<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>


																																		



<rss xmlns:ymusic="http://music.yahoo.com/rss/1.0/ymusic/" xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" xmlns:cf="http://www.microsoft.com/schemas/rss/core/2005" xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"   version="2.0">
<channel>
	<title>VOA News:  مشرقِ وسطیٰ  </title>
	<link>http://www.voanews.com/urdu/news/middle-east</link>
		<description>مشرقِ وسطیٰ 
																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																								
	Voice of America
	</description>
	<language>ur</language> 	<copyright />
	<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 07:00:12 GMT</pubDate>
	<dc:creator />
	<dc:date>2012-02-10T07:00:12Z</dc:date>
	<dc:language>ur</dc:language> 	<dc:rights />
	<image>
		<title>Voice of America</title>
		<link>http://www.voanews.com/urdu</link>
		<url>http://media.voanews.com/designimages/VOARSSIcon.gif</url>
	</image>


						
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>ترکی: کرد باغیوں سے تعلق کا شبہ،  35 افراد گرفتار</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/world/Turkey-20Dec2011.html</link>
				<description>ترکی میں پولیس نے کرد باغیوں کی کالعدم  قرار دی گئی مسلح تنظیم  سے تعلق کے شبہ میں صحافیوں سمیت  کم از کم 35 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>ترکی میں پولیس نے کرد باغیوں کی کالعدم&nbsp; قرار دی گئی مسلح تنظیم&nbsp; سے تعلق کے شبہ میں صحافیوں سمیت&nbsp; کم از کم 35 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔</p>
<p>پولیس حکام نے منگل کو ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ ان افراد کو&nbsp; استنبول اور ملک کے چھ دیگر شہروں میں بیک وقت مارے گئے چھاپوں کے دوران حراست میں لیا گیا ہے۔</p>
<p>گرفتار شدگان پر الزام ہے کہ وہ 'کردستان کمیونیٹیز یونین (کے سی کے)' نامی تنظیم&nbsp; کے 'پریس اور پروپیگنڈا' سے متعلق گروپ کا حصہ ہیں۔ حکام 'کے سی کے' پر کرد باغیوں کی دہشت گرد&nbsp; تنظیم 'کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے)' سے روابط کا الزام عائد کرتے ہیں۔</p>
<p>ترکی کے سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ تازہ گرفتاریاں 'کے سی کے' سے وابستہ افراد کے کرد باغیوں سے مبینہ تعلقات &nbsp;کے حوالے سے جاری تحقیقات کا نتیجہ ہیں جس کے سلسلے میں اب تک تنظیم کے سینکڑوں اراکین کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔</p>
<p>لیکن گرفتار شدگان میں صحافیوں کی موجودگی کے باعث امکان ہے کہ ترک حکومت کے اس اقدام سے ملک میں صحافتی آزادی کی صورتِ حال کے حوالے سے عالمی خدشات میں اضافہ ہوگا۔</p>
<p>اس سے قبل بھی امریکہ اور یورپی یونین&nbsp; آزادی صحافت کی ابتر صورتِ حال پہ ترکی کو تنقید کا نشانہ بنانے کے علاوہ ترک حکومت سے انسدادِ دہشت گردی کے قوانین پہ نظر ثانی کا مطالبہ کرتے آئے ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ 'کردستان ورکرز پارٹی' 1984ء سے ترکی کے کرد اکثریتی جنوب مشرقی علاقوں&nbsp; کی خودمختاری کے لیے مسلح جدودجہد کر رہی ہے جس کے دوران اب تک 40 ہزار کے لگ بھگ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔</p>
<p>ترکی، امریکہ اور یورپی یونین نے تنظیم کی مسلح سرگرمیوں کے سبب اسے دہشت گرد گروپ قرار دے رکھا ہے۔</p>
<p>ترک حکومت 'پی کے کے' کو ایک بڑھتا ہوا خطرہ قرار دیتی ہے اور ماضی میں بھی&nbsp; ترک سیکیورٹی حکام کی جانب سے تنظیم کے ساتھ مبینہ طور پر تعاون کرنے یا تعلق&nbsp; رکھنے والے افراد کے خلاف کاروائی کی جاتی رہی ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ ترک افواج نے بھی&nbsp; حالیہ کچھ عرصے کے دوران عراق سے منسلک&nbsp; سرحد کے نزدیکی علاقوں میں موجود 'پی کے کے' کے ٹھکانوں پرکئی حملے کیے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 20 Dec 2011 18:15:13 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">135936413</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-12-20T18:15:13Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[دنیا]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
										
										
																	
																																															</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>ایران جوہری ہتھیار بنانے کے قریب پہنچ گیا</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/iran-nuke-07nov11-133347833.html</link>
				<description> اقوام متحدہ کے ادارے کو فراہم کی جانے والی خفیہ معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے جوہری ہتھیاربنانے والی ٹیکنالوجی پر کام جاری رکھا ہوا ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکی اخبارات نے کہا ہے کہ جوہری سرگرمیوں کی نگرانی کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے کو فراہم کی جانے والی خفیہ معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے جوہری ہتھیاربنانے والی ٹیکنالوجی پر کام جاری رکھا ہوا ہے۔</p>
<p>اخبار &rsquo;واشنگٹن پوسٹ&lsquo; نے اتوار کی شب خبر شائع کی ہے کہ خفیہ معلومات کا جائزہ لینے والے مغربی سفارت کاروں اور جوہری ماہرین کا خیال ہے کہ ایران نے غیرملکی سائنسدانوں کی مدد سےتکنیکی شعبے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے اہم پیش رفت کی ہے۔</p>
<p>بین الاقوامی ایٹمی توانائی کے ادارے، آئی اے ای اے، کے سابق عہدے دار ڈیوڈ البرائٹ نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا ہے کہ ایران میں اس سلسلے میں ہونے والی پیش رفت میں دھماکا خیز کیپسول کا نقشہ شامل ہے جس کی مدد سے جوہری دھماکا&nbsp;کیا جاتا ہے۔</p>
<p>اخبار &rsquo;نیویارک ٹائمز&lsquo; نے اطلاع دی ہے کہ خفیہ معلومات کی تفصیلات جن عہدے داروں کی دی گئی ہیں ان کا کہنا ہے کہ ایران میں ایک ایسی تنصیب موجود ہے جو ان کا ماننا ہے کہ جوہری ہتھیار کا تجربہ کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔</p>
<p>آئی اے ای اے اس ہفتے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں اپنی رپورٹ جاری کرے گی۔ ایران کے مذہبی رہنما آیت اللہ احمد خاتمی نے پیر کے روزبین الاقوامی تنظیم کومتنبہ کیا ہے کہ وہ اپنی رپورٹ جاری نہ کرے کیونکہ یہ اقدام عالمی ادارے کی ساکھ کو خراب کرے گی۔ &nbsp;</p>
<p>مغربی طاقتوں کا شبہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنا رہا ہے اور اُنھوں نے تہران کو ان کوششوں سے باز رکھنے کے لیے ایران پر پابندیاں بھی لگا رکھی ہیں۔ ایرانی حکومت کا موقف ہے کہ اُس کی جوہری سرگرمیاں پرامن مقاصد کے لیے ہیں۔</p>
<p>اسرائیل کے صدر شمون پیرز نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ بین الاقوامی برادری ایران کے جوہری پروگرام کے مسئلے کو سفارتی ذرائع کی بجائے اب فوجی طریقے سے حل کرنے کی کوششوں کے قریب ہوتی جا رہی ہے۔</p>
<p>اُنھوں نے اس ضمن میں&nbsp;عالمی رہنماؤں سے اپنے وعدے پورے کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ &nbsp;اسرائیلی رہنما نے یہ بیان صدر براک اوباما کے اس بیان سے ایک روز بعد دیا تھاجس میں امریکی رہنما نے ایران کے جوہری پروگرام کو ایک مسلسل خطرہ قرار دیتے ہوئے تہران پر زور دیا تھا کہ وہ ایٹمی توانائی کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔</p>
<p>
<object width="480" height="300" data="http://www.timetoast.com/flash/TimelineViewer.swf?passedTimelines=212391" type="application/x-shockwave-flash">
<param name="passedTimelines" value="212391" />
<param name="allowScriptAccess" value="always" />
<param name="bgColor" value="#FFFFFF" />
<param name="src" value="http://www.timetoast.com/flash/TimelineViewer.swf?passedTimelines=212391" />
<param name="bgcolor" value="#FFFFFF" />
</object>
</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Mon, 7 Nov 2011 11:09:48 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">133347833</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-11-07T11:09:48Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Iran-Press-Festival-Oct-2011.jpg" length="124945" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Iran-Press-Festival-Oct-2011.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/PNN_Ahmadinejad_300x3002.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>معمر قذافی کو آبائی شہر میں ہلاک کردیا گیا</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/world/libya-leader-20oct11-132228933.html</link>
				<description>امریکہ نے کہاہے  کہ لیبیا کے عہدے داروں سے قذافی کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>لیبیا کے سابق صدر معمر قذافی ہلاک ہوچکے ہیں۔ انہیں عبوری حکومت فورسز نے گولی مارکر ہلاک کیا۔</p>
<p>لیبیا کی عبوری حکومت کی فورسز نے معمر قذافی &nbsp;کے چار عشروں پر محیط مطلق العنان اقتدار کے&nbsp; خلاف سات ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے بعد جمعرات کے روز انہیں اپنے &nbsp;آبائی ساحلی قصبے سرت میں آخری معرکے میں ہلاک کردیا۔</p>
<p>لیبیا کی قومی عبوری کونسل کے سربراہ مصطفی عبدالجلیل نے طرابلس میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران قدافی کی ہلاکت کی تصدیق کی۔ قذافی کی عمر 69 سال تھی ۔<br />&nbsp; <span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>امریکہ کا کہناہے کہ اسے لیبیا کے عہدے داروں کی جانب سے قذافی کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی ہے۔</p>
<p>گلوبل ٹیلی ویژن نیٹ ورکس پر دکھائی جانے والی ایک ویڈیو میں قذافی کی خون میں لت پت نعش زمین پر پڑی ہوئی دکھائی گئی ہے، جسے قومی عبوری کونسل کی فورسز نے اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے۔</p>
<p>یہ واضح نہیں ہے کہ قذافی کی ہلاکت کن حالات میں ہوئی۔ قومی عبوری کونسل کے جنگجوؤں نے کہاہے کہ انہوں نے سرت میں قذافی کے حامیوں کی بچی کچی &nbsp;مزاحمت کچلنے کے بعد &nbsp;قذافی کوایک زیر زمین پناہ گاہ میں ڈھونڈ کرگولی مار دی۔</p>
<p>اس سے قبل لیبیا کی عبوری حکومت کے عہدے داروں نے ملک کے معزول رہنما معمر قذافی کی ایک حملے میں ہلاکت کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ قذافی کے آبائی گاؤں سرت میں قذافی حامی قوتوں کو بھی کچل دیا گیا ہے۔</p>
<p>&nbsp;اس سے قبل مصراتہ شہر میں قومی عبوری کونسل کے عہدے دار محمد عبدل قافی نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ قذافی کی نعش کوخفیہ مقام کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے لیکن اُنھوں نے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ ان کا کہناتھا کہ &rsquo;&rsquo;قذافی کی نعش ہمارے یونٹ کی تحویل میں ہے اور گاڑی میں اُسے ایک خفیہ مقام کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>الجزیرہ انگلش ٹیلی ویژن نے جمعرات کو اپنے ذرائع سے حاصل ہونے والی ایک ویڈیو فلم نشر کی ہے جس میں مخالفین معمر قذافی کی لاش کوسڑک پر گھسیٹ رہے ہیں۔</p>
<p>فلم میں لیبیا کے معزول رہنما کا خون میں لت پت چہرہ اور نیم برہنہ جسم دکھایا گیا ہے، جبکہ اُن کے سر میں لگنے والی گولی کا نشان بھی صاف نظر آرہا تھا۔</p>
<p>حکام کا کہنا ہے کہ جمعرات کو طلوع آفتاب کے وقت لیبیا کے معزول رہنما اپنے آبائی قصبے سرت سے ایک قافلے میں فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے جس پر نیٹو کے طیاروں نے بمباری کر دی۔</p>
<p>
<object id="slideshowXML" width="480" height="350" data="http://media.voanews.com/designvideo/slideshowXML.swf" type="application/x-shockwave-flash">
<param name="data" value="http://media.voanews.com/designvideo/slideshowXML.swf" />
<param name="align" value="middle" />
<param name="allowScriptAccess" value="always" />
<param value="xmlfile=http://www.voanews.com/templates/SlideshowPro.xml?&lt;span class=" />
<param name="FlashVars" value="xmlfile=http://www.voanews.com/templates/SlideshowPro.xml?contentid=132230738&amp;xmlfiletype=Default" />
<param name="allowFullScreen" value="true" />
<param name="quality" value="high" />
<param name="bgcolor" value="#ffffff" />
<param name="src" value="http://media.voanews.com/designvideo/slideshowXML.swf" />
<param name="name" value="slideshowXML" />
<param name="allowfullscreen" value="true" />
</object>
</p>
<p>
<object id="slideshowXML" width="480" height="350" data="http://media.voanews.com/designvideo/slideshowXML.swf" type="application/x-shockwave-flash">
<param name="data" value="http://media.voanews.com/designvideo/slideshowXML.swf" />
<param name="align" value="middle" />
<param name="allowScriptAccess" value="always" />
<param name="FlashVars" value="xmlfile=http://www.voanews.com/templates/SlideshowPro.xml?contentid=132247138&amp;xmlfiletype=Default" />
<param name="allowFullScreen" value="true" />
<param name="quality" value="high" />
<param name="bgcolor" value="#ffffff" />
<param name="src" value="http://media.voanews.com/designvideo/slideshowXML.swf" />
<param name="name" value="slideshowXML" />
<param name="allowfullscreen" value="true" />
</object>
</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 20 Oct 2011 14:22:14 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">132228933</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-10-20T14:22:14Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[دنیا]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Libya-Qasafi-4801.jpg" length="97845" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
																											
