsquo; &nbsp;میں خواتین اور بچوں کے شعبے کی سربراہ ڈاکٹر بتول مظہر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ سرکاری اسپتال وہ واحد ذریعہ ہیں جو لوگوں کو مفت اور سستا علاج فراہم کر رہے ہیں لیکن ان اسپتالوں میں فنڈز کی کمی کے باعث مشین اور آلات خراب پڑے ہیں۔</p>
<p>&rsquo;&rsquo;ٹانکے ہیں دوائیاں ہیں ٹیکے ہیں جب مریض اسپتال میں آتا ہے تو وہ سب مانگتا ہے لیکن ہمارے پاس ہے ہی نہیں &nbsp;بجٹ ہی نہیں ہے۔ ساری مشینیں ہیں لیکن ان میں سے آدھی ہی کارآمد ہیں۔&nbsp; ان کی مرمت کے یا انہیں تبدیل کرنے کے لیے پیسے ہی نہیں ہیں&lsquo;&lsquo;۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>انھوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ سرکاری اسپتالوں میں موجود محدود سہولتوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے مریضوں کو طویل انتظار اور تکلیف دہ مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر بتول نے کہا کہ &nbsp;دیہاتوں کی سطح پر صحت عامہ &nbsp;کا بنیادی نظام&nbsp; بہتر بنا کر ہی عوام کو معیاری سہولتیں کی فراہمی ممکن ہو سکتی ہے ۔&rsquo;&rsquo;آپ نے ہیلتھ سسٹم صحیح کرنا ہے سوشل سیکورٹی سسٹم بہتر کرنا ہے سرکاری اسپتالوں میں سہولتیں فراہم کرنی ہیں پرائیوٹ اسپتالوں کو سستا کرنا ہے تاکہ عام آدمی کی بھی وہاں تک رسائی ہو سکے یہ مسائل وہ ہیں جو کوئی ڈاکٹر حل نہیں کر سکتا یہ منصوبہ سازوں کا کام ہے جو خلوص نیت سے یہ کام کرنا چاہتے ہوں۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>پاکستان میں خام ملکی&nbsp; پیداوار کا سالانہ دو فیصد سے بھی کم&nbsp; صحت کے شعبے کے لیے&nbsp; مختص کیا جاتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے عوام کو ان کے علاقوں میں ہی صحت کی سہولتوں کی فراہمی کے&nbsp; لیے ایک ایسا&nbsp; نظام وضع کرنے کی ضرورت ہے جس میں &nbsp;تحصیل اور ضلع کی سطح پر کام کرنے والے مراکز صحت زیادہ فعال اور موثر انداز میں بنیادی&nbsp; سہولتیں فراہم کر سکیں جو اس شعبے میں اصلاحات لائے بغیر ممکن نہیں ہے۔&nbsp;</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 28 Dec 2011 13:56:36 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">136307048</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[سارہ حماد رضوی]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-12-28T13:56:36Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Islamabad_Hospital_Pims_480.jpg" length="72552" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
																											
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Islamabad_Hospital_Pims_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="500" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Karachi_Patients_Hospital_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Islamabad_PIMS_Dr+Sayeda+Batool_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																										</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>تخلیق کائنات کے راز سے پردہ اٹھ گیا</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/god-particle-science-13dec11-135511058.html</link>
				<description>گاڈ پارٹیکل کی موجودگی کے شواہد نے کائنات کو سمجھنے اور اس کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے کی راہ ہموار کردی ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>جوہری طبعیات کی سب سے بڑی اور جدید تجربہ گاہ &nbsp;ایل ایچ سی کے سائنس دانوں نے کہا ہے کہ انہیں اپنے طویل تجربات کے دوران ایسے شواہد ملے ہیں جن سے گاڈ پارٹیکل کی موجودگی کا اشارہ ملتا ہے۔</p>
<p>گاڈ پارٹیکل یا خدائی صفات کے حامل ذرات کی امکانی موجودگی پر سائنس دانوں کو دو الگ الگ ٹیمیں ایک عرصے سے کام کررہی تھیں۔ 13 دسمبر کو ایک پریس کانفرنس میں سائنس دانوں نے اپنی بریفنگ میں کہا ہے کہ ماہرین کی ایک ٹیم کو کائنات کے سب سے چھوٹے ذرے کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں ۔ اس ذرے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کا ئنات کے بننے میں اس کا کلیدی کردار ہے۔</p>
<p>گاڈ پارٹیکل کی موجودگی کا انکشاف&nbsp; پارٹیکل فزکس کے ماہرین کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ان کا کہناہے کہ اس سے کائنات کی تخلیق کے سربستہ راز سےپردہ اٹھانے میں مدد مل سکتی ہے۔ &nbsp;</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>&nbsp;اطالوی سائنس دان فابیولا گیانوٹی ، جو تحقیقی &nbsp;ٹیم &nbsp;اٹلس سے منسلک ہیں، کہناہے کہ توانائی کے انتہائی کم سطحوں پر گاڈ پارٹیکل کی موجودگی کے کچھ شواہد حاصل ہوئے ہیں۔ ان تجربات کے دوران حاصل ہونے والے اعدادوشمار کا تفصلی جائزہ لیا جارہا ہے جس کے حتمی نتائج اگلے سال جاری کیے جائیں&nbsp; گے۔</p>
<p>کائنات میں آپ کو ان گنت چیزیں، ان کے دل فریب رنگ اور کرشمے دکھائی دیتے ہیں۔ جب کہ لاتعداد چیزیں تو ایسی ہیں جو انسانی آنکھ سے اوجھل ہیں۔ انسان اپنے شعور کے ابتدائی دور سے یہ جاننے کی جستجو کررہا ہے کہ &nbsp;کائنات کس طرح بنی تھی اورچاند ستارے اور کہکشائیں کیسے وجود میں آئیں۔</p>
<p>بہت عرصہ پہلے &nbsp;سائنس دانوں نے یہ معلوم کرلیاتھا کہ کائنات میں موجود ہر چیز اس مختصرترین اکائی پر قائم ہے جسے ایٹم کہاجاتا ہے۔ ہر چیز کا ایٹم تین اجزا سے مل کربناہے جسے الیکٹران، نیوٹران اور پروٹان کہا جاتا ہے۔ مگر ان سب کی اصل ایک ہے۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>سائنس دانوں کا کہناہے کہ ایٹم از خود وجود میں نہیں آئے۔ بلکہ انہیں ایک قوت نے انہیں اکھٹا ہونے میں مدد دی۔ یہ قوت اس ذرے میں ہے جسے گارڈ پارٹیکل&nbsp; کہاجاتا ہے۔ یعنی خدائی صفات رکھنے والا ذرہ۔</p>
<p>جدید جوہری &nbsp;طبعیات کا یہ نظریہ سب سے پہلے 1964ء میں برطانیہ کی &nbsp;ایڈن برگ یونیورسٹی کے ایک سائنس دان پیٹر برگ &nbsp;ہیگزنے پیش کیا۔ اور انہی کے نام پر اس تصوراتی ذرے کو ہیگز بوسن کا نام دیا گیا۔</p>
<p>اس نظریے میں کہا گیا ہے کہ ہر وہ چیز جس کا کوئی حجم ہے، چاہے وہ ٹھوس ، مائع یا گیس ہے۔اس کے اندر &rsquo;گاڈ پارٹیکل&lsquo; موجودہے۔ کیونکہ گارڈ پارٹیکل میں ہی وہ توانائی اور کشش موجود ہے جو چیزوں کو اسی طرح اپنی جانب کھینچ&nbsp; لیتی ہے جسے کسی مقبول لیڈر یا اسٹار کی مقناطیسی کشش لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرلیتی ہے۔ اور ان کے گرد ایک مجمع لگ جاتا ہے۔ سائنس دان کہتے ہیں کہ ایٹم کی مثال بھی اسی مجمع کی سی ہے، جسے گارڈ پارٹیکل نے اکھٹا کررکھاہے۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>سائنس دانوں کا کہناہے کہ تقریباً 15 ارب سال قبل کائنات ایک بہت بڑے گولے کی شکل میں تھی ۔ جو اپنی اندرونی قوت کے دباؤ سے پھٹ کر بکھر گیا۔ پھر کئی کروڑ سال تک کائنات میں صرف توانائی بکھری رہی اور پھر رفتہ رفتہ درجہ حرارت کم ہونے کے بعدوہ سورج چاند ستاروں اور دوسری اشکال میں ڈھل گئی۔ مگر تشکیل کے اس عمل میں گاڈ پارٹیکل نے مرکزی کردار ادا کیا ۔ اب وہ کئی برسوں سے اپنے اس نظریے کو ثابت کرنے کے لیے تجربات کررہے ہیں۔</p>
<p>گارڈ پارٹیکل کے نظریے کی تصدیق کے لیے دنیا کی سب سے مہنگی اور سب سے بڑی تجربہ گاہ 10 ارب ڈالر کی لاگت سے فرانس اور سوئٹزر لینڈ کی سرحد پرزیر زمین قائم کی گئ تھی ۔جسے لارج ہائیڈرون کولائیڈر یا ایل ایچ سی کہاجاتا ہے۔ یہ لیبارٹری تقربیاً27 کلومیٹر لمبی سرنگ میں واقع ہے اور زمین کی سطح سے اس کی گہرائی574 فٹ ہے۔ یہاں کام کا آغاز ستمبر2008ء میں ہوا تھا اور اس لبیارٹری میں کیے جانے والے تجربات میں دنیا کے ایک سوسے زیادہ ممالک کے سائنس دان کام کرتے رہے ہیں، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔</p>
<p>چند ماہ پہلے اسی تجربہ گاہ نے روشنی سے بھی تیز رفتار ذرے نیوٹرینو کودریافت کرکے آئن سٹائن کے اس شہرہ آفاق نظریے کو غلط ثابت کردیاتھا کہ اس کائنات کی کوئی چیز روشنی کی رفتار کو نہیں پہنچ سکتی۔</p>
<p>گاڈ پارٹیکل کی موجودگی کے شواہد اکٹھے کرنے کے لیے سائنس دانوں کی ٹیموں نے &nbsp;اٹلس اور سی ایم ایس کے نام سے &nbsp;الگ الگ &nbsp;تجربات کیے۔</p>
<p>برطانیہ کی لیور پول یونیورسٹی&nbsp; میں پارٹیکل فزکس کی ایک سائنس دان ڈاکٹر تارا شیرس کا کہناہے کہ گارڈ پارٹیکل کی تصدیق یہ ثابت کرتی ہے کہ ہم نے کائنات کی تخلیق کا راز پالیا ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 13 Dec 2011 16:18:40 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">135511058</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[جمیل اختر]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-12-13T16:18:40Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Atomic+collider-485.jpg" length="92170" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
																																																													
