<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>


																																		



<rss xmlns:ymusic="http://music.yahoo.com/rss/1.0/ymusic/" xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" xmlns:cf="http://www.microsoft.com/schemas/rss/core/2005" xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"   version="2.0">
<channel>
	<title>VOA News:  جنوبی ایشیا  </title>
	<link>http://www.voanews.com/urdu/news/southasia</link>
		<description>جنوبی ایشیا 
																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																								
	Voice of America
	</description>
	<language>ur</language> 	<copyright />
	<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 15:33:00 GMT</pubDate>
	<dc:creator />
	<dc:date>2012-02-10T15:33:00Z</dc:date>
	<dc:language>ur</dc:language> 	<dc:rights />
	<image>
		<title>Voice of America</title>
		<link>http://www.voanews.com/urdu</link>
		<url>http://media.voanews.com/designimages/VOARSSIcon.gif</url>
	</image>


						
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>کشمیر میں بس حادثہ، 20 ہلاک</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/India-Kashmir-Bus-Accident-10Feb12-139080434.html</link>
				<description>حادثہ ضلع ڈوڈہ میں پیش آیا جہاں بس ایک خطرناک موڑ کاٹتے ہوئے دریائے چناب میں جا گری۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں جمعہ کو ایک مسافر بس دریا میں گرنے سے کم از کم 20 افراد ہلاک ہو گئے جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔</p>
<p dir="rtl">حکام کے مطابق یہ حادثہ ضلع ڈوڈہ میں پیش آیا جہاں بس ایک خطرناک موڑ کاٹتے ہوئے دریائے چناب میں جا گری۔ یہ بس اندرون ضلع ہی چلتی تھی اور مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ دشوار گزار اس ضلع کے دیہاتوں کو ملانے والی سڑکوں پر کئی خطرناک موڑ ہیں۔</p>
<p dir="rtl">مقامی آبادی اور حکام نے شدید زخیموں کے قریبی اسپتال پہنچایا لیکن ان میں اکثر جانبر نا ہو سکے، جس لوگوں نے اسپتال میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کی کمی اور ضروری ادویات کی عدم دستیابی پر احتجاج بھی کیا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 11:21:02 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139080434</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-10T11:21:02Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Jammu_Kashmir_Doda_River_Chenab_Bridge_480.jpg" length="66559" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Jammu_Kashmir_Doda_River_Chenab_Bridge_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Jammu_Kashmir_Doda_River_Chenab_Bridge_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>افغانستان: کار بم دھماکے میں 7 افراد ہلاک</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/southasia/Afghan-Conflicts-05Feb12-138735309.html</link>
				<description>دھماکا قندھار پولیس کی ایک عمارت کے باہر پارکنگ میں ہوا اور ہلاک ہونے والوں میں پانچ اہلکار بھی شامل ہیں۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>افغانستان کے جنوبی شہر قندھار میں اتوار کو ایک کار بم دھماکے میں کم از کم سات افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔</p>
<p>صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ دھماکا مقامی پولیس کی ایک عمارت کے باہر پارکنگ میں ہوا اور ہلاک ہونے والوں میں پانچ اہلکار بھی شامل ہیں۔ دھماکا اس قدر شدید تھا کہ قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔</p>
<p>کسی گروپ نے تاحال اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن اتحادی اور افغان سکیورٹی فورسز کے خلاف بر سر پیکار طالبان شدت پسند ایسے واقعات میں ملوث رہے ہیں۔</p>
<p>افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد شروع ہونے والی لڑائی میں بڑی تعداد میں شہری بھی ہلاک و زخمی ہو رہے ہیں۔</p>
<p>اقوام متحدہ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ سال افغانستان میں ہونے والے پرتشدد واقعات میں 3,000 سے زائد شہری مارے گئے۔</p>
<p>ہفتہ کو جاری کی گئی رپورٹ میں خودکش حملوں اور سڑک کنارے نصب کردہ بموں کے دھماکوں کو شہری ہلاکتوں کی بڑی وجہ قرار دیا گیا ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sun, 5 Feb 2012 09:04:56 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138735309</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-05T09:04:56Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[جنوبی ایشیا]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/AP111206118288.jpg" length="66475" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP111206118288.jpg" medium="image" isDefault="true" height="358" width="512" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/afp_afghanistan_ngo_bombing_31oct11_300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>اتحادی افواج پہ افغان اہلکاروں کے حملوں پر تشویش</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/southasia/USCongress_NATO_Afghanistan_01Feb12-138517689.html</link>
				<description>اِن حملوں کے پیشِ نظر بدھ کو امریکی قانون سازوں کی جانب سے یہ مطالبہ سامنے آیا ہے کہ افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج کے خلاف اِن اندرونی حملوں کے سدِ باب کے لیے افغان فوجیوں کے بھرتی کے عمل کو موثر بنایا جائے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>افغانستان میں تعینات امریکی اور نیٹو افواج پر افغان فوجیوں کے حملوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث &nbsp;افغان فورسز کی ملکی سیکیورٹی&nbsp; کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی اہلیت سے متعلق خدشات میں اضافہ ہورہا ہے۔</p>
<p>اِن حملوں کے پیشِ نظر بدھ کو امریکی قانون سازوں کی جانب سے یہ مطالبہ سامنے آیا ہے کہ افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج کے خلاف اِن اندرونی حملوں کے سدِ باب کے لیے افغان فوجیوں کے بھرتی کے عمل کو موثر بنایا جائے۔</p>
<p>اِن خدشات کے عین مطابق بدھ کو نیٹو کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جنوبی افغانستان میں ایک افغان فوجی کی فائرنگ سے ایک اور اتحادی فوجی ہلاک ہوگیا ہے۔</p>
<p>افغان حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ منگل کو صوبہ ہلمند کے ضلع مرجاہ میں پیش آیا۔ حکام کے بقول حملہ آور فوجی کا موقف ہے کہ اس کی فائرنگ سے اتحادی فوجی کی ہلاکت&nbsp; حادثاتی ہے۔</p>
<p>افغانستان میں حالیہ کچھ برسوں کے دوران اس نوعیت کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق 2007ء سے اب تک افغان سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے امریکی فوجیوں پر حملے کے 40 واقعات پیش آچکے ہیں جن میں سے 75 فی صد حملے گزشتہ دو برسوں کے دوران&nbsp; کیے گئے۔</p>
