<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>


																																		



<rss xmlns:ymusic="http://music.yahoo.com/rss/1.0/ymusic/" xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" xmlns:cf="http://www.microsoft.com/schemas/rss/core/2005" xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"   version="2.0">
<channel>
	<title>VOA News:  حقوقِ انساں  </title>
	<link>http://www.voanews.com/urdu/news/human-rights</link>
		<description>حقوقِ انساں 
																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																								
	Voice of America
	</description>
	<language>ur</language> 	<copyright />
	<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 09:40:49 GMT</pubDate>
	<dc:creator />
	<dc:date>2012-02-10T09:40:49Z</dc:date>
	<dc:language>ur</dc:language> 	<dc:rights />
	<image>
		<title>Voice of America</title>
		<link>http://www.voanews.com/urdu</link>
		<url>http://media.voanews.com/designimages/VOARSSIcon.gif</url>
	</image>


						
													
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>انڈونیشیا میں شرعی قوانین  کی آڑ میں شہریوں کوہراساں کیا جارہاہے: ہیومن رائٹس واچ</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/aceh-indonesia-humanrightswach-islamiclaw-01december10-111114589.html</link>
				<description>تنظیم کا موقف ہے کہ صوبائی انتظامیہ ان  قوانین  کے ذریعے شہریوں کو ناجائز اور نامناسب طور پر ہراساں کررہی ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">انسانی حقوق کےلیے سرگرم ایک عالمی تنظیم نے&nbsp; انڈونیشیا کے صوبے آچے کی حکومت پر اسلامی قوانین کے ذریعے شہریوں کو ناجائز طریقے سے&nbsp; ہراساں کرنے&nbsp; کا الزام عائد کیا ہے۔</p>
<p dir="rtl">بدھ کے روز جاری ہونے والی اپنی ایک طویل رپورٹ میں "ہیومن رائٹس واچ" نے&nbsp; آچے کی حکومت سے صوبے میں نافذ دو شرعی قوانین کی تنسیخ کا مطالبہ کیا ۔ ان دونوں قوانین میں سے ایک کا تعلق غیر شادی شدہ&nbsp; مرد اور عورت کے درمیان &nbsp;&nbsp;تعلقات&nbsp; کی روک تھام ، جبکہ دوسرا&nbsp; قانون مسلم شہریوں پر عوامی مقامات&nbsp; پہ مناسب لباس پہننے کی پابندی سے متعلق ہے۔</p>
<p dir="rtl">تنظیم کا موقف ہے کہ صوبائی انتظامیہ ان&nbsp; قوانین&nbsp; کے ذریعے شہریوں کو ناجائز اور نامناسب طور پر ہراساں کررہی ہے۔</p>
<p dir="rtl">آچے مسلم اکثریتی ملک انڈونیشیا کا واحد صوبہ ہے&nbsp; جسے ملکی آئین کے تحت&nbsp; اپنی حدود میں شرعی قوانین&nbsp; کے نفاذ کا خصوصی اختیار حاصل ہے۔</p>
<p dir="rtl">رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آچے&nbsp; کے پولیس حکام&nbsp;&nbsp; مرد و خواتین کے مخلوط محافل پر قانون&nbsp; کا غلط اطلاق کرتے ہوئے اسے&nbsp; مرد&nbsp; اور عورت کےدرمیان &nbsp;کسی عوامی&nbsp; مقام&nbsp; پر ہونے والی بات چیت&nbsp; اور ساتھ اٹھنے بیٹھنے&nbsp; سے روکنے کےلیے استعمال کررہے ہیں۔</p>
<p dir="rtl">تنظیم کے مطابق اس قانون کے غلط اطلاق&nbsp; اور اس کے نتیجے میں &nbsp;بنیادی انسانی حقوق&nbsp; کی خلاف ورزی کی ان گنت &nbsp;شہادتیں موصول ہوئی ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ&nbsp; اس &nbsp;قانون کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کی جانے والی ایک خاتون کو شرعی پولیس کی تحویل میں جنسی زیادتی کا نشانہ بھی بنایا گیا۔</p>
<p dir="rtl">تنظیم نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ عوامی مقامات پر لباس کے متعلق&nbsp; قانون میں مردوں کے مقابلے میں خواتین پر زیادہ&nbsp; سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔</p>
<p dir="rtl">ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ&nbsp; تنظیم انڈونیشی صدر سوسیلو بمبانگ یودھویونو&nbsp; کے سامنے صوبے کے ان تمام مقامی قوانین کا جائزہ لینے&nbsp; کا مطالبہ پیش کرے &nbsp;گی جن کے بارے میں اتنظامیہ کا موقف ہے کہ ان سے اخلاقیات کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔</p>
<p dir="rtl">ہیومن رائٹس واچ کا صدر دفتر نیویارک میں ہے جب کہ 10 ممالک میں اس کی شاخیں کام کررہی ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 1 Dec 2010 15:01:24 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">111114589</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-12-01T15:01:24Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/voa_Indonesia-Map-300.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
													
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>بنگلہ دیش: ہڑتال سے معمولات زندگی معطل</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/bangladesh-srtike-dacca-shutdown-30november10-111039454.html</link>
				<description>منگل کی ہڑتال ،ان دو ہفتوں کے دوران، مسز ضیا کی اپنے گھر سے جبری بے دخلی کے خلاف دوسری ہڑتال تھی۔ </description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">بنگلہ دیش میں حزب اختلاف&nbsp; کی سب سے بڑی جماعت کی جانب سے بلائی جانے والی ملک گیر ہڑتال کے باعث دارالحکومت ڈھاکہ میں ٹرانسپورٹ کا پہیہ جام اورکاروبار اور&nbsp; تعلیمی ادارے بند رہے۔</p>
<p dir="rtl">بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی &nbsp;نے، جس کی قیادت سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کے پاس ہے، کہاہے کہ انہوں نے منگل کی ہڑتال مسز ضیا سے ان کی &nbsp;فوجی ملکیتی رہائش گاہ سے زبردستی بے دخلی کے خلاف کی تھی۔ وہ اس گھر میں تین عشروں تک مقیم رہیں۔</p>
<p dir="rtl">کسی ممکنہ تشدد کو روکنے کے لیے ڈھاکہ میں ہزاروں پولیس اہل کار تعینات کیے گئے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ رات بھر کے دوران &nbsp;ایک درجن سے زیادہ گاڑیاں نذر آتش کردی گئیں۔</p>
<p dir="rtl">منگل کی ہڑتال ،ان دو ہفتوں کے دوران، مسز ضیا کی اپنے گھر سے جبری بے دخلی کے خلاف دوسری ہڑتال تھی۔ بی این پی نے کہا ہے کہ حکومت مسز ضیا کے ایک ہزار سے زیادہ حامیوں کو گرفتار کرچکی ہے۔</p>
<p dir="rtl">حکومت نے حزب اختلاف کے ان الزامات سے انکار کیا ہے کہ مسز ضیا کو &nbsp;اس گھر سے ، جہاں وہ گذشتہ30 سال سے رہ رہی تھیں، نکالے جانے کا فیصلہ سیاسی تھا۔</p>
<p dir="rtl">خالی کرایا جانے والا گھر مسز ضیا کو، جو دومرتبہ ملک کی وزیر اعظم رہ چکی ہیں، ان کے شوہرضیاالرحمن کے 1981ء میں ایک بغاوت کے دوران قتل &nbsp;کے بعد، جو اس وقت ملک کے صدر تھے، انسانی ہمدردی کے تحت &nbsp;لیز پر دیا گیاتھا۔</p>
<p dir="rtl">مسز ضیا نے الزام لگایا ہے کہ فوج نے ان سے زبردستی گھر خالی کروایا ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 30 Nov 2010 15:28:19 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">111039454</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-11-30T15:28:19Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/ap_bangladesh_strike_14nov10_eng_480.jpg" length="44216" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_bangladesh_strike_14nov10_eng_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="308" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/230px-Flag_of_Bangladesh_Na.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="383" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
													
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>انڈونیشیا: شہریوں کے ساتھ بدسلوکی پر چار فوجیوں کو سزائے قید</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/indonesia-solder-torture-sentence-11november10-107233353.html</link>
				<description>انڈونیشی فوج صوبے پاپوا میں کم سطح کی شورش کچلنے کے لیے کئی برسوں سے لڑ رہی ہے۔ اس صوبے کو 2001ء میں محدود خود مختاری دی گئی تھی۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">انڈونیشیا کی ایک فوجی عدالت نے چار فوجیوں کو پاپوا صوبے میں شہریوں کے ایک گروپ کے ساتھ بدسلوکی کے الزام میں سات ماہ قید کی سزاسنائی ہے۔</p>
<p dir="rtl">یہ سزائیں جمعرات کو سنائی گئیں&nbsp; ، جب کہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے مطالبہ کیاتھا کہ صوبے پاپوا کے لوگوں کو اذیتیں دینے کے سلسلے میں ایک الگ مقدمہ قائم کیا جائے۔ دوسرے مقدمے میں ، عام لوگوں کے لیے جاری کردہ ایک ویڈیو میں دکھایا گیا تھا کہ فوجی ایک شخص کے نازک اعضاء جلارہے ہیں اور ایک دوسرے شخص کی گردن پر چاقو پھیر رہے ہیں۔</p>
<p dir="rtl">جن فوجیوں کو جمعرات کو سزا سنائی گئی ہے ، ان کی پکڑ بھی ایک ویڈیو پر ہوئی تھی، جس میں وہ عام شہریوں کو ٹھوکریں&nbsp; ماررہے تھے اور انہیں اپنے ہیلمٹوں کے ساتھ پیٹ رہے تھے۔ تین افراد کو پانچ ماہ اور ان کے پلاٹون لیڈر کو سات ماہ کی سزا سنائی گئی۔</p>
<p dir="rtl">حکومت نے دوسرے مقدمے میں مکمل تحقیقات کرانے کا وعدہ کیا ہے ، لیکن اس کا کہنا ہے کہ اس کے لیے اس واقعہ میں ملوث فوجی کی شناخت ناممکن ہے۔</p>
<p>انڈونیشی فوج صوبے پاپوا میں کم سطح کی شورش کچلنے کے لیے کئی برسوں سے لڑ رہی ہے۔ اس صوبے کو 2001ء میں محدود خود مختاری دی گئی تھی۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 11 Nov 2010 14:50:45 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">107233353</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-11-11T14:50:45Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
										
										
																	