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Atomic+collider-485.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Atomic+collider-301.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Atomic+collider-303.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/Atomic+collider-304.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/GeminiSMBlHole.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																										</media:group>
																						</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>بھوتوں کی سائنسی حقیقت</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/ghost-secience-12dec11-135441428.html</link>
				<description>کیا آئن سٹائن کا نظریہ اضافیت  بھوتوں کے وجود کی تصدیق کرتا ہے؟</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>کیا آپ بھوت پکڑنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟</p>
<p>دنیا کے تقریباً ہرحصے میں ایسے عامل اور ماہر موجود ہیں جن کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ بھوتوں کو پکڑ سکتے ہیں اور انہیں بھاگنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔ ان دعوؤں کی حمایت اور مخالفت میں بہت کچھ کہا جاتا ہے اور لاکھوں افراد ایسے ہیں جویہ خواہش کرتے ہیں کہ الہ دین کے چراغ کے جن کی طرح ان کے قبضے میں بھی کوئی جن بھوت آجائے اور ان کی زندگی آسان ہوجائے۔</p>
<p>سوال یہ ہے کہ بھوت کیا کچھ کرسکتے ہیں، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ آیا اس دنیا میں ان کا کوئی وجود ہے بھی یا نہیں؟</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے بھوتوں پر پر یقین رکھنے والوں کی تعداد نمایاں طورپر زیاد ہے۔ پس ماندہ معاشروں کی تو بات ہی چھوڑئیے،&nbsp; ترقی یافتہ ممالک میں بھوتوں کی موجودگی پر یقین کرنے والے اکثریت میں ہیں۔&nbsp; امریکہ میں تو ہرسال اکتوبر کے آخر میں ہالووین کے نام سے&nbsp; بھوتوں اور روحوں کو خوش کرنے کا دن بھی منایا جاتا ہے۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>اور سب سے بڑھ کر یہ کہ امریکہ میں پرانے اور پیچیدہ مقدمات سے متعلق&nbsp; ٹیلی ویژن چینل پر&nbsp; دکھائی جانے والی متعدد رپورٹوں میں پولیس بعض دفعہ اندھے جرائم کے مجرموں تک پہنچنے کے لیے عالموں کے ذریعے بھوتوں کی مدد بھی حاصل کرتی ہے۔</p>
<p>مشرق اور مغرب میں بھوتوں پر الگ الگ نظریات اور تصورات پائے جاتے ہیں۔ کچھ عقائد میں انہیں ایک علیحدہ مخلوق کے طورپر دیکھا جاتا ہے، مثلاً جن وغیرہ، &nbsp;جب کہ مغرب میں اکثر کا یہ خیال ہے کہ&nbsp; بھوت انسانوں اور حیوانوں کی بھٹکی ہوئی روحیں ہیں۔ ہم اس مضمون میں روحوں کے نظریے پر ہی بات کریں گے۔</p>
<p>بھوتوں کا نظریہ یہ اتنا ہی پرانا جتنا کہ انسانی تاریخ۔ کئی قبل از تاریخ کھنڈرات اور قدیم غاروں کی دیواروں پر بنی تصویریں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ اپنے شعور کے ابتدائی دور میں بھی انسان بھوتوں پر یقین رکھتا تھا۔</p>
<p>دنیا بھر میں ایسے افراد بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں جو انہیں دیکھنے، یا ان سے ہم کلام ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ان میں سے کئی ایک کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ بھوتوں کے ساتھ رہ رہے ہیں۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>بھوتوں پر ہالی وڈ کی کئی کامیاب فلمیں ریلز ہوچکی ہیں اور امریکہ اور یورپ میں ان پر کئی مشہور ٹی ویژن سیریل دکھائے جاچکے ہیں۔ لیکن بھوتوں سے متعلق علوم کے ماہرین کا کہناہے کہ ٹیلی ویژن اور فلموں میں بھوتوں کو ڈراونے انداز میں پیش کیا جاتا ہے جبکہ بھوتوں کی اکثریت صلح پسند ہوتی ہے۔اور وہ نقصان پہنچانے سے گریز کرتے ہیں۔</p>
<p>مغربی دنیا میں بھوتوں کے اکثر عامل پیرا سائیکالوجی کے ماہر کہلاتے ہیں۔ ایک عامل جان کاکوبا نے اپنی کتاب &rsquo;گوسٹ ہنٹرز&lsquo; میں لکھا ہے کہ آئن سٹائن کا نظریہ اضافیت بھوتوں کی موجودگی کو ثابت کرتا ہے۔ جس کے مطابق توانائی کو فنا نہیں کیا جاسکتا۔ وہ کہتے ہیں کہ روح توانائی کی ایک قسم ہے، جو برقی مقناطیسی قوت کی صورت میں جسم میں رہتی ہے۔ جسم مرجاتا ہے لیکن روح نہیں مرتی، کیونکہ وہ ایک توانائی ہے۔ جب کہ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جس طرح جسم مٹی کے ساتھ مل کرمٹی ہوجاتاہے، اسی طرح جسم میں موجود توانائی حرارت میں تبدیل ہوکر فضا میں تحلیل ہوجاتی ہے۔</p>
<p>پیرا سائیکالوجی کےاکثر ماہرین جان کاکوبا کے ہی نظریات پر یقین رکھتے ہیں۔</p>
<p>انسان کاجسمانی نظام بجلی پر کام کرتا ہے جو جسم کے اندر ہی پیدا ہوتی ہے۔ مخصوص کیمروں کے ذریعے جسم سے خارج ہونے والی خفیف برقی لہروں کی تصویر اتاری جاسکتی ہے۔ عاملوں کا کہناہے جسم کی موت کے بعد یہ برقی توانائی یا روح دوسری دنیا میں چلی جاتی ہے، لیکن جو افراد مرتے وقت انتقام یا محبت کے شدید ترین جذبات کی کیفیت سے گذر رہے ہوتے ہیں، ان کی روحیں اپنے مقصد کی تکمیل تک دنیا میں ہی رک جاتی ہیں، جو بھوت بن جاتی ہیں۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>صرف انسانی روحیں ہی بھوت کی شکل میں ظاہر نہیں ہوتیں بلکہ کئی گھریلو پالتو جانور، مثلاً ایسے کتوں اور بلیوں کی روحیں بھی ان کے مرنے کے بعد بھوت بن جاتی ہیں جنہیں اپنے مالکوں سے شدید محبت ہوتی ہے یا وہ کوئی خاص انتقام لینا چاہتی ہیں۔&nbsp; یہ روحیں اکثر اپنے مالکوں کا پیچھا کرتی رہتی ہیں۔</p>
<p>اکثر عاملوں کا کہنا ہے کہ بھوت از خود کچھ نہیں کرسکتے۔ انہیں اپنا مشن مکمل کرنے کے لیے انسانی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ مدد کے لیے ہمارے اردگرد منڈلاتے رہتے ہیں۔ جب ان کا کام پورا ہوجاتا ہے تو باقی روحوں کی طرح&nbsp; وہ بھی دوسری دنیا میں چلے جاتے ہیں۔</p>
<p>پیرا سائیکالوجی&nbsp; کے ماہرین &nbsp;کا کہنا ہے کہ بعض انسانوں کا جسمانی برقی مقناطیسی نظام بہت توانا ہوتا ہے یا وہ مشق کے ذریعے وہ اپنی یہ قوت اتنی زیادہ بڑھا لیتے ہیں کہ دوسروں کی سوچ اور خیالات پر اثرانداز ہونے کے قابل ہوجاتے ہیں، جس کی ایک نمایاں مثال ہپناٹزم اور ٹیلی پیتھی کے ماہرین ہیں۔ &nbsp;لیکن جب کسی غلطی کی وجہ&nbsp; سے وہ اپنی مقناطیسی لہروں کو کنٹرول نہیں کرپاتے تو وہ توانائی بھی بھوت کی شکل اختیار کرلیتی ہیں۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>پیرا سائیکالوجی کے ان ماہرین کو اپنے نظریے پر اتنا پختہ یقین ہے کہ وہ بھوت پکڑنے کے لیے سائنسی آلات استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً قطب نما، برقی مقناطیسی لہروں کا کھوج لگانے والے میٹر،&nbsp; حرارت اور توانائی کی لہروں کی تصویر اتارنے والے کیمرے، اور مخصوص قسم کے سکینر وغیرہ،&nbsp; لیکن وہ اپنا یہ ٹریڈ سیکریٹ نہیں بتاتے کہ وہ کس طرح بھوتوں سے ہم کلام ہوتے ہیں۔</p>
<p>بھوتوں کی تصویریں اور ویڈیوز بڑی تعداد میں یوٹیوب اور انٹرنیٹ کی کئی سائٹس پر موجود ہیں۔ لیکن سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ زمین کے مخصوص مقناطیسی میدان، اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بعض مقامات پر ایسے چھوٹے چھوٹے برقی دائرے بن جاتے ہیں، جو الیکٹرانک آلات پر بھوت کی شکل میں دکھائی دیتے ہیں۔</p>
<p>بھوتوں سے منسوب زیادہ تر واقعات قدیم اور متروک عمارتوں، کھنڈرات، اجاڑ اور ویران جگہوں، نیم تاریک اور ٹھنڈے مقامات پر رونما ہوتے ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ اور اسی طرح کے اور بھی کئی ایسے سوالات ہیں جن کا ابھی تک پیرا سائیکالوجی کے ماہرین اور سائنس دانوں کے پاس کوئی ٹھوس جواب موجود نہیں ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Mon, 12 Dec 2011 16:15:05 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">135441428</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[جمیل اختر]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-12-12T16:15:05Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Ghost-482.jpg" length="66755" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
																																																																														
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Ghost-482.jpg" medium="image" isDefault="true" height="330" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Ghost-302.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/ghost-303.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/ghost-305.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/Ghost--304.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/ghost-300..jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																										</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>انسانی حقوق اور ذہنی امراض میں مبتلہ افراد</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/health-science/WHO_HRs_Mentallyill_10Dec11-135380548.html</link>