<p>امریکی اعداد و شمار کے مطابق ایسے کم از کم 60 فی صد حملے ذاتی وجوہات کی بنا پر کیے گئے۔</p>
<p>دریں اثنا امریکی ایوانِ نمائندگان کی 'آرمڈ سروسز کمیٹی' کے سربراہ&nbsp; نے حملوں کے ان واقعات پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان سیکیورٹی اہلکاروں کی جانچ پڑتال کا نظام "الم ناک حد تک کمزور ہے"۔</p>
<p>کمیٹی کی ری پبلکن چیئرمین ہاورڈ بک مک کیون نے بدھ کو کمیٹی کی ایک سماعت&nbsp; کے دوران امریکی محکمہ دفاع کے عہدیداران سے مطالبہ کیا&nbsp; کہ وہ ایسے&nbsp; افغان فوجیوں، پولیس اور دیگر اہلکاروں&nbsp; کی نشان دہی&nbsp; کے لیے مزید اقدامات کریں جو امریکی&nbsp; اہلکاروں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغانستان میں غیر ملکی سیکیورٹی کانٹریکٹرز کے استعمال پر پابندی عائد&nbsp; کرکے افغان صدر حامد کرزئی نے صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔</p>
<p>کمیٹی کے روبرو بیانِ حلفی دیتے ہوئے امریکی فوج کے بریگیڈیئر جنرل اسٹیفن ٹائون سینڈ کا کہنا تھا کہ امریکی فوجیوں کی افغانستان میں ان اندرونی حملوں سے حفاظت یقینی بنانے کے لیے مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ مزید امریکی فوجیوں کو افغان افواج کے ساتھ بطورِ مشیر اور استاد تعینات کیا جارہا ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 1 Feb 2012 22:13:17 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138517689</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-01T22:13:17Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[جنوبی ایشیا]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/AP120128129364_Afghanistan_US_31JAN12.jpg" length="54601" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP120128129364_Afghanistan_US_31JAN12.jpg" medium="image" isDefault="true" height="320" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP+afghanistan+23.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>جنوبی کوریا کے صدر مشرق وسطیٰ کا دورہ کریں گے</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/skorea-oil-30jan12-138309149.html</link>
				<description>جنوبی کوریا امریکی پابندیوں کے تناظر میں ایران سے خام تیل کی درآمد میں کمی کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>جنوبی کوریا کے صدر لی میونگ باک تیل کی درآمد سے متعلق ذرائع میں اضافے کی کوشش میں آئندہ ماہ مشرق وسطیٰ کے متعدد تیل پیدا کرنے والے ملکوں کا دورہ کریں گے۔</p>
<p>پیر کو حکام نے بتایا کہ مسٹر لی ہفتہ یعنی 4 فروری کو یہ دورہ شروع کر رہے ہیں جس میں وہ ترکی پھر سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارت جائیں گے۔</p>
<p>صدارتی دفتر کا کہنا تھا کہ اس ایک ہفتے کے دورے سے جنوبی کوریا کو توانائی کے حصول میں تسلسل کو محفوظ بنانے میں مدد ملے گی۔ جنوبی کوریا امریکی پابندیوں کے تناظر میں ایران سے خام تیل کی درآمد میں کمی کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔</p>
<p>امریکہ نے ایشیائی ملکوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایران سے خام تیل کی درآمد ختم کرنے کے یورپی یونین کے اقدامات میں شامل ہوجائیں تاکہ متنازع جوہری پروگرام سے باز رہنے کے لیے تہران پر دباؤ ڈالا جاسکے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Mon, 30 Jan 2012 08:28:26 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138309149</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-30T08:28:26Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/PNN_south-korea-president_4.jpg" length="25806" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/PNN_south-korea-president_4.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/PNN_South-Korea-presuident_.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>تائیوان: نئے وزیراعظم کا تقرر</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/taiwan-priemer-31jan12-138385194.html</link>
				<description>تائیوان کے صدر ما ینگ جیوس نے مالی امور کے سابق نگران کو ملک کا وزیراعظم مقرر کیا ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>تائیوان کے صدر ما ینگ جیوس نے مالی امور کے سابق نگران کو ملک کا وزیراعظم مقرر کیا ہے۔</p>
<p>شان چن اس وقت نائب وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہیں اور وہ (Wu Den-yih) کی جگہ لیں جو رواں ماہ ہونے والے انتخابات میں نائب صدر منتخب ہوئے ہیں۔</p>
<p>چن تائیوان کے مالی نگران کمیشن کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔ بحیثیت نائب وزیراعظم وہ صدر ما کی چین کے ساتھ اقتصادی روابط کے فروغ کی پالیسی کی نگرانی بھی کررہے تھے۔</p>
<p>نئے وزیراعظم نے وزیر داخلہ جیانگ یی ہواہ کو اپنا نائب نامزد کیا ہے۔</p>
<p>توقع ہے کہ تائیوان کی نئی کابینہ آئندہ ہفتے حلف اٹھائے گی۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 31 Jan 2012 11:44:05 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138385194</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-31T11:44:05Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/voa-chinese-ma-yingjeo-taiwan-1jan12-300.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>پاکستانی وزیر خارجہ بدھ کو کابل جائیں گی</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/Pakistan-Hina-Rabbani-Khar-Visit-Kabul-29Jan12-138284469.html</link>
				<description>افغان رہنماؤں کے ساتھ بات چیت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور قیام امن کے سلسلے میں مفاہمتی عمل کے لیے اسلام آباد کی حمایت سمیت دوطرفہ تعلقات سے متعلق اُمور زیر بحث آئیں گے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر بدھ کو افغانستان کے سرکاری دورے پر جائیں گی جہاں افغان رہنماؤں کے ساتھ اُن کی بات چیت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور قیام امن کے سلسلے میں مفاہمتی عمل کے لیے اسلام آباد کی حمایت سمیت دوطرفہ تعلقات سے متعلق اُمور زیر بحث آئیں گے۔</p>
<p dir="rtl">افغان وزارت خارجہ کے ترجمان جانان موسٰی زئی نے اتوار کو کابل میں صحافیوں کو بتایا کہ اپنے افغان ہم منصب ظلمے رسول کے ساتھ باضابطہ بات چیت کے علاوہ پاکستانی وزیر خارجہ صدر حامد کرزئی سے بھی ملاقات کریں گی۔</p>
<p dir="rtl">&rsquo;&rsquo;یہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کے ایک نئے باب کی شروعات ہوگا۔ طرفین دہشت گردی کے خلاف جنگ اور افغانستان میں امن عمل کے لیے پاکستان کی ناگزیر حمایت پر بات چیت کریں گے۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p dir="rtl">اُنھوں نے کہا کہ افغان امن عمل میں پاکستان کا کلیدی کردار ہے اور امن مذاکرات کی طرف پیش رفت کے لیے &rsquo;&rsquo;افغانستان کو اپنے ہمسایہ ملک کی ایک مخلصانہ کوشش درکار ہے&lsquo;&lsquo;۔</p>
