<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>


																																		



<rss xmlns:ymusic="http://music.yahoo.com/rss/1.0/ymusic/" xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" xmlns:cf="http://www.microsoft.com/schemas/rss/core/2005" xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"   version="2.0">
<channel>
	<title>VOA News:  پاکستان  </title>
	<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan</link>
		<description>پاکستان 
																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																								
	Voice of America
	</description>
	<language>ur</language> 	<copyright />
	<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 15:15:55 GMT</pubDate>
	<dc:creator />
	<dc:date>2012-02-10T15:15:55Z</dc:date>
	<dc:language>ur</dc:language> 	<dc:rights />
	<image>
		<title>Voice of America</title>
		<link>http://www.voanews.com/urdu</link>
		<url>http://media.voanews.com/designimages/VOARSSIcon.gif</url>
	</image>


						
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>توہین عدالت مقدمہ: وزیراعظم کی اپیل مسترد</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan/gillani-appeal-court-10feb12-139075504.html</link>
				<description>لارجر بینچ نے ’انٹرا کورٹ‘ اپیل کو مسترد کرتے ہوئے سات رکنی بینچ کے اس فیصلے کو برقرار رکھا جس میں وزیراعظم گیلانی کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے میں ان پر فرد جرم 13 فروری کو عائد کی جانی ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی جانب سے توہین عدالت کے مقدمے میں دائر&rsquo;انٹرا کورٹ&lsquo; اپیل کو سپریم کورٹ&nbsp; کے آٹھ رکنی بینچ نے خارج کر دیا ہے۔</p>
<p>چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے لارجر بینچ نے اعتراز احسن کے دلائل سننے کے بعد جمعہ کو اپنے فیصلے میں &rsquo;انٹرا کورٹ&lsquo; اپیل کو مسترد کرتے ہوئے سات رکنی بینچ کے اس فیصلے کو برقرار رکھا جس میں وزیراعظم گیلانی کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے میں ان پر فرد جرم 13 فروری کو عائد کی جانی ہے۔</p>
<p>وزیراعظم کے وکیل اعتزاز احسن نے مقدمے کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ کے احاطے میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ &rsquo;&rsquo;ہماری اپیل مسترد ہوئی ہے جس کے نتیجے میں 13 تاریخ کو وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی پر توہین عدالت کی فرد جرم مرتب ہو گی، اور 13 فروری کو (وزیراعظم) پیش ہوں گے&lsquo;&lsquo;۔</p>
<p>جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے 2 فروری کو اپنے حکم نامے میں وزیراعظم گیلانی پر 13 فروری کو فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے انھیں عدالت کے روبرو پیش ہونے کی ہدایت کی تھی۔</p>
<p>اعتزاز احسن نے اپنے موکل پر توہین عدالت کے الزام میں فرد جرم عائد کرنے کے عدالتی فیصلے کے خلاف 200 صفحات پر مشتمل انٹرا کورٹ اپیل میں 50 سے زائد اعتراضات اٹھائے تھے۔</p>
<p>چیف جسٹس کی سربراہی میں آٹھ رکنی بینچ کے سامنے اپنے دلائل میں اعتزاز احسن نے وزیراعظم گیلانی کے خلاف توہین عدالت پر فرد جرم عائد کرنے کا نوٹس واپس لینے کی استدعا کی۔</p>
<p>چیف جسٹس نے اس پر اپنے ریمارکس میں کہا کہ عدالت ملکی مفاد میں وزیر اعظم کا ٹرائل نہیں چاہتی اور اگر حکومت صدر آصف علی زرداری کے خلاف سوئٹرزلینڈ میں قائم مبینہ بدعنوانی کے مقدمات کو دوبارہ کھولنے کے لیے خط لکھ دے تو توہین عدالت کے معاملے پر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو جاری کیا گیا اظہار وجوہ کا نوٹس واپس لے لیا جائے گا۔</p>
<p>متنازع قومی مصالحتی آرڈیننس یا این آر او کو کالعدم قرار دینے سے متعلق عدالت عظمٰی کے فیصلے پر عمل درآمد میں تاخیر کی پاداش میں سپریم کورٹ نے وزیراعظم گیلانی کو اس سے قبل 19 جنوری کو طلب کیا تھا جس کو بجا لاتے ہوئے وہ عدالت میں پیش بھی ہوئے تھے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 07:06:46 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139075504</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-10T07:06:46Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Pakistan_PM+Gilani_480.jpg" length="46838" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Pakistan_PM+Gilani_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="500" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Islamabad_Gilani_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>منصور اعجاز ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرائیں</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan/memo-mansoor-10feb12-139076554.html</link>
				<description>کمیشن کے سیکرٹری لندن جا کر منصور اعجاز سے اس اسکینڈل سے متعلق شواہد حاصل کریں گے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکی قیادت کو بھیجے گئے متنازع &rsquo;&rsquo;میمو&lsquo;&lsquo; یا مراسلے کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن نے اس اسکینڈل کے اہم گواہ امریکی شہری منصور اعجاز کا بیان &rsquo;ویڈیو لنک&lsquo; کے ذریعہ ریکارڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔<br /><br />بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائض عیسیٰ کی سربراہی میں قائم تین رکنی کمیشن نے جمعہ کو جاری کیے گئے اپنے حکم نامے میں کہا ہے کہ کمیشن کے سیکرٹری لندن جا کر منصور اعجاز سے اس اسکینڈل سے متعلق شواہد حاصل کریں گے۔</p>
<p>قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں یہ پہلا موقع ہو گا کہ کسی عدالتی کارروائی میں کوئی گواہ ویڈیو لنک کے ذریعے اپنا بیان ریکارڈ کروائے گا۔</p>
<p>پاکستانی نژاد امریکی شہری کو 9 فروری کو کمیشن کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی لیکن ان کے وکیل اکرم شیخ نے کمیشن کو بتایا کہ سکیورٹی خدشات کے باعث منصور اعجاز پاکستان نہیں آ سکتے۔</p>
<p>عدالتی کمیشن نے اپنے تازہ ترین فیصلے میں کہا ہے کہ اب منصور اعجاز لندن میں رہتے ہوئے 22 فروری کو ویڈیو لنک کے ذریعے اپنا بیان ریکارڈ کروائیں۔</p>
<p>صدر آصف علی زرداری سے منسوب مراسلے کے مبینہ خالق سابق سفیر حسین حقانی کے وکیل زاہد حسین بخاری نے کمیشن کو بتایا کہ اگر منصور اعجاز پاکستان نہیں آئیں گے تو اُن کے موکل بھی آئندہ کمیشن کے سامنے اپنے بیانات ویڈیو لنک کے ذریعے ہی ریکارڈ کروائیں گے۔</p>
<p>حسین حقانی رواں ماہ سپریم کورٹ کی اجازت سے امریکہ چلے گئے تھے۔ لیکن عدالت نے کہا تھا کہ اگر انھیں مقدمے کی سماعت کے دوران&nbsp; بلوانے کی ضرورت ہوئی تو وہ پاکستان آنے کے پابند ہوں گے۔</p>
<p>ادھر میمو اسکینڈل کی تحقیقات کرنے والی پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ سینیٹر رضا ربانی نے کہا ہے کہ منصور اعجاز کو کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر ہی اپنا بیان قلمبند کرانا ہوگا کیوں کہ پارلیمانی کمیٹی اس بات کی پابند ہے کہ وہ اپنے اجلاس کے پارلیمان کی عمارت کے اندر ہی منعقد کرے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 08:26:52 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139076554</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-10T08:26:52Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Pakistan_Islamabad_High_Court_Building_Official_480_02Jan12.jpg" length="33392" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Pakistan_Islamabad_High_Court_Building_Official_480_02Jan12.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Mansoor+Ijaz.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>امریکی کانگریس میں بلوچستان پر بحث مسلسل ہدف تنقید</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan/Pakistan-Politics-Balochistan-US-10Feb12-139086654.html</link>
				<description>وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے کہا کہ وہ صوبے کے حالات پر ممبران کو آئندہ ہفتے ایک مفصل بریفنگ دیں گے اور ان اقدامات سے آگاہ کریں گے جو امن وامن کی بہتری کے لیے کیے جارہے ہیں۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>صوبہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر امریکی کانگریس میں کی جانے والی بحث پر پاکستان میں تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔</p>
<p>پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں جمعہ کو حزب اقتدار اور حزب مخالف سے تعلق رکھنے والے اراکین نے جہاں اس بحث کو ملک کے اندرونی معاملات میں &rsquo;&rsquo;غیر ملکی مداخلت&lsquo;&lsquo; قرار دے کر اس کی سخت مذمت کی، وہیں اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ تمام تر دعووں کے باوجود صوبائی اور وفاقی حکومتیں بلوچستان میں امن و امان کی بحالی اور بلوچ عوام کے مسائل کو حل کرنے میں ناکام دیکھائی دیتی ہیں۔</p>
<p>حکمران اتحاد میں شامل عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی رکن اسمبلی بشریٰ گوہر نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے یہ امر باعث تکلیف ہے کہ بلوچستان کے معاملے پر جو بحث امریکی کانگریس کی کمیٹی میں ہوئی ہے وہ دراصل پاکستانی پارلیمان کی متعلقہ کمیٹی میں ہونی چاہیئے تھی۔</p>
<p>&rsquo;&rsquo;بلوچستان میں جو ہو رہا ہے اُس (کے سدِباب) کے لیے یہاں کی پارلیمانی کمیٹیاں موثر کارروائی نہیں کر رہی ہیں۔ ہمیں اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>حکمران پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ہمایوں عزیز کرد نے اپنی تقریر میں متنبہ کیا کہ اگر بلوچستان میں فرینٹیر کور (ایف سی) اور ریاست کے خفیہ اداروں کے کردار کو ختم نہ کیا گیا تو صورت حال قابو سے باہر ہو جائے گی۔</p>
<p>&rsquo;&rsquo;کوئی بھی بلوچستان کے بارے میں نہیں سوچتا ہے، کوئی بھی کمیٹی بنائی جائے اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا ہے &hellip; بلوچستان میں بیرونی مداخلت ہو رہی ہے اور اگر اس پر توجہ نہیں دینی ہے تو ہمیں بتائیں تاکہ ہم خود اپنا کوئی راستہ اختیار کریں، ہم نا یہاں کے رہیں گے نا وہاں کے رہیں گے۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>اراکین پارلیمان کی طرف سے بلوچستان کے بارے میں اٹھائے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے ایوان میں موجود وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے کہا کہ وہ صوبے کے حالات پر ممبران کو آئندہ ہفتے ایک مفصل بریفنگ دیں گے اور ان اقدامات سے آگاہ کریں گے جو امن وامن کی بہتری کے لیے کیے جارہے ہیں۔</p>
<p>بعد ازاں پارلیمان کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ بلوچ جنگجوایک تیسرے قوت کی مدد سے بلوچستان کو پاکستان سے علیحدہ کرنے کی سازش کررہے ہیں اور اس کا ثبوت وہ جدید اسلحہ، مواصلات کا سامان اور بھاری رقوم ہیں جو انھیں ان تخریبی کارروائیوں کے لیے فراہم کی جارہی ہیں۔</p>
<p>انھوں نے فرنٹیر کور اور دیگر سلامتی کے اداروں کا دفاع کرتے ہوئےے کہا کہ بلوچستان میں ہونے والی عام شہریوں کی ہلاکتوں میں سکیورٹی فورسز ملوث نہیں بلکہ ان کے بقول یہ ایک تیسری قوت کی کاروائی ہے جس کی کوشش ہے کہ بلوچستان پاکستان کا حصہ نہ رہے۔</p>
<p>وزیر داخلہ نے دعوی کیا کہ کراچی میں براہمداغ بگٹی کی بہن کے قتل میں جو گولیاں استعمال ہوئی ہیں وہ پاکستان میں نہیں بنتیں اور تحقیقاتی ادارے یہ سراغ لگانے کی کوشش کررہے ہیں کہ یہ گولیاں کس ملک میں بنیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس کی تفصیلات وہ پارلیمان کے آئندہ ہفتے ہونے والے اجلاس میں بتائیں گے۔</p>
<p>ایک روز قبل وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے کہا تھا کہ امریکی کانگریس کی ذیلی کمیٹی کی جانب سے صوبہ  بلوچستان کی صورت حال پر کرائی گئی سماعت پاکستان کے لیے باعث تشویش ہے۔ &rsquo;&rsquo;ہم نے واشنگٹن اور اسلام آباد میں  متعلقہ امریکی حکام سے رابطہ کرکے اُنھیں اپنے تحفظات سے آگاہ کر دیا ہے۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>ادھر امریکی انتظامیہ نے کانگریس کی کمیٹی میں بلوچستان کے معاملے ہپر بحث سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ صوبے میں تمام فریقین کو اپنے اختلافات &rsquo;&rsquo;پُرامن اور مستند سیاسی عمل&lsquo;&lsquo; کے ذریعے ملک میں رہتے ہوئے تلاش کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔</p>