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Libya-Qasafi-4801.jpg" medium="image" isDefault="true" height="301" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP-Gadhafi-Death.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Gold-Libya-Sirte-300-Dist..jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																										</media:group>
																						</item>
									
													
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>امریکہ اسرائیل کےدرمیان نہ ٹوٹنے والا رشتہ استوارہے: اوباما</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/usa/obama_aipac_22may11-122416514.html</link>
				<description>صدر نے کہا کہ ابھی  فریقین کو علاقے کے تبادلے کا معاملہ باہمی رضامندی سے طے کرنا ہوگا تاکہ  اسرائیل اور فلسطین کے درمیان سرحدوں کے تعین کو حتمی شکل دی جاسکے </description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکی صدر براک اوباما نے اتوار کے دِن امریکہ کے ممتاز اسرائیل نواز لابیئنگ ادارے کو بتایا  کہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان &rsquo;نہ ٹوٹنے والے&lsquo; رشتے قائم  ہیں، اور اسرائیلی سکیورٹی کےبارے میں  امریکی عزم &rsquo;ناقابل تسخیر &lsquo;ہے۔</p>
<p>امریکن  اسرائیل پبلک افیئرس کمیٹی (اے آئی پی اے سی) سے صدر نےیہ خطاب  اسرائیل میں اپنے اس بیان پر برہمی کے ردِ عمل کے چند روز بعد کیا جس میں صدر نے تجویز کیا تھا کہ 1967ء سے قبل کی سرحد یں فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات کی بنیاد پر ہونی چاہئیں۔</p>
<p>اپنی تقریر میں مسٹر اوباما نے اپنے منصوبے کا دفاع کیا اور کہا کہ اُسے غلط طور پر پیش کیا گیا ہے۔</p>
<p>اُنھوں نے کہا کہ ابھی دونوں فریقوں کو علاقے کے تبادلے کا معاملہ باہمی رضامندی سے طے کرنا ہوگا تاکہ  اسرائیل اور فلسطین کے درمیان سرحدوں کے تعین کو حتمی شکل دی جائے۔</p>
<p>اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجامن نتن یاہو نے اوباما  تجویز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ  1967ء  میں ہونے والی مشرق وسطیٰ جنگ سے قبل جو سرحدین موجود تھیں وہ ناقابلِ دفاع ہیں۔</p>
<p>دونوں راہنماؤں کے درمیان  اختلافِ رائے  جمعے کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والی دو گھنٹے کی ملاقات کے بعد منظر ِعام پر آیا۔ تاہم ہفتے کو مسٹر نتن یاہو نے اِن اختلافات  کو کوئی نمایاں  اہمیت نہیں دی۔ <br /> اُنھوں نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ  مسئلے  میں فرق کو &rsquo;حد سے زیادہ  اچھالا گیا &lsquo;،  لیکن  اُنھوں نے تسلیم کیا کہ  اِس معاملے میں &rsquo;کچھ اختلافِ رائے&lsquo; ضرور موجود ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Mon, 23 May 2011 04:16:53 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">122416514</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-05-23T04:16:53Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[ امریکہ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/AIPAC.jpg" length="44734" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AIPAC.jpg" medium="image" isDefault="true" height="350" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AIPAC1.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>پاکستان: لیبیا کے سفارت خانے پر عبوری کونسل کا جھنڈا </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/islamabad-libya-flag-25aug11-128386048.html</link>
				<description>اب تک کئی ملکوں میں لیبیا کے سفارت خانے عبوری کونسل کے ساتھ وفاداری اور اس کاجھنڈ لہرانے کا اعلان کرچکے ہیں۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>پاکستان میں لیبیا کے سفارت خانے پر کرنل معمر قذافی کی مخالف کونسل کا جھنڈا لہرا دیا گیا ہے۔</p>
<p>اسلام آباد میں لیبیا کے سفیر الحاج ابراہیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 23 اگست کو اپنے تمام سفارتی عملے کے ساتھ ایک طویل اجلاس کے بعد اُنھوں نے عبوری قومی کونسل کے ساتھ وفاداری اور اس کی سربراہی میں کام جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p>انھوں نے کہا کہ اسی فیصلے کی روشنی میں اسلام آباد میں لیبیا کے سفارت خانے پر کونسل کا سرخ، سیاہ اور سبز پٹیوں والا جھنڈا لہرایا گیا ہے اور اس تبدیلی کے بارے میں پاکستانی حکام کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے۔</p>
<p>
<object id="slideshowXML" width="480" height="350" data="http://media.voanews.com/designvideo/slideshowXML.swf" type="application/x-shockwave-flash">
<param name="data" value="http://media.voanews.com/designvideo/slideshowXML.swf" />
<param name="align" value="middle" />
<param name="allowScriptAccess" value="always" />
<param name="FlashVars" value="xmlfile=http://www.voanews.com/templates/SlideshowPro.xml?contentid=128190398 &amp;xmlfiletype=Default" />
<param name="allowFullScreen" value="true" />
<param name="quality" value="high" />
<param name="bgcolor" value="#ffffff" />
<param name="src" value="http://media.voanews.com/designvideo/slideshowXML.swf" />
<param name="name" value="slideshowXML" />
<param name="allowfullscreen" value="true" />
</object>
</p>
<p>تاہم جمعرات کو ہفتہ وار نیوز کانفرنس کے دوران دفتر خارجہ کی ترجمان تہمینہ جنجوعہ سےجب لیبباکے سفارت خانے میں ہونے والی تبدیلی کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا &rsquo;&rsquo;سرکاری طور پر ابھی اس بارے میں حکومت پاکستان کو کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ &lsquo;&lsquo;</p>
<p>دفتر خارجہ کی ترجمان نے لیبیا کے حالات پر اپنے ملک کا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت وہاں صورت حال غیر واضح ہے اور پاکستان بغور جائزہ لے رہا ہے۔</p>
<p>&rsquo;&rsquo;طرابلس میں پاکستانی سفارت خانہ بھی مکمل طور پر فعال اور حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان تمام ریاستوں کی خود مختاری، سیاسی آزادی اور علاقائی سلامتی کے اصولوں کے مدنظر رکتھے ہوئے لیبیا کے حالات کا مسلسل جائزہ لے رہا۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>کرنل معمر قذافی کی مخالف فورسز اکیس اگست کو دارالحکومت طرابلس میں داخل ہوئی تھیں اور تب سے اب تک کئی ملکوں میں لیبیا کے سفارت خانے مفرور لیڈر کرنل معمر قذافی سے وفاداریاں ختم کرکے عبوری کونسل کے ساتھ وفاداری اور اس کا جھنڈا لہرانے کا اعلان کر چکے ہیں۔&nbsp;</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 25 Aug 2011 17:09:30 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">128386048</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-08-25T17:09:30Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/New+Flag+of+Libya_480.jpg" length="53715" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/New+Flag+of+Libya_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Libya+New+Flag_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>مصر:فوج کب اور کیسے اقتدار چھوڑے گی</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/egypt-tansformation-17feb11-116375694.html</link>
				<description>تجزیہ کار کہتے ہیں کہ یہ تشویش ہمیشہ باقی رہتی ہے کہ کسی ملک میں انقلاب آنے کے بعد، فوج، اقتدار سویلین کنٹرول  کے حوالے نہیں کرے گی</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;" dir="rtl">تقریباً تیس برس حکومت کرنے کے بعد، مسلمان اکثریت والے ایک ملک کے حکمراں کو سڑکوں پر عوام کے زبردست احتجاج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔فوج صدر کو، جو سابق جنرل ہیں،&nbsp; استعفیٰ دینے کے لیئے مجبور کرتی ہے ۔ سڑکوں پر لوگ دیوانہ وار جشن مناتے ہیں۔ صدر کے جانے کے بعد بھی فوج کے پاس کافی اختیارات ہیں۔ یہ کہانی جانی پہچانی معلوم ہوتی ہے لیکن یہ مصر&nbsp; اور حسنی مبارک کی کہانی نہیں ہے۔ یہ انڈونیشیا ہے جہاں صدر سہارتو کا تختہ الٹا گیا تھا۔</p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl">نیشنل سیکورٹی کونسل&nbsp; کی سابق ڈائریکٹر برائے ایشیائی امورکیرن بروکس کہتی ہیں کہ 2011 کے مصر اور 1998 کے انڈونیشیا کے درمیان کئی اہم باتیں مشترک ہیں۔&rsquo;&rsquo;دونوں ملکوں کے حکمراں ، مبارک اور سہارتو، تقریباً تیس برسوں سے امریکہ کے اتحادی تھے ، اور یہ کہا جا سکتا&nbsp; ہے کہ امریکی حمایت&nbsp; کی وجہ سے وہاں جمہوریت اور انسانی حقوق کا فقدان تھا۔ لیکن پھر خارجی عوامل کی وجہ سے، یعنی انڈونیشیا میں ایشیائی مالی بحران، اور مصر میں تیونس کی مثال سے حالات تبدیل ہو گئے۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl">مصر اور انڈونیشیا&nbsp; میں فوج کا سیاسی رول خاصا اہم رہا ہے ، اگرچہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ انڈونیشیا میں فوج زیادہ سرگرم تھی۔ سہارتو کے تحت فوج کا دہرا رول تھا جس میں وہ سیکورٹی اور سیاسی دونوں &nbsp;قسم کے فرائض انجام دیتی تھی۔ کیرن بروکس کہتی ہیں کہ دونوں ملکوں میں فوج نے کلیدی کردار ادا کیا۔&rsquo;&rsquo;دونوں ملکوں میں فوج سیکولر اور قوم پرست ادارہ ہے جس نے، خاص طور سے مصر میں، &nbsp;واقعات کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ دونوں ملکوں کے لیڈر فوج کے کہنے پر اقتدار سے دستبردار ہوئے۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl">مصر آج کل سپریم کونسل آف آرمڈ فورسز&nbsp; کے تحت ہے ۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ یہ تشویش ہمیشہ باقی رہتی ہے کہ کسی ملک میں انقلاب آنے کے بعد، فوج، اقتدار سویلین کنٹرول&nbsp; کے حوالے نہیں کرے گی۔لیکن سی آئی اے کے&nbsp; سابق سینیئر انٹیلی جنس تجزیہ کارایمائل نخلاح کہتے ہیں کہ انڈونیشیا میں فوج نے اقتدار چھوڑ دیا&nbsp; اور اس کی ایک وجہ وہ تربیت تھی جو انھیں امریکی فوجی اداروں میں ملی تھی۔</p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl">انھوں نے کہا&rsquo;&rsquo;انڈونیشیا کی فوج&nbsp; میں جو سابق ڈکٹیٹر سہارتو&nbsp; کے تحت تھی، بہت سے ایسے افسر تھے جنھوں نے امریکہ میں تربیت حاصل کی تھی ۔انھوں نے یہ بات سمجھ لی تھی کہ بالآخر انڈونیشیا کو آگے بڑھنے کے لیئے ، سویلین کنٹرول ضروری ہوگا۔ ملٹری پس منظر میں چلی گئی اور اس نے کہا کہ وہ انڈونیشیا کی حفاظت کرے گی ، چاہے حکومت کسی کی بھی ہو۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl">کیا مصر میں بھی فوج ایسا ہی کرے گی؟ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ انڈونیشیا کی طرح ، بہت سے مصری فوجیوں نے بھی امریکہ میں فوجی تربیت حاصل کی ہے ۔ امریکی فوج کے ریٹائرڈ کرنل جوزف انگلہارڈٹ&nbsp; جو قاہرہ میں امریکی فوجی اتاشی رہ چکے ہیں ، کہتے ہیں کہ فوج جتنی جلدی ممکن ہو، سیاست سے الگ ہونا چاہتی ہے۔&rsquo;&rsquo;میں سمجھتا ہوں کہ ان فوجی افسروں&nbsp; نے یہ کام اپنا فرض&nbsp; اور اپنی ذمہ داری سمجھ کر سنبھالا ہے ۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ&nbsp; ایک محدود وقت کے لیئے ہے ۔اس گروپ کا رجحان یہی ہوگا کہ انہیں جو کچھ کرنا ہے وہ کریں گے اور پھر وہ اپنے معمول کے کام پر واپس آ جائیں گے&nbsp; یعنی فوجی خدمات انجام دینا۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl">مصر کی فوجی کونسل نے کہا ہے کہ وہ عارضی طور سے چھ مہینے کے لیئے یا جب تک پارلیمانی اور صدارتی انتخاب نہیں ہو جاتے، ملک کا نظم و نسق&nbsp; چلائِے گی۔</p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl">سی آئے اے کے سابق افسرایمائل نخلاح کہتے ہیں کہ حکمراں فوج کے لیئے پہلا اور اہم ترین قدم یہ ہو گا کہ ملک میں امرجینسی ختم کی جائے۔&rsquo;&rsquo;وہ ہنگامی حالت کب ختم کریں گے؟ انھو ں نے پارلیمنٹ تحلیل کر دی ہے جو صحیح سمت میں اچھا قدم ہے ۔انھوں نے آئین ختم کر دیا ہے ۔انھوں نے موجودہ حکومت کو چھ مہینے کے لیئے عارضی طور پر باقی رکھا ہے ۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اہم بات یہ ہے کہ&nbsp; ہنگامی حالت کو ختم کیا جائے ۔ میرے خیال میں ، سب سے بڑا ٹیسٹ یہی ہوگا۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl">ہنگامی حالت کے تحت سیکورٹی فورسز کو بہت وسیع اختیارات حاصل ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 17 Feb 2011 08:06:14 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">116375694</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[گیری تھامس]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-02-17T08:06:14Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/AP110213011635.jpg" length="55972" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP110213011635.jpg" medium="image" isDefault="true" height="341" width="512" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/uzbek_egypt_military.jpg" medium="image" isDefault="false" height="222" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>عراقی وزیر ِ اعظم تیسری مدت کے لیے انتخاب میں حصہ نہیں لیں گے</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/iraq-malki-election-secondterm-05feb11-115389449.html</link>
				<description>عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے کہاہے کہ وہ تیسری مدت کے لیے وزیراعظم کے انتخاب میں حصہ نہیں لیں گے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>تازہ&nbsp; اطلاعات کے مطابق عراقی وزیرِ اعظم نوری المالکی 2014ء میں&nbsp; اپنے موجودہ&nbsp; عہدے کی میعاد پوری ہونے پر تیسری بار انتخاب نہیں لڑیں گے۔</p>
<p>ہفتے کے دِن مسٹر مالکی کے ایک مشیر اور شیعہ مسلک کے وزیرِ اعظم کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ وہ عراقی آئین میں یہ تبدیلی لانا چاہتے کہ کوئی شخص دومدتوں سے زیادہ بار وزیر اعظم&nbsp; کا عہدہ اپنے پاس نہ رکھ سکے۔</p>
<p>مسٹر مالکی معمولی اکثریت سے دوسری میعاد کے لیے منتخب ہوئے ہیں ۔ گذشتہ برس کے پارلیمانی انتخابات میں اُن کے سیاسی اتحاد کو اپنے حریف اتحاد &nbsp;سے دو نشستیں کم ملیں تھیں۔</p>