<p dir="rtl">پاکستانی وزیر خارجہ آئندہ ہفتے ایک ایسے وقت افغانستان کا دورہ کر رہی ہے جب افغان طالبان نے حال ہی میں یہ انکشاف کیا ہے کہ اُن کے نمائندوں اور امریکی حکام کے درمیان ابتدائی رابطوں کے نتیجے میں امن بات چیت شروع کرنے سے پہلے طالبان نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اپنا ایک سیاسی دفتر کھولنے پرآمادگی ظاہر کر دی ہے۔</p>
<p dir="rtl">اطلاعات کے مطابق امریکی حکام کےساتھ بات چیت کو ممکن بنانے کے لیے پاکستان نے بھی کردار ادا کیا ہے کیونکہ طالبان کے نمائندے اس مشن پر براستہ پاکستان قطر گئے ہیں۔ لیکن نہ تو امریکہ اور نہ ہی پاکستان نے ان اطلاعات کی تصدیق کی ہے۔</p>
<p dir="rtl">گزشتہ ہفتے پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں امریکہ اور طالبان کے درمیان رابطوں میں اسلام آباد کے کردار سے متعلق پوچھے گئے سوالات کا براہ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے صرف اتنا کہا تھا کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کے لیے کسی بھی ایسی کوشش کی حمایت کرے گا جس کی قیادت خود افغان کریں گے۔</p>
<p dir="rtl">پاکستانی ترجمان کے بقول افغانستان میں امن صرف طاقت کے استعمال سے نہیں آسکتا اس لیے ضروری ہے کہ مفصل امن مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا جائے جس میں تمام فریقوں کو نمائندگی حاصل ہو۔</p>
<p dir="rtl">امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی حکام اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان قطر میں ہونے والی ابتدائی ملاقاتوں میں اعتماد سازی سے متعلق اقدامات اور قیدیوں کی مکمنہ رہائی پر بھی تجاویز کا تبادلہ ہوا ہے۔</p>
<p dir="rtl">طالبان کا کہنا ہے کہ وہ امریکی جیل، گوانتانامو بے سے اپنے قیدیوں کی رہائی چاہتے ہیں لیکن کابل کے حالیہ دورے کے دوران امریکی خصوصی ایلچی مارک گراسمین نے واضح کیا تھا کہ طالبان قیدیوں کی رہائی کے بارے میں امریکہ نے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ان کے بقول قطر میں طالبان کا دفتر کھولنے سے قبل عسکریت پسندوں کو بین الاقوامی دہشت گردوں سے لاتعلقی اور افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے لیے امن مذاکرات میں اپنی شمولیت کا واضح اعلان کرنا ہوگا۔&nbsp;</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Mon, 30 Jan 2012 05:09:39 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138284469</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-30T05:09:39Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Pakistan_Hina_Rabbani_Khar_Media_Talk_15Dec11_480.jpg" length="37161" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Pakistan_Hina_Rabbani_Khar_Media_Talk_15Dec11_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Pakistan_Hina_Rabbani_Khar_Media_Talk_15Dec11_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>امریکی اخبارات کے مضامین و  اداریے: افغانستان میں کامیابی</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/southasia/US_Press_Roundup_29Jan12-138300459.html</link>
				<description>رپورٹوں کے مطابق، افغانستان میں امریکہ کو فوجوں کی تعداد میں اضافے کے سبب جو نازک سی کامیابی حاصل ہوئی تھی، اُسے افغان حکومت کی بدعنوانی، بدانتظامی اور پاکستان سے طالبان جنگجوؤں کے  آپریشن کے سبب برقرار رکھنا مشکل ہو رہا ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>اخبار &rsquo;لاس اینجلیس ٹائمز&lsquo;نے The Afghan Divideکے عنوان سے ایک مضمون شائع کیا ہے۔مصنفہ طویل عرصے تک افغانستان میں مقیم رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ افغانستان میں کامیابی کی پیمائش کا سوال بے حد اہم ہے۔ مگر، اِس کے جواب پر ہر ایک کا اتفاق ضروری نہیں ہے۔</p>
<p>مصنفہ افغانستان کی صورتِ حال کے بارے میں امریکہ کے درجن بھر خفیہ اداروں کی اُس &rsquo;کلاسی فائیڈ رپورٹ&lsquo; کا حوالہ دیتی ہیں جس کے چیدہ چیدہ نکات &rsquo;دِی ٹائمز&lsquo; نے جاری کیے تھے۔ اِن رپورٹوں کے مطابق، افغانستان میں فوجوں کی تعداد میں اضافے کے سبب جو نازک سی کامیابی حاصل ہوئی تھی، اُسے افغان حکومت کی بدعنوانی، بدانتظامی اور پاکستان سے طالبان جنگجوؤں کے &nbsp;آپریشن کے سبب برقرار رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔</p>
<p>مصنفہ کے مطابق، افغانستان سے طے شدہ پروگرام کے مطابق امریکہ کا فوجی انخلا ایک درست فیصلہ ہے، لیکن اگر افغانستان کے اندر حکومتی سیٹ اپ سے بدعنوانی کے خاتمے اور پاکستان کے اندر سے عسکریت پسندوں کے لیے امداد جیسے دو مسائل کا حل نہیں نکالا جاتا تو امریکی حکومت سے یہ سوال اٹھایا جانا چاہیئے کہ ہم مزید جانیں اور وسائل کیوں ضائع کر رہے ہیں۔</p>
<p>صدر اوباما کو چاہیئے کہ وہ اِس مشکل مسئلے کے متعدد پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے افغانستان کے حوالے سے فیصلے کریں جو وہاں موجود خطرات کی سرکوبی کرتے ہوں۔</p>
<p>اخبار &rsquo;نیو یارک ٹائمز&lsquo; نے Unfinished Business in Iraqکے عنوان سے ایک اداریہ تحریر کیا ہے۔ اخبار لکھتا ہے&nbsp; کہ عراق سے امریکہ کے آخری فوجی کے انخلا کے بعد اب تک ایسے بہت سے عراقی شہری عسکریت پسندوں کے ہاتھوں چُن چُن کر ہلاک کر دیے گئے ہیں، جنھوں نے امریکیوں کے ساتھ کام کیا۔متعدد نے امریکہ کے فوجی اڈوں پر پناہ لی لیکن اُن بیسز کے بند ہونے کے بعد وہ لوگ چھپنے پر مجبور ہوگئے۔</p>
<p>سال 2007ء&nbsp; میں کانگریس نے امریکی فوج کی مدد کرنے والے عراقیوں کے لیے خصوصی ویزا پروگرام کی منظوری دی تھی، جس کے تحت سالانہ 5000عراقیوں کو ویزے جاری کیے جانا تھے۔ لیکن، اخبار کے مطابق، اِمیگریشن نظام میں سست روی کے باعث، ایسے ہزاروں عراقیوں کی ویزا درخواستیں التویٰ میں پڑ گئی ہیں۔ اوپر سے، گذشتہ سال کنٹکی میں دو عراقیوں پر القاعدہ کی مدد کرنے کے الزامات نے عراقیوں کے لیے ویزوں کے اجرا میں نگرانی کے عمل کو مزید سخت کردیا ہے۔</p>
<p>اخبار کے مطابق، ایک غیرسرکاری تنظیم بتا رہی ہے کہ 62،000عراقی اپنے خاندان سمیت امریکہ کے ویزوں کی درخواست دے چکے ہیں۔ اُن میں سے 29،000ایسے ہیں جنھوں نے امریکیوں کی معاونت کی تھی۔</p>
<p>اخبار باور کراتا ہے کہ ایسے میں جب امریکی انخلا کے بعد عراق میں تشدد کے واقعات میں آئے روز شدت آرہی ہے، امریکہ کے لیے کام کرنے والے عراقیوں کی زندگیاں مزید خطرات سے دوچار ہو رہی ہیں۔ لہٰذا، حالات واشنگٹن کی توجہ کے متقاضی ہیں۔</p>
<p>Why Gingrich would lose in debate with Obamaیہ عنوان ہے &rsquo;واشنگٹن پوسٹ &lsquo;میں شائع ہونے والے ایک مضمون کا۔مضمون نگار نے نیوٹ گنگرچ کی ریپبلیکن پارٹی سے صدارتی نامزدگی حاصل کرنے میں کامیابی کی صورت میں صدارتی مباحثے میں صدر براک اوباما اور نیوٹ گنگرچ کے فنِ خطابت اور مختلف امور پر اُن کی سوچ کے حوالے سے حاشیہ آرائی کی ہے۔</p>
<p>مضمون نگار کے مطابق نیوٹ گنگرچ پرائمریز کے دوران ری پبلیکن ووٹروں کو متاثر کرتے نظر آئے ہیں۔ ساؤتھ کیرولینا میں اُن کے بڑے فرق سے فتح نے اُن کے لیے امکانات کو روشن کیا ہے۔ اور وہ خود بھی اِس قدر پُر اعتماد ہیں کہ دعویٰ کرتے ہیں کہ صدارتی مباحثے میں وہ صدر براک اوباما کی ایک نہیں چلنے دیں گے۔</p>