<p>ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکہ میں پاکستان کی سفیر شیری رحمٰن نے کانگریس کے اراکین اور اوباما انتظامیہ کے عہدے داروں سے اپنی ملاقاتوں میں کہا ہے کہ بلوچستان پر کرائی گئی سماعت &rsquo;&rsquo;ناقابل قبول&lsquo;&lsquo; ہے اور اس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد سازی کی کوششوں کو نقصان پہنچنے گا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 14:55:21 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139086654</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[زاہد یعقوب خواجہ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-10T14:55:21Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Parliament_Building_480.jpg" length="69697" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Parliament_Building_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Parliament_Building_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>سری لنکا کے صدر کا دورہ پاکستان</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan-srilanka-10feb12-139068679.html</link>
				<description>اپنے قیام کے دوران صدر پاکسے پاکستانی صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقاتوں میں دو طرفہ تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>سری لنکا کے صدر مہندا راجا پاکسے جمعہ کو دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچے ہیں جہاں وہ سیاسی قیادت سے دوطرفہ تعلقات کو مستحکم بنانے سے متعلق معاملات پر بات چیت کریں گے۔</p>
<p>اسلام آباد ایئر پورٹ آمد پر پاکستانی سینیٹ کے چیئرمین فاروق نائک اور سرحدی اُمور کے وزیر شوکت اللہ خان نے اُن کا استقبال کیا۔</p>
<p>اپنے قیام کے دوران صدر پاکسے پاکستانی صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقاتوں میں دو طرفہ تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔</p>
<p>سرکاری میڈیا کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان مختلف معاہدوں پر دستخط بھی متوقع ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 04:12:00 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139068679</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-10T04:12:00Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/AP_Sri_Lanka_Civil_War_02Jan2009_480.jpg" length="181867" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP_Sri_Lanka_Civil_War_02Jan2009_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="320" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP_Sri_Lanka_Civil_War_02Jan2009_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>زیرِ حراست افراد کی 13 فروری کو پیشی یقینی بنائی جائے</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan/Pakistan-Justice-Rights-10Feb12-139088124.html</link>
				<description>فوج کے خفیہ اداروں کے وکیل نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ سات افراد میں سے چار پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال اور تین پارا چنار میں فوج کے تفتیشی مرکز میں موجود ہیں۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>سپریم کورٹ نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد مبینہ طور پر فوجی انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے حراست میں لیے جانے والے افراد کو 13 فروری کو عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔</p>
<p>فوج کے خفیہ اداروں، ملٹری انٹیلی جنس اور آئی ایس آئی، کے وکیل راجہ ارشاد نے عدالت کو بتایا کہ حراست میں لیے گئے 11 افراد میں سے چار مختلف بیماریوں کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں اور دیگر سات افراد میں سے چار پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال اور تین پارا چنار میں فوج کے تفتیشی مرکز میں موجود ہیں۔</p>
<p>چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے گزشتہ ہفتے اس مقدمے کی &nbsp;سماعت کے موقع پر عدالت نے راجہ ارشاد کو حکم دیا تھا کہ وہ زیرِ حراست افراد کی سپریم کورٹ میں پیشی کو یقینی بنائیں، لیکن جمعہ کو جب سماعت شروع ہوئی تو ان افراد کو پیش نہیں کیا گیا۔</p>
<p>عدالت عظمیٰ نے آئی آیس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہان کو ہدایت کی کہ وہ ان افراد کی باحفاظت عدالت میں پیشی کو یقینی بنائیں۔ چیف جسٹس نے وزارت دفاع کی سیکرٹری نرگس سیٹھی اور صوبہ خیبر پختون خواہ کے چیف سیکرٹری کو 13 فروری کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے کہا ہے۔</p>
<p>فوج &nbsp;کے راولپنڈی میں صدر دفتر &rsquo;جی ایچ کیو&lsquo; اور دیگر عسکری اہداف پر دو سال قبل ہونے والے حملوں میں ملوث ہونے کے شبے میں ان 11 افراد کو گرفتار کیا تھا لیکن ٹھوس شواہد کی عدم دستیابی کے بعد انھیں انسداد دہشت گردی کی عدالتوں نے 2009ء میں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔</p>
<p>راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے رہا کیے جانے والے ان افراد کو فوج کے خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا تھا اور اس بارے میں حفیہ ایجنسوں کے وکیل نے سپریم کورٹ کو آگاہ بھی کر دیا تھا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 14:51:29 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139088124</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-10T14:51:29Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/pakistan_+supreme+court_480.jpg" length="68586" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/pakistan_+supreme+court_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/pakistan_supreme+court_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>نگراں سیٹ اپ: پی پی  ن لیگ متفق ، ایم کیو ایم کو تحفظات</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan/Caretaker_Setup_Discussion_09Feb12-139042209.html</link>
				<description>میڈیا رپورٹس کے مطابق اگر وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف نگراں حکومت کے قیام سے متعلق کسی نکتے پر متفق نہ ہو سکے تو پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے تین ، تین ارکان پر مشتمل چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی جائے گی</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>بیسویں آئینی ترمیم میں نگراں حکومت کے قیام سے متعلق حکمراں جماعت پیپلزپارٹی اور حزب مخالف کی بڑی جماعت مسلم لیگ ن کے درمیان معاملات طے پا گئے ہیں اور نگراں حکومت کے عہدیداروں کیلئے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر نام تجویز کریں گے ۔ <br /> <br /> وفاقی وزیر مذہبی امور سیدخورشید شاہ نےاسلام آباد میں میڈیا کوبتایا کہ بیسویں ترمیم کے مسودے کے حوالے سے دو تین دن میں معاملات طے پا جائیں گے، جس کی منظوری کیلئے وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس طلب کیا جائے گا۔</p>
<p>میڈیا رپورٹس کے مطابق اگر وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف نگراں حکومت کے قیام سے متعلق کسی نکتے پر متفق نہ ہو سکے تو پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے تین، تین ارکان پر مشتمل چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی جائے گی ۔ <br /> <br /> دوسری جانب، حکمران اتحاد میں شامل ایم کیو ایم نے چھ رکنی کمیٹی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ کمیٹی میں ہر اس جماعت کونمائندگی دی جائے جس کے قومی اسمبلی میں اراکین کی تعداد دس یا دس سے زائد ہے۔ اس کمیٹی کو صرف پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے تین ، تین اراکین تک محدود نہیں ہونا چاہیئے۔ ادھر، مسلم لیگ ق نےتعلیمی نصاب سے متعلق شق بھی بیسویں آئینی ترمیم میں شامل کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ <br /> <br /> بنیادی طور پر اس ترمیم کا مقصد سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلیوں کےان اٹھائیس اراکین کے ضمنی انتخابات کو سپریم کورٹ کے حکم پر قانونی تحفظ فراہم کرنا تھا جوجعلی ووٹر لسٹوں پر ضمنی انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے۔ پارلیمنٹ سے بیسویں آئینی ترمیم منظور ہونے کی صورت میں ان اراکین کی رکنیت خود بخود بحال ہوجائے گی۔<br /> <br /> یاد رہے کہ حکومت نےاٹھارہ جنوری کو یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا اوراسپیکر نے یہ بل کمیٹی کو بھجوایا تھا۔ کمیٹی نے یہ بل منظور کرنے کی سفارش کی لیکن حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث تاحال یہ بل اسمبلی میں پیش نہیں ہو سکا۔ قومی اسمبلی میں حزب مخالف جماعت مسلم لیگ ن کاموقف تھا کہ بیسیویں آئینی ترمیم میں الیکشن کمیشن کو با اختیار بنانے کے لئے مزید شقیں شامل کی جائیں ۔<br /> <br /> سپریم کورٹ کی چاررکنی بینچ نے عمران خان کی درخواست پر حکومت کو چھ فروری تک مہلت دی تھی کہ اس حوالے سے پارلیمنٹ سے توثیق کرا لی جائے۔ تاہم، چھ فروری تک جب ایسا نہ ہو سکا تو سپریم کورٹ نے 19 اپریل 2010 کے بعد ضمنی انتخابات میں منتخب ہونے والے پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کے 28 اراکین کی رکنیت معطل کردی ۔<br /> <br /> معطل ہونے والوں میں حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے تین وزراء، وزیر خزانہ حفیظ شیخ، تیل وقدرتی وسائل کے وزیر ڈاکٹر عاصم حسین اور نارکوٹکس کے وزیر خدا بخش راجڑ شامل ہیں۔</p>
<p><br /> <br /> <br /></p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 9 Feb 2012 21:05:51 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139042209</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[وسیم اے صدیقی]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-09T21:05:51Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/CareTakerSetup.300x300.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>پاک امریکہ تعلقات کی جلد بحالی پر زور</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan/US-Pakistan-Diplomacy-09Feb12-139008949.html</link>
				<description>کیمرون منٹر نے کہا کہ تعلقات معمول پر آنے سے افغانستان میں امن و استحکام کی کوششوں کو بھی تقویت ملے گی۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>پاکستان میں امریکہ کے سفیر کیمرون منٹر نے دوطرفہ تعلقات کی جلد از جلد بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں جاری پارلیمانی عمل مکمل ہونے کے منتظر ہیں۔</p>
<p>اسلام آباد میں جمعرات کو ایک تقریب میں شرکت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ مسائل کا بہترین حل مذاکرات ہی ہوتے ہیں۔</p>
<p>امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ پاک امریکہ تعلقات معمول پر آنے سے افغانستان میں امن و استحکام کی کوششوں کو بھی تقویت ملے گی۔</p>
<p>اُنھوں نے مہمند ایجنسی میں سرحدی چوکیوں پر نیٹو کے حملے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے ایک مرتبہ پھر کہا کہ یہ &rsquo;غیر ارادی&lsquo; تھا۔</p>
<p>&rsquo;&rsquo;ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ایک دوسرے سے رابطے برقرار رکھیں اور ایسا طریقہ کار وضع کریں جس کی مدد سے مستقبل میں ایسے واقعات سے محفوظ رہا جا سکے۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>کمیرون منٹر نے پاک افغان سرحد پر رابطوں کو موثر بنانے کے لیے بدھ کو پاکستان، افغانستان اور نیٹو کے فوجی حکام کے مابین ہونے والے اجلاس کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسائل کو حل کرنے کا یہ ہی طریقہ ہے۔</p>
<p>اعلیٰ عسکری عہدیداروں کا یہ اجلاس سرحدی علاقے طورخم میں قائم فوجی رابطوں کے ایک مشترکہ مرکز میں ہوا تھا۔ مہمند ایجنسی میں نیٹو کے فضائی حملے کے بعد &nbsp;تینوں ممالک کا یہ پہلا فوجی رابطہ تھا۔</p>