<p>تاہم،&nbsp; سنی جماعتوں پر مشتمل عراقی اتحاد پارلیمانی اکثریت کے لیے درکار&nbsp; نشستیں حاصل کرنے میں ناکام رہا۔&nbsp; کئی مہینوں کے &nbsp;سیاسی تعطل کے بعد شیعہ، سنی اور کرد راہنماؤں نے اقتدار میں شراکت کے ایک سمجھوتے پر دستخط کیے جس کے نتیجے میں مسٹرمالکی دوسری مدت کے لیے وزیر اعظم بن گئے۔&nbsp;</p>
<p>اِس ہفتے مسٹر مالکی نے عراق میں امیر اور غریب کے درمیان فرق کم کرنے کی ایک علامت کے طورپر اپنی سالانہ تنخواہ&nbsp; نصف کرنے کا اعلان کیا۔&nbsp; خبروں کے مطابق اس سے قبل ان کی سالانہ تنخواہ &nbsp;تین لاکھ 60 ہزار ڈالر تھی۔</p>
<p>مسٹر مالکی کی طرف سے یہ کوششیں&nbsp;&nbsp; ایک ایسے وقت میں کی جارہی ہیں &nbsp;&nbsp;جب ملک کے مذہبی&nbsp; راہنما &nbsp;خبر دار کر رہے ہیں کہ بدعنوانی اور دیگر مسائل&nbsp; عراق میں&nbsp; تیونس &nbsp;اور مصر جیسے حالات کو جنم دے سکتے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sun, 6 Feb 2011 00:58:19 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">115389449</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-02-06T00:58:19Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP_Iraq_Biden_13Jan2011_300.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>جھڑپوں پرمصری وزیراعظم کی معافی</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/egypt-pm-apology-03feb11-115176644.html</link>
				<description>جمعرات کو سرکاری ٹی پر خطاب میں وزیر اعظم نے گذشتہ روز حکومت کے حامیوں کی طرف سے صدر مبارک کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں پر حملے کو ”واضح غلطی “ قرار دیا ہے ۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">مصر کے وزیراعظم احمد شفیق نے قاہرہ کے التحر یر اسکوائرمیں صدر حسنی مبارک کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان ہونے والی جھڑپو ں پر معافی مانگتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ جمعرات کو سرکاری ٹی وی&nbsp;پر خطاب میں وزیر اعظم نے گذشتہ روز حکومت کے حامیوں کی طرف سے صدر مبارک کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں پر حملے کو &rdquo;واضح غلطی &ldquo; قرار دیا ہے۔&nbsp;اُنھوں نے کہا کہ جو بھی ان حملوں میں ملوث پائے گئے اُن&nbsp;کو قرار&nbsp;واقع&nbsp;سزا دی&nbsp;جائے گی۔&nbsp;</p>
<p style="text-align: right;">وزیراعظم نے کہا&rdquo;کل جو کچھ بھی ہوا میں اُس پر معافی مانگتاہوں کیوں کہ نہ تواس کی کوئی منطق تھی اور نہ ہی یہ کوئی معقول اقدام تھا&ldquo;۔</p>
<p style="text-align: right;">صدر مبارک کی طرف سے گذشتہ ہفتے ہی مقرر کیے گئے وزیراعظم احمد شفیق کی طرف سے معافی پرملک کے مختلف حلقے تعجب کا اظہار کر رہے ہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ حکمرانوں کی طرف کسی معاملے پراس سے پہلے معذرت کی مثال کم ہی ملتی ہے ۔</p>
<p style="text-align: right;">مصری فوج نے شہر کے اہم علاقے میں جمع دونوں دھڑوں کو ایک دوسرے سے پرے دھکیل کر اُن کے درمیان اہلکار تعینات کر کے ٹینک کھڑے کر دیے ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">&nbsp;جمعرات کی صبح التحریر اسکوائر کے قریب فائرنگ بھی ہوئی ہے جس میں اطلاعات کے مطابق کم ازکم تین افراد ہلاک&nbsp; اور بیسیوں زخمی ہوئے۔ کرفیو کے باوجود ملک میں 30سال سے برسر اقتدار صدر حسنی مبارک کے مخالفین اور حامیوں کے درمیان جھڑپوں کی وجہ سے التحریر اسکوائر میدان جنگ بنا رہا۔</p>
<p style="text-align: right;">صدر حسنی مبارک کے استعفے کا مطالبہ کرنے والوں کا الزام ہے کہ اُن پر تشدد مصری حکومت کی ایماء پر کیا جا رہا ہے اور اس میں شامل افراد کا تعلق پولیس سے تھا۔</p>
<p style="text-align: right;">مظاہرین کے درمیان بدھ کو ہونے والی جھڑپوں میں مصری وزارت صحت کے مطابق تین افراد ہلاک اور لگ بھگ سات سوزخمی ہوئے تھے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 3 Feb 2011 13:12:01 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">115176644</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-02-03T13:12:01Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/AP110202023088.jpg" length="70441" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP110202023088.jpg" medium="image" isDefault="true" height="392" width="512" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/afp_egypt_dueling_protesters_security_03feb11_300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>مصر کی صورت حال پر اسرائیل کی تشویش</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/egypt-israel-protests-effects-29jan11-114864729.html</link>
				<description>اسرائیل کو مصر کی صورت حال پر گہری تشویش ہے کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والا  امن معاہدہ گذشتہ 30 برس سے صدر حسنی مبارک کے باعث ہی موثر چلاآرہاہے۔  </description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>مصر میں جنم لینے والی حالیہ بے چینی کے اثرات&nbsp; اسرائیل سمیت پورے مشرق وسطیٰ میں محسوس کیے جارہے ہیں۔ &nbsp;اور ماہرین کا کہناہے کہ مصر میں حکومت کی تبدیلی اسرائیل کے لیے مسائل کھڑے کرسکتی ہے۔</p>
<p>اسرائیل کو مصر کی صورت حال پر گہری تشویش ہے کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والا &nbsp;امن معاہدہ گذشتہ 30 برس سے صدر حسنی مبارک کے باعث ہی موثر چلاآرہاہے۔ &nbsp;اسرائیل اس معاہدے کو اسٹرٹیجک اثاثہ سمجھتا ہے اور اسے خطرہ ہے کہ مصر میں حکومت کی تبدیلی سے امن معاہدہ خطرے میں&nbsp; پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>اسرائیلی&nbsp; تجزیہ کار یونی بن مناشم کا کہناہے کہ حزب اختلاف جماعتوں یا مسلم بردار ہڈ تنظیم کی زیر قیادت حکومت اسرائیل کے خلاف سخت رویہ اختیار کرسکتی ہے۔</p>
<p>ان کا کہناہے کہ وہ ایک دشمن حکومت ثابت ہوسکتی ہے جو اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کا احترام نہیں کرے گی اور اسے منسوخ یاختم کردے گی اور اسرائیل اور مصر محاذ آرائی کی طرف لوٹ جائیں گے۔</p>
<p>ایسی صورت حال اسرائیل کے لیے دفاعی نوعیت کی پیچیدگیاں پیدا کرسکتی ہے کیونکہ&nbsp; اس کی دو سرحدوں پر پہلے ہی سے محاذ آرائی پر آمادہ عناصر موجود ہیں، یعنی لبنان میں حزب اللہ اور غزہ میں حماس۔</p>
<p>اور بن مناشم کا خیال ہے کہ اس سلسلے کا اگلا ملک پڑوس میں واقع&nbsp; اردن ہوسکتا ہے۔</p>
<p>وہ کہتے ہیں کہ مصر کی بے چینی کے دوہرے اثرات ہوسکتے ہیں اور مصر میں حکومت کا خاتمہ اردن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے اور پھر یہ کہ اردن کے ساتھ بھی ہمارا امن کا ایک معاہدہ موجودہے۔ اور اگر ایسا ہوتا ہے اور مشرق وسطی میں سٹرٹیجک نوعیت کی کوئی تبدیلی رونماہوتی ہے تو وہ اسرائیلی ریاست کے حق میں نہیں ہوگی۔</p>
<p>اگرچہ مصراور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کو اکثراوقات ایک &rsquo;سرد معاہدہ&lsquo; کہاجاتا ہے ، بن مناشم کہتے ہیں کہ اسرائیل صدر حسنی مبارک کے ساتھ اپنے تعلقات کی قدر کرتا ہے اورانہیں اسرائیل اور عرب دنیا کے درمیان ایک پل کے طورپر دیکھتا ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sat, 29 Jan 2011 21:58:47 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">114864729</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-01-29T21:58:47Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/egypt_01_29_11_480X3001.jpg" length="175220" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/egypt_01_29_11_480X3001.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/israel-egypt-flag.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>ارد ن : وزیراعظم برطرف ، نئی حکومت کی تشکیل</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/jordan-cabinet-115007154.html</link>
				<description>شاہ عبداللہ نے ملک میں ہونے والے مظاہروں کے تناظر میں وزیراعظم سمیر رفاعی کی حکومت کو برطرف کر کے معروف البخت کو وزارت عظمیٰ کا منصب سونپا ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">اردن کے شاہی محل نے کہا ہے کہ شاہ عبداللہ نے ملک میں ہونے والے مظاہروں کے تناظر میں وزیراعظم سمیر رفاعی کی حکومت کو برطرف کر کے معروف البخت کو وزارت عظمیٰ کامنصب سونپا ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">شاہ عبداللہ کی طرف سے یہ فیصلہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب تیونس میں حکومت کے خاتمے اور مصر حکومت مخالف بحران کے بعد ہزاروں لوگوں نے اردن کی گلیوں مظاہرے کر کے وزیراعظم سمیررفاعی کے استعفے کا مطالبہ کیا۔</p>
<p style="text-align: right;">سابق وزیراعظم رفاعی پر تیل اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے اور سیاسی اصلاحات میں سست روی کا الزام تھا۔ اردن کے شاہی محل سے جاری ہونے والے بیان میں کہا ہے کہ رفاعی کی کابینہ منگل کو مستعفی ہو گئی ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 1 Feb 2011 14:30:16 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">115007154</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-02-01T14:30:16Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/ap_jordan_protest_480_21Jan11.jpg" length="92085" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_jordan_protest_480_21Jan11.jpg" medium="image" isDefault="true" height="320" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Jordan_abdullah.jpg" medium="image" isDefault="false" height="320" width="320" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>مصر میں فوج کا سڑکوں پر گشت</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/egypt-army-29jan11-114848119.html</link>
				<description>صدر حسنی مبارک نے مظاہروں کو روکنے کے لیے شہروں میں فوج کی تعیناتی کا حکم دے کر ایک سخت پیغام بھی دیا ہے کہ وہ اپنے 30 سالہ اقتدار سے الگ ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">اطلاعات کے مطابق مصر میں ہفتہ کی صبح فوج سڑکوں پر گشت کر رہی ہے اور جمعہ کو ملک میں ہونے والے پرتشدد حکومت مخالف مظاہروں کے بعد صورت حال بظاہر پرسکون ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">صدر حُسنی مبارک نے جمعہ کی شب قوم سے خطاب میں کابینہ کو برطرف کرتے ہوئے، نئی کابینہ تشکیل دینے اور اقتصادی و سیاسی اصلاحات کے اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ لیکن مظاہروں کو روکنے کے لیے قاہرہ سمیت شہروں میں فوج اور ٹینکوں کی تعیناتی کا حکم دے کر ایک سخت پیغام بھی دیا ہے کہ وہ اپنے 30 سالہ اقتدار سے الگ ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔</p>
<p style="text-align: right;">انھوں نے کہا کہ انھیں معلوم ہو چکا ہے کہ عوام اصلاحات پر پیش رفت چاہتی ہے لیکن اس کے لیے تشدد کا راستہ اپنانا ہرگز درست اقدام نہیں اور نا ہی حکومت کے لیے یہ قابل برداشت ہوگا۔ تاہم اس کے باوجود مظاہرین سڑکوں پر موجود رہے کیونکہ ان کا موقف ہے کہ انھیں شکایت حکومت سے نہیں خود حسنی مبار ک سے ہے اور پہلے بھی اصلاحات کے وعدوں پر عمل کے اعلانات سن چکے ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">&nbsp;مصر میں احتجاجی مظاہروں کی شروعات انٹرنیٹ پر سماجی ویب سائٹس ہوئیں اور مظاہرین کا تعلق زیادہ تر تعلیم یافتہ اورمتوسط طبقے سے ہے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سڑکوں پر اکٹھے ہونے والے ہجوم میں معاشرے کے دوسرے طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد&nbsp;بھی ان میں شامل ہوتے گئے۔&nbsp; تاہم کیا فوج کی مدد سے حکومت مخالف ملک گیر احتجاجی مظاہروں کی حوصلہ شکنی کی جاسکے گی فی الحال اس بار ے میں صورت حال واضح نہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">&nbsp;&lt;!--IMAGE--&gt;</p>
<p style="text-align: right;">&nbsp;</p>
<p style="text-align: right;">&nbsp;تیونس کے صدر زین العابدین بن علی نے بھی حکومت کے خلاف بغاوت کا رخ موڑنے کے لیے ایسے ہی اقدامات کا اعلان کیا لیکن جب انھیں معلوم ہوا کہ فوج مظاہرین پر گولی نہیں چلانا چاہتی تو وہ مستعفی ہوگئے۔ صبح کے وقت حکومت کو برطر ف کرنے اور قبل از وقت انتخابات کا اعلان کرنے والے تیونس کے صدر شام کے وقت ملک سے فرار ہوکر سیاسی پناہ کے لیے سعودی عرب پہنچ گئے۔</p>
<p style="text-align: right;">مبصرین کا کہنا ہے کہ مصر میں مظاہروں اور حکومت کے مستقبل کا دارومدار فوج کے کردار پر ہوگا لیکن فل الحال اس بارے میں صورت حال واضح نہیں ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">&nbsp;مصرمیں طاقت ور فوج کے ادارے پر 82 سالہ صدر مبارک، جو فضائیہ کے سابق کمانڈر بھی تھے، کی گرفت بظاہر مضبوطی سے قائم ہے اور فوج سے تصادم مظاہرین کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔</p>
<p style="text-align: right;">مصر میں 2004ء میں کابینہ کی تشکیل کے بعد ملک میں محصولات اور کسٹم ڈیوٹی میں کمی کے اعلانات کے بعد ملک میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے جس نے حالیہ برسوں میں اقتصاد ی ترقی کی شرح چھ فیصد رہی لیکن ملک کی غر یب عوام کو شکایت ہے کہ معاشی خوشحالی کے اثرات اُن تک نہیں پہنچ رہے۔</p>
<p style="text-align: right;">مصر میں سرمایہ کار بظاہر اس تذبذب کا شکار ہے کہ نئی کابینہ میں اقتصادی امور کی ذمہ داریا ں کسے سونپی جائیں گی اور کیا اقتصادی اصلاحات کا عمل روک دیا جائے گا۔</p>
<p style="text-align: right;">&nbsp;</p>
<p style="text-align: right;">&nbsp;</p>
<p style="text-align: right;">&nbsp;</p>
<p style="text-align: right;">&nbsp;</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sat, 29 Jan 2011 05:59:26 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">114848119</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-01-29T05:59:26Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/APEgyptProtestsDemonstrations28Jan2011.jpg" length="47294" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
																											