<p>آڈیو رپورٹ سنیئے:</p>
<p>
<object classid="clsid:02bf25d5-8c17-4b23-bc80-d3488abddc6b" width="229" height="39" codebase="http://www.apple.com/qtactivex/qtplugin.cab#version=6,0,2,0">
<param name="src" value="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+0100+US+PRESS+ROUNDUP-+01-29-Asad.Mp3" /><embed type="video/quicktime" width="229" height="39" src="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+0100+US+PRESS+ROUNDUP-+01-29-Asad.Mp3">&nbsp;</embed>
</object>
</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Mon, 30 Jan 2012 02:02:11 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138300459</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[اسد حسن]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-30T02:02:11Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[جنوبی ایشیا]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Rueters_Italy_Afghan_Aid_01_26_2011_300.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>بنگلہ دیش: مظاہرین پر پولیس فائرنگ، چار افراد  ہلاک</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/southasia/Bangladesh_Unrest_29Jan12-138292974.html</link>
				<description>بی این پی اور حکمراں عوامی لیگ کے درمیان جھڑپوں کے خدشے کے پیشِ نظر،   بنگلہ دیشی  پولیس نے اتوار کے روز دارالحکومت ڈھاکہ میں نکلنے والی تمام  ریلیوں پر پابندی لگا رکھی تھی</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>بنگلہ دیش کےجنوب مشرقی خطےمیں مخالفین کی طرف سےنکالی جانےوالی احتجاجی ریلیوں پر پولیس نےگولیاں چلائیں اور آنسو گیس کے گولے داغے، جِن واقعات میں کم از کم چار افراد ہلاک اور 200سے زائد زخمی ہوئے۔</p>
<p>اہل کاروں کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےیہ واقعات اتوار کے روز چاند پور اور لکشمی پور کے دو قصبوں میں ہوئے جہاں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سرگرم کارکن ایک نگراں نوعیت کے رائے دہی کے نظام کے مطالبے کے حق میں &nbsp;احتجاج کر رہے تھے۔</p>
<p>حکام نے بتایا ہے کہ احتجاج کرنے والوں نے اہل کاروں پر سنگ باری کی اور پولیس کی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کی، جس پر عہدے دار فائر کھولنے پر مجبور ہوئے۔</p>
<p>ملک کے دیگر شہروں سے بھی &nbsp;ایسی ہی جھڑپوں کی خبریں موصول ہوئی ہیں، ایسے میں جب بی این پی کے سرگرم کارکن اور اُن کے اسلام پسند اتحادی &nbsp;ووٹنگ کے ایک &nbsp;نظام کے اجرا کے &nbsp;مطالبے پر &nbsp;اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں، جِس کے تحت بغیر پارٹی کی نگراں حکومتیں قومی انتخابات کی نگرانی کرتی ہیں۔</p>
<p>وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت نے اِس نظام کوبند کیا تھا۔</p>
<p>قبل ازیں، &nbsp;بی این پی اور حکمراں عوامی لیگ پارٹی کے درمیان جھڑپوں کے خدشے کے پیشِ نظر، &nbsp;بنگلہ دیشی &nbsp;پولیس نے اتوار کے روز دارالحکومت ڈھاکہ میں نکلنے والی &nbsp;تمام ریلیوں پر پابندی لگادی تھی۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sun, 29 Jan 2012 20:36:44 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138292974</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-29T20:36:44Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[جنوبی ایشیا]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/ap_bangladdesh_protests_24jan12_eng_480.jpg" length="28232" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_bangladdesh_protests_24jan12_eng_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="320" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_bangladesh_protests_24jan12_eng_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>افغانستان کے مستقبل کے بارے سابق اعلیٰ امریکی عہدیداروں کی رائے</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/afghanistan-us-28jan12-138251949.html</link>
				<description>سابق وزیرِ دفاع ویلئیم کوہن کہتے ہیں کہ باغیوں  کے ساتھ  مذاکرات  کا انحصار اس بات پر ہوگا  کہ آپ طالبان کے کس دھڑے کی بات کر رہے ہیں۔ </description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>2001 میں امریکہ&nbsp; کی&nbsp; زیرِ قیادت فوجوں نے طالبان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔</p>
<p>امریکہ اور نیٹو کا ہدف یہ ہے کہ 2014 کے آخر تک جنگی &nbsp;کارروائیاں افغان فورسز کے حوالے کر دی جائیں۔ لیکن اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے سابق سفیر جان بولٹن کو&nbsp; یقین نہیں کہ افغان سیکورٹی اور مسلح افواج&nbsp; اس&nbsp; ذمہ داری&nbsp; کا بوجھ اٹھا سکیں گی۔ &rsquo;&rsquo;میں نہیں سمجھتا کہ وہ&nbsp; یہ ذمہ داری اٹھانے کے قابل ہوں گی۔ لیکن اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ان کی تربیت میں کمی ہوگی یا ان کے پاس ضروری ساز و سامان نہیں ہو گا۔ میرے خیال میں &nbsp;یہاں پالیسی میں ایک بنیادی نقص ہے۔ ہم افغانستان کو ایک ایسی مملکت سمجھ رہے ہیں جیسے وہ کہیں مغربی یورپ میں واقع ہو، جب کہ ایسا نہیں ہے۔ لہٰذا مسئلہ افغان حکومت&nbsp; کی صلاحیت کا نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ طالبان اور القاعدہ کا خطرہ مسلسل موجود ہے۔ اور آثار ایسے ہیں کہ&nbsp; یہ خطرہ باقی رہے گا چاہے کاغذ پر افغان حکومت&nbsp; 2014 یا 2015 میں کتنی ہی اہل کیوں نہ معلوم دیتی ہو&lsquo;&lsquo;۔</p>
<p>طالبان نے حال ہی میں اعلان کیا کہ وہ قطر میں اپنا ایک سیاسی دفتر کھولیں گے۔ بعض ماہرین کہتے&nbsp; ہیں کہ&nbsp; اس کے نتیجے میں بالآخر&nbsp; ابتدائی بات چیت شروع ہوگی اور پھر امن مذاکرات ہوں گے۔ لیکن قومی سلامتی کے سابق مشیر جنرل برینٹ سکوکرافٹ کہتے ہیں کہ ہمیں بہت محتاط رہنا چاہیئے۔&rsquo;&rsquo;ہمارے لیے طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنا بہت مشکل کام ہے۔ وہ ہمیں وہاں سے نکالنا چاہتے ہیں۔ &nbsp;لہٰذا ہم جس چیز پر بھی مذاکرات کریں، وہ کامیاب ہوں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ دہشت گردی کا سہارا نہ لیں اور القاعدہ کے لیے پناہ گاہ نہ بنیں۔ لیکن ہم جیسے ہی وہاں سے نکلیں گے ہمیں ان پر کوئی کنٹرول&nbsp; نہیں رہے گا۔ لہٰذا یہ مذاکرات یکطرفہ رہیں گے&lsquo;&lsquo;۔</p>
<p>سابق وزیرِ دفاع ویلئیم کوہن کہتے ہیں کہ باغیوں&nbsp; کے ساتھ&nbsp; مذاکرات&nbsp; کا انحصار اس بات پر ہوگا&nbsp; کہ آپ طالبان کے کس دھڑے کی بات کر رہے ہیں۔ &rsquo;&rsquo;اگر یہ وہ طالبان ہیں جو اپنے ہتھیار ڈالنے اور&nbsp;&nbsp; پُر امن حل کے لیے&nbsp; کام کرنے کو تیار ہیں تو ان سے &nbsp;کم از کم بات ہو سکتی ہے۔ میرے خیال میں یہ کام بڑا مشکل ہو گا کیوں کہ&nbsp; ماضی میں بہت سے لوگ طالبان کے ظلم و زیادتی کا شکار ہو چکے ہیں اور وہ پھر اس دنیا میں واپس جانا نہیں چاہتے۔ لہٰذا&nbsp; طالبان کے بارے میں لوگوں کا تاثر کیا ہے اور&nbsp; ان کا رویہ کیا رہتا ہے اس کی روشنی میں ہی مستقبل میں&nbsp; ان کے کسی رول کا تعین ہو سکتا ہے&lsquo;&lsquo;۔</p>