<p>مہمند ایجنسی میں سرحدی چوکیوں پر نیٹو کے مہلک حملے پر پاکستان نے سخت ردعمل کے طور اپنی سرزمین کے راستے افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کو رسد کی ترسیل پر پابندی عائد کر دی تھی جو تاحال برقرار ہے۔</p>
<p>لیکن کمیرون منٹر نے جمعرات کو انکشاف کیا کہ افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کو رسد کی فراہمی کے لیے پاکستانی فضائی حدود کا استعمال جاری ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 9 Feb 2012 14:39:18 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139008949</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[محمد اشتیاق]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-09T14:39:18Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/US_Ambassador_Cameron_Munter_480.jpg" length="75986" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/US_Ambassador_Cameron_Munter_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP+US+Amb+to+Pakistan+Cameron+Munter+300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>52 ہزار امریکی شہریوں کو ویزوں کا اجراء</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan/Pakistan-Visas-US-09Feb12-139011394.html</link>
				<description>پاکستانی وزیر خارجہ کے مطابق 2009ء سے 2011ء کے دوران دفاعی مشیر کے دفتر سے منظوری کے بعد 2,202 امریکی اہلکاروں اور سفارت کاروں کو ویزے جاری کیے گئے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>واشنگٹن میں قائم پاکستانی سفارت خانے نے 2008ء سے 2011ء کے دوران مجموعی طور پر 52,049 امریکی شہریوں کو ویزے جاری کیے۔</p>
<p>یہ اعداد و شمار پارلیمنٹ کے جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں پیش کیے گئے وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کے تحریری جواب میں فراہم کیے گئے ہیں۔</p>
<p>پاکستانی وزیر خارجہ کے مطابق 2009ء سے 2011ء کے دوران دفاعی مشیر کے دفتر سے منظوری کے بعد 2,202 امریکی اہلکاروں اور سفارت کاروں کو ویزے جاری کیے گئے۔</p>
<p>حنا ربانی کھر کے بقول پاک امریکہ تعلقات ہماری خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہیں لیکن گزشتہ سال نومبر میں مہمند ایجنسی میں پاکستانی چوکیوں پر نیٹو کے حملے کے بعد امریکہ کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کا از سر نو جائزہ لینے کا کام جاری ہے۔</p>
<p>اُنھوں نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات کی حتمی شکل، نوعیت اور دائرکار کا تعین پارلیمنٹ کرے گی اور حکومت اسے رہنما اصول کے طور پر اپنائے گی۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 9 Feb 2012 15:19:03 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139011394</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[زاہد یعقوب خواجہ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-09T15:19:03Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Pakistan_Hina_Rabbani_Khar_Foreign_Minister_Address_National_Assembly_4801.jpg" length="59420" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Pakistan_Hina_Rabbani_Khar_Foreign_Minister_Address_National_Assembly_4801.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Pakistan_Hina_Rabbani_Khar_Foreign_Minister_Interview_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>کانگریس کی کمیٹی میں بلوچستان پر بحث باعث تشویش</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan-us-balochistan-09feb12-139004144.html</link>
				<description>ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بظاہر امریکی انتظامیہ بھی پاکستان کا موقف بخوبی سمجھتی ہے  کیوں کہ واشنگٹن میں محکمہ خارجہ نے کانگریس کی کمیٹی کی کارروائی سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>پاکستان نے کہا ہے کہ امریکی کانگریس کی ذیلی کمیٹی کی جانب سے صوبہ بلوچستان کی صورت حال پر کرائی گئی سماعت اس کے لیے باعث تشویش ہے۔</p>
<p>وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے جمعرات کو اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا &rsquo;&rsquo;ہم نے واشنگٹن اور اسلام آباد میں متعلقہ امریکی حکام سے رابطہ کرکے اُنھیں اپنے تحفظات سے آگاہ کر دیا ہے۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>اُنھوں نے کہا کہ بظاہر امریکی انتظامیہ بھی پاکستان کا موقف بخوبی سمجھتی ہے کیوں کہ واشنگٹن میں محکمہ خارجہ نے کانگریس کی کمیٹی کی کارروائی سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p>امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان وِکٹوریا نولنڈ نے بدھ کو واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلوچستان کے معاملے پر امریکہ کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔</p>
<p>&rsquo;&rsquo;ہم بلوچستان کے تمام فریقین کو اپنے اختلافات پُرامن اور سیاسی عمل کے ذریعے حل کرنے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>ادھر پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں اراکین نے امریکی کانگریس کی کمیٹی کے اقدام کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس کو ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا۔</p>
<p>کانگریس کی کمیٹی کی عوامی سماعت میں پانچ امریکی قانون سازوں کے علاوہ حقوق انسانی کی علم بردار تنظیموں کے نمائندوں اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی تھی۔</p>
<p>بریفنگ کے شرکاء نے پاکستانی صوبے میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا دعویٰ کرتے ہوئے ان میں سے بیشتر کا الزام سرکاری سکیورٹی فورسز پر عائد کیا تھا۔</p>
<p>البتہ بریفنگ میں اس بات کا بھی اعتراف کیا گیا کہ کالعدم بلوچ انتہاپسند تنظیمیں صوبے میں ہدف بنا کر قتل اور تشدد کے دیگر واقعات میں ملوث ہیں۔</p>
<p>حکمران پاکستان پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ سابق ادوار میں اپنائی گئی بعض پالیسیوں کی وجہ سے بلوچ عوام احساس محرومی کا شکار رہے، جس کو دور کرنے کے لیے حکومت نے &rsquo;&rsquo;آغازِ حقوقِ بلوچستان&lsquo;&lsquo; کے نام سے ایک جامع ترقیاتی منصوبہ شروع کر رکھا ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے بدھ کو اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ حکومت بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے بلوچ قائدین سے بامعنی مذاکرات پر یقین رکھتی ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 9 Feb 2012 13:10:35 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139004144</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[یاسر علی منصوری]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-09T13:10:35Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/abdul+basit+spokesman_480.jpg" length="55528" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/abdul+basit+spokesman_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/abdul+basit+spokesman_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>’سوئس حکام کو خط لکھنے میں تاخیر نقصان دہ ہو سکتی ہے‘</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/court-appeal-09feb12-138987019.html</link>
				<description>اگر حکومت عدالتی فیصلے کے مطابق سوئس حکام کو خط لکھ دے تو  توہین عدالت کے معاملے پر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو جاری کیا گیا اظہار کا وجوہ نوٹس واپس لے لیا جائے گا۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>پاکستان کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ صدر آصف علی زرداری کے خلاف سوئٹرزلینڈ میں قائم مبینہ بدعنوانی کے مقدمات کو دوبارہ کھولنے کے لیے اگر خط لکھ دیا جائے تو توہین عدالت کے معاملے پر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو جاری کیا گیا اظہار کا وجوہ نوٹس واپس لے لیا جائے گا۔</p>
<p>مسٹر گیلانی پر توہین عدالت کے الزام میں فرد جرم عائد کرنے کے عدالتی فیصلے کے خلاف &rsquo;انٹرا کورٹ&lsquo; اپیل کی جمعرات کو عدالت عظمیٰ کے آٹھ رکنی بینچ کے سامنے سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ حکومت کی جانب سے سوئس حکام کو خط لکھنے میں مزید تاخیر نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
<p>اُنھوں نے وزیراعظم گیلانی کے وکیل اعتزاز احسن کی تیار کردہ 200 صفحات پر مشتمل اپیل میں عدلیہ سے متعلق اُن حوالوں پر بھی اعتراضات اُٹھائے جن میں جج صاحبان کی رہائی اور بعد ازاں بحالی کے علاوہ سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف توہین عدالت کا ذکر کیا گیا تھا۔</p>
<p>چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا کہنا تھا کہ ان حوالوں سے بظاہر یہ تاثر ملتا ہے کہ مسٹر گیلانی اپنے اقدامات کے بدلے میں عدالت سے ریلیف چاہتے ہیں۔</p>
<p>لیکن اعتزاز احسن نے اپنے موکل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ججوں کی بحالی سے متعلق مسٹر گیلانی کے فیصلوں کا ذکر کرنے کا مقصد عدالتی کارروائی پر ہرگز اثر انداز ہونا نہیں۔ اُنھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ متعلقہ مندرجات کو اپیل سے حذف کر دیا جائے، جس کو قبول کر لیا گیا۔</p>
<p>مقدمے کی سماعت جمعہ تک ملتوی کر دی گئی اور وکیل صفائی کو دن 11 بجے تک اپنے دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔</p>
<p>اس سے قبل جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے 2 فروری کو جاری کیے گئے اپنے حکم نامے میں وزیراعظم گیلانی پر 13 فروری کو فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے انھیں عدالت کے روبرو پیش ہونے کی ہدایت کی تھی۔</p>
<p>اعتزاز احسن نے اپنے موکل کی جانب سے بدھ کو &rsquo;انٹرا کورٹ&lsquo; اپیل دائر کی تھی جس میں عدالتی فیصلے پر 50 سے زائد قانونی اعتراضات اٹھائے تھے۔</p>
<p>متنازع قومی مصالحتی آرڈیننس یا این آر او کو کالعدم قرار دینے سے متعلق عدالت عظمٰی کے فیصلے پر عمل درآمد میں تاخیر کی پاداش میں سپریم کورٹ نے وزیراعظم گیلانی کو اس سے قبل 19 جنوری کو طلب کیا تھا جس کو بجا لاتے ہوئے وہ عدالت میں پیش بھی ہوئے تھے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 9 Feb 2012 05:04:30 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138987019</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-09T05:04:30Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/PM-SC_main.jpg" length="54492" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/PM-SC_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Iftikhar_Chaudhry_Chief_+Justice_Pakistan.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>شمالی وزیرستان: ڈرون حملے میں اہم عسکریت پسند رہنما ہلاک</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan-drone-09feb12-138994104.html</link>
				<description>افغان سرحد سے ملحق اس قبائلی علاقے میں 24 گھنٹوں کے دوران یہ دوسرا میزائل حملہ ہے۔ بدھ کو میران شاہ بازار کے قریب سپلگاہ نامی علاقے میں ڈرون حملے میں 10 شدت پسند ہلاک ہوئے تھے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مبینہ امریکی ڈرون حملے میں القاعدہ سے منسلک ایک اہم عسکریت پسند رہنما سمیت کم از کم چار مشتبہ شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔</p>
<p>انٹیلی جنس عہدے داروں کا کہنا ہے کہ جمعرات کو علی الصباح بغیر پائلٹ سے داغے گئے ان میزائلوں کا ہدف عسکریت پسندوں کے زیر استعمال ایک مکان ہے جس میں عسکریت پسند رہنما بدر منصور بھی مارا گیا۔</p>
<p>حکام کے مطابق بدر منصور پاکستانی طالبان کے ایک گروپ کا سربراہ تھا جس کے علاقے میں القاعدہ کے قریبی روابط تھے۔</p>
