<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>


																																		



<rss xmlns:ymusic="http://music.yahoo.com/rss/1.0/ymusic/" xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" xmlns:cf="http://www.microsoft.com/schemas/rss/core/2005" xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"   version="2.0">
<channel>
	<title>VOA News:  امریکہ میں شب و روز   </title>
	<link>http://www.voanews.com/urdu/news/life-in-america</link>
		<description>امریکہ میں شب و روز  
																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																								
	Voice of America
	</description>
	<language>ur</language> 	<copyright />
	<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 12:53:48 GMT</pubDate>
	<dc:creator />
	<dc:date>2012-02-10T12:53:48Z</dc:date>
	<dc:language>ur</dc:language> 	<dc:rights />
	<image>
		<title>Voice of America</title>
		<link>http://www.voanews.com/urdu</link>
		<url>http://media.voanews.com/designimages/VOARSSIcon.gif</url>
	</image>


						
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>امریکہ کی سیر، فاسٹ فوڈ</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/life-in-america/LIA_Fast_Food_01Feb12-138528269.html</link>
				<description>’اگر چہ امریکی کہتے تو یہی ہیں کہ وہ صحت مند کھانا چاہتے ہیں، لیکن جب انہیں مینو میں پیش کر دیا جائے تو وہ اُس کا آرڈر نہیں دیتے‘</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>آیئے آج امریکہ کی سیر کو نکلیں،&nbsp; گاڑی پر یا پھر ٹور بس پر۔</p>
<p><br />اِس سفر کے دوران، آپکو ایک کے بعد ایک فاسٹ فوڈ ریستوران نظر آئیں گے ۔ بیشمار مختلف نامون والے یہ ریستوران بےحد پسند کئے جاتے ہیں&nbsp; اور ہر کسی کو اپنی پسند کے مطابق کھانے کی چیزیں مل بھی جاتی ہیں۔</p>
<p>اگرچہ، فاسٹ فوڈ فراہم کرنے والے اِن ریستورانوں میں آج کل چند low-fat چیزیں بھی کھانے کے لئے ملتی ہیں، لیکن زیادہ&nbsp; بکنے والی چیزوں میں ہیمبرگر، آلو کے چپس،&nbsp; تلا ہوا چکن، گریسی پتزا&nbsp; شامل ہیں ۔ یہ سب وہ چیزیں ہیں جو امریکہ کے سرجن جنرل کے مطابق امریکہ میں موٹاپے کی وبا میں اضافے کا باعث ہیں۔اور جن ریستورانوں میں صحت مند کھانے پیش کئے جاتے ہیں اُن کے مقابلے میں اِن فاسٹ فوڈ ریستورانوں کی low-fat چیزوں میں بھی کیلوریز کی بھر مار ہوتی ہے۔</p>
<p><br />کریکر بیرل نامی ایک چین کے بانی Dan Evins کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے، اور یہ چین مزیدار لیکن موٹا کرنے والی چیزیں فروخت کرتی ہے،&nbsp; اور اِس کے زیادہ ریستوران بڑی بڑی شاہراہوں کے کنارے واقع ہوتے ہیں۔</p>
<p>اِن کھانوں میں زیادہ تر گریوی کے ساتھ بسکٹ، مفنز یا پھر پرانے انداز میں تیار کی گئی سٹیکشامل ہوتی ہے۔</p>
<p><br />بعض لوگوں نے ایسے ریستوران بھی کھولے ہیں جن میں صحت مند کھانےجیسے برائلڈ مچھلی، بھاپ میں تیار کردہ سبزیاں اور اِسی طرح کی دوسری چیزیں پیش کی جاتی ہیں۔</p>
<p>لیکن، اِن میں زیادہ تر دیوالیہ ہو گئےاور اسکی وجہ یہ ہے کہ صحت مندانہ بنیادوں پر تیار کئے جانے والے کھانے کہیں زیادہ مہنگے ہوتے ہیں۔پھر کم معاوضے پر ایسے باورچی بھی نہیں ملتے جو جلدی جلدی صحت مند لیکن مزیدار کھانے&nbsp; تیار کر سکیں ۔ اسیلئے، اِس طرح کی دکانیں کامیاب نہیں رہتیں، کیونکہ اگر چہ امریکی کہتے تو یہی ہیں کہ وہ صحت مند کھانا چاہتے ہیں، لیکن جب انہیں مینو میں پیش کر دیا جائے تو وہ اُس کا آرڈر نہیں دیتے۔</p>
<p><br />بعض ماہرین کا خیال ہے کہ جب صحت مند کھانوں کی قیمت کم ہو جائے گی، تو ممکن ہے امریکیوں کو اِس کی عادت ہو جائے۔لیکن، ابھی ایسا نہیں۔اور ابھی کوئی ایسی مثال بھی نہیں ملتی کہ فاسٹ لیکن صحت مند کھانوں کا رجحان بڑھ رہا ہے۔</p>
<p>آڈیو رپورٹ سنیئے:</p>
<p>
<object classid="clsid:02bf25d5-8c17-4b23-bc80-d3488abddc6b" width="205" height="36" codebase="http://www.apple.com/qtactivex/qtplugin.cab#version=6,0,2,0">
<param name="src" value="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+1400++NEW1890217+Life+in+America-Landphair-BG-02-02-2012.Mp3" /><embed type="video/quicktime" width="205" height="36" src="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+1400++NEW1890217+Life+in+America-Landphair-BG-02-02-2012.Mp3"></embed>
</object>
</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 2 Feb 2012 00:32:18 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138528269</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[ٹیڈ لینڈ فیئر/ بہجت گیلانی]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-02T00:32:18Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[امریکہ میں شب و روز ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Burger.jpg" length="157532" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Burger.jpg" medium="image" isDefault="true" height="321" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Hamburger.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>بین الامذاہب مکالمہ ناگزیر</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/life-in-america/Interfaith_Dialogue_Imperative_28Jan12-138262244.html</link>
				<description>23مارچ کو  واشنگٹن  میں ایک سمپوزیم  کا اہتمام کیا جا رہا ہے جِس کا مقصد اسلامی نقطہٴ نظر کو اجاگر کرنا ہے: ڈاکٹر کاظمی</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>بین المذاہب مکالمےکو فروغ دینےکےلیے قائم تنظیم &rsquo;دِی کامن گراؤنڈز&lsquo;23مارچ کو واشنگٹن &nbsp;میں ایک سمپوزیم اور کانفرنس کا اہتمام کر رہی ہے۔ یہ بات تنظیم کےسربراہ، ڈاکٹر ذوالفقار کاظمی نے &rsquo;وائس آف امریکہ&lsquo; کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتائی۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>&nbsp;اُنھوں نے کہا کہ سمپوزیم کا مقصد اسلامی نقطہٴ نظر کو اجاگر کرنا ہے، اور یہ کہ اِس مکالمے کی &nbsp;بنیادی فکر یہی ہوگی کہ تمام ادیان کے لوگوں کے ساتھ مکالمے کا عمل ناگزیر ہے، تاکہ مذاہب کی روح کو سمجھنے میں مدد ملے۔</p>
<p>ڈاکٹر کاظمی حال ہی میں واشنگٹن کی کیتھولک کلیساؤں کے معاملات کی نمائندہ اہم مذہبی شخصیت، ریورنڈ اویلینو گونزالیزسے ملاقات کرچکے ہیں۔ &nbsp;</p>
<p>ماہِ ربیع الاول کے حوالے سے ایک سوال پر، اُن کا کہنا تھا کہ یہ بات ضروری ہے کہ مسیحی لوگوں کے ساتھ مکالمہ جاری رکھا جائےاور اُنھیں اپنے مذہبی عقائداور اسلام کے محبت کے پیغام کے بارے میں بتایا جا سکے۔</p>
<p>اُنھوں نےکہا &nbsp;کہ 29فروری کو واشنگٹن کے بشپ، ریورنڈ میریئن&nbsp; کی جانب سے اُنھیں ظہرانے کے دعوت موصول ہوئی ہے۔</p>
<p>تفصیل آڈیو رپورٹ میں سنیئے:</p>
<p>
<object classid="clsid:02bf25d5-8c17-4b23-bc80-d3488abddc6b" width="226" height="37" codebase="http://www.apple.com/qtactivex/qtplugin.cab#version=6,0,2,0">
<param name="src" value="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+Muslims+in+America-+Interfaith+Meeting.Mp3" /><embed type="video/quicktime" width="226" height="37" src="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+Muslims+in+America-+Interfaith+Meeting.Mp3"></embed>
</object>
&nbsp;</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sat, 28 Jan 2012 20:37:31 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138262244</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[خالد حمید]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-28T20:37:31Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[امریکہ میں شب و روز ]]></category>
				
								
										
												
															