																																															</item>
									
													
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>پاکستانی سماج، تشدد اور ریاست</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan-violence-sialkot-killing-25aug2010-101516159.html</link>
				<description>سابق فوجی صدر جنرل ضیاءالحق کے دور میں مجرموں کو سرعام کوڑے مارے جاتے تھے اور ان کے منہ کے پاس مائیکروفون رکھ دیے جاتے تھے کہ لوگ ان کی چیخ وپکار سنیں۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>سیالکوٹ کے نواحی علاقے بٹر میں پولیس کے ایک مرکز سے کچھ ہی فاصلے پر درجن بھر &nbsp;پولیس اہل کاروں اور بہت سے شہریوں کی موجودگی میں دو نوجوان بھائیوں کے بیہیمانہ قتل اور اس واقعے کی وڈیو نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ کیا &nbsp;ہمارا سماج مجموعی طور پر تشدد کی راہ اختیار کر رہا ہے، تشدد کو قبول کر رہا ہے؟ اگر ایسا ہے تو کیا اس&nbsp; کی وجہ ریاست پر شہریوں کے اعتماد کا متزلزل ہونا ہے؟ &nbsp;کیا معاشی اور معاشرتی دباؤ لوگوں کو تشدد پر مائل کر رہا ہے؟ کیا رحم کا جذبہ جس کا درس مذہب کی تعلیمات میں جگہ جگہ موجود ہے، ایک خواب بنتا جا رہا ہے؟ کیا اس کے حل کے لیے &nbsp;ہر جگہ &nbsp;انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے؟ &nbsp;</p>
<p>یہ وہ سوالات تھے جو ریڈیو آپ کی دنیا کے پروگرام راونڈ ٹیبل میں &nbsp;اٹھائے گئے۔ اس پروگرام میں شریک گفتگو تھے، جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود ، ممتاز ماہر قانون اور سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، مہرین انورراجہ، وزیر مملکت برائے قانون و انصاف، حاجی حنیف طیب سابق وفاقی وزیر برائے مذہبی امور اور ممتاز مذہبی سکالر، ڈاکٹر منظور اعجاز واشنگٹن میں مقیم دانشور و تجزیہ کار اور ڈاکٹر عنایت الرحمن، ممتاز ماہر امورنفسیات۔</p>
<p><strong>جسٹس طارق محمود، سابق صدرسپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن :</strong></p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ تشدد پاکستانی معاشرے میں پہلی بار دیکھنے میں نہیں آ رہا۔ اس&nbsp; کی تاریخ پرانی ہے۔ کتابوں میں نصابوں میں بھی&nbsp; &lsquo;&lsquo;مسلمان پانی اور ہندو پانی &rsquo;&rsquo; پڑھایا جاتا تھا، پھر تقسیم کے وقت خون کے ندیا ں بہائی گئیں اور پھر پاکستان بننے کے بعد بعض حکمرانوں نے اسی تشدد کو حکومت کا ذریعہ بنایا۔ انہوں نےحوالہ دیتے ہوئے کہا &nbsp;کہ سابق فوجی صدر جنرل ضیاءالحق کے دور میں مجرموں کو سرعام کوڑے مارے جاتے تھے اور ان کے منہ کے پاس مائیکروفون رکھ دیے جاتے تھے کہ لوگ ان کی چیخ وپکار سنیں۔</p>
<p>&nbsp;انہوں نے کہا کہ پولیس کے نظام میں انقلابی تبدیلیاں تو شاید ممکن نہیں لیکن ترقی پاکر اعلی عہدوں پر فائز ہونے والے، جاگیردانہ ذہن کے پولیس افسر سے بہتر وہ شخص ہو سکتا ہے جس نے پبلک سروس کمشن کے ذریعے یہ عہدہ حاصل کیا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس ریاستی جبر کا ذریعہ بنتی ہے۔ &nbsp;اس ادارے کو سیاستدانوں کے اثرسے آزاد کرنا ہوگا اور سیاستدانوں کی آنے والے کل کے لیے وژن دینا ہو گا ۔</p>
<p><strong>حاجی حنیف طیب، سابق وفاقی وزیر /عالم دین</strong></p>
<p>حاجی حنیف طیب نے جسٹس طارق محمود کے خیالات کے اتفاق کیا اور کہا کہ خرابی کے ازالے کے لیے، حالات سدھارنے کے لیے سب کو مل جل کر کوششیں کرنا ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ علماء اور مشائخ کا بھی اس میں بڑا کلیدی کردار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے مروجہ قوانین کا احترام سب پر ضروری ہے اور ہم نے علماء کو پیغام دے دیا ہے کہ وہ مسجد کے ممبر کو اس پیغام کے لیے بھی استعمال کریں کہ قانون ہاتھ میں لینے کی بجائے ملزم کو ریاست کے اداروں کے سپرد کریں۔</p>
<p>انہوں نے تسلیم کیا کہ انصاف میں تاخیر کا مسئلہ ایک مدت سے درپیش رہا ہے اور اب جا کر لوگوں کو اعلی عدالت سے تو انصاف کی امید وابستہ ہوئی ہے لیکن پولیس اور ماتحت عدالتوں پر اب بھی اعتماد میں کمی ہے۔</p>
<p><strong>ڈاکٹر منظور اعجاز، مصنف/کالم نگار</strong></p>
<p>ڈاکٹر منظور اعجاز کا کہنا تھا کہ سیالکوٹ کا واقعہ اوراس طرح کے دیگر واقعات کے سبب بیرون ممالک میں مقیم&nbsp; پاکستانی اپنی شناخت پاکستانی کے طور پر کرانے سے شرم محسوس کرنے لگے ہیں۔ ان واقعات کا تدارک کرنا ہو گا اور پولیس اور پارلیمان جیسے اداروں میں سے &lsquo;&lsquo;جاگیردارانہ سوچ&rsquo;&rsquo; کا خاتمہ کرنا ہو گا وگرنہ حالات نہیں سدھریں گے۔</p>
<p><strong>ڈاکٹر عنائت الرحمن، ماہرامورنفسیات</strong></p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ سیالکوٹ کا واقعہ معاشرے کے اجتماعی طور پر تشدد میں ملوث ہونے کی وجہ سے باعث تشویش ہے۔ &nbsp;انہوں نے کہا کہ تشدد انسان کی جبلت میں اگرچہ موجود ہے، &nbsp;لیکن معاشرت اس جذبے کو قابو میں رکھتی ہے۔ انصاف میں تاخیر اور پولیس&nbsp; کے نظام میں بگاڑانسان کو تشدد پر اکساتا ہے۔ &nbsp;اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ معاشروں اور قوموں کے اندر سے اس جذبے کی نفی میں سیاسی قیادت کا بڑا کردار ہوتا ہے جبکہ پاکستان میں سیاستدانوں کے بیانات پڑھیں تو &lsquo;&lsquo;اینٹ سے اینٹ&rsquo;&rsquo; بجانے اور چوک پر الٹا لٹکا دینے، کیفرکردار تک پہنچانے جیسی اصطلاحات عام پڑھنے کو ملتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے سخت الفاظ کی بجائے &lsquo;&lsquo;شریفانہ&rsquo;&rsquo; طرز تخاطب اختیار کرنا بے حد ضروری ہے کہ قوم کی تربیت بھی اس سے مقصود ہونی چاہیے۔</p>
<p><strong>مہرین انورراجہ، وزیرمملکت برائے قانون و انصاف:</strong></p>
<p>پاکستان میں حکمران جماعت پیپلزپارٹی کی راہنما اور وزیرمملکت برائے قانون و انصاف مہرین انور راجہ کا ا کہنا تھا کہ سیالکوٹ کا واقعہ بے حد افسوسناک ہے۔ &nbsp;اس واقعے نے &nbsp;یہ باور کرا دیا ہے کہ ادارے مضبوط کرنا ہوں گے۔</p>
<p>&nbsp;ان کا کہنا تھا کہ عوام کے ریاست پر عدم اعتماد کی بات اس لیے نہیں کی جاسکتی کیونکہ جمہوریت کو پھلنے پھولنے ہی نہیں دیا گیا۔ &nbsp;ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے وزراعدلیہ سے ٹکر لینے کی بجائے عدالت حاضر ہور ہے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ &nbsp;موجودہ حکومت قانون و انصاف کے معاملے میں کسی تخصیص کی قائل نہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت 18 ویں ترمیم لا چکی ہے ، این ایف سی ایوارڈ کا اعلان بھی کر چکی ہے ، عدالتوں کی آزادی کو یقینی بنا چکی ہے اور بلوچستان سے معافی بھی طلب کرچکی ہے ۔ یہ سب باتیں آنے والے کل کو دیکھ کر ہی کی گئ ہیں۔&nbsp; البتہ انہوں نے کہا کہ سیاست دانوں کا پولیس کے معاملے میں مداخلت کرنے کی روایت افسوسنا ک&nbsp; ہے ۔&nbsp;</p>
<p>ان کا کہناتھا کہ &nbsp;حکومت اداروں کے استحکام کے لیے کام کر رہی ہے۔ &nbsp;پیپلز پارٹی کی قیادت نے طے کررکھا &nbsp;ہے کہ وہ سسٹم کا ساتھ دیں گے افراد کا نہیں۔&nbsp; ہم سے غلطی ہو گی تو سسٹم کا سامنا کریں گے، خود کو پیش کریں گے جمہوریت اور قوم کے سامنے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 25 Aug 2010 23:06:55 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">101516159</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[اسد حسن]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-08-25T23:06:55Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
										
										
																	
																																															</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>برطانیہ کی طرف سے برما کے انتخابی قوانین پر تنقید</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/burma-elections-gordon-brown-16mar10-87785317.html</link>
				<description>نئے انتخابی قوانین ’ظالمانہ اور انتقامی‘ ہیں: وزیرِ اعظم گورڈن براؤن</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>برطانوی وزیرِ اعظم گورڈن براؤن نے برما کے نئی انتخابی قوانین کو انتقامی اور ظالمانہ قرار دیا ہے۔</p>
<p>برطانیہ کے خارجہ امور اور دولت مشترکہ کے دفتر سے منگل کے روز جاری ہونے والے ایک بیان میں مسٹر براؤن نے کہا کہ برما کی فوجی جنتا نے بین الاقوامی برادری کے مطالبات کو نظر انداز کیا ہے۔</p>
<p>انھوں نے کہا کہ برما نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اور یورپی یونین سمیت بین الاقوامی برادری کے مطالبات کر رد کرتے ہوئے انتخابات پر غیر منصفانہ پابندیاں عائد کی ہیں۔</p>
<p>گذشتہ ہفتے نافذ کیے جانے والے ان قوانین میں سیاسی جماعتوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ان کارکنوں کو نکال باہر کریں جو کسی جرم میں ملوث رہے ہوں اور 1990ء میں ہونے والے انتخابات کے نتائج کو رد کر دیں۔</p>
<p>آن سان سوچی کی &rsquo;نیشنل لیگ فار ڈیماکریسی&lsquo; نے گذشتہ انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی، لیکن فوجی حکومت نے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔<br />سوچی نے گذشتہ 20 میں سے 14 برس نظر بندی میں گزارے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 16 Mar 2010 13:33:36 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">87785317</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-03-16T13:33:36Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/42-AFP_Britain_Gordon_Brown_eng_195_08dec07_1.jpg" medium="image" isDefault="true" height="195" width="210" />
																																																																		</item>
									
										
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>مشرقِ وسطیٰ میں انسانی حقوق کی صورتِ حال پر امریکہ کی تشویش</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/human-rights/human-rights-middle-east-11mar10-87380542.html</link>
				<description>خطے کے اکثر ممالک میں انسانی حقوق کے سنگین مسائل بدستور موجود ہیں</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">امریکہ نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے کئى ملکوں میں انسانی حقوق کے سنگین مسائل بدستور موجود ہیں۔</p>
<p dir="rtl">انسانی حقوق کے بارے میں جمعرات کے روز محکمہٴ خارجہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراق میں سیکیورٹی کی عام صورتِ حال میں خاصی بہتری آجانے کے باوجود اہم مسائل ابھی باقی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراقیوں کو من مانی یا خلافِ قانون ہلاکتوں، اذیت رسانی اور ناقص عدالتی نظام کا سامنا ہے۔</p>
<p dir="rtl">رپورٹ میں اسرائیل کا ذکر کرتے ہوئے وہاں عرب شہریوں کے خلاف امتیازی سلوک کی نشان دہی کی گئى ہے اور ملک میں غیر ملکی کارکنوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کے علاقے میں اذیت رسانی، ہلاکتوں اور آزادیِ مذہب پر پابندیوں کی اطلاعات کی نشندہی کرتے ہوئے فلسطینی عہدے داروں پر نکتہ چینی کی گئى ہے۔<br /><br /> رپورٹ میں غزہ کے علاقے میں اسرائیل کے حالیہ حملوں کے دوران اسرائیلیوں اور فلسطینیوں، دونوں کے طرزِ عمل کے بارے میں تشویش ظاہر کی گئى ہے۔</p>
<p dir="rtl">رپورٹ میں کہا ہے کہ پچھلے سال یمن میں انسانی حقوق کے مسائل میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ رپورٹ میں سعودی عرب، مصر اور شام میں انسانی حقوق کے اہم مسائل کی نشاندہی کی گئى ہے۔</p>
<p dir="rtl">رپورٹ میں لیبیا کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کو بدستور ناقص کہا گیا ہے اور ترکی میں خاندانی عزت کے نام پر قتل سمیت، عورتوں کے خلاف تشدّد کے واقعات پر تشویش ظاہر کی گئى ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں عورتوں، غیر ملکی کارکنوں اور گھریلو ملازمین کے ساتھ بد سلوکی بدستور مسئلہ ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 11 Mar 2010 21:03:30 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">87380542</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-03-11T21:03:30Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[حقوقِ انساں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/29-102208-Israel-Arabs-5-of-5-190.jpg" length="10908" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
										
										
																	