<p>بولٹن، کوہن اور اسکوکرافٹ کا خیال ہے کہ افغانستان&nbsp; کے&nbsp; تنازعے کی کسی بھی حل میں پاکستان کو شامل کیا جانا چاہیئے۔ جنرل اسکوکرافٹ کہتے ہیں کہ امریکہ کو پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات&nbsp; مستحکم کرنے کے لیے سخت محنت کرنی چاہیئے۔</p>
<p>&rsquo;&rsquo;پاکستان کے قیام کے وقت سے ہی جب ہم اس کی سیکیورٹی کا سب سے بڑا ذریعہ تھے اس کے ساتھ&nbsp; ہمارے تعلقات میں&nbsp; نشیب و فراز آتے رہے ہیں۔&nbsp; پاکستانیوں کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ ہم نے انہیں کئی بار&nbsp; بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے۔ لہٰذا انہیں امریکہ پر اعتماد کرنے میں بہت زیادہ تامل ہے۔ لیکن ایک ایسے علاقے کے قیام کے لیے جو ہماری &nbsp;کم از کم ضروریات پوری&nbsp; کرتا ہو ہمارے لیے&nbsp; ایک نسبتاً مستحکم اور خوشحال پاکستان ضروری ہے&lsquo;&lsquo;۔</p>
<p>گذشتہ نومبر میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات اس وقت تیزی سے خراب ہو گئے جب نیٹو کے ایک حملے میں تقریباً دو درجن پاکستانی سپاہی ہلاک ہو گئے ۔ اسلام آباد نے اس کے رد عمل میں پاکستان سے افغانستان رسد بھیجنے کے تمام راستے بند کر دیے ۔ یہ راستے بدستور بند ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sat, 28 Jan 2012 09:43:39 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138251949</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[آندرے ڈیننسیرا]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-28T09:43:39Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/AP_Afghanistan_22222222222_480.jpg" length="162597" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP_Afghanistan_22222222222_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="326" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP_Afghanistan_22222222222_300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>افغانستان: پرتشدد واقعات میں چھ ہلاک</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/southasia/afghanistan-attack-26jan12-138107838.html</link>
				<description>جنوبی صوبہ ہلمند کے گورنر کے ترجمان نے بتایا کہ یہ دھماکا لشکر گاہ شہر میں ہوا اور اس میں 30 افراد زخمی بھی ہوئے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>افغانستان میں خودکش کار بم دھماکے میں کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔</p>
<p>جنوبی صوبہ ہلمند کے گورنر کے ترجمان نے بتایا کہ یہ دھماکا لشکر گاہ شہر میں ہوا اور اس میں 30 افراد زخمی بھی ہوئے۔</p>
<p>ترجمان نے کہا بظاہر یہ لگتا ہے کہ خودکش بمبار ایک امدادی دفتر کے قریب کھڑی نیٹو افواج کی گاڑیوں کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔</p>
<p>دریں اثناء مشرقی صوبے کاپیسا میں عسکریت پسندوں کی طرف سے ایک گھر پر راکٹ حملے میں ایک عورت اور اس کا بچہ ہلاک جب کہ سات دیگر افراد زخمی ہوگئے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 26 Jan 2012 08:51:14 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138107838</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-26T08:51:14Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[جنوبی ایشیا]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/reuters_afghanistan_suicide_bomb_attack_230_27sept2011.jpg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																																																		</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>بھارت : بس تلے کچلے جانے والے نو افراد ہلاک</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/india-bus-rampage-25jan12-138027333.html</link>
				<description>بس ڈرائیور نے اپنے مقررہ راستے کو چھوڑ کر پیدل چلنے والوں، گاڑیوں اور ٹھیلوں کو روندنا شروع کردیا۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>بھارت میں ایک بس ڈرائیور نے اندھا دھند گاڑی چلاتے ہوئے متعدد افراد اور گاڑیوں کو روند ڈالا جس سے کم ازکم نو افراد ہلاک اور دو درجن سے زائد زخمی ہوگئے۔</p>
<p>وسطی شہر پونے میں یہ واقعہ بدھ کو اس وقت پیش آیا جب بس ڈرائیور نے اپنے مقررہ راستے کو چھوڑ کر پیدل چلنے والوں، گاڑیوں اور ٹھیلوں کو روندنا شروع کردیا۔ ٹریفک پولیس نے اس کا پیچھا شروع کیا اور اسے روکنے کے لیے فائرنگ بھی کی۔</p>
<p>پونے کی پولیس کمشنرمیراں بوروانکر نے بتایا کہ 30 سالہ ڈرائیور کو گرفتار کرکے اس کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔</p>
<p>ان کے بقول یہ شخص خطرناک موڈ میں تھا اور آگے آنے والی ہر چیز کو روندتا چلا جارہا تھا۔ اس واقعے میں تقریباً 40 گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔</p>
<p>حکام کا کہنا ہے کہ تاحال یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ بس ڈرائیور کے محرکات کیا تھے۔ بس انتظامیہ بھی اس واقعے کی تحقیقات کررہی ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 25 Jan 2012 09:41:10 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138027333</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-25T09:41:10Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/India_Bus.jpg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																																																		</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>ایران کو ادائیگی، انڈیا میں نئے طریقوں پر غور</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/India-Iran-Oil-25Jan12-138021163.html</link>
				<description>انڈیا کا کہنا ہے کہ وہ صرف اقوام متحدہ کی لگائی ہوئی پابندیوں پر عمل کرے گا۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">امریکہ اور یورپی یونین کی طرف سے ایران پر پابندیاں سخت کرنے کے بعد اب انڈیا ایران کو تیل کی قیمت ادا کرنے کے نئے طریقوں پر غور کر رہا ہے۔ اگرچہ ایشیائی ملکوں پر دباؤ ہے کہ وہ ایران سے تیل کی درآمد کم کریں لیکن انڈیا کا کہنا ہے کہ وہ صرف اقوام متحدہ کی لگائی ہوئی پابندیوں پر عمل کرے گا، ان پابندیوں پر نہیں جو انفرادی ممالک یا ملکوں کے کسی گروہ نے لگائی ہیں۔</p>
<p dir="rtl">انڈیا کی تیل کی ضروریات کا 12 فیصد اس وقت ایران سے درآمد ہونے والا تیل پورا کرتا ہے۔</p>
<p dir="rtl">پٹرولیم&nbsp; منسٹر جے پال ریڈی کے مطابق انڈیا کی کوشش ہے کہ ایران سے زیادہ سے زیادہ تیل خریدا جائے کیونکہ ایران انہیں بہت آسان&nbsp;شرائط پر تیل فراہم کرتا ہے اور قیمت کی ادائیگی میں مشکلات پیدا ہونے کے باوجود تنگ نہیں کرتا۔</p>
<p dir="rtl">گزشتہ ایک برس کے دوران امریکہ کی طرف سے ایران کے خلاف معاشی پابندیوں کی وجہ سے انڈیا کے لیے ایران کو تیل کی قیمت ادا کرنے میں مشکلات حائل رہی ہیں۔</p>
<p dir="rtl">گزشتہ ہفتے ایک انڈین وفد نے تہران کا دورہ کیا تھا جس میں دونوں ممالک کے درمیان تیل کی تجارت بڑھانے پر بھی بات چیت ہوئی تھی۔</p>