										
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Dr.+Zulfiqar+Kazmi.300x300.jpeg" length="39707" type="unknown" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Dr.+Zulfiqar+Kazmi.300x300.jpeg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Dr.+Zulfiqar+Kazmi.300x300.jpeg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>  نوجوان نسل کی فلاح و بہبود ، امریکی مسلم تنظیم سرگرم عمل</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/life-in-america/County_YouthInitiative_15Jan12-137384108.html</link>
				<description>اِس نئے  پروگرام کو Youth Leadershipکا نام دیا گیا ہے، اور کوشش یہ کی گئی ہے کہ روشن مستقبل کے حصول کے لیے بچوں کو ’لیڈرشپ رول ‘کے لیے تیار کیا جاسکے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>ریاست میری &nbsp;لینڈ میں واقع &rsquo;منٹگمری کاؤنٹی مسلم فاؤنڈیشن&lsquo; کےایک &nbsp;اعلان کے مطابق، &nbsp;نوجوان نسل کی راہنمائی اور اُن کی قائدانہ صلاحیتوں کوپروان چڑھانے کےمقصد کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے، تنظیم بہبود کے &nbsp;مؤثر اقدامات کر رہی ہے، جِس &nbsp;سلسلے میں اُسے منٹگمری کاؤنٹی کے اہالیان کی مکمل حمایت حاصل ہے۔</p>
<p>اِس نئے&nbsp; پروگرام کو Youth Leadershipکا نام دیا گیا ہے، اور کوشش یہ کی گئی ہے کہ روشن مستقبل کے حصول کے لیے بچوں کو &rsquo;لیڈرشپ رول &lsquo;کے لیے تیار کیا جاسکے۔ مستقبل کے &nbsp;پروگرام کے بارے میں تفاصیل &nbsp;بتاتے ہوئے، فاؤنڈیشن کی معاون چیر پرسن، اِرما حفیظ نے ایک انٹرویو میں &rsquo;وائس آف امریکہ &lsquo; کو بتایا کہ خاص طور پر نوجواں &nbsp;نسل کی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے کئی طرح کے پروگرام وضع کیے گئے ہیں۔</p>
<p>&nbsp;اُنھوں نے تنظیم کےتوسط سے سال بھر میں جاری رکھے جانے والےچیدہ چیدہ کاموں کا تفصیلی &nbsp;ذکر کیا۔</p>
<p>اِرما حفیظ نے بتایا کہ ہر سال &nbsp;اپریل کے مہینے &nbsp;میں ایک ماہ تک کاؤنٹی میں &nbsp;غذائی اشیا جمع کرنے کی مہم چلائی جاتی ہے۔ اور، یہ عطیات بالآخر &rsquo;فوڈ بینک&lsquo; کے حوالے کیے جاتے ہیں، جسے وہ بیس سے تیس ہزار رجسٹرڈ ضرورتمند خاندانوں میں تقسیم کرتا ہے۔</p>
<p>پھر دورانِ رمضان، یعنی &nbsp;اگست میں ، ایک ہفتے کے لیے قائم &rsquo;شیلٹر&lsquo; میں ناشتے، دوپہر اور رات کے کھانےکی تقسیم &nbsp;کا بندوبست کیا جاتا ہے۔اِسی طرح، عیدالضحیٰ کے موقع پر &rsquo;ذبیحہ میٹ&lsquo; مسلمان اور غیر مسلمانوں کو تقسیم کیا جاتا ہے، جس کے بعد،&nbsp; سالانہ تعطیلات (ہالی ڈیز سیزن) کے دوران، عطیات اور تحائف جمع کرکے تقسیم کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>اِرما حفیظ نے بتایا کہ پچھلے دو سالوں سے ایک نئے &rsquo;اِنی شئیٹو &lsquo;کا آغاز کیا گیا ہے، جِس کا نام back to school مہم ہے، اور جس میں، &nbsp;کاؤنٹی&nbsp; اور بورڈ آف ایجوکیشن کے ساتھ مل کر ضرورتمند بچوں کو کتابیں اور تھیلے تقسیم کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>تفصیل کے لیےآڈیو رپورٹ سنیئے:</p>
<p>
<object classid="clsid:02bf25d5-8c17-4b23-bc80-d3488abddc6b" width="222" height="36" codebase="http://www.apple.com/qtactivex/qtplugin.cab#version=6,0,2,0">
<param name="src" value="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+1400-+Muslims+in+America+-MCM+youth+programme+-+KHB.Mp3" /><embed type="video/quicktime" width="222" height="36" src="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+1400-+Muslims+in+America+-MCM+youth+programme+-+KHB.Mp3"></embed>
</object>
</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sun, 15 Jan 2012 20:26:33 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">137384108</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[خالد حمید]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-15T20:26:33Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[امریکہ میں شب و روز ]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Irma_Hafeez.300x300.jpeg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>نیو یارک: امریکہ کا ثقافتی دارالحکومت</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/life-in-america/NY_Cultural_Center_14Jan12-137356398.html</link>
				<description>نیو یارک ثقافتی تنوع کی بنا پر اپنی ایک  الگ پہچان رکھتا ہے۔ یہاں رہنے والوں میں تقریباً  36فی صد افراد کسی دوسرے ملک میں پیدا ہوئے، لیکن اب یہاں بستے ہیں</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>اَسی لاکھ سے زائد آبادی والے شہر، &nbsp;نیو یارک کو امریکہ کا ثقافتی دارالخلافہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ شہر آرٹ، آرکی ٹیکچر، تھیٹر، میوزک، ڈانس اور فلم کے لیے اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>نیو یارک ثقافتی تنوع کی بنا پر اپنی ایک &nbsp;الگ پہچان رکھتا ہے۔ یہاں رہنے والوں میں تقریباً&nbsp; 36فی صد افراد کسی دوسرے ملک میں پیدا ہوئے، لیکن اب یہاں بستے ہیں۔اگر آپ پوچھیں کہ اُن کے آبائی وطن کون سے تھے، تو شاید آپ یہی سنیں گے کہ وہ جمہوریہ ڈمینیکن، چین، جمیکا، گُیانہ، میکسیکو، اکواڈور، ہیٹی، ٹرینیڈاڈ، ٹوباگو، کولمبیا یا پھر روس سے آئے تھے۔نئے نقل مکانی والے بیشتر افراد اِنہی 10ملکوں میں سے آتے ہیں۔ لیکن، امریکہ کے اِس سب سے بڑے شہر میں تقریباً &nbsp;170زبانیں بولی جاتی ہیں۔</p>
<p>یورپ سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد، کوئی 100برس قبل کی بات ہے، جب یہاں آن بسی تھی۔ یہ لوگ اٹلی، آئرلینڈ، جرمنی، روس اور پولینڈ سے آئے تھے۔</p>
<p>آج نیو یارک میں اسرائیل سے باہر مقیم یہودیوں کی سب سے بڑی &nbsp;تعداد ہے۔پھر یہاں افریقی امریکیوں کی تعداد بھی کسی دوسرے شہر کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ نقل مکانی کرکے آنے والے افراد عام طور پر اُنہی کمیونٹیز میں ہی رہتے ہیں جہاں اُن کے ملکوں سے آنے والے دوسرے افراد بھی رہتے ہوں۔ إِن میں اطالوی، روسی، چینی، کوریائی، ڈومینیکن اور پورٹو ریکن شامل ہیں۔</p>
<p>نیو یارک میں بسنے والے سفید فاموں کی شرح 44فی صد ہے۔ ایک چوتھائی سے کچھ زیادہ افریقی امریکی، جب کہ تقریباً ایک چوتھائی ہسپانوی یا پھر لاطینی امریکی سے آئے ہیں۔اِس کے علاوہ، تقریباً 12فی صد کے آباؤ اجداد ایشیائی تھے۔</p>
<p>اِس گنجان آباد شہر میں لاکھوں افراد چھوٹے چھوٹے مکانوں میں رہتے ہیں۔ مین ہٹن نیویارک کا ایک بے حد جانا پہچانا علاقہ ہے۔</p>
<p>مین ہٹن کے گلی کوچوں میں بے حد ہجوم رہتا ہے، کیونکہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد وہاں کا م کرنے کے لیے بھی آتی ہے۔</p>
<p>بیشتر افراد بسوں، ٹیکسیوں یا پھر زیرِ زمین چلنے والے &rsquo;سب ویز&lsquo; میں سفر کرتے ہیں اور بیشتر لوگ یہاں کاریں لانے کو ترجیح نہیں دیتے۔</p>
<p>زیادہ تر لوگ بلند و بالا اپارٹمنٹ بلنڈنگز میں رہائش پذیر ہیں۔ مین ہٹن میں شہر کے امیر ترین اور غریب ترین لوگ بستے ہیں۔ مین ہٹن کے علاوہ نیویارک کے چار اور اہم علاقے ہیں جنھیں برونکس، بروکلین، سٹریٹن آئی لینڈ اور کوئنز کہا جاتا ہے۔</p>
<p>آڈیو رپورٹ سنیئے:</p>
<p>
<object classid="clsid:02bf25d5-8c17-4b23-bc80-d3488abddc6b" width="213" height="36" codebase="http://www.apple.com/qtactivex/qtplugin.cab#version=6,0,2,0">
<param name="src" value="http://media.voanews.com/audio/Copy+of++1400++NEW+Life+in+America-+481455+New+York+Culyure-Weaver-BG.Mp3" /><embed type="video/quicktime" width="213" height="36" src="http://media.voanews.com/audio/Copy+of++1400++NEW+Life+in+America-+481455+New+York+Culyure-Weaver-BG.Mp3"></embed>
</object>
</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sun, 15 Jan 2012 00:00:11 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">137356398</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[وی ور/ بہجت گیلانی]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-15T00:00:11Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[امریکہ میں شب و روز ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/new+york.jpg" length="72297" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/new+york.jpg" medium="image" isDefault="true" height="314" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/TS_David_Louie.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>لائف اِن امریکہ: سان فرانسسکو کی سیر</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/life-in-america/LiA_SanFransisco_29Dec11-136401818.html</link>
				<description>دھند میں لپٹی 40 ڈھلواں پہاڑیوں   پر مشتمل یہ شہر خلیج فرانسسکو کے ساحل پر واقع ہے اور حدِنظر تک خلیج کاچمکدار پانی سکون کا احساس دلاتا ہے۔ یہ علاقہ بے حد گنجان آباد ہے اور پہاڑی ڈھلوانوں پر خوبصورت وکٹورین سٹائل کے گھر بنے ہوئے ہیں ۔ انہیں painted ladies کہا جاتا ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>آج ہم آپ کو امریکہ کے انتہائی خوبصورت شہر سان فرانسسکو کی سیر کو لے جا رہے ہیں ۔ یہ&nbsp; پہاڑی علاقہ امریکہ&nbsp; کا تیرہواں بڑا&nbsp; شہر ہے۔ ریاست کیلے فورنیا میں تین دوسرے شہر لاس انجلس، سان ڈیئگو اور سان ہوزے اس سے بڑے شہر ھیں ۔ لیکن ،جہاں تک سیاحوں کی آمد کا تعلق ہے ، سان فرانسسکو ملک بھر میں&nbsp; سر فہرست ہے۔</p>
<p><br />&nbsp;اِس کشش کی وجہ کیا آخر کیا ہے؟ مشہور گلوکار Tony Bennett نے اپنے انتہائی مقبول نغمے میں اپنا دل سان فرانسسکو میں چھوڑ آنے کا ذکر کیا ہے۔سوال ہے کہ سان فرانسسکو ہی کیوں کوئی دوسرا شہر کیوں نہیں ؟</p>
<p><br />شائد اِس کی وجہ اِس کا جائے وقوع ہے۔</p>
<p><br />دھند میں لپٹی 40 ڈھلواں پہاڑیوں پرمشتمل یہ شہرخلیج فرانسسکو کےساحل پر واقع ہے اور حدِ نظر تک خلیج کا چمکدار پانی سکون کا احساس دیتا ہے۔ یہ علاقہ بے حد گنجان آباد ہے اور پہاڑی ڈھلوانوں پر خوبصورت وکٹورین سٹائل کے گھر بنے ہوئے ہیں ۔ انہیں painted ladies کہا جاتا ہے۔</p>
<p><br />اُس کے حسین ساحلوں، پُررونق ساحلی تجارتی علاقے، دو انتہائی دیدہ زیب پلوں اورفلا ڈلفیا کے مغرب میں واقع سب سے بڑے شہری پارک کو ذہن میں رکھیں تو کوئی تعجب کی بات نہیں کہ سان فرانسسکو&nbsp; خواہش کا مرکز بنے اور رہائش کے لئے اور سیرو تفریح کے لئے آنے والوں کی دلچسپی کا محور ہو۔</p>
<p><br />پھر یہاں کا شاندارتھئٹرامریکہ کی سب سے پرانی بیلےکمپنی، درجنوں آرٹ گیلریاں اور ہزاروں کی تعداد میں نفیس ریستوران اور شائستہ ماحول بھی اس کی کشش میں اضافے کا باعث ہے۔</p>
<p><br />سان فرانسسکو میں بارش بھی بہت ہوتی ہے۔ گلابی سردیاں اور ٹھنڈی گرمیاں ۔ درحقیقت، ایک مقولہ بھی ہے جسےغلط طور پر مارک ٹوین سے منسوب کیا جاتا ہے، اور یہا ں رہنے والے&nbsp; اس سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں: اور وہ کچھ یوں ہے کہ، میں نے جو سرد ترین سردی بسر کی وہ سان فرانسسکو کی گرمیاں تھیں۔</p>
<p><br />سیاحوں کے لئے سب سےزیادہ پرکشش علاقہ چائنا ٹاون ہےجو ایشیا سےباہر سب سے بڑی ایشیائی کمیونٹی ہے۔ پھر سان فرانسسکو کی ایک اور بڑی کشش اس کا 37کیبل کاروں کا فلیٹ ہے۔ اور دنیا میں اپنی نوعیت کی واحد کیبل کار۔ سان فرانسسکو کی پہاڑیاں بھی سیاحوں میں بے حد مقبول ہیں&nbsp; خاص طور پر لہراتی بل کھاتی Lombard Street جسے ہر کوئی امریکا کی سب سے ٹیڑھی سڑک قرار دیتا ہے۔</p>
<p><br />اور پھر، سان فرانسسکو میں واقع بدترین جیل کا بھی ٹور کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p><br />یہاں ایسی ہی نادرخصوصیات ہیں جِن کی بنا پرامریکی مصنف او ہنری نے لکھا تھا : &rsquo;مشرق مشرق ہے اور مغرب سان فرانسسکو&lsquo;۔&nbsp;</p>
<p>اب کی بار جب امریکہ آنا ہو تو سان فرانسسکو سرفہرست ہو۔</p>
<p>آڈیو رپورٹ سنیئے:</p>
<p>
<object classid="clsid:02bf25d5-8c17-4b23-bc80-d3488abddc6b" width="212" height="37" codebase="http://www.apple.com/qtactivex/qtplugin.cab#version=6,0,2,0">
<param name="src" value="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+1400+NEW+LIA++1660083+San+Fransisco-Landphair-BG-12-29.Mp3" /><embed type="video/quicktime" width="212" height="37" src="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+1400+NEW+LIA++1660083+San+Fransisco-Landphair-BG-12-29.Mp3"></embed>
</object>
</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 29 Dec 2011 23:38:15 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">136401818</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[ٹیڈ لینڈ فیئر/ بہجت گیلانی]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-12-29T23:38:15Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[امریکہ میں شب و روز ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/san-francisco-480.jpg" length="50866" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/san-francisco-480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="327" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/China_-_Overseas_-_Tourism_-_web_version_4x310Tease.jpg" medium="image" isDefault="false" height="480" width="480" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>لائف اِن امریکہ: ایک شہر دو ریاستیں  </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/life-in-america/Texarkana_OneCity_TwoStates_28Dec11-136347383.html</link>
				<description>امریکہ کا جنوب مغربی شہر Texarkanaامریکہ کی دو ریاستوں کی سرحدوں کے درمیان واقع ہے۔ اور، یہ ریاستیں ہیں ٹیکساس اور آرکینسا</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>یہ تو سب جانتے ہیں کہ امریکہ کی کُل 50ریاستیں ہیں۔ لیکن، شاید آپ کو یہ علم نہ ہو کہ امریکہ کا ایک ہی شہر دو ریاستوں میں واقع ہے۔ اور، آپ اگر اس شہر میں ہوں تو بیک وقت دو ریاستوں میں موجود ہوں گے۔</p>
<p>امریکہ کا جنوب مغربی شہرTexarkanaامریکہ کی دو ریاستوں کی سرحدوں کے درمیان واقع ہے۔ اور، یہ ریاستیں ہیں ٹیکساس اور آرکینسا۔</p>
<p>ویسے دیکھیں تو ٹیکسرکینا ہر طرح سے ایک مکمل کمیونٹی ہے، مگر یہ دراصل دو شہر ہیں: ایک ٹیکساس کا ٹیکسرکینا&nbsp; جس کی آبادی 36000نفوس پر مشتمل ہے اور دوسرا آرکینسا کا ٹیکسر کینا جہاں 30000لوگ آباد ہیں۔</p>
<p>یہ کوئی جڑواں شہر نہیں ہے۔ بلکہ، ایک واحد بڑی سڑک کے ذریعے آپس میں جڑا ہوا ہے۔&nbsp; یہ شاہراہ اسٹریٹ لائن اوینیو کہلاتی ہے، اور یہ شہر کے بیچوں بیچ چلتی ہوئی جاکر ایک تاریخی وفاقی عمارت پر ختم ہوتی ہے جو اس سڑک کی طرح آدھی آرکینسا اور آدھی ریاست ٹیکساس میں واقع ہے۔</p>
<p>عمارت کی اوپر کی منزل میں کمرہٴ عدالت موجود ہے جس میں جج کی کرسی کو فرش سے جوڑ دیا گیا ہے۔ اور، یوں ہر جج ہمیشہ دو ریاستوں میں براجمان رہتا ہے۔</p>
<p>عمارت کے باہر ایک لائن پینٹ کی گئی ہے اور ساتھ سڑک پر سائن بورڈ لگا دیا گیا ہےجس کے سائے میں سیرو تفریح کے لیے آئے ہوئے لوگ تصویریں بنواتے ہیں۔ اپنا ایک پاؤں &rsquo;لون اسٹار اسٹیٹ&lsquo; یعنی ٹیکساس اور دوسرا &rsquo;نیچرل اسٹیسٹ&lsquo; یعنی آرکینسا میں رکھ کر۔</p>
<p>آپ لوگوں سے پوچھئیے۔ اُن کے ہاں آپ کو کوئی فرق نہیں ملے گا۔</p>
<p>وہ سب ایک ہی چرچ میں جاتے ہیں، ایک سنیما گھر میں فلم دیکھتے ہیں، ایک جیسے شاپنگ مال میں شاپنگ کرتے ہیں۔ لیکن، پھر بھی لائن کے دونوں طرف میئر ، پولیس، فائر ڈپارٹمنٹ اور ہائی اسکول الگ الگ ہیں۔</p>
<p>زیادہ تر شاپنگ سینٹر اور کار کے شو روم ٹیکساس میں ہیں اور بڑی بڑی صنعتیں جن میں کوپر ٹاپر پلانٹ بھی شامل ہیں، آرکینسا میں واقع ہیں۔</p>
<p>انتظام ایسا رکھا گیا ہے کہ ٹیکسر کینا کے ہر شخص کو دوسرے کی ضرورت ہے۔ ایئرپورٹس آرکینسا میں ہیں اور بیشتر کالج اور طبی سہولتیں ٹیکساس میں ہیں۔۔۔ لیکن، ٹیکسر کینا کے لوگوں کے دل ایکساتھ دھڑکتے ہیں۔</p>
<p>تفصیل آڈیو رپورٹ میں:</p>
<p>&nbsp;   
<object classid="clsid:02bf25d5-8c17-4b23-bc80-d3488abddc6b" width="218" height="35" codebase="http://www.apple.com/qtactivex/qtplugin.cab#version=6,0,2,0">
<param name="src" value="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+0100+Life+in+America-+1326427+One+City-Two+States-09-06-11+MM.Mp3" /><embed type="video/quicktime" width="218" height="35" src="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+0100+Life+in+America-+1326427+One+City-Two+States-09-06-11+MM.Mp3"></embed>
</object>
</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 29 Dec 2011 00:58:06 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">136347383</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[ٹیڈ لینڈ فیئر/  مدثرہ منظر]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-12-29T00:58:06Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[امریکہ میں شب و روز ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/State+Line+Avenue_480.jpg" length="112429" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/State+Line+Avenue_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="218" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/State+Line+Avenue_300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>امریکی مسلمان بھی کرسمس کی خوشیوں میں شریک</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/life-in-america/US_Muslims_Christmas_23Dec11-136157468.html</link>
				<description>ایسا ہی ایک مسلم گھرانہ پاکستانی نژاد امریکی تہمینہ خان کا بھی ہے ،جنہوں نے سب سے پہلے اپنے بچوں کی خوشی کے لیے کرسمس کے موقع پر اپنے گھر کو سجانا شروع کیا  اور اب یہ عمل ان کے گھرانے کی ایک روایت بن چکا ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکہ میں کرسمس کا تہوار صرف عیسائیوں ہی کے لیے مخصوص نہیں رہا، &nbsp;بلکہ تمام عقائد کے لوگ اس دن کو تعطیل کے طور پر مناتے ہیں۔</p>
<p>&nbsp;امریکہ میں آباد بعض مسلمان بھی&nbsp; کرسمس کی تقریبات میں شریک ہوتے ہیں۔ نمازیخا خاندان بھی ایک ایسا ہی مسلمان گھرانہ ہے جو کرسمس کے موقع پر اپنے پورے گھر کو سجاتے ہیں۔</p>
<p>ثمن نمازیخا اور ان کی اہلیہ فاطمہ مختاری ایرانی نژاد مسلمان ہیں۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ خود کو مسلمان اور ایرانی سمجھنے کے ساتھ ساتھ امریکی بھی سمجھتے ہیں اور اسی جذبے سے کرسمس کا اہتمام کرتے ہیں۔</p>
<p>دونوں میاں بیوی اپنی شادی کے بعد سے کرسمس مناتے آرہے ہیں۔ ان کے بقول، "ہم اس دن خوب مزے کرتے ہیں، خوشیاں مناتے ہیں اور گھر سجاتے ہیں"۔</p>
<p>ایسا ہی ایک مسلم گھرانہ پاکستانی نژاد امریکی تہمینہ خان کا بھی ہے جنہوں نے سب سے پہلے اپنے بچوں کی خوشی کے لیے کرسمس کے موقع پر اپنے گھر کو سجانا شروع کیا&nbsp; اور اب یہ عمل ان کے گھرانے کی ایک روایت بن چکا ہے۔</p>
<p>تہمینہ کہتی ہیں، "یہ ایک تہوار ہے۔ لہذا ہمیں دیگر امریکیوں کی طرح اسے منانا اچھا لگتا ہے۔ اس دن کی خوشیوں میں دوسروں کو شریک کرنا اور تحائف دینا ایک اچھا رواج ہے اور ہمیں یہ سب کچھ کرکے خوشی ہوتی ہے"۔</p>
<p>تہمینہ اس دن نہ صرف اپنے بچوں کو تحائف دیتی ہیں بلکہ اس موقع پر دعوتیں بھی کرتی ہیں جن میں کئی مسلمان بھی شریک ہوتے ہیں۔</p>
<p>تہمینہ کی کرسمس دعوت میں شرکت کرنے والوں میں سارہ خان بھی ہیں جو خود بھی کرسمس کے موقع پر اپنا گھر کی آرائش کرتی ہیں۔</p>
<p>لیکن سارہ کا کہنا ہے کہ ان کی اس سرگرمی کو ان کے بعض دوست ناپسند بھی کرتے ہیں۔</p>
<p>"بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مسلمانوں کو کرسمس نہیں منانی چاہیے کیوں کہ یہ ہمارا مذہبی تہوار نہیں ہے۔ حالاں کہ، &nbsp;اگر دیکھا جائے تو یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جنم دن ہے اور چوں کہ ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بھی ایمان رکھتے ہیں لہذا میرے خیال میں اس دن کو منانے میں کوئی قباحت نہیں"۔</p>
<p>لیکن لاس اینجلس کی 'شاہ فہد مسجد' کے ترجمان عثمان مدح کا کہنا ہے کہ کسی پیغمبر کو ماننے اور ان سے منسوب ایام منانے میں ایک بہت باریک سا فرق ہے جسے مدِ نظر رکھنا چاہیئے۔</p>
<p>ان کے بقول، "مسلمان حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی مانتے ہیں۔ اور جب ہم کہتے ہیں کہ ہم 'مانتے' ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ&nbsp; ہمارا ایمان ہے کہ وہ اسلام کے پیغمبر تھے۔ لیکن کیا آپ بتاسکتے ہیں کہ کتنے مسلمان حضرت موسیٰ علیہ السلام سے منسوب یہودیوں کے تہوار بھی مناتے ہیں؟"</p>
<p>عثمان کہتے ہیں کہ کرسمس منانے والے مسلمانوں کو اپنے اس عمل کی مذہبی توجیہ تلاش نہیں کرنی چاہیئے اور اپنی تفریح اور ہلے گلے میں بھی اسلام اور عیسائیت کے فرق کو ملحوظ رکھنا چاہیئے۔</p>
<p>وہ کہتے ہیں کہ کرسمس منانے والے امریکی مسلمان تعداد میں بہت کم ہیں&nbsp; اور ان کے اس عمل کا بھی بیشتر انحصار ان کی عمر اور صحبت پر ہوتا ہے۔</p>
<p>لیکن کرسمس کے لیے اپنے گھر کی آرائش میں مصروف ولی خان&nbsp; اس سے اتفاق نہیں کرتے۔&nbsp; اُن کے بقول، &nbsp;وہ جتنے بھی امریکی مسلمانوں سے واقف ہیں وہ سب کرسمس مناتے ہیں۔</p>
<p>ولی کا کہنا ہے کہ کرسمس منانے والے اُن کے تمام مسلمان واقف کارپختہ عقیدے کے مالک ہیں، لیکن ساتھ ساتھ وہ اپنے دیگر ہم وطنوں کی ثقافت سے بھی خود کو ہم آہنگ کرنا چاہتے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 23 Dec 2011 20:59:41 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">136157468</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-12-23T20:59:41Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[امریکہ میں شب و روز ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/US_Muslims_Christmas_Web_4x3-fixed-x264-Platform_YTHQFull_640x480_2179923734.jpg" length="145990" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/US_Muslims_Christmas_Web_4x3-fixed-x264-Platform_YTHQFull_640x480_2179923734.jpg" medium="image" isDefault="true" height="480" width="640" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/US_Muslims_Christmas_Web_4x308Tease.jpg" medium="image" isDefault="false" height="480" width="480" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>کچھ یادیں  کچھ باتیں: افتخار عارف کے ساتھ ایک نشست</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/life-in-america/Iftikhar_Arif_Interview_17Dec11-135797498.html</link>
				<description>’لندن میں، تو خیر،  اردو کے بہت سے چاہنے والے ہیں اور سب قریب قریب ہی ہیں ،اِس لیے وہاں مشاعروں میں بڑی تعداد میں لوگ آتے ہیں۔ لیکن، امریکہ میں پاکستانی اور اردو سمجھنے والے دیگر ملکوں کے لوگ تو ہیں، لیکن وہ بکھرے ہوئے ہیں‘</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>افتخارعارف کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ وہ ایک شاعر اورایک ادبی شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نہایت پروقار اور دھیمے مزاج کےانسان ہیں۔ اِس بات کا اندازہ گزشتہ دنوں اُن سے ایک ملاقات میں ہوا ۔</p>
<p>افتخار عارف امریکی دارلحکومت واشنگٹن میں قائم علی گڑھ المنائی ایسوایشن کی طرف سے منعقد کردہ ایک مشاعرے میں شرکت کے لیے یہاں تشریف لائے تھے۔</p>
<p><iframe src="http://www.youtube.com/embed/vZCORoWvWbY" width="420" height="315"></iframe></p>
<p>مشاعرے میں&nbsp; واشنگٹن اور اس کے گرد و نواح سے سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی۔جناب افتخار عارف نے مشاعرے کی صدارت کی اور ساتھ میں اپنی شاعری سے خوب داد بھی وصول کی۔ مشاعرے کے بعد ان سے ملاقات ہوئی اور اس مختصر سی بات کے بعد ان کے بارے میں اور جاننے کی جستجو ہوئی تو ہم نے&rsquo; وائس آف امریکہ&lsquo; میں&nbsp; اردو ریڈیو کی سینئر &nbsp;براڈ کاسٹر بہجت گیلانی سے رابطہ کیا ،جن کے ہاں افتخار عارف ٹھہرے ہوئےتھے۔جب&nbsp; اُن سے معلوم ہوا کے جناب افتخار عارف ابھی ایک دن اور واشنگٹن کے قریب واقع ان کے گھر میں قیام&nbsp; کر رہے ہیں، تو اگلےہی &nbsp;دن کا وقت لے لیا اور کیمرہ لے کر اُن سے ملنے جا پہنچے۔</p>
<p>بہجت گیلانی اور اُن کے شوہر شبیر گیلانی سےملاقات ہوئی۔ اُن کے ڈرائنگ روم میں&nbsp; ہم کیمرہ سیٹ کرنے کا سوچ ہی رہے تھے کہ جناب افتخار عارف بھی تشریف لے آئے اور پھر چائے کے انتظار کے دوران ان کی کتابوں کے بارے میں بات ہونے لگی۔ اتفاق سے بہجت گیلانی کے پاس اُن کی پہلی کتاب &nbsp;&rsquo;مہر ِ دو نیم&lsquo;&nbsp; جو 1983 ءمیں چھپی تھی اور آخری کتاب&nbsp; &rsquo; کتاب ِ دل و دنیا&lsquo;&nbsp; جو 2009 ء میں منظر عام پر آئی تھی دونوں ہی موجود تھیں۔ افتخار عارف سے انٹرویو شروع ہوا، &nbsp;ساتھ میں چائے اور بسکٹ بھی چلے۔ اتنی دیر میں کیمرہ بھی لگ گیا۔ اور پھر ہم نے اُن سے سوال و جواب کا سلسلہ شروع کیا۔</p>
<p>افتخار عارف کی پیدائش لکھنو میں ہوئی ۔ &nbsp;انھوں نے اپنا وقت کراچی اور پھرلندن میں بھی گزارہ۔ آج کل اسلام آباد میں رہائش پذیر ہیں۔</p>
<p>&nbsp;امریکہ اور یورپ میں مشاعروں کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مغرب میں ادبی ماحول بہت مختلف ہے۔ لندن میں تو خیر اردو کے بہت سے چاہنے والے ہیں اور سب قریب قریب ہی ہیں ،اِس لیے وہاں مشاعروں میں بڑے تعداد میں لوگ آتے ہیں۔ لیکن، امریکہ میں پاکستانی اور اردو سمجھنے والے دیگر ملکوں کے لوگ تو ہیں، لیکن وہ بکھرے ہوئے ہیں، کیونکہ امریکہ جغرافیائی لحاظ سے برطانیہ کے مقابلے میں ایک بڑا ملک ہے۔ لیکنِ اِس کے باوجود،&nbsp; اُنھوں نے مشاعروں میں لوگوں کی دلچسپی دیکھی اور ایک بہت اچھا پہلو نوجوانوں کی شرکت رہی۔</p>
<p>اپنی نوجوانی کی بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ اُن کے ہم عصر شعراء میں سے بہت سے ایسے&nbsp; شاعر ہیں جو آج&nbsp; موجود&nbsp; نہیں۔ اُنھوں نے خاص طور پر فیض احمد فیض کا ذکر کیا اور کہا کہ فیض اُن کے پسندیدہ شاعر تھے ، جِ سے &nbsp;انھوں نےبہت کچھ سیکھا۔ اس کے علاوہ احمد ندیم قاسمی، سلیم احمد، عزیز إحمد مدنی، منیر نیازی، اختر حسین جعفری، احمد فراز اور جون ایلیا&nbsp; کو بھی وہ اپنے بزرگ شعرا میں گردانتے &nbsp;&nbsp;ہیں۔ ہندوستان میں سردار جعفری، اخترالایمان، کیفی اعظمی ،مجروح سلطان پوری، ندا فاضلی اور&nbsp; بلراج کومل&nbsp; کو وہ یاد کرتے ہیں۔ 70 کی دہائی کے کچھ شعرا&nbsp; جیسے ناصر کاظمی ، پروین شاکر اور موجود شعراء شہزاد احمد ، ظفر اقبال&nbsp; کو وہ اردو کے توانا شعراء میں شمار کرتے ہیں۔</p>
<p>پاکستانی منظر نامے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے، اُنھوں نے کہا کہ 70 کی دہائی کی شعرا نے پاکستانیت اور پاکستانی شناخت کو بیان کیا، کیونکہ، &nbsp;اُن لوگوں کی ذہنی تخمیر و تشکیل پاکستان کے بننے کے بعد&nbsp; ہوئی۔</p>
<p>&nbsp;اُنھوں نے کہا منیر نیازی ، جون ایلیا ، احمد فراز اور ظفر اقبال کے بعد کی نسل ، جن میں وہ اپنے آپ سمیت&nbsp; خورشید رضوی ، امجد اسلام امجد، خالد احمداور انور شعور&nbsp; کو گردانتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے &nbsp;اردو کی بہت خدمت کی۔</p>
<p>اُنھوں نے کہا کہ ہر دور اپنے آپ میں پر آشوب دور رہا ہے۔&nbsp; غالب اور میر کے دور سے لے کر نو آبادیاتی نظام کے زمانے تک اور آج جس دور میں ہم جی رہے ہیں بلا شبہ یہ دور بھی پر آشوب ہے۔ اس میں بہت سے عناصر کا دخل ہے اور ادب میں یہ عناصر نمایاں رہے ہیں۔ ناصرف اردو، &nbsp;بلکہ پاکستان میں ہر زبان کاادب مل کر پاکستانی ادب کی ترجمانی کررہا ہے۔ &nbsp;</p>
<p>اُنھوں نے چند ایسے شاعروں کی بات کی جنھوں نے انگریزی زبان میں بھی شاعری کی ہے ۔ لیکن، اُنھوں نے کہا کہ انگریزی اور اردو کو ملا کر شاعری کرنے میں بات تجربے کی حد تک تو ٹھیک ہے، لیکن شعوری طور پرایسا کرنا ٹھیک نہیں۔</p>
<p>&nbsp;اِ س دلیل پر&nbsp; کہ اردو کے بعض استعارے نوجوان نسل کو سمجھ نہیں آتے اور شعرا نوجوانوں سے ابلاغ کے لیے آسان زبان کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، اُن کا کہنا تھا کہ اگر کسی نسل کو کچھ سمجھ نہیں آتا تو یہ اُس نسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ زبان کو سمجھے۔</p>
<p>اُنھوں نے کہا کہ وہ&nbsp; جب تخلیقی عمل سے گزر رہے ہوتے ہیں تو اِس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ کسی کو اِس بات کی سمجھ آئے گی کہ نہیں بلکہ وہ بس کہہ دیتے ہیں۔</p>
<p>اُن کا کہنا تھا &nbsp;کہ اپنی نوجوانی میں انھوں نے بھی رومانوی شاعری کی۔</p>
<p>&nbsp;لیکن، &nbsp;زندگی بہت مختلف اور متنوع ہے۔ اور یہ آپ سے صداقت کا مطالبہ بھی کرتی ہے۔ اس لیے جیسا کہ غالب نے کہا تھا کہ ، جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے۔ اس طرح سے ان کی شاعری بھی مختلف ادوار سے گزری۔</p>
<p>اُن کا کہنا تھا کہ ادب کی ذمہ داریاں بہت مختلف ہیں۔</p>
<p>&nbsp;ادب ایک ایسی خبر ہے جو وقت کی سرحدں کو پار کر جاتا ہے&nbsp; اور آنے والے زمانوں میں سفر کرتا رہتا ہے۔ اگرچہ&nbsp; زمانے کی ہنگامہ خیزیاں اپنی رفتار سے گزر رہی ہیں، &nbsp;لیکن ادب میں چیزیں بدلتی نہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ پہلے لوگ اپنے زمانے کی ترجمانی کرتے تھے، جیسے سعدی، رومی ، حافظ یا شیکسپیئر۔ لیکن، اب ہم سب اپنی اپنی چھوٹی چھوٹی سچائیاں بیان کررہے ہیں۔ جیسے فیض، راشد، منٹو، میرا جی اور مجید امجد، ممتاز مفتی اور قدرت اللھ شہاب مل کر اِس دور کی ترجمانی کر رہے ہیں۔ اُن کی اجتماعی سوچ اس دور کی ترجمانی کرتی ہے۔</p>
<p>&nbsp;انھوں نے کہا کہ 20ویں صدی کا خاصہ رہا ہے کہ یہ اپنے آخری ایام میں &nbsp;یہ بلکل مختلف ہوتی چلی گئی۔ پہلے صدیاں شاعروں سے پہچانی جاتی تھیں لیکن اب نثر نگاری سے&nbsp; دنیا پہچانی جانے لگی ہے۔ اب امریکہ سمیت دنیا بھر میں فکشن سب سے زیادہ چھپتا ہے ۔</p>
<p>ادب کے مطالعے کی کمی پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مطالعے کی کمی نہیں ہوئی، بلکہ ادب کے مطالعے میں کمی آئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اب گلیمر ، فلم ،فیشن ، سپورٹس اور سیاسی شخصیتوں کی سوانح نگاری جیسی کتابوں پر زیادہ دھیان دیا جاتا ہے۔ اس لیے، ادب و شاعری میں کمی دیکھی گئی ہے اور مادی وسائل حاصل کرنے کے لیے لوگ ادب کی بجائے سائنسز کی طرف جاتے ہیں ۔ لیکن، &nbsp;اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ &nbsp;زیادہ دیر ایسا رہنا ممکن نہیں، کیونکہ مہذب معاشروں میں ادب کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ، توازن اور اعتدال پیدا کرنے میں ادب اور فنون&nbsp; کا نہایت اہم کردار ہے ۔</p>
<p>افتخار عاررف آج کل اسلام آباد میں رہائش پذیر ہیں اور اپنی سوانح حیات پر کام کر ہے ہیں، جو آنے والے سال میں منظر عام پر آنے کے امکانات ہیں، جس کے لیے وہ اپنے اس سفر کی یاداشتیں اکٹھی کر رہے ہیں۔</p>
<p>&nbsp;اپنے سفر کے بارے میں بات کرتے ہوئے، اُنھوں نے کہا کہ وہ نہایت غریب گھر میں پیدا ہوئے ، کم عمری میں اُنھوں نے پاکستان ٹیلی ویژن میں کام شروع کیا ار پھر ریڈیو پاکستان میں 10 روپے روز سے آغاز کیا۔ پھر لندن میں بی بی سی میں کام کیا اور پھر اردو مرکز میں کام کرتے رہے۔ اکادمی ادبیات پاکستان&nbsp; اور نیشنل بک فاوٴنڈیشن کے علاوہ مقتدرہ قومی زبان سے بھی وابستہ رہے۔</p>
<p>&nbsp;اُنھوں نے کہا کہ وہ خوش نصیب ہیں کہ انھوں نے اپنی شرطوں پر زندگی گزاری اور جو چاہا وہ کیا۔</p>
<p>&nbsp;اُنھوں نے کہا کہ جیسا کہ غالب نے ایک خط میں کہا تھا کہ جو آدمی کا شوق اور ذوق ہو وہ اگر اسکا&nbsp; وسیلہٴ رزق بھی بن جائے تو&nbsp; اس سے بڑی عیاشی کوئی نہیں۔ اور وہ خود بھی ساری زندگی کتاب کے قریب رہنا چاہتے تھے اور لکھنا چاہتے تھے۔ اُن کے لکھے ہوئے شعر پسند کیے گئے اور اللھ نے انھیں نوازا جس پر وہ شکرگزار ہیں۔</p>
<p>افتخار عارف کی ایک تازہ غزل جو اُنھوں نے ہمیں سنائی، ذیل میں &nbsp;درج ہے:</p>
<p>بکھر جائیں گے کیا ہم جب تماشا ختم ہو گا<br /> میرے معبود آخر کب تماشا ختم ہو گا<br /> <br /> چراغِ حجرہ درویش کی بجھتی ہوئی لو<br /> ہو ا سے کہہ گئی ہے اب تماشا ختم ہو گا<br /> <br /> کہانی آپ اُلجھی ہے کہ اُلجھائی گئی ہے<br /> یہ عقدہ تب کُھلے گا جب تماشا ختم ہو گا<br /> <br /> یہ سب کٹھ پتلیاں رقصاں رہیں گی رات کی رات<br /> سحر سے پہلے پہلے سب تماشا ختم ہو گا<br /> <br /> تماشا کرنے والوں کو خبر دی جا چکی ہے<br /> کہ پردہ کب گرے گا کب تماشا ختم ہو گا<br /> <br /> دلِ ما مطمئن ایسا بھی کیا مایوس رہنا<br /> جو خلق اُٹھی تو سب کرتب تماشا ختم ہو گا</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sat, 17 Dec 2011 21:21:24 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">135797498</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[ثاقب الاسلام]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-12-17T21:21:24Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[امریکہ میں شب و روز ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Sequence+480.jpg" length="39046" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Sequence+480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="320" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Poet_Iftikhar_Arif.300x300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>بچوں کا آن لائن ’بجٹ ہیرو‘ گیم</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/life-in-america/Deficit_Expenditure_27Nov11-134567303.html</link>
				<description>واشنگٹن میں قانون سازوں کی طرح طالب علم بھی کوشش کر رہے ہیں کہ وفاقی بجٹ میں کمی کی جائے،جس کے لیے وہ’ بجٹ ہیرو‘ کہلا نے والے’ آن لائن  گیم‘ کا استعمال کر رہے ہیں</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>واشنگٹن میں امریکی بجٹ میں خسارے کو کم کرنے کے لیے اسپیشل کانگریشنل سپر کمیٹی نے حال ہی میں اعلان کیا کہ وہ کسی معاہدے پر پہنچنے میں ناکام ہوگئی ہے ۔ تاہم امریکی&nbsp; قانون سازوں کے ساتھ ساتھ لاس اینجلس اور امریکہ کے دیگر شہروں &nbsp;میں طالب علم بھی اخراجات اور بجٹ میں&nbsp; خسارے&nbsp; کو کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جس کے لیے وہ ایک آن لائن گیم &rsquo;بجٹ ہیرو&lsquo; کا استعمال کررہے ہیں ۔ مگر انہیں&nbsp; کس قسم کے مسائل کا سامنا ہے؟</p>
<p>ہائی اسکول کےان طالب علموں کا کہنا ہے کہ وہ یہ سیکھ رہے ہیں کہ آئندہ دس برسوں میں وفاقی اخراجات میں ایک اعشاریہ دو ٹرلین کی کٹوتی کس قدر مشکل عمل ہےاور کانگرس کو اِسی قسم کے چیلنج کا سامنا ہے۔لیکن معیشت کی بہتری کے لیے بجٹ پر کنٹرول&nbsp; مشکل کام ہے&nbsp; ۔ ڈوری بینٹ کہتی ہیں کہ میں بڑی ہو کر کالج جانا چاہتی ہوں ، میں چاہتی ہوں کہ مستقبل میں میری اچھی جاب ہو، بچے ہوں اور &nbsp;ایک گھر ہو۔</p>
<p>واشنگٹن میں قانون سازوں کی طرح طالب علم بھی کوشش کر رہے ہیں کہ وفاقی بجٹ میں کمی کی جائے،جس کے لیے وہ بجٹ ہیرو کہلا نے والے آن لائن &nbsp;گیم کا استعمال کر رہے ہیں۔</p>
<p>کچھ طالب علموں کا کہنا ہے کہ ٹیکسوں کے نظام کا آسان طریقہ ہمارے لیےزیادہ قابل قبول ہو گا۔</p>
<p>امریکی ریاست کیلی فورنیا کی سابق نمائندہ جین ہرمن اب ووڈروولسن سنٹر فار انٹرنیشنل سکلرز کی سربراہ ہیں ۔وہ کہتی ہیں کہ دس لاکھ سے زیادہ لوگوں نے اس گیم کا استعمال کیا ہے اور انہوں نے دو چیزیں سیکھی ہیں پہلی بات تو یہ کہ یہ کتنا مشکل کام ہے اور دوسرا اگر آپ چاہیں &nbsp;تو اس کا حل ممکن ہے۔</p>
<p>طالب علموں کا کہنا ہے کہ بجٹ میں کٹوتی آسان کام نہیں۔جیفری برکے کہتے ہیں کہ ہمارے لیے سب سے مشکل کام یہ تھا کہ گیس کی رقم اور گیس پر ٹیکسوں کے اضافے میں کٹوتی کیسے کی جائے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اس کے اثرات ہر جگہ ، ہر چیز اورہر شخص پر پڑیں گے۔</p>
<p>دفاعی اخراجات سے بحث و مباحثے میں اضافہ ہوا ہے۔ طالب علم ہیری کڈ کہتے ہیں کہ کیونکہ ایک طرف ہم کہتے ہیں کہ فوجی اخراجات میں کمی کی جا رہی ہیں مگر ہم روزگار سے متعلق بھی پریشان ہیں اور ہم سب اس بات پر متفق ہیں کہ عراق سے فوجیں نکالی جائیں۔</p>
<p>امریکی پبلک میڈیا بجٹ ہیرو کو بنانے والوں میں سے ایک ہے۔ براڈکاسٹر ڈیجیٹل اینویشن کے سربراہ واہکوئین الوارادو کہتے ہیں بہت سے کھلاڑیوں نے آن لائن تبصرے کرتے ہیں اوروہ پوچھتے ہیں کہ کانگرس اس گیم کو اس لیے استعمال کر رہی ہے کہ لوگوں کے سوالات کا جواب دینے کے لیے سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کر سکے۔</p>
<p>اس گیم میں معلومات کانگریشنل بجٹ آفس نے فراہم کی ہیں اور رقم میں کٹوتی کی ہر تجویز میں حقیقی زندگی پر اس کے اثرات دکھائی دیتے ہیں۔ان طالب علموں کا کہنا ہے کہ ان اعداد و شمار کا حساب&nbsp; کرنا مشکل کام ہے لیکن اگر وہ یہ کر پائیں تو ہر کوئی جیت سکتا ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Mon, 28 Nov 2011 00:05:25 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">134567303</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[مائیک او سلیون /نیلوفرمغل]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-11-28T00:05:25Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[امریکہ میں شب و روز ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/US_Budget_Students_FOR_WEB-fixed-x264-YoutubeHQwTag_640x480_2169645545.jpg" length="125838" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/US_Budget_Students_FOR_WEB-fixed-x264-YoutubeHQwTag_640x480_2169645545.jpg" medium="image" isDefault="true" height="480" width="640" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/voa_osullivan_budget_game_students_230_eng_21nov11.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>’یومِ تشکر‘ اہم تعطیل، روایتی کھانا ’روسٹ ٹرکی‘</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/life-in-america/Thanksgiving_23Nov11-134434778.html</link>
				<description> اگلے روز کو ’بلیک فرائی ڈے ‘کہا جاتا ہے۔  اس  سال بلیک فرائی ڈے 25نومبر کو ہے۔اور یہ دن  دراصل ابتدا ہےروایتی طو ر پر کرسمس یا نئے سال کی تعطیلات کے موقع پر دئے جا نے والے تحفے تحائف کی شاپنگ کے آغاز کی</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکہ میں Thanksgiving ایک اہم تعطیل ہےجس کا روایتی کھانا &rsquo;روسٹ ٹرکی&lsquo; ہے۔ نیشنل ٹرکی فیڈریشن کا کہنا ہے کہ اس روز چار کروڑ 50لاکھ &nbsp;ٹرکی کھا لئے جاتے ہیں۔</p>
<p>سنہ 1863کا ذ کر ہے۔ امریکی صدر ابراہم لنکن نے ایک حکم جاری کرتے ہوئے نومبر کی آخری &nbsp;جمعرات کو &rsquo;یوم تشکر&lsquo; قرار دیا۔ آجکل &nbsp;کی &rsquo;تھینکس گونگ&lsquo; تعطیل کے تانے بانے1621ء سے جا ملتے ہیں، جب میسا چوسٹس کا لونی کے یورپ سے آنے والے آبادکاروں نے ایک &nbsp;مقامی امریکی قبیلے کے ساتھ ملکر ایک بڑی دعوت کا اہتمام کیا، جنہوں نےاُن آباد کاروں کو کاشتکاری اور شکار کرنے کا ڈھنگ سکھایا۔</p>
<p>یوم تشکر&nbsp; یا پھر&rsquo;تھینکس گونگ&lsquo; کے بعد اگلے روز کو Black Fridayکہا جاتا ہے۔ &nbsp;اس &nbsp;سال بلیک فرائی ڈے 25نومبر کو ہے۔اور یہ دن ابتدا ہے دراصل روایتی طو ر پر کرسمس یا نئے سال کی تعطیلات کے موقع پر دئے جا نے والے تحفے تحائف کی شاپنگ کے آغاز کی ۔</p>
<p>اب کے بار دوکاندار اور تاجر امید کر رہے ہیں کہ صارف &nbsp;زیادہ خرچ کریں گے۔</p>
<p>اس بار بھی مخصوص کارڈ روایتی مناظر کے ساتھ دیکھے جا سکتے&nbsp; ہیں ، برف سے ڈھکے ہو ئے کھیت کھلیان ، فارم ہاوٴسز کی سردی کی شدت سے دھندلائی ہوئی کھڑکیاں ، یا پھر برف پہ چلنے والی سلیجیں جن کو ایک ہی گھوڑا&nbsp; کھینچتا ہے۔</p>
<p>ہر سال ٹیلی ویژن پر یہاں 1946ء میں بننےوالی سارے لوگوں کی من چاہی کلا سیک فلمIt's a Wonderful Lifeدکھائی جاتی ہے اور ہرسال کی طرح لو گ لطف اندوز ہوتے ہیں، پھر اپنے بچوں کو ایک کلاسیک نظم سنائی جاتی ہے، A visit from St. Nicholasاس کے خالق ہیں کلیمنٹ مور۔</p>
<p>بات ہے تو افسوس کی، جیسے پروین شاکر کا وہ معروف مصرعہ کہ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی، &nbsp;کہ چیزوں اور تحفو ں سےبھری مارکیٹوں میں خریدنے والوں کی بے حد کمی ہے،پھر ایک اور بھی مسئلہ ہوا کہ وہ بڑے بڑے سٹور جو یہ پرانی مگر من چاہی چیزیں سٹوروں میں سجاتے تھے وہ اب موجود ہی نہیں رہے اور اب مالز پر ان کی جگہ چین سٹوروں نے لے لی ہے۔</p>
<p>پھر دکانداروں کو اکانومی کی صورتحال پر بھی تشویش ہےاور وہ تھینکس گونگ ویک اینڈ کا انتظا ر کیے بغیر ابھی سے دکانوں اورسٹوروں کو سجا بنا رہے ہیں۔</p>
<p>&nbsp;امریکہ بھر میں متعدد شہروں میں سجے سٹور گاہکوں کے منتظر ہیں۔ نیشنل ریٹیل فیڈریشن کی پیش گوئی ہے کہ اس بار چھٹیوں میں صارفین 8.2فی صد &nbsp;زیادہ خرچ کریں گے۔</p>
<p>لیکن آج بھی روایتی کارڈ اور پوسٹر ہوائی اڈوں اور بڑے شاپنگ سنٹرز پر آویزاں کر دیے گئے ہیں اور مالز سج گئے ہیں ، لیکن ایک اور بھی مسئلے کا سامنا ہے کہ زیادہ سے زیادہ&nbsp; لوگ اب گھر بیٹھے انٹر نیٹ پر من چاہے تحفوں کا آرڈر کر دیتے ہیں اور یوں مالز پر جانے اور دکانوں پہ موجود لوگوں کی لمبی قظاروں میں کھڑے ہو کر انتظار سے بھی بچ جاتے ہیں۔</p>
<p>آڈیو رپورٹ سنیئے:</p>
<p>
<object classid="clsid:02bf25d5-8c17-4b23-bc80-d3488abddc6b" width="184" height="34" codebase="http://www.apple.com/qtactivex/qtplugin.cab#version=6,0,2,0">
<param name="src" value="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+0100+1663137++1612166+Thanksgiving++Black+Friday-Landphair-BG.Mp3" /><embed type="video/quicktime" width="184" height="34" src="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+0100+1663137++1612166+Thanksgiving++Black+Friday-Landphair-BG.Mp3"></embed>
</object>
</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 24 Nov 2011 02:03:58 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">134434778</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[ٹیڈ لینڈ فیئر/ بہجت گیلانی]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-11-24T02:03:58Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[امریکہ میں شب و روز ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/RTR2UDHG_US_Obama_Turkey_23NOV11.jpg" length="65748" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/RTR2UDHG_US_Obama_Turkey_23NOV11.jpg" medium="image" isDefault="true" height="311" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/2301239.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>چھٹیوں کے دن، شاپنگ کا سیزن </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/Holidays_Shopping_20Nov11-134215718.html</link>
				<description>اقتصادی ماہرین ہمیشہ اشیا کی خریدو فروخت  کا بغور جائزہ لیتے ہیں، کیونکہ امریکی معیشت کی 70  فی صد سرگرمیاں ، صارفین کی طلب سے جڑی  ہوتی ہیں، اور دیکھا گیا ہے کہ موسمِ سرما کی چھٹیوں کے دوران  خریداری اپنے عروج پر ہوتی ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکہ میں نومبر اور دسمبر کے مہینوں میں عام تعطیلات کی وجہ شاپنگ مالوں میں خریداروں کا ہجوم ہوتا ہے۔ اِسی وجہ سے ،اِسے شاپنگ سیزن بھی کہتے ہیں۔</p>
<p>&nbsp;دنکاندار اور تاجروں کے لیے یہ نفع و نقصان کے دن ہوتے ہیں۔ تاہم، کچھ تاجروں کو تشویش ہے کہ امریکہ کی کمزور معیشت کی وجہ سال کے اِن اہم دنوں میں اُنھیں نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔اِس کےباوجود، کچھ سٹور &nbsp;ایسے ہیں جو گاہکوں کو متاثر کرنے کے لیے طرح طرح کے ڈسکاونٹس اور آفرز &nbsp;دے رہے ہیں۔</p>
<p>امریکہ میں سٹوروں کے مالکان بہت بے چینی سے &nbsp;&nbsp;خریداروں کے انتظار میں ہیں، جو عام طور پر سال کے آخر ی دو مہینوں میں کپڑے ، الیکٹرانکس ، کھلونے اور ہر وہ چیز خریدتے ہیں جسے وہ پچیس دسمبر یا کرسمس کے روز تحفے کے طور پر دیتے ہیں۔روایتی طور پر نومبر کی چوتھی جمعرات سے مارکیٹوں میں خریداروں کا ہجوم دیکھنے میں آتا ہے، &nbsp;جب تھینکس گیونگ (یومِ تشکر)&nbsp; تہوار کی چھٹیاں ہوتی ہیں۔</p>
<p>کے صدر سٹیو کرنزر لاس انجلس میں مارکیٹ تجزیہ کار ہیں۔PriceGrabber.com</p>
<p>ان کا کہنا ہے کہ تھینکس گیونگ کی تعطیل جمعرات کے روز ہوتی&nbsp; ہے، اِس کے دوسرے دن کو &rsquo;بلیک فرائے ڈے&lsquo; &nbsp;کہا جاتا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب تاجر چھٹیوں کے موسم میں منافع کماتے ہیں۔ &nbsp;&nbsp;<br /> تجارت کی اس ڈور میں اب ایسے سٹوروں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو &rsquo;بلیک فرائے ڈے &lsquo;کو صبح سویرے کھل جاتے ہیں۔ ایسے دنکاندار بھی ہیں جو اس خصوصی موقع پر&nbsp; معمول سے ہٹ کر ڈسکاونٹ آفر کرتے ہیں یا شپنگ اور سیلز ٹیکس پر چھوٹ دیتے ہیں ۔</p>
<p>ایلن ڈیوس &rsquo;نیشسنل ریٹیل فیڈریشن&lsquo; سے منسلک ہیں۔ &nbsp;وہ کہتی ہیں کہ، &rsquo;اِس سال تہوار کے موسم میں لوگ جوش خروش کے اظہار میں محتاط ہیں۔ہم توقع کرتے ہیں کہ فروخت &nbsp;دو اعشاریہ آٹھ فی صد تک بڑھ جائیں گی جو دس سال میں ایک بڑا ہدف ہو گا مگر شرح نمو زیادہ نہیں ہوگی&lsquo;۔</p>
<p>&nbsp;اب جبکہ &nbsp;پرچون فروش فروخت میں کچھ &nbsp;اضافے کی توقع کی پیش گوئی کررہے ہیں &nbsp;مستقبل کی تجارت کے بارے میں&nbsp; ملے جلے اشارے مل رہے ہیں۔</p>
<p>امریکہ کی اہم بندر گاہوں پر شپنگ کنٹینر &nbsp;کی آمد میں کمی سے ظاہر ہوتا ہے کہ درآمدات سست روی کا شکار ہیں۔وہ اقتصادی ماہرین جو ڈیزل کی ایندھن کے طور پر فروخت کا ریکارڈ رکھتے ہیں، کہتے ہیں کہ ٹرکوں کےذریعے سامان کی ڈیلیوری میں کچھ اضافہ ہوا ہے۔تاہم، صورت حال جیسی بھی ہوریاست منی سوٹا میں امریکہ کے سب سے بڑے شاپنگ &nbsp;مال &rsquo;مال آف امریکہ&lsquo; &nbsp;کے&nbsp; نائب صدر ڈین جیسپر&nbsp; یہاں اچھے خاصے ہجوم کی توقع کر رہے ہیں۔سکائپ پر &rsquo;وائس آف امریکہ&lsquo; سے ایک انٹرویومیں وہ کہتے ہیں کہ یہ سال بہت اچھا گزرا اور ہم توقع کرتے ہیں کہ یہ رجحان جاری رہے گا ۔ میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ کس رفتار سے۔ مگر تہوار کا یہ موسم اچھا گذرنا چاہیئے۔</p>
<p>بلوم برگ ، منی سوٹا کے&rsquo; مال آف آمریکہ&lsquo; میں 1200 کے قریب لوگ ملازمت کرتے ہیں اور ہر سال لاکھوں خریدار یہاں آتے ہیں۔اقتصادی ماہرین ہمیشہ اشیا کی خریدو فروخت&nbsp; کا بغور جائزہ لیتے ہیں، کیونکہ امریکی معیشت کی 70&nbsp; فی صد سرگرمیاں ، صارفین کی طلب سے جڑی &nbsp;ہوتی ہیں، اور دیکھا گیا ہے کہ موسمِ سرما کی چھٹیوں کے دوران &nbsp;خریداری اپنے عروج پر ہوتی ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Mon, 21 Nov 2011 00:56:40 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">134215718</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[جم رینڈل / نیلوفر مغل]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-11-21T00:56:40Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/disney_pixar_480x300_AP.jpg" length="194455" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/disney_pixar_480x300_AP.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/APUS+Black+Businesses.230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>امریکی ٹیلی ویژن کےمعروف تبصرہ نگار، اینڈی رونی انتقال کرگئے</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/life-in-america/AndyRooney_Obit_05Nov11-133302033.html</link>
				<description>اُنھوں نے CBSنیوز میگزین شو 60 Minutes پر اپنے تبصروں کے باعث  شہرت پائی۔ ہر شو  اُن کے الفاظ پر ختم ہوتا تھا، جِس میں وہ اپنے خیال اور رائے کا اظہار کیا کرتے تھے، چاہے قصہ  عراق جنگ کا ہو یا اُن کے ڈیسک کی دراز کا</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>اُنھیں امریکیوں کی کئی نسلیں جانتی تھیں۔ وہ ایک عمر رسیدہ شخص تھے، جِن کے مزاج میں شوخی&nbsp; پائی جاتی تھی اور وہ آخری ایام تک اپنی ذاتی &nbsp;رائے پر ڈٹے رہے۔</p>
<p>اینڈی رونی ایک طویل عرصے تک ٹیلی ویژن کے تبصرہ نگار رہے۔ &nbsp;&nbsp;&nbsp;اُن کی سرجری میں پیچیدگی کے باعث، جمعے کی رات گئے اُن کا &nbsp;نیویارک سٹی اسپتال میں انتقال &nbsp;ہوگیا۔ &nbsp;وہ 92برس &nbsp;کے تھے۔</p>
<p>ٹیلی ویژن &nbsp;تبصرہ &nbsp;نگاری پرتمغے جیتنے والے اِس &nbsp;شخص نے CBSنیوز میگزین شو 60 Minutes پر اپنے تبصروں کے باعث &nbsp;شہرت پائی۔ ہر شو &nbsp;اُن کے الفاظ پر ختم ہوتا تھا، جِس میں وہ اپنے خیال اور رائے کا اظہار کیاکرتے تھے، چاہے قصہ &nbsp;عراق جنگ کا ہو یا اُن کے ڈیسک کی دراز کا۔</p>
<p>اکثرو بیشتر &nbsp;اُنھیں &nbsp;زندگی کے اُن حقائق کے بارے میں شکوہ رہتا تھا، جِن کا،&nbsp; اُن کےبقول ذکر نہیں ہوپاتا، اور یہی وہ انداز تھا جو اُنھیں ٹیلی ویژن کے ناظرین کے قریب &nbsp;لاتا تھا، تاہم &nbsp;یہ کسی تنازع کا باعث بھی بنتا تھا۔</p>
<p>&rsquo;دِی ایڈوکیٹ&lsquo; نامی &nbsp;ہم جنس پرست &nbsp;میگزین نےجب اُن کے حوالے سے نسل پرستی پر مبنی بیان شائع کیا، اینڈی رونی کو 1990ء میں تین ماہ کے لیے سی بی ایس سے معطل کیا گیا۔ میگزین کا یہ انٹرویو رونی کے بیانات کا&nbsp; جواب تھا، جو &nbsp;رائے اُنھوں نے سی بی ایس نیوز ٹیلی ویژن &nbsp;شو پر دی تھی، &nbsp;&nbsp;جِس میں اُنھوں نے ہم جنس پرستی کو موت &nbsp;قرار دیا تھا۔ رونی نے اِس طرح کےکسی تبصرے کی تردید کی تھی۔</p>
<p><br /> سی بی ایس نے &nbsp;پہلی بار 1949ء میں رونی کی خدمات حاصل کیں، جب اُنھیں نیٹ ورک کے اہم ریڈیو شو کے لیے کام کرنے کو کہا گیا۔ 1957ء میں رونی نے سی بی ایس ٹیلی ویژن نیوز کے لیے لکھنا شروع کیا اور 1968ء میں 60 Minutesپروگرام میں شامل ہوئےاور بہت ہی جلد اُن کے تبصرے شو کے ایک باقاعدہ&nbsp; فیچر میں شامل ہونے لگے۔</p>
<p>اُنھوں نے اکتوبر میں شو کو باقاعدہ الوداع کہا۔</p>
<p>رونی 16کتابوں کے مصف تھے،جِن میں Common Nonsense, Out of My Mindاور Andy Rooney: 60 Years of Wisdom and Witشامل ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sat, 5 Nov 2011 22:07:54 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">133302033</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-11-05T22:07:54Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[امریکہ میں شب و روز ]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_us_cbs_andy_rooney_300_09Aug09-resized.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>امریکہ میں مسلمان: عید کی خوشیاں </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/life-in-america/Eid_Celebration_31Aug11-128847858.html</link>
				<description>امریکہ کے مختلف شہروں کی مساجد میں نمازِعید کے بڑے بڑے اجتماعات ہوئے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکہ میں زیادہ تر مسلمانوں نے منگل کو عید الفطر منائی۔اسلامی روایات کے مطابق، دِن کا آغاز نمازِ عید ادا کرنے سے ہوا، بچوں اور بڑوں نےروایتی عمدہ کپڑے پہنے، اچھے اچھے کھانے پکائے، دعوتیں منعقد ہوئیں اورملنے کے لیے خاندان کے افراد، دوست &nbsp;اور احباب&nbsp; ایک دوسرے کے گھر &nbsp;گئے۔</p>
<p>باقی ممالک کی طرح، عید کے موقع پر امریکہ &nbsp;کے مختلف شہروں کی مساجد میں بھی &nbsp;نمازِ عید کے بڑے بڑے اجتماعات منعقد ہوئے، اور میلے کا سا سماں تھا۔</p>
<p>تفصیل سنیئے آڈیو رپورٹ میں:</p>
<p>
<object classid="clsid:02bf25d5-8c17-4b23-bc80-d3488abddc6b" width="179" height="32" codebase="http://www.apple.com/qtactivex/qtplugin.cab#version=6,0,2,0">
<param name="src" value="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+1400+Muslims+in+America---+----CELEBRATING+EID.Mp3" /><embed type="video/quicktime" width="179" height="32" src="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+1400+Muslims+in+America---+----CELEBRATING+EID.Mp3"></embed>
</object>
</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 31 Aug 2011 23:37:13 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">128847858</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[خالد حمید]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-08-31T23:37:13Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[امریکہ میں شب و روز ]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Reuters_Pakistan_Karachi_Eid_Bangles_230_25aug11.jpg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																																																		</item>
									