																																																																					<media:content url="http://media.voanews.com/images/29-102208-Israel-Arabs-5-of-5-190.jpg" medium="image" isDefault="true" height="166" width="190" />
																																																																								</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>ایران کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر امریکہ کی تنقید</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/iran-human-rights-11mar10-87362687.html</link>
				<description>’2009ء کے صدارتی انتخابات کے بعد ایران کا ریکارڈ مزید خراب ہو گیا‘</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">امریکہ نے کہا ہے کہ ایران کا انسانی حقوق کی صورتِ حال کا ریکارڈ بُرا ہے، اور مزید خراب ہوتا جا رہا ہے۔</p>
<p dir="rtl">محکمہٴ خارجہ نے انسانی حقوق کے بارے میں 2009ء کی رپورٹ میں کہا ہے کہ &lsquo;ایران کا انسانی حقوق کا ریکارڈ ناقص تھا اور سال 2009ء کے دوران، خاص طور پر جون میں متنازع صدارتی انتخاب کے بعد، مزید خراب ہو گیا۔&rsquo;</p>
<p dir="rtl">ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے انتخاب پر ہزاروں لاکھوں لوگوں نے تہران کی سڑکوں پر آ کر احتجاج کیا تھا۔</p>
<p dir="rtl">رپورٹ میں اُن احتجاجی مظاہروں کو تشدد آمیز طریقے سے کچل دیے جانے پر نکتہ چینی کی گئی ہے۔</p>
<p dir="rtl">رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کی سیکیورٹی فورسز کم سے کم 37ہلاکتوں کی ذمہ دار ہیں اور یہ کہ سیکیورٹی فورسز نے سیاسی محرکات کی بنا پر لوگوں کو اذیتیں دینے، زدو کوب کرنے اور جنسی تشدد سمیت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا۔</p>
<p>انسانی حقوق کی کچھ تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایران میں پکڑ دھکڑ کی مہم کے دوران 300 کے لگ بھگ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 11 Mar 2010 18:37:27 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">87362687</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-03-11T18:37:27Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/29-afp_iran_elections_protests_16jun09_210.jpg" medium="image" isDefault="true" height="210" width="210" />
																																																																		</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>’امریکہ نے اذیت رسانی کو چھپایا‘ </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/britain-us-torture-10mar10-87222007.html</link>
				<description>برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی فائیو کی سابق سربراہ کا الزام</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی فائیو کی سابق سربراہ نے امریکہ پر مشتبہ دہشت گردوں کے ساتھ ناروا سلوک کو چھپانے کا الزام عائد کیا ہے۔</p>
<p dir="rtl">ایلیزا میننگیم بولر نے منگل کے روز کہا کہ امریکہ نے بعض ملزموں پر پوچھ گچھ کے درشت طریقے روا رکھنے کی تفصیلات جان بوجھ کر خفیہ رکھیں۔ ان ملزموں میں نائن الیون کے مشتبہ سرغنے خالد شیخ محمد پر کی جانے والی واٹر بورڈنگ بھی شامل ہے۔</p>
<p dir="rtl">میننگیم کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب برطانوی خفیہ ادارے کو اس الزام کا سامنا ہے کہ اس نے امریکی اداروں کے ساتھ مل کر مشتبہ دہشت گردوں کو اذیتیں پہنچائیں۔</p>
<p dir="rtl">برطانوی ججوں نے گذشتہ مہینے حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ گوانتانامو کے ایک قیدی بنیام محمد کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کی تفصیلات جاری کرے۔ بنیام کا تعلق ایتھیوپیا سے ہے اور وہ برطانیہ میں مقیم تھا۔</p>
<p>امریکی فوج نے بنیام محمد کو 2002ء میں پاکستان سے دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ امریکی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے پہلے مراکش اور بعد میں گوانتانامو میں زنجیروں میں باندھ کر رکھا گیا، مارا پیٹا گیا، اس کے جنسی اعضا کاٹے گئے اور اسے نیند سے محروم رکھا گیا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 10 Mar 2010 14:10:48 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">87222007</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-03-10T14:10:48Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/UN_-_Secret_sq_Detention01.jpg" medium="image" isDefault="true" height="480" width="480" />
																																																																		</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>بھارتی اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستیں: بِل راجیا سبھا سے منظور</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/india-women-seats-9mar10-87142157.html</link>
				<description>یہ بل دو دن کے زبردست ہنگامے کے بعد منظور ہوا</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ایک تہائی نشستیں مخصوص کرنے والا تاریخ ساز خواتین ریزرویشن بِل دو دِنوں کے غیر معمولی ہنگامے کے بعد حزبِ اختلاف بھارتیا جنتا پارٹی (بی جے پی) اور بائیں بازو کی حمایت سے راجیہ سبھا میں منظور کرالیا گیا۔</p>
<p dir="rtl">بِل کی مخالفت میں ایک اور حمایت میں 186ووٹ پڑے، جب کہ سماج وادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی، لوک جن شکتی پارٹی اور راشٹریہ جنتا دَل نے ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا۔</p>
<p dir="rtl">ووٹنگ کے بعد نتائج کا اعلان کرتے ہوئے سپیکر حامد انصاری نے بتایا کہ بِل دو تہائی اکثریت سے منظور کر لیا گیا ہے۔</p>
<p dir="rtl">ادھر ایک روز قبل سپیکر کے ساتھ ناشائستہ رویہ اختیار کرنے والے سات ارکان کو پارلیمنٹ کے رواں اجلاس تک معطل کردیا گیا ہے۔ تاہم معطل شدہ ارکان ایوان سے جب باہر نہیں گئے اور دوبارہ کارروائی شروع ہوئی تو اُن کو مارشلوں کی مدد سے جبراً ایوان سے باہر نکال دیا گیا۔</p>
<p>حکومت بغیر بحث کے صوتی ووٹ سے بِل منظور کرانا چاہتی تھی مگر بی جے پی نے بحث پر اصرار کیا اور ڈھائی گھنٹے سے زائد چلنے والی بحث کے بعد اُسے منظور کر لیا گیا۔ اب اِسے لوک سبھا میں منظور کرانا ہے جہاں حکومت کو کچھ دشواری پیش آسکتی ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 9 Mar 2010 19:43:36 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">87142157</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[سہیل انجم]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-03-09T19:43:36Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
										
										
																	
																																															</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>خواتین کو ہراساں کرنے کے بل پر صدر کے دستخط</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/sexual-harassment-bill-pak-87110142.html</link>
				<description>خواتین کے حق میں قانون سازی کا عمل تیز کریں: زرداری</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>صدر آصف علی زرداری نے منگل کے روز خواتین کو مقام کار پر ہراساں کرنے کےخلاف بل پر دستخط کردیے جسے پارلیمان کے دونوں ایوانوں نے حال ہی میں کثرت رائے سے منظورکیا تھا۔ <br /><br />اس قانون کا مقصد سرکاری اور نجی اداروں میں ملازمت پیشہ خواتین کو ہراساں کرنے کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔&nbsp;&nbsp; نئے قانون کے تحت خواتین کو ہراساں کرنے کا مرتکب ہونے والے کے خلاف جرمانے کی رقم ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر پانچ لاکھ جب کہ سزا کی مدت ایک سال سے بڑھا کرپانچ سال کر دی گئی ہے۔<br /><br />خیال رہے کہ سیینٹ اور قومی اسمبلی سے منظوری کیا گیا کوئی بھی بل اُس وقت تک قانون نہیں بنتا جب تک صدر اُس پر دستخط نہ کریں۔&nbsp;&nbsp; پیر کے روز خواتین کے عالمی دن کے موقع پر صدر آصف علی زرداری نے اراکین پارلیمان پر زور دیا تھا کہ وہ خواتین کے خلاف امتیازی قوانین کوختم کرنے کے لیے اپنی کوششیں اور قانون سازی کا عمل تیز کردیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 9 Mar 2010 14:58:44 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">87110142</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورورپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-03-09T14:58:44Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/29-ap_pakistan_asif_ali_zardari_175_22Aug08_2.jpg" medium="image" isDefault="true" height="190" width="195" />
																																																																		</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>دختر کشی کا بھیانک انجام: راجستھان کے ایک گاؤں میں 120 سالوں میں صرف دو لڑکیاں بیاہی گئیں</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/devda-rajisthan-india-marriage-18feb10-84696142.html</link>
				<description>اس گاؤں میں لڑکی کا وجود باعثِ نحوست سمجھا جاتا رہا ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>بھارت کے ایک گاؤں میں کسی لڑکی کے ہاتھوں میں مہندی نہیں سجتی اور نہ ہی اس کی ڈولی اٹھتی ہے۔ در اصل اس پورے گاؤں کو ایک صدیوں پرانی روایت کی پیروی کرتے ہوئے ہمیشہ لڑکیوں کے وجود سے &rdquo;پاک&rdquo; رکھا گیا ہے۔ بیٹی کو یہاں یا تو ماں کی کوکھ میں ہی ختم کر دیا جاتا ہے اور جو سخت جان پیدا ہونے کی جرات کرتی ہے اسے پیدا ہونے ہی موت کی نیند سلا دیا جاتا ہے۔ <br /> <br /> یہ راجستھان صوبے کے ایک گاؤں دیودا کی داستان ہے جس کے بارے میں ملک کے کثیر الاشاعت اخبار ٹائمز آف انڈیا میں یہ ناقابل یقین لیکن حقیقی خبر شائع ہوئی ہے کہ ایک صدی تک اس گاؤں میں کوئی لڑکی بیاہی نہیں گئی تھی۔ دیودا خبروں کی سرخیوں میں اس طرح آیا کہ اس گاؤں میں منگل کے دن ایک عجوبہ رونما ہوا۔<br /> <br /> منگل کے دن پنا سنگھ نام کے ایک شخص کی بیٹی شگون کنور کی شادی شیلندر سنگھ کے ساتھ ہوئی جو بیکانیر میں ایک ٹریول ایجنسی میں ملازمت کرتا ہے۔ ٹائمز کا دعویٰ ہے کہ راجپوتوں کے اس گاؤں میں 120 برسوں میں ہونے والی یہ دوسری شادی ہے۔ اس کے قبل صرف 1998ء میں یہاں شہنائیاں بجی تھیں جب شگون کی چچا زاد بہن جینت کنور کا بیاہ رچایا گیا تھا۔<br /> <br /> دراصل راجستھان کے راجپوتوں کے اس گاؤں میں یا تو لڑکیوں کو حمل مادر میں ہی ہلاک کر دیا جاتا ہے یا انہیں پیدا ہوتے ہی ختم کر دیا جاتا ہے۔ شگون کے والد پنا سنگھ نے فخریہ لہجے میں اخبار کے نمائندے کو بتایا کہ ان کا خاندان پورے دیودا گاؤں کا واحد خاندان ہے جہاں ایک نہیں دو دو لڑکیوں کی شادیاں ہوئی ہیں۔ <br /> <br /> آج سے لگ بھگ 29 سال قبل اندر سنگھ بھاٹی نام کے ایک شخص نے صدیوں قدیم اور قبیح روایت سے بغاوت کی اور اپنی نوزائیدہ بچی کا گلا گھونٹنے سے انکار کر دیا۔ اس کو برادری نے معتوب کر دیا تاہم اس طرح جینت زندہ رہ گئی اور بھاٹی کے آنگن میں پروان چڑھنے لگی۔ وہ اس وقت پورے گاؤں میں واحد لڑکی تھی۔ جب جینت بڑی ہو گئی تو والدین نے 1998ء میں اس کے ہاتھ پیلے کر دیے۔ <br /> <br /> جینت کی پیدائش کے چند برسوں بعد اندر سنگھ کے بھائی پنا سنگھ کے آنگن میں بھی ایک کلی کھلی۔ اپنے بڑے بھائی کے جرات مندانہ اقدام کی تقلید کرتے ہوئے پنا نے بھی اس کلی کو مسلنے سے انکار کر دیا۔ شگون نام کی وہ کلی آج وہ دلہن بنی ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 18 Feb 2010 14:40:49 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">84696142</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[کولکتہ]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-02-18T14:40:49Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
										
										
																	
																																															</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>افغانستان میں شہری ہلاکتوں میں اضافہ</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/afghanistan-operation-civilian-deaths-16feb10-84474267.html</link>
				<description>افغانستان میں شہریوں کی ہلاکتوں پر افغان حکومت احتجاج کرتی رہی ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">نیٹو فوج نے کہا ہے کہ افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند میں طالبان کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کے دوران تین مزید افغان شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔</p>
<p dir="rtl">منگل کے روز بین الاقوامی فوج کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مختلف واقعات میں دو شہری اس وقت ہلاک ہو گئے جب انھیں فوجیوں کے نزدیک نہ آنے کی وارننگ کو نظر انداز کر دیا جس پر فوجیوں نے انھیں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔</p>
<p dir="rtl">اطلاعات کے مطابق ایک تیسرا شخص اتحادی فوجیوں اور باغیوں کے درمیان ہونے والی فائرنگ کی زد میں آ کر مارا گیا۔</p>
<p dir="rtl">نیٹو کمانڈروں کا کہنا ہے کہ اس فوجی کارروائی میں شہریوں کا تحفظ بڑی ترجیح ہے۔</p>
<p>افغانستان میں 2001ء کے آخر میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے ہونے والے سب سے بڑے مشترکہ آپریشن میں امریکہ، برطانیہ اور افغانستان کے تقریباً 15 ہزار فوجی حصہ لے رہے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 16 Feb 2010 15:30:32 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">84474267</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-02-16T15:30:32Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
										
										
																	
																																															</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>چین: اینگا پا میں تبتی لوگوں کا احتجاجی مظاہرہ</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/china_tibet_protest_demonstration_15thfebruary2010-84419672.html</link>
				<description>احتجاجی مظاہرہ پیر کے روز  صوبہ سِچوان کی کاؤنٹی  اینگاپا کے شہر اینگاپا کی  بڑی مارکیٹ میں کیاگیا</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>جنوب مغربی چین سے ملنے والی اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ تبّت کے قمری سال کے آغازکے موقعے&nbsp; پر&nbsp; تبّت کے&nbsp; لگ بھگ 400 بِھکشوؤں اور عام لوگوں نےدوسال پہلے&nbsp; تبّتی مظاہرین کی ہلاکتوں پر احتجاج کے طور پر&nbsp; دھرنا مار تے&nbsp; ہوئے احتجاج کیا ہے۔<br /><br />یہ احتجاجی مظاہرہ پیر کے روز&nbsp; صوبہ سِچوان کی کاؤنٹی&nbsp; اینگاپا کے شہر اینگاپا کی&nbsp; بڑی مارکیٹ میں کیاگیا۔تبّت کی آزادی کی حامی ایک ویب سائٹ پر کہا گیا ہے کہ احتجاجی مظاہرین نے&nbsp; اُن لوگوں کے لیے سوگ کے اظہار کے طور پر ، جو مارچ 2008&nbsp; میں تبّت کے طول وعرض میں مظاہروں کے دوران ہلاک ہوئے تھے، ستامپا یعنی جو کے آٹے کو ہوا میں اُچھالا۔<br /><br />قریب میں واقع کیرتی راحب خانے کے ایک عہدے دار نےمظاہرین سے منتشر ہوجانے کی ناکام اپیلیں کیں۔ بعد میں چینی حکام نے اُن لوگوں کے موبائیل فون ضبط کرلیے، جنہوں نے&nbsp; احتجاجی مظاہرے کی تصویریں اور وِڈیو بنائے تھے۔ <br /><br />سنہ 2008کے مظاہروں کے بعد سے اینگاپا کا ماحول بدستور کشیدہ ہے۔<br /><br /></p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 16 Feb 2010 01:24:07 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">84419672</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-02-16T01:24:07Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
										
										
																	