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/APEgyptProtestsDemonstrations28Jan2011.jpg" medium="image" isDefault="true" height="351" width="512" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/APEgyptProtestsDemonstrationsPolice28Jan2011Tease.jpg" medium="image" isDefault="false" height="369" width="369" />
																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/ElBaradei-protest.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																										</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>مصر میں مظاہرے شدت اختیار کرگئے، 3 ہلاک</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/egypt_anti_government_rallies_26jan11-114663579.html</link>
				<description>سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ دارلحکومت قاہرہ میں ہوا  جس میں شریک ہزاروں  افراد  اور پولیس  کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا، تشدد کا نشانہ بنایا  اور کئی سو افراد کو گرفتار کرلیا</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>مصر کے کئی شہروں میں بدھ کو مسلسل دوسرے روز بھی حکومت مخالف مظاہرے جاری رہے جن کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد&nbsp; تین ہوگئی ہے۔</p>
<p>بدھ کے روز سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ دارلحکومت قاہرہ میں ہوا جس میں شریک ہزاروں&nbsp; افراد اورپولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا، تشدد کا نشانہ بنایا&nbsp; اور کئی سو افراد کو گرفتار کرلیا۔</p>
<p>
<object width="465" height="354" data="http://www.voanews.com/MediaAssets2/projects/db%20project/project/soundslider.swf" type="application/x-shockwave-flash">
<param name="data" value="http://www.voanews.com/MediaAssets2/projects/db%20project/project/soundslider.swf" />
<param name="src" value="http://www.voanews.com/MediaAssets2/projects/db%20project/project/soundslider.swf" />
</object>
</p>
<p>برادر عرب ملک تیونس کے عوامی انقلاب کے &nbsp;زیرِ اثر ہونے والے حالیہ مظاہروں کا سلسلہ&nbsp; مصر کے کئی شہروں میں پھیل گیا ہے۔ مظاہرین صدر حسنی مبارک&nbsp; کے استعفیٰ اور ملک میں&nbsp; معاشی اور سیاسی اصلاحات متعارف کرانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔</p>
<p>حالیہ مظاہروں کو گزشتہ 30 سال سےبرسرِ اقتدار مصری صدر حسنی مبارک کی حکومت کے خلاف&nbsp; اب تک کا سب سے بڑا، شدید اور منظم احتجاج قراردیا جارہا ہے۔ حسنی مبارک 1981 میں اس وقت کے صدر انوارالسادات کے قتل کے بعد سے مسلسل اقتدار پر فائز ہیں۔</p>
<p>ملک بھر میں جاری حالیہ مظاہروں کے دوران اب تک تین افراد کی ہلاکت&nbsp; کی تصدیق کی جاچکی ہے جن میں سے دو افراد پولیس تشدد سے ساحلی شہرسوئز جبکہ ایک پولیس اہلکار&nbsp; مظاہرین سےجھڑپوں کے دوران قاہرہ میں ہلاک ہوا۔</p>
<p>بدھ کے روز قاہرہ کے &lsquo;تحریر اسکوائر' پہ ہزاروں نوجوان کئی گھنٹے مظاہرہ کرتے رہے۔&nbsp; پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش پر مظاہرین مشتعل ہوگئےاور انہوں نے پولیس پر پتھرائو کیا&nbsp; اور صدر حسنی مبارک کی&nbsp; کئی تصاویر کو آگ لگادی۔ اس موقع پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا، آنسو گیس کے شیل فائر کیے اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔</p>
<p>اسکندریہ، منصورہ اور محلہ الکبریٰ&nbsp; سمیت مصر کے کئی دیگر&nbsp; چھوٹے بڑے شہروں میں بھی ہزاروں افراد نے&nbsp; حکومت مخالف مظاہروں میں شرکت کی۔</p>
<p>مظاہروں کا اعلان حزبِ مخالف کی جماعتوں کے اتحاد "کفایہ موومنٹ" اور مصری نوجوانوں کی&nbsp; مقامی تنظیموں&nbsp; کی جانب سے سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس "فیس بک" اور "ٹوئٹر" پہ کیا گیا تھا۔</p>
<p>مظاہروں کا اہتمام کرنے والی تنظیموں&nbsp; نے اپنے پیغامات میں کہا ہے کہ مصری نوجوان بھی تیونس کے عوامی انقلاب کو جنم دینے والے عوامل، بشمول غربت اور حکومتی&nbsp; جبر، کا شکار ہیں اور ان کی جانب سے یہ مظاہرے&nbsp; ان نوجوانوں کے غصے&nbsp; کا اظہار کرنے کیلیے منعقد کیے جارہے ہیں۔</p>
<p>مغربی میڈیا میں آنے والی اطلاعات کے مطابق مصر میں "ٹوئٹر" ویب سائٹ کو منگل کی شب بلاک کردیا گیا ہے جس تک رسائی تاحال بحال نہیں ہوسکی ہے۔</p>
<p>مصر کی آٹھ کروڑ سے زائد&nbsp; آبادی کا&nbsp; تقریباً نصف حصہ غربت&nbsp; کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کررہا ہے۔&nbsp; بنیادی تعلیم اور صحت کی سہولیات کی عدم فراہمی ، بڑھتی ہوئی بے روزگاری &nbsp;اور سیاسی پابندیوں کے باعث&nbsp; اکثر مصری باشندے&nbsp; تشویش کا شکار ہیں اور معاشرے میں بے چینی پھیل رہی ہے۔</p>
<p>منگل کے روز ہونے والے مظاہرے ابتدائی طور پر پر امن رہے تھے اور حکومت کی جانب سے مظاہرین سے "سختی کے ساتھ نبٹنے" کی دھمکیوں کے باوجود&nbsp; بیشتر مقامات پر سیکیورٹی اہلکاروں نے مظاہروں میں مداخلت سے گریز کیا تھا۔ تاہم عینی شاہدین کے مطابق مظاہرے اس وقت&nbsp; پرتشدد ہوگئے جب قاہرہ میں مظاہرین نے خود کو منتشر کرنے کیلیے طلب کیے گئے واٹر کینن ٹرک پر قبضہ کی کوشش کی۔&nbsp;</p>
<p>حزبِ مخالف کی بڑی&nbsp; جماعتوں، بشمول&nbsp; لبرل "وفد" پارٹی اور دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی مصر کی سب سے بڑی اور منظم&nbsp; اپوزیشن جماعت "اخوان المسلمین" کی جانب سے حالیہ مظاہروں کی حمایت کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم ان جماعتوں کے کئی رہنما اور ارکان گزشتہ روز ہونے والے مظاہروں میں شریک ہوئے۔</p>
<p>مصر میں 1981ءسےنافذ&nbsp; ایمرجنسی قوانین &nbsp;کے تحت&nbsp; ملک میں پیشگی اجازت کے بغیر&nbsp; مظاہروں پر پابندی عائد ہے۔ تاہم حکومت مخالف گروپوں&nbsp; کا کہنا ہے کہ انہیں حکام کی جانب سے&nbsp; اس مقصد کیلیے اجازت نامے&nbsp; نہیں دیے گئے۔</p>
<p>مصر میں ہونے والے حالیہ مظاہرے&nbsp;&nbsp; عرب دنیا کے ایک اور ملک&nbsp; تیونس&nbsp; میں آنے والے عوامی انقلاب&nbsp; کے پسِ منظر میں کیے جارہے ہیں&nbsp; جہاں چلنے والی عوامی تحریک&nbsp;&nbsp; اور شورش کے باعث ملک پر 23 سال سے برسرِ اقتدار&nbsp; زین العابدین بن علی&nbsp;&nbsp; کو رواں ماہ صدارت کا عہدہ چھوڑ کر ملک سے فرار ہونے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔</p>
<p>"پرامن" رہنے کی امریکی اپیل</p>
<p>دریں اثناء وہائٹ ہائوس نے مصر کی تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ &nbsp;تشدد سے گریز کا راستہ اپناتے ہوئے پر امن رہیں ۔&nbsp; وہائٹ ہائوس کے ترجمان&nbsp; کا کہنا ہے کہ حالیہ مظاہروں نے&nbsp; مصری حکومت کو ملک میں ایسی سیاسی ، معاشی اور معاشرتی اصلاحات متعارف کرانے کا ایک موقع فراہم کیا ہے جو ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں مددگار ثابت ہوسکیں۔</p>
<p>امریکی سیکریٹری خارجہ ہیلری کلنٹن&nbsp; نے بھی منگل کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ " اظہارِ رائے اور اجتماع کی آزادی"&nbsp; کے بنیادی حقوق کی&nbsp; حمایت کرتا ہے تاہم مصری باشندوں کو تشدد سے باز رہنا چاہیے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 26 Jan 2011 19:54:30 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">114663579</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-01-26T19:54:30Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/ap_egypt_protesters_clash_26jan11_480.jpg" length="56069" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_egypt_protesters_clash_26jan11_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="309" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_Egypt_protests_police_sq_eng26jan11.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>بغداد میں متعدد بم حملے، آٹھ ہلاک</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/Iraq-Bomb-Blast-23jan11-114445459.html</link>
				<description> دو کار بم دھماکوں میں گشت پر معمور پولیس کو نشانہ بنایا گیا جب کہ تیسرے حملے کا ہدف ایران سے آئے ہوئے زائرین کی بس تھی۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">عراق میں حکام نے بتایا ہے کہ دارالحکومت بغداد میں اتوار کو ہونے والے متعدد بم حملوں میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور لگ بھگ 30 زخمی ہو گئے ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">حکام کے مطابق دو کار بم دھماکوں میں گشت پر معمور پولیس کو نشانہ بنایا گیا جب کہ تیسرے حملے کا ہدف ایران سے آئے ہوئے زائرین کی بس تھی۔ ان واقعات میں پولیس اہلکاروں سمیت متعدد اہلکار ہلاک ہوئے۔</p>
<p style="text-align: right;">اُدھر بغداد کے شمال میں واقع علاقے تاجی میں ایک کار بم دھماکے میں دو افراد مارے گئے۔</p>
<p>گذشتہ سالوں کے دوران عراق میں تشدد کے واقعات میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے تاہم اب بھی گاہے بگاہے ملک کے مختلف حصوں میں اس طرح کے واقعات عام ہیں۔ گزشہ ہفتے &nbsp;کے دوران عراقی سیکیورٹی فورسز &nbsp;اور شعیہ مسلمانوں کے خلاف&nbsp; حملوں میں اضافہ ہوا ہے &nbsp;جن میں اب تک ڈیڑھ سو افراد&nbsp; کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔</p>
<p>ملک میں نئی حکومت کی تشکیل کے بعد بھی تشدد میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور وزیر اعظم نوری المالکی نے ابھی تک اہم محکموں جیسے دفاع اور داخلی سیکیورٹی کے لئے وزرا کا اعلان نہیں کیا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sun, 23 Jan 2011 13:23:42 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">114445459</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-01-23T13:23:42Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/ap_iraq_violence_23jan11_eng_480.jpg" length="48058" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_iraq_violence_23jan11_eng_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="322" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_iraq_violence_23jan11_eng_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>سعودی عرب میں خود سوزی کا پہلا واقعہ</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/saudi-arabia-immolation-22jan11-114427259.html</link>
				<description>سرکاری عہدے داروں نے ہفتے کے روز کہا کہ ہلاک ہونے والا نامعلوم شخص یمن کی سرحد کے قریب جنوب مغرب میں واقع سمتا کا رہنے والا تھا اوراس کی عمر 60 سال کے لگ بھگ تھی ۔ </description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>سعودی عرب کے عہدے داروں کا کہناہے کہ چند روز پہلے جس شخص نے خود پر مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگالی تھی، &nbsp;وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسپتال میں ہلاک ہوگیا ہے۔</p>
<p>تیونس میں ایک ایسے ہی واقعہ کے بعد، جس سے حکومت مخالف جذبات بھڑک اٹھے تھے، &nbsp;سعودی عرب میں کسی شخص کی جانب سے خودسوزی &nbsp;کا یہ پہلا واقعہ ہے۔</p>
<p>سرکاری عہدے داروں نے ہفتے کے روز کہا کہ ہلاک ہونے والا نامعلوم شخص یمن کی سرحد کے قریب جنوب مغرب میں واقع سمتا کا رہنے والا تھا اوراس کی عمر 60 سال کے لگ بھگ تھی ۔ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ وہ جمعے کے روز ہلاک ہوا۔</p>
<p>دسمبر میں تیونس کے ایک یونیورسٹی گریجوایٹ نوجوان نے بے روزگاری سے دلبرداشتہ ہوکر خود کو جلاکر ہلاک کرلیاتھا۔ اس کےبعد سے مصر، الجزائر اور مراکش سمیت خطے کے ملکوں میں خود سوزی کے واقعات کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔</p>
<p>تیونس میں خود سوزی کے واقعہ کے بعد بے روزگاری، خوراک کی مہنگائی اور سرکاری پالیسیوں کے&nbsp; خلاف بڑے پیمانے پر مظاہروں کے&nbsp; نتیجے میں صدر زین العابدین کو ملک سے فرار ہونے پر مجبور ہونا پڑاتھا۔</p>
<p>حالیہ دنوں میں علاقے کے کئی دوسرے ملکوں جن میں یمن ، اردن اور الجزائر شامل ہیں، احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sun, 23 Jan 2011 00:00:51 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">114427259</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-01-23T00:00:51Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
										