													
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>امریکی ریاست میری لینڈ میں پنجابی شعری مجموعے کی تقریب رونمائی</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/usa/Punjabi-Poetry-20Jul11-125893598.html</link>
				<description>حال ہی میں، ریاست میری لینڈ کے شہر بالٹی مور میں، ثاقب اکرم کی پنجابی شاعری کی کتاب، رات چنہاں  تے چاننی، کی تقریب رونمائی کی مجلس منعقد کی گئی</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکہ میں تارکین&nbsp; وطن اپنی ثقافت کے ساتھ سا تھ مختلف زبانیں بھی لے کر آتے ہیں۔&nbsp; جہاں امریکہ میں ہسپانوی، فرانسیسی، اردو اور ہندی جیسی&nbsp; سینکڑوں زبانیں بولی جاتی ہیں، وہیں مختلف ملکوں کی علاقائی زبانیں بھی یہاں پھل پھول رہی ہیں۔ انہی&nbsp; میں ایک زبان پنجابی بھی ہے۔ امریکی ریاست میری لینڈ میں&nbsp; ثاقب اکرم کی پنجابی شاعری کی ایک کتاب کی تقریب رونمائی ہوئی ۔&nbsp; وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے پنجابی&nbsp; زبان&nbsp; بولنے اور سمجھنے والوں کوامریکہ میں&nbsp; اکٹھا کرنے کی کوشش کی&nbsp; تاکہ ان کا رشتہ ان کی زبان سے جڑا رہے۔</p>
<p>ان کا کہناتھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اپنی زبان کے ساتھ خواہ وہ پنجابی ہو ، یا پشتو&nbsp; یا سندھی ، کوئی بھی علاقائی زبان ہو ، ہمیں اس کے ساتھ محبت کرنی چاہیے۔ وہ ہمارے کلچر کا حصہ ہے ہمارے اظہار کا حصہ ہے۔</p>
<p>اسی اظہار&nbsp; کو انھوں نے اپنی کتاب ، رات چنہاں&nbsp; تے چاننی&lsquo;&nbsp; کی صورت&nbsp;&nbsp; لفظوں میں ڈھالا ہے جس کی تقریب رونمائی یہاں ریاست میری لینڈ کے شہر بالٹی مور میں منعقد کی گئی۔ تقریب کی صدارت پاکستانی سٹیج&nbsp; کے&nbsp; معروف ہدایتکار اور اداکار سہیل احمد نے کی ۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ثاقب&nbsp; نے شاعری میں جو لفظ چنے ہیں ، جو خیال ہیں&nbsp; ، ان میں،ایک ایک لفظ میں اپنے ملک اور دھرتی سے محبت&nbsp; ہے جو یادیں ہیں اپنے ملک کی وہ ظاہر ہوتی ہیں۔</p>
<p>تقریب میں شریک&nbsp; دیگر مقامی شعرا کا کہنا تھا کہ بیرون ملک رہنے والوں کو&nbsp; اردو سمیت پاکستان کی دیگر&nbsp;&nbsp; علاقائی زبانوں کی&nbsp; بھی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے&nbsp; کیونکہ&nbsp;&nbsp; اردو کے برعکس&nbsp; علاقائی زبانوں میں مجموعہ کلام چھپوانے کا&nbsp; کام بہت ہی کم شاعروں&nbsp; کے حصے میں آیا ہے&nbsp; ۔</p>
<p><iframe src="http://www.youtube.com/embed/s29vW3fgOxo" width="480" height="390"></iframe></p>
<p>&nbsp;عارف وقار پاکستانی ٹیلی ویژن کا ایک جانا پہچانا نام ہے&nbsp; ، ان کے مطابق&nbsp; آنے والے وقت میں علاقائی زبانیں ، صرف بیرون ملک ہی نہیں&nbsp; بلکہ&nbsp;&nbsp; ان علاقوں میں بھی جہاں یہ بولی&nbsp; جاتی ہیں ، صرف کلچر تک&nbsp;&nbsp; محدود&nbsp; ہو جائیں گی&nbsp; ۔</p>
<p>ان کا کہناتھا کہ انگریزی&nbsp; زبان جس تیزی سے پھیل رہی ہے اس سے دنیا میں اور 25/30 سال تک وہ پوری دنیا میں چھا جائے گی ، اور علاقائی&nbsp; زبانیں صرف کلچر کی حد تک رہ جائیں گی ۔ جس میں ہم شاعری کریں گے لیکن یہ کسی اعلیٰ تر&nbsp; مقصد ، تعلیمی مقاصد یا قومی اور انٹرنیشنل کمیونیکشن کے لیے استعمال نہیں ہوں گی۔</p>
<p>لیکن اس کتاب کی تعارفی تقریب میں شرکت کرنے والوں کا کہنا تھا کہ&nbsp;&nbsp; ان کی آنے والی نسل کو مادری زبان سے جوڑے رکھنے کی&nbsp; کوششیں ضرور رنگ لائیں گی۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 21 Jul 2011 20:27:06 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">125893598</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[ثاقب الاسلام]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-07-21T20:27:06Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[ امریکہ]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Punjabi-Poetry-300X300.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>بنیادی طور پر زراعت امریکہ کی ایک بڑی صنعت ہے</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/life-in-america/lia_us_agriculture_12july11-125454183.html</link>
				<description>سنہ 2007 میں امریکہ میں 22لاکھ فارمز تھے اور اُس کے 92کروڑ 20لاکھ ایکڑ رقبے پر فصلیں کاشت ہوتی ہیں۔ اور، مکئی کے بعد سویابین امریکہ کی دوسری بڑی فصل ہے جو مکئی کی جگہ 70فی صد سے زیادہ رقبے پر کاشت کی جاتی ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکہ میں اگر آپ ورجینیا، میری لینڈ یا واشنگٹن ڈی سی تک محدود رہیں تو نہیں جان سکتے کہ امریکی اناج کہاں اُگاتے ہیں، پھل کہاں سے آتے ہیں، فصلیں کہاں پیدا ہوتی ہیں۔</p>
<p>مگر بنیادی طور پر زراعت امریکہ کی ایک بڑی صنعت ہے اور بیشتر ریاستوں میں فصلیں کاشت کی جاتی ہیں۔</p>
<p>سنہ 2007 میں امریکہ میں 22لاکھ فارمز تھے اور اُس کے 92کروڑ 20لاکھ ایکڑ رقبے پر فصلیں کاشت ہوتی ہیں۔ اور، مکئی کے بعد سویابین امریکہ کی دوسری بڑی فصل ہے جو مکئی کی جگہ 70فی صد سے زیادہ رقبے پر کاشت کی جاتی ہے۔</p>
<p>ہرسال تین کروڑ ہیکٹر کی پیداوار والی یہ فصل 3000سال پہلے چینی یہاں لے کر آئے تھے۔ مگر اِس کی پیداوار میں اضافہ اِس وجہ سے ہوا کہ سوال پیدا ہوگیا کہ مکئی کی فصل کے متبادل کیا کاشت کیا جائے اور یوں بیسویں صدی میں سویابین کی کاشت میں اضافہ ہوگیا۔</p>
<p>عام طور پر ہم یہ جانتے ہیں کہ سویابین سے تیل پیدا کیا جاتا ہے۔امریکہ میں ایک زمانے میں اِسے مکئی میں ملا کر مرغیوں کو کھلایا جاتا تھا تاکہ وہ تیزی سے پروان چڑھیں۔</p>
<p>&nbsp;لیکن، اب ثابت ہوچکا ہے کہ سویابین انسانی صحت کے لیے بھی مفید ہے اور یہاں امریکہ میں کئی صورتوں میں کھانے کی اشیا میں شامل کیا جاتا ہے۔</p>
<p>اب سائنس دانوں نے پتا لگایا ہے کہ سویابین سے بہت سے کام لیے جاسکتے ہیں۔پلاسٹک بنایا جا سکتا ہے، بایوڈیزل بنایا جاسکتا ہے، قالین، روشنائی، گوند، حتیٰ کہ، چھتیں بنانے کا مٹیریل بھی!</p>
<p>امریکہ میں یونائٹیڈ سویابین بورڈ کے مارٹی راس کہتے ہیں کہ 1930ء کے عشرے میں امریکہ میں کارسازی کی صنعت کے بانی ہینری فورڈ نے جان لیا تھا کہ سویابین سے کاروں کی ڈگی کے ڈھکن اور پلاسٹک سب بنایا جاسکتا ہے۔ اور پرڈیو یونیورسٹی کے اسکاٹ جیکسن بھی کہتے ہیں کہ تب سے محققین نے سویابین کی اشیا کی بھرمار کردی۔ عام رنگ بھرنے کے کریونز سے جیٹ جہاز کے ایندھن تک، سب کچھ۔</p>
<p>ذرہ سوچیئے۔ دنیا کی آبادی سنہ 2050 میں نو ارب سے بڑھ جائے گی۔ ماحولیات کی تبدیلی کا چیلنج تو درپیش ہے ہی، خوراک کے مسائل پر بھی توجہ کی ضرورت ہے۔ اِسی لیے، مکئی اور سویابین جیسی فصلوں پر تحقیق جاری ہے، تاکہ اِنہیں زیادہ سے زیادہ استعمال میں لایا جائے اور خوراک کی ضروریات بھی پوری کی جاسکیں۔</p>
<p>آڈیو رپورٹ سنیئے:</p>
<p>
<object classid="clsid:02bf25d5-8c17-4b23-bc80-d3488abddc6b" width="194" height="32" codebase="http://www.apple.com/qtactivex/qtplugin.cab#version=6,0,2,0">
<param name="src" value="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+0100++Life+in+America-7-313935+Soybean+Genome-07-12-11-MM.Mp3" /><embed type="video/quicktime" width="194" height="32" src="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+0100++Life+in+America-7-313935+Soybean+Genome-07-12-11-MM.Mp3">&nbsp;</embed>
</object>
</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 12 Jul 2011 23:27:36 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">125454183</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[مدثرہ منظر]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-07-12T23:27:36Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[امریکہ میں شب و روز ]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/voa_chinese_IT_soya_plant_12mar11_300.JPG" medium="image" isDefault="true" height="294" width="300" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>لائف اِن امریکہ: گُڈوِل پروگرام</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/life-in-america/us_goodwill_program_12june11-123716099.html</link>
				<description>گڈوِل  پروگرام ملازمتوں کے متلاشی  تارکینِ وطن کی مدد کرتا ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>یفےڈفرسو کا تعلق اتھیوپیا سےاور پرلین کا تعلق مڈگاسکر سے ہے، جوچھ ماہ قبل امریکہ آئیں، &nbsp;&nbsp;جب کہ ڈفرسو 30سال سے امریکہ میں ہیں اور اُنھیں اپنی معذوری کے سبب ملازمت حاصل کرنے میں دشواری ہوئی ہے۔</p>
<p>&nbsp;اِن دونوں نے&rsquo; گُڈوِل پروگرام&lsquo; کےتحت تین ہفتے کی تربیت حاصل کی ہے اور اُنھیں امیدہے کہ وہ ملازمت ضرور حاصل کرلیں گے۔</p>
<p>پرلین کا کہنا تھا کہ &rsquo;گڈوِل &lsquo; ہم جیسے ملازمتوں کے متلاشی لوگوں کی مدد کرتی ہے۔ اِس کے علاوہ تارکینِ وطن کی مدد کرتی ہے کہ یہاں امریکہ میں کس طرح سے ملازمت حاصل کی جاسکتی ہے۔ پرلین کے پاس کالج ڈگری ہے اور اُنھوں نے مڈگاسکر میں ایک امریکی ترقیاتی ادارے کےلیے کام کیا ہے۔</p>
<p>وہ چاہتے ہیں کہ یہاں بھی اُنھیں کسی ترقیاتی ادارے میں کام ملے، &nbsp;جب کہ یفےکو کئی برس سے ملازمت نہیں ملی ہے اور اب وہ بُک کیپیر بننا چاہتے ہیں۔ گڈول سینٹر میں روزگار حاصل کرنے کے لیے اُن کی کونسلنگ کی جاتی ہے، جس میں یہ بھی سکھایا جاتا ہے کہ وہ انٹرویو کیسے دیں اور اپنی مہارت کی کس طرح سے مارکیٹنگ کریں۔</p>
<p>اِس ٹریننگ سینٹر کی منیجر کا کہنا ہے کہ اُنھیں یہ بھی سکھایا جاتا ہے کہ ملازمت کےلیے وہ درخواست کس طرح سے لکھیں۔</p>
<p>اُن کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں درخواست لکھنے کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ یہاں پرملازم رکھنے والے یہی توقع کرتے ہیں کہ اِس شخص نے اب تک کیا حاصل کیا ہے، یعنی وہ اپنے بارے میں بڑھ چڑھ کربتائے، جب کہ دوسرے ملکوں میں اِس طریقے کو پسند نہیں کیا جاتا۔</p>
<p>تارکینِ وطن مختلف ثقافتوں کے بارے میں بھی سیکھتے ہیں کہ ملازمتوں کے لیے ہونے والے انٹرویوز میں غلط مطلب بھی لیا جاسکتا ہے جس سے اُنھیں ملازمت ملنے میں دشواری پیش آتی ہے۔</p>
<p>پرلین نے بتایا کہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ امریکہ میں ہاتھ باندھ کر بیٹھنے کا کچھ الگ مطلب لیا جاتا ہے۔ہمارے لیے اِس کا مطلب &nbsp;یہ ہے کہ آپ دوسرے کی بات کو بہت توجہ سے سن رہے ہیں۔ لیکن، یہاں &nbsp;اِس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ آپ سہمے ہوئے ہیں۔</p>
<p>اِسی طرح، &nbsp;اگر آپ کسی سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہ کریں تو اُس کا مطلب ایشیا کے مقابلے میں امریکہ میں کچھ اور لیا جاتا ہے، کیونکہ امریکہ میں لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ اُس کی عزت نہیں کر رہے ہیں اور دوسرے شخص سے بات کرنے کے آپ اہل نہیں ہیں۔</p>
<p>ڈفرسو نے کہا کہ اُنھوں نے یہ سیکھا کہ جو شخص آپ کا انٹرویو لے رہا ہو اُس سے اچھی طرح سے گفتگو کرنا کتنا ضروری ہے۔</p>
<p>پرلین کا کہنا تھا کہ ہمیں کپڑوں کے بھی واؤچر ملتے ہیں جو ہم گُڈوِل کی دکانوں &nbsp;سے لے سکتے ہیں۔ گُڈوِل کے دنیا بھر میں 2500اسٹورز ہیں جو زیادہ تر امریکہ اور کینیڈا میں ہیں۔</p>
<p>&nbsp;گُڈوِل انڈسٹریز کے سربراہ جِم گِبن کا کہنا تھا کہ اُن کے خیال میں گُڈوِل معذور لوگوں اور تارکینِ وطن کے لیے جو کچھ کرتی ہے وہ یہ ہے کہ&rsquo; آپ توقع رکھیں،&lsquo; تمام حقائق بتائیں اور پھر جس کی آپ مدد کر رہے ہیں اُسے آپ کامیابی کے گُر سکھائیں۔</p>
<p>پرلین کا کہنا تھا کہ امریکہ مواقع کی سرزمین ہے۔</p>
<p>آڈیو رپورٹ سنیئے:</p>
<p>
<object classid="clsid:02bf25d5-8c17-4b23-bc80-d3488abddc6b" width="218" height="31" codebase="http://www.apple.com/qtactivex/qtplugin.cab#version=6,0,2,0">
<param name="src" value="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+0100+991647+Life+in+America-+Goodwill-Immigrants-Block-Kazim.Mp3" /><embed type="video/quicktime" width="218" height="31" src="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+0100+991647+Life+in+America-+Goodwill-Immigrants-Block-Kazim.Mp3">&nbsp;</embed>
</object>
</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sun, 12 Jun 2011 19:37:22 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">123716099</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[صفیہ کاظم]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-06-12T19:37:22Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[امریکہ میں شب و روز ]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Goodwill_-_Immigrants01.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>زندگی کا عطیہ</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/life-in-america/donate_life_30may11-122835534.html</link>
				<description>کوئی بھی شخص اپنی عمر، نسل اور طبی پسِ منظر سے قطعِ نظر عطیہ دہندگان  میں شامل ہو سکتا ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>زندگی عطیہ کرنے سے مراد ایسا عطیہ ہےجو دوسروں کو زندگی دے سکے، یا اُن کی زندگی میں غیر معمولی کام آسکے۔</p>
<p>امریکہ میں جسمانی اعضا کے عطیے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ ملک میں ایک اندازے کے مطابق 110541افراد ایسے ہیں جنھیں انسان ہی کے اعضا یا &rsquo;ٹشوز&lsquo; &nbsp;کی ضرورت ہے۔ اِن ضرورتمندوں میں 1785بچے شامل ہیں۔</p>
<p>&nbsp;جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ انسان بعض ٹشوز، یہاں تک کہ بعض اعضا، &nbsp;اپنی زندگی میں ہی عطیہ کر سکتا ہے۔ خون عطیے کی سب سے عمومی قسم ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق، انسان اپنی زندگی میں ایک گردہ عطیہ کر سکتا ہے۔ ڈاکٹروں کے بقول، ایک صحت مند گردے کے ساتھ بھی انسان مکمل صحت مند زندگی گزار سکتا ہے۔ یہ بات تو آپ کے علم یا مشاہدے میں آئی ہوگی کہ لوگ اپنے پیاروں کی زندگی بچانے کے لیے اپنے ایک گردے کا عطیہ کر دیتے ہیں۔</p>
<p>اِس طرح ماہرین کے بقول، جگر بھی ایک ایسا حصہ ہے جو ٹشوز کی طرح نشو نما پانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لہٰذا، ماہرین ِ جگر کے ٹکڑوں کی پیوندکاری سے کسی بھی مریض کی جان بچانے کی کوشش کرتے ہیں، جب کہ عطیہ دہندہ کے جگر کے جِن حصوں سے ٹشوز لیے جاتے ہیں وہاں وہ خود بخود اُگ آتے ہیں۔</p>
<p>اِس کے علاوہ جِلد کے عضلات بھی کئی صورتوں میں عطیہ کیے جاسکتے ہیں۔ بعد از مرگ جن چیزوں کا عطیہ دیا جا سکتا ہے یا وہ دوسروں کے کام آسکتی ہیں، اُن میں دل اور آنکھیں وغیرہ شامل ہیں۔</p>
<p>امریکہ میں کئی ایک تنظیمیں &rsquo;ڈیٹا بینک&lsquo; رکھتی ہیں اور عطیہ دینے والوں اور عطیہ لینے والوں کے درمیان رابطے کا کام &nbsp;کرتی ہیں۔</p>
<p>امریکہ میں ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کے وقت فارم پر یہ سوال درج ہوتا ہے کہ، &rsquo;کیا آپ ڈونر بننا چاہتے ہیں؟ &lsquo; شہری کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ اُس خانے میں اپنی رضامندی ظاہر کرے یا انکار کردے۔ ڈرائیونگ لائسنس پر واضح طور پر یہ تحریر ہوتا ہےکہ ڈرائیور ایک ڈونر ہے یا نہیں۔</p>
<p>امریکہ میں &rsquo;ڈونیٹ لائف&lsquo; کےحوالے سے شعور بیدار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ادارے شہریوں کو فیکٹ شیٹس فراہم کرتے ہیں جِن میں بتایا گیا &nbsp;ہےکہ امریکہ میں تقریباً تمام مذاہب اعضا، آنکھیں اور ٹشوز کے عطیے کو انسانیت کے ساتھ محبت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ کوئی بھی شخص اپنی عمر، نسل اور طبی پسِ منظر سے قطعِ نظر عطیہ دہندگان&nbsp; میں شامل ہو سکتا ہے۔</p>
<p>بعض ذہنوں میں یہ مفروضہ ہو سکتا ہے کہ ڈونر ہونے کی صورت میں کسی حادثے کا شکار ہونے پر ڈاکٹر جان بچانے کی بجائے اعضا کے عطیے کے حصول پر توجہ دے سکتے ہیں۔ اِس مفروضے کی واضح الفاظ میں امریکہ میں تردید کی جاتی ہے اور متعدد معلوماتی کتابچوں اور ویب سائٹس پر&nbsp; یہ واضح انداز میں درج ہے کہ ڈاکٹر حضرات صرف اور صرف آپ کی جان بچانے کو مقدم سمجھتے ہیں۔</p>
<p>عطیہ محض اُسی صورت میں لیتے ہیں جب انسان کی روح&nbsp; قفس ِعنصری &nbsp;سے پرواز کر جاتی ہے۔ یعنی، طبی طور پر موت واقع ہوجاتی ہے۔</p>
<p>اگر آپ کا نام عطیہ حاصل کرنے والوں کی فہرست&nbsp; میں ہے تو آپ کی ضرورت کی شدت، انتظار کے عرصے اور طبی معلومات کی بنیاد پر ترجیح کا تعین ہوتا ہے، نا کہ دولت سے یا شہرت کی بنیاد پر۔ امریکہ میں عطیہ دینے والوں یا اُس کے خاندان کو عطیے کے عوض کسی طرح کی مالی مدد فراہم نہیں کی جاتی۔</p>
<p>&rsquo;ڈونیٹ لائف&lsquo; نامی ویب سائٹ کے مطابق سال 2010ء میں &rsquo;ٹرانسپلانٹیشن&lsquo; یعنی اعضا کی منتقلی کے 28663آپریشن کیے گئے۔ سال 2010ء میں 14502افراد نے اپنے اعضا عطیہ کیے۔</p>
<p>آڈیو رپورٹ سنیئے:</p>
<p>
<object classid="clsid:02bf25d5-8c17-4b23-bc80-d3488abddc6b" width="214" height="28" codebase="http://www.apple.com/qtactivex/qtplugin.cab#version=6,0,2,0">
<param name="src" value="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+1400+Life+in+America-Donate+Life-By+Asad+Hassan.Mp3" /><embed type="video/quicktime" width="214" height="28" src="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+1400+Life+in+America-Donate+Life-By+Asad+Hassan.Mp3"></embed>
</object>
</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Mon, 30 May 2011 20:54:22 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">122835534</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[اسد حسن]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-05-30T20:54:22Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[امریکہ میں شب و روز ]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/voa_pearson_Health_Paraplegic_Walks_300_eng_23may11.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>کاؤبوائے کی زندگی  دشواریوں، تنہائی اور خطرات سے بھری  ہوتی ہے </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/life-in-america/cowboy_us_history_29may11-122804234.html</link>
				<description>اُنھوں نے یہ گیت تب گنگنائے جب وہ اپنے مویشیوں کو چرانے کے لیے دوردراز جنگلوں میں لے جاتے تھے یا جب وہ رات کے وقت اپنی کوٹھری میں اکیلے ہوا کرتے تھے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکہ میں گلہ بانی کی باضابطہ صنعت کا آغاز 1870ء کی دہائی میں ہوا۔اِس کے ساتھ ہی ایک نئے ورکر کا تصور بھی اُبھرا جو مویشیوں کی دیکھ بھال پر مامور تھا۔ اِسے کاؤبوائے کا نام دیا گیا۔</p>
<p>کاؤ بوائز جو مویشیوں کی نگرانی کرتے کرتے جنگل پار کر جاتے تھے اکثر نوجوان ہوا کرتے تھے۔ اِس لیے، اُنھیں کاؤ بوائز کہا جانے لگا۔آج ہم امریکہ کی تاریخ میں کاؤبوائز کی زندگی پر روشنی ڈالیں گے۔</p>
<p>اب تک کاؤبوائز سے متعلق تقریباً ہر قسم کی فلم بنائی جا چکی ہے اور اکثر ٹیلی ویژن پر بھی کاؤ بوائز کی کہانیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ مگر کاؤبوائز کی اصل زندگی کو بہت کم ہی پیش کیا&nbsp; گیا ہے۔</p>
<p>کاؤ بوائز کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اُن کی زندگی بہت دشواریوں، تنہائی اور خطرات سے بھری &nbsp;ہوتی ہے۔ کاؤ بوائز نے اپنی کہانی گیتوں اور نظموٕ ں کی صورت میں بھی بیان کی ہے۔ اُن میں سینکڑوں افراد ایسے ہیں جِن کے نام کسی کو بھی معلوم نہیں۔</p>
<p>اُنھوں نے یہ گیت تب گنگنائے جب وہ اپنے مویشیوں کو چرانے کے لیے دوردراز جنگلوں میں لے جاتے تھے یا جب وہ رات کے وقت اپنی کوٹھری میں اکیلے ہوا کرتے تھے۔</p>
<p>وہ عموماً ایسی چیزوں کے متعلق گیت گاتے تھے جِن کے وہ قریب ہوا کرتے تھے۔ مثال کے طور پر گھوڑے، گائے اور پھر خطرات کے درمیان میں اکثر اُنھیں اپنی موت کا خدشہ بھی ہوا کرتا تھا۔</p>
<p>کہا جاتا ہے کہ مویشی منڈی جہاں مویشی بیچے اور خریدے جاتے تھے وہاں کے لمبے راستے کو طے کرتے وقت وہ یہ گیت&nbsp; گایا کرتے۔</p>
<p>اِس گیت میں بتایا گیا ہے کہ کاؤبوائے اُس بچھڑے کو لے جاتے وقت افسوس کا اظہار کر رہا ہے جو اپنے ریوڑ سے الگ ہو رہا ہے کیونکہ اُسے جلد ہی ذبح کر دیا جائے گا۔کاؤ بوائے اُن مویشیوں کو دھکیلتے ہوئے یہ گیت گا رہا &nbsp;ہے۔</p>
<p>ایک گھوڑا دِن رات کاؤ بوائے کے ساتھ رہتا ہے۔کاؤ بوائے کو اپنے گھوڑے پر فخر ہے ،اور، &nbsp;اِنہی جذبات کا اظہار اِس گیت میں کیا گیا ہے۔</p>
<p>آڈیو رپورٹ سنیئے:</p>
<p>
<object classid="clsid:02bf25d5-8c17-4b23-bc80-d3488abddc6b" width="210" height="30" codebase="http://www.apple.com/qtactivex/qtplugin.cab#version=6,0,2,0">
<param name="src" value="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+0100+Life+in+America-Cowboys+Songs-NM+05-29.Mp3" /><embed type="video/quicktime" width="210" height="30" src="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+0100+Life+in+America-Cowboys+Songs-NM+05-29.Mp3"></embed>
</object>
</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sun, 29 May 2011 22:15:54 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">122804234</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[نیلوفرمغل]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-05-29T22:15:54Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[امریکہ میں شب و روز ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Cowboys_480x300_photos.jpg" length="130727" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Cowboys_480x300_photos.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/cowboys.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>لائف اِن امریکہ: مئی، گریجویشن تقریبات کا مہینہ </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/life-in-america/may_graduation_24may11-122537489.html</link>
				<description>اکثر کالج طلبا کو اسکالرشپ دیتے ہیں یا کم شرحِ سود قرضوں کی پیش کش کرتے ہیں</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکہ میں مئی کا مہینہ گریجویشن تقریبات کا مہینہ ہے، &nbsp;جسے آپ تقریبِ تقسیمِ اسناد بھی کہہ سکتے ہیں۔</p>
<p>ہائی اسکول سے کالج جانے والے یا کالج میں چار سال مکمل کرنے والے طلبا کو اُن کے ادارے ایک شانداد تقریب میں اسناد دیتے ہیں اور ساتھ ہی ایم&nbsp; اے یا پی ایچ ڈی کرنے والے طلبا کی اسناد بھی تقسیم کی جاتی ہیں۔ لیکن اس سے کچھ عرصہ پہلے ہی طلبہ آئندہ کالج میں داخلے کی درخواستیں بھی بھیجتے ہیں۔</p>
<p>&nbsp;خاص طور پر ہائی اسکول کے 12برس مکمل کرنے والے طلبا پہلی مرتبہ کالج کا رُخ کرتے ہیں اور اُن کے سامنے بیشمار یونیوسٹی، کالج، دنیا کا ہر مضمون پڑھانے کے مواقع&nbsp; لیےموجود ہوتے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ ہر طالب علم اپنی پسند کی یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کرپائے یا ہر&nbsp; یونیورسٹی قابل ترین طلبا کو اپنے ہاں داخلے پر آمادہ کرسکے۔</p>
<p>لیکن، &nbsp;جہاں طلبا اچھے سے اچھے کالج میں داخلے کی کوشش کرتے ہیں وہیں کالج ذہین و فطین طلبا کو اپنے ہاں متوجہ کرنے کے لیے یونیورسٹیوں کو پُرکشش بنانے میں کوشاں ہیں۔ چناچہ، کچھ تو ایسی اعلیٰ یونیورسٹیاں ہیں جو طلبا کو داخلہ دینے سے پہلے خوب کڑا میرٹ رکھتی ہیں اور کچھ یونیورسٹیاں مقابلے کی اِس دوڑ میں اسٹار ایتھلیٹس اور ذہین طلبا اور امراء&nbsp; کے بچوں یا اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے طلبا کو اپنے ہاں داخلے کے لیے متوجہ کرنے کی سرتوڑ کوشش کرتی ہیں۔</p>
<p>اکثر کالج طلبا کو اسکالرشپ دیتے ہیں یا کم شرحِ سود قرضوں کی پیش کش کرتے ہیں، کیونکہ کالج کی فیس طلبا اور اُن کے والدین دونوں کے لیے یکساں پریشانی کاباعث ہے۔ کیونکہ، ایک عام سطح کے کالج میں ایک طالبِ علم کم سے کم دس ہزار ڈالر سالانہ فیس ادا کرتا ہے۔</p>
<p>وظائف کے ساتھ ساتھ اب یونیورسٹیاں طلبا کو ہاسٹل میں، &nbsp;جسے یہاں ڈورم کہا جاتا ہے، &nbsp;زیادہ سے زیادہ سہولتیں دینے کی پیش کش کررہے ہیں۔</p>
<p>مثال کے طور پر بوسٹن یونیورسٹی نے&nbsp; طلبا کے لیے ایک نئی طرز کا سوئمنگ پول بنایا ہے جس میں &rsquo;وَیوِ میشن&lsquo;&nbsp; لگائی گئی ہے اور طلبا&nbsp; اِس میں سرفنگ کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ ہیوسٹن یونیورسٹی میں ایک ایسی دیوار کی پیش کش کی گئی ہے جس میں لگے پتھروں پر چڑھ کر کوہ پیمائی کا شوق پورا کیا جاسکتا ہے۔ نارتھ کیرولینا میں ڈیوڈسن کالج نے طلبا کو کپڑوں کی مفت دھلائی کی پیش کش کی ہے۔ لانڈری مفت!۔ مشی گن &nbsp;ٹیک یونیورسٹی کے طلبا یونیورسٹی کی ملکیت ایک تفریحی مقام پر مفت اسکیئنگ کر سکتے ہیں، جب کہ بیشمار کیمپس مفت آئی پاڈ ، میوزک پلیئرز، کیبل ٹیلی ویژن سروس اور اِسی طرح کی دیگر سہولتیں مہیا کر رہے ہیں اور ڈورم&nbsp; کے کمروں میں کمپیوٹر کی سہولیت تو اب عام دی جاتی ہے۔</p>
<p>مگر جیسا کہ ہم نے ذکر کیا کہ کالج کی فیس اتنی زیادہ ہے کہ طلبا اور اُن کے والدین کے لیے یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی کار ڈیلر یہ کہے کہ کار خریدنے پر ہم آپ کو کافی کا کپ &nbsp;رکھنے کا اسٹینڈ مفت میں دے دیں گے۔ اور، &nbsp;وہ امریکی جو بہت پہلے کالجوں سے فارغ التحصیل ہیں وہ اب بھی یہ کہتے ہیں کہ ایک زمانہ تھا جب وہ صرف ایک ایسے ہال کی وجہ سے ایسے کالج کا انتخاب کر لیا کرتے تھے کہ وہاں پیزا کھانے کی جگہ اچھی &nbsp;ہے۔</p>
<p>آڈیو رپورٹ سنیئے:</p>
<p>
<object classid="clsid:02bf25d5-8c17-4b23-bc80-d3488abddc6b" width="222" height="34" codebase="http://www.apple.com/qtactivex/qtplugin.cab#version=6,0,2,0">
<param name="src" value="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+1400+Life+in+America-+944073+College+Perks-05-24-11-MM.Mp3" /><embed type="video/quicktime" width="222" height="34" src="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+1400+Life+in+America-+944073+College+Perks-05-24-11-MM.Mp3">&nbsp;</embed>
</object>
</p>
<p>&nbsp;</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 24 May 2011 22:44:28 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">122537489</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[مدثرہ منظر]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-05-24T22:44:28Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[امریکہ میں شب و روز ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/dream_act_480x300_ap.jpg" length="179789" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/dream_act_480x300_ap.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Asian_Student_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>معمر کہلانے کے لیے 85یا اُس سے بڑی عمر کا ہونا ضروری</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/life-in-america/life_in_america_oldage_03may11-121194419.html</link>
				<description>ماہرین کہتے ہیں کہ سنہ 2050ء میں 65یا اُس سے زیادہ برس کے امریکی گھر بیٹھے پینشن پر گزارا نہیں کر رہے ہوں گے بلکہ گھر سے باہر ملازمتیں کررہے ہوں گے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>&rsquo;آدمی بلبلہ ہے پانی کا</p>
<p>اور پانی کی بہتی سطح پر</p>
<p>وقت کی موج پر سدا بہتا</p>
<p>آدمی بلبلہ ہے پانی کا&lsquo;</p>
<p>آپ اِس بات سے اتفاق کریں گے کہ انسان کی سب سے بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ طویل عمر پائے۔ اور، دعا&nbsp; بھی یہی دی جاتی ہے کہ &rsquo;تم جیو ہزار برس اور ہر برس &nbsp;کے دِن ہوں پچاس ہزار&lsquo;۔</p>
<p>&nbsp;دعا اپنی جگہ بہت ہی محبت بھری ہے مگر یہاں امریکہ میں لمبی عمر پانے والوں پر جو تحقیق ہو رہی ہے اُس میں کچھ تشویش بھی شامل ہے۔</p>
<p>امریکہ میں سنسس بیورو کے تجزیہ کار پیش گوئی کر رہے ہیں کہ آج جو لوگ 25برس کے ہیں سنہ 2050ء میں 65برس پر دستک دے رہے ہوں گے۔ اور اگر پیش گوئی درست ثابت ہوئی، &nbsp;تو نہ صرف یہ کہ 65برس کے لوگوں کی تعداد آج کے مقابلے میں دوگنا ہوجائے گی بلکہ آبادی میں اُن کا تناسب آج کے 12فی صد کے مقابلے میں بڑھ کر 21فی صد ہوجائے گا۔</p>
<p>اِس کے معنی یہ ہوئے کہ پانچ میں سے ایک یا اُس سے زیادہ امریکی اپنا نصف صدی کا سفر مکمل کرچکے ہوں گے اور اُن کا شمار معمر افراد یا سینئر سٹیزنز میں ہونے لگے گا۔ ماہرین کہتے ہیں کہ امریکی آبادی میں جِن خطوط پر اضافہ ہو رہا ہے، یہ جاری رہا تو آبادی کا ایک بڑا حصہ ہسپانوی ، افریقی امریکی اور ایشیائی امریکی باشندوں پر مشتمل ہوگا۔</p>
<p>ماہرین کہتے ہیں کہ سنہ 2050ء میں 65یا اُس سے زیادہ برس کے امریکی گھر بیٹھے پینشن پر گزارا نہیں کر رہے ہوں گے بلکہ گھر سے باہر ملازمتیں کررہے ہوں گے۔ اِس کی ایک وجہ یہ ہے کہ میڈیکل سائنس کی ترقی کی بدولت اُنھیں صحت کی بہتر سہولتیں حاصل ہوں گی اور بہتر تعلیم یافتہ ہوں گے۔تو پھر کیوں نہ چاہیں گے کہ کام کرتے رہیں؟</p>
<p>امریکہ میں 70برس یا زیادہ عمر کے افراد یا سینئر سٹیزنز کو حکومت کی طرف سے سوشل سکیورٹی کی صورت میں ایک مخصوص رقم ملتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سنہ 2050ء یا اُس کے بعد ہو سکتا ہے عمر کی حد 70سے زیادہ کردی جائے۔</p>
<p>چناچہ، پینشن اور &rsquo;بائی آؤٹ&lsquo; کی سہولتیں بھی اُسی حساب سے ملیں گی۔ اور یوں، واحد راستہ&nbsp; یہی ہوگا کہ ملازمت برقرار رکھی جائے، جس کے معنی یہ بھی ہیں کہ نوجوانوں کے لیے ملازمت کے مواقع اُسی طور پر سکڑتے جائیں گے۔ چناچہ، ماہرین کہتے ہیں کہ نوجوان امریکیوں کو چاہیئے کہ&nbsp; وہ ابھی سے کچھ نہ کچھ آڑے وقتوں&nbsp; بلکہ آخری وقتوں کے لیے بچانا شروع کردیں۔</p>
<p>مگر ساتھ ہی یہ بھی خیال ہے کہ معمر افراد کی تعداد بڑھے گی تو نرسنگ ہومز اور اُس طرح کے دیگر مراکز میں بھی اضافہ ہوگا اور ساتھ ہی اوسط عمر اور معمر لوگوں کےلیے عمر کی حد بھی تبدیل ہو جائے گی۔</p>
<p>65برس کے لوگ درمیانی عمر کا لقب پائیں گے اور معمر کہلانے کے لیے 85یا اُس سے بڑی عمر کا ہونا ضروری ہوگا۔</p>
<p>آئیے آپ اور ہم دیکھتے ہیں کہ کون جیتے گا اُس زلف کے سر ہونے تک۔</p>
<p>&rsquo;آہ کوچاہیئے اِک عمر اثر ہونے تک</p>
<p>کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک&lsquo;</p>
<p>آڈیو رپورٹ سنیئے:</p>
<p>
<object classid="clsid:02bf25d5-8c17-4b23-bc80-d3488abddc6b" width="214" height="35" codebase="http://www.apple.com/qtactivex/qtplugin.cab#version=6,0,2,0">
<param name="src" value="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+1400+Life+in+America-+Todays+Kids-+Tomorrows+Seniors-05-03-11-MM.Mp3" /><embed type="video/quicktime" width="214" height="35" src="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+1400+Life+in+America-+Todays+Kids-+Tomorrows+Seniors-05-03-11-MM.Mp3"></embed>
</object>
</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 3 May 2011 23:02:21 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">121194419</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[مدثرہ منظر]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-05-03T23:02:21Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[امریکہ میں شب و روز ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/CN_New_Alzheimers_Genes_480.jpg" length="26978" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/CN_New_Alzheimers_Genes_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/RTRJapan.300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>’مرچیں آنکھوں میں لگ سکتی ہیں‘</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/life-in-america/warning_labels_19apr11-120224744.html</link>
				<description>امریکہ  کے مضحکہ خیز ترین لیبل، ’پپو یار تنگ نہ کر‘  شعر  کی  یاد دلاتے ہیں</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>پاکستان میں ٹرکوں اوررکشوں کےپیچھے لکھے مصرعے اورجملےاکثرتفریح طبع کا باعث ہوتے ہیں اور اُن میں مشہور ترین تو &rsquo;پپو یار تنگ نہ کر&lsquo;، &rsquo;پاس کر یا برداشت کر&lsquo; اور &rsquo;ٕٕماں کی دعا جنت کی ہوا&lsquo; وغیرہ سے تو آپ بھی واقف ہوں گے۔مگر، &nbsp;یہاں امریکہ میں استعمال کی اشیاٴ پر خبردار کرنے کے لیے جو لیبل لگائے جاتے ہیں وہ بھی بعض اوقات کسی لطیفے سے کم نہیں۔</p>
<p>امریکہ میں وارننگ کے یہ لیبل اکثر کھلونوں، گھریلو استعمال کی مشینوں اور دیگر آلات پر لگے ہوتے ہیں، اور بعض لیبل دیکھ کر تو ایسا لگتا ہے کہ یہ سامان بنانے والے یہ &nbsp;گمان رکھتے ہیں کہ گویا صارفین اِن اشیاٴ کو اندھا دھند استعمال کرلیں گے، &nbsp;سوچے سمجھے بغیر۔</p>
<p>امریکہ میں &rsquo;مِشی گن لا سوٹ ابیوزواچ&lsquo; نامی تنظیم&nbsp; اِس طرح کے لیبلز کا خاصہ حساب رکھتی ہے اور اُنھوں نے وارننگ کے سب سے اچھے، یا آپ کہہ سکتے ہیں، مضحکہ خیز ترین لیبلز کی نشاندہی کی ہے۔</p>
<p>آپ نے کارپینٹرز یا بجلی کا کام کرنے والوں کے پاس بجلی کی ڈرلنگ مشین دیکھی ہوگی۔ اُس پر وارننگ تھی کہ &rsquo;یہ دانتوں میں استعمال کے لیے نہیں ہے&lsquo;، &nbsp;آتشدان میں رکھی لکڑی پر لکھا تھا &rsquo;احتیاط کیجئے اِس میں آگ لگ سکتی ہے&lsquo;، &nbsp;کالی مرچ چھڑکنے کی بوتل پر لکھا تھا &rsquo;مرچیں آنکھوں میں لگ سکتی ہیں&lsquo;، بچوں کے اسٹرولر پر اگر یہ لکھا ہو کہ&rsquo; بند کرنے سے پہلے بچہ گاڑی سے نکال لیں&lsquo;، &nbsp;تو آپ کیا سمجھیں گے؟</p>
<p>یا پھر، &nbsp;مچھلی پکڑنے کے کانٹے پر لکھا ہو &rsquo;نگلنے سے نقصان ہوسکتا ہے۔&lsquo;&nbsp;&nbsp; اِسی طرح، برتھ ڈے کیک پر سجانے کی موم بتیوں کے ڈبے پر لکھا ہے&nbsp; &rsquo;ایئر پلگز کے طور پر استعمال نہ کریں؟&lsquo;</p>
<p>اور، یقینا ً&nbsp;&nbsp; خواتین کو یہ دیکھ کر ضرور غصہ آئے گا کہ بلینڈر یا چوپر پر لکھا ہے &rsquo;جب بلیڈ چل رہے ہوں تو اُس سے کھانا اتارنے کی کوشش نہ کی جائے&lsquo;، بھلا &nbsp;بتائیے، کوئی &nbsp;ایسا کیوں کرے گا؟</p>
<p>اِسی طرح آپ کو بجلی کی استری پر لکھا نظر آئے گا &rsquo;پہنے ہوئے کپڑوں پر استری نہ کیجئے&lsquo;،&nbsp; اکثر دھوپ سے بچنے کے لیے کاروں کی وِنڈ اسکرین&nbsp; پر کارڈ بورڈ کا ایسا کور لگا دیا جاتا ہے جو شیشے کو دھوپ سے محفوظ رکھتا ہے۔ چناچہ، اُس پر لکھا ہوتا ہے &rsquo;سَن شیلڈ ہٹائے بغیر گاڑی نہ چلائیں&lsquo;، &nbsp;اور تو اور، &nbsp;لیزر پرنٹر کے کارٹرج پر لکھا ملے گا &nbsp;&rsquo;ٹونر کھائیے گا نہیں&lsquo;۔</p>
<p>&nbsp; اور، &nbsp;حد تو یہ ہے کہ چوہے مار دوا کے پیکٹ پر وارننگ ہے:&rsquo;اِس کی وجہ سے لیبارٹری میں موجود چوہوں میں کینسر پایا گیا ہے&lsquo;۔ گویا آپ اُسے کھانے کا&nbsp; ہی سوچ رہے تھے؟</p>
<p>اِسی طرح لوہے کی کیلوں کے ڈبے پر لگے لیبل پر خبردار کیا گیا ہے &rsquo;نگلنے پر نقصان ہو سکتا ہے&lsquo;۔</p>
<p>اور، آخر میں ہم آپ کو خبردار کر دیں کہ امریکہ آئیےتو کسی چیز کو چھوئیےاور کھائیے گا نہیں، کیونکہ ریل کے ایک اسٹیشن پر وارننگ تھی: &rsquo; اِن تاروں کو چھونے سے فوراً&nbsp;&nbsp; موت واقع ہوسکتی ہے، اور اگر کسی نے ایسا کیا تو اُس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی&lsquo;۔ سوال یہ ہے کہ، کیا موت کے بعد؟</p>
<p>آڈیو رپورٹ سنیئے:</p>
<p>
<object classid="clsid:02bf25d5-8c17-4b23-bc80-d3488abddc6b" width="207" height="30" codebase="http://www.apple.com/qtactivex/qtplugin.cab#version=6,0,2,0">
<param name="src" value="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+1300+Life+in+America-+812933+Obvious+Warning+Labels+-04-19-11-MM.Mp3" /><embed type="video/quicktime" width="207" height="30" src="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+1300+Life+in+America-+812933+Obvious+Warning+Labels+-04-19-11-MM.Mp3"></embed>
</object>
</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 19 Apr 2011 19:45:34 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">120224744</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[مدثرہ منظر]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-04-19T19:45:34Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[امریکہ میں شب و روز ]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/teaser-box+EVERYDAYLIFEMODERN.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
														