				<description>دنیا بھر میں ذہنی صحت کی سہولتوں کے ادارے ذہنی مریضوں کو ناقص دیکھ بھال فراہم کررے ہیں، جو اُن کی صحت یابی میں اکثر رکاوٹ پیدا کرتے ہیں: عالمی ادارہٴ صحت </description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>عالمی ادارہٴ صحت نےناروا حالات کو انسانی حقوق کی چُھپی ہوئی ہنگامی صورتِ حال قرار دیا ہے جِن کا سامنا ذہنی امراض میں مبتلہ افراد کو کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p>ڈبلیو ایچ او نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ دنیا بھر میں ذہنی اور جسمانی معذوری کے شکار لوگ انسانی حقوق کی وسیع خلاف ورزیوں اور امتیازی سلوک کا شکار ہوتے ہیں۔</p>
<p>اقوامِ متحدہ کے ادارے نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں ذہنی صحت کی سہولتوں کے ادارے ذہنی مریضوں کو ناقص دیکھ بھال فراہم کررے ہیں، جو اُن کی صحتیابی میں اکثر رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔</p>
<p>عالمی ادارہٴ صحت میں ذہنی پالیسی کی رابطہ کار مشیل کہتی ہیں کہ ذہنی صحت کے اداروں میں اکثر مریضوں کو بے حد ناروا سلوک اور تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ مریض غیر انسانی حالات میں زندہ رہتے ہیں اور اُنھیں غیر معیاری علاج مہیا کیا جاتا ہے۔</p>
<p>اُن کے الفاظ میں: &rsquo;مثال کے طور پر، لوگوں کو ضرورت سے زیادہ دوائیں دے دی جاتی ہیں، تاکہ وہ آسانی سے بات مانتے رہیں اور اُنھیں سنبھالنا آسان ہو۔ اُنھیں سیل میں بند کیا جاتا ہے یا دِنوں یا مہینوں کھانے اور پانی کے بغیر بند رکھا جاتا ہے۔ اُن سے انسانوں کا رابطہ بھی نہیں ہوتا اور نہ ہی اُنھیں باتھ روم کی سہولت دی جاتی ہے۔ اور سب سے سنگین بات یہ ہے کہ یہ سلوک وہ لوگ کرتے ہیں جو اِن مریضوں کے علاج اور دیکھ بھال کے ذمہ دار ہیں&lsquo;۔</p>
<p>عالمی ادارہ ٴ صحت کا کہنا ہے کہ صحت ِ عامہ کے کارکنوں کی تربیت نہ ہونے کے برابر ہے، اور گروپ کے مطابق، کارکن یہ سمجھنے سے قاصر ہوتےہیں کہ ذہنی امراض کے شکار لوگوں کے بھی حقوق ہیں جِن کا احترام کیا جانا چاہیئے، نہ کہ خلاف ورزی۔</p>
<p>وہ کہتی ہیں کہ ڈبلیو ایچ او کے &rsquo;کوالٹی رائٹس&lsquo; منصوبے کا مقصد اِن خلاف ورزیوں سے نمٹنا ہے۔</p>
<p>اُن کا کہنا ہے کہ اِس منصوبے کا اولین مقصد ذہنی مریضوں کےحقوق اور اُن غیر انسانی حالات کو بہتر بنانا ہے جِن کا&nbsp; اُنھیں سامنا ہو سکتا ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sat, 10 Dec 2011 21:32:33 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">135380548</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[لیزا شلائین / مدثرہ منظر]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-12-10T21:32:33Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[سائنس و صحت]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/reu-heart-nurse-se.jpg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>مریخ پر معدنیات کی موجودگی کا انکشاف</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/health-science/US-Mars-Rover-08Dec11-135251578.html</link>
				<description>ناسا نے اپنا تازہ ترین خلائی جہاز، ’کیوراسٹی‘ ،  گذشتہ ماہ مریخ کی جانب روانہ کیا تھا جو اگلے سال کے وسط میں وہاں پہنچے گا</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکہ کے خلائی ادارے ناسا نے کہاہے کہ&nbsp; مریخ کی تحقیق کے لیے بھیجی جانے والی اس کی روبوٹک گاڑی کے تجربات سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ اس سیارے میں ایسے معدنی&nbsp; ذخائر موجود ہیں&nbsp; جن کی تشکیل میں بظاہر پانی کا کردار رہا ہے۔</p>
<p>مریخ کے نالی کی شکل کے جس حصے سے معدنی اجزا ملے ہیں ، اسے &rsquo;ہوم اسٹیک &lsquo; کا نام دیا گیاہے اور اس کی چوڑائی تقریباً انسانی انگوٹھے کےمساوی ہے۔</p>
<p>ناسا کاکہناہے کہ روبوٹک گاڑی&nbsp; کے تجربات سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ معدنی جزو جپسم ہے۔</p>
<p>جپسم&nbsp; زمین پر بھی پایا جاتا ہےجسے عموماً&nbsp; ڈرائی وال اور پلاسٹر آف پیرس بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔</p>
<p>ناسا کے ماہرین کا قیاس ہے کہ آتش فشانی چٹانوں سے بہہ کر آنے والے پانی نے جپسم کو نالی کی شکل میں&nbsp; جمع کرنے میں کردار ادا کیا تھا۔</p>
<p>ناسا نے اپنا تازہ ترین خلائی جہاز گذشتہ ماہ مریخ کی جانب روانہ کیا تھا۔ &rsquo;کیوراسٹی &lsquo; نامی یہ&nbsp; جہاز اگلے سال کے وسط میں وہاں پہنچے گا اور آتش فشانوں کے دہانوں کے اندر تجربات کرے گا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 8 Dec 2011 16:40:40 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">135251578</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-12-08T16:40:40Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[سائنس و صحت]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/MARS_ROVER_300.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
													
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>مینڈک زلزلے سے پیشگی آگاہ  ہوجاتے ہیں</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/earthquake-toad-research-6dec11-135088448.html</link>
				<description>مینڈکوں کو تین روز پہلے پتا چل جاتا ہے کہ زلزلہ آنے والا ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>ممکن ہے کہ آپ کے لیے یہ خبر دلچسپی کا باعث ہوکہ مینڈکوں کو کئی گھنٹے اور بسااوقات دو تین روز پہلے ہی پتا چل جاتا ہے کہ زلزلہ آنے والا ہے اور وہ اپنے بچاؤ کے لیے محفوظ مقامات کی طرف بھاگنا شروع کردیتے ہیں۔</p>
<p>قدرت نے کئی جانوروں اور پرندوں کو ناگہانی خطرات سے پیشگی خبردار کرنے کی صلاحیت عطا کی &nbsp;ہے۔ مثلاً بارش سے قبل کئی پرندے محفوظ مقامات کی طرف اڑنے لگتے ہیں۔ آندھی سے کافی دیر &nbsp;پہلے جھینگروں کی آوازیں بند ہوجاتی ہیں، خطرے کی بوسونگھ کر گھوڑے اچانک مخصوص انداز میں ہنہنانے لگتے ہیں، اسی طرح جنگل کے جانور خطرے کو قبل از وقت بھانپ&nbsp; کر جان بچانے کے لیے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔</p>
<p>لیکن اپریل2009ء میں اٹلی کے علاقےلاکویلا میں&nbsp; تقریباً چھ درجے شدت کے &nbsp;زلزلے سے پہلے کسی کو یہ علم نہیں تھا کہ مینڈکوں کو اس ناگہانی آفت کا تین روز پہلے ہی پتا چل گیا تھا۔</p>
<p>لاکویلا میں زلزلے سے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلی تھی اور بڑے زلزلے کے بعد ہفتوں تک &nbsp;چھوٹے زلزلوں کے &nbsp;ہزاروں جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔</p>
<p>زلزلے کو قدرتی آفات میں سب سے زیادہ خطرناک تصور کیاجاتا ہے کیونکہ زلزلہ کسی کو سنبھلنے، سوچنے سمجھنے اور جان بچانے کا موقع نہیں دیتا اور لمحوں میں ہنستی بستی آبادیاں ملبوں کا ڈھیر بن جاتی ہیں۔چند سال قبل پاکستان کے شمالی علاقے میں&nbsp; ایک تباہ کن زلزلے سے صرف چند منٹ میں درجنوں آبادیاں کھنڈر بن گئی تھیں اور 80 ہزار سے زیادہ افراد موت کے منہ میں چلے گئےتھے۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>ہماری زمین بڑی بڑی چٹانی پرتوں پر قائم ہے، جن &nbsp;کے کونے ایک دوسرے کے اوپر رکھے ہیں۔ زمین کے گہرائیوں میں درجہ حرارت کی تبدیلی ، اندورنی دباؤ اور بعض دوسرے عوامل کی وجہ سے یہ چٹانیں آہستہ آہستہ کھسکتی رہتی ہیں۔ جب ایک چٹان دوسری چٹان سے ہٹتی ہے تو زمین کی سطح پر کئی سو میل تک زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے جاتے ہیں۔ اور پھر بعد میں ہلکے جھٹکے (آفٹر شاکس )اس وقت تک آتے رہتے ہیں جب تک کھسکنے والی چٹان نئی جگہ پر مضبوطی سے جم نہیں جاتی۔</p>
<p>آج کے جدید سائنسی دور میں &nbsp;ماہرین یہ جانتے ہیں کہ دنیا کے کون کون سے شہر اور آبادیاں اس مقام پر واقع ہیں جہاں زمین کی تہہ میں چٹانیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں اور ان کے کھسکنے کے امکانات موجود ہیں، لیکن ابھی&nbsp; تک ایسا کوئی نظام تیار نہیں کیا جاسکا جس سے پہ پتا چل سکے کہ چٹانوں کے کھسکنے کا عمل کب شروع ہوگا۔</p>
<p>لیکن دو سال پہلے اٹلی کے ایک تالاب سے زلزلہ آنے سے پہلےزیر تجربہ &nbsp;مینڈکوں کے اچانک فرار نے سائنس دانوں کو ایک نئی راہ دکھائی۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>ہوا یہ کہ ایک ماہر حیاتیات مس گرانٹ ، اٹلی کے شہر لاکویلا میں&nbsp; مینڈکوں پر تحقیق کررہی تھیں۔ &nbsp;تالاب میں 90 کے لگ بھگ مینڈک رکھے گئے&nbsp; تھے لیکن جب زلزلے سے تین روز پہلے 80 سے زیادہ مینڈک&nbsp; گھبراہٹ کے عالم میں &nbsp;تالاب چھوڑ کر بھاگ گئے تو انہوں نے ناسا کے ماہرین سے رابطہ کیا۔</p>
<p>سائنسی جریدے زولوجی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زلزلے سے&nbsp; تین روز قبل تالاب میں زیر تجربہ مینڈکوں کا فرار&nbsp; محض کوئی اتفاق نہیں تھا، کیونکہ&nbsp; انہیں زلزلے کے کئی روز بعدآفٹرشاکس کی شدت کم ہونے پر دوبارہ تالاب میں رہنے پر مجبور کیا جاسکا تھا۔</p>
<p>ناسا کے ماہرین نے اندازہ لگایا کہ زیر زمین چٹانوں کے کھسکنے سے پہلے یقیناً ایسی&nbsp; کیمیائی تبدیلیاں آتی ہیں ، جسے مینڈکوں کا حسیاتی نظام محسوس کرلیتا ہے اور انہیں اپنی جان بچا کر بھاگنے پر مجبور کردیتا ہے۔</p>