										
																	
																																															</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>یمن میں حکومت مخالف مظاہرہ</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/yemen-protest-university-22jan11-114426979.html</link>
				<description>ہفتے کے روز سینکڑوں طالب علم اور دوسرے مظاہرین نے صنعا یونیورسٹی کے اندر اکھٹے ہوکر حکومت مخالف نعرے لگائے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>یمن میں سینکڑوں مظاہرین نے صدر علی عبداللہ صالح کے اقتدار کے خاتمہ کا مطالبہ کیاجو کئی عشروں سے ملک پر حکومت کررہے ہیں۔</p>
<p>ہفتے کے روز سینکڑوں طالب علم اور دوسرے مظاہرین نے صنعا یونیورسٹی کے اندر اکھٹے ہوکر حکومت مخالف نعرے لگائے۔</p>
<p>مظاہرین بظاہر تیونس &nbsp;میں &nbsp;احتجاجی مظاہروں کی حالیہ لہر &nbsp;سے متاثر دکھائی دے رہے تھے جس کے نتیجے میں اس مہینے کے شروع میں برطرف صدر زین العابدین بن علی کو ملک سے فرار پر مجبور ہونا پڑاتھا۔</p>
<p>فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یمنی طالب علم ایک بینر اٹھائے ہوئے تھے جس پر تحریر تھا کہ &lsquo; انقلاب ِیاسمین سے سیکھو&lsquo;۔&nbsp; جو تیونس&nbsp; کے حالیہ مظاہروں کی جانب اشارہ تھا۔</p>
<p>خبررساں ادارے کا کہناہے کہ ہفتے ہی کے روز کئی اور لوگوں نے صدر کے حق میں جلوس نکالے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sat, 22 Jan 2011 23:56:26 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">114426979</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-01-22T23:56:26Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/YEMEN+M.png" length="282802" type="image/png" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/YEMEN+M.png" medium="image" isDefault="true" height="299" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/APYemenProtests22Jan2011Tease.jpg" medium="image" isDefault="false" height="332" width="332" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
													
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>سوڈان: جنوبی حصے  کی آزادی کے لیے ریفرنڈم مکمل </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/sudan-south-referendum-15jan11-113824874.html</link>
				<description>جنوبی سوڈن کے لوگوں کو توقع ہے کہ ووٹ کی طاقت سے ان کا علاقہ ملک کے  شمالی حصے سے الگ ہو کر دنیا کے نقشے پر ایک نئی مملکت کی شکل میں ظاہر ہوگا۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>&nbsp;سوڈان کے جنوبی حصے کی آزادی کے لیے تاریخی ریفرنڈم کی ووٹنگ سات دن تک جاری رہنے کے بعد ہفتے کے روز ختم ہوگئی اور ابتدائی اشاروں سے لگتا ہے کہ وہاں &nbsp;پر بڑی تعداد &nbsp;میں &nbsp;لوگوں نے ملک کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے لئے ووٹ ڈالے ہیں۔</p>
<p>جنوبی سوڈن کے لوگوں کو توقع ہے کہ ووٹ کی طاقت سے ان کا علاقہ ملک کے شمالی حصے سے الگ ہو کر دنیا کے نقشے پر ایک نئی مملکت کی شکل میں ظاہر ہوگا۔ ہفتے کی شام سورج غروب ہونے کے ساتھ ہی پولنگ اسٹیشنوں کے دروازے بند کردیے گئے۔</p>
<p class="ingress1">ریفرنڈم کے ابتدائی نتائج کا اعلان 31 جنوری کو ہوگا اور حتمی نتائج چھ فروری یا اس سے قبل متوقع ہیں۔مگر &nbsp;ابتدائی طور پر ایسے اشارے مل رہے ہیں &nbsp;کہ &nbsp;وہاں کے لوگوں نے بڑی تعداد میں شمال سے الگ ہوکر ایک نیا ملک بنانے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔</p>
<p>امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے جنوبی سوڈان میں اہم شہر جوبا میں دس مقامات کے ایک جائزے کے مطابق تیس ہزار ووٹوں میں سے تقریباً96فی صد نے الگ وطن کے حق میں ووٹ ڈالے ہیں۔ انتخابی عہدے داروں نے تصدیق کی ہے کہ ریفرنڈم کی قانونی&nbsp; حیثیت کے لیے ڈالے گئےووٹوں کی تعداد 60 فی صد سے زیادہ ہونا ضروری ہے۔</p>
<p>جنوبی سوڈان کے اہم رہنما سلوا کر نے اتوار کو اپنے ایک بیان میں اپنے حمایتیوں سے خانہ جنگی میں شمال کے کردار پر اسے معاف کردینے کی اپیل کی ہے۔ &nbsp;&nbsp;&nbsp;</p>
<p>گذشتہ ہفتے کے روز اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بن کی مون نے2005ء میں امن معاہدے پر دستخط کرنے والی جماعتوں اور جنوبی سوڈان کے ریفرنڈم کمشن کو سراہا &nbsp;تھا جنہوں نے آزادی&nbsp; کی سمت قدم بڑھانے کے لیے ریفرنڈم کی راہ ہموار کی تھی۔انہوں نے تمام سوڈانیوں پر زور دیا کہ وہ حتمی نتائج کے اعلان کا صبرو سکون کے ساتھ انتظار کریں۔ اس معاہدے کے تحت سوڈان میں شمال میں مسلمان اکثریت اور جنوب میں&nbsp; عیسائی آبادی کے درمیان اکیس سالہ خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا تھا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sun, 16 Jan 2011 01:10:10 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">113824874</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-01-16T01:10:10Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/ap_southern_sudan_referendum_480_15Jan11.jpg" length="75995" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_southern_sudan_referendum_480_15Jan11.jpg" medium="image" isDefault="true" height="323" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Sudan+Ref+230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
													
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>تنونس :فواد مبازا عبوری صدربن گئے</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/tunisia-president-interm-15jan11-113824584.html</link>
				<description>پارلیمنٹ کے اسپیکر فواد مبازا نے  صدر زین العابدین  بن علی کے سعودی عرب فرار ہونے کے بعد ہفتے کے روز ملک کے عبوری صدر کے طورپر حلف اٹھایا۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>تیونس&nbsp; میں بڑے پیمانے پر &nbsp;احتجاجی مظاہروں کے بعد برسراقتدار صدر کے ملک چھوڑ جانے کےبعد اب &nbsp;دارالحکومت تیونس میں مخلوط&nbsp; حکومت بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔</p>
<p>پارلیمنٹ کے اسپیکر فواد مبازا نے&nbsp; صدر زین العابدین&nbsp; بن علی کے سعودی عرب فرار ہونے کے بعد ہفتے کے روز ملک کے عبوری صدر کے طورپر حلف اٹھایا۔ فواد ٕمبازا نے ملک کے وزیر اعظم محمد گھناؤچی کو مخلوط حکومت بنانے کے لئے کہا ہے اور دو ماہ کے اند ر ملک میں انتخابات کرانے پر بھی زور دیا ہے۔</p>
<p>صدر زین العابدین&nbsp; ملک میں مظاہروں کے بعد تئیس سال تک برسر اقتدار&nbsp; رہنے کے بعد گزشتہ ہفتے ملک سے فرار ہو گئے تھے۔ دارالحکومت تیونس میں پولیس اور فوج کے ٹینک شہر میں گشت کررہے ہیں جس کے &nbsp;باعث صورت حال بہتر ہو رہی ہے۔ اس سے قبل ہفتے کے روز تیونس شہر کے مختلف حصوں میں گولیاں چلنے کی آوازیں سنی گئیں اور سڑکوں پر رات بھر کے بلوؤں اور لوٹ مار کے باعث سڑکوں پر ملبے کے ڈھیر بدستور دکھائی دے رہے تھے۔</p>
<p>اخباری اطلاعات کے مطابق اتوار کو دارالحکومت تیونس کے شمال میں ملک کی فوج اور سابق صدر زین العابدین کے حمایتی صدارتی &nbsp;گارڈز کے درمیان مسلح جھڑپ جاری ہے جس میں فائرنگ کے تبادلے کی اطلاعات ہیں۔ اس سے قبل صدارتی گارڈز کے سربراہ ملک کی نئی قیادت &nbsp;کے خلاف &nbsp;منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ &nbsp;</p>
<p>ایسوسی ایٹڈ پریس کی خبروں میں&nbsp;بتایاگیا ہے کہ وسطی تیونس میں وزارت داخلہ کے سامنے سیکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ خبررساں ادارے اے پی کے نمائندوں کے مطابق وہاں دو افراد زمین پرپڑے دوافراد کو دیکھا گیا اور یہ واضح نہیں ہے کہ آیا وہ زندہ تھے یا مردہ۔</p>
<p>اتوار کو امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے تیونس کے وزیر خارجہ کامل مورجانے سے فون پر بات چیت کی اور نئی قیادت پر زور دیا کہ ملک میں جتنی &nbsp;جلد ممکن ہو &nbsp;امن وامان قائم کیا جائے۔</p>
<p>&nbsp;</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sun, 16 Jan 2011 00:59:00 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">113824584</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-01-16T00:59:00Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/ap_tunisia_riots_12jan2011_480.jpg" length="80864" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_tunisia_riots_12jan2011_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="325" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_Tunisia_protest_eng14jan11.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
													