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>غیر قانونی تارکین وطن کا ڈریم بل، پیش رفت رک گئی</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/us-immigrant-youth-18december10-112135259.html</link>
				<description>اس قانون سے جن افراد کو فائدہ پہنچ سکتا ہے ، ان کے پاس امریکہ میں سب کچھ ہے سوائے کام کرنے کے لیے قانونی کاغذات کے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">امریکی سینیٹ نے اس بل کا راستہ روک دیا ہے جس کا مقصد امریکہ میں آباد غیر قانونی تارکین وطن کے ، اعلی ٰ تعلیم حاصل کرنے والے یافوج میں خدمات انجام دینے والے بچوں کو قانونی حیثیت دلاناتھا۔ &nbsp;&nbsp;ہفتے کے روز ہونے والی ایک ووٹنگ کے بعد اس بل پر پیش رفت اس سال اور ممکنہ طورپر اگلے سال تک کے لیے رک گئی ہے۔</p>
<p dir="rtl">اس&nbsp; بل کو تارکین وطن سے متعلق ایسی جامع اصلاحات کی جانب ابتدائی اقدام خیال کیا جارہاتھا جو امریکہ میں غیر قانونی طورپر مقیم ایک کروڑ 20 لاکھ افراد میں سے، جن میں سے تقریباً 20 لاکھ افراد ایسے ہیں جو اپنی کم عمری میں امریکہ میں داخل ہوئے تھے، قانونی حیثیت دینا تھا۔</p>
<p dir="rtl">اس بل کا مقصد ان بچوں کو فائدہ پہنچانا &nbsp;تھا جنہیں غیر رجسٹرڈ والدین اپنے ساتھ امریکہ لائے تھے۔ اس بل کے تحت&nbsp; ایسے بچوں کو امریکہ میں قانونی طورپر عارضی سکونت مل جاتی جن کی عمریں امریکہ میں داخلے کے وقت 16 سال سے کم تھیں اور جو کم ازکم پانچ سال امریکہ میں گذارچکے ہیں۔ انہوں نے ہائی سکول تک تعلیم حاصل کرلی ہو اور وہ امریکی کالجوں میں داخل ہوں یا امریکی فوج میں خدمات سرانجام دے رہے ہوں۔</p>
<p dir="rtl"><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE--&gt;</span></p>
<p dir="rtl">ریاست الی نوائے سے ڈیموکریٹ سینیٹر رچرڈ ڈربن کا کہنا ہے کہ اس قانون سے جن افراد کو فائدہ پہنچ سکتا ہے ، ان کے پاس امریکہ میں سب کچھ ہے سوائے کام کرنے کے لیے قانونی کاغذات کے۔</p>
<p dir="rtl">ایوان نمائندگان نے دسمبر کے شروع میں اس بل کی منظوری دے دی تھی ۔ یہ خیال کیا جارہاتھا کہ سینیٹ کےپاس اس سال یہ بل پاس کرانے کے لیے کافی ووٹ موجود ہیں۔ مگر ری پبلیکنز کی جانب سے اس پر حتمی رائے شماری روکنے کی ایک تحریک کو ناکام بنانے کے درکار ووٹوں سے محض پانچ ووٹوں کی کمی سے&nbsp; یہ پیش رفت رک گئی۔</p>
<p dir="rtl">بل کے مخالفین کا کہنا تھا کہ اس قانون سے قانون توڑنے والوں کو قانونی حیثیت مل جائے گی اور یہ بل امریکہ میں غیر قانونی تارکین وطن کی آمد روکنے کی فوری ضرورت سے متضاد ہے۔</p>
<p dir="rtl">مخالفین کا &nbsp;یہ بھی کہناتھا کہ اس بل کے ذریعے قانونی دستاویزات کے بغیر کام کرنے والے تارکین وطن کی اس بارے میں حوصلہ افزائی ہوگی کہ وہ اپنے بچے امریکہ لے آئیں&nbsp; جو ان افراد کے منہ پر ایک طمانچے کے مترادف ہے امیگریشن کے تمام مراحل قانون کے مطابق پورے کرکے امریکہ آتے ہیں۔</p>
<p dir="rtl">امریکہ میں غیر قانونی طورپر مقیم افراد کی ایک بڑی تعداد ہسپانوی بولنے والوں پر مشتمل ہے اور یہ ملک کی تیزی سے بڑھتی ہوئی اقلیت بھی ہے۔ ہسپانوی باشندے صدر اوباما کی انتخابی مہم&nbsp; کے دوران کلیدی ووٹ کے طورپر سامنے آئے تھے۔ &nbsp;اسی طرح 2006 اور 2008 میں ڈیموکریٹک پارٹی کو کانگریس میں کامیابی دلانے میں ان کا اہم کردارتھا۔</p>
<p dir="rtl">&nbsp;ری پبلیکنز کو خدشہ ہے کہ آنے والے برسوں میں ہسپانوی اور تارکین وطن کے دوسرے گروپوں کی &nbsp;بڑھتی ہوئی تعداد مستقبل کے &nbsp;انتخابات میں ان کے&nbsp; لیے مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sun, 19 Dec 2010 01:35:42 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">112135259</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[مائیکل برومین/جمیل اختر]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-12-19T01:35:42Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/ap_us_california_dream_act_rallies_480_18Dec10.jpg" length="88724" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
																											