<p>تجربات سے انہیں معلوم ہوا کہ چٹانیں اچانک اپنی جگہ نہیں چھوڑتیں بلکہ شدید دباؤ کے تحت یہ عمل کئی روز پہلے شروع ہوجاتا ہے۔ اس دوران چٹانیں برقائے ہوئے ذرات خارج کرنا شروع کردیتی ہیں&nbsp; جو زمین کی سطح پر موجود پانی&nbsp; کو متاثر کرتے ہیں۔ ناسا کے سائنس دان فرائیڈ من&nbsp; &nbsp;کا کہناہے کہ بہت ممکن ہے کہ پانی میں یا اس کےقریب رہنے والے کچھ&nbsp; جانداروں پر،مثلاً مینڈک وغیرہ، زمین کے اندر سے خارج ہونے والی برقی لہروں&nbsp; کا شدید اثرہوتا ہو جس سے بچنے کے لیے وہ وہاں سے چلے جاتے ہوں۔</p>
<p>ناسا ہی کے ایک اور سائنس دان ڈاکٹر فرینڈ کہتے ہیں کہ زلزلے سے قبل چٹانوں سے نکلنے والے والے برقی ذرات زمین کی سطح پر آکر ہوا میں آئن پیدا کردیتے ہیں۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>آئن مثبت چارج رکھنے والے برقی ذرات ہوتے ہیں۔ فضا میں ان کی زیادتی کئی لوگوں میں&nbsp; سردرداور متلی کی کیفیت پیدا کردیتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے خون میں دباؤ بڑھانے والے ہارمونز کی سطح بھی بلند ہوجاتی ہے۔ لیکن چونکہ فضا&nbsp; میں برقی ذرات&nbsp; کی موجودگی کی اور بھی کئی وجوہات ہوتی ہیں&nbsp; اس لیے سردرد اورمتلی کو زلزلے کی پیش گوئی نہیں سمجھا جاسکتا۔</p>
<p>جب کہ ماہرین کا کہناہے کہ کسی ایسی جگہ سے جو فالٹ زون یعنی زلزلوں کے امکانی علاقے میں واقع ہو، پانی سے بڑے پیمانے پر مینڈکوں کے فرار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔</p>
<p>اس کے علاوہ کئی دوسرے عوامل بھی زلزلے کے امکان کی نشان دہی کرتے ہیں۔ مثلاً اکثر پالتو جانورزلزلے سے کئی گھنٹے قبل گھبراہٹ اور پریشانی میں عجیب و غریب حرکات کرنے لگتے ہیں۔ فالٹ زون میں زلزلے سے پہلے فضا میں تابکاری کی سطح بڑھ جاتی ہے اور کرہ ہوائی کے آئن زون میں&nbsp; برقی ذرات کی مقدار تبدیل ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر آسمان پر بادل ہوں تووہ اس سے کہیں مختلف دکھائی دیتے ہیں جیسا کہ عموماً نظر آتے ہیں۔</p>
<p>مینڈکوں نے سائنس دانوں کے لیے تحقیق کے نئے دروازے کھول دیے ہیں اوریہ امکان پیدا ہوگیا ہے کہ مستقبل قریب میں زلزلے سے کئی گھنٹے قبل اس کی پیش گوئی کی جاسکے گی۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ زلزلہ پیما مراکز میں مینڈک پالے جائیں گے بلکہ ایسا نظام تیار کیا جاسکتاہے جو زیر زمین چٹانوں سے خارج ہونے والے برقی ذرات کی مؤثر پیمائش کرکے خطرے سے پیشگی خبردار کرسکے گا۔</p>
<p>
<object classid="clsid:02bf25d5-8c17-4b23-bc80-d3488abddc6b" width="530" height="47" codebase="http://www.apple.com/qtactivex/qtplugin.cab#version=6,0,2,0">
<param name="src" value="http://media.voanews.com/audio/Yasmin-Toads-2nd+version.Mp3" /><embed type="video/quicktime" width="530" height="47" src="http://media.voanews.com/audio/Yasmin-Toads-2nd+version.Mp3"></embed>
</object>
</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 6 Dec 2011 13:45:01 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">135088448</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[جمیل اختر]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-12-06T13:45:01Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/toad-480.jpg" length="67766" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
																																																													
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/toad-480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Toad-302.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Earthquake+faul+line-301.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/Toad-303.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/Pak+earthquake-300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																										</media:group>
																						</item>
									
										
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>ایچ آئی وی ایڈز کی روک تھام میں نمایاں کامیابی</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/health-science/UN-AIDS-30Nov11-134759533.html</link>
				<description>عالمی ادارہ صحت کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ عشرے کے دوران ایچ آئی وی کے وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 15 فی صد تک کم ہوئی ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>اقوام متحدہ کی جانب سے بدھ کو جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ ایچ آئی وی ایڈز کی روک&nbsp; تھام کے سلسلے میں دنیا نے گذشتہ سال نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ لیکن عالمی سطح کے اس وبائی مرض کے خاتمے کے لیے ابھی مزید بہت کچھ کیا جانا ضروری ہے۔</p>
<p>عالمی ادارہ صحت کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ عشرے کے دوران ایچ آئی وی کے وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 15 فی صد تک کم ہوئی ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ گذشتہ پانچ سال کے دوران ایڈز میں مبتلا ہوکر ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں بھی 22 فی تک کمی واقع ہوئی ہے۔</p>
<p>اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بن کی مون نے کہا ہے کہ اب&nbsp; دنیا ایچ آئی وی کے وبائی مرض پر قابو پانے کے قابل ہوچکی ہے۔لیکن انہوں نے دنیا بھر میں ان کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے عطیہ دینے والوں پر زور دیا کہ وہ اس مہم کو جاری رکھنے کے لیے درکار سالانہ 24 ارب ڈالر جمع کرنے میں تعاون کریں۔</p>
<p>دنیا بھر میں جمعرات کو ایچ آئی وی ایڈز سے بچاؤ کا دن منایا جارہاہے۔ اس سلسلے میں ایک روز قبل جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومتوں اور امدادی تنظیموں کی جانب سے کٹوتیوں کے باعث عالمی سطح پر ایچ آئی وی ایڈز سے مقابلے کی مہم کو 2010ء میں تقریباً ایک ارب ڈالر کی کمی کاسامنا کرنا پڑا۔</p>
<p>اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی تعداد تین کروڑ 40 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 30 Nov 2011 17:13:02 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">134759533</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-11-30T17:13:02Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[سائنس و صحت]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/unaids_report.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
													
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>آئن سٹائن کے دماغ کی نمائش</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/einstein-brain-display-30nov11-134741628.html</link>
				<description>فلاڈلفیا کے ایک میڈیکل میوزیم میں بیسویں صدی کے عظیم سائنس دان ڈاکٹر البرٹ آئن سٹائن کا دماغ کی پہلی بار نمائش  کے لیے رکھا گیا ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>البرٹ آئن سٹائن زندگی بھر کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے اور توانائی اور مادے کے تعلق کی گتھیاں سلجھانے کا سوچتے رہے، مگر اس دوران شاید انہوں نے کبھی یہ نہیں سوچا ہوگا کہ ایک روز ان کا دماغ نمائش کے لیے رکھا جائے گا اور لوگ حیرت سے اسے دیکھ کر سوچیں گے کہ یہی ہے وہ دماغ جس نے ایٹم توڑ کر توانائی حاصل کرنے کانظریہ پیش کیا تھا اور جس نے کہا تھا کہ کائنات کی کوئی چیز روشنی کی رفتار کو نہیں پہنچ سکتی۔</p>
<p>جدید طبیعاتی سائنس کی بنیاد آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت پر قائم ہے، مگر چند ماہ قبل یورپ میں قائم جوہری طبیعات کی دنیا کی سب سے بڑی زیر زمین تجربہ گاہ میں&nbsp; یہ نظریہ باطل ہوچکاہے اور روشنی سے بھی تیزرفتار ذرات نیوٹرینو دریافت کرلیے گئے ہیں۔</p>
<p>ان دنوں امریکی شہر فلاڈلفیا کے مووٹرمیوزیم اینڈ ہسٹاریکل میڈیکل لیبارٹری میں آئن سٹائن کے دماغ کی نمائش جاری ہے۔ اس نمائش میں ان کے دماغ&nbsp; کو46 ٹکڑوں کی شکل میں سلائیڈوں پر پیش کیا گیا ہے۔ 20 ویں صدی کے اس عظیم ترین سائنس دان کے دماغ کی یہ پہلی نمائش ہے۔</p>
<p>عجائب گھر کی کیوریٹر اینا ڈوڈی کا کہناہے کہ میوزیم میں آنے والے دماغ کی 45 سلائیڈوں کو اپنی اصلی حالت میں دیکھ سکتے ہیں جب کہ ایک سلائیڈ کو خردبینی عدسے کے ذریعے بڑا کرکے دکھانے کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>آئن سٹائن کا انتقال 1955ء میں 76 سال کی عمر میں ہواتھا۔ موت کے اسباب کا پتا لگانے کے لیے ڈاکٹر ٹامس ہاروے نے ان کا پوسٹ مارٹم کیاتھا۔اس دوران ڈاکٹر نے ان کا دماغ بھی معائنہ کے لیے باہر نکالا مگر وہ اسے دوبارہ کھوپڑی کے اندر رکھنے میں ناکام رہے اور انہوں نے دماغ کو اپنے ہی پاس رکھ لیا۔ ڈاکٹر ہاروے نے دعویٰ کیا تھا کہ آئن سٹائن کے بیٹے نے انہیں دماغ لے جانے کی اجازت دی تھی۔ لیکن اس پر کھڑے ہونے والے تنازع میں ڈاکٹر ہاروے کو اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑے، مگر عظیم سائنس دان کا دماغ انہی کی تحویل میں رہا۔</p>