<p>افغان سرحد سے ملحق اس قبائلی علاقے میں 24 گھنٹوں کے دوران یہ دوسرا میزائل حملہ ہے۔ بدھ کو میران شاہ بازار کے قریب سپلگاہ نامی علاقے میں ڈرون حملے میں 10 شدت پسند ہلاک ہوئے تھے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 9 Feb 2012 06:34:21 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138994104</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-09T06:34:21Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/US_Seychelles_drone_480x300_AP.jpg" length="105943" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/US_Seychelles_drone_480x300_AP.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP+Seychelles+US+Drone+13Dec11+230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>بلوچستان: قطر کے وزیر چھ کروڑ روپے سے محروم</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/balochistan-qatar-looted-09feb12-139005679.html</link>
				<description>قطر کے وزیر پٹرولیم شیخ علی عبداللہ تھانی التھانی شکار پر تھے اور مسلح افراد نے ان کی گاڑی روک کر رقم لوٹ لی۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>پاکستان کے جنوب مغربی صوبے بلوچستان میں شکار کی غرض سے آئے ہوئے قطر کے شاہی خاندان کے افراد سے نامعلوم مسلح افراد نے چھ کروڑ روپے لوٹ لیے۔</p>
<p>مقامی سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ جمعرات کو ضلع تربت کے علاقے اوشاب میں پیش آیا جہاں قطر کے وزیر پٹرولیم شیخ علی عبداللہ تھانی التھانی شکار پر تھے اور مسلح افراد نے ان کی گاڑی روک کر رقم لوٹ لی۔</p>
<p>شیخ علی قطر کے شاہی خاندان کی اعلیٰ کونسل کے ممبر بھی ہیں۔</p>
<p>مقامی حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں لیکن تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 9 Feb 2012 13:49:58 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139005679</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-09T13:49:58Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/63-Ziarat-Residency-Balochistan.jpg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																																																		</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>کراچی میں طبی عملے کا احتجاج</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan-medical-protest-09feb12-138998699.html</link>
				<description>مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ باقی صوبوں اور وفاق کے شعبہ صحت کے ملازمین کی طرح ان کی ملازمتوں کو بھی مستقل اور ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور اقتصادی مرکز کراچی میں سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے ماتحت طبی عملے نے جمعرات کو کام چھوڑ کر احتجاج کیا اور سڑکوں پر نکل آئے۔</p>
<p>مظاہرین میں شامل ڈاکٹروں، نرسوں اور طبی شعبے سے وابستہ دیگر افراد کا مطالبہ تھا کہ باقی صوبوں اور وفاق کے شعبہ صحت کے ملازمین کی طرح ان کی ملازمتوں کو بھی مستقل اور ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے۔</p>
<p>احتجاج میں شامل ڈاکٹر نصیر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے شعبہ صحت میں ڈاکٹروں اور نرسوں سمیت ہزاروں افراد پچھلے چھ سال سے عارضی بنیادوں پر پرانی تنخواہوں پر ہی کام کر رہے ہیں اور بارہا حکام بالا سے کی گئی درخواستوں پر کوئی کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی جس پر انھیں احتجاج کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔</p>
<p>&rsquo;&rsquo;بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ضروریات آپ کے سامنے ہیں ڈاکٹرز یا پیرا میڈکس سے آپ فرشتوں سی کوئی امید نہیں رکھ سکتے وہ بھی انسان ہیں یہ حکمرانوں کا قصور ہے کہ انھوں نے ہمارے لیے اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں چھوڑا۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>احتجاج کرنے والوں میں عباسی شہید اسپتال، کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈزیزز، منگو پیر اسپتال اور دیگر ڈسپنسریوں میں کام کرنے والے ڈاکٹرز اور عملہ شامل تھا۔</p>
<p>مظاہرے میں شریک ڈاکٹر ریاض نے بتایا کہ سندھ حکومت کے ماتحت تمام ملازمین مستقل کیے جا چکے ہیں اور ان کی تنخواہیں بڑھا دی گئی ہیں لیکن ان لوگوں کی کوئی داد رسی نہیں کی جارہی۔</p>
<p>سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کی طرف سے طبی عملے کے احتجاج پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 9 Feb 2012 10:23:33 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138998699</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[مقصود مہدی]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-09T10:23:33Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Karachi_Medics_protest-480.jpg" length="92366" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Karachi_Medics_protest-480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="500" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Karachi_Medicis_Protest_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>بلوچستان کے حالات پر امریکی کانگریس کی کمیٹی میں سماعت</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan/congress-baluchistan-09feb12-138985429.html</link>
				<description>سماعت کا مقصد تھا علاقے  کے مسائل کو سمجھنا تاکہ مستقبل میں پالیسی سازی میں مدد مل سکے۔  </description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکی کانگریس میں پاکستان کاکس کے رکن، کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والے کانگریس مین، ڈینا روہرا باکر کی سربراہی میں امریکی کانگریس کی ذیلی کمیٹی برائے امور خارجہ نے بدھ کو بلوچستان کے حالات اور وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ایک سماعت رکھی جس میں ہیومن رائٹس واچ کے پاکستان ڈائریکٹر علی دایان حسن کے علاوہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے نمائندے اور جنوبی ایشیاء پر ماہرین شامل تھے۔&nbsp;</p>
<p>کانگریس مین روہرا باکر کے مطابق بلوچستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جس کا استحکام دنیا بھر کے لیے بے حد اہم ہے چنانچہ اس سماعت کا مقصد تھا علاقے کے مسائل کو سمجھنا تاکہ مستقبل میں پالیسی سازی میں مدد مل سکے۔&nbsp;</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note"> &lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note"><br /></span></p>
<p>سماعت کے دوران خاص طور پر بلوچستان میں لوگوں کے اغوا، &rsquo;&rsquo;ٹارچر&lsquo;&lsquo; کرنے یا غائب&lsquo;&lsquo; کر دینے کے واقعات اور ٹارگٹ کلنگ کا ذکر رہا۔ جس کا الزام تقریبًا تمام ماہرین اور انسانی حقوق کے نمائندوں نے پاکستان کی سیکورٹی فورسز پر لگایا۔ جن کے بارے میں کہا گیا کہ وہ بات چیت کے بجائے طاقت کے زور پر مسائل حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔</p>
<p>لیکن یہ بھی کہا گیا کہ بلوچ قوم پرست گروہ بھی جواباً ٹارگٹ کلنگ اور تشدد کے واقعات کے ذمّہ دار ہیں۔ &nbsp;اور بلوچستان میں کام کرنے والے دیگر صوبوں کے لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔</p>
<p>ایک بہت اہم بیان کانگریس مین روہراباکر نے یہ دیا کہ امریکہ کو اس وقت تک کوئی سنجیدگی سے نہیں لے گا جب تک اس کی پالیسی ہر ایک کے لیے یکساں نہیں ہوگی اس لیے جہاں بلوچستان کے لوگوں کو انسانی حقوق حاصل ہیں وہیں کشمیر کے عوام کو بھی حق خود ارادیت حاصل ہے۔</p>
<p>یہ بات بھی قابل غور ہے کہ موجودہ امریکی انتظامیہ کی طرف سے کوئی اس سماعت میں شریک نہیں تھا اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ترجمان وکٹوریہ نیولینڈ کے مطابق پاکستان کے اندر مختلف پارٹیوں کو مل کر اس مسئلے کو پر امن طریقے سے حل کرنا چاہیے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 9 Feb 2012 04:11:10 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138985429</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[عائشہ تنظیم]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-09T04:11:10Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/US_Congress_640x480_2192734798.jpg" length="109845" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
																											
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/US_Congress_640x480_2192734798.jpg" medium="image" isDefault="true" height="480" width="640" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/US_Congress_-_Insider_Trading_FOR_WEB_SD01.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/baluchistan2.jpg" medium="image" isDefault="false" height="162" width="230" />
																																																										</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>چمن فائرنگ: مولانا عبدالغنی حقانی ہلاک</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan/Chaman-Firing-Haqqani-Killed-08Feb12-138948309.html</link>
				<description>بدھ کو چمن میں نامعلو م موٹرسائیکل سواروں نے جمعیت علماٴ اسلام نظریاتی گروپ کے رہنما مولانا عبدالغنی حقانی پر اس وقت فائرنگ کردی جب وہ مسجد سے اپنے گھر کی طرف جارہے تھے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>صوبہ بلوچستان کے شہر چمن میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جمعیت علماٴ اسلام نظریاتی گروپ کے رہنما مولانا عبدالغنی حقانی ہلاک ہوگئے۔ پاکستان کے سرکاری خبررساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ پریس(اے پی پی) نے لیویز کے حوالے سے بتایا ہے کہ بدھ کو چمن کے علاقے نئی آبادی میں نامعلو م موٹرسائیکل سواروں نے جمعیت علماٴ اسلام نظریاتی گروپ کے رہنما مولانا عبدالغنی حقانی پر اس وقت فائرنگ کردی جب وہ مسجد سے اپنے گھر کی طرف جارہے تھے۔<br /> فائرنگ سے زخمی ہونے کے بعد اُنھیں مزید علاج کے لئے کوئٹہ بھیجاجارہا تھا کہ وہ راستے میں ہی انتقال کرگئے۔اُن کے ہاتھ ،سر اور پسلیوں میں گولیاں لگیں۔لیویز فورس نے مقدمہ درج کرکے ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے۔<br /> واقعہ کی اطلاع ملتے ہی جمعیت علماء اسلام (نظریاتی ) کے کارکن سڑکوں پر نکل آئے ۔ انہوں نے احتجاجاً علاقے کی تمام دکانیں بند کرادیں اور ڈپٹی کمشنر آفس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ <br /> جمعیت علماء اسلام نظریاتی نے مولانا عبدالغنی حقانی کے قتل کے خلاف جمعرات کو شٹرڈاؤن ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔<br /> ادھر کوئٹہ میں ڈبل روڈ پر واقع مارکیٹ پر دستی بم کے حملے میں 3افراد زخمی جبکہ دو گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ پولیس نے اے پی پی کو بتایا کہ بدھ کی شام نامعلوم افراد نے دستی بم پھینکا جو روڈ پر گر کر زورداردھماکے سے پھٹ گیا۔<br /> &nbsp;واقعے کے نتیجے میں 3افراد زخمی ہوگئے جنھیں فوری طور پراسپتال پہنچادیا گیا۔ دھماکے سے 2گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے ۔پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے مزید کاررروائی شروع کردی ہے۔<br /> ادھر منگل کی رات کو کوئٹہ میں ایک بم دھماکا ہوا جِس سے چند گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ تاہم، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ <br /> <br /></p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 8 Feb 2012 18:44:32 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138948309</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[وسیم اے صدیقی]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-08T18:44:32Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/ChamanIncident_main.jpg" length="190109" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ChamanIncident_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ChamanIncident_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>پاک، افغان اور نیٹو حکام کا سہ فریقی اجلاس</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pak-nato-afghan-08feb12-138916554.html</link>
				<description>سرحد کی دونوں جانب عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کو موثر بنانے اور غلط فہمی کی بنیاد پر آپریشن کے امکانات کو کم کرنے کے لیے چار مراکز کام کر رہے ہیں۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>پاک افغان سرحد پر رابطوں کو موثر بنانے کے لیے پاکستانی فوج، افغان نیشنل آرمی اور بین الاقوامی اتحادی افواج کے اعلیٰ عہدیداروں کی ملاقات بدھ کو ہوئی۔</p>