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>اسرائیلی اور فلسطینی نمائندوں کی اگلے ہفتے واشنگن میں ملاقات</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/israel-palestine-talks-washington-08jan11-113139034.html</link>
				<description>مشرق وسطیٰ امن مذاکرات دوبارہ آغاز کی ایک کوشش  کے طور پر اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نتن یاہو کے ایک نمائندے  اگلے ہفتے واشنگٹن میں فلسطینی نمائندے سے ملاقات کریں گے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">مشرق وسطیٰ امن مذاکرات دوبارہ آغاز کی کوشش&nbsp; کے سلسلے میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نتن یاہو کے ایک نمائندے &nbsp;اگلے ہفتے امریکہ جارہے ہیں۔</p>
<p dir="rtl">اسرائیلی عہدے داروں نے ہفتے کے روز کہا کہ Yitzhak Molcho واشنگٹن میں فلسطینی نمائندے سے ملاقات کریں گے۔</p>
<p dir="rtl">دونوں فریقوں کے درمیان امن مذاکرات ستمبر میں اس وقت معطل ہوگئے تھے جب اسرائیل نے مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر پرعائد عارضی پابندی کی توسیع سے انکار کردیا تھا۔</p>
<p dir="rtl">&nbsp;فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت سے مذاکرات میں نہیں آئیں گے جب تک اسرائیل اس سرزمین پر عمارتوں کی تعمیر بند نہیں کرتا جسے وہ اپنے مستقبل کی ریاست کے طورپر دیکھتے ہیں۔</p>
<p dir="rtl">ہفتے ہی کی ایک اورخبر کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے کہاہے کہ انہوں نےمغربی کنارے کی ایک پڑتالی چوکی پر پائپ بم لے جانے والے &nbsp;ایک فلسطینی کو گولی مار کرہلاک کردیا ۔</p>
<p dir="rtl">اسرائیلی فوج کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی باشندہ &nbsp;ایک ٹیکسی میں سوار ہوکر چوکی پر پہنچا۔ پھر اس نے ٹیکسی سے باہر نکل دھماکہ خیز مواد کے ساتھ چوکی کی طرف بھاگتے ہوئے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا۔</p>
<p dir="rtl">گولی مارنے کا یہ واقعہ اسی پڑتالی چوکی پر ہوا جہاں پچھلے اتوار اسرائیلی فوجیوں نے ایک اور فلسطینی کو ہلاک کردیاتھا جو مبینہ طورپر رکنے کا حکم نظر انداز کرتے ہوئے &nbsp;ایک بوتل کے ساتھ فوجیوں کے قریب جانے کی کوشش کررہاتھا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sat, 8 Jan 2011 22:42:39 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">113139034</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-01-08T22:42:39Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Israel_Curious_Map_300.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>مشرق وسطی میں امن مذاکرات کی بحالی کی کوشش</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/middle-east-peace-05jan11-112925439.html</link>
				<description>ستمبر 2010ء میں یہودی بستیوں کی تعمیر پر عارضی پابندی کے اختتام کے بعد اسرائیلی اور فلسطینی رہنماؤں کے درمیان براہ راست مذاکرات کا عمل معطل ہو گیا تھا۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سے متعلق اعلیٰ ترین عہدے دار کیتھرین ایشٹن اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تعطل کا شکار امن مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کے سلسلے میں بدھ کو مشرق وسطی پہنچ رہی ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">اخبار &rdquo;یروشلم پوسٹ&ldquo; کے مطابق ایشٹن بدھ کو یروشلم میں اسرائیلی حکام اور جمعرات کو رملہ میں فلسطینی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گی۔</p>
<p style="text-align: right;">ایشٹن نے کہا ہے کہ گفت و شنید کے ذریعے تلاش کیے گئے حل کا کوئی متبادل نہیں ہو سکتا ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">ایک بیان میں اُنھوں نے کہا ہے کہ یورپی یونین تنظیم اسرائیل اور ایک &rdquo;آزاد اور خودمختار&ldquo; فلسطینی ریاست کو امن و سلامتی کے ساتھ رہتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">ستمبر 2010ء میں یہودی بستیوں کی تعمیر پر عارضی پابندی کے اختتام کے بعد اسرائیلی اور فلسطینی رہنماؤں کے درمیان براہ راست مذاکرات کا عمل معطل ہو گیا تھا۔</p>
<p style="text-align: right;">فلسطینی رہنماؤں نے کہا ہے کہ جب تک مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اسرائیلی تعمیرات جاری ہیں امن مذاکرات کا سلسلہ بحال نہیں کیا جا سکتا ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 5 Jan 2011 10:11:37 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">112925439</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2011-01-05T10:11:37Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/ap_belgium_eu_ashton_480_08Nov10.jpg" length="65762" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_belgium_eu_ashton_480_08Nov10.jpg" medium="image" isDefault="true" height="308" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/palestine+israel+peace+talk_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>یمن: القاعدہ کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/yemen-alquaida-fightings-usa-25december10-112457674.html</link>
				<description>امریکہ کے انسداد دہشت گردی کے مشیر جان برینن نے بدھ کے روز یمن کے صدر  علی عبداللہ صالح سے فون پر اس سلسلے میں اپیل کی تھی۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">یمن کا کہناہے کہ وہ جنوبی شورش زدہ علاقے میں موجود القاعدہ کی مقامی شاخ سے نمٹنے کے لیے فورسز تعینات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔</p>
<p dir="rtl">یمنی حکومت نے ہفتے کے روز کہا کہ وہ جزیرہ نما عرب میں موجود القاعدہ سے مقابلے کے لیے &nbsp;شبوا، ابین، حضرموت اور مارب میں انسداد دہشت گردی کے یونٹ لگانا چاہتی ہے۔</p>
<p dir="rtl">یمنی حکومت کا یہ اعلان امریکہ کی جانب سے ملک میں موجود القاعدہ عسکریت پسندوں کے خلاف لڑنے پر زور دینے کے بعد سامنے آیا ہے۔</p>
<p dir="rtl">امریکہ کے انسداد دہشت گردی کے مشیر جان برینن نے بدھ کے روز یمن کے صدر&nbsp; علی عبداللہ صالح سے فون پر اس سلسلے میں اپیل کی تھی۔</p>
<p dir="rtl">برینن نے یمنی صدر پر زور دیاتھا کہ وہ القاعدہ کی جانب سے ملک کے اندر اور بشمول امریکہ دیگرملکوں پر حملوں سے روکنے کے لیے ان کے خلاف مؤثر کارروائی کرے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sun, 26 Dec 2010 00:36:22 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">112457674</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-12-26T00:36:22Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Yemen+230.jpg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																																																		</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>نائیجریا میں بم دھماکے، 38 افراد ہلاک</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/christmas-nigeria-killing-25december10-112456964.html</link>
				<description>شمالی شہر میدغری  کے حکام کا کہنا ہے کہ اسلام پرست فرقے بوکو حرام  نے تین گرجاگھروں پر پٹرول بم پھینکے جن سے چھ افراد ہلاک اور  ایک گرجاگھر راکھ کا ڈھیر بن گیا۔ </description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">نائیجریا میں کرسمس کی شام یعنی 24 دسمبر کو سلسلے وار بم دھماکوں اور حملوں میں ، جس میں کئی گرجاگھر بھی نشانہ بنے، کم ازکم 38 افراد ہلاک ہوگئے۔</p>
<p dir="rtl">سب سے بدترین حملہ، جس میں &nbsp;امکانی طورپر ڈائنا مائٹ استعمال ہواتھا، مرکزی شہر جاس میں ہوا۔ ہفتے کے روز پولیس نے کہا کہ اس حملے میں کم ازکم 32 افراد ہلاک اور 74 زخمی ہوئے۔</p>
<p dir="rtl">&nbsp;دو مختلف علاقوں میں سات حملے کیے گئے۔</p>
<p dir="rtl">جاس کا شہر نائیجریا کے مغربی حصے میں واقع ہے&nbsp; جس کا شمار افریقہ کے سب سے گنجان آباد علاقوں&nbsp; میں کیا جاتا ہے ۔ اس&nbsp; کے شمال میں مسلمانوں اور جنوب میں عیسائیوں کی اکثریت ہے۔ اس علاقے میں مذہبی اور نسلی بنیادوں پر تصادم کے واقعات عموماً ہوتے رہتے ہیں۔</p>
<p dir="rtl">شمالی شہر میدغری&nbsp; کے حکام کا کہنا ہے کہ اسلام پرست فرقے بوکو حرام&nbsp; نے تین گرجاگھروں پر پٹرول بم پھینکے جن سے چھ افراد ہلاک اور&nbsp; ایک گرجاگھر راکھ کا ڈھیر بن گیا۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک پادری&nbsp; بھی تھا جس کا گھر بھی تباہی ہوگیا۔</p>
<p dir="rtl">نائیجریا کے صدر گڈلک جوناتھن نے حملوں کی مذمت کی ہے۔&nbsp; ان کا کہنا ہے کہ حملے کے ذمہ داروں کو گرفتار کرکے ان پر مقدمہ چلایا جائےگا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sun, 26 Dec 2010 00:02:54 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">112456964</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-12-26T00:02:54Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Mobile3001.jpg" medium="image" isDefault="true" height="301" width="300" />
																																																																		</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>اسرائیل پر حملے بڑھاسکتے ہیں: حماس</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/gaza-israel-hamas-rocket-attacks-25december10-112454764.html</link>
				<description>حالیہ عرصے میں اسرائیل پر راکٹ اور مارٹر گولے داغنے کے واقعات حماس کی بجائے غزہ کی ایک اور چھوٹی سی تنظیم کی جانب سے کیے گئے ۔ </description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس نے کہا ہے کہ اگر غزہ&nbsp; اسرائیل سرحد کے ساتھ کشیدگی میں کمی نہ ہوئی تووہ اسرائیل کے خلاف حملوں میں اضافہ کرسکتا ہے۔</p>
<p dir="rtl">حماس کے ترجمان ابو عبیدہ نے ہفتے کے روز کہا کہ ان کی تنظیم اسرائیلی حملوں کا سختی کے ساتھ جواب دے گی۔</p>
<p dir="rtl">ان کا یہ بیان حماس کے ایک اعلی راہنما محمود اظہر کے اس تبصرے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس معاہدے پر قائم ہیں جس پر دوسال قبل اسرائیل اور حماس نے دستخط کیے تھے۔تاوقتتکہ کہ اسرائیل بھی ایسا ہی کرے۔</p>
<p dir="rtl">اسرائیل اور حماس نے دونوں فریقوں کے درمیان 22 روز جنگ کے خاتمے پر معاہدے پر دستخط کیے تھے۔</p>
<p dir="rtl">پچھلے ہفتے کے دوران فلسطینی عسکریت پسندوں نے جنوبی &nbsp;اسرائیل پر 25 سے زیادہ راکٹ داغے تھے ، جس سے ایک اسرائیلی لڑکی زخمی ہوگئی تھی۔ اسرائیل نے اس کے جواب میں &nbsp;فضائی حملے کیے جس میں سے ایک حملے میں پانچ فلسطینی ہلاک ہوگئے جو اسرائیل پر راکٹ داغنے کی تیاری کررہے تھے۔</p>
<p dir="rtl">پچھلے جمعے کو اسرائیل جنگی طیاروں نے &nbsp;حماس کے زیر قبضہ غزہ کی پٹی میں کئی اہداف پر حملے کیے، جن میں کم ازکم دو افراد زخمی ہوگئے تھے ۔ یہ حملے جنوبی اسرائیل میں عسکریت پسندوں کی جانب سے ایک راکٹ اور ایک مارٹر گولہ پھینکے جانے کے بعد ہوئےتھے۔</p>
<p dir="rtl">اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے طیاروں نے غزہ اور مصرکی سرحد پر واقع سرنگوں کو بھی نشانہ بنایا جن کے ذریعے غزہ میں ہتھیار اور دوسرے سامان کی اسمگلنگ کی جاتی ہیں۔</p>
<p dir="rtl">حالیہ عرصے میں اسرائیل پر راکٹ اور مارٹر گولے داغنے کے واقعات حماس کی بجائے غزہ کی ایک اور چھوٹی سی تنظیم کی جانب سے کیے گئے ۔ اسرائیل&nbsp; اپنے علاقے پر کسی بھی طرح کے حملے کا ذمہ دار حماس کو قرار دیتا ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sat, 25 Dec 2010 21:10:06 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">112454764</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-12-25T21:10:06Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/AP_Mideast_Israel_Palestinians_22Dec2010_480.jpg" length="184651" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP_Mideast_Israel_Palestinians_22Dec2010_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="320" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_palestinians_hamas_230_25Dec10.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>غزہ پر اسرائیلی فضائی حملہ، پانچ فلسطینی ہلاک</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/israel-gaza-airstrike-18december10-112131804.html</link>
				<description>اسرائیلی فوج نے کہاہے کہ ان پانچوں فلسطینوں کو اس وقت ہدف بنایا گیا جب وہ  جنوبی اسرائیلی کمینونیٹیز  پر راکٹ داغنے کی  تیاری کررہے تھے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">غزہ کی پٹی میں ایک اسرائیلی فضائی حملے میں پانچ فلسطینی عسکریت پسند ہلاک ہوگئے</p>
<p dir="rtl">ہفتے کے روز اسرائیلی فوج نے کہاہے کہ ان پانچوں فلسطینوں کو اس وقت ہدف بنایا گیا جب وہ &nbsp;جنوبی اسرائیلی کمینونیٹیز&nbsp; پر راکٹ داغنے کی&nbsp; تیاری کررہے تھے۔</p>
<p dir="rtl">عسکریت پسندوں کی شناخت کے سلسلے میں کوئی معلومات نہیں دی گئیں۔</p>
<p dir="rtl">عسکریت پسند فلسطینی تنظیم حماس کے پاس غزہ کی پٹی کا کنٹرول ہے جہاں سے عموماً &nbsp;اسرائیل کو ہدف بنا کر راکٹ داغے جاتے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sat, 18 Dec 2010 23:39:32 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">112131804</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-12-18T23:39:32Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
										
										
																	