<p dir="rtl">گزشتہ جولائی سے نئی دلّی نے ایک ترک بینک کے ذریعے ایران کو ادائیگی کا طریقہ اپنایا ہے۔&nbsp; لیکن امریکہ کی طرف سے نئی پابندیوں کے بعد اس طریقہ کار میں مشکلات آ سکتی ہیں۔</p>
<p dir="rtl">چنانچہ اب جن طریقوں پر غور ہو رہا ہے ان میں کیش کی جگہ ایران میں&nbsp;انفراسٹرکچر پراجیکٹ بنانا بھی شامل ہے۔</p>
<p dir="rtl">چین، جاپان، انڈیا اور جنوبی کوریا جیسے ایشیائی ممالک ایران کے تیل کے سب سے بڑے خریدار ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 25 Jan 2012 05:34:17 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138021163</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[انجنا پسریچا]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-25T05:34:17Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Reuters+India+oil+24Jan12+480.jpg" length="48908" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Reuters+India+oil+24Jan12+480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="319" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Reuters+India+oil+24Jan12+230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>مشرف مخالف قراردار سے ایم کیو ایم کی لاتعلقی</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan/MQM-anti-Musharraf-resolution-23Jan2012-137920523.html</link>
				<description>سینٹ میں پیش ہونے والی قرارداد کی توثیق کی ہے اور نہ ہم سے دستخط لیے گئے ہیں، حتمی فیصلہ الطاف بھائی کریں گے، سینیٹرطاہر مشہدی کی وائس آف امریکہ سے گفتگو</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>پاکستان کے ایوان بالا نے ایک قرارداد کی منظوری دی ہے جو سابق صدر پرویز مشرف کی وطن واپسی پر ان کی گرفتاری اور آئین کی شق نمبر چھ کے تحت ملک کا آئین معطل کرنے پر ان کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کی متقاضی ہے۔ یہ قرارداد حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ربانی نے پیش کی جو ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق متفقہ طور پر منظور کر لی گئ۔ جب کہ وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ کے راہنما سینیٹر طاہر مشہدی نے بتایا ہے کہ ان کی جماعت نے اس قرارداد کی توثیق کی ہے اور نہ اس پر دستخط کیے ہیں۔ ان کے مطابق یہ قرارداد اجلاس کے آخری لمحات میں پیش کی گئی اور ان کی جماعت جمہوری طریقہ کار کے مطابق پارٹی کے اندر اس پر گفت و شنید اور پارٹی کے قائد الطاف حسین کی راہنمائی میں فیصلہ کرے گی کہ اس کی مخالفت کرنی ہے یا حمایت۔ سینیٹر مشہدی کے مطابق جو بھی فیصلہ کیا جائے گا وہ ملک کے عوام کی خواہشات اور جمہوری تقاضوں کے مطابق ہوگا۔</p>
<p>ان سے جب سوال کیا گیا کہ کیا صدر مشرف کی حکومت میں ایم کیو ایم شامل رہی ہے تو کیا اس قراداد کے حوالے سے پارٹی کا فیصلہ سیاسی اخلاقیات کے تابع ہو گا یا پیپلز پارٹی کی معیت اور آئنینی ذمہ داریوں کے تقاضے غالب آئیں گے؟ اس پر سینیٹر مشہدی نے کہا کہ ان کی جماعت عملیت پسند ہے اور آئینی تقاضوں، سیاسی اخلاقیات اور ملکی مفاد تمام باتوں کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرے گی۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Mon, 23 Jan 2012 22:44:33 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">137920523</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[اسد حسن]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-23T22:44:33Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/MQM-referendam_main.jpg" length="136784" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/MQM-referendam_main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/MQM.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>پاکستانی کمیشن کو اجمل قصاب تک رسائی نہیں ہو گی: بھارت</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/southasia/India-Justice-Pakistan-23Jan12-137883118.html</link>
				<description>کمیشن کے دورے سے متعلق دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یاداشت میں ایسا کوئی اقدام شامل نہیں تھا۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>بھارتی حکام نے کہا ہے کہ ممبئی حملوں کی تحقیقات کے سلسلے میں آئندہ ماہ بھارت کا دورہ کرنے والے پاکستانی عدالتی کمیشن کو اجمل قصاب سے تفتیش کی اجازت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے پاکستانی وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے ایک بھارتی ٹی وی سے گفتگو کے دوران توقع ظاہر کی تھی کہ کمیشن اجمل قصاب سے براہ راست بات چیت کرکے اُس کی جانب سے اقبال جرم کرنے کی تصدیق کرے گا۔</p>
<p>لیکن امریکی خبررساں ادارے &rsquo;ایسوسی ایٹڈ پریس&lsquo; نے بھارتی وزارت داخلہ کے ترجمان ارا جوشی کے حوالے سے پیر کو خبر دی ہے کہ کمیشن کے دورے سے متعلق دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یاداشت میں ایسا کوئی اقدام شامل نہیں تھا۔</p>
<p>انسداد دہشت گردی کی ایک پاکستانی عدالت میں سات افراد کے خلاف ممبئی حملوں میں کردار ادا کرنے کے الزامات پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے اور ان مشتبہ شدت پسندوں کے وکلا کی استدعا پر عدالت نے مقدمے کی کارروائی میں پیش رفت کو پاکستانی عدالتی کمیشن کے دورہ بھارت سے مشروط کر رکھا ہے۔</p>
<p>رحمٰن ملک کے بقول بھارت کا اصرار ہے کہ اس مقدمے کو جلد سے جلد نمٹا کر زیر حراست افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے لیکن جب تک عدالتی کمیشن بھارتی گواہوں کے بیانات قلم بند نہیں کر لیتا مقدمے میں پیش رفت نہیں ہو سکتی۔</p>
<p>بھارت کے اقتصادی مرکز ممبئی میں نومبر 2008ء میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں غیر ملکیوں سمیت 166 افراد ہلاک ہوئے تھے اور اس کارروائی میں حصہ لینے والے مسلح افراد ما سوائے پاکستانی شہری اجمل قصاب کے بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہو گئے تھے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Mon, 23 Jan 2012 14:10:13 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">137883118</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-23T14:10:13Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[جنوبی ایشیا]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Mumbai-Attack.JPG" length="84507" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Mumbai-Attack.JPG" medium="image" isDefault="true" height="331" width="600" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_india_mumbai_attack_kasab_gunman_300_eng_25may11.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>گوانتانامو سے طالبان قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ نہیں کیا</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/southasia/Afghan-Conflicts-US-22Jan12-137847553.html</link>