																																															</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>ایرانی ملّا کا مزید لوگوں کو پھانسیاں دینے کا مطالبہ</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/iran-mulla-hanging-29jan10-83034242.html</link>
				<description>’مظاہرین کے لیے اب رحم دلی کی کوئى گنجائش نہیں ہے‘</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>ایران میں ایک با اختیار اور سخت گیر پالیسیوں کے حامی عالم نے کہا ہے حزبِ اختلاف سے وابستہ مزید احتجاجی مظاہرین کو تختہ دار پر لٹکا دینا چاہئیے۔<br />
<br />
آیت اللہ احمد جنّتی نے تہران میں جمعے کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے عدلیہ کے اُن حکام کی تعریف کی، جن کے فیصلے کے مطابق ایک دن پہلے دو سیاسی مخالفین کو موت کی سزادی گئى تھی۔ انہوں نے عہدے داروں پر زور دیا کہ وہ نظریاتی مخالفین کو اُس وقت تک موت کی سزائیں سُناتے رہیں، جب تک حزبِ اختلاف کے احتجاجی مظاہرے بند نہ ہو جائیں۔<br />
<br />
جنّتی ایران کے با اختیار ادارے شُورائے نگہبان کے سر براہ اور ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے حامی ہیں۔<br />
<br />
انہوں نے کہا ہے کہ ایران نے گذشتہ جون میں دوسری معیاد کے لیے صدر احمدی نژاد کے الیکشن کے بعد ہونے والے احتجاجی مظاہروں کو برداشت کر کے غلطی کی تھی۔اور اُن لوگوں کے لیے اب رحم دلی کی کوئى گنجائش نہیں ہے۔<br />
امریکہ نے جمعرات کے روز دو آدمیوں کو پھانسی دیے جانے کے واقعے پر ایران کی شدید مذمّت کی تھی۔<br />
<br />
وائٹ ہاؤس کے ترجمان بِل برٹن نے موت کی ان سزاؤں کو قتل قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران، پُر امن مخالفین کو غیر منصفانہ اور ظالمانہ طریقوں سے کچلنے کی کارروائیوں میں ایک نئے &rdquo;پست مقام&ldquo; تک پہنچ گیا ہے۔<br />
<br />
ترجمان نے یہ بھی کہا تھا کہ اس قسم کی کارروائیاں ایران کے لیے احترام پیدا کرنے کی بجائے اُسے دنیا میں مزید الگ تھلگ کر دیں گی۔<br />
<br />
ایران کے سر کاری ذرائع ابلاغ نے گذشتہ روز کہا تھا کہ محمد رضا علی زمانی اور عرش رحمانی پور کو جمعرات کے روز پھانسی دے دی گئى۔ یہ پچھلے سال دوسری معیادِ صدارت کے لیے صدر محمود احمدی نژاد کے متنازع الیکشن کے بعد بھڑک اُٹھنے والے ہنگاموں کے بعد سے ایرانی حکومت کے نظریاتی مخالفین کے لیے پہلی سزائے موت ہے جس کی اطلاع دی گئى ہے۔<br />
<br />
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان دونوں مخالفین کو جون کے الیکشن سے پہلے گرفتار کیا گیا تھا اور بظاہر ان کا احتجاجی مظاہروں کے ساتھ کوئى تعلق نہیں تھا۔ لیکن تہران کے سرکاری وکیلِ استغاثہ عباس جعفری دولت آبادی نے کہا ہے کہ ان آدمیوں نے قتل کرنے، بموں سے حملے کرنے اور بادشاہت کی حامی تنظیم ایران کی سلطنت مجلس کا رُکن ہونے کا اعتراف کر لیا تھا۔ <br />
<br />
ایرانی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ الیکشن کے بعد احتجاجی مظاہروں میں حصّہ لینے والے لوگوں کے ایک نئے گروپ پر آنے والے دِنوں میں مقدمہ شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ مقدمہ کتنے لوگوں کے خلاف چلایا جائے گا۔<br />
<br />
ایران پہلے ہی ہنگامہ کرنے کے الزام میں 80 سے زیادہ لوگوں کو کئى ماہ سے لے کر 15 سال تک قید کی سزائیں سنا چکا ہے۔<br />
&nbsp;</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 29 Jan 2010 16:21:10 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">83034242</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-01-29T16:21:10Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
										
										
																	
																																															</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>عافیہ صدیقی مقدمہ: وکلائے صفائی کے دلائل کا آغاز</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/aafia-siddiqui-28jun10-82945902.html</link>
				<description>صدیقی کو قید کرنے کے بعد زد و کوب کیا گیا تھا: گواہ کا بیان</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>نیویارک میں عافیہ صدیقی کے خلاف مقدمہ جاری ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے افغانستان میں ایک امریکی فوجی پر حملہ کیا تھا۔ بدھ کے روز ایک گواہ نے اس شہادت کو مسترد کر دیا کہ عافیہ صدیقی نے ایک امریکی فوجی پر بندوق سے گولی چلائی تھی۔ <br />
<br />
اِس سے پہلے کی شہادت میں حکومت کا مؤقف یہ تھا کہ افغانستان کے ایک پولیس اسٹیشن کی دیوار پر جو دو سوراخ ہوئے تھے امکان یہ ہے کہ وہ عافیہ صدیقی کے ایک بندوق چھیننے کے بعد گولی چلانے سے ہوئے تھے۔<br />
<br />
استغاثہ کا کہنا ہے کہ جب عافیہ صدیقی نے گولی چلائی تو امریکی فوج کے ایک عہدے دار نے جواب میں اپنی پستول سے گولی چلائی اور یہ خاتون زخمی ہو گئیں۔<br />
<br />
پولیس اسٹیشن میں جو امریکی سپاہی اور ایف بی آئی کے ایجنٹ وہاں موجود تھے اُن میں سے کوئی بھی زخمی نہیں ہوا۔<br />
<br />
ایف بی آئی کے سابق ایجنٹ ولیم ٹوبن نے، جو اب نجی فورنسک میٹالرجسٹ ہے، کہا ہے کہ یہ دو سوراخ اُس فوجی بندوق سے چلنے والی گولی کے نہیں ہوسکتے جو مبینہ طور پر صدیقی نے چلائی تھی، کیونکہ اِس بندوق سے چلائی گئی گولی بڑی تیز رفتار ہوتی ہے۔<br />
<br />
ٹوبن کی شہادت وکلائے صفائی کی جانب سے فیڈرل جیوری کے سامنے دلائل کے دوران قلم بند کی گئی۔<br />
<br />
استغاثہ کی طرف سے کہا گیا تھا کہ ڈاکٹر صدیقی نے، جب اُنھیں القاعدہ کا حامی ہونے کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا، یہ فوجی بندوق اُٹھائی تھی۔<br />
<br />
انسدادِ دہشت گردی کے ایک افغان پولیس افسر کی کابل میں ویڈیو ٹیپ کی گئی شہادت کے مطابق جولائی 2008ء کے اِس واقعے کے وقت وہ وہاں موجود تھا۔<br />
<br />
اُس نے استغاثے اور صفائی کے وکلا کو بتایا کہ صدیقی کو قید کرنے کے بعد زد و کوب کیا گیا تھا۔ اُس نے گولی چلنے کی آواز تو سُنی تھی لیکن اُس نے اِس خاتون کے ہاتھ میں بندوق نہیں دیکھی تھی۔<br />
<br />
ڈاکٹر صدیقی جو سابقہ سماعتوں کے دوران بار بار کارروائی میں خلل ڈالتی رہی ہیں اِس سماعت میں موجود نہ تھیں لیکن جج رچرڈ برمن کے نام ایک خط میں اُن کے وکیلِ صفائی نے درخواست کی تھی کہ اُنھیں گواہی دینے سے روکا جائے کیونکہ اُن کو یہ وہم ہو گیا ہے کہ وہ عالمی امن لاسکتی ہیں۔<br />
<br />
اُن کے وکیلوں کا کہنا ہے کہ وہ جِس چیز کی درخواست کر رہے ہیں اُس کی اہمیت غیر معمولی ہے یعنی فوج داری ملزم کو حاصل آئینی حق پر قدغن لگانا، تاکہ اس کے مفاد کا تحفظ ہو۔<br />
<br />
وکیلوں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر صدیقی اُن کے ساتھ گفتگو کرنے سے انکار کر رہی ہیں۔ <br />
<br />
یہ وکیل امریکہ اور پاکستان کی حکومتوں نے فراہم کیے ہیں۔ مقدمے کی کارروائی کے دوران کچھ دیر امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی موجود تھے۔<br />
&nbsp;</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 28 Jan 2010 18:01:31 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">82945902</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[لیری فریئنڈ]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-01-28T18:01:31Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
										
										
																	