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_us_california_dream_act_rallies_480_18Dec10.jpg" medium="image" isDefault="true" height="353" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/reuters_us_washington_students_dream_act_230_18Dec10.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_us_senator_durbin_draem_act_230_18Dec10.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																										</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>معروف امریکی کامیڈین جمی ٹنگل سے ملاقات</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/usa/uas-jimmytingle-comedian-02december10-111185919.html</link>
				<description>وہ اپنے طنز کے ذریعے لوگوں کو ملک کو درپیش مسائل کے بارے میں  سوچنے پر مجبو ر کرنا چاہتے ہیں۔ </description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">دو مزاحیہ فنکاروں کی طرف سے پچھلے ماہ امریکی دارلحکومت میں&nbsp;&nbsp;&nbsp; نکالی گئی ایک بڑی ریلی نے اس بات کو ثابت کیا&nbsp; ہے کہ&nbsp; سیاست پر طنزیہ تنقید کو امریکہ میں&nbsp; بہت&nbsp; پذیرائی مل رہی ہے۔</p>
<p dir="rtl">&nbsp;جمی ٹنگل&nbsp; ایک&nbsp; جانے پہچانے امریکی مزاحیہ فنکار ہیں جو نہ صرف ٹیلی ویژن&nbsp; پروگرام اور خبروں میں بلکہ&nbsp; ہر جگہ لوگوں کو ہنسانے&nbsp; کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔</p>
<p dir="rtl">ان کا کہنا ہے کہ &nbsp;میں ہوائی&nbsp; چکیوں کی مدد سے متبادل توانائی پیدا کرنے کے بارے میں سوچتا رہا ہوں۔ دیکھیے ، آپ ہر ٹریفک لائٹ پر ایک ہوائی چکی لگا دیں جو اسے توانائی مہیا کرے&nbsp; اور اس طرح&nbsp; لائٹس جلتی رہیں۔ لال ، پیلی اور سبز۔ ناقدین اس کو غلط قرار دیں گے کیونکہ اگر کسی دن ہوا نہ چلی تو کیا ہوگا۔ میں کہوں گا ، اس دن آپ ٹریفک لائٹ پر نہ رکیں۔</p>
<p dir="rtl">جمی کہتے ہیں کہ وہ اپنے طنز کے ذریعے لوگوں کو ملک کو درپیش مسائل کے بارے میں&nbsp; سوچنے پر مجبو ر کرنا چاہتے ہیں۔</p>
<p dir="rtl">ان کا کہنا ہے &nbsp;کہ &nbsp;میں ان چیزوں کے بارے میں بات کرتا ہوں جن کی مجھے فکر ہوتی ہے۔ اور پھر میں ان&nbsp; چیزوں کے بارے میں مزاح کے حوالے سے سوچتا ہوں۔</p>
<p dir="rtl">ایک چیز جس کے بارے میں&nbsp; جمی فکرمند ہیں وہ ہے&nbsp; انتخابات۔ &nbsp;ان کاکہنا ہے کہ ٹیلی ویژن پر مخالفانہ اشتہارات کسی بھی سیاسی حریف کو برا بنا سکتے ہیں۔</p>
<p dir="rtl">ایک اور مسئلہ جس کے بارے میں جمی بات کرتے ہیں وہ ہے توانائی کی بچت۔ &nbsp;وہ نیو یارک کی سڑکوں پر چین میں چلنے والے ہاتھ رکشا چلانے کی بات کرتے ہیں۔</p>
<p dir="rtl">جمی ٹنگل کا کہنا ہے ہم یہاں ایسا کیوں نہیں کر&nbsp; سکتے۔ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایسے امریکی کہاں سے ڈھونڈیں گے جو دوسرے لوگوں کو&nbsp;&nbsp;&nbsp; ایک جگہ سے دوسری جگہ&nbsp; ڈھونے کا کام کریں اور وہ کیسے یہ سب کریں گے تو میں کہتا ہوں کہ جوگرز پہن کر۔</p>
<p dir="rtl">جمی&nbsp; ان مذاحیہ فنکاروں میں سے ہیں جو&nbsp; سیاست اور سیاست&nbsp; دانوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ان کا مزاح اتنا متاثر کن ہوتا ہے کہ سیاسی&nbsp;&nbsp;&nbsp; اور عام دونوں قسم کے لوگ&nbsp; ان کی بات دھیان سے سنتے ہیں۔</p>
<p dir="rtl">مزاحیہ فنکار جان سٹیورٹ نے حال ہی میں&nbsp; اپنے پروگرام میں صدر براک اوباما کو مدعو کیا تھا۔&nbsp; ان کے ایک اور ساتھی سٹیون کولبرٹ&nbsp; اور ان کی قیادت میں ہونے والی ایک ریلی میں پورے امریکہ سے لوگوں نے شرکت کی تھی۔</p>
<p dir="rtl">ناقدین کا کہنا ہے کہ مزاحیہ فنکار لوگوں کو بے دھڑک بولنے پر آماہ کررہے &nbsp;ہیں جبکہ&nbsp; ان کے مخالفین کہتے ہیں کہ مزاحیہ فنکار لوگوں کو مسائل کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔</p>
<p dir="rtl">جمی ٹنگل کی سیاست میں دلچسبی انھیں امریکہ کی مشہور یونیورسٹی&nbsp; ہارورڈ کے کینیڈی سکول آف پبلک ایڈمنسٹریشن لے گئی جہاں انھوں نے تعلیم حاصل کی ۔پچھلے سال انھوں اپنی&nbsp; تعلیم مکمل کی اور اسی تقریب میں خطاب بھی کیا۔</p>
<p dir="rtl">ان کا کہنا ہے کہ ایک عظیم فلم ساز وڈی ایلن نے ایک بار کہا تھا، اگر&nbsp; میں لوگوں کو ہنسا سکوں تو یہ بہت بڑی بات ہوگی اور اگر میں لوگوں کو ہنسنے کے ساتھ ساتھ سوچنے پر بھی مجبور کرسکوں تو یہ اس سے بھی بڑی بات ہوگی۔لیکن اگر میں انھیں صرف سوچنے پر مجبور کروں تو میں&nbsp; اپنا کام ٹھیک نہیں کر رہا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 2 Dec 2010 13:12:53 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">111185919</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[جیروم سیکولوسکی/ثاقب الاسلام]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-12-02T13:12:53Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[ امریکہ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/ap_stewart_colbert_rally_480_eng_30oct10.jpg" length="66760" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_stewart_colbert_rally_480_eng_30oct10.jpg" medium="image" isDefault="true" height="281" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/US-Comedian-300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
													