																																															</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>امریکہ کی عراق حکمت عملی</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/us-iraq-24dec10-112413259.html</link>
				<description>عراق میں جنگی مشن کے اختتام کے اعلان کے بعد بھی  امریکی دستے معمولی عراقی  نگرانی میں  جنگی کارروائیاں کرتے آ رہے ہیں۔ </description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">اس سال اگست میں امریکہ نے عراق میں اپنی جنگی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے وہاں سے اپنے لڑاکا فوجی دستوں کو واپس بلالیاتھا، لیکن تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ وہاں سکیورٹی کی صورت حال اب بھی خراب ہے اور حکومت کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔</p>
<p dir="rtl">عراق میں جنگی مشن کے اختتام کے اعلان کے بعد بھی&nbsp; امریکی دستے معمولی عراقی&nbsp; نگرانی میں&nbsp; جنگی کارروائیاں کرتے آ رہے ہیں۔ یہاں تک کہ&nbsp; جون 2009میں امریکی جنگی دستوں کو عراق سے نکالنے کے منصوبے پر بھی عملدرآمد&nbsp; نہیں ہوا۔ مارچ کے پارلیمانی انتخابات میں تمام اہم جگہوں پرامریکی دستے تعینات تھے۔</p>
<p dir="rtl">واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ سے منسلک چارلس ڈن اس سوال کے بارے میں&nbsp; کہ کیا&nbsp; 2011کے آخر میں امریکی افواج &nbsp;مکمل طورپر وہاں سے نکل سکیں گی، کہتے ہیں کہ انحصاراس بات پر ہے کہ امریکہ اور عراق کے درمیان دفاعی تعلقات&nbsp; کیسے آگے بڑھتے ہیں۔ اور &nbsp;اہم سوال یہ ہے کہ 2011کے آخر کے بعد امریکہ کتنے دستے عراق میں چھوڑے گا۔</p>
<p dir="rtl">چارلس کا کہنا ہے کہ سکیورٹی&nbsp; کے معاہدے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان امریکی افواج کے انخلا اور عراقی فوجیوں کی مکمل ذمہ داریاں سنبھالنے کے لئے&nbsp; تربیت کے بارے کوئی باضابطہ بات چیت نہیں ہوئی۔ &nbsp;امریکی فوج&nbsp; کے کچھ افسران کا خیال ہے کہ جب امریکہ نکلے گا تو عراقی فورسز&nbsp; ان کی جگہ لینے کے لئے تیار ہوں گی۔</p>
<p dir="rtl">&nbsp;امریکی فوج کے بریگیڈیر جنرل جیفری پچانن کہتے ہیں کہ عراقی فورسز نے پچھلے کچھ ماہ میں سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھالی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتخابات&nbsp; کے روز سے حکومت کی تشکیل تک کے آٹھ ماہ&nbsp; کے دوران &nbsp;اور &nbsp;ایک نگران حکومت&nbsp; کے باوجود عراقی فوجی &nbsp;اپنی چوکیوں پر ڈٹے رہے ہیں۔</p>
<p dir="rtl">&lt;!--IMAGE--&gt;</p>
<p dir="rtl">مگر مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر چارلس ایک تنظیم سنز آف عراق کے بارے میں فکر مند ہیں۔ &nbsp;سنی اقلیت سے تعلق رکھنے والے اس گروہ نے شدت پسندی&nbsp; کو چھوڑ کر امریکی کارروائیوں کا ساتھ دیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ان میں سے نصف&nbsp; کو حکومت&nbsp; نے سکیورٹی اداروں میں&nbsp; ملازم رکھ لیا تھا ۔ مگر تقریباً 50 ہزار کے پاس اب بھی روزگار نہیں ہے اور نہ ہی انہیں کوئی معاوضہ دیا جارہا ہے۔ خدشہ ہے کہ مستقبل میں&nbsp; القاعدہ کے لئے&nbsp; ان میں سے کچھ کو اپنے ساتھ ملانا آسان ہوگا۔&nbsp;&nbsp;</p>
<p dir="rtl">اس کے ساتھ ساتھ عراق میں کردوں کا مسلہ بھی ہے جو نسلی اعتبار سے اکثریتی عربوں سے مختلف ہیں۔ اس سارے بحران کے دوران&nbsp; وہ&nbsp; شمال میں قدرے خودمختار رہے ہیں۔ مگر حال ہی میں&nbsp;&nbsp; وہاں حق خود ارادیت&nbsp; کی تحریک ایک ٹائم بم ثابت ہو سکتی ہے&nbsp; خاص طور پر&nbsp; اس لئے بھی کہ کردستان&nbsp; اور عرب دنیا کو تقسیم کرنے والا علاقہ متنازع ہے&nbsp; اور تیل کی دولت سے مالا مال کرکوک&nbsp; پربھی تنازع موجود ہے۔</p>
<p dir="rtl">&nbsp;جان ہاپکنز یونیورسٹی سے منسلک ڈینیئل کا خیال ہے کہ &nbsp;یہ مسئلہ عراق میں استحکام کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ &nbsp;وہ کہتے ہیں کہ میرے خیال میں&nbsp; ہمیں 2011آخر تک کوئی ایسا&nbsp; سیاسی عمل شروع کرنے کی فکر کرنی ہوگی جس سے اس مسئلے کے پرامن حل میں مدد مل سکے۔</p>
<p dir="rtl">مگر یہ بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی کہ عراقی حکومت &nbsp;اس مسئلے اوراور دوسرے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے&nbsp; یا نہیں۔ حکومت سازی کے مسئلے پر سیاسی رسہ کشی کی وجہ سے بہت سے حل طلب معاملات کھٹائی میں پڑے&nbsp; رہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ٕفریقین کو اکٹھا کرنے سے معاملات بگڑ سکتے ہیں۔&nbsp;</p>
<p dir="rtl">اب جب امریکہ فوجی مشن سے دورہو رہا&nbsp; ہے اور سفارتی حکمت عملی کی طرف بڑھ رہا ہے&nbsp; اسے اور بھی بہت سے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ شیعہ مذہبی&nbsp; رہنما مقتدیٰ&nbsp; الصدر جنہیں ایران کی حمایت حاصل ہے نئی حکومت میں&nbsp; کافی اہم کردار ادا کریں گے۔ امریکہ ٕٕمخالف الصدر موجودہ عراقی وزیراعظم نوری المالکی سے بھی کوئی زیادہ انس نہیں رکھتے۔</p>
<p dir="rtl">کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس وقت نہ چاہتے ہوئے بھی مقتدیٰ&nbsp; الصدر&nbsp; کے حامیوں&nbsp; سے&nbsp; نمٹنا&nbsp; سفارتکاری کے مرحلے میں داخل ہونے اور مستحکم عراق کے لئے بے حد اہم ہے۔</p>
<p dir="rtl">وہ کہتے ہیں کہ میرے خیال میں&nbsp; اس وقت&nbsp; ہم انہیں ایک معتدل قوت بننے کا موقع&nbsp;&nbsp; دے سکتے ہیں۔اور صاف بات &nbsp;یہ ہے ہمیں انہیں تہران سے اپنی طرف کھینچنا ہوگا۔ یہ صرف&nbsp; اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم ان سے بات کریں گے ۔</p>
<p dir="rtl">ڈینیئل کو فکر ہے کہ جیسے جیسے &nbsp;&nbsp;فوجی واپس آرہے ہیں امریکیوں نے عراق کو بھولنا شروع&nbsp; کر دیا&nbsp; ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عراق&nbsp; ہمیشہ سے&nbsp; ایک اہم ملک&nbsp; رہا ہے۔ &nbsp;دنیا کی تاریخ میں اپنے کردار کی وجہ سے اہم ہے۔ خطے میں اپنی موجودگی کے اعتبار ،تیل اور اپنے پڑوسیوں کی وجہ سے اہم ہے۔</p>
<p dir="rtl">مگر عراق کو بھولنا ایک ایسی غلطی ہے جو شاید امریکہ2011کے آخر میں کرنے کے قابل نہیں&nbsp; ہوگا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 24 Dec 2010 04:38:47 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">112413259</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[الزبتھ اروٹ/ندیم یعقوب]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-12-24T04:38:47Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/AP_new_Iraqi_government_21dec10_480.jpg" length="155803" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
																											
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP_new_Iraqi_government_21dec10_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="336" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_us_soldiers_iraq_4dec2010_eng_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_iraq_christian_attacks_10nov10_eng_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																										</media:group>
																						</item>
									
													
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>مصر: جارج مچل اورصدر محمود عباس کی مصری صدر  سے ملاقات</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/egypt-michell-abbas-president-meetings-15december10-111916699.html</link>
				<description>مشرقِ وسطیٰ کےلیے اقوامِ متحدہ  کےخصوصی نمائندہ  رابرٹ سیری نے کہا  ہے کہ  اسرائیل فلسطین تنازعے کا  حل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک امریکی تعاون سے ہونے والے دو طرفہ براہِ راست مذاکرات کا عمل بحال نہیں ہوجاتا۔ </description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">فلسطینی&nbsp; صدر محمود عباس اور&nbsp; امریکہ کے نمائندہ&nbsp; خصوصی برائے مشرقِ وسطیٰ جارج مچل نے&nbsp; بدھ کے روز قاہرہ&nbsp; میں مصر کے صدر حسنی مبارک سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی ہیں جن میں مشرقِ وسطیٰ میں امن مذاکرات کی بحالی کے معاملے پر غور کیا گیا۔</p>
<p dir="rtl">محمود عباس اور جارج مچل خصوصی طور پر بدھ کے روز&nbsp; مصر کے دارالحکومت &nbsp;قاہرہ پہنچے تھے جہاں انہوں نے مصری صدر سے ملاقات کے بعد&nbsp; عرب لیگ کے عہدیداران سے بھی علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔</p>
<p dir="rtl">مصر کی خبر رساں ایجنسی "مینا" کے مطابق&nbsp; مصری حکام سے اپنی ملاقاتوں میں دونوں راہنماؤں نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی بحالی کیلیے مصر کے ممکنہ کردار پر تبادلہ خیال کیا۔</p>
<p dir="rtl">خبررساں ادارے مینا کا کہنا ہے کہ ملاقاتوں میں ایک ایسی علیحدہ&nbsp; آزاد فلسطینی ریاست کے قیام&nbsp; کیلیے مصر کی&nbsp; حمایت&nbsp; کے معاملے پر بھی غور کیا گیا جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم کو بنایا جائے گا۔</p>
<p dir="rtl">امریکی خصوصی سفارت کار&nbsp; پیر کی شب خطے&nbsp;&nbsp; کے ہنگامی دورے پر پہنچے تھے جہاں انہوں نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو اور فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقاتیں کی تھیں۔</p>
<p dir="rtl">دریں اثناء مشرقِ وسطیٰ کیلیے اقوامِ متحدہ&nbsp; کےخصوصی نمائندہ&nbsp; رابرٹ سیری نے کہا&nbsp; ہے کہ &nbsp;اسرائیل فلسطین تنازعے کا&nbsp; حل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک امریکی تعاون سے ہونے والے دو طرفہ براہِ راست مذاکرات کا عمل بحال نہیں ہوجاتا۔</p>
<p dir="rtl">منگل کے روز اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے اپنے خطاب میں سیری نے 2011 ءکو خطے کے مسائل کے حل کےلیے ایک اہم سال قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل، فلسطین تنازعے کے حل کے طور پر خطے میں دو آزاد ریاستوں&nbsp; کے قیام کے امکانات&nbsp; آئندہ سال کے آغاز تک واضح ہونے کا امکان ہے۔</p>
<p dir="rtl">سیری نے اپنے خطاب میں دو قومی مذاکراتی عمل میں تیسرے ثالث&nbsp; کی موجودگی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے&nbsp; امریکہ، یورپی یونین، اقوامِ متحدہ اور روس پر مشتمل چار رکنی گروپ&nbsp; کے ارکان سے معطل مذاکراتی عمل میں فعال کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 15 Dec 2010 13:55:08 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">111916699</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-12-15T13:55:08Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/abbas-mubarak.jpg" length="45241" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/abbas-mubarak.jpg" medium="image" isDefault="true" height="308" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_us_george_mitchell_300_08dec10.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
																		
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>کین کون معاہدے  ایک متوازن اور اہم پیش رفت ہیں: ہلری کلنٹن </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/cancun-agreements-hillary-remarks-11december10-111732799.html</link>
				<description>آج یہ اعلان کرتے ہوئے مجھے خوشی محسوس ہورہی ہے کہ ہم نے کین کون معاہدے طے کیے  جو آب و ہوا کی تبدیلی کے اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن کے تحت متوازن بین الاقوامی فیصلوں  کا ایک مجموعہ ہیں۔ جو آب وہوا کی تبدیلی پر ہمارے عالمی ردعمل میں ایک بامعنی پیش رفت کی ترجمانی کرتا ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">گذشتہ سال امریکہ نے کوپن ہیگن میں آب وہوا کی تبدیلی پر منعقدہ کانفرنس میں ہونے والی پیش رفت کو آگے بڑھانے کے لیے اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ کام کیا۔ ہم نے کوپن ہیگن معاہدے کے تصور کوآگے بڑھانے کے لیے کئی اقدامات کیے ۔ اس ماہ ہم آب وہوا کی تبدیلی پر مشترکہ عالمی چیلنج سے نمٹنے کے لیے کوئی مشترکہ لائحہ عمل طے کے کے لیے کین کون مذاکرات کے ایک نئے مرحلے میں دنیا بھر کے ملکوں کے ساتھ شامل ہوئے۔</p>
<p dir="rtl">&nbsp;آج یہ اعلان کرتے ہوئے مجھے خوشی محسوس ہورہی ہے کہ ہم نے کین کون معاہدے طے کیے&nbsp; جو آب و ہوا کی تبدیلی کے اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن کے تحت متوازن بین الاقوامی فیصلوں &nbsp;کا ایک مجموعہ ہیں۔ جو آب وہوا کی تبدیلی پر ہمارے عالمی ردعمل میں ایک بامعنی پیش رفت کی ترجمانی کرتا ہے۔</p>
<p dir="rtl">یہ نتائج کوپن ہیگن معاہدے کے تمام اہم&nbsp; نکات کو آگے بڑھاتے ہیں۔ یہ گیسوں کے اخراج میں کمی کے وعدوں اورشفافیت کے ایک نظام کو بین الاقوامی مشاورت کی مناسب تفصیلات اور مندرجات اور ایسے تجزے کے ساتھ آگے بڑھاتے ہیں جو یہ اعتماد فراہم کریں گے کہ کسی بھی ملک کے وعدوں پر عمل درآمد ہورہاہے جو ایک نیا گرین کلائمیٹ فنڈ قائم کریں گے۔ ترقی پذیر ملکوں میں جنگلات کی کٹائی میں کمی کا لائحہ عمل تشکیل دیں گے ۔ ایک ٹکنالوجی میکنزم قائم کریں گے اور ایک ایسا لائحہ عمل اور کمیٹی تشکیل دیں گے جو آب وہوا سے تبدیلی سے نمٹنے کے اقدامات کے لیے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دے گی۔</p>
<p dir="rtl">کین کون معاہدے آگے کی جانب ایک متوازن اور اہم قدم ہیں۔</p>
<p dir="rtl">&nbsp;آنے والے دنوں اور مہینوں میں امریکہ اس اہم چیلنج پر دنیا کی توجہ مرکوز کرنے اوراس پیش رفت کو مسلسل آگے بڑھانے کے لیے اپنے دوستوں اورشراکت داروں کےساتھ مل کرکام کرے گا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sun, 12 Dec 2010 01:59:31 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">111732799</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-12-12T01:59:31Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Flakus_Climate_Change_Cancun_Main_230.jpg" length="48328" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Flakus_Climate_Change_Cancun_Main_230.jpg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Hillary_clinton_department_300x300_departmentstate.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>عراقی کرد راہنما کا خودمختاری کا مطالبہ</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/iraq-kurd-Self-Determination-demond-11december10-111731119.html</link>
				<description>فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی نے کہا ہے کہ مسٹر بارانی کی جانب سے  پارٹی کے اجلاس میں پہلی بار باضابطہ طورپر  یہ پیش کرتے ہوئے اس پر  کانفرنس کے دوران رائے شماری کرانےکے لیے کہا۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">عراقی کرد علاقے کے صدر نے ایک کانفرنس میں ، جس میں وزیر اعظم نوری المالکی اور دیگر اعلی عہدے دار شریک تھے، کردوں کی خود مختاری کا معاملہ اٹھایا۔</p>
<p dir="rtl">مسعود بارزانی نے &nbsp;اپنی کردستان ڈیموکریٹک پارٹی&nbsp; کے ایک اجلاس میں کہا کہ کردوں کو شمال میں &nbsp;اپنے نیم خود اختیار علاقے میں &nbsp;خود مختاری کا حق حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اربیل میں ہفتے کو شروع ہونے والی کانفرنس میں یہ مسئلہ اٹھائیں گے۔ کانفرنس ایک ہفتے تک جاری رہے گی۔</p>
<p dir="rtl">فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی نے کہا ہے کہ مسٹر بارانی کی جانب سے &nbsp;پارٹی کے اجلاس میں پہلی بار باضابطہ طورپر &nbsp;یہ پیش کرتے ہوئے اس پر &nbsp;کانفرنس کے دوران رائے شماری کرانےکے لیے کہا۔</p>
<p dir="rtl">ان کا یہ اعلان کثیرنسلی&nbsp; اور تیل سے مالامال علاقے کے شہر کرکوک میں ریفرنڈم کی ایک اپیل کے بعد سامنے آیا ہے۔</p>
<p dir="rtl">مسٹر بارزانی کے یہ تبصرے ایک ایسے وقت میں منظر عام پر آئے ہیں جب وزیر اعظم نوری المالکی ایک نئی حکومت بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ مسٹر مالکی نے بھی ہفتے کے روز اس کانفرنس سے خطاب کیااور انہوں نے کہا کہ نئی حکومت اس ماہ کے آخر تک قائم ہوسکتی ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sun, 12 Dec 2010 00:58:28 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">111731119</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-12-12T00:58:28Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/krg_masoud_barzani_ahmet_davutoglu_kurdistan_turkey_iraq_7nov10_300.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
														