<p>پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ایک بیان کے مطابق یہ ملاقات سرحدی علاقے طورخم میں قائم فوجی رابطوں کے ایک مشترکہ مرکز میں ہوئی، اور پاکستانی فوج کی طرف سے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز میجر جنرل اشفاق ندیم احمد نے اس اجلاس میں اپنے ملک کی نمائندگی کی۔</p>
<p>نومبر 2011ء میں مہمند ایجنسی میں فوجی چوکیوں پر نیٹو کے حملے میں 24 پاکستانی اہلکاروں کی ہلاک کے بعد تینوں ممالک کے فوجی عہدیداروں کے مابین ہونے والا یہ پہلا اعلیٰ سطحی رابطہ تھا۔</p>
<p>یہ اجلاس ایسے وقت ہوا ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق  امریکی سنٹرل کمان کے سربراہ جنرل جیمز میٹس آئندہ چند ہفتوں میں پاکستان  کا دورہ کریں گے جہاں اُن کی پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز  کیانی سے ملاقات بھی ہو گی۔ لیکن اس متوقع دورے کے بارے میں سرکاری طور پر  کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔</p>
<p>سرحد کی دونوں جانب عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کو موثر بنانے اور غلط فہمی کی بنیاد پر آپریشن کے امکانات کو کم کرنے کے لیے چمن، طورخم، باجوڑ اور مہمند ایجنسیوں کو ملانے والی سرحد، کے علاوہ شمالی وزیرستان میں یہ مشترکہ فوجی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔</p>
<p>بیٹو حملے کے بعد پاکستان فوج نے سرحد پر قائم فوجی رابطوں کے چار  مراکز یا &rsquo;بارڈر کوآرڈینیشن سینٹرز&lsquo; میں سے دو مراکز پر تعینات اپنے سینئیر  افسران کو مشاورت کے لیے فوجی ہیڈ کواٹرز میں طلب بھی کیا تھا۔</p>
<p>مہمند ایجنسی میں سرحدی چوکیوں پر نیٹو کے مہلک حملے پر پاکستان نے سخت ردعمل میں اپنی سرزمین کے راستے افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کو رسد کی ترسیل پر پابندی عائد کرنے اور بلوچستان میں شمسی ایئر بیس کو امریکہ سے خالی کروانے کے علاوہ نیٹو اور امریکہ کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کی شرائط پر نظر ثانی کا فیصلہ کیا تھا۔</p>
<p>حکومت نے پارلیمان کی کمیٹی برائے قومی سلامتی کو امریکہ اور نیٹو سے مستقبل تعاون پر نظرثانی کا کام سونپا تھا اور کمیٹی نے اپنی سفارشات گزشتہ ماہ مرتب کر لی تھیں اور وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ان کی حتمی منظوری پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں دی جائے گی۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 8 Feb 2012 09:44:44 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138916554</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-08T09:44:44Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Pakistan_Military_Afghan_Pak_AP_FILE.jpg" length="46737" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Pakistan_Military_Afghan_Pak_AP_FILE.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Pakistan_Military_Afghan_Pak_AP_FILE_300px.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>بیسویں ترمیم پر اختلافات دور کرنے کی کوششیں جاری</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/amenment-pak-08feb12-138921284.html</link>
				<description>نواز شریف کا کہنا ہے کہ آئینی ترمیم کے بعض نکات پر اُن کی جماعت کے تحفظات تاحال دور نہیں ہو سکے ہیں۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>پاکستان میں برسرِ اقتدار جماعت پیپلز پارٹی اور حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) نے آئین میں بیسویں ترمیم کے معاملے پر گزشتہ کئی روز سے جاری مذاکرات میں پیش رفت کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p>دونوں سیاسی جماعتوں کے سینیئر رہنماؤں کے درمیان بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں تقریباً چار گھنٹے جاری رہنے والی بات چیت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے مذہبی اُمور خورشید شاہ نے کہا کہ مجوزہ ترمیم کے تمام نکات پر تفصیلی بحث ہوئی۔</p>
<p>اُنھوں نے بتایا کہ فریقین نے اپنی اپنی تجاویز پیش کیں اور اب دونوں جماعتوں کے قائدین کو ان سے آگاہ کیا جائے گا تاکہ آئندہ کا لائحہ عمل وضع کیا جا سکے۔</p>
<p>&rsquo;&rsquo;انشااللہ ایک دو روز کے اندر آئین میں بیسویں ترمیم کے مسودے کو حتمی شکل دے کر (اس کو) پارلیمان میں پیش کر دیا جائے گا۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ بات چیت میں پیش رفت ضرور ہوئی ہے لیکن مجوزہ ترمیم پر تاحال &rsquo;&rsquo;حمتی اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے&lsquo;&lsquo;۔</p>
<p>اس سے قبل مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف نے کہا تھا کہ آئینی ترمیم کے بعض نکات پر اُن کی جماعت کے تحفظات دور نہیں ہوئے ہیں جن میں چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی پر حکومت اور حزب اختلاف کے مابین مشاورت کا طریقہ کار بھی شامل ہے۔</p>
<p>بہاولپور میں بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ مشاورت بامعنی اور اس کا مقصد فریقین میں مکمل اتفاق رائے ہونا چاہیئے۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-LEFT--&gt;</span></p>
<p>نواز شریف کے بقول حکمران پیپلز پارٹی ماضی میں مختلف معاملات پر مشاورت کے نام پر مسلم لیگ (ن) کو محض خط لکھ کر اپنے فیصلوں سے آگاہ کرتی آئی ہے لیکن مستقبل میں یہ طریقہ کار قبول نہیں کیا جائے گا۔ &rsquo;&rsquo;اگر حکومت اس (بامقصد مشاورت) پر نہیں آتی تو بیسویں ترمیم پر کوئی اتفاق رائے نہیں ہو سکتا۔&lsquo;&lsquo;<br /> <br /> وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی حکومت کا موقف ہے کہ وہ بیسیوں ترمیم کو پارلیمان سے متفقہ طور پر منظور کروانا چاہتی ہے اور اس کے لیے کئی روز سے اپوزیشن جماعت کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔</p>
<p>وزیراطلاعات فردوس عاشق اعوان نے بیسویں آئینی ترمیم پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلاف رائے کو مذاکرات کے ذریعے دور کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ بل کے بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے۔</p>
<p>اُنھوں نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حکمران پیپلز پارٹی بھی آزاد الیکشن کمیشن کے حق میں ہے کیوں کہ اس کا سب سے زیادہ فائدہ خود اس کو ہوگا۔</p>
<p>فردوس عاشق اعوان کے بقول اس وقت بیسویں ترمیم کے بل پر اختلاف رائے کی وجہ انتخابات سے قبل نگران حکومت کی تشکیل پر ہے۔</p>
<p><span class="field-note container display-block margin-bottom-small">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>&rsquo;&rsquo;اپوزیشن کیئرٹیکر سیٹ اپ کے حوالے سے&nbsp;(معاملہ) اس وقت اُٹھانا چاہتی ہے، ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ جب وہ وقت آئے گا تو ان معاملات کو بھی طے کر لیں گے۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>اُنھوں نے کہا کہ اس وقت سب سے زیادہ اہم معاملہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد معطل کیے گئے پارلیمان اور صوبائی اسمبلوں کے 28 اراکین کی بحالی ہے۔</p>
<p>بیسویں آئینی ترمیمی بل کا بنیادی مقصد بھی سینیٹ اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کی خالی نشستوں پر نامکمل الیکشن کمیشن کی نگرانی میں کرائے گئے ضمنی انتخابات کو قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے۔</p>
<p>مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اگر حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان مجوزہ آئینی ترمیم پر اتفاق رائے نا ہو سکا تو حکمران پیپلز پارٹی اپوزیشن کی حمایت کے بغیر ترمیمی بل پارلیمان میں پیش کر دے گی کیوں کہ قانون سازی کے لیے اس کو اپنے اتحادیوں کی مدد سے دونوں ایوانوں میں دوتہائی اکثریت حاصل ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 8 Feb 2012 12:53:21 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138921284</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[زاہد یعقوب خواجہ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-08T12:53:21Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/parliament+exterior_4801.jpg" length="348192" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
																																												
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/parliament+exterior_4801.jpg" medium="image" isDefault="true" height="480" width="720" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/PID_Pakistan_Parliament_Gilani_Nisar_230_14may11.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/nawaz+sharif+press+conference_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/Pakistan_Firdous_Ashiq_Awan_Information_Minister_Interview_VOA_21Sep11_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																										</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>پاک روس تعاون کو فروغ دینے کا عزم</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan/Pakistan-Diplomacy-Russia-08Feb12-138929374.html</link>
				<description>پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے اپنے روسی ہم منصب کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعاون میں اضافے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>پاکستان اور روس نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوبط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔</p>
<p>ماسکو میں بدھ کو اپنے ہم منصب سرگے لوروف سے ملاقات کے بعد پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے ایک مشترکہ نیوز کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعاون میں اضافے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔</p>
<p>&rsquo;&rsquo;ہم نے ان تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جن کی مدد سے (پاکستان اور روس کے) تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>اسلام آباد میں وزارت خارجہ سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ حنا ربانی کھر نے اپنے ہم منصب سے بات چیت میں باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی اُمور کا بھی جائزہ لیا۔</p>
<p>پاکستانی وزیر خارجہ نے شنگھائی تعاون تنظیم میں پاکستان کی مستقل رکنیت کے لیے حمایت پر روس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ صدر آصف علی زرداری پاکستان اور روس کے تعلقات کو وسعت دینے میں ذاتی دلچسپی لے رہے ہیں۔</p>
<p>بیان کے مطابق وزرائے خارجہ نے پاکستانی صدر اور وزیر اعظم کے گزشتہ سال روس کے دوروں میں طے پانے والے فیصلوں پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔</p>
<p>حنا ربانی کھر اور سرگے لوروف نے افغانستان میں امن و استحکام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے افغانوں کی قیادت میں کی جانے والی مفاہمتی کوششوں کی مکمل ہمایت بھی کی۔</p>
<p>پاکستانی وزیر خارجہ نے صدر زرداری کی جانب سے روسی صدر کو افغانستان کے بارے میں رواں سال اسلام آباد میں ہونے والے چار ملکی سربراہ اجلاس میں شرکت کی باضابطہ دعوت بھی دی۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 8 Feb 2012 15:03:40 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138929374</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-08T15:03:40Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP_Pakistani_Foreign_Minister_Hina_Rabbani_Khar_1Feb12-300.jpg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																																																		</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>نوزائیدہ بچوں کی زندگی بچانے کے لیے نال کو جراثیم سے محفوظ رکھیں</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan-birth-08feb12-138917319.html</link>