<p>ڈاکٹر ہاروے کو اپنی ابتدائی &nbsp;تحقیق سے پتا چلا کہ دماغ کے دونوں حصوں کو ڈھاپنے والی مخصوص تہہ موجود نہیں تھی اور دماغ کے خلیوں کا حفاظتی حصہ بھی نمایاں طورپر بڑا تھا۔ گویا آئن سٹائن کا دماغ عام افراد سے کچھ مختلف تھا۔</p>
<p>اس واقعہ کے کئی سال کے بعد ڈاکٹر ٹامس ہاروے نے آئن سٹائن کے دماغ کے کچھ حصے مزید تحقیق کے لیے نیورو سائنس دانوں کو بجھوائےتا کہ وہ یہ جائزہ لیں کہ دماغ کے کس حصے نے &nbsp;انہیں 20 ویں صدی کا ذہین ترین سائنس دان بنانے میں مدد دی تھی۔</p>
<p>تفصیلی معائنے&nbsp; اور متعدد تجربات سے گذرنے کے بعد ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ آئن سٹائن کے دماغ کے وہ حصے جن کا تعلق بول چال اور زبان سے ہوتا ہے، نسبتاً چھوٹے تھے ، جب کہ ریاضی اور سوچ بچار سے متعلق حصے ایک نارمل دماغ کی نسبت15 فی صد بڑے&nbsp; تھے ۔ اس کے علاوہ نیوران، یعنی تمام دماغی امور انجام دینے والے خلیوں کے&nbsp; گرد مخصوص حفاظتی تہہ &rsquo; &nbsp;گلیال &lsquo; بھی عام افراد کی نسبت بڑی تھی۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>1999ء میں کینیڈا کے شہر ہملٹن&nbsp; میں واقع مک ماسٹر یونیوسٹی میں دماغی&nbsp; امور کے ماہرین کی ایک اور ٹیم کوتفصیلی معائنے سے پتا چلا کہ آئن سٹائن کے دماغ کے سامنے کے حصے&nbsp; میں ایک خلا موجود تھا۔ ماہرین نے اندازہ لگایا کہ اس خلاکے باعث اس حصے میں واقع نیوران کی کاررکردگی نمایاں طور پر بہتر بنانے میں مدد ملی ۔اور اسی لیے ان کی سوچ ایک عام آدمی سے مختلف تھی۔ آئن سٹائن کا خود بھی یہ کہناتھا کہ وہ جو کچھ سوچتے ہیں ،اسے تصور کی آنکھ سے دیکھ بھی رہے ہوتے ہیں۔ &nbsp;</p>
<p>ماہرین کا کہناہے کہ آئن سٹا ئن کے دماغ کا ایک اور نمایاں پہلو یہ ہے کہ اگرچہ ان کا انتقال 76 سال کی عمر میں ہواتھا مگردماغ کی ساخت دیکھ کرایسا لگتا ہے جیسے وہ کسی نوجوان شخص کا دماغ ہو۔</p>
<p>ڈاکٹر ٹامس ہاورے نے چونکہ اپنی تربیت کے دوران کچھ وقت فلاڈلفیا کی اسی لیبارٹری میں گذارا تھا۔ اس لیے انہوں نے دماغ پر تحقیق کے لیے &nbsp;اس میڈیکل میوزیم کے ایک ماہر ولیم ایریچ&nbsp; &nbsp;سے رابطہ کرکے&nbsp; اس کی 46 سلائیڈز بنوائیں۔ ہر سلائیڈ&nbsp; کی موٹائی انسانی بال سے بھی کم تھی۔ جنہیں انہوں نے &nbsp;ایک خصوصی بکس میں محفوظ کرلیا۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>سلائیڈیں بننے کے بعد آئن سٹائن کے دماغ کا ایک نیا سفر شروع ہوا۔&nbsp; کچھ عرصہ یہ سلائیڈیں ولیم ایریچ کے پاس رہیں۔ 1967ء میں ایریچ کے انتقال کے بعد ان کی بیوہ نے وہ بکس ایک&nbsp; اور ڈاکٹر ایلن سٹائن برگ کے حوالے کردیا۔&nbsp; جنہوں نے مزید تحقیق کے لیے اسے&nbsp; فلاڈلفیا کے چلڈرن ہاسپٹل کے نیوروسرجن ڈاکٹر لکی رورک ایڈمز کو دے دیا۔</p>
<p>ڈاکٹر ایڈمز نے اپنی تحقیق مکمل کرنے کے بعدحال ہی میں آئن سٹائن کے دماغ کی سلائیڈوں کا مکمل سیٹ مووٹر میوزیم کو عطیہ میں دیا ہے۔لائیو سائنس میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر ایڈمز نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ آئن سٹائن کے دماغ کو میڈیکل سائنس کی تاریخ کے ایک اہم حصے کے طور پر مووٹر میوزیم&nbsp; میں رکھ دیا جائے۔</p>
<p>میڈیکل ہسٹری میوزیم کی عہدے دار ڈورڈی کا کہناہے کہ کچھ عرصے تک&nbsp; آئن سٹائن کے دماغ کی&nbsp; نمائش اسی عجائب گھر میں جاری رہے گی، بعد میں&nbsp; دوسرے عجائب گھروں میں&nbsp; اسے نمائش کے لیے بھیجا جائے گا۔</p>
<p>آڈیو ملاحظہ ہو۔</p>
<p>
<object classid="clsid:02bf25d5-8c17-4b23-bc80-d3488abddc6b" width="416" height="65" codebase="http://www.apple.com/qtactivex/qtplugin.cab#version=6,0,2,0">
<param name="src" value="http://media.voanews.com/audio/Yasmin-+Einstein1.Mp3" /><embed type="video/quicktime" width="416" height="65" src="http://media.voanews.com/audio/Yasmin-+Einstein1.Mp3"></embed>
</object>
</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 30 Nov 2011 12:52:44 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">134741628</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[جمیل اختر]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-11-30T12:52:44Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/AlbertEinstein-480.jpg" length="72473" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
																																																													
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AlbertEinstein-480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="290" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Einstein-301.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/einstein-304.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/brain-305.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/Einstein-301.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																										</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>منفرد اور دلچسپ سمندری مخلوق ۔۔ جیلی فش</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/health-science/Jellyfish-28Nov11-134608088.html</link>
				<description>جیلی فش کا شمار ایک ایسی آبی مخلوق میں کیا جاتا ہے جو منفرد ہونے کی وجہ سے انسانوں کی دلچسپی کا سبب بنتی ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>سمندروں کی وسیع و عریض دنیا میں بے شمار آبی جاندار پائے جاتے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ان سبھی جانوروں کو ابھی تک انسان دریافت بھی نہیں کر پایا ہے۔ جیلی فش کا شمار ایک ایسی آبی مخلوق میں کیا جاتا ہے جو منفرد ہونے کی وجہ سے انسانوں کی دلچسپی کا سبب بنتی ہے۔ لیکن کم لوگ ہی یہ بات جانتے ہیں کہ جیلی فش انسانوں کے لیے مہلک بھی ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
<p>جیلی فش سطح ِ سمندر سے لے کرسمندر کی گہرائی تک پائی جاتی ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ جیلی فش50 کروڑ سال سے ہمارے سمندروں کا حصہ ہیں۔ جیلی فش کہلائی جانے والی یہ آبی مخلوق ماہرین کے نزدیک مکمل مچھلی کی خصوصیات نہیں رکھتی۔ اسی لیے بعض اوقات انہیں صرف جیلیز &nbsp;بھی کہا جاتا ہے۔</p>
<p>امریکی ریاست میری لینڈ کے صدر مقام بالٹی مور میں قائم ماہی خانے کا شمار دنیا کے چند سب سے بڑے ماہی خانوں میں کیا جاتا ہے۔ اس کے ایک &nbsp;حصے میں گذشتہ تین برسوں سے یہاں نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا بھر سے خصوصی طور پرمختلف اقسام کی&nbsp; جیلی فش&nbsp; اکٹھی کی جا رہی ہیں ۔</p>
<p>عموماً یہ کہا جاتا ہے کہ نسانی سرگرمیوں کے ماحول پر منفی اثرات کے باعث &nbsp;آبی جانداروں کو بھی بڑے پیمانے پر خطرات لاحق ہوچکے ہیں ۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ بالٹی مور ایکوریم میں جیلی فش شعبے کے سربراہ جیک کوور کہنا ہےکہ ماحول پر &nbsp;انسانی سرگرمیوں کے منفی اثرات کے نتیجے میں سمندروں میں&nbsp; جیلی فش کی افزائش میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہواہے۔</p>
<p>جیلی فش تقریبا 92 فیصد پانی کی بنی ہوتی ہے اور اس کی 85 مختلف اقسام پائی جاتی ہیں۔حیران کن بات یہ ہے کہ دماغ، سانس،&nbsp; حسیات اور ہاضمے کا مکمل نظام نہ ہونے کے باوجود جیلی فش دن کے چوبیس گھنٹے خوراک کھاتی ہیں۔</p>
<p>ماہرین کہتے ہیں کہ گذشتہ کچھ عرصے میں ماحول میں بڑھتی ہوئی آلودگی اور آبی حیات کے بے دریغ شکار کی وجہ سے دنیا بھر میں جیلی فش کی تعداد بہت تیزی سے بڑھی&nbsp; ہے۔ کیونکہ جیلی فش آکسیجن کے بغیر،&nbsp; گندگی اور آلودگی میں بآسانی پروان چڑھ سکتی ہیں۔</p>
<p>جیلی فش کے بڑے بڑے&nbsp; ٹینکوں کی صفائی اور ان&nbsp; کی دیکھ بھال کرنا&nbsp; مشکل&nbsp; کام ہے ،&nbsp; اس مقصد کے لیے ایکویریم میں جدید نظام قائم کیا &nbsp;گیا ہے۔ جہاں موجود&nbsp; ٹینکوں میں پانی کے بہاؤکو ایک خاص سطح پر رکھنے کے ساتھ ساتھ&nbsp; ان&nbsp; میں موجود جیلی فش کے لیے خوراک ڈالنے کا معقول انتظام کیا گیا ہے۔</p>
<p>بظاہر بے ضرر دکھائی دینے والی جیلی فش مہلک بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ جیلی فش کے لمبے لمبے دھاگے دراصل اس کا ہتھیار ہیں۔ ان لمبے لمبے دھاگوں کے اندر چھوٹے چھوٹے&nbsp; کانٹے&nbsp; ہوتے ہیں جو وہ حملے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ&nbsp; تیراکوں کو سمندر کے ان پانیوں میں جانے سے منع کیا جاتا ہے جہاں جیلی فش زیادہ تعداد میں موجود ہوں کیونکہ جیلی جیسی بعض مچھلیوں کا&nbsp; زہر انسان کے لئے خطرناک ہو&nbsp; سکتا ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Mon, 28 Nov 2011 16:57:42 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">134608088</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[مدیحہ انور]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-11-28T16:57:42Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[سائنس و صحت]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Jellyfish-300X300.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>خلائی گاڑی ’کریوسٹی‘ مریخ روانہ </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/health-science/NASA_Mars_Rover_26Nov11-134535618.html</link>