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>کیا اگلے امریکی صدارتی انتخابات میں مذہب اہم موضوع ہوگا</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/usa-religion-presidentialelections-02december10-111184979.html</link>
				<description>تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ  زیادہ تر امریکی عوام اسلام کے بارے میں زیادہ  نہیں جانتے، اورکئی مرتبہ اسلام کو 9/11 اور دہشت گردی سے منسلک کر کے دیکھا جاتا ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">امریکہ کے آئین میں سیاست اور&nbsp; مذہب&nbsp; ایک دوسرے سے علیحدہ&nbsp; ہیں۔ لیکن کیا&nbsp; مذہب کا یہاں کی سیاست پر واقعی کوئی اثر نہیں؟ ہم نے دیکھا کہ نیویارک&nbsp; میں گراؤنڈ زیرو کے قریب ایک اسلامک سینٹر کی تعمیر کا مسئلہ ملک میں ہر سطح پر بحث&nbsp; و مباحثے کا موضوع بنا ۔اس کے علاوہ شکاگو اور چند دوسرے علاقوں میں بھی اب مساجد کے قیام کی مخالفت کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔کیا امریکہ میں نومبر کے وسط مددتی انتخابات میں&nbsp; مذہب نے کوئی کردار ادا کیا؟ اور کیا 2012 کے صدارتی الیکشن میں اس کا کوئی رول ہوسکتاہے ؟</p>
<p dir="rtl">امریکی تھنک ٹینک ، امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ میں ہونے والے ایک مباحثے &nbsp;کے دوران یہ سوال اٹھایا گیا کہ2010ءکے &nbsp;انتخابات میں مذہب نے کیا کردار ادا کیا تھا۔ لورا اولسن کا تعلق کلیمسن یونیورسٹی سے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ &nbsp;بنیادی سطح پر امریکی سیاست میں مذہب &nbsp;ووٹرز کے لیے اہم معاملہ &nbsp;ہے۔ &nbsp;انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود کہ &nbsp;&nbsp;امریکی قانون میں &nbsp;مذہب اور سیاست کو الگ الگ رکھا جاتا ہے ، دیگر ترقی یافتہ &nbsp;ممالک کے مقابلے میں &nbsp;مذہب امریکی سیاست میں ایک بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔</p>
<p dir="rtl">ماہرین کاکہنا تھا کہ امریکہ میں مذہبی جماعتیں &nbsp;نہیں ہیں، لیکن ریپبلکن پارٹی عموما اپنی سیاسی مہم میں مذہبی جذبات کا رنگ شامل کرتی ہے ۔ اسی &nbsp;وجہ سے امریکہ میں سب سے بڑا مذہبی ووٹ بینک قدامت پسند عیسائیوں کا ہے ، جو زیادہ تر ری پبلیکن پارٹی کی حمایت کرتے ہیں۔ جارج ٹاؤن یونیورسٹی &nbsp;کے کینتھ والڈ&nbsp; کا کہنا تھا کہ2010ءکے کانگریس کے انتخابات میں سیاستدانوں نے اسلام مخالف تصورات اجاگر کرنے کی خاص طور پر کوشش کی ۔</p>
<p>
<object width="455" height="335" data="http://www.youtube.com/v/aK55zpoL02w?fs=1&amp;hl=en_US" type="application/x-shockwave-flash">
<param name="data" value="http://www.youtube.com/v/aK55zpoL02w?fs=1&amp;hl=en_US" />
<param name="allowFullScreen" value="true" />
<param name="allowscriptaccess" value="always" />
<param name="src" value="http://www.youtube.com/v/aK55zpoL02w?fs=1&amp;hl=en_US" />
<param name="allowfullscreen" value="true" />
</object>
</p>
<p dir="rtl">تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ &nbsp;زیادہ تر امریکی عوام اسلام کے بارے میں زیادہ &nbsp;نہیں جانتے، اورکئی مرتبہ اسلام کو 9/11 اور دہشت گردی سے منسلک کر کے دیکھا جاتا ہے۔نیویارک کے گراؤنڈ زیرو پر مسجد کی تعمیر کا تنازع، اوکلاہاما میں شریعت&nbsp; کے بارے میں عدالت کا فیصلہ ، اور ناکام دہشت گردی کے کئی حالیہ&nbsp; واقعات نے بھی امریکی عوام&nbsp; کو اسلام کا ایک منفی چہرہ دکھایا ہے۔ لیکن لورا اولسن کا کہنا ہے کہ باوجود اس کے کہ حالیہ امریکی &nbsp;انتخابات میں اسلام کے بارے میں کچھ سوالات اٹھائے گئے، 2012 &nbsp;ءمیں مذہب &nbsp;کی اہمیت اتنی نہیں نظر آئے &nbsp;گی۔</p>
<p dir="rtl">انہوں نے کہا کہ یہ ممکن ہے کہ &nbsp;ان انتخابات میں کئی سیاستدان اسلام کو ایک مسئلہ بنانے مین کامیاب رہے۔ لیکن2012 ء میں صدر اوباما دوبارہ انتخاب لڑیں گے ، اور ان کی صدارت &nbsp;&nbsp;کا ایک اہم&nbsp; پہلو&nbsp; ہےمسلمان دنیا&nbsp; کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانا۔ &nbsp;میرے خیال میں&nbsp; صدر اوباما&nbsp; اسلام کو سیاسی ایجنڈا &nbsp;سے الگ کرنے میں کامیاب رہیں گے ۔</p>
<p dir="rtl">لیکن صدر اوباما کے اپنے مذہبی عقائدکے بارےمیں بھی امریکہ میں اختلاف رائے پایا جاتا&nbsp; ہے۔&nbsp; ایک حالیہ &nbsp;جائزے کے مطابق51 فی صد امریکی سمجھتے ہیں کہ &nbsp;صدر اوباما کی &nbsp;مذہبی سوچ انکی سیاسی سوچ سے مختلف &nbsp;ہے۔ مباحثے کے شرکا کا کہنا تھا کہ کئی امریکیوں میں ابھی تک یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ &nbsp;صدر اوباما مسلمان ہیں، جس کی وجہ سے 2012 مءمیں انہیں 2008ء کے صدارتی انتخاب کی طرح &nbsp;مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔</p>
<p dir="rtl">&nbsp;لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ2010 ءمیں ری پبلیکن اور ڈیموکریٹک ووٹرز دونوں کے لیےمذہب اتنا اہم معاملہ نہیں تھا ۔</p>
<p dir="rtl">نارمن آرسٹین &nbsp;کا تعلق امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ &nbsp;سے ہے۔ ان کا کہناتھا کہ 2010ءمیں معیشت سب سے &nbsp;اہم چیز تھی جس پر لوگوں نے ووٹ ڈالا، اور 2012 ءمیں بھی ہم یہی دیکھیں گے۔ اس کےعلاوہ &nbsp;افغانستان میں جنگ اور دہشت گردی کے خطرات &nbsp;بھی زیادہ اہمیت &nbsp;رکھیں گے۔ اگرچہ &nbsp;مذہب ایک کردار ادا کرے گا ، لیکن یہ سب سے اہم نہیں ہو گا۔</p>
<p dir="rtl">باوجود یکہ مذہب امریکی سیاست میں ایک خاص اہمیت رکھتا ہے، &nbsp;ماہرین &nbsp;کا کہنا تھا کہ2012ء کے انتخابات میں&nbsp; امریکہ کی معاشی صورت حال ووٹرز کے لیے سب سے اہم &nbsp;معاملہ ہو گا۔&nbsp; &nbsp;جس میں ووٹ &nbsp;صدر اوباما کی معاشی پالیسیوں کی بنیاد پر &nbsp;ڈالے جائیں گے ، مذہبی پالیسیوں کی وجہ سے نہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 2 Dec 2010 12:52:54 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">111184979</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[رضا نقوی]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-12-02T12:52:54Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/AP101111012999.jpg" length="29192" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP101111012999.jpg" medium="image" isDefault="true" height="335" width="512" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/voa_chinese_Newly_elected_Congressmen_CapitolHill_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
													