																																															</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>افسانہ خاتون نے لکھی بہادر ی کی نئی داستان</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/afsana-khatoon-child-marriage-25jan10-82611072.html</link>
				<description>بنگال کی 14 سالہ بچی نے کم عمری کی شادیوں کے خلاف جرات مندانہ مہم چلائی ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>مغربی بنگال کے ضلع پرولیا کے دور افتادہ گاؤں کی رہنے والی 14سالہ بچی افسانہ خاتون نے بہادری اور جرات مندی کی نئی داستان رقم کی ہے۔ اس کی اس بہادری کا اعتراف نہ صرف مقامی انتظامیہ نے کیا ہے بلکہ قومی سطح پر اس کی جرات کا اعتراف کرتے ہوئے صدر جمہوریہ پرتیبھا دیوی سنگھ پاٹل نے یوم جمہوریہ کے موقع پر اسے بہادری کے اعزاز سے نوازا۔ اس سال جن 21 بچوں کو بہادری کے انعامات و اعزازات ملے ان میں افسانہ خاتون کا نام سر فہرست ہے۔ <br />
<br />
افسانہ خاتون نے کم عمر کی بچیوں کی شادی کے خلاف اپنے علاقے میں تحریک چلائی جہاں دس بارہ سال کی عمر ہی میں بچیوں کی شادی کر دی جاتی ہے۔ اسی فہرست میں افسانہ خاتون کا نام بھی شامل ہو گیا تھا، لیکن اس نے خاندان اور سماج سے بغاوت کرتے ہوئے اس شادی سے صاف انکار کر دیا اور تعلیم حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ حالانکہ اس کے غریب والدین اس کے لیے تیار نہیں تھے لیکن جب اس نے علاقہ کی بچیوں کو بھی اس کام میں لگا لیا تو اس کے والدین نے بھی حامی بھر دی اور آج افسانہ خاتون پانچویں درجے کی طالبہ ہے۔<br />
<br />
افسانہ کا کہنا ہے کہ بلوغت کی عمر 18سال سے قبل کسی بھی بچی کی شادی نہیں ہونی چاہیئے اور جس شادی میں تلک، جہیز کا مطالبہ کیا جائے اسے تو قطعی تسلیم نہیں کیا جا نا چاہیئے،بلکہ اس کے خلاف سماج کو اٹھ کھڑے ہونا چاہیئے۔ اس مقصد کے لیے افسانہ خاتون نے اپنے گاؤں میں نہ صرف باقاعدہ جلسے اور سیمنار کروائے بلکہ ایک سماجی ماحول بھی پید اکر دیا جس سے اس کی عمر کی بہت سی لڑکیاں وابستہ ہو گئی ہیں۔ اب تو اس نے دو درجن سے بھی زائد بچیوں کا ایک جتھا تیار کر لیا ہے جو اس کے دوش بدوش کھڑا ہوتا ہے۔ <br />
<br />
انعام لینے کے لیے نئی دہلی آئی ہوئی افسانہ خاتون نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بلوغت کی عمر تک پہنچنے سے قبل کسی بھی بچی کی شادی نہیں ہونی چاہیئے اور اس نے اس بات کا عزم کیا ہے کہ وہ اپنے علاقے کی بچیوں کو ان کے اپنے پیروں پر کھڑا کرے گی۔ اس کے مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے انتظامیہ نے اس دور افتادہ گاؤں میں ایک اسکول بھی کھول دیا ہے۔ <br />
<br />
افسانہ خاتون کی جرات مندی کی کہانی یہیں پر ختم نہیں ہو تی اس نے اپنا عزم دہراتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تلک جہیز لے کر شادیاں کروائی جاتی ہیں تو وہ باقاعدہ اس طرح کی شادیوں کے خلاف تحریک چلائے گی اور سماج کے بڑے طبقے کی اسے حمایت حاصل ہو گی کیونکہ اب سماج بیدار ہو رہا ہے۔<br />
&nbsp;</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Mon, 25 Jan 2010 18:18:06 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">82611072</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[رضوان احمد]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-01-25T18:18:06Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/afsana-khatoon1.jpg" length="15032" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/afsana-khatoon1.jpg" medium="image" isDefault="true" height="224" width="300" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/afsana-khatoon.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>عافیہ صدیقی نے رائفل کو چھوا تک نہیں تھا: وکلائے صفائی</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/afia-siddiqui-case-12jan10-81231582.html</link>
				<description>’رائفل پر سے ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے ظاہر ہو کہ عافیہ صدیقی نے اسے استعمال کیا تھا‘</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے وکلا عدالت میں ثابت کرنے کی کوشش کریں گے کہ انہوں نے نہ تو ایم-4 رائفل کو ہاتھ لگایا تھا اور نہ ہی اس سے گولی چلائی تھی۔ <br />
<br />
&rdquo;ہم یہ نہیں کہتے کہ انہوں نے اپنے دفاع کے لیے رائفل اٹھائی یا یہ کوئی حادثہ تھا۔ ہم کہتے ہیں کہ انہوں نے رائفل کو ہاتھ ہی نہیں لگایا۔&rdquo; وکیل صفائی لنڈا مورینو نے پیر کو نیو یارک کی ایک عدالت میں مقدمے کی باضابطہ کاروائی سے پہلے ہونے والی پیشی میں کہا۔ <br />
<br />
امریکہ میں اعلٰی تعلیم حاصل کرنے والی پاکستانی خاتون عافیہ صدیقی پر الزام ہے کہ انہوں نے 2008ء میں افغانستان میں ایک امریکی تفتیشی ٹیم کے ارکان کو ایم-4 رائفل سے قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔&nbsp;&nbsp; <br />
<br />
وکلائے صفائی مقدمے میں بحث کریں گے کہ ایم-4 رائفل سے کوئی ایسا فورنزک ثبوت نہیں ملا جس سے ثابت کیا جا سکے کہ ڈاکٹر صدیقی نے اسے اٹھایا تھا۔ یعنی نہ تو رائفل پر سے ان کی انگلیوں کے نشان ملے ہیں اور نہ ہی ان کا ڈی این اے ملا ہے۔ اس کے علاوہ، ڈاکٹر صدیقی کے ہاتھوں پر بارود کے ذرات بھی نہیں ملے جو رائفل فائر کرنے سے ملنے چاہیئے تھے۔<br />
<br />
<br />
بدھ، 13 جنوری سے ڈاکٹر صدیقی کے مقدمے کے لیے جیوری کے پینل کا انتخاب شروع ہوگا اور منگل 19 جنوری کو ان کے خلاف مقدمے کا باقاعدہ آغاز ہوگا۔&nbsp;&nbsp; <br />
<br />
استغاثہ کی کوشش رہے گی کہ ایسے ماہرین پیش کیے جائیں جو جیوری کو بتائیں گے کہ ہتھیاروں پر سے انگلیوں کے قابلِ استعمال نشان حاصل کرنا بے حد مشکل ہوتا ہے۔ <br />
<br />
وکیل استغاثہ کرسٹوفر لوین نے عدالت کے سامنے یہ بھی واضح کیا کہ وہ یہ ثابت کرنے کی کوشش نہیں کریں گے کہ ڈاکٹر صدیقی القاعدہ، طالبان، یا کسی اور غیر ملکی دہشت گرد تنظیم سے تعلق رکھتی ہیں۔<br />
<br />
ڈاکٹر صدیقی کی پانچ رکنی دفاعی ٹیم کی کوشش ہے کہ استغاثہ کو وہ تمام شواہد عدالت میں پیش کرنے کی اجازت نہ ملے جو امریکی حکام کے بقول ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی حراست کے وقت ان کے پاس سے ملے تھے۔ ان میں مبینہ طور پر ایک کمپیوٹر فلیش ڈرائیو، سوڈیم سائنائیڈ سمیت کچھ کیمیائی مادے، اور اردو اور انگریزی میں لکھے کچھ کاغذات ہیں جن میں ہتھیار بنانے کے طریقوں اور امریکہ پر حملہ کرنے کے منصوبوں کا ذکر ہے۔ <br />
<br />
وکلائے صفائی کا کہنا ہے کہ حکومت نے عافیہ صدیقی کے خلاف دہشت گردی کا نہیں بلکہ اقدامِ قتل کا مقدمہ درج کیا ہے اور ان تمام شواہد کا اس مقدمے سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ بات ابھی ثابت نہیں ہوئی کہ یہ شواہد عافیہ صدیقی کے پاس سے ہی ملے تھے۔ جج رچرڈ برمن نے ابھی اس درخواست پر فیصلہ محفوظ رکھا ہے۔ <br />
<br />
پیشی کے دوران عدالت میں عافیہ صدیقی کے بھائی محمد صدیقی، پاکستانی سفارت خانے کے اعلٰی اہل کار ثاقب رؤف اور امریکہ میں مقیم پاکستانی اور مسلم برادری کے ارکان موجود تھے۔ <br />
<br />
دفاعی ٹیم میں شامل پانچ وکلا میں سے تین کی فیس حکومت پاکستان ادا کر رہی ہے، جب کہ باقی دو امریکی حکومت کی طرف سے نامزد کردہ ہیں۔ <br />
<br />
خود عافیہ صدیقی گزشتہ کئی پیشیوں سے اس مقدمے کے بائیکاٹ کا اعلان کرتی آئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ نہ تو اس عدالت کو تسلیم کرتی ہیں، نہ ہی وکلائے صفائی کو اپنا وکیل مانتی ہیں اور نہ ہی اس عدالت میں پیش ہونا چاہتی ہیں۔&nbsp;&nbsp; <br />
<br />
دوسری طرف امریکہ میں مسلمانوں کے حقوق کی تنظیم مسلم لیگل فنڈ نے ڈاکٹر صدیقی کے حق میں عوامی رائے ہموار کرنے کے لیے تعلقات عامہ کی کمپنیوں کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ <br />
<br />
تنظیم نے امریکی مسلمانوں کو یہ بھی پیغام دیا ہے کہ خوف کے دائرے سے باہر نکلیں اور زیادہ سے زیادہ تعداد میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے مقدمے کی سماعتوں میں شریک ہوں۔<br />
&nbsp;</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 12 Jan 2010 16:07:31 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">81231582</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[عائشہ تنظیم]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-01-12T16:07:31Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Afia_Siddiqui.jpg" length="48526" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Afia_Siddiqui.jpg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Dr_Afia_Siddiqui.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title> امریکہ کی طرف سے عملی نتائج پر مبنی اور مستعد انسانی حقوق پالیسی کا اعادہ</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/Clinton_Human_Rights_16Dec09-79426952.html</link>
				<description>ہلری کلنٹن نے کہا کہ اوباما انتظامیہ انسانی حقوق کی علم بردار ہے اور اُس کا معیار آفاقی  ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p><br />
وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے پیر کو جارج ٹاؤن یونی ورسٹی میں انسانی حقوق کے بارے میں امریکی پالیسی پر روشنی ڈالی۔<br />
<br />
اُنھوں نے اپنی تقریر میں اِس ارادے کا بھی اعادہ کیا کہ پوری دنیا میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے پُر عزم اور طویل المدت کوششیں کی جائیں گی۔<br />
<br />
ہلری کلنٹن نے کہا کہ اوباما انتظامیہ انسانی حقوق کی علم بردار ہے اور اُس کا معیار آفاقی&nbsp; ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ اُس&nbsp; سمیت دنیا کے تمام ممالک انسانی حقوق کی پابندی کریں۔<br />
<br />
اِس سلسلے میں اُنھوں نے صدر براک اوباما کے اُس حکم نامے کا ذکر کیا جو اُنھوں نے عہدٴہ صدارت سنبھالنے کے دوسرے ہی دِن جاری کیا، جِس کے مطابق امریکہ میں اذیت رسانی کو ممنوع قرار دیا گیا اور گوانتانامو قید خانے کو بند کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔<br />
<br />
وزیرِ خارجہ نے دوسرے ممالک مثلاً&nbsp; چین اور روس میں انسانی حقوق کے حوالے سے کہا کہ اُن کے ساتھ واضح اور دو ٹوک مذاکرات کی ضرورت ہے۔<br />
<br />
اُن کے بقول، &lsquo; ہم تبت اور ژن جیانگ میں اقلیتوں کے انسانی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہم اِس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ جو لوگ آئین کے اندر رہتے ہوئے پُر امن طور پر اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں اُن پر مقدمہ نہ چلایا جائے۔ اِسی طرح روس میں ہم صحافیوں اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کے قتل کی مذمت کرتے ہیں اور اُن بہادر افراد کی حمایت کرتے ہیں جو جمہوریت کے فروغ کے&nbsp; خواہاں ہیں۔&rsquo;<br />
<br />
تقریر کے بعد امریکی وزیرِ خارجہ نے طلبا کے سوالات کے جواب بھی دیے ۔<br />
<br />
اُنھوں نے ایران کے بارے میں کہا کہ اوباما انتظامیہ نے ایران کو اُس کے جوہری&nbsp; پروگرام کے بارے میں براہِ راست مذاکرات کی پیش کش کی ہے، اور ساتھ ہی&nbsp; امریکہ ایران کے اندر جمہوری تبدیلی کے لیے ہونے والی جدوجہد کی&nbsp; بھی حمایت کرتا ہے۔<br />
&nbsp;</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 16 Dec 2009 18:43:55 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">79426952</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[  ڈیوڈ گولسٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2009-12-16T18:43:55Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
										
										
																	
																																															</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title> سری لنکاکی فوج جنگی جرائم میں ملوّث:   فوج کے سابق سربراہ کا الزام</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/Sri_Lanka_Military_War_Crimes_14Dec09-79225702.html</link>
				<description>سری لنکا کے عہدے دار تامل باغیوں کے خلاف جنگ میں  مبیّنہ جنگی جرائم کی کسی چھان بین کے لیے بین الاقوامی مطالبات کی مزاحمت کرتے رہے ہیں</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p><br />
سری لنکا کی فوج کے سابق سربراہ کا کہنا ہے کہ حکومت کی فوجوں نے خانہ جنگی کے آخری دنوں&nbsp; میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا تھا۔ جنرل سرتھ فان سیکا نے جنوری میں صدر کے خلاف الیکشن لڑنے کے لیے حال ہی میں اپنے فوج کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔<br />
<br />
جنرل نے کہا ہے کہ وہ اُس وقت ملک سے باہر تھے، جب وزیر دفاع گوتابھایاراجاپاکسے نے فوجی کمانڈروں کو تامل ٹائگر باغیوں کے&nbsp; ایسے تین لیڈروں کو ہلاک کردینے کا حکم دیا تھا ، جو اُس وقت ہتھیار ڈال رہے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ&nbsp; وزیرِ دفاع نے ، جو صدر کے بھائى&nbsp; بھی ہیں ، مئى میں خانہ جنگی کے آخری دنوں میں حکم دیا تھا کہ ہتھیار ڈالنے والے باغی لیڈروں کو لازمی طور پر ہلاک کردیا جائے۔<br />
<br />
حکومت نے ان الزامات کو ردّ کیا ہے اور کہا ہے کہ جنرل فان سیکا نے اپنے ملک سے بے وفائى کی ہے۔<br />
تاہم سری لنکا کے سیاسی امور کے تجزیہ نگار پائى کیا سوتھی سراوَن مُٹّو کا کہنا ہے کہ جنگی جرائم کے الزام کو محض سیاسی بیان بازی کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور اس الزام کی لازماً چھان بین کی جانی چاہئیے۔<br />
<br />
سری لنکا کے عہدے دار تامل باغیوں کے خلاف جنگ میں&nbsp; مبیّنہ جنگی جرائم کی کسی چھان بین کے لیے بین الاقوامی مطالبات کی مزاحمت کرتے رہے ہیں۔<br />
&nbsp;</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Mon, 14 Dec 2009 16:33:31 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">79225702</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2009-12-14T16:33:31Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
										
										
																	