				<description>افغانستان اور پاکستان کے لیے خصوصی امریکی ایلچی مارک گراسمین نے کہا ہے کہ واشنگٹن نے اس سلسلے میں اپنے قوانین کے تقاضوں کو پورا کرنا ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکہ نے کہا ہے کہ گوانتانامو بے کی جیل میں بند طالبان کے پانچ قیدیوں کو رہا کرنے کے بارے میں اُس نے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔</p>
<p>کابل میں صدرحامد کرزئی سے دو روزہ بات چیت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے افغانستان اور پاکستان کے لیے خصوصی امریکی ایلچی مارک گراسمین نے کہا کہ قیدیوں کی رہائی سے متعلق طالبان کی اس درخواست پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔</p>
<p>&rsquo;&rsquo;ہمیں اس سلسلے میں اپنے قوانین کے تقاضوں کو پورا کرنا ہے۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>رواں ماہ افغان طالبان نے امریکی حکام کے ساتھ خفیہ رابطوں کا انکشاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ امن بات چیت کو آگے بڑھانے کی خاطر خلیجی ریاست قطر میں اپنا سیاسی دفتر کھولنے کے لیے راضی ہیں۔</p>
<p>اس سلسلے میں طالبان کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے کیوبا کی امریکی جیل سے اپنے قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sun, 22 Jan 2012 14:32:47 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">137847553</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-22T14:32:47Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[جنوبی ایشیا]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Guantanamo-detainee-AP.jpg" length="46285" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Guantanamo-detainee-AP.jpg" medium="image" isDefault="true" height="328" width="584" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Envoy23.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>فرانسیسی وزیردفاع کا دورہ افغانستان</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/afghanistan-france-minister-21jan12-137814418.html</link>
				<description>فرانسیسی وزیر نے کہا کہ وہ اس لیے افغانستان آئے ہیں کہ اس ہلاکت خیز واقعے کے تناظر میں اپنے ملک کی آئندہ لائحہ عمل کا تعین کرسکیں۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>فرانس کے وزیردفاع ہفتہ کو کابل پہنچے ہیں جہاں وہ صدر حامد کرزئی سے ملاقات کریں گے۔ ان کی آمد سے ایک روز قبل ایک افغان فوجی نے فائرنگ کرکے چار فرانسیسی فوجیوں کو ہلاک کردیا تھا۔</p>
<p>جیراڈ لونگیوٹ (Gerard Longuet) کا کہنا تھا کہ فرانس افغانستان میں استحکام لانے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پیرس نے افغانستان میں اپنے فوجیوں کی ہلاکت کے واقعے کے بعد وہاں سے اپنے فوجیوں کے جلد انخلا کی دھمکی دے رکھی ہے۔</p>
<p>فرانسیسی وزیر نے کہا کہ وہ اس لیے افغانستان آئے ہیں کہ اس ہلاکت خیز واقعے کے تناظر میں اپنے ملک کی آئندہ لائحہ عمل کا تعین کرسکیں۔ جمعہ کو ہونے والے اس حملے میں 15 فرانسیسی فوجی زخمی بھی ہوئے تھے۔</p>
<p>&nbsp;وزیردفاع نے زخمی ہونے والے بعض فوجیوں کی فرانس منتقلی سے قبل ان سے کابل کے ہوائی اڈے پر ملاقات بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ اس اعتماد کی بھینٹ چڑھے ہیں جو انھیں ان افغان فوجیوں پر تھا جن کی وہ تربیت کر رہے تھے۔</p>
<p>فرانس کے وزیر نے کہا کہ ان کے فوجی حملے کے وقت مسلح نہیں تھے۔ افغان حملہ آور فوجی کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔</p>
<p>مسٹر لونگیوٹ فرانسیسی صدر نکولس سارکوزی کو ان اقدامات سے متعلق آگاہ کریں گے جو افغان حکام نے فرانسیسی تربیت کاروں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کیے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sat, 21 Jan 2012 11:42:17 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">137814418</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-21T11:42:17Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/PNN_Gerard-Longuet_480X300.jpg" length="37188" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/PNN_Gerard-Longuet_480X300.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/PNN_Gerard-Longuet_300x300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>بھارت: ماؤ باغیوں کے حملے میں 12 پولیس اہلکار ہلاک</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/india-violence-21jan12-137815338.html</link>
				<description>قومی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ چالیس سال سے جاری ماؤ عسکریت پسندی بھارت کی داخلی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>پولیس کا کہنا ہے کہ شمالی بھارت میں مشتبہ ماؤ باغیوں نے باردوی سرنگ کا حملہ کرکے 12 پولیس اہلکاروں کو ہلاک اور دو کو زخمی کردیا۔</p>
<p>ہفتہ کو یہ واقعہ جھارکھنڈ کے علاقے میں پیش آیا جہاں ماؤ باغیوں نے پولیس کی ایک غاری کو نشانہ بنایا۔</p>
<p>قومی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ چالیس سال سے جاری ماؤ عسکریت پسندی بھارت کی داخلی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔</p>
<p>ماؤ باغی بھارت کی تقریباً 20 سے زائد ریاستوں میں سرایت کر چکے ہیں اور وہ اپنی پر تشدد کارروائیوں کا یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ یہ سب کچھ وہ غریبوں کو ملازمتیں اور زمین دلوانے کے لیے کر رہے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sat, 21 Jan 2012 12:58:36 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">137815338</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-21T12:58:36Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/afp_india_Maoist_attack_30jun10_eng_480.jpg" length="75591" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/afp_india_Maoist_attack_30jun10_eng_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="309" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/afp_india_Maoist_attack_30jun10_eng_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>رشدی  کے دورے کی منسوخی پر تجزیہ کاروں کی متضاد آرا</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/southasia/Rushdei_Visit_Analysts_20Jan12-137795593.html</link>
				<description>دورے کی منسوخی کے باعث, میری طرح ,سلمان رشدی کے’دیگر مداحوں کوبھی سخت مایوسی‘ ہوئی: دپتی کھنہ</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>بھارتی نژاد متنازع مصنف سلمان رشدی کی طرف سے بھارت کے دورے کی منسوخی کے بارے میں تجزیہ کاروں نے متضاد آراٴ کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p>جمعے کے روز&rsquo;وائس آف امریکہ&lsquo; سے گفتگو میں، &nbsp;کتابوں &nbsp;کی رسیا، دپتی کھنہ کا کہنا تھا &nbsp;کہ اُن کی طرح دورے کی منسوخی کے باعث سلمان رشدی کےدیگر &rsquo; مداحوں کوبھی سخت مایوسی&lsquo; ہوئی ہے۔</p>