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>امریکہ میں شہری حقوق کی تحریک پر ہالی وڈ کی نئی فلم</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/hollywood-book-healp-film-26november10-110814489.html</link>
				<description>سیاہ فام اور سفید فام ایک ہی نل سے پانی نہیں پی سکتے تھے۔  انکے سینما گھر، سرکس، پارکس اور حتی کے باتھ رومز بھی الگ تھے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">دی ہیلپ نامی کتاب&nbsp; 1960ء کی دہائی کہ امریکہ میں&nbsp; ایک سفید فام خاندان اور ان کے سیاہ فام نوکروں کے درمیان تعلقات پر&nbsp; مبنی ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب امریکہ میں سماجی برابری اور حقوق کی تحریک زور پکڑ رہی تھی۔ اسی کتاب پر امریکی ریاست مسی سپی کے شہر گرین وڈ میں ہالی وڈ &nbsp;ایک فلم بنارہاہےجو امریکہ میں شہری حقوق کی تحریک کے زمانے&nbsp; کی یادوں کو تازہ کرتی ہے۔</p>
<p dir="rtl">1960 ءکے زمانے میں&nbsp; سیاہ فاموں کے لیے قانون مختلف تھے۔ فلم کا ایک کردار انکے بارے میں لکھتا ہے کہ ،&nbsp; سیاہ فام اور سفید فام ایک ہی نل سے پانی نہیں پی سکتے تھے۔&nbsp; انکے سینما گھر، سرکس، پارکس اور حتی کے باتھ رومز بھی الگ تھے۔ہم سب ان قوانین کے بارے میں جانتے ہیں، ہم سب یہاں رہتے ہیں لیکن ان کے بارے میں بات نہیں کرتے۔</p>
<p dir="rtl">گرینڈ بلورڈ&nbsp; کے نام سے منسوب&nbsp; ایک سڑک پر زیادہ تر سفید فام رہتے ہیں۔ اس سڑک کو امریکہ کی خوبصورت ترین سڑک بھی کہا جاتا ہے۔ اور یہاں رہنے والے لوگ&nbsp; بہت پر تعیش زندگی گزارتے ہیں ۔کیرولین میک ایڈم&nbsp; گرین وڈ کی مئیر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر میں یہ کہوں کہ یہاں&nbsp; لوگ مکمل ہم آہنگی سے خوشگوار زندگی بسر کررہے ہیں تو یہ سچ نہیں ہوگا۔ لیکن حالات بدل رہے ہیں۔</p>
<p dir="rtl">اور تبدیلی کی یہی لہر&nbsp; موجودہ امریکہ کے ان جنوبی علاقوں کا خاصا ہے ، جو گرین وڈ کو بھی بدل رہی ہے۔ اس علاقے کی دو تہائی آبادی سیاہ فام ہے۔ لیکن ایک سیاہ فام امیدوار کے مقابلے میں یہاں کی آبادی نے&nbsp; کیرولین میک ایڈم&nbsp; کو ووٹ دیے ۔</p>
<p dir="rtl">گرین وڈ آگے بڑھ رہا ہے ۔ یہاں اس زمانے کی ایک فلم بنائی جارہی &nbsp;ہے جب&nbsp; نسلی تفریق&nbsp; اس علاقے میں عروج پر تھی۔&nbsp; اداکاروں میں اوکٹیویا سپینسر اور واؤلا ڈیوس جیسے مشہور اداکاروں کے علاوہ&nbsp; مقامی اداکار بھی شامل ہیں۔</p>
<p dir="rtl">رسل بیکسٹر ایک مقامی سکول میں&nbsp; موسیقی سکھاتے ہیں اور فلم میں ایک ایکسٹيرا کا کردار کر رہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ میں کسی کو بھی اس کا مورد الزام نہیں ٹھہراتا جو کچھ بھی ماضی میں ہوا ہے۔ آج کے لوگ اس کا حصہ نہیں تھے ۔ لوگوں کے نظریات بدل چکے ہیں۔</p>
<p dir="rtl">مسی سپی کے فلم کمیشن کا کہنا ہے کہ اس فلم سے مسی سپی کی معیشت میں ایک کروڑ تین لاکھ&nbsp; ڈالر&nbsp; آئیں گے۔ 1200 ایکسٹرا&nbsp; کرداروں کے لیے کام، نادرگاڑیوں کے مالکوں کے لیے 125 ڈالر روزانہ کی آمدنی&nbsp; میسر ہو گی۔ مقامی ریستورانوں کا کام 23 فیصد بڑھے گا۔</p>
<p dir="rtl">وائکنگ رینج نامی ایک کمپنی نے ہالی وڈ کو گرین وڈ لانے میں مدد کی ہے۔ ان کا کہناہے کہ فلم کے مقامی معیشت پر دور رس اثرات ہوں گے۔ صرف سیاحت میں ہی اضافہ نہیں ہوگا بلکہ مقامی لوگوں کو بھی&nbsp; آگے آنے کا موقع ملے گا۔ &nbsp;دوسرے لوگوں میں یہاں کے لوگوں کے بارے میں جاننے کا شوق پیدا ہوگا۔</p>
<p dir="rtl">گرین وڈ کا علاقہ اگلے سال اس وقت &nbsp;خبروں کی زینت بنے گا جب یہ فلم نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔لیکن فلم کو دیکھنے کے لیے مقامی لوگوں کو کہیں اور جانا پڑے گا، &nbsp;کیونکہ ان کا مقامی سینما گھر پانچ سال پہلے ہی بند ہو گیا تھا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 26 Nov 2010 13:25:31 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">110814489</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[کیرولین پرویسوٹی /ثاقب الاسلام]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-11-26T13:25:31Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Mississippi-Help-Movie-480-2.jpg" length="43637" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Mississippi-Help-Movie-480-2.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Mississippi-Help-Movie-300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
													
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>شکاگو میں اسلامی تعلیمی مرکز کے قیام کی اجازت سے انکار</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/uas-chicago-islamic-center-26november10-110811864.html</link>
				<description>ارشاد سینٹر کو اجازت دینے سے انکار کرنا 2000ءکے اس امریکی قانون کی خلاف ورزی ہے جس کے تحت مذہبی مقامات کی تعمیر کے لیے پرمٹ جاری کیے جاتے ہیں۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">نیو یارک&nbsp; میں گراونڈ زیرو کے قریب اسلامک سینٹر کے قیام کی مخالفت کے بعد اب امریکہ کے کچھ اور شہروں میں بھی مساجد کے قیام&nbsp; کی مخالفت کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ ۔نیویارک میں اگرچہ مقامی حکومت نے اسلامک سینٹر تعمیر کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ لیکن شکاگو کے ایک مضافاتی علاقے میں صورت حال اس سے مختلف ہے۔ جہاں مقامی حکومت نے مسلمان&nbsp; کمیونٹی کو اپنی ملکیتی زمین پرپہلے سے موجود ایک عمارت میں مسجد اور تعلیمی سینٹر قائم کرنے کااجازت نامہ دینےسے انکار کردیا ہے۔</p>
<p dir="rtl">شکاگو کے نواحی علاقے نیپ ول میں رہنے والی یہ مسلمان کمیونٹی فی الحال ایک &nbsp;چرچ کے ہال کو عبادت کے لیے استعمال کرتی ہےاور وہ وہاں ارشاد لرنگ سینٹر قائم کرنا چاہتی ہے۔</p>
<p dir="rtl">مجتبیٰ نور صالح ایرانی نژاد امریکی شہری ہیں اور ارشاد لرنگ سینٹر کے بورڈ کے رکن ہیں۔ &nbsp;وہ کہتے ہیں کہ یہاں ہر گلی کے نکڑ پر چرچ ہیں۔ &nbsp;مگر مساجد نہ ہونے کے برابر ہیں۔ &nbsp;ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہمیں یہاں ابھی تک قبول نہیں کیا گیا۔ &nbsp;ہمارے لیے یہ ہماری شناخت کا مسئلہ ہےاور ہم تو یہاں صرف اکھٹے ہونا اور عبادت کرنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہاں پرورش پانے والے اپنے&nbsp; بچوں کو اپنے عقیدے&nbsp; اور تاریخ کے بارے میں معلومات دے سکیں۔</p>
<p dir="rtl">ارشاد لرنگ سینٹر کے اراکین کے پاس کوئی عمارت خریدنے کے لیے سرمائے کی کمی نہیں ہے۔ ان کی زمین پر پہلے ہی ایک عمارت موجود ہے جو کبھی ڈے کیئر سینٹر ہوا کرتی تھی۔ ان کے پاس اگر کچھ نہیں ہے تو وہ اس عمارت میں عبادت کرنے کا اجازت نامہ ہے۔ &nbsp;جس کے لیے مقامی حکومت نے انکار کر دیا ہے۔</p>
<p dir="rtl">کیون ودک امریکی مسلمانوں کی ایک نمائندہ تنظیم کیئر کے وکیل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ارشاد سینٹر کو اجازت دینے سے انکار کرنا 2000ءکے اس امریکی قانون کی خلاف ورزی ہے جس کے تحت مذہبی مقامات کی تعمیر کے لیے پرمٹ جاری کیے جاتے ہیں۔</p>
<p dir="rtl">اس ایکٹ کے تحت&nbsp; کسی مذہبی ادارے کو پرمٹ سے انکار کرکے &nbsp;اس پر دباو نہیں ڈالا جا سکتا&nbsp;&nbsp; یا کسی مذہبی ادارے کو اس کی اپنی &nbsp;عمارت اس کی مرضی کے مطابق استعمال کرنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ &nbsp;اپریل میں کئیر نے ان &nbsp;اداروں&nbsp; کے خلاف مقدمہ دائر کیا جنہوں نے پرمٹ جاری کرنے سے انکار کیا تھا۔ مقدمے میں کہا گیا ہے کہ پرمٹ نہ&nbsp; دینا&nbsp; امریکی آئین کی پہلی اور چودھویں ترمیم کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ یہ ترامیم تمام امریکیوں کے لیے بنیادی حقوق کی ضمانت دیتی ہیں۔</p>
<p dir="rtl">کیون ودک کے مطابق مقامی حکومت کے اہلکاروں کی توجہ اس بات پر ہے کہ یہ زمین رہائشی علاقے میں ہے اور وہ مذہبی اداروں کی آزادی کے بجائے وہاں رہنے والوں &nbsp;کے خدشات کا تحفظ کر رہے ہیں۔</p>
<p dir="rtl">مقامی حکومت کے اہلکاروں نے کئی بار رابطہ کرنے پر اپنا جواب دینے سے انکار کیا۔ &nbsp;مگر ایک ترجمان کا، جس نے کیمرے پر آنے سے انکار کیا ، کہنا ہے&nbsp; کہ اجازت نہ دینے کا تعلق مذہب سے نہیں ہے۔ اس اہلکار&nbsp; کا کہنا تھا کہ اس کا تعلق رہائشی علاقے کی زونگ سے ہے۔ &nbsp;مقدمہ درج ہونے کے بعد مقامی حکومت&nbsp; کے کئی اہلکاروں نے بھی پبلک میٹنگز میں یہ بات دہرائی ہے اور کہا ہے کہ ہر وہ شخص جو یہ سمجھتا ہے کہ یہ بورڈ اسلام کے خلاف ہے یا مسلمانوں کوالگ &nbsp;کر رہا ہے،&nbsp; اسے یہ یقین ہونا چاہیے کہ ایسا نہیں ہے۔</p>
<p dir="rtl">کئیر کے وکیل کیون ودک کو یقین ہے کہ بورڈ نے علاقے کے مکینوں کے دباو میں آ کر ایسا کیا ہے۔ جبکہ مقامی حکومت کے وکیل نے درخواست دائر کی ہے کہ اس کیس کو خارج کر دیا جائے۔ &nbsp;جوں جوں یہ مقدمہ آگے بڑھ رہا ہے،مقامی حکومت کے&nbsp; اہلکار ایک نئی ترمیم لانے کی کوشش کر رہے ہیں جو مذہبی اداروں کو&nbsp; مستقبل میں چند مخصوص رہائشی علاقوں میں عبادت گاہیں تعمیر کرنے سے روکے گی۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 26 Nov 2010 13:02:19 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">110811864</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[محمد عاطف]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-11-26T13:02:19Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/US+Muslim-Irshad+Learning+Center-480.jpg" length="54283" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/US+Muslim-Irshad+Learning+Center-480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/US_Muslim_Irshad_Learning_Center_WEB-standardQT01.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>نیویارک کا پنسلوانیا ریلوے اسٹیشن: عدم سے پھر وجود کی جانب </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/usa/newyork-railway-station-history-25november10-110629099.html</link>
				<description>موجودہ پین اسٹیشن زیرِ زمین واقع ہے اور اس کی موجودہ اور سابقہ عمارات کے درمیان محض نام اور جگہ کے علاوہ کچھ بھی مشترک نہیں رہا۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">آج سے ٹھیک ایک صدی قبل نومبر 1910 کے ایک روز نیویارک کے پنسلوینیا اسٹیشن کا باقاعدہ افتتاح ہوا اور اس نئے عالیشان اسٹیشن پر پہنچنے والی پہلی ریل کےمسافروں نے دریائے ہڈسن پار کرکے مین ہٹن میں قدم رکھا۔ مین ہٹن کے وسط میں قائم قدیم و جدید طرزِ تعمیر کا شہکار قرار دی جانے والی اسٹیشن کی یہ نئی عمارت آنے والے پچاس برسوں تک مسافروں کی میزبانی کرتی رہی تاوقتیکہ اسے نئی تعمیرات کیلئے ڈھا نہ دیا گیا۔</p>
<p dir="rtl">موجودہ پین اسٹیشن زیرِ زمین واقع ہے اور اس کی موجودہ اور سابقہ عمارات کے درمیان محض نام اور جگہ کے علاوہ کچھ بھی مشترک نہیں رہا۔</p>
<p dir="rtl">فنِ تعمیر کے تاریخ دان ونسنٹ اسکلی نے نیویارک کے قدیم پینسلوینیا اسٹیشن کی وسیع و عریض عمارت او ر960 ءمیں اس کی جگہ لینے والے تنگ اور قدرتی روشنی سے محروم زیرِ زمین اسٹیشن کا تقابل کرتے ہوئے ایک بار کہا تھا، "ایک وقت تھا کہ ہم اس شہر میں دیوتاؤں کی طرح داخل ہوا کرتے تھے اور اب یہ وقت ہے کہ ہم اس میں چوہوں کی طرح بلوں میں رینگتے ہوئے آتے ہیں"</p>
<p dir="rtl">قدیم پین اسٹیشن کی عمارت رومن طرزِ تعمیر کی حامل تھی اور اس کی تعمیر میں ماربل اور گلابی گرینائٹ پتھر استعمال کیا گیا تھا۔ اس پرشکوہ عمارت کے نقشہ ساز چارلس مک کِم تھے۔ 1910ء میں اس اسٹیشن کے افتتاح کے روز یہاں آنے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ تھی۔</p>
<p dir="rtl">دی لیٹ، گریٹ پنسلوانیا اسٹیشن" کے نام سے اس قدیم ٹرمینل کی تاریخ کتابی صورت میں مرتب کرنے والے لورین ڈیہل نے 1950 کے عشرے میں اپنے بچپن کے دن اس اسٹیشن کی وسیع وعریض راہداریوں میں کھیلتے کودتے گزارے تھے۔ اپنے ایک انٹرویو میں ماضی کے اس تجربے کے بارے میں ان کا کہنا تھا، "اس اسٹیشن کا ہر ہر گوشہ آپ کی تخیل کو نئی پرواز دیتا تھا۔۔۔ جب آپ ایٹتھ ایونیو کی جانب سے یہاں داخل ہوتے تھے تو وہاں ایک بڑی سی شیشے کی چھت تھی جس کے نیچے ریل گاڑیاں آکر ٹہرا کرتی تھیں۔ یہ چھت بڑے بڑے آہنی ستونوں پر ٹہری ہوئی تھی۔ شیشے کی اس چھت سے چھن کر نیچے آتی دھوپ میں مٹی کے چھوٹے چھوٹے ذرات فضا میں ٹہرے ہوئے محسوس ہوتے تھے اور ایسا محسوس ہوتا تھا جیسا کہ یہ جگہ ایک مرکز ہے جہاں سے مختلف سمتوں میں شاہراہیں نکلتی ہیں اور مسافر اپنا اپنا سفر آغاز کرتے ہیں۔ قبل اس کے کہ آپ اپنی منزل کیلئے کوئی ٹرین پکڑیں، اس منظر کے زیرِ اثر آپ کا ذہن پہلے ہی ایک سفر پر نکل پڑتا تھا"۔</p>
<p dir="rtl">اسٹیشن کی قدیم عمارت کی آرائش عقابوں اور عورتوں کے مجسموں سے کی گئی تھی۔ ایک مسافر دن کی مصروفیت بیان کرتا تھا اور دوسرا اس کی راتوں کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ ان مجسموں میں سے بہت سوں کی تصویر کشی نیو یارک ہی کے رہائشی ایک فن کار اور مصنف ولیم لو نے اپنی تصویری کتاب میں کی ہے۔ ولیم لو نے خود کبھی اس اسٹیشن کا نظارہ نہیں کیا تھا لیکن انہوں نے اس دور میں لی گئی بلیک اینڈ وھائٹ تصاویر اور دیگر دستاویزات کی مدد سے ان مجسموں کی تصویر کشی کرڈالی۔</p>
<p dir="rtl">ولیم لو کا کہنا ہے کہ، "یہ سب بہت متاثر کن تھا۔ بالکل ایسا ہی جب میں نے پہلی بار گرینڈ کینین کو دیکھا تھا۔ ایک انتہائی وسیع و عریض جگہ، جسے آپ لفظوں میں بیان نہیں کرسکتے"۔</p>
<p dir="rtl">لو نے اپنی کتاب میں کمپیوٹر کے ذریعے تیار کی گئی تصاویر کی مدد سے قدیم اسٹیشن کی تعمیر، وہاں روز مرہ زندگی کی چہل پہل اور بعد ازاں اس کے انہدام کے مختلف مرحلوں کو بیان کیا ہے۔ ان تصاویر میں اسٹیشن کی زندگی کے مختلف عکس ملتے ہیں: شیشے اور اسٹیل کی چھت تلے رات کے اوقات میں مسافروں کا ہجوم، اسٹیشن میں قائم ریستوران اور دونوں جانب دکانوں والی گزرگاہ اور ماربل کے گنبد تلے قائم انتظار گاہ۔۔ جس کے بارے میں ناول نگار تھامس وولف نے لکھا تھا "اتنی وسیع کہ وقت کی رفتار تھم جائے، نیم خوابیدہ اور سرگوشیوں سے دائم مامور"</p>
<p dir="rtl">ان تصویروں میں سے ایک جنگِ عظیم دوم سے لوٹنے والے ان سپاہیوں کی ہے جنہیں وطن واپسی پر نیو یارک کے باسیوں نے گھیررکھا ہے۔</p>
<p dir="rtl">لورین ڈیہل کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں تھامس وولف نے جس شے کو بیان کیا ہے درحقیقت وہ تاریخ کی وہ خوبصورت ملمع کاری تھی جو اب اپنا وجود کھو بیٹھی ہے۔ ان کے الفاظ میں "جب یہ اسٹیشن ختم کیا گیا تو ہم محض ایک خوبصورت ریل اسٹیشن سے ہی محروم نہیں ہوئے بلکہ ہم نے خود کو اپنے ماضی سے جدا کرلیا۔ ہم اپنی تاریخ کھو بیٹھے۔ گریٹ ڈپریشن، دو عالمی جنگوں، لاتعداد لوگوں کے منہ سے ادا ہونے والے 'ہیلو' اور 'گڈ بائے' سے منسلک تاریخ!!"</p>
<p dir="rtl">1960ء کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں اس اسٹیشن کے 'پنسلوینیا ریل روڈ کمپنی' نامی مالک ادارے کو مالی خسارے کے باعث شدید بحران کا سامنا تھا۔ نتیجتاً کمپنی نے اسٹیشن کے سطحِ زمین کے اوپر واقع حصے کو ایک ایسے تعمیراتی ادارے کو فروخت کردیا جو وہاں کھیلوں کا ایک بڑا مرکز قائم کرنا چاہتا تھا۔ آج 'میڈیسن اسکوائر گارڈن' نامی کھیلوں کے اس مرکز کی چہار جانب سے برقی بل بورڈز سے آراستہ اور ایک سیمنٹ مکسر کی ہیئت جیسی موجودہ عمارت کے نیچے امریکی تاریخ کا سب سے بڑا اور شاندار ریلوے اسٹیشن دفن ہے۔</p>
<p dir="rtl">1963ء میں پین اسٹیشن کی عمارت کے انہدام کے خلاف آواز اٹھانے والے صرف چھ نقشہ ساز تھے جنہوں نے اس فیصلے کے خلاف اسٹیشن کے باہر احتجاجی جلوس نکالا تھا تاہم اس سے فیصلہ سازوں کے کانوں پر کوئی جوں نہیں رینگی۔</p>
<p dir="rtl">لورین ڈیہل کہتے ہیں کہ اس وقت کوئی بھی فرد عمارتوں کی جاذبیت کے حوالے سے انہیں اہمیت دینے کو تیار نہیں تھا۔ "لوگوں کی رائے میں اس عمارت میں محفوظ رکھنے کیلئے کچھ تھا ہی نہیں۔ ان کے خیال میں وہ عمارت ایک نجی ملکیت تھی باوجود اس حقیقت کے کہ ا س کا وجود عوامی استعمال کیلئے تھا۔ لوگ سمجھتے تھے کہ اگر وہ پین اسٹیشن کی عمارت ڈھا سکتے ہیں تو ایسا کرسلر بلڈنگ اور ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ کے ساتھ بھی کیا جاسکتا ہے تاہم رفتہ رفتہ اس عمل کے نقصانات واضح ہوتے چلے گئے اور بالآخر شہر کے تاریخی مقامات کے تحفظ کیلئے قانون سازی کی رہ ہموار ہوئی"</p>
<p dir="rtl">نیویارک لینڈ مارک کنزروینسی' نامی ایک نجی گروپ کے سربراہ پیگ برین کا کہنا ہے کہ نیو یارک کے پین اسٹیشن کی موجودہ شکل سے کوئی بھی شخص خوش نہیں۔ "حتی کہ وہ لوگ بھی جنہوں نے کبھی پین اسٹیشن کی اصل عمارت نہیں دیکھی تھی، اسے کھو دینے کا دکھ محسوس کرتے ہیں۔ شاید اسے نیویارک کی تعمیراتی تاریخ کا سب سے بڑا جرم قرار دیا جاسکتا ہے۔ ایک ایسی خطا جس کا خمیازہ لوگ آج تک بھگت رہے ہیں"</p>
<p dir="rtl">1933ء سے پیگ برین کا گروپ پین اسٹیشن کی قدیم عمارت کے سامنے واقع 'فارلے پوسٹ آفس' کی پرانی عمارت کو ماضی کے اس تعمیراتی شاہکار کی صورت میں ڈھالنے کی مہم چلا رہا ہے۔ وہ اس عمارت کو آنجہانی سینیٹر ڈینیل پیٹرک مونی ہن سے منسوب کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے سب سے پہلے یہ خیال پیش کیا تھا۔ موجودہ پین اسٹیشن اور مستقبل میں اس کی جگہ لینے والی عمارت کو منسلک کرنے والے داخلی راستوں کی تعمیر کے ذریعے حال ہی میں اس پروجیکٹ کے پہلے مرحلہ کا آغاز ہوا ہے۔&nbsp;</p>
<p dir="rtl">فارلے پوسٹ آفس کی عمارت کی لابی میں کھڑے پیگ برین کا کہنا ہے، "یہ عمارت 1912ء میں چارلس مک کیم نے تعمیر کی تھی۔ وہی چارلس مک کیم جو پنسلوینیا اسٹیشن کا نقشہ ساز تھا۔ پوسٹ آفس کی یہ عمارت درحقیقت سڑک پار موجود پین اسٹیشن کی جڑواں عمارت تھی اور یہ اس وقت بنائی گئی تھی جب عوامی مقامات عوام کی عزت افزائی کے نکتہ نظر سے ڈیزائن اور تعمیر کیے جاتے تھے۔ اس وقت جب آپ کسی عمارت میں داخل ہوتے تھے تو وہ آپ سے مخاطب ہوکر یہ کہتی تھی کہ 'یہ ایک عظیم شہر ہے اور آپ اس کے ایک اچھے باسی ہیں کیونکہ آپ اس خوبصورت جگہ پر موجود ہیں'۔ اور پین اسٹیشن کی موجودہ عمارت اس احساس سے عاری ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ہمارا یہ پروجیکٹ ہمیں اس احساس کے دوبارہ حصول میں مدد دے گا"۔</p>
<p dir="rtl">پیگ برین کا کہنا ہے کہ نئی عمارت سے ریل کی شمال مشرقی شاہراہ اور ملک کے سب سے مصروف ریل ٹرمینل تصور کیے جانے والے پین اسٹیشن پہ مسافروں کی بڑھتی ہوئی تعداد میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔</p>
<p dir="rtl">موجودہ اسٹیشن کی نئی عمارت میں منتقلی پر آنے والے اخراجات کا تخمینہ ایک ارب ڈالر سے زائد لگایا گیا ہے جبکہ اس پورے عمل میں آٹھ سال کا عرصہ لگے گا۔ منصوبے کے حامیوں کا موقف ہے کہ اس منتقلی کے بعد بھی یہ اسٹیشن ماضی کی محض ایک دھندلی سی تصویر پیش کرنے کے قابل ہوپائے گا لیکن اس طرح ریل کے ذریعے نیویارک میں داخل ہونے والے مسافروں کو شہر میں داخلے کیلئے ایک خوبصورت دروازہ ضرور پیش کیا جاسکے گا۔</p>
<p dir="rtl">لورین ڈیہل پین اسٹیشن کے بارے میں اپنی دادی کے جذبات ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں، "وہ بہت غریب تھیں اور وہ اس اسٹیشن سے شاید کبھی بھی کسی ٹرین میں سوار نہیں ہوئی ہونگی۔ تاہم ایک روز انہوں نے کہا تھا، 'تم جانتے ہو یہ اسٹیشن مجھے احساس دلاتا ہے کہ میں بہت اہم ہوں، کیونکہ مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اسے میرے ہی لیے تعمیر کیا گیا ہے'۔ اور یہی درحقیقت اس اسٹیشن کی خاص بات تھی۔ یہ ایک ایسی عمارت تھی جس کی تعمیر ہر فرد کیلئے کی گئی تھی۔ چاہے آپ کے بینک اکاؤنٹ میں دس لاکھ بکس موجود ہوں یا آپ کی جیب میں محض چند سکے ہوں، یہ عمارت آپ کو اپنائیت کا ایک احساس دلاتی تھی اور آپ کو ایسا لگتا تھا کہ جیسے یہ آپ ہی کی ہو، آپ کی اپنی ذاتی، آپ کی اپنی ملکیت۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 25 Nov 2010 15:42:23 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">110629099</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[کیرولین ویور/عمیر بن ریاض]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-11-25T15:42:23Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[ امریکہ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/26penn.large.jpg" length="57180" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/26penn.large.jpg" medium="image" isDefault="true" height="310" width="504" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/26pennTease.jpg" medium="image" isDefault="false" height="310" width="310" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
														