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>ایران جوہری مذاکرات اور توقعات</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/iran-dialouges-expectations-nuclear-04december10-111329149.html</link>
				<description>مذاکرات کرنے والوں کے سامنے ایک بڑا مسئلہ  یہ ہے کہ کیا  گذشتہ سال کی اس تجویز  پر پھر غور کیا جائے کہ ایران کے میڈیکل ریسرچ  ری ایکٹر کے لیئے  ایندھن حاصل کرنے میں  امریکہ، روس اور فرانس   اس کی مدد کریں۔ </description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">ایک سال سے زیادہ عرصہ گذرنے کے بعد، &nbsp;پہلی بار ایرانی عہدے دار&nbsp; اگلے ہفتے جنیوا میں چھہ عالمی طاقتوں کے نمائندوں کے ساتھ&nbsp; &nbsp;اپنے ملک کے نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں مذاکرات کے لیئے جمع ہوں گے &nbsp;۔ اوباما انتظامیہ&nbsp; اب بھی ایران کے ساتھ مذاکرات کے عہد پر قائم ہے، لیکن کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس&nbsp; مسئلے میں سفارتی سطح پر کسی پیش رفت کے امکانات بہت کم ہیں۔</p>
<p dir="rtl">ان مذاکرات میں اقوام ِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی شامل ہوں گے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی اعلیٰ عہدے دار، کیتھرین آسٹن ان مذاکرات کی قیادت کریں گی جب کہ سعید جلیلی ایران کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ ہوں گے۔</p>
<p dir="rtl">امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے کہا ہے کہ مذاکرات میں واپسی کے لیئے ایران کی رضا مندی حوصلہ افزا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایران کے لیئے میز پر واپس آنے اور ان معاملات پر بات چیت کرنے &nbsp;&nbsp;کا &nbsp;موقع ہے جن کے بارے میں بین الاقوامی برادری کو تشویش ہے ۔ ان میں سرِ فہرست اس &nbsp;&nbsp;کا نیوکلیئر پروگرام ہے۔</p>
<p dir="rtl">بعض سرکاری عہدے داروں کا خیال ہے کہ مذاکرات کے لیئے ایران کی رضا مندی&nbsp;&nbsp; اس بات کی علامت ہو سکتی ہے&nbsp; کہ جون میں عائد کی جانے والی نئی اور زیادہ سخت&nbsp;&nbsp; پابندیاں&nbsp; ایران کی&nbsp; کمزور معیشت پر اثر انداز ہوئی ہیں۔امریکی حکومت کے اعلیٰ عہدے دار&nbsp; کہتے ہیں کہ ان پابندیوں سے توانائی کے شعبے میں ایران کو اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری&nbsp; کا نقصان ہو چکا ہے اور ایران&nbsp; بین الاقوامی مالیاتی نظام&nbsp; سے عملی طور پر الگ تھلگ ہو کر رہ گیا ہے ۔</p>
<p dir="rtl">صدر براک اوباما&nbsp; کے خصوصی اسسٹنٹ ، سفیر ڈینس راس &nbsp;&nbsp;کہتے ہیں کہ امریکی انتظامیہ اب بھی یہی چاہتی ہے کہ ایران کے ساتھ اختلافات سفارتکاری کے ذریعے طے ہو جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ ایران سنجیدگی سے بات چیت کے لیئے تیار ہو۔ ہم تیار ہیں۔ ایران کو اپنے عوام کا احترام&nbsp; کر نا چاہیئے ۔ یہ وقت ہے کہ ایران اپنی خیر سگالی کا مظاہرہ کرے۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو ہمیں بھی ایسا کرنے کے لیئے تیار پائے گا۔</p>
<p dir="rtl">مذاکرات کرنے والوں کے سامنے ایک بڑا مسئلہ&nbsp; یہ ہے کہ کیا &nbsp;گذشتہ سال کی اس تجویز &nbsp;پر پھر غور کیا جائے کہ ایران کے میڈیکل ریسرچ&nbsp; ری ایکٹر کے لیئے&nbsp; ایندھن حاصل کرنے میں&nbsp; امریکہ، روس اور فرانس&nbsp; &nbsp;اس کی مدد کریں۔ اس مجوزہ منصوبے کے تحت ایران کو اپنے کمتر درجے کے افژودہ شدہ یورینیم کا بڑا حصہ باہر بھیجنا پڑے گا اور اسکے عوض اسے کینسر کے مریضوں کے لیئے آئسو ٹوپس بنانے کے لیئے نیوکلیئر ایندھن ملے گا۔&nbsp; یہ&nbsp; تجویز آگے نہ بڑھ سکی&nbsp; اور اب ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں بین الاقوامی برادری کی تشویش بڑھتی جا رہی ہے ۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کا نیوکلیئر پروگرام پُر امن مقاصد کے لیئے ہے&nbsp; لیکن امریکہ&nbsp; اور اس کے بعض &nbsp;اتحادی سمجھتے ہیں کہ ایران اپنے نیوکلیئر پروگرام کی آڑ میں نیوکلیئر ہتھیار تیار کر رہا ہے ۔ ایران نے اس الزام سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ یورینیم کو نیوکلیئر ایندھن تیار کرنے کے لیئے افژودہ کر رہا ہے ۔</p>
<p dir="rtl">حال ہی&nbsp; میں وکی لیکس ویب سائٹ&nbsp; نے امریکی سفارت خانوں کے کچھ &nbsp;خفیہ کیبل جاری کیئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ عرب ملکوں میں ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ بعض عرب لیڈروں نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ فوجی طاقت کے استعمال سے ایران کی نیوکلیئر تنصیبات کو تباہ کر دے۔ کریم سدجدپور جوکارنیگی انڈومنٹ&nbsp; فار انٹرنیشنل پیس سے وابستہ ہیں کہتے ہیں کہ جو کیبل افشا کیئے گئے ہیں ان سے امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد کے فقدان کا اظہار ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وکی لیکس کے کیبل افشا ہونے کے&nbsp; بعد، ایران میں امریکہ کے&nbsp; عزائم کے بارے میں&nbsp; شکوک و شبہات میں&nbsp; اور زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ سی آئی اے&nbsp; کی بنائی ہوئی پالیسی کے مطابق ہے۔ &nbsp;میں سمجھتا ہوں کہ سفارتی ذرائع سے کسی مثبت نتیجے کا امکان برائے نام ہے۔</p>
<p dir="rtl">ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے ان کاغذات کو امریکہ کی نفسیاتی جنگ کا حصہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان خفیہ کاغذات کے افشاء ہونے سے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ ایران کے تعلقات متاثر نہیں ہوں گے۔</p>
<p dir="rtl">علی رضا نادر، رینڈکارپوریشن &nbsp;میں بین الاقوامی پالیسی کے تجزیہ کار ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ&nbsp; ایران میں جو لوگ با اختیار ہیں، وہ&nbsp; مذاکرات کے نتیجے میں&nbsp; ہونے والے کسی سمجھوتے کی حمایت نہیں کریں گے ۔</p>
<p dir="rtl">مسٹر احمدی نژاد نے کہا ہے کہ ان کا ملک مذاکرات کے لیئے تیار ہے، لیکن وہ اپنے اس حق کے بارے میں کوئی رعایت نہیں دے گا کہ اسے نیوکلیئر پروگرام کا حق حاصل ہے ۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sun, 5 Dec 2010 01:44:18 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">111329149</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[میرڈیتھ بوئل ]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-12-05T01:44:18Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/iran_nuclear_480x300_ap.jpg" length="143296" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/iran_nuclear_480x300_ap.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP-nk-nuclear-230x230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="397" width="397" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
													
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>عراق: بم دھماکوں میں 14 افراد ہلاک ، درجنوں زخمی </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/iraq-baghdad-bombing-shiite-04december10-111324044.html</link>
				<description>حکام کا کہناہے کہ سلسلے وار حملوں میں سب سے مہلک حملہ شیعہ اکثریتی ضلع البیاع کی ایک مارکیٹ میں ہونے والا کاربم دھماکہ تھا جس میں چھ افراد ہلاک اور 40 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ </description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">عراقی عہدے داروں نے کہاہے کہ ہفتے کے روز دارالحکومت بغداد میں سلسلے وار کئی دھماکوں میں کم ازکم 14 افراد ہلاک ہوگئے۔</p>
<p dir="rtl">ان حملوں کا بظاہر ہدف شیعہ تھے اور حملوں کا زیادہ تر نشانہ بھی شیعہ ہی بنے۔ ان میں کچھ ایرانی زائرین تھے۔</p>
<p dir="rtl">حکام کا کہناہے کہ سلسلے وار حملوں میں سب سے مہلک حملہ شیعہ اکثریتی ضلع البیاع کی ایک مارکیٹ میں ہونے والا کاربم دھماکہ تھا جس میں چھ افراد ہلاک اور 40 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ جب کہ دوسرے حملوں میں&nbsp; بھی 40 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔</p>
<p dir="rtl">دوسرے کئی دھماکوں میں عراق کے &nbsp;مقدس مقامات کی زیارت کے لیے آنے والے ایرانی زائرین کو نشانہ بنایا گیا۔ زائرین کے ایک گیسٹ ہاؤس پر بھی حملہ کیا گیا۔</p>
<p dir="rtl">بغداد کے سیکیورٹی حکام نے ان دھماکوں کا الزام القاعدہ پر لگاتے ہوئے کہا ہے کہ شیعہ مقامات کو نشانہ بننے کی کوشش کا مقصد فرقہ وارانہ&nbsp; تصادم کو ہوا دینا ہے۔</p>
<p dir="rtl">یہ حملے عراقی عہدے داروں کی جانب سے اس اعلان کے دو روز بعد ہوئے ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے 39 مشتبہ القاعدہ عسکریت پسندوں کو گرفتار کرلیا ہے۔</p>
<p dir="rtl">عراق میں موجود مقدس مقامات کی زیارت کے لیے دنیا بھر سے شیعہ زائرین جاتے ہیں ۔ جب کہ اکثر زائرین کا تعلق ایران سے ہوتا ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sat, 4 Dec 2010 22:38:25 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">111324044</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-12-04T22:38:25Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/ap_iraq_violence_480_04Dec10.jpg" length="85433" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_iraq_violence_480_04Dec10.jpg" medium="image" isDefault="true" height="320" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP_Iraq_Violence_04Dec2010_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
													
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>ایرانی جوہری پروگرام کے پرامن ہونے کی تصدیق نہیں کرسکتے: اقوام متحدہ</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/iran-nuclear-un-peacefull-confirmation-02december10-111189664.html</link>
				<description>مغربی ممالک ایران پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ ہتھیار بنانے کے لیے جوہری ٹکنالوجی کے حصول کی کوشش کررہاہے جب کہ ایران اس اعتراض کو مسترد کرتاہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">اقوام متحدہ کے جوہری امور سے متعلق ادارے کے سربراہ نے کہاہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کے پرامن ہونے کی تصدیق نہیں کرسکتے۔</p>
<p dir="rtl">یوکیا امانوکا کہنا ہے کہ تہران&nbsp; اپنی جوہری سرگرمیوں پر اٹھنے والے سوالات کی وضاحت کے لیے جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے معائنہ کاروں کو مطلوبہ تعاون فراہم نہیں کررہا۔</p>
<p dir="rtl">ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اگلے ہفتے ایران کے اعلی ٰ ترین جوہری مذاکرات کار سعید جلالی اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین آسٹن کے درمیان مذاکرات ہونے والے ہیں۔آسٹن&nbsp; تہران کے جوہری پروگرام کے ان مذاکرات میں اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی کی نمائندگی کریں گی۔</p>
<p dir="rtl">مغربی ممالک ایران پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ ہتھیار بنانے کے لیے جوہری ٹکنالوجی کے حصول کی کوشش کررہاہے جب کہ ایران اس اعتراض کو مسترد کرتاہے۔</p>
<p dir="rtl">اقوام متحدہ کے جوہری عہدے دار امانونے بورڈ کو یہ بھی بتایا کہ انہوں نے شام سے اس کے ایک مشتبہ جوہری علاقے کی تحقیقات کے سلسلے میں تعاون کے لیے کہاہے۔</p>
<p dir="rtl">&nbsp;انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں شمالی کوریا کے جوہری پرگرام پر سخت تشویش ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 2 Dec 2010 14:46:39 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">111189664</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2010-12-02T14:46:39Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/iran_nuclear_controls_main.jpg" length="52446" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/iran_nuclear_controls_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="340" width="512" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Turq-Iran-noText-300x300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
																																																																									</channel>
</rss>