																																															</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title> انسانی حقوق کے عالمی دن کی تجلیل</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/Human_Rights_Day_10Dec09-78966717.html</link>
				<description>انسانی حقوق سے متعلق اقوامِ متحدہ کی قرارداد  دنیا کے ہر انسان کو تیس بنیادی حقوق دیتی ہے، جن میں زندہ رہنے کے حق سے لے کرغیر قانونی طورپرقید میں نہ رکھے جانے کا حق شامل ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p><br />
آج دنیا بھر میں انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جارہاہے۔&nbsp; انسانی حقوق کے تحفظ کی قرارداد کو منظور ہوئے اگر چہ اکسٹھ سال ہو چکے ہیں،&nbsp; لیکن دنیا کے اکثر حصوں میں انسانی حقوق کی صورت حال آج بھی تسلی بخش نہیں ہے۔&nbsp; انسانی حقوق سے متعلق&nbsp; اقوامِ متحدہ کی قرارد دنیا کے ہر انسان کو تیس بنیادی حقوق دیتی ہے۔&nbsp; جن میں زندہ رہنے کے حق سے لے کر غیر قانونی طور پر قید میں&nbsp; نہ رکھے جانے کا حق شامل ہے۔&nbsp; اس سال انسانی حقوق کے حوالے سے پیش آنے والے چند بڑے واقعات یہ ہیں۔ <br />
<br />
اس سال ایران میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوئے جن میں طالب علم آگے آگے تھے۔&nbsp; ان میں ہزاروں لوگ سڑکوں پر آئے۔&nbsp; وہ جون میں صدر احمدی نژاد کے دوبارہ انتخاب کو مبینہ طور پر غیر شفاف کہتے ہوئے احتجاج کر رہے تھے۔ تہران نے ان مظاہروں کو روکنے کے لیے زبردست کریک ڈاون کیا۔&nbsp; لوگوں کو گرفتار کیا ان پر مقدمے چلائے اور سخت سزائیں بھی دیں۔ <br />
<br />
ٹام ملانو وسکی کا تعلق ہیومن رائٹس واچ سے ہے وہ کہتے ہیں کہ ایران خطرناک ترین جگہوں میں سے ایک ہے۔&nbsp; وہ کہتے ہیں کہ گزشتہ 40 برسوں میں انسانی حقوق کی صورتِ حال بہتر بھی ہوئی ہے۔ شاید مینڈیلا کی آواز گونجی&nbsp; یا شاید انسانی حقوق کے چند بڑے واقعات ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں یہ آگاہی بڑھتی جارہی ہے کہ لوگ بنیادی حقوق رکھتے ہیں اور یہ کہ ان حقوق کو ذیلی اور عالمی سطح کے قوانین کا حصہ بنایا گیا ہے۔ <br />
<br />
مگر ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے۔ جیسے افغانستان میں،&nbsp;&nbsp; وہ کہتے ہیں کہ وہاں کی حکومت طالبان کی جانب سے خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات روکنے میں ناکام رہی ہے۔ یا روس،&nbsp; جہاں صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن قتل کیے گئے ہیں۔&nbsp; یا برما جہاں جمہوری لیڈر آنگ ساں سو چی کو گزشتہ 20 سال میں زیادہ عرصے تک ان کے گھر میں نظربند رکھا گیا۔&nbsp; مگر ملا نوواسکی کہتے ہیں کہ امید کی کرنیں بھی نظر آ رہی ہیں ہیں۔&nbsp; مثال کے طور پر سوڈان کے صدر عمرالبشیر پر مبینہ جنگی جرائم کے نتیجے میں انٹرنیشنل ارسٹ وارنٹ جاری کیا گیا۔&nbsp; ایک اندازے کے مطابق&nbsp; سوڈان دارفور میں تین لاکھ افراد کی جانیں خرطوم کی حمایت یافتہ فوجوں اور حکومت مخالف باغیوں کے تنازع میں ضائع ہوئیں۔ <br />
<br />
وہ کہتے ہیں کہ یہ الزام بذاتِ خود ایک بڑی سزا ہے۔&nbsp; وہ دنیا کے کئی ممالک کا سفر نہیں کر سکتے اور میرے خیال میں آخر کار ان کا مستقبل اس الزام سے متاثر ہو گا اگر اس کا فیصلہ اس کی بنیاد پر نہ بھی ہوا تو۔ <br />
<br />
ملا نووسکی کے خیال میں ایران کی موجودہ حکومت کا مستقبل بھی تاریک ہے کیونکہ حزبِ اختلاف کریک ڈاون کے باوجود مضبوط ہے۔ ان کا کہناتھا کہ میرا خیال ہے کہ ایک سخت نظریات کی حامل حکومت کے لیے ایران میں اقتدار پر رہنا مشکل ہوگا خاص طور سے جب عوام اس کی قانونی حیثیت کو سپورٹ نہ کریں۔&nbsp;&nbsp; <br />
<br />
امریکہ کے حوالے سے انہیں صدر اوباما سے امید ہے۔&nbsp; جنہوں نے قیدیوں سے تفتیش کے دوران تشدد پر پابندی لگا دی ہے۔&nbsp; ملا نووسکی کو امید ہے کہ صدر اوباما ان ممالک سے بھی مطالبے کریں گے جن کے ساتھ وہ تعلقات بڑھانا چاہتے ہیں۔&nbsp; جیسے چین۔&nbsp; بیجنگ نے اس سال مغربی چین میں ایغور اقلیت پر سختیاں کیں،&nbsp; اور معروف سیاسی کارکن لو ژی آبو ایک سال گزر جانے کے باوجود بھی جیل میں ہیں۔ <br />
&nbsp;</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 10 Dec 2009 16:08:24 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">78966717</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[ محمد عاطف]]></dc:creator>
				<dc:date>2009-12-10T16:08:24Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Iran-Human-Rights2.jpg" medium="image" isDefault="true" height="305" width="300" />
																																																																		</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title> بھارتی کشمیر میں 2700 اجتماعی اور گمنام قبروں کی موجودگی کا انکشاف</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/Mass_Graves_Indian_Kashmir_02Dec09-78330257.html</link>
				<description>بتایا جاتا ہے کہ دفن کیے جانے والے لوگوں کی اکثریت مشتبہ مسلمان عسکریت پسندوں یا پھر اُن کے ہمدردوں کی ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p><br />
حقوقِ انسانی کی محافظ تنظیم،&nbsp; انٹرنیشنل پیپلز ٹرائبیونل آن ہیومن رائٹس نے دعویٰ کیا ہے کہ اُسے بھارتی کشمیر میں 2700ایسی گمنام اور اجتماعی قبریں ملی ہیں جِن میں 2943سے زائد&nbsp; افراد دفن ہیں۔<br />
<br />
بتایا جاتا ہے کہ دفن کیے جانے والے لوگوں کی اکثریت ایسے مشتبہ مسلمان عسکریت پسندوں یا پھر اُن کے ہمدردوں کی ہے جنھیں بھارتی حفاظتی دستوں نے فرضی جھڑپوں کے دوران&nbsp; ہلاک کردیا۔<br />
<br />
ٹرائبیونل نے جو گذشتہ کئی برس سے متنازع فی کشمیر میں انسانی حقوق کی بحالی کے لیے سرگرمِ عمل ہے دعویٰ کیا ہے کہ ماورائے عدالت قتل کا شکار بنائے گئے لوگوں کی یہ گمنام قبریں کنٹرول لائن کے قریب واقع اضلاع بھانڈی پور، بارہ مولا اور کُپواڑہ&nbsp; کے 55دیہات&nbsp; میں ملی ہیں اور اُن میں سے کئی ایک بھارتی فوج کے کیمپوں کے بالکل نزدیک موجود ہیں۔<br />
<br />
اِس&nbsp; لیے یہ سمجھنا زیادہ مشکل نہیں کہ اِن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنھیں بھارتی فوج نے پکڑ پکڑ کر موت کے گھاٹ اتار دیا ہو۔<br />
<br />
رپورٹ بھارت کے سرکردہ حقوقِ انسانی کے کارکنوں،&nbsp; اَنگنا پی چٹرجی، گوتم نو لکھا اور مہر ڈیسائی&nbsp; اور اُن کے مقامی کشمیری ساتھیوں پرویز امروز، ظہیرالدین اور خرم پرویز نے تیار کی ہے جِسے بدھ کے روز سری نگر میں ایک اخباری کانفرنس کے دوران جاری کیا گیا۔<br />
<br />
نامہ نگاروں کے استفسار پر&nbsp; اَنگنا چٹرجی نے کہا کہ اِس حوالے سے نومبر 2006ء اور نومبر 2009ء میں&nbsp; کی گئی تحقیقات کے دوران پتا چلا ہے کہ بھارتی حفاظتی دستوں نے مقامی آبادیوں میں خوف و ہراس&nbsp; اور دہشت&nbsp; پھیلانے&nbsp; کے لیے ماورائے عدالت قتل کا ایک لمبا سلسلہ شروع کیا۔<br />
<br />
رپورٹ میں بھارتی حفاظتی دستوں کے ہاتھوں 50ایسے جعلی پولیس مقابلوں کا احاطہ بھی کیا گیا ہے جِن میں مارے گئے 49افراد کو عہدے داروں نے غیر ملکی یا مقامی جنگجو قرار دیا تھا۔<br />
<br />
تاہم، تحقیقات کے دوران پتا چلا ہے کہ ایسے 47معاملات میں فرضی جھڑپوں کے دوران لوگوں کو مارڈالا گیا جب کہ ایک شخص واقعی مقامی جنگجو تھا۔&nbsp; چٹرجی نے کہا کہ ممکن ہے کہ بھارتی زیر ِ انتظام کشمیر میں دو دہائیوں سے جاری شورش کے دوران لاپتا کیے گئے 8000سے زیادہ افراد میں سے کئی ایک اِس طرح کے حادثوں کا شکار بنائےگئے ہوں۔<br />
&nbsp;</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 2 Dec 2009 18:05:38 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">78330257</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[ یوسف جمیل]]></dc:creator>
				<dc:date>2009-12-02T18:05:38Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Kashmir2_230X230.jpg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																																																		</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>حالیہ برسوں میں پاکستان میں خواتین کی حالت بہترہوئی ہے: نیلوفر بختیار</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/womens-condition-nilofer-bakhtiar-25thnovember2009-73911822.html</link>
				<description>نہیں کہا جا سکتا  کہ تشدد کا خاتمہ ہوگیا ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دِن کے موقع پر ترقی نسواں کی سابق وفاقی وزیر اور سنیٹ&nbsp; کی رکن، نیلوفر بختیار کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں پاکستان میں خواتین کی حالت بہترہوئی ہے۔<br />
<br />
بدھ کو وائس آف امریکہ سے بات چیت میں اُنھوں نے کہا کہ&nbsp; اِس حوالے سے حالات پہلے سے بہتر ہیں اور میں اِسے بہت مثبت انداز سے دیکھتی ہوں&nbsp; کہ بہت بڑی تعداد میں خواتین اِس وقت پارلیمنٹ میں بیٹھی ہوئی ہیں، وزرا کے عہدے پر قائم ہیں،&nbsp; اور پاکستان کی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی سربراہی کر رہی ہیں۔<br />
<br />
اُنھوں نے کہا کہ إِن باتوں کی وجہ سے ملک بھر میں یہ پیغام جاتا ہے کہ ہر میدان میں خواتین موجود ہیں، نچلی سطح پر بھی اور فیصلہ سازی کی سطح پر بھی۔<br />
<br />
&lsquo;اِس سے بڑی تبدیلی آگئی ہے۔ لیکن میں یہ بھی نہیں کہہ سکتی کہ تشدد کا خاتمہ ہوگیا ہے۔&nbsp; اُس میں بتدریج کمی آگئی ہے۔ لیکن اب آگاہی اتنی زیادہ ہے کہ پہلے جو لوگ تھانوں کچہریوں میں جانے سے گھبراتے تھے، جو والدین،&nbsp; بیٹیوں کا&nbsp; گلا گھونٹ کے مار دیتے تھے، بیٹی کے اوپر تشدد ہونے پر یا بیٹی کی&nbsp; طلاق ہونے پر ، بیٹی کی آبروریزی ہونے پر آواز نہیں اُٹھاتے تھے،&nbsp; اب اُن میں جراٴت پیدا ہوگئی ہے معاشرے میں۔&rsquo;<br />
<br />
نیلوفر بختیار نے دعویٰ کیا کہ یہ جراٴت اِس لیے پیدا ہوئی ہے کہ&nbsp; پچھلے دور میں حکومتی سطح پر ایسے بہت سارے اقدام اُٹھائے گئے تھے جیسے وومین پولیس اسٹیشن کے بعد&nbsp; وومین کرائسز سینٹرز کا قیام جِن میں&nbsp; نفسیاتی کاؤنسلنگ تھی،&nbsp; میڈیکل ایڈ،اور&nbsp; لیگل ایڈ۔<br />
<br />
اِن تبدیلیوں سے ایک عام گھرانے کو فرق پڑا ہے کہ جب اُن کی بیٹی کو کوئی تکلیف کا وقت آتا ہے تو آواز&nbsp; اُٹھاتے ہیں اور حکومت سے اُس کی مدد بھی مانگ سکتے ہیں۔<br />
<br />
اُن کا کہنا تھا کہ امن و امان کی خراب صورتِ حال،&nbsp;&nbsp; بالخصوص سیاسی بے یقینی کے باعث خواتین کے حقوق کے لیے اُٹھنے والی آوازیں&nbsp; دب کر رہ گئی ہیں، کیونکہ اتنی نفسا نفسی کا عالم ہے،&nbsp; اِس وقت سیکیورٹی اتنا بڑا اہم مسئلہ ہے&nbsp; اور ملک کے عوام کی معاشی حالت اتنی خراب ہے کہ جو خواتین&nbsp; کے حقوق کے معاملات ہیں وہ دب گئے ہیں، اُن کی آواز اُٹھانے والے کم ہوگئے ہیں۔<br />
<br />
حقوقِ نسواں کے لیے سرگرم تنظیمیوں کا کہنا ہے کہ خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات کو روکنے کےلیے حالیہ برسوں میں قانون سازی کے علاوہ میڈیا پر آگاہی کی مہم میں بھی اضافہ ہوا ہے۔<br />
<br />
تاہم،&nbsp; خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی فرزانہ باری کا کہنا ہے کہ اِن تمام تر اقدامات کے باوجود اب بھی سرکاری سطح پر خواتین کے لیے بہت کچھ کرنا باقی ہے۔<br />
<br />
فرزانہ باری&nbsp; کے بقول،&nbsp; گھروں سے نہ نکلنے دینا، تعلیم کا حق نہ دینا، عورتوں کو کوئی ہنر سیکھنے کی اجازت نہ ملنا یا اُس کے مواقع نہ&nbsp; ملنا، عورتوں کو معاشی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کا اختیار نہ ملنا بہت ساری تشدد کی شکلیں ہیں جس کی وجہ سے عورتیں براہِ راست تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔&nbsp; اگر عورتیں کمزور رہیں گی اور ہماری ریاست، کمیونٹی، خاندان سے اُس کا حصہ ہیں۔ جب تک عورتوں کو بااختیار انسان ہونے کا درجہ نہیں دیں گے، تشدد کے واقعات ہوتے رہیں گے۔<br />
<br />
اُنھوں نے کہا کہ خواتین کے خلاف تشدد میں کمی محض قوانین بنانے سے نہیں&nbsp; بلکہ اُن قوانین پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد کو یقینی بنانے سے ہی ممکن ہو سکے گی۔<br />
&nbsp;</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 25 Nov 2009 22:04:39 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">73911822</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2009-11-25T22:04:39Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
										
										
																	