				<description>وسائل کی کمی کا شکاردیہی ضلع دادو تقریباً 10لاکھ آبادی پر مشتمل ہے۔ یہاں پیدا ہونے والے ہر 1,000 بچوں میں سے 90 بچے ہلاک ہوجاتے ہیں۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>پاکستان میں ہر سال ہزاروں نوزائیدہ بچے ان وجوہات کی بناء پر زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں جن سے بچنے کے لیے کسی ٹیکنالوجی کے استعمال کی ضرورت نہیں بلکہ صفائی ستھرائی سے متعلق ان بنیادی باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے جو عام ہوتے ہوئے بھی عام نہیں ہیں ۔ <br /><br />پاکستان میں نوزائیدہ بچوں کی ہلاکت کی شرح دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔یہاں ہر 10,000 میں سے 53 بچے موت کا شکار ہوجاتے ہیں جن میں سے ایک تہائی ہلاکتیں انفیکشن کے باعث ہوتی ہیں ۔ پاکستان میں نوزائیدہ بچوں کی بڑھتی ہوئی شرح اموات کم کرنے کے لیے حال ہی میں آغا خان یونیورسٹی کے ڈویژن آف ویمن اینڈ چائلڈ ہیلتھ کے سربراہ ڈاکٹر ذوالفقار بھٹہ کی دی لینسٹ نامی ایک اہم بین الاقوامی طبی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق بتاتی ہے کہ نوزائیدہ بچوں کی نال کو جراثیم کش محلول سے صاف کرنے سے انفیکشن اورموت کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔ <br /><br />آغا خان یونیورسٹی کے ڈاکٹر ذوالفقار بھٹہ اور ان کی ٹیم کئی سالوں سے پاکستان کے مختلف دیہی علاقوں میں خواتین اور نوزائیدہ بچوں سے متعلق آگاہی کے فروغ اور بنیادی باتوں کو عام کرنے میں مصروف ہیں ۔<br /><br />سندھ کے ضلع دادو کے 1,300 دیہات میں کیے جانے والے اس آزمائشی سروے کے نتائج کے مطابق وہ گروہ جس نے جراثیم کش محلول سے نال کی صفائی کا طریقہ اختیار کیا اس میں انفیکشن کے خطرے میں 42 فی صد جبکہ اموات میں 38 فی صد کمی آئی۔ تاہم محض ہاتھ دھونے سے انفیکشن یا ہلاکتوں کی شرح میں کوئی فرق نہ پڑا۔ <br /><br />وسائل کی کمی کا شکاردیہی ضلع دادو تقریباً10لاکھ آبادی پر مشتمل ہے۔یہاں پیدا ہونے والے ہر 1,000 بچوں میں سے 90 بچے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ 80 فی صد سے زائد زچگیاں گھروں پر غیر تربیت یافتہ دائیوں کے ذریعے انجام پاتی ہیں اور تقریباً 90 فی صد گھرانوں میں روایتی طریقوں کے مطابق نال پر سرمہ ، راکھ ،تیل بلکہ گائے کا گوبرتک لگایا جاتا ہے اور پیدائش کے بعد نال کاٹنے کے لیے جراثیم سے پاک آلے کا استعمال بھی نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے انفیکشن اور مو ت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>آغا خان یونیورسٹی کے مطابق اس تحقیق میں جنوری 2008ء سے لے کر جون 2009ء کے دوران پیدا ہونے والے 10,000 بچے زیر مطالعہ رہے۔ ان بچوں کوچار گروہوں میں تقسیم کر کے مطالعے کے تحقیق کاروں نے نال کی دیکھ بھال کے چار طریقے استعمال کیے۔ جن میں تین طریقے اس تحقیق میں تجویز کیے گئے تھے جبکہ چوتھا طریقہ صحت کی عالمی تنظیم (ڈبلیو ایچ او)کا تجویز کردہ تھا۔ اس مطالعے کا مقصد ان تمام طریقوں کی افادیت کا جائزہ لینا اور موازنہ کرنا تھا۔<br /><br />&nbsp;پہلے گروہ کوبرتھ کٹس(زچگی کے عمل کے لیے ضروری اشیا کی کٹس) فراہم کی گئیں۔ اس کٹ میں4 فی صد Chlorhexidine، CH نامی جراثیم کش محلول ہوتا ہے۔ پیدائش کے فوراً بعد دائی یہ محلول نال پر لگاتی ہے جبکہ اگلے 14 دن تک یہ عمل گھر کا کوئی اور فرد انجام دے سکتا ہے۔ اس کٹ میں جراثیم کش محلول کے علاوہ صابن اورہاتھوں کو صاف رکھنے کے بارے میں معلوماتی مواد بھی شامل ہوتا ہے۔ دوسرے گروہ کو محض جراثیم کش محلول دیا گیا اور تیسرے گروہ کو صرف ہاتھ دھونے سے متعلق اشیاء دی گئیں۔ چوتھے گروہ کو ڈبلیو ایچ او کے تجویز کردہ نال کی دیکھ بھال کے معیاری طریقہ یعنی ڈرائی کورڈ کیئر پر عمل کرنے کو کہا گیا۔<br /><br />&nbsp;اس تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر ذوالفقار بھٹہ نے بتایا کہ &rdquo;گھروں میں شدید انفیکشن کی وجہ سے نوزائیدہ بچوں کی بڑی تعدا د میں اموات کے حوالے سے ہماری تحقیق نے نہ صرف اس بات کے ثبوت فراہم کیے ہیں کہ جراثیم کش محلول کے استعمال جیسے سادہ اور کم خرچ طریقے کا استعمال بچوں کی زندگی بچا سکتا ہے بلکہ پیدائش کے لیے استعمال ہونے والی کٹس زچگی میں موثر ثابت ہوتی ہیں&ldquo;۔ انھوں نے مزید کہا، &rdquo;اگر یہ طریقے مقامی آبادیوں اور سرکاری اسپتالوں میں استعمال کیے جائیں تو زیادہ سے زیادہ لوگ ان سے مستفید ہوسکتے ہیں۔ &ldquo;<br /><br />ان کے بقول &rdquo; یہ حقائق جنوبی ایشیا کے ان علاقوں میں بھی عوامی صحت کے شعبے میں اہم اثرات مرتب کریں گے جو مماثل ثقافتی، سماجی اور معاشی خصوصیات کے حامل ہیں&ldquo;۔ وہ کہتے ہیں کہ ان طریقوں کو حکومت پاکستان کے فیملی پلاننگ اینڈ پرائمری کیئر پروگرام کے ان طریقوں میں شامل کیا جاسکتا ہے جو لیڈی ہیلتھ ورکرزانجام دیتی ہیں۔ <br /><br />اس تحقیق کے لیے مالی معاونت یو ایس ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ (یو ایس ایڈ)نے فراہم کی۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 8 Feb 2012 10:07:44 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138917319</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[عائشہ خان]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-08T10:07:44Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/infant480.jpg" length="48360" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
																											
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/infant480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/infant300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/doctor+bhutta+aisha+khan_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																										</media:group>
																						</item>
									
										
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>پاکستان فضائیہ کا طیارہ گر کر تباہ، پائلٹ ہلاک</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan/Pakistan-Aircraft-Crash-08Feb12-138925409.html</link>
				<description>’ایف سیون پی جی‘ ساخت کا طیارہ کوئٹہ کے قریب معمول کی تربیتی پرواز پر تھا۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">پاکستان فضائیہ کا ایک تربیتی طیارہ بدھ کو صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے قریب گر کر تباہ ہو گیا اور اس حادثے میں پائلٹ بھی ہلاک ہو گیا۔</p>
<p dir="rtl">سرکاری بیان کے مطابق &rsquo;ایف سیون پی جی&lsquo; ساخت کا طیارہ معمول کی تربیتی پرواز پر تھا۔</p>
<p dir="rtl">فضائیہ نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے ایک تحقیقاتی بورڈ تشکیل دے دیا ہے۔</p>
<p dir="rtl">بیان میں کہا گیا ہے کہ طیارہ جس علاقے میں گر کر تباہ ہوا وہاں زمین پر کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 8 Feb 2012 14:03:19 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138925409</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-08T14:03:19Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Pakistan_Fighter_Plane_F-7PG_480.jpg" length="69096" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Pakistan_Fighter_Plane_F-7PG_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Pakistan_Fighter_Plane_F-7PG_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>لاہور: ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی کوششیں جاری</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/lahore-rescue-08feb12-138915629.html</link>
				<description>امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ملبے تلے اب بھی لوگ موجود ہیں جب کہ بدھ کی صبح ایک لاش بھی نکالی گئی۔ جس کے بعد مرنے والوں کی تعداد 21 ہوگئی ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>لاہور میں مہندم ہونے والی فیکٹری کی تین منزلہ عمارت کے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں بدھ کے روز بھی جاری ہیں اور کارکنوں نے ایک اور نوجوان کو زندہ نکال لیا۔</p>
<p>امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ملبے تلے اب بھی لوگ موجود ہیں جب کہ بدھ کی صبح ایک لاش بھی نکالی گئی۔ جس کے بعد مرنے والوں کی تعداد 21 ہوگئی ہے۔</p>
<p>امدادی کارروائیوں میں مصروف ایک سرکاری ادارے کے عہدیدار ڈاکٹر احمد رضا نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان کے کارکنان انتہائی احتیاط سے ملبہ ہٹارہے ہیں تاکہ اگر کوئی زندہ شخص یہاں موجود ہو تو اسے نقصان نہ پہنچے کیونکہ ان کی ترجیح پھنسے ہوئے زندہ افراد کو بحفاظت نکالنا ہے۔</p>
<p>گنجان آباد رہائشی علاقے میں غیر قانونی طور پر قائم اس فیکٹری میں مویشیوں کے لیے ٹیکے تیار کیے جاتے تھے۔</p>
<p>لاہور انتظامیہ کے عہدیداروں نے بتایا کہ اس فیکٹری کو تین بار بند کرایا گیا تھا لیکن اس کے باوجود یہاں غیر قانونی طور پر کام جاری تھا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 8 Feb 2012 09:16:59 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138915629</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-08T09:16:59Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Lahore_Rescue_480.jpg" length="93976" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Lahore_Rescue_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="500" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Lahore_Rescue_300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>شمالی وزیرستان: ڈرون حملے میں 10 ہلاک</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan/waziristan-drone-08feb12-138907719.html</link>
				<description>ڈرون حملے کا ہدف شمالی وزیرستان سے 15 کلومیڑ کے فاصلے پر سپلگاہ نامی علاقے میں عسکریت پسندوں کے زیر استعمال ایک مکان تھا۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مبینہ امریکی ڈرون حملے میں 10 مشتبہ شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔</p>
<p>انٹیلی جنس عہدے داروں کا کہنا ہے کہ بدھ کی صبح کیے گئے اس ڈرون حملے کا ہدف شمالی وزیرستان سے 15 کلومیڑ کے فاصلے پر سپلگاہ نامی علاقے میں عسکریت پسندوں کے زیر استعمال ایک مکان تھا۔</p>
<p>اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں غیر ملکی شدت پسند بھی شامل تھے لیکن افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں میڈیا کی انتہائی محدود رسائی کے باعث غیر جانبدار ذرائع سے ان کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔</p>
<p>گزشتہ سال نومبر میں مہمند ایجنسی کی سرحدی چوکیوں پر نیٹو کے فضائی حملے میں 24 پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد مبینہ امریکی حملوں میں طویل تعطل دیکھنے میں آیا تھا۔ لیکن یہ عارضی تعطل رواں سال جنوری کے اوائل&nbsp;میں&nbsp;اس وقت ختم ہو گیا جب شمالی وزیرستان میں ہی شدت پسندوں کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا۔</p>
<p>جنوری 2012ء کے اواخر میں امریکی صدرباراک اوباما نے پہلی بار باضابطہ طور پر پاکستان میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر ڈرون حملے کرنے کی تصدیق کرتے ہوئےان کا بھرپورانداز میں دفاع کیا تھا۔ صدر اوباما نے کہا تھا کہ ڈرون حملوں کا ہدف القاعدہ اوراس کے حامی ہیں۔</p>
<p>پاکستان ڈرون حملوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دے کر ان کی مذمت کرتا ہے کیوں کہ اس کا کہنا ہے کہ ایسے حملوں میں شہری ہلاکتوں سے حکومت کی انسداد دہشت گردی کی مہم کو نقصان پہنچ رہا ہے۔</p>
<p>افغان سرحد سے ملحق قبائلی علاقوں خصوصاً شمالی اورجنوبی وزیرستان میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کے خلاف بغیر پائلٹ کے جاسوس طیارے یعنی ڈرون سے میزائل حملوں کا سلسلہ 2004ء میں شروع کیا گیا تھا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 8 Feb 2012 04:19:13 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138907719</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-08T04:19:13Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Reuters_USDrone_11mar11.jpg" length="52842" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Reuters_USDrone_11mar11.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/teaser215.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>رنگ برنگے پرندوں کی سریلی بولیوں سے گونجتی کراچی کی ’پرندہ مارکیٹ‘ </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan/Karachi-Bird-Market-07Feb12-138859269.html</link>