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>واشنگٹن کا گرین فیسٹول</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/greenfestivel-washington-envirnoment-clean-18november10-108936454.html</link>
				<description>واشنگٹن کے کنونشن سینٹر میں ہونے والے اس فیسٹول میں  تقریبا 30 ہزار لوگوں نے شرکت کی ۔ جہاں انھیں ٕماحول کی حفاظت اور خود کفالت کے بارے میں بہت سی نئی باتوں کا پتا چلا ۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">امریکہ میں ماحول کے تحفظ کے لیے بہت سی سرکاری اور غیر سرکاری تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ گزشتہ دنوں دارالحکومت&nbsp; واشنگٹن میں ان کی جانب سے ساتواں سالانہ میلہ لگایا گیا ، جس کا مقصد ماحول کی حفاظت اور اسے حیات کے لیے محفوظ بنانے کے بارے میں شعور اجاگر کرنا اوراس سلسلے میں&nbsp; اب تک کی جانے والی کوششوں اور مستقبل کے منصوبوں کو سامنے لانا تھا۔</p>
<p dir="rtl">نمائش میں رکھا گیا شادی کا یہ جوڑا مکمل طور پر دو بارہ سے قابل استعمال میٹیریل سے بنایا گیا ہے۔ اور اسے طرح کپڑے اور خواتین کی بناؤ سنگھار کی دوسری تمام چیزیں بھی&nbsp; ، جو اس میلے میں&nbsp; ایکو فیشن نامی سٹیج پر رکھی گئی ہیں۔ چیری وونیون ان کی ڈیزانر ہیں۔</p>
<p dir="rtl">ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کے کپڑے جو آپ پہنتے ہیں ہم انھیں دوبارہ سے استعمال کرتے ہیں اور جدید فیشن کے مطابق بیگز یا دوسری چیزیں&nbsp; بنا دیتے ہیں۔</p>
<p dir="rtl">اس میلے میں ماحول کی بہتری کے لیے کوششوں&nbsp;&nbsp; کو مرکز بنایا گیا ہےجیسا کہ شہری علاقوں میں پودے کیسے لگائے جائیں اور ان کی حفاظت کیسے کی جائے۔</p>
<p dir="rtl">کیون ڈاناہر&nbsp; اس میلے کے بانیوں میں سے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس میلے میں 200 مقررین اور تقریبا 300 کے قریب ایسی نمائشیں ہیں&nbsp; جن کے&nbsp; ذریعے سے&nbsp; لوگوں کو یہ بتانا مقصود ہے کہ ماحول دوست معیشیت موجود ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں کو ایسی کمپنیوں اور لوگوں کے بارے میں پتا چلے جو ماحول دوستی کے لیے کوشیں کر رہے ہیں۔</p>
<p dir="rtl">منتظمین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کے کنونشن سینٹر میں ہونے والے اس فیسٹول میں&nbsp; تقریبا 30 ہزار لوگوں نے شرکت کی ۔ جہاں انھیں ٕماحول کی حفاظت اور خود کفالت کے بارے میں بہت سئ نئی باتوں کا پتا چلا ۔</p>
<p dir="rtl">لوگ یہاں ماحول کی حفاظت کے لیے مختلف چیزیں بھی بنا کر لاتے ہیں ، جیسا کہ پانی صاف کرنے والی ایک &nbsp;بوتل جس میں فلٹر بوتل کے اندر ہی لگا ہے۔ اس کے موجد آکاش ماتھر ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس ایک بوتل سے آپ&nbsp; 200 مرتبہ پانی صاف کر سکتے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 18 Nov 2010 14:07:56 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">108936454</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[جون سوہ/ثاقب الاسلام]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-11-18T14:07:56Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Green-Festival-480.jpg" length="55012" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Green-Festival-480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Green-Festival-3001.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
													
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>امریکہ میں تعصب کا بڑھتا ہوا رجحان</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/saalt-politics-america-maryland-18november10-108933994.html</link>
				<description>سیاسی امیدوار سمجھتے ہیں کہ اگر وہ غیر ملکیوں سے نفرت کے جذبات ظاہر کریں گے تو شاید انہیں زیادہ ووٹ ملیں۔ اور وہ انتخابات میں کامیاب رہیں۔ </description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">امریکہ کو عام طورپر مختلف ثقافتوں اور نسلوں کا ایک ایسا میلٹنگ پاٹ &nbsp;کہا جاتا ہے جہاں مختلف عقائد اور رنگ و نسل کی روایات&nbsp; باہم مربوط ہوکرامریکی ثقافت میں&nbsp; ایک نئے رنگ میں ڈھل رہی ہیں ۔ لیکن اس تصویر کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ&nbsp; ریاست میری لینڈ میں واقع جنوبی ایشیائی کمیونٹی کی ایک&nbsp; تنظیم سالٹ کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نائین الیون کے بعد&nbsp; دوسرے ملکوں سے آنے والوں کے خلاف نہ صرف تعصب کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے بلکہ اسے بعض سیاسی پارٹیوں&nbsp; اور سیاست دانوں&nbsp; نے&nbsp; اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔</p>
<p dir="rtl">اس سال پیش آنے والے&nbsp; کچھ واقعات جو بعض لوگوں کے لیے باعث حیرت تھے اور دوسروں کے لیے باعث فکر۔</p>
<p dir="rtl">امریکہ کا شہر نیو یارک۔ جہاں کئی ہزار لوگو ں نے گیارہ ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کے مقام کے قریب مسجد کی تعمیر کے خلاف احتجاج کیا۔</p>
<p dir="rtl">امریکہ کی ریاست فلوریڈا کا ایک چھوٹا سا شہر ۔ جہاں کچھ ہی عرصے میں ایک پادری کے قرآن پاک نذرآتش کرنے کے منصوبے نے&nbsp;&nbsp; امریکی صدر اور فوجی قیادت کو سخت پریشانی میں ڈال دیا۔</p>
<p dir="rtl">امریکہ کی ریاست &nbsp;ٹینی سی کا ایک شہر Murfreesboroجہاں کچھ&nbsp; لوگوں نے مسجد کی تعمیر کے خلاف نعرہ بلند کیا ۔</p>
<p dir="rtl">ان خیالات کی مخالفت کرنے والوں کی تعداد بھی کوئی کم نہیں تھی۔</p>
<p dir="rtl">لیکن امریکی ریاست میری لینڈ میں واقع ایک ادارے کے مطابق تعصبانہ خیالات&nbsp; سڑکوں پر ہی نہیں، بلکہ سیاسی حلقوں میں بھی ظاہر تھے۔</p>
<p dir="rtl">پریا مورتی کہتی ہیں کہ سیاسی امیدوار سمجھتے ہیں کہ اگر وہ غیر ملکیوں سے نفرت کے جذبات ظاہر کریں گے تو شاید انہیں زیادہ ووٹ ملیں۔ اور وہ انتخابات میں کامیاب رہیں۔ یہ خطرناک&nbsp; خیال ہے ، کیونکہ اگر وہ اس قسم کے نظریات کے ساتھ عہدہ سنبھالتے ہیں تو ممکن ہے کہ وہ ان پالیسیوں کی حمایت بھی کریں جو ہماری کمیونٹی کو منفی طور پر متاثر کرتی ہیں۔</p>
<p dir="rtl">پریا مورتی کا تعلق سالٹ نامی ایک ایسے ادارے سے ہے جو امریکہ میں رہنے والی جنوبی ایشیائی کمیونٹی کی صورت حال کا جائزہ لیتا ہے۔ سالٹ کی ایک حالیہ رپورٹ&nbsp; کے مطابق گزشتہ 10 برسوں کے دوران&nbsp; سیاست دانوں نے اپنے بیانات میں بعض اوقات جنوبی ایشیائی کمیونٹی&nbsp; کے بارے میں منفی جذبات ظاہر کیے ہیں۔</p>
<p dir="rtl">بین الاقوامی انسانی حقوق کے وکیل اور کالم نگار ارسلان افتخار&nbsp; کہتے ہیں کہ اس میں سے بیشتر اوقات تو&nbsp; مختلف گروپوں میں تفریق پیدا کرنے کی کوشش کر کی جاتی ہے&nbsp; تاکہ لوگ&nbsp; سیاسی کامیابی حاصل کر سکیں اور اپنے امیدواروں کو منتخب کروا سکیں۔</p>
<p dir="rtl">سالٹ کی اس رپورٹ کے مطابق سیاسی بیانات میں نسل پرست خیالات اکثر&nbsp; کسی انتخاب سے قبل زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں۔&nbsp; سیاہ فام امریکیوں کے حقوق کے لیے ایک ادارے NAACP کے ہلری شیلٹن کا کہنا ہے سیاست دانوں کے یہ بیانات عموما لوگوں کے خوف اور غیر یقینی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔</p>
<p dir="rtl">ان کا کہناہے کہ اور&nbsp; اس صورت میں ہم امریکی قوم کو ایسے اقتصادی مسائل سے گزرتا دیکھ رہے ہیں۔ جو نفرت پھیلانے والے گروہوں&nbsp; کے لیے بہترین موقع ہے۔وہ ان حالا ت میں اپنےنظریات اور خیالات لوگوں تک پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں اپنے گروپوں میں بھرتی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ان گروہوں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ تمام مسائل کی ذمہ داری کسی ایک اقلیت پر ڈال دیں۔ حالانکہ یہ وہ مسائل ہیں جن کا سبھی کو سامنا ہے۔&nbsp;&nbsp;&nbsp;</p>
<p dir="rtl">لیکن اس سال&nbsp; سیاسی حلقوں میں نسل پرست خیالات ہاورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر لورنزو مورس کے لیے باعث فکر نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی حلقوں میں&nbsp; نسل پرستی اور نفرت کے جذبات کو ہوا دینے والوں کا تعلق امریکی کی قدامت پسند ری پبلیکن پارٹی سے ہےاور&nbsp; اس سال اس سیاسی جماعت کی مقبولیت میں اضافے کے ساتھ ساتھ ان کے یہ جذبات بھی واضح طور پر سامنے آئے۔&nbsp;</p>
<p dir="rtl">پروفیسر مورس کا کہنا ہے کہ مثال کے طور پر ٹی پارٹی کے ارکان &nbsp;امریکہ کی ری پبلیکن جماعت میں اقلیت میں ہیں۔ لیکن وہ زیادہ بڑھ چڑھ کر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ اور میڈیا میں بھی زیادہ نظر آتے ہیں۔ اس صورت میں جہاں سیاست دانوں کو زیادہ تجربہ بھی&nbsp; نہ ہو، وہ جذبات&nbsp; بھی سامنے آجاتے ہیں جو کسی دوسرے انتخابات میں شائدہ انتے واضح طور پر ظاہر نہ کیے جاتے۔&nbsp;</p>
<p dir="rtl">لیکن پروفیسر مورس کے مطابق نسل پرستی اور تعصب کے یہ&nbsp; جذبات زیادہ عرصے تک سیاست میں&nbsp; اس لیے قائم نہیں رہتے کیونکہ یہ نظریات بیشتر امریکیوں&nbsp; کو نامنظور ہیں۔</p>
<p dir="rtl">NAACP کے ہلری شیلٹن بھی غیر ملکیوں کو ایک پر امید پیغام دیا ہے کہ امریکی بننے کا مطلب ہےشہری حقوق کی جدوجہد میں شامل ہونا۔ سیاہ فام امریکیوں کی حیثیت سے ہم یہ بخوبی جانتے ہیں کہ شہریت حاصل کرنے کے 100 سال بعد آج بھی ہمیں شہری حقوق پانے کے لیے کتنی جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ ہم نئے تارکین وطن کو یہی کہیں گے کہ آپ بھی اس جدوجہد میں شامل ہوں۔</p>
<p dir="rtl">ان کا کہنا ہے کہ سیاسی حلقوں میں تعصب اور نسل پرست خیالات کا مقابلہ اسی صورت میں ہو گا، جب&nbsp; جنوبی ایشیائی کمیونٹی سیاست میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے گی، اور اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرے گی۔&nbsp;</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 18 Nov 2010 13:53:38 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">108933994</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[آمنہ خان]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-11-18T13:53:38Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Xenophobic-Trends-480.jpg" length="71865" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Xenophobic-Trends-480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Xenophobic-Trends-300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
														
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>نارتھ کیرولائنا کا ایک مقبول ایرانی ریستوران</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/iran-northkarolina-food-vegi-17november10-108662264.html</link>
				<description>سویا بین سے بنائے گئے مصنوعی گوشت  کو بھی ریستوران کے کھانوں میں گوشت کی جگہ استعمال کیا جاتا ہے۔ </description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">گوشت کے بغیر عام طورپر ایرانی کھانے ادھورے رہتے ہیں لیکن امریکی ریاست نارتھ کیرولائنا کے شہر چیپل ہل میں ایک ایسا ایرانی ریستورانٹ موجود ہے جہاں کی تمام ڈشز سبزیوں سے تیار کی جاتی ہیں ۔ حتیٰ کہ وہاں گوشت کی ڈشوں &nbsp;میں بھی سویابین سے تیار کردہ مصنوعی گوشت استعمال کیا جاتا ہے۔</p>
<p dir="rtl">ریستوران کی مالکہ ہما جہانیہ کہتی ہیں کہ اس رستوران میں مچھلی یا گوشت کا کوئی پکوان نہیں، بلکہ صرف سبزیوں کے پکوان پیش کیے جاتے ہیں۔ سبھی نے کہا کہ امریکہ کے جنوبی خطوں میں یہ پکوان پسند نہیں کیے جائیں گے۔ اور اس رستوران میں کوئی بھی کھانا کھانے نہیں آئے گا۔ لیکن مجھے کوئی فکر نہیں تھی۔ میں نے سوچا کہ اگر کامیاب رہا تو ٹھیک ہے، ورنہ نہیں تو نہ سہی۔</p>
<p dir="rtl">امریکی ریاست نارتھ کیرولائناکے شہر &nbsp;چیپل ہل &nbsp;میں سیگ ویجیٹرین کے نام سےاس ریستوران میں روایتی اور نئے انداز کے ایرانی کھانے پیش کیے جاتے ہیں۔ یہاں تین بڑی یونیورسٹیاں قائم ہیں اور یہاں رہنے والو ں کو تعلیم یافتہ اور ترقی پسند تصور کیا جاتا ہے۔ ہمااور ان کے بیٹے رامین کو یہ جگہ اپنے ریستوران کے لیے بہت مناسب معلوم ہوئی۔</p>
<p dir="rtl">ہما کہتی ہیں کہ &nbsp;لو گ ہمیں بتاتے ہیں کہ یہ ریستوران انہیں یہ بالکل اپنے گھر جیسا لگتا ہے۔</p>
<p dir="rtl">یہ ریستوان ،باورچی خانے سے لے کر کھانے کی میزوں تک گھر جیسا ماحول پیش کرتاہے۔</p>
<p dir="rtl">روایتی طور پر ایرانی پکوان&nbsp; میں گوشت چاول کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔&nbsp; اور سبزیوں کے کوئی خصوصی پکوان نہیں ہوتے۔ مگر یہ &nbsp;ریستوران اسی لحاظ سے منفرد ہے کہ یہاں سبزیاں پیش کی جاتی ہیں۔</p>
<p dir="rtl">ہما جہانیہ کہتی ہیں کہ میں کئی برسوں سےسبزیاں استعمال کررہی ہوں۔ کھانے کی ترکیبیں بدلنا میرے لیے کوئی مشکل نہیں تھا۔ گوشت کی جگہ ہم کچھ کھانوں&nbsp; میں&nbsp; آلو اور پھلیاں استعمال کرتے ہیں۔ ہم شوربے میں بینگن ڈالتے ہیں جو لوگ بہت پسند کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ سویا بین سے بنائے گئے مصنوعی گوشت&nbsp; کو بھی ہم اپنے کھانوں میں گوشت کی جگہ استعمال کرتے ہیں۔</p>
<p dir="rtl">انہوں نے اپنے ریستوان کی سجاوٹ پر خاص توجہ دی ہے۔</p>
<p dir="rtl">ہما کہتی ہیں کہ یہ سب میرے بچوں کی محنت ہے۔ اس میں میرا کوئی ہاتھ نہیں۔</p>
<p dir="rtl">ریستوران میں استعمال ہونے والی تقریباً تمام سبزیاں مقامی کھیتوں اور مارکیٹوں سے خریدی جاتی ہیں۔ہما کہتی ہیں کہ ہم مقامی اور قدرتی طریقوں سے کاشت کی جانے والی سبزیاں خریدنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کبھی کبھی کوئی سبزی&nbsp; مقامی طور پر دستیاب نہیں ہوتی۔ لیکن جہاں تک ممکن ہے ہم مقامی سبزیاں ہی استعمال کرتے ہیں۔</p>
<p dir="rtl">ریستوران میں آنے والوں کے بارے میں ہما کہتی ہیں کہ ہمارے گاہکوں کا 98 فی صد حصہ امریکی ہے۔ ان میں سے بیشتر بہت شوق سے گوشت کے پکوان کھاتے ہیں۔ لیکن انہیں ہمارا کھانا بھی بہت پسند ہے۔</p>
<p dir="rtl">امریکہ کے ایک ایسے خطے میں جہاں عموما گوشت کے پکوان پسند کیے جاتے ہیں۔ ایک ایرانی ریستوران بہت غیر معمولی ہے۔ خاص طور پر ایک ایسا ریستوران جہاں صرف سبزیاں ہیں پیش کی جائیں۔</p>
<p dir="rtl">ہما کہتی ہیں کہ ان کے ریستوران کے بہت سے گاہک اپنے علاقے میں بھی ایسا ہی ریستوران دیکھنا چاہتے ہیں۔ امریکہ میں مقبولیت حاصل کرنے والے پکوانوں میں ایک نیا ذائقہ غیر روایتی ایرانی پکوان کا بھی ہے۔ جسےنارتھ کیرولائنا کے چیپل ہل کے لوگ بہت پسند کر رہے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 17 Nov 2010 13:17:38 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">108662264</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[آرش ارباسدی/آمنہ خان]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-11-17T13:17:38Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Iranian-vegetarian-restaurant-still-1.jpg" length="196554" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Iranian-vegetarian-restaurant-still-1.jpg" medium="image" isDefault="true" height="480" width="720" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Iranian-vegetarian-restaurant-still-300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
																																										</channel>
</rss>