																																															</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>سری لنکا: بے گھر لوگوں کی آباد کاری کی رفتار میں تیزی</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/sri-lanka-rehabilitation-21nov09-70701122.html</link>
				<description>’ایک لاکھ 30 ہزار تامل ابھی تک سخت پہرے میں قائم کیمپوں میں پڑے ہوئے ہیں‘</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>سری لنکا نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ حکومت کے زیرِ انتظام پناہ گزین کیمپوں میں مقیم باقی ماندہ بےگھر لوگ دوبارہ آبادکاری مکمل ہونے سے دو ماہ پہلے ہی یکم دسمبر کو کیمپوں سے نکل سکتے ہیں۔<br />
<br />
صدر مہندا راجاپاسکے کے بھائى اور مُشیر باسِل راجا پاسکے نے کہا ہے کہ کیمپوں میں نظر بند لوگ اگلے مہینے کی پہلی تاریخ سے اپنے دیہات کو واپس جانے کے لیے آزاد ہوں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ کیمپوں کو 31 جنوری کو پوری طرح بند کردیا جائے گا۔<br />
<br />
جمعے کے روز انسانی حقوق کے وزیر مہندا سمارا سنگھے نے صرف یہ کہا تھا بےگھر عام شہریوں کی اکثریت کی دوبارہ آباد کاری جنوری کے آخر تک عمل میں آجانی چاہئیے۔<br />
<br />
سمارا سنگھے کے اس بیان سے ایک دن پہلے اقوامِ متحدہ کے فلاحی کاموں کے سربراہ نے سری لنکا کا ایک تین روزہ دورہ مکمل کیا تھا۔<br />
<br />
جان ہومز نے ملک کے شمالی علاقے میں گنجائش سے زیادہ بھرے ہوئے ان کیمپوں کا معائنہ کیا تھا۔ انہوں نے نامہ نگاروں سے کہا تھا کہ ایک لاکھ 30 ہزار تامل ابھی تک سخت پہرے میں قائم کیمپوں میں پڑے ہوئے ہیں۔<br />
<br />
انسانی حقوق کے وزیر کا کہنا ہے کہ اُجڑے ہوئے تقریباً نصف عام شہریوں کو کیمپوں سے رہا کیا جاچکا ہے اور پچھلے ہفتے پانچ ہزار 200 سے زیاہ لوگوں کو دوبارہ آباد کیا گیا ہے۔<br />
&nbsp;</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sat, 21 Nov 2009 19:04:45 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">70701122</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2009-11-21T19:04:45Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
										
										
																	
																																															</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>چین اور امریکہ کے صدور ڈنر اور مذاکرات میں یکجا</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/obama-china-70188252.html</link>
				<description>صدر اوباما نے انٹرنیٹ پر بھیجے گئے سوالوں کے جواب بھی دئے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکی صدر باراک اوباما نے چین میں یونیورسٹی کے طلبا کے&nbsp; ساتھ سیاسی اور مذہبی&nbsp; آزادی پر تبادلہ خیال کے بعد بیجنگ میں اپنے چینی ہم منصب ہُو جن تاؤ کے ساتھ مذاکرات کیے ہیں۔</p>
<p><br />
صدر ہُو نے پیر کی شام سرکاری مہمان خانے تیاؤ یُو تھائى میں مسٹر اوباما کے اعزاز میں ایک عشائیہ دیا۔</p>
<p>منگل کے روز مزید تفصیلی مذاکرات اُس وقت ہوں گے، جب مسٹر اوباما&nbsp; اور دوسرے چینی لیڈر توقع ہے کہ آب وہوا میں تبدیلیوں، تجارت، شمالی کوریا اور چین کے مسائل پر غور کریں گے۔</p>
<p>وہائٹ ہاؤس کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ مسٹر اوباما نجی طور پر انسانی حقوق کے مسائل پر بات کریں گے۔</p>
<p>صدر اوباما نے&nbsp; پیر کے روز اس سے پہلے شنگھائى میں طلبا کے ساتھ گفتگو کے دوران اس مسئلے کو اُٹھایا تھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ملکوں کو ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہئیے اور اپنے نظامِ حکومت کو دوسرے ملک پر مسلّط نہیں کرنا چاہئیے۔&nbsp; لیکن انہوں نے کہا کہ وہ اُن اقدار کی حمایت میں آواز بلند کرتے رہیں گے، جنہیں امریکہ کے لوگ بنیادی انسانی آزادیاں خیال کرتے ہیں۔</p>
<p>مسٹر اوباما نے شنگھائى کی ٹاؤن ہال میٹنگ&nbsp; میں حاضرین اور انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کے اُن سوالوں کے جواب دیے، جو انہیں مختلف ویب سائیٹوں پر پیش کیے گئے تھے۔<br />
&nbsp;</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Mon, 16 Nov 2009 15:24:09 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">70188252</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2009-11-16T15:24:09Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/obama-hu.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>افغانستان: ایک نئے جیل کی تعمیر مکمل</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/afghanistan-new-jail-70151382.html</link>
				<description>قیدیوں کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے: انسانی حقوق کے حامی</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>&nbsp;<br />
افغانستان میں امریکی فوج نے اُن سینکڑوں قیدیوں کے لیے ایک نئے جیل کی نقاب کشائى کی&nbsp; ہے، جن کے بارے میں انسانی حقوق کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اُنہیں اُن کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے۔</p>
<p><br />
امریکی فوج نے اتوار کے روز صحافیوں کو اُس جیل کو دیکھنے کی دعوت دی، جسے بگرام کے فضائیہ کے اڈے کی حدود میں چھ کروڑ ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ اس جیل کا مقصدشفاف پن میں اضافہ کرنا اور قیدیوں کے رہن سہن کے حالات کو بہتر بنانا ہے، جو صحافیوں کے دورے کے وقت وہاں موجود نہیں تھے۔</p>
<p><br />
امریکی فوج، بگرام کے موجودہ جیل سے لگ بھگ 700 قیدیوں کو نئے جیل میں منتقل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔&nbsp; اُس کا کہنا ہے کہ نئے جیل میں&nbsp; ایک ہزار تک لوگوں کی گنجائش ہے۔فوج نے قیدیوں کو &ldquo;دشمن جنگجوؤں&rdquo; کی حیثیت سے جیل میں رکھا ہوا۔&nbsp; اور ان میں کچھ لوگ&nbsp; پچھلے چھ برس سے قید ہیں۔</p>
<p>انسانی حقوق کے حامیوں کا کہنا ہے کہ امریکی فوج، قیدیوں کو وکیلوں سے رابطے کی اجازت نہیں دیتی۔&nbsp; اُن کا کہنا ہے کہ&nbsp; اس قسم کی پالیسیاں، من مانی اور&nbsp; غیر معیّنہ حراست کے مترادف ہیں۔&nbsp;</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sun, 15 Nov 2009 22:41:59 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">70151382</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2009-11-15T22:41:59Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Map_of_Afghanistan_with_Zabul_and_Helmand_210.jpg" medium="image" isDefault="true" height="198" width="210" />
																																																																		</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title> بنگلہ دیش میں قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا: ایمنسٹی انٹرنیشنل</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/Bangladesh_Amnest_International_12Nov09-69887042.html</link>
				<description>ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ 48 قیدی حراست کے دوران ہلاک ہوگئے تھے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p><br />
انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہاہےکہ ایسی اطلاعات موجود ہیں جن کے مطابق بنگلہ دیش میں اس سال کے شروع میں ہونے والی فوجی بغاوت کے مقدمے میں زیرِحراست افرادکو تشدد کانشانہ بنایا گیا تھا۔<br />
لندن میں قائم انسانی حقوق کی اس تنظیم نے اپنے جمعرات کے روز جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ فوجی بغاوت کے سلسلے میں حراست میں لیے جانے والے سینکڑوں افراد کو بجلی کے جھٹکوں اور ناخنوں کے نیچے کیلیں ٹھونکنے جیسے واقعات سمیت تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔<br />
ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ 48 قیدی حراست کے دوران ہلاک ہوگئے تھے۔<br />
حکام نے بنگلہ دیش رائفلز کے 18 سو سے زیادہ سرحدی محافظوں کوڈھاکہ میں واقع اپنے ہیڈکوارٹرز میں دو روزہ بغاوت میں ملوث ہونے کی بنا پر گرفتار کیا تھا۔عہدے داروں کاکہناہے کہ کم تنخواہ اور نامناسب برتاؤ کے نتیجے میں پیداہونے والے مایوسی کے جذبات اس بغاوت کا سبب بنے تھے۔<br />
بغاوت کے دوران 70 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر فوجی افسرتھے۔ایمنسٹی نے بنگلہ دیش کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ مشتبہ افراد کو اپنے مقدموں میں انصاف ملے گا۔<br />
&nbsp;</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 12 Nov 2009 20:09:47 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">69887042</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2009-11-12T20:09:47Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Amnesty_International_230X230.jpeg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																																																		</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title> چین میں غیر قانونی جیل خانے موجود ہیں: ہیومن رائٹس واچ</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/China_Human_Rights_12Nov09-69885657.html</link>
				<description>چینی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے جمعرات کے روزسیاہ جیلوں کی موجودگی سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا کبھی بھی وجود نہیں تھا</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p><br />
انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے چینی حکام پر شہریوں کو مرکزی حکومت کے خلاف شکایات سے روکنے کے لیے باقاعدگی سے اغوا کرکے انہیں دنوں یا مہینوں تک غیر قانونی جیلوں میں رکھنے کاالزام لگایا ہے۔<br />
نیویارک میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم&nbsp; ہیومن رائٹس واچ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ غیر قانونی مراکز یا &rsquo;سیاہ جیلوں&lsquo; میں رکھے جانے والے بہت سے افراد نے حکام سے اپنی رہائی کے لیے درخواستیں دی ہیں۔<br />
تنظیم کا کہنا ہے کہ درخواست دینے والے افراد کو جسمانی اور نفسیاتی بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا اور انہیں حکومتی عہدےداروں، سیکیورٹی فورسز اور ان کے ایجنٹوں کی جانب سے غیر قانونی طورپر قید رکھا گیا۔ہیومن رائٹس واچ نے چین سے ان حراستی مراکز کو بند کرنےکا مطالبہ کیا ہے۔<br />
تنظیم نے کہا ہے کہ یہ رپورٹ اس سال اپریل اور مئی میں بیجنگ اور کئی دوسرے شہروں میں کی جانے والی تحقیق کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔<br />
چینی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے جمعرات کے روزسیاہ جیلوں کی موجودگی سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا کبھی بھی وجود نہیں تھا۔<br />
&nbsp;</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 12 Nov 2009 19:58:36 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">69885657</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2009-11-12T19:58:36Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Human_Rights_Watch_230X230.jpeg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																																																		</item>
									