				<description>کراچی شہر کے وسط میں واقع علاقے لیاقت آباد میں پچھلے 50سال سے ہر اتوار کو لگنے والے حسین اور دلفریب رنگوں سے سجے پرندوں کی منڈی ملک بھر میں مشہور ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>کراچی شہر کی جہاں اور بہت ساری باتیں قابل ذکر ہیں ،وہیں شہر کے وسط میں واقع علاقے لیاقت آباد میں پچھلے 50سال سے ہر اتوار کو لگنے والی پرندوں کی منڈی بھی ملک بھر میں مشہور ہے۔اسی منڈی کے حوالے سے یہ کہاوت بھی جانی پہچانی ہے کہ اگر کسی کو قدرت کے عطا کردہ انتہائی حسین اور دلفریب رنگوں سے سجے پرندوں کودیکھنا اور ان کی سریلی بولیوں کو سننا ہو تووہ اس بازار کا رخ کرتا ہے ۔</p>
<p>یہاں پرندوں خصوصاً طوطوں سے باتیں کرتے لوگ بھی خوب ملتے ہیں۔ &rdquo;مٹھو بیٹے چوری کھاوٴ گے&lsquo;اور جواب میں بڑی واضح انداز کی &rsquo;ہاں &lsquo; پر جب آپ بے اختیار گردن گھما کر دیکھتے ہیں تو خوبصورت سے طوطے کو اپنے مالک کے ساتھ محو گفتگو پاتے ہیں۔یہ اور اسی طرح کے دیگر دلچسپ مناظر سے سجی یہ مارکیٹ ایشیا میں پرندوں کی سب سے بڑی مارکیٹ بھی کہی جاتی ہے۔</p>
<p>یہاں ایسے افراد بھی ہیں جن کی عمر یں پینسٹھ اور ستر سال ہیں اور جو اپنے بچپن سے پرندوں کی خریدفروخت سے منسلک ہیں۔عبدالرشید بھی انہی لوگوں میں سے ایک ہیں۔انھوں نے وی او اے کے ساتھ گفتگو میں گزرے زمانے کو یاد کرتے ہوئے بتایا &rdquo; شروع شروع میں گنتی کے چند افراد سڑک کے کنارے گاہکوں کے انتظار میں پرندوں کے پنجرے لے کر بیٹھ جایا کرتے تھے۔ بس اسی کو آپ منڈی کی شروعات کہہ لیجئے۔۔۔۔۔اب تو خیر یہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی&ldquo;</p>
<p>عبدالرشیدکا کہنا ہے &rdquo;یہاں بیشمار اقسام کے پرندے دستیاب ہیں جن کی قیمتیں ان کی نسل، رنگ اور افزائش کے حساب سے متعین کی جاتی ہیں۔یہا ں دوسو روپے سے لیکر ایک لاکھ اور بسااوقات اس سے بھی زیادہ مالیت کا پرندہ فروخت کے لئے موجود ہوتا ہے۔ اتنے مہنگے پرندے کی خریداری ، خریدار کے شوق اور جیب پر منحصر ہوتی ہے۔&ldquo;</p>
<p>مارکیٹ کے ایک اور دکاندار عمران علی کے مطابق &rdquo;پاکستا ن کے ہر علاقے سے یہاں لوگ اپنی پسند کے پرندے خریدنے آتے ہیں۔کچھ لوگوں کے فارم ہاوٴس ہیں جہاں وہ پرندوں کو اچھی خوراک دیتے اور ان کی ہر طرح سے دیکھ بھال کرتے ہیں۔ایسے پرندے اچھی افزائش نسل کی وجہ سے منہ مانگے داموں بک جاتے ہیں۔&ldquo;</p>
<p>پرندوں کی منڈی اسی علاقے میں کئی بار اپنی جگہ بدل چکی ہے۔اس کی وجہ مارکیٹ کا روز بہ روز بڑھتا ہوارش ہے ۔ بھیڑ کا اندازہ اس بات سے ہی لگایا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی چلتے چلتے رک جائے تو پیچھے سے چلتے رہنے کی آوازیں آنے لگتی ہیں کیونکہ ایک دو آدمی رکے نہیں کہ پیچھے پوری بھیڑ رک جاتی ہے۔</p>
<p>اس مارکیٹ کے ایک دیرینہ گاہک سید شاہد علی شاہ کا کہنا ہے کہ ایک زمانے میں یہاں پرندوں کے علاج کے لئے ایک مشہور اسپتال بھی تھا مگر اب صرف اس کانام ہی بچا ہے۔اس کی ایک وجہ مہنگائی اور دوسری پرندوں کے مالکان کا خود ڈاکٹر بن جانا ہے ۔ماضی میں ایسے نیم حکیم یا ڈاکٹر ان بے زبان پرندوں کے لئے جان لیوا بھی ثابت ہوئے ہیں ۔ &ldquo;</p>
<p>ہزاروں لوگوں کی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مارکیٹ میں مختلف خوانچہ فروش بھی نمایاں نظر آتے ہیں جو منڈی آنے والوں کوسستے نرخوں پر کھانا اور چائے فروخت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں پرندوں کی ہر قسم کی خوراک بیچنے والوں کا بھی رش رہتا ہے ۔تیلیوں اور نائلون کی ٹوکریوں کے علاوہ طرح طرح کے پنجرے بیچنے والے بھی مارکیٹ کا حصہ ہیں۔بعض شوقین حضرات ان کی سجاوٹ کے لئے رنگ برنگی اشیاء بھی خوب خریدتے ہیں۔</p>
<p>پرندوں کی سریلی بولیوں سے گونجتا یہ بازار بے حد پرکشش ہے لیکن اس میں پرندوں کی بہتری کے لئے کچھ اقدامات کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔اگر انتظامیہ اس شاندار اور قدیم مارکیٹ پر توجہ دے تو خریدار اور پرندے دونوں ہی مزید خوش نظر آئیں گے۔</p>
<p>
<object id="slideshowXML720x525" width="720" height="525" data="http://media.voanews.com/designvideo/slideshowXML720x525.swf" type="application/x-shockwave-flash">
<param name="data" value="http://media.voanews.com/designvideo/slideshowXML720x525.swf" />
<param name="align" value="middle" />
<param name="allowScriptAccess" value="always" />
<param name="FlashVars" value="xmlfile=http://www.voanews.com/templates/SlideshowPro.xml?contentid=138857789&amp;xmlfiletype=Default" />
<param name="allowFullScreen" value="true" />
<param name="quality" value="high" />
<param name="bgcolor" value="#ffffff" />
<param name="src" value="http://media.voanews.com/designvideo/slideshowXML720x525.swf" />
<param name="name" value="slideshowXML720x525" />
<param name="allowfullscreen" value="true" />
</object>
</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 7 Feb 2012 17:11:55 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138859269</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[وسیم اے صدیقی]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-07T17:11:55Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/ParindaMarket_main.jpg" length="218017" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ParindaMarket_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ParindaMarket_teaser.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>عسکری قیادت کی ممکنہ برطرفی کے خلاف درخواست قابل سماعت </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/Pakistan-Army-Hearing-Session-07Feb12-138842819.html</link>
				<description>اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق نے کہا کہ اگر حکومت کو کوئی تحفظات ہوئے تو وہ ان کے بارے میں عدالت کو آگاہ کر دیا جائے گا۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">پاکستان کی سپریم کورٹ نے بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کی ممکنہ برطرفی کے خلاف دائر آئینی درخواست باقاعدہ طور پر سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔</p>
<p dir="rtl">چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے جب منگل کو اس درخواست کی ابتدائی سماعت کی تو اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق نے عدالت کو ایک مرتبہ پھر بتایا کہ حکومت فوجی سربراہان کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔</p>
<p dir="rtl">چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ وفاقی حکومت سے ہدایت لے کر بتائیں کہ درخواست کو قابل سماعت قرار دیے جانے پر اُس کو کوئی اعتراض تو نہیں، جس پر مولوی انوار الحق کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کو تحفظات ہوئے تو وہ ان کے بارے میں عدالت کو آگاہ کر دیا جائے گا۔</p>
<p dir="rtl">مقامی وکیل فضل کریم بٹ کی طرف سے دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ امریکی حکام کو لکھے گئے متنازع میمو پر سیاسی و عسکری قیادت کے متضاد موقف کی وجہ سے پائی جانے والی کشیدگی کے تناظر میں حکومت نے آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے&nbsp; ڈائریکٹر جنرل کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا۔</p>
<p dir="rtl">لیکن اٹارنی جنرل نے کہا کہ درخواست گزار کے موقف کی بنیاد ذرائع ابلاغ کے دعوے ہیں۔ اُنھوں نے وزیر اعظم گیلانی کے اُس بیان کا ذکر بھی کیا جس میں اُنھوں نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے جنرل کیانی اور جنرل پاشا کی ممکنہ برطرفی سے متعلق اطلاعات کو مسترد کر دیا تھا۔</p>
<p dir="rtl">یہ امر قابل ذکر ہے کہ وزیراعظم گیلانی نے چند روز قبل فوج اور آئی ایس آئی کے سربراہان کی جانب سے ممیو اسکینڈل کے بارے میں عدالت عظمٰی میں جمع کرائے گئے بیاناتِ حلفی کے بارے میں اپنے تبصرے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ تحقیقات کے بعد اس بارے میں ابہام دور ہو گیا ہے۔</p>
<p dir="rtl">وزیراعظم کے اس بیان کے بعد بظاہر عسکری قیادت اور حکومت کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی بھی خاصی حد تک کم ہو گئی۔</p>
<p dir="rtl">مسٹر گیلانی نے چینی ذرائع ابلاغ کو انٹرویو میں بتایا تھا کہ بیاناتِ حلفی براہ راست عدالت عظمیٰ میں جمع کرا کے فوجی قیادت آئین کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی، لیکن تحقیقات کے بعد اُنھوں نے سیکرٹری دفاع نعیم خالد لودھی کو دونوں ریاستی اداروں میں ابہام پیدا کرنے کا سبب قرار دیتے ہوئے برطرف کر دیا تھا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 7 Feb 2012 13:07:24 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138842819</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[محمد اشتیاق]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-07T13:07:24Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/PNN_Ashfaq-Kayani_480X300.jpg" length="35150" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/PNN_Ashfaq-Kayani_480X300.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/PNN_Ashfaq-Kayani_300x300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>لاہور: ملبے سے مزید لاشیں برآمد</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan/Pakistan-Accidents-Lahore-07Feb12-138830004.html</link>
				<description>منگل کی صبح تک 17 لاشیں نکال لی گئی ہیں اور امدادی تنظیموں کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اب بھی متعدد افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>لاہور میں منہدم ہونے والی تین منزلہ دوا ساز فیکٹری کے ملبے سے حکام کے مطابق منگل کی صبح تک 17 لاشیں نکال لی گئی ہیں۔</p>
<p>امدادی تنظیموں کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اب بھی متعدد افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ ملبے کو ہٹانے میں سرکاری امدادی اداروں کے اہلکاروں کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی بھی اس کام میں ان کا ہاتھ بٹا رہی ہے۔</p>
<p>امدادی کارروائیوں میں مصروف ایک سرکاری ادارے کے عہدیدار ڈاکٹر احمد رضا نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان کے کارکنان انتہائی احتیاط سے ملبہ ہٹارہے ہیں تاکہ اگر کوئی زندہ شخص یہاں موجود ہو تو اسے نقصان نہ پہنچے۔</p>
<p>فیکٹری کی تین منزلہ عمارت پیر کو بوائلر کے پھٹنے سے ہونے والے دھماکے سے زمین بوس ہو گئی تھی۔ حکام کے مطابق حادثے کے وقت عمارت میں 60 کے لگ بھگ افراد موجود تھے جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی تھی۔</p>
<p>ڈاکٹر رضا کے بقول 32 زندہ و مردہ افراد کو منگل کی سہ پہر تک نکالا جاچکا تھا اور موسمی حالات موافق ہونے کی وجہ سے انھیں امید ہے کہ اتنی دیر گزرنے کے باوجود ملبے تلے کچھ لوگ زندہ ہوں گے۔</p>
<p>گنجان آباد رہائشی علاقے میں غیر قانونی طور پر قائم اس فیکٹری میں مویشیوں کے لیے ٹیکے تیار کیے جاتے تھے۔</p>
<p>امدادی تنظمیوں کا کہنا ہے کہ فیکٹری کے ارگرد تنگ راستوں کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔</p>
<p>لاہور انتظامیہ کے عہدیداروں نے بتایا کہ اس فیکٹری کو تین بار بند کرایا گیا تھا لیکن اس کے باوجود یہاں غیر قانونی طور پر کام جاری تھا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 7 Feb 2012 05:29:03 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138830004</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-07T05:29:03Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/RTR2XEEU.jpg" length="60243" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/RTR2XEEU.jpg" medium="image" isDefault="true" height="302" width="600" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/RTR2XECE-sq.jpg" medium="image" isDefault="false" height="359" width="359" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
										
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>کراچی ساحل پر مردہ دیوہیکل مچھلی </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan/pakistan-karachi-fish-07feb12-138843279.html</link>