				<description>مریخ سے متعلق ناسا کی اِس  سائنسی لیباریٹری کی تیاری پر، جسے Curiosityکا نام دیا گیا  ہے، ڈھائی ارب ڈالر کی لاگت آئی ہے۔  خلائی گاڑی ، جس میں کوئی خلا باز  سوار نہیں ، اُسے ہفتے کو فلوریڈا کے کیپ کیناوریل  سے روانہ کیا گیا</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>مریخ کےسرخ سیارے پرانسانی زندگی کےآثار کی تلاش کی جستجو میں، امریکی خلائی ادارے (ناسا) نے ایک نئی خلائی گاڑی کو دو سالہ مشن پر روانہ کردیا ہے۔ &nbsp;</p>
<p>&nbsp;مریخ سے متعلق ناسا کی &nbsp;اِس سائنسی لیباریٹری کی تیاری پر، جسےCuriosityکا نام دیا گیا &nbsp;ہے، ڈھائی ارب ڈالر کی لاگت آئی ہے۔ &nbsp;خلائی گاڑی، جِس پر کوئی خلا باز سوار نہیں، اُسے ہفتے کو فلوریڈا کے کیپ کیناوریل کے مقام سے روانہ کیا گیا۔</p>
<p>
<object id="slideshowXML" width="461" height="303" data="http://media.voanews.com/designvideo/slideshowXML.swf" type="application/x-shockwave-flash">
<param name="align" value="middle" />
<param name="allowScriptAccess" value="always" />
<param name="FlashVars" value="xmlfile=http://www.voanews.com/templates/SlideshowPro.xml?contentid=134507148&amp;xmlfiletype=Default" />
<param name="allowFullScreen" value="true" />
<param name="quality" value="high" />
<param name="bgcolor" value="#ffffff" />
<param name="src" value="http://media.voanews.com/designvideo/slideshowXML.swf" />
<param name="name" value="slideshowXML" />
<param name="allowfullscreen" value="true" />
</object>
</p>
<p>کار کی جسامت رکھنے والے اِس &rsquo;روور&lsquo; میں 17کیمرے، ایک روبوٹک بازو، ایک لیزر اور سیارے کی چٹان کی کھدائی کے لیے ایک ڈرل مشین نصب ہے، جو تقریباً آٹھ ماہ میں مریخ پہنچے گی۔</p>
<p>یہ خلائی گاڑی &rsquo;گیل کریٹر&lsquo; نامی مریخ کے نشیب پر واقع ایک مقام پر اترے گی جو 150کلومیٹر وسیع رقبےکا ایک حصہ ہے۔ اِسے آسٹریلیا کے فلکیات دان، والٹر گیل کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔</p>
<p>علم ارضیات&nbsp; کی مناسبت سے یہ خطہ اُبھرے ہوئے کناروں والا ایک گڑھا ہے، جِس کی خاص بات وہ متعدد مقامات ہیں جِن کے بارے میں سائنس دانوں کو یہ گمان ہے کہ یہاں پرکبھی پانی بہا کرتا تھا۔ یہاں پر بلند و بالا اور وسیع تر چٹانیں ہیں جہاں سے مشن کے منتظمیں کھدائی کے عمل کا ارادہ رکھتے ہیں۔</p>
<p>ناسا کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ &rsquo;روور&lsquo; کے آلات یہ معلومات اکٹھی کریں گے، &nbsp;آیا وہ علاقہ &nbsp;جہاں خلائی گاڑی اُترے گی، خرد حیاتیات کےجنم لینے کے لیے سازگار حالات کا حامل ہے۔</p>
<p>ایسے میں جب خلائی پروگرام کی حالیہ کامیابی پر امریکہ میں جشن کا سماں ہے، روس اپنی تارہ&nbsp; خلائی ناکامیوں کو دور کرنے کے لیے اقدامات پر غور کر رہا ہے۔</p>
<p>روسی صدر دمتری مدویدیف نے ہفتے کو اِس بات کا عہد کیا کہ ناکامیوں کا باعث بننے والے لوگوں کوسخت سزائیں دیں گے۔ اُنھوں نے اِن ناکامیوں کو قوم کی مسابقت کی استعداد کےلیے&nbsp;&nbsp;&nbsp; ایک سخت دھچکہ قرار دیا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sat, 26 Nov 2011 21:07:26 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">134535618</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-11-26T21:07:26Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[سائنس و صحت]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/US_NASA_Curiosity_rocket_480x300_NASA.jpg" length="139058" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/US_NASA_Curiosity_rocket_480x300_NASA.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/US_Curiosity_Mars_launch_rocket_300x300_NASA.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>ایڈز، ٹی بی، ملیریا کے خلاف مہمات کے لیے عطیات روکنے کا فیصلہ</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/health-science/AIDS-TB-Malaria-24Nov11-134459808.html</link>
				<description>ایڈز، تپِ دق اور ملیریا کے خلاف کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے 'دی گلوبل فنڈ' کا کہنا ہے کہ  اس کی جانب سے 2014ء میں ختم ہونے والی مہمات کے صرف انتہائی ضروری  پہلوؤں کے لیے رقم مختص کی جائے گی</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>دنیا کی تین بڑی ہلاکت خیز بیماریوں کے خلاف جاری مہمات کے سب سے بڑے عطیہ کنندہ ادارے نے اعلان کیا ہے کہ وہ معاشی بحران کے باعث آئندہ دو برسوں تک اس مد میں مزید کوئی&nbsp; رقم فراہم نہیں کرے گا۔</p>
<p>ایڈز، تپِ دق اور ملیریا کے خلاف کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے 'دی گلوبل فنڈ' کا کہنا ہے کہ&nbsp; اس کی جانب سے 2014ء میں ختم ہونے والی مہمات کے صرف انتہائی ضروری&nbsp; پہلوؤں کے لیے رقم مختص کی جائے گی۔</p>
<p>بدھ کو اپنی نئی حکمتِ عملی کا اعلان کرتے ہوئے ادارے کے بورڈ نے عطیہ کنندگان سے مذکورہ تینوں بیماریوں کے خلاف جاری مہمات کے لیے عطیات بڑھانے اور ان میں تیزی لانے کی بھی درخواست کی ہے۔</p>
<p>ادارے کے سربراہ مائیکل کزاچکن نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ عالمی کساد بازاری کے باعث&nbsp; ایڈز، تپِ دق اور ملیریا کا شکار لاکھوں لوگ&nbsp; مشکلات سے دوچار ہونے جارہے ہیں اور انہیں اس کا ادراک بھی نہیں۔</p>
<p>ادارے کی جانب سے عطیات میں کٹوتی کے باعث ان بیماریوں کا شکار ایسے افراد کے لیے مشکلات پیدا ہونے کا امکان ہے جن کا ترقی پذیر ممالک میں علاج کیا جارہا ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ رواں برس کے آغاز میں اقوامِ متحدہ نے دنیا بھر، خصوصاً افریقی ممالک میں ایڈز سے ہونے والی&nbsp; اموات پر قابو پانے کا ہدف طے کیا تھا۔</p>
<p>عالمی اداروں کے مطابق&nbsp; صرف 2009ء کے دوران ایسے تین لاکھ 70 ہزار سے زائد بچوں نے جنم لیا تھا جو پیدائشی طور پر ایڈز کا سبب بننے والے جرثومے 'ایچ آئی وی' سے متاثرہ تھے۔ ان بچوں میں سے بیشتر کا تعلق افریقی ممالک سے تھا۔</p>
<p>اقوامِ متحدہ نے پیدائشی طور پر 'ایچ آئی وی' سے متاثرہ بچوں کی تعداد میں آئندہ چار برسوں کے دوران&nbsp; 90 فی صد تک کمی لانے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 24 Nov 2011 17:54:59 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">134459808</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-11-24T17:54:59Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[سائنس و صحت]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/MALARIA_300.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>انسداد پولیو کی مہم میں خامیاں نئے کیسز میں اضافے کی وجہ</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan/Pakistan-Health-Polio-24nov11-134449153.html</link>
				<description>انسان کو اپاہج بنا دینے والے پولیو وائرس کے پاکستان میں اس سال اب تک 157 نئے مریض سامنے آ چکے ہیں جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد 144 تھی۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>انسداد پولیو کی کوششوں کی نگرانی کے لیے پاکستان میں قائم پارلیمان کی خصوصی&rsquo;ٹاسک فورس&lsquo; کی سربراہ ڈاکٹرعذرا فضل پیچو ہو نے اعتراف کیا ہے کہ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی قومی مہم میں نچلی سطح پر پائی جانے والی خامیوں سے مطلوبہ مقاصد کے حصول میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔</p>
<p>وائس آف امریکہ کے ساتھ انٹرویو میں اُنھوں نے بتایا کہ انسان کو اپاہج بنا دینے والے پولیو وائرس کے اس سال اب تک 157 نئے مریض سامنے آ چکے ہیں جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد 144 تھی۔ ٹاسک فورس کی چیئر پرسن کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں پولیو کی شرح میں پاکستان کے کیسز 61 فیصد ہیں، جو تشویش کا باعث ہے۔</p>
<p>&rsquo;&rsquo;ہم دیکھ رہے ہیں کہ بیرونی دنیا نے پولیو پر قابو پا لیا ہے لیکن ہم اس پر اب تک پوری طرح قابو نہیں پا سکے ہیں۔ یہ نئے کیسز اس لیے ہو رہے ہیں کہ گراس روٹ لیول (نچلی سطح) &nbsp;پر ویکسین (پولیو کے قطرے) دینے والے ذمہ داری سے کام نہیں کرتے۔ اگر وہ اپنی ذمہ داری محسوس کر لیں اور یونین کونسل کی سطح پرمہم باقاعدگی سے چلائی جائے تو95 فیصد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جا سکیں گے۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>ڈاکٹر پیچو ہو کے بقول پولیو کیسز کی شرح کو کم کرنے کی کوششوں کی نگرانی کے لیے&rsquo;نیشنل ایمرجنسی ایکشن پلان&lsquo; کے تحت ایوان صدر، وزیر اعظم ہاؤس اورصوبائی سطح پر وزرائے اعلٰی کے دفاتر میں قائم خصوصی سیل تندہی سے کوششیں کر رہے ہیں۔ &nbsp;&nbsp;</p>