													
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>اقوامِ متحدہ:  اسرائیل اور فلسطینیوں کے جنگی جرائم پر رپورٹ پربحث  شروع</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/israel-gaza-war-crimes-5nov09-69327447.html</link>
				<description>’اپنے شہریوں کی حفاظت کی خاطر  اسرائیل نے غلط تناسب سے طاقت کا استعمال کیا‘</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بدھ سے عالمی ادارے کی رپورٹ پر بحث شروع کر دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ&nbsp; گذشتہ دسمبر میں غزہ کی پٹی پر اسرائیل کے حملے کے دوران&nbsp;&nbsp; فلسطینی شدت پسندوں اور اسرائیلی فوج کی طرف سے مبینہ جنگی جرائم سرزد ہوئے تھے۔<br />
<br />
عرب اور غیر جانب دار ممالک کی طرف سے قرارداد پیش کی گئی ہے جِس میں دونوں طرفین سے کہا گیا ہے کہ تین ماہ کے اندر اندر مبینہ جنگی جرائم کے بارے میں مستند چھان بین کرائیں۔<br />
<br />
یہ رپورٹ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق&nbsp; کونسل کی طرف سے تیار کی گئی ہے جِس میں کہا گیا ہے کہ دونوں طرفین نے سنگین&nbsp; نوعیت کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون&nbsp; کی خلاف ورزیاں کیں۔ لیکن کونسل نے اسرائیلی اقدامات کے خلاف سخت ترین نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ اپنے شہریوں کی حفاظت کی خاطراور حماس کی طرف سے راکٹ حملے بند کرنے کی کارروائی کے دوران&nbsp; اسرائیل نے&nbsp; غلط تناسب سے طاقت کا استعمال کیا۔<br />
<br />
اسرائیل نے رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے&nbsp; اور اقوامِ متحدہ کے حقائق معلوم کرنے کے مشن سے تعاون کرنے سے انکار کیا ہےجس کی سربراہی جنوبی افریقہ کے قانون داں رچرڈ گولڈ سٹون نے کی تھی۔<br />
<br />
اقوامِ متحدہ میں اسرائیلی سفیر&nbsp; گیبریلا شیلو نے اپنی حکومت کے موقف&nbsp; کا اعادہ کرتے ہوئے کہا&nbsp; کہ اسرائیل نے اپنے دفاع میں کارروائی کر رہا تھا ۔&nbsp; اُنھوں نے کمیشن کی رپورٹ کو یک طرفہ قرار دیااور انسانی حقوق کونسل&nbsp; کو اسرائیل کے خلاف&nbsp; تعصب برتنے&nbsp; کا الزام عائد کیا۔<br />
<br />
اسرائیلی سفیر نے کہا کہ آج کی بحث کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ بجائے اِس بارے میں بحث کرنے کے کہ کس طرح اِن دہشت گرد تنظیموں کو روکا جائے جو دیدہ و دانستہ طور پر عام شہریوں کو ہدف بناتے ہیں اِس ادارے نے دہشت گردی کا شمار ہونے والے اسرائیلی عوام کے خلاف ایک اور مہم کا آغاز&nbsp; کر دیا ہے۔<br />
<br />
فلسطینی سفیر ریاض منصور نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی نے گولڈ سٹون رپورٹ میں اِن الزامات کو انتہائی سنجیدگی سے لیا ہے جو حماس کی جانب سے ممکنہ خلاف ورزیوں کے بارے میں ہیں۔&nbsp; تاہم،&nbsp; اُنھوں نے کہا کہ اُس کی&nbsp; کارروائیوں اور اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی کارروئیوں&nbsp; کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔<br />
<br />
اُن کے الفاظ میں &lsquo;جب آپ ووٹ دینے کو تیار ہوں تو میں آپ سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ ہمارے بچوں کو یاد رکھیں جو اب بھی اُن تکلیف دہ زخمیوں اور تباہی کا شکار ہیں جو قابض طاقت کے ہاتھوں عمل میں آئی ہے۔&nbsp; وہ اب بھی اپنے گھروں پر بمباری کی وجہ سے خوف میں زندگی گزار رہے ہیں۔ <br />
&nbsp;</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 5 Nov 2009 23:35:31 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">69327447</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[مارگریٹ بشیر]]></dc:creator>
				<dc:date>2009-11-05T23:35:31Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/onu_logo_300x300_unations.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>گوانتانمو کے چھ ایغور قیدیوں کی رہائی</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/muslim-gitmo-detainees-freed-to-Palau-68257537.html</link>
				<description>صدر جانسن توری بیانگ نے ہوائی اڈے پر ان ایغور باشندوں سے ملاقات کی۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>
<meta http-equiv="Content-Type" content="text/html; charset=utf-8">
<meta name="ProgId" content="Word.Document">
<meta name="Generator" content="Microsoft Word 11">
<meta name="Originator" content="Microsoft Word 11">
<link rel="File-List" href="file:///C:%5CDOCUME%7E1%5CCORRES%7E1%5CLOCALS%7E1%5CTemp%5Cmsohtml1%5C01%5Cclip_filelist.xml" /><span style="font-size: large;"><!--[if gte mso 9]><xml>
<w:WordDocument>
<w:View>Normal</w:View>
<w:Zoom>0</w:Zoom>
<w:PunctuationKerning />
<w:ValidateAgainstSchemas />
<w:SaveIfXMLInvalid>false</w:SaveIfXMLInvalid>
<w:IgnoreMixedContent>false</w:IgnoreMixedContent>
<w:AlwaysShowPlaceholderText>false</w:AlwaysShowPlaceholderText>
<w:Compatibility>
<w:BreakWrappedTables />
<w:SnapToGridInCell />
<w:WrapTextWithPunct />
<w:UseAsianBreakRules />
<w:DontGrowAutofit />
</w:Compatibility>
<w:BrowserLevel>MicrosoftInternetExplorer4</w:BrowserLevel>
</w:WordDocument>
</xml><![endif]--><!--[if gte mso 9]><xml>
<w:LatentStyles DefLockedState="false" LatentStyleCount="156">
</w:LatentStyles>
</xml><![endif]--></span><style type="text/css"><span style="font-size: large;">
<!--
 /* Font Definitions */
 @font-face
	{font-family:"Alvi Nastaleeq";
	mso-font-alt:"Times New Roman";
	mso-font-charset:0;
	mso-generic-font-family:auto;
	mso-font-pitch:variable;
	mso-font-signature:-2147475449 0 0 0 65 0;}
@font-face
	{font-family:Calibri;
	mso-font-charset:0;
	mso-generic-font-family:swiss;
	mso-font-pitch:variable;
	mso-font-signature:-1610611985 1073750139 0 0 159 0;}
 /* Style Definitions */
 p.MsoNormal, li.MsoNormal, div.MsoNormal
	{mso-style-parent:"";
	margin-top:0in;
	margin-right:28.35pt;
	margin-bottom:0in;
	margin-left:0in;
	margin-bottom:.0001pt;
	mso-pagination:widow-orphan;
	font-size:11.0pt;
	font-family:Calibri;
	mso-fareast-font-family:Calibri;
	mso-bidi-font-family:Arial;}
@page Section1
	{size:8.5in 11.0in;
	margin:1.0in 1.25in 1.0in 1.25in;
	mso-header-margin:.5in;
	mso-footer-margin:.5in;
	mso-paper-source:0;}
div.Section1
	{page:Section1;}
-->
</span></style><span style="font-size: large;"><!--[if gte mso 10]>
<style>
/* Style Definitions */
table.MsoNormalTable
{mso-style-name:"Table Normal";
mso-tstyle-rowband-size:0;
mso-tstyle-colband-size:0;
mso-style-noshow:yes;
mso-style-parent:"";
mso-padding-alt:0in 5.4pt 0in 5.4pt;
mso-para-margin:0in;
mso-para-margin-bottom:.0001pt;
mso-pagination:widow-orphan;
font-size:10.0pt;
font-family:"Times New Roman";
mso-ansi-language:#0400;
mso-fareast-language:#0400;
mso-bidi-language:#0400;}
</style>
<![endif]-->  </span>                        </meta>
</meta>
</meta>
</meta>
</p>
<p class="MsoNormal" dir="rtl" style="margin-right: 0in; margin-bottom: 12pt; text-align: right; direction: rtl; unicode-bidi: embed;"><span style="font-size: large;"><span lang="AR-SA" style="font-family: &quot;Alvi Nastaleeq&quot;;">گوانتانمو بے، کیوبا کے امریکی حراستی مرکز سے رہا کیے گئے چھ چینی مسلمان اتوار کے روز جزیرہ پالاؤ پہنچ گئے &nbsp;ہیں، جنہیں&nbsp; پیسفک میں واقع یہ&nbsp;&nbsp; جزیرہ&nbsp; اپنے ہاں آباد کرنے پر رضامندی کا اظہار کرچکاہے ۔</span></span><span lang="AR-SA" style="font-size: 14pt; font-family: &quot;Alvi Nastaleeq&quot;;"><o:p></o:p></span></p>
<p class="MsoNormal" dir="rtl" style="margin-right: 0in; margin-bottom: 12pt; text-align: right; direction: rtl; unicode-bidi: embed;"><span style="font-size: large;"><span lang="AR-SA" style="font-family: &quot;Alvi Nastaleeq&quot;;">ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جزیرہ پالاؤ&nbsp; کے صدر جانسن توری بیانگ نے پالاؤ کے ہوائی اڈے پر ان ایغور باشندوں سے ملاقات کی۔</span></span><span lang="AR-SA" style="font-size: 14pt; font-family: &quot;Alvi Nastaleeq&quot;;"><o:p></o:p></span></p>
<p class="MsoNormal" dir="rtl" style="margin-right: 0in; margin-bottom: 12pt; text-align: right; direction: rtl; unicode-bidi: embed;"><span style="font-size: large;"><span lang="AR-SA" style="font-family: &quot;Alvi Nastaleeq&quot;;">بیان میں کہاگیا ہے کہ ان ایغور باشندوں کو طبی سہولتیں، رہائش اور تعلیم فراہم کی جائے گی جن میں انگریزی بول چال اور ایسے ہنر سکھائے جائیں گے جن کی مدد سے وہ اپنی روزی کما سکیں گے۔</span></span><span lang="AR-SA" style="font-size: 14pt; font-family: &quot;Alvi Nastaleeq&quot;;"><o:p></o:p></span></p>
<p class="MsoNormal" dir="rtl" style="margin-right: 0in; margin-bottom: 12pt; text-align: right; direction: rtl; unicode-bidi: embed;"><span style="font-size: large;"><span lang="AR-SA" style="font-family: &quot;Alvi Nastaleeq&quot;;">&nbsp;پالاؤ اس سال کے شروع میں ان ایغورباشندوں کو قبول کرنے پررضامند ہوا تھا جو امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے اس تعین کے بعد بھی کہ وہ امریکہ کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہیں، گوانتانمو بے میں زیر حراست رکھے جارہے تھے ۔</span></span><span lang="AR-SA" style="font-size: 14pt; font-family: &quot;Alvi Nastaleeq&quot;;"><o:p></o:p></span></p>
<p class="MsoNormal" dir="rtl" style="margin-right: 0in; margin-bottom: 12pt; text-align: right; direction: rtl; unicode-bidi: embed;"><span style="font-size: large;"><span lang="AR-SA" style="font-family: &quot;Alvi Nastaleeq&quot;;">اس سال کے شروع میں چار ایغور باشندوں کو برمیودا میں آباد کیا گیاتھا۔</span></span><span lang="AR-SA" style="font-size: 14pt; font-family: &quot;Alvi Nastaleeq&quot;;"><o:p></o:p></span></p>
<p class="MsoNormal" dir="rtl" style="margin-right: 0in; margin-bottom: 12pt; text-align: right; direction: rtl; unicode-bidi: embed;"><span style="font-size: large;"><span lang="AR-SA" style="font-family: &quot;Alvi Nastaleeq&quot;;">ان افراد کا تعلق چین کے مغربی صوبے سنکیانگ سے ہے جو ایغور اکثریتی علاقہ ہے۔&nbsp; چین ان پر دہشت گرد ہونے کاالزام عائد کرتا ہے۔&nbsp; واشنگٹن کو خدشہ ہے کہ اگر ان ایغور باشندوں کو چین واپس بھیجا گیا تو ان کے ساتھ نامناسب سلوک کیاجائے گا۔</span></span><span lang="AR-SA" style="font-size: 14pt; font-family: &quot;Alvi Nastaleeq&quot;;"><o:p></o:p></span></p>
<p class="MsoNormal" dir="rtl" style="margin-right: 0in; margin-bottom: 12pt; text-align: right; direction: rtl; unicode-bidi: embed;"><span style="font-size: large;"><span lang="AR-SA" style="font-family: &quot;Alvi Nastaleeq&quot;;">امریکی سپریم کورٹ 20 اکتوبر کو&nbsp; گوانتانمو بے میں قید ان 13 ایغور باشندوں کی اپیل کی سماعت پر رضامند ہوگئی تھی ۔</span></span><span lang="AR-SA" style="font-size: 14pt; font-family: &quot;Alvi Nastaleeq&quot;;"><o:p></o:p></span></p>
<p class="MsoNormal" dir="rtl" style="margin-right: 0in; margin-bottom: 12pt; text-align: right; direction: rtl; unicode-bidi: embed;"><span style="font-size: large;"><span lang="AR-SA" style="font-family: &quot;Alvi Nastaleeq&quot;;">ایک وفاقی امریکی جج نے ان افرادکو امریکہ میں رہا کرنے کا حکم دیا تھا لیکن ایک اپیل کورٹ نے اس فیصلے کو یہ کہتے ہوئے منسوخ کردیا تھا کہ اس جج کے پاس ایسے کسی حکم کا کوئی اختیار نہیں تھا۔&nbsp; </span></span><span style="font-family: &quot;Alvi Nastaleeq&quot;;"><!--[if !supportLineBreakNewLine]--><br style="" />
<!--[endif]--></span></p>
<p>&nbsp;</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sun, 1 Nov 2009 15:24:54 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">68257537</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2009-11-01T15:24:54Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
										
										
																	
																																															</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>جنوبی وزیرستان سے بے گھر ہونے والے 230خاندانوں کی کوئٹہ آمد</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan-waziristan-idps-quetta-31oct09-67975537.html</link>
				<description>نقل مکانی کرنے والے افراد کو شدید مشکلات کا سامنا</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>عالمی ریڈ کراس کے مقامی&nbsp; عہدے دار&nbsp; جیولس پیونی کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے تقریباً&nbsp; 230خاندان انتہائی کس مپرسی کی حالت میں کوئٹہ پہنچے ہیں جو یہاں اپنے رشتے داروں اور جاننے والوں کے ہاں مقیم ہیں۔<br />
<br />
دریں اثنا&nbsp;&nbsp; ہلالِ احمر پاکستان کی جانب سے اُن بے گھر خاندانوں میں ہفتے کے روز امدادی اشیا تقسیم کی گئیں۔<br />
<br />
بلوچستان میں ادارے کے سربراہ سردار نصیر ترین نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اگر فوجی آپریشن طویل ہوا اور وزیرستان سے بے گھر ہونے والوں کی اکثریت نے بلوچستان کا رُخ کر لیا تو ہنگامی اقدامات درکار ہوں گے۔<br />
<br />
اُن کے بقول&nbsp; صوبائی حکومت نے تاحال بے دخل ہونے والوں کی امداد کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا۔ انھوں نے کہا کہ فی الحال یہ معاملہ&nbsp; اِس نہج پہ نہیں پہنچا صوبہ سرحد کی طرح کیمپ لگانے کی ضرورت پڑے، لیکن اگر ضرورت ہوئی تو کیمپ قائم کیے جائیں گے۔<br />
<br />
ہلالِ احمر کے دفتر میں امداد کے لیے آئے ہوئے جنوبی وزیرستان کے ایک نوجوان مجیب الرحمٰن نے بتایا کہ وہ پیدل سفر کرتا ہوا بلوچستان کے علاقے ژوب اور پھر کوئٹہ پہنچا۔ ان کے مطابق نقل مکانی کرنے والوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، جِس میں طویل اور مشکل نوعیت&nbsp; کے پیدل سفر کے علاوہ،&nbsp; مصیبت زدہ اور پریشان حال لوگوں سے گاڑی والوں&nbsp; کی طرف سے مہنگے کرائے وصول کرنا شامل&nbsp; ہے۔ <br />
<br />
واضح رہے کہ پاکستانی فوج نے جنوبی وزیرستان میں مقامی اور غیر ملکی عسکریت پسندوں کے خلاف بڑا آپریشن شروع کر رکھا ہے جِس کے نتیجے میں دو لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہونے پر مجبور ہوئے ہیں، جِن میں سے اکثریت نے ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان کی طرف ہجرت کی ہے۔<br />
&nbsp;</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sat, 31 Oct 2009 15:03:14 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">67975537</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[نصیر کاکڑ]]></dc:creator>
				<dc:date>2009-10-31T15:03:14Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
										
										
																	
																																															</item>
																																											</channel>
</rss>