				<description>اطلاعات کے مطابق شارک نسل کی اس 44 ٹن وزنی مچھلی کی لمبائی 40 فٹ بتائی جاتی ہے او مقامی مچھیروں نے اسے ساحل کےقریب سمندر میں مردہ حالت میں دیکھا۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>کراچی میں ساحل سمندر پر منگل کی صبح ایک دیو ہیکل مچھلی مردہ حالت میں پائی گئی جسے بھاری مشینوں کے ذریعے سمندر سے نکالا گیا۔</p>
<p>اطلاعات کے مطابق شارک نسل کی اس 44 ٹن وزنی مچھلی کی لمبائی 40 فٹ بتائی جاتی ہے او مقامی مچھیروں نے اسے ساحل کےقریب سمندر میں مردہ حالت میں دیکھا۔</p>
<p>مچھلی کو ساحل تک لانے میں کئی گھنٹے صرف ہوئے اور اس دوران کرینوں کی مدد حاصل کی گئی۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 7 Feb 2012 13:18:15 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138843279</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[مقصود مہدی]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-07T13:18:15Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Pakistan_Karachi_Shark_Fish_480.jpg" length="76187" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Pakistan_Karachi_Shark_Fish_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Pakistan_Karachi_Shark_Fish_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>پاک ایران تجارت میں اضافے پر اتفاق</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/Pakistan-Iran-Trade-07Feb12-138844704.html</link>
				<description>دو روزہ مذاکرات میں ٹیلی مواصلات، ریل و فضائی رابطوں، اور توانائی کے شعبے میں بھی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">پاکستان اور ایران نے دوطرفہ تجارت کے فروغ کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرکے اس کا سالانہ حجم پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے کے لیے کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔&nbsp;</p>
<p dir="rtl">دونوں ہمسایہ مسلم ممالک کے مابین تجارتی اور اقتصادی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بات چیت کا تازہ ترین دور اسلام آباد میں ہوا، جس میں پاکستانی وفد کی سربراہی وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ حفیظ شیخ جب کہ ایرانی وفد کی قیادت نائب صدر علی سعیدلو نے کی۔</p>
<p dir="rtl">دو روزہ مذاکرات کے اختتام پر منگل کو جاری ہونے والے سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں پاک ایران تجارت سے متعلق مسائل کی نشاندہی بھی کی گئی۔</p>
<p dir="rtl">نائب صدر علی سعیدلو کے بقول پاک ایران تجارت کا موجودہ حجم 1 ارب ڈالر سے کچھ زائد ہے، اور دونوں ممالک آئندہ دو سالوں میں اس میں 4 گنا اضافے کی اہلیت رکھتے ہیں۔</p>
<p dir="rtl">بات چیت کے پہلے روز اقتصادی روابط کے علاوہ ٹیلی مواصلات، ریل و فضائی رابطوں، اور توانائی کے شعبے میں بھی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا، جب کہ انفرادی شعبوں پر تفصیلی غور کے لیے تکنیکی گروپوں کی تشکیل کا بھی اعلان کیا گیا۔</p>
<p dir="rtl">سرکاری بیان میں پاک ایران گیس پائپ لائن کے منصوبے کا الگ سے ذکر نہیں آیا، لیکن مقامی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق دونوں ملکوں کے اعلیٰ عہدے داروں نے اس منصوبے پر کام کی رفتار مزید تیز کرکے اس کو 2014ء کے اختتام تک مکمل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p dir="rtl">پاکستان حالیہ ہفتوں میں تسلسل کے ساتھ یہ بات واضح کرتا آیا ہے کہ وہ امریکی تحفظات کے باوجود ایران سے قدرتی گیس کی درآمد کے منصوبے پر کام جاری رکھے گا کیوں کہ یہ منصوبہ اُس کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔</p>
<p dir="rtl">پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالباسط یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران کے متنازع جوہری پروگرام کے تناظر میں امریکہ کی جانب سے تہران پر عائد کی گئی حالیہ پابندیاں پاکستان کے خیال میں گیس پائپ لائن پر نافذ نہیں ہوتی ہیں۔</p>
<p dir="rtl">اُدھر ایرانی نائب صدر علی سعیدلو نے منگل کو اسلام آباد میں صدر آصف علی زرداری سے بھی ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے اُمور زیر بحث آئے۔</p>
<p dir="rtl">ذرائع ابلاغ کے مطابق علی سعیدلو کے دورے کا ایک مقصد صدر محمود احمدی نژاد کے ممکنہ دورہِ پاکستان کے انتظامات کا جائزہ لینا بھی تھا۔</p>
<p dir="rtl">افغانستان، ایران اور پاکستان کا سہ فریقی سربراہ اجلاس رواں ماہ اسلام آباد میں متوقع ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 7 Feb 2012 13:51:03 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138844704</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-07T13:51:03Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Pakistan_Islamabad_Iran_Ali_Saeedlou_Asif_Ali_Zardari_480_07Feb12.jpg" length="195259" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Pakistan_Islamabad_Iran_Ali_Saeedlou_Asif_Ali_Zardari_480_07Feb12.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Pakistan_Islamabad_Iran_Ali_Saeedlou_Hafeez_Sheikh_230_07Feb12.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>حنا ربانی کھر روس کے دورے پر</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan-russia-khar-07feb12-138828134.html</link>
				<description>پاکستانی وزیر خارجہ اپنے روسی ہم منصب سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات میں فروغ پر بات چیت کریں گی</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر منگل کو روس کے چار روزہ دورے پر روانہ ہو رہی ہیں جہاں وہ اپنے روسی ہم منصب سے دوطرفہ تعلقات میں فروغ پر بات چیت کریں گی۔</p>
<p dir="rtl">دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حنا ربانی کھر&nbsp; روس کے قانون سازوں سے بھی ملاقاتیں کریں گی۔</p>
<p dir="rtl">پاکستان اور روس دوطرفہ تعلقات میں فروغ کی کوشش کرتے آ رہے ہیں خصوصاً توانائی، سائنس اور ٹیکنالوجی، اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے شعبوں میں تعاون کی نئی راہیں تلاش کی جارہی ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 7 Feb 2012 04:28:32 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138828134</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-07T04:28:32Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_pakistan_Hina_Rabbani_Khar_230_26Jul11.jpg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>بھارت : عدالتی حکم پر فیس بک اور گوگل سے متنازع مواد خارج</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/world/India-Internet-06Feb12-138789704.html</link>
				<description>ایک بھارتی عدالت نے 21 بڑی انٹرنیٹ کمپنیوں کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنی ویب سائٹس پر سے ایسے مواد کو ہٹادیں جن سے ہندووں، مسلمانوں یا عیسائیوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس لگتی ہو</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>ایک بھارتی عدالت کے فیصلے کی تعمیل کرتے ہوئے انٹرنیٹ سرچ انجن 'گوگل' اور سماجی نیٹ ورکنگ کی معروف ویب سائٹ 'فیس بک' نے اپنی بھارتی ویب سائٹس پر سے مبینہ طور پر متنازع مواد ہٹا دیا ہے۔</p>
<p>مذکورہ دونوں کمپنیاں ان 21 بڑی انٹرنیٹ کمپنیوں میں شامل ہیں جنہیں ایک بھارتی عدالت نے حکم دیا تھا کہ وہ اپنی ویب سائٹس پر سے ایسے مواد کو ہٹادیں جن سے ہندووں، مسلمانوں اور عیسائیوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہو۔</p>
<p>اس عدالتی فیصلے کی بنیاد گزشتہ برس منظور کیا گیا ایک قانون ہے جس میں ویب سائٹس پر صارفین کی جانب سے درج اور جاری کیے گئے مواد کا ذمہ دار منتظم کمپنیوں کو ٹہراتے ہوئے انہیں ایسے مواد کو شکایت کے اندراج کے 36 گھنٹوں کے اندر مٹانے کا پابند کیا گیا ہے۔</p>
<p>'یاہو' اور 'مائیکرو سوفٹ' سمیت بعض دیگر کمپنیوں نے مذکورہ قانون کے خلاف عدالت میں اپیل&nbsp; کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ استعمال کنندگان (یوزرز) کی جانب سے کمپنیوں کی ویب سائٹس پر درج اور شائع کیے گئے پیغامات اور موادکا ذمہ دار کمپنیوں کو نہیں ٹہرایا جاسکتا۔</p>
<p>تاہم مقدمے کی سماعت کرنے والے جج نے انٹرنیٹ کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر انہوں نے مذہبی طور پر حساس معاملات کا لحاظ نہ کیا تو انہیں بھارت میں "چین کی طرح " کے آن لائن کریک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔</p>
<p>بھارت میں شہری آزادیوں کے لیے سرگرم تنظیمیں اس قانون کی مخالفت کرتی آئی ہیں تاہم حکومت کا اصرار ہے کہ قانون کا مقصد&nbsp; آئین میں دی گئی اظہارِ رائے کی آزادی&nbsp; کے بنیادی حق کو پامال کرنا نہیں ہے۔</p>
<p>قانون کی حامی سیاست دانوں کا&nbsp; موقف ہے کہ بھارت میں انٹرنیٹ کا استعمال بڑھ رہا ہے اور قدامت پسندسماج کے حامل ملک میں انٹرنیٹ پر متنازع اور توہین آمیز مواد کی اشاعت سے مذہبی گروہوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Mon, 6 Feb 2012 17:52:07 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138789704</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-06T17:52:07Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[دنیا]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/RTR2XELJ._TEASE_India_Google_06FEB12jpg.jpg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																																																		</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>پاکستان کا انگلینڈ کے خلاف کلین سویپ</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/sports/cricket-match-05feb12-138737989.html</link>
				<description>پاکستان نے تیسرے ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ کو 71 رنز سے شکست دے کر تین، صفر سے سیریز جیت لی</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>پاکستان نے تیسرے اور آخری کرکٹ ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ کو 71 رنز سے شکست دے کر سیریز تین، صفر سے جیت لی۔</p>
<p>انگلینڈ کو جیتنے کے 324 رنز کا ہدف ملا تھا لیکن اس کی پوری ٹیم 252 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔</p>
<p>پاکستان کی طرف سے عمر گل اور سعید اجمل نے چار، چار جب کہ عبدالرحمن نے دو وکٹیں حاصل کیں۔</p>
<p>اظہر علی کو میچ کا اور سعید اجمل کو سیریز کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔</p>
<p>اس سے قبل پاکستانی ٹیم دوسری اننگز میں 365 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی اور اس نے انگلینڈ کو جیت کے لیے 324 رنز کا ہدف دیا تھا۔ پاکستان کی طرف سے اظہر علی نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 157 رنز بنائے، دوسرے سب سے نمایاں بلے باز یونس خان رہے جو 127 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔</p>
<p>پاکستان کی پوری ٹیم پہلی اننگز میں 99 رنز پر آؤٹ ہو گئی تھی جس کے جواب میں انگلش ٹیم نے 141 رنز بنا کر 42 اسکور کی برتری حاصل کر لی تھی۔</p>
<p>چار ایک روزہ بین الاقوامی میچوں کی سیریز کا پہلا میچ 13 فروری کو ابوظہبی میں کھیلا جائے گا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Mon, 6 Feb 2012 12:48:55 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138737989</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-06T12:48:55Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[کھیل]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Cricket_Saeed+Ajmal_06feb12_480.jpg" length="67616" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Cricket_Saeed+Ajmal_06feb12_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="320" width="500" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Cricket_Pakistan_06feb12_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="320" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
																																																																									</channel>
</rss>