<p>اُنھوں نے بتایا کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں یعنی فاٹا، اور بلوچستان میں انسداد پولیو کی مہم کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔</p>
<p>&rsquo;&rsquo;فاٹا میں تو سمجھ آتا ہے کہ فاٹا کا بہت سارا حصہ ہمارے کنٹرول میں نہیں ہے، وہاں دہشت گرد ہیں اور وہاں ویکسین پلانے والوں کا جانا بھی ممکن نہیں ہے کیونکہ سب کو جان عزیز ہوتی ہے اور وہ وہاں نہیں جا سکتے لیکن بلوچستان ہمارے لیے بڑا چیلنج ہے کیونکہ یہاں کوئٹہ بلاک میں سب سے زیادہ کیسز نظر آ رہے ہیں اور ان کیسز کا پھیلاؤ پورے ملک میں ہو سکتا ہے۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال اب تک بلوچستان میں پولیو کے 62 جبکہ فاٹا میں 47 کیسز سامنے آ چکے ہیں۔</p>
<p>پارلیمانی ٹاسک فورس کی چیئرپرسن نے بتایا کہ پولیو پر قابو پانے کے لیے اراکین پارلیمان کو بھی اعتماد میں لیا جا رہا ہے تاکہ وہ اس مہم میں اپنے اضلاع میں زیادہ سے زیادہ شرکت کرسکیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ پولیو کے خلاف مہم کے لیے حکومت پاکستان کے پاس مالی وسائل کی کمی نہیں ہے کیونکہ اس کے لیے دنیا کی مختلف تنظیموں کی طرف سے امداد فراہم کی جارہی۔ مزید برآں ان کا کہنا تھ کہ انسداد پولیو کی دوا عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او) درآمد کرتا ہے اس لیے اس کے غیر معیاری ہونے کے بارے میں شک شبے کی گنجائش نہیں۔ &nbsp;</p>
<p>&rsquo;&rsquo;مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ (دوا کی افادیت کو برقرار رکھنے&nbsp; کے لیے) اس کو ایک مخصوص درجہ حرارت پررکھا جاتا ہے اور ہم نے ویکسین پلانے والوں کو &rsquo;آئس باکس&lsquo; یا برف خانے دیے ہوئے ہیں مگر وہ انھیں گھر میں رکھ لیتے ہیں اور پلاسٹک کی تھیلوں میں ویکسین لے جاتے ہیں۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>ڈاکڑ پیچوہو کہتی ہیں کہ پاکستان میں گرمی بہت زیادہ ہوتی ہے اس لیے پولیو کے قطروں کو اگر مخصوص درجہ حرارت محفوظ نہ رکھا جائے تو ویکسین خراب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے اس لیے مہم کے دوران افسران سمیت قطرے پلانے والوں کی خصوصی نگرانی کی جا رہی ہے اور انسداد پولیو کی مہم کے دوران کسی بھی سطح پر ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کوتاہی برتنے والوں کی فوری معطلی کی احکامات دیے گئے ہیں۔</p>
<p>دنیا بھرمیں اس سال اب تک پولیو کے 532 کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے جن میں بھارت میں ایک، نائیجریا میں 42 اور افغانستان میں اس وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 53 ہے۔ گزشتہ سال پولیو کیسز کی عالمی تعداد 975 تھی۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 24 Nov 2011 10:12:24 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">134449153</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[زاہد یعقوب خواجہ]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-11-24T10:12:24Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Pakistan_Polio_480.jpg" length="78735" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Pakistan_Polio_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Polio-300X300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>مریخ کا کامیاب سمولیشن  مشن جو 520دِنوں تک جاری رہا </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/health-science/Mars_500_Mission_23Nov11-134417138.html</link>
				<description>’انٹر نیشنل سمو لیشن کریو‘ نے اپنے تاثرات بتاتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا تھا جیسے وہ 520دِن  تک ایک ایسے کیپسول میں رہے جس میں کوئی کھڑکی نہیں تھی اور بیرونی دنیا سے رابطہ محدود تھا</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>ماسکو میں ایک نیوز کانفرنس میں چھ افراد نے ایک ایسےتجربے کے بارے میں بتایا جس میں انہوں نے ڈیڑہ&nbsp; سال مریخ سے واپسی کے سفر کا پراجیکٹ مکمل کیا اور اس دوران &nbsp;اُن کے مشاہدے میں &nbsp;آنے والے نفسیاتی اثرات کیا رہے۔ مریخ سے واپسی کے سفر کی نقل&nbsp; میں کی جانے والی پرواز کے بارے میں عملے کا کہنا ہے کہ یہ ایک مشکل مشن تھا ۔</p>
<p>&rsquo;مارس 500پراجیکٹ &nbsp;لوگو&lsquo;&nbsp; کے نشان والے نیلے جمپ سوٹ پہنے &rsquo;انٹر نیشنل سمو لیشن کریو&lsquo; نے اپنے تاثرات بتاتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا تھا جیسے وہ 520دِن &nbsp;تک ایک ایسے کیپسول میں رہے جس میں کوئی کھڑکی نہیں تھی اور بیرونی دنیا سے رابطہ محدود تھا۔</p>
<p>عملے میں شامل سرجن Sukhrob Kamalov کہتے ھیں کہ بعض اوقات مختلف قومیتوں اور کلچر کے لوگو ں کے ساتھ ڈیل کرنا آسان نہیں تھا۔</p>
<p>وہ کہتے ھیں کہ ہمارا عملہ بین الاقو امی تھااور ہر کسی کی قومیت مختلف تھی ۔ وہ مختلف ملکوں سے تعلق رکھتے تھے لیکن بالآخر سب ایک چھوٹے سے خلا میں 520دِن رہے۔</p>
<p>اُن کے الفاظ میں، اِسے چھوٹی خلا کہنا درست ہے ، جس کی کُل جگہ550کیوبک &nbsp;میٹر تھی اور سمولیشن یونٹ میں میڈیکل، رہنا سہنا، &nbsp;لینڈ کرنا، چیزیں رکھنا اور مریخ کی سطح والے ماڈیولز بھی شامل تھے۔</p>
<p>ایک ماڈیول کے علاوہ باقی سارے ماڈیولز رہنے اور کام کرنے کے لئے تھے ۔ رہائش کی جگہ کو لکڑی کے پینلوں ، فرنیچر اور قالینوں سے سجایا گیا تھا ۔ دراصل کوشش یہی تھی کہ رہنےوالی جگہ گھر جیسی معلوم ہو۔</p>
<p>لیکن عملے کے بیشتر افراد کا کہنا ہے اگرچہ خلائی عملے نے اس جگہ کو انتہائی آرام دہ بنانے کی کوشش کی لیکن پھر بھی یہ&nbsp; ایک مشکل تجربہ تھا۔</p>
<p>عملے میں شامل &nbsp;Diego Urbinaاطالوی نژاد کولمبین انجینر تھے ۔ وہ کہتے ھیں کہ انکے&nbsp; لئے خاص طور پر اپنے خاندان اور دوستوں سے دور رہنا مشکل تھااور وہ بھی اتنے &nbsp;لمبے &nbsp;عرصے تک۔ &nbsp;لیکن وہ بھی کہتے ھیں کہ اس لمبے مشن نے انھیں خود اپنے بارے میں اور تعاون کی اہمیت کے بارے میں آگاہی دی۔ اُن کے الفاظ میں، &rsquo;اِس تجربے نے مجھے انسانیت سے روشناس کرایا۔ اس طرح ہم &nbsp;محسوس کر سکتے ھیں کہ ھم کوئی سپر مین نہیں ۔ ھماری بھی حدود ہیں اور آپ کو خود اور اپنے ساتھیوں کی مدد سے مشکلات پر قابو پانا ہے&lsquo;۔</p>
<p>اور عملے میں شامل چینی رکن Wang Yue کے مطابق یہ اپنے ساتھیوں &nbsp;ہی کا تعاون ہے جس کے سہارے یہ مشکل وقت بھی گزر گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ اب یہ پانچ افراد جیسے انکے خاندان کا حصہ ہیں۔یہ آسان نہیں تھا اور ہم نے ٹیم کے طور پر ممکن بنایا۔ ہم ایک دوسرے پر بھروسہ کرتے تھے۔ امکان یہی ہے کہ اس عملے کے ارکان مریخ کو بھیجے جانے والے مستقبل کے&nbsp; روسی اور یورپی مشن&nbsp; کے خلا بازوں کی اگلی جنریشن میں شامل ہونگے ۔</p>
<p>روسی خلائی عہدےداروں کا کہنا ہےکہ انہیں امید ہےکہ وہ 2040ء تک مریخ کےلئےمشن/خلا&nbsp; نوردوں کے ساتھ بھیجیں گے۔ لیکن روس کےخلائی پروگرام کو کچھ عرصے سےمسائل کا سامنا ہے۔ روس کو اپنا سویوز راکٹ فلیٹ بھی کچھ ماہ قبل گراوٴنڈ کرنا پڑا تھا کیونکہ ان میں سے ایک مدار میں پہنچنے میں ناکام رہا تھا ۔ یہ راکٹ آجکل بین الاقوامی خلائی سٹیشن تک مسافر اور سامان لیجانے کا واحد ذریعہ ہیں۔</p>
<p>لیکن پھر بھی روسی خلائی عہدے داروں نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ دو عشروں میں خلا میں دور تک جانے والی ملک کی پہلی پروب بھیج رہے ہیں۔ &nbsp;تین سال کے اس مشن میں&nbsp; Phobos سے مٹی کا نمونہ لایا جائیگا ۔ &rsquo;فوبو&lsquo; مریخ کے دو میں سے ایک چاند ہے۔ مریخ کے کامیاب سمولیشن&nbsp; مشن کے بعد روس کو امید ہے کہ وہ اپنے &nbsp;خلائی پروگرام کی بدولت&nbsp; اپنے لیے &nbsp;شان وشوکت کا درجہ دوبارہ حاصل کر لے گا۔&nbsp;</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 23 Nov 2011 20:49:37 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">134417138</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[جسیکا گلوہر/بہجت گیلانی]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-11-23T20:49:37Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[سائنس و صحت]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/AP_Russia_Mars_Moon_Mission_Phobos-Grunt_2222222_480.jpg" length="201751" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP_Russia_Mars_Moon_Mission_Phobos-Grunt_2222222_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="320" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP_Russia_Mars_Moon_Mission_Phobos-Grunt_2222222_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="273" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>لاپتا ہونے والے روسی خلائی راکٹ سے رابطہ </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/health-science/Russia-Mars-23Nov11-134399078.html</link>
				<description>عہدے داروں نے بدھ کے روز بتایا کہ دوہفتے قبل یہ خلائی جہاز اپنی منزل کی طرف جانے کی بجائے بھٹک کر زمین کے مدار میں پھنس گیا تھا ۔ لیکن اب اس توقع کا اظہار کیا جارہاہے کہ یہ خلائی مہم محفوظ ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>یورپ کے خلائی ادارے نے کہا ہے کہ اسے مریخ کے ایک چاند کی سمت بھیجے گئے ایک روسی خلائی جہاز سے پہلی بار سگنلز موصول ہوئے ہیں۔</p>
<p>عہدے داروں نے بدھ کے روز بتایا کہ دوہفتے قبل یہ خلائی جہاز اپنی منزل کی طرف جانے کی بجائے بھٹک کر زمین کے مدار میں پھنس گیا تھا ۔ لیکن اب اس توقع کا اظہار کیا جارہاہے کہ یہ خلائی مہم محفوظ ہے۔</p>
<p>روس کے خلائی ادارے کا کہناہے کہ آسٹریلیا میں قائم ایک&nbsp; خلائی&nbsp; مرکز نے بدھ کی صبح &rsquo;فوبس گراؤنڈ&lsquo; سے سنگنلز موصول کیے تھے۔</p>
<p>جرمنی میں قائم اس مرکز کے ہیڈکوارٹز کا کہناہے کہ خلائی مرکز کے سائنس دان&nbsp; گذشتہ دس روز سے&nbsp; خلائی جہاز کی گردش کے مدار&nbsp; کا کھوج لگانے اور اس کے ساتھ رابطہ کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔</p>
<p>مرکز کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ روس اور یورپ کے خلائی سائنس دان اس مسئلے کے حل کے لیے تعاون کررہے ہیں اور انہیں توقع ہے کہ بدھ کو دیر گئے جب خلائی جہاز آسٹریلیا میں نصب سیٹلائٹ&nbsp; سینٹر پر سے گذرے گا تو وہ اس سے ایک بار پھر رابطہ قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔</p>
<p>17 کروڑ ڈالر مالیت کا یہ راکٹ اپنی پرواز کے وقت ایک فنی خرابی کے باعث اپنے راستے سے بھٹک کر لاپتا ہوگیا تھا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 23 Nov 2011 16:53:48 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">134399078</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-11-23T16:53:48Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[سائنس و صحت]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Phobos-Grunt.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>پت جھڑ سے پہلےپتوں کےبدلتے ہوئےدل کش رنگ</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/health-science/Plant-Leaves-Colors-19Nov11-134177373.html</link>
				<description>کلوروفل ایک کیمیکل ہے جس سے پودوں میں سبز رنگ آتا ہے اور جب یہ کیمیکل ختم ہونے لگتا ہے تو ہم اُنہی سبز پتوں کو زرد، نارنجی اور سرخ رنگ میں تبدیل ہوتا دیکھتے ہیں</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکہ میں موسم ِخزاں کی ایک اپنی دلکشی ہوتی ہے، جب دن چھوٹے ہونے لگتے ہیں اور موسم میں خنقی آجاتی ہے۔ ایسے میں، درختوں کے سرسبزوشاداب پتے اپنی شاخوں سے جدا ہونے سےقبل سرخ، نارنجی، زرد اور بھورے رنگ میں تبدیل ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔</p>
<p>سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سردیوں کےموسم میں پودوں میں &rsquo;فوٹوسینتھیسز&lsquo; کے لیے روشنی اور پانی کم ہونے کی وجہ سے یہ تبدیلی کارفرما ہوتی ہے۔ درخت اور پودے اُسی خوراک کا استعمال کرتے ہیں جسے وہ گرمیوں کے موسم میں ذخیرہ کرلیتے ہیں۔</p>
<p>خوراک کی نامناسب مقدار کی وجہ سےپودوں میں &rsquo;کلوروفل&lsquo; غائب ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ کلوروفل ایک کیمیکل ہے جس سے پودوں میں سبز رنگ آتا ہے اور جب یہ کیمیکل ختم ہونے لگتا ہے تو ہم اُنہی سبز پتوں کو زرد، نارنجی اور سرخ رنگ میں تبدیل ہوتا دیکھتے ہیں۔</p>
<p>&rsquo;فوٹو سینتھیسز&lsquo; عمل کیا ہے؟ اِس کی مختصر سی تفصیل کچھ یوں ہے کہ پودے اپنی جڑوں کی مدد سے خوراک حاصل کرتے ہیں، اور ہوا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ لیتے ہیں۔ یہ سورج کی روشنی کی مدد سےپانی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو آکسیجن اور گلوکوز میں تبدیل کرتے ہیں۔اِس عمل کو فوٹوسینتھیسزکہا جاتا ہے۔</p>
<p>آکسیجن ہوا میں موجود ایک گیس ہے جس سے ہم سانس لیتے ہیں۔ گلوکوز کو شکر کا بادشاہ بھی کہا جاتا ہے۔ پودے اِس گلوکوز کو بطور خوراک استعمال کرتے ہیں۔</p>
<p>یہ پتوں کے تبدیل ہونے کا معاملہ کیا ہے؟ سائنس داں اِس بارے میں کچھ بھی کہیں، لیکن&nbsp; موسم ِ خزإ ں کا اپنا ایک حسن اور دل کشی ہوتی ہے۔&nbsp; ملک کے باقی علاقوں&nbsp; کی طرح،&nbsp; واشنگٹن ڈی سی اور اِس کے نواحی علاقوں میں&nbsp; بھی درختوں کی رنگت تبدیل ہوجاتی ہے۔ قطار در قطار رنگ برنگے درخت دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔</p>
<p>تفصیل کے لیے آڈیو رپورٹ سنیئے:</p>
<p>
<object classid="clsid:02bf25d5-8c17-4b23-bc80-d3488abddc6b" width="197" height="35" codebase="http://www.apple.com/qtactivex/qtplugin.cab#version=6,0,2,0">
<param name="src" value="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+1400+Science++Tech-+Why+Leaves+change+colors+-NM+-11-15.Mp3" /><embed type="video/quicktime" width="197" height="35" src="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+1400+Science++Tech-+Why+Leaves+change+colors+-NM+-11-15.Mp3"></embed>
</object>
</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sat, 19 Nov 2011 18:56:42 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">134177373</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[نیلوفرمغل]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-11-19T18:56:42Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[سائنس و صحت]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/AP101113032896.jpg" length="76252" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP101113032896.jpg" medium="image" isDefault="true" height="502" width="512" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/photosdotcom-autumn-leaves.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>ذیابیطس کے مرض کی نئی دوا</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/health-science/Diabetes-New-Cure-18Nov11-134121288.html</link>
				<description>امریکہ میں ایک تحقیقی ٹیم  نےحال ہی میں  ذیابیطس کی ایک عام قسم ٹائپ ٹو کا  ایک ایسا علاج دریافت کیا ہے جو چوہوں میں یہ مرض ختم کرنے میں کامیاب رہا</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>ذیابیطس کے بین الاقوامی ادارے انٹرنیشنل ڈائباٹیز فیڈریشن کے مطابق 2030ءتک دنیا میں ہر 10 افراد میں سے کم از کم ایک فرد ذیابیطس کا شکار ہو گا۔ یہ مرض بہت عام ہے اور اس کی وجوہات میں غلط قسم کی&nbsp; غذا اور موٹاپے کو بھی شامل کیا جا تا ہے۔ اس مرض کے باعث&nbsp; صرف مریض کا&nbsp; رہن سہن کا انداز ہی متاثر نہیں&nbsp; ہوتا ہے بلکہ امراض دل،&nbsp; دماغ میں ورم&nbsp; اور ذہنی امراض&nbsp; کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔&nbsp;</p>
<p>امریکہ میں ایک تحقیقی ٹیم&nbsp; نےحال ہی میں&nbsp; ذیابیطس کی ایک عام قسم ٹائپ ٹو کا&nbsp; ایک ایسا علاج دریافت کیا ہے جو چوہوں میں یہ مرض ختم کرنے میں کامیاب رہا۔ امریکی ریاست میزوری میں واقع واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن میں بیمار چوہوں کا علاج ایک مخصوص قدرتی کیمیائی مرکب سے&nbsp; کیا گیا تھا۔</p>
<p>پروفیسرشن اچیرو ایمائی کےمطابق ممکن ہے اس کیمیائی مرکب کو انسانوں میں استعمال کیا جا سکے، کیونکہ انسانوں میں اس کے انہی ممکنہ اثرات کی توقع ہے جو چوہوں میں ظاہر ہوئے&nbsp; تھے۔</p>
<p>وہ کہتے ہیں کہ ہم نے چوہوں کو انتہائی مرغن غذا کھلائی جو انہیں بہت پسند آئی۔ اور کچھ عرصے کے بعد انہیں ذیابیطس ٹائپ ٹو کا مرض ہو گیا۔ ہم نے&nbsp; کیمیائی مرکب این ایم این کے اثرات جانچنے کےلیے یہی ماڈل استعمال کیا جو بہت کامیاب رہا ۔</p>
<p>وہ کہتے ہیں کہ اس تحقیق سے ظاہر ہوا کہ عمر میں اضافے کے ساتھ، اور مرغن غذا کھانے سے جسم میں قدرتی طور پر این ایم این کی افزائش متاثر ہوتی ہے جس کے نتیجے میں ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جا تا ہے ۔ سائنس دان&nbsp; اب جاپان کی ایک کمپنی کے ساتھ مل کر این ایم این نامی اس کیمیائی مرکب کو انسانوں میں استعمال کے موزوں&nbsp; بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔&nbsp;</p>
<p>انہیں امید ہے کہ کسی دن لوگ&nbsp; ذیابیطس&nbsp; کے علاج یا اس مرض سے بچاو کےلیے بالکال عام گولیوں کی طرح اس کیمائی مرکب کی گولیاں بھی استعمال کر سکیں گے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 18 Nov 2011 16:33:03 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">134121288</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[ودیشی سنہا/ آمنہ خان]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-11-18T16:33:03Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[سائنس و صحت]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Diabetes_Blood_Sugar_300_Photos.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
																																																																					</channel>
</rss>