<p>اِسی طرح، ممبئی سے ہی آر ایس لکشمن نے، جو کہ &rsquo;بُک چمس&lsquo; کے سینئر منیجر ہیں، کہا کہ اُنھیں امید تھی کہ &nbsp;رشدی &nbsp;ضرور آئیں گے، لیکن &nbsp;&rsquo;یہ نہایت ہی مایوس کُن بات ہے&lsquo; کہ وہ نہیں آپائے۔ بُک چمپس وہ کمپنی ہے جس کی دعوت پر رشدی بھارت آرہا تھا اور&nbsp; مقامی مسلمانوں کی طرف سے &nbsp;قتل &nbsp;اور احتجاجی مظاہروں کی دھمکیوں کے بعداُنھوں نے اپنا &nbsp;دورہ منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔ یہ تقریب جے پور میں ہونے والی تھی۔</p>
<p>دوسری طرف، &nbsp;لکھنوٴ سےبابری مسجد ایکشن کمیٹی کے سربراہ، ظفریاب جیلانی نےبات کرتے ہوئے کہا کہ 1988ء کے بعد سے جب رشدی کی کتاب پر پابندی لگی تھی تب سے آج تک، اُن کی کمیٹی کا یہی مؤقف رہا ہے کہ اُنھوں نے &rsquo;گستاخانہ باتیں کی ہیں&lsquo; اور یہی وجہ ہے کہ اُنھیں، اُن کے بقول، بھارت کے قانون کی نظر میں &rsquo;ایک &nbsp;مجرم قرار دیا گیا تھا&lsquo;۔ &nbsp;اُنھوں نے کہا کہ ، &rsquo;یہی وجہ ہے کہ مقامی مسلمانوں نے کہا تھا کہ اُن کے آنے پر &nbsp;وہ احتجاج کریں گے۔&lsquo;</p>
<p>آڈیو رپورٹ سنیئے:</p>
<p>
<object classid="clsid:02bf25d5-8c17-4b23-bc80-d3488abddc6b" width="224" height="40" codebase="http://www.apple.com/qtactivex/qtplugin.cab#version=6,0,2,0">
<param name="src" value="http://media.voanews.com/audio/Copy+of++Salman+Rushdie+not+to+visit+Jaipur+Book+Festival+Jan+20+-+NH.Mp3" /><embed type="video/quicktime" width="224" height="40" src="http://media.voanews.com/audio/Copy+of++Salman+Rushdie+not+to+visit+Jaipur+Book+Festival+Jan+20+-+NH.Mp3"></embed>
</object>
&nbsp;</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sat, 21 Jan 2012 00:14:34 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">137795593</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[نفیسہ ہودبھائے]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-21T00:14:34Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[جنوبی ایشیا]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/RUSHDIE_INDIA.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>فرانس نے فوجیوں کی ہلاکت پر افغان آپریشن معطل کر دیا</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/afghanistan-french-soldiers-20jan12-137743858.html</link>
				<description>فرانسیسی صدر کا یہ فیصلہ مشرقی افغانستان میں جمعہ کو ایک افغان اہلکار کی فائرنگ سے چار فرانسیسی فوجیوں کی ہلاکت کا ردعمل ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>&nbsp;&nbsp;فرانس نےکہا ہےکہ وہ افغانستان میں ایک افغان فوجی کے ہاتھوں چار فرانسیسی فوجیوں کو گولی مار کر ہلاک کیے جانے کے بعد وہاں اپنی تمام تربیتی اور مشترکہ کارروائیاں معطل کر رہا ہے۔</p>
<p>&nbsp;صدر نکولس سرکوزی نے یہ بھی کہا کہ&nbsp; افغانستان میں اگر جمعے کے حملے کے بعد&nbsp; سیکیورٹی کے حالات واضح طور پر ٹھیک نہ ہوئے تو وہ فرانسیسی فوجیوں کی جلد واپسی پر غور کر رہا ہے ۔ &nbsp;<br /> <br /></p>
<p>افغان سیکیورٹی کے عہدے داروں نے کہا کہ مشرقی افغانستان کے صوبے کپیسا میں ہونےوالے ایک حملے میں کم از کم16 افراد ہلاک ہوئے۔ &nbsp;</p>
<p>&nbsp;فرانسیسی وزیر دفاع &nbsp;جیرالڈ لانگوٹ نےکہا کہ فرانسیسی اور افغان فورسز کے ایک مشترکہ اڈے پر ایک تربیتی&nbsp; مشق کے دوران جب حملہ آور نے فائر کھولا تو فرانسیسی فوجی&nbsp; غیر مسلح تھے ۔&nbsp; حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔</p>
<p>&nbsp;جمعے کا واقعہ ان متعدد حملوں میں سے تازہ ترین ہے جن میں&nbsp; افغان سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں بین الاقوامی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔</p>
<p>دسمبر میں ایک افغان فوجی نے کپیسا میں ایک فرانسیسی&nbsp; غیر ملکی دستے پر فائر کھول کر دو ارکان کو ہلاک کر دیا تھا ۔ اور اس ماہ کے شروع میں ، ایک افغان فوجی نے صوبے زابل میں ایک افغان فوجی اور&nbsp; امریکی عملے کے ایک&nbsp; اہلکار کو&nbsp; گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔</p>
<p>جمعے کے روز ہونے والی ہلاکتوں کے بعد افغان جنگ میں ہلاک ہونے والے فرانسیسی فوجیوں کی تعداد 82 ہو گئی ہے۔ فرانس کے افغانستان میں لگ بھگ&nbsp; 3600 فوجی موجود ہیں&nbsp;&nbsp; جو زیادہ تر مشرقی حصے میں ہیں ۔ جب کہ تمام جنگی فوجی 2014 میں ملک سے رخصت ہو جائیں گے ۔&nbsp; &nbsp;</p>
<p>جمعے کے روز صدر سرکوزی نے کہا کہ یہ چیز ناقابل قبول ہے کہ افغان فوجیوں کے ہاتھوں فرانسیسی فوجیوں کی ہلاکت ناقابل قبول&nbsp; ہیے۔</p>
<p>کابل میں صدارتی محل سے جاری کیے گئے ایک بیان میں صدر حامد کرزئی نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p>&rsquo;&rsquo;صدر کرزئی اس المناک واقعے پر فرانسیسی صدر، متاثرہ خاندانوں اور فرانس کے عوام سے تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔&lsquo;&lsquo;</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 20 Jan 2012 10:04:42 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">137743858</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-20T10:04:42Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/afp_france_soldier_afghanistan_23jun11_480.jpg" length="39575" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/afp_france_soldier_afghanistan_23jun11_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="320" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/afp_france_soldier_afghanistan_23jun11_300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>افغانستان: خودکش حملے میں سات ہلاک</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/afghanistan-violence-19jan12-137664738.html</link>
				<description>صوبائی گورنر کے ترجمان نے بتایا کہ خودکش حملہ آور نے جنوبی صوبے میں افغان اور بین الاقوامی افواج کے زیراستعمال  ہوائی اڈے کے مرکزی دروازے پر دھماکا کیا۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>افغانستان کے صوبہ قندھار میں جمعرات کو ایک خودکش حملے دو بچوں سمیت سات افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہو گئے ہیں۔</p>
<p>صوبائی گورنر کے ترجمان نے بتایا کہ خودکش حملہ آور نے جنوبی صوبے میں افغان اور بین الاقوامی افواج کے زیراستعمال&nbsp; ہوائی اڈے کے مرکزی دروازے پر دھماکا کیا۔</p>
<p>جنوبی افغانستان میں ہی تشدد کے ایک دوسرے واقعے میں بین الاقوامی افواج کا ایک اہلکار ہلاک ہو گیا۔ افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کے ایک ترجمان نے بتایا کہ اس کے فوجیوں کو ایک بم حملے سے نشانہ بنایا گیا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 19 Jan 2012 14:05:27 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">137664738</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-19T14:05:27Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/AP111206118288.jpg" length="66475" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP111206118288.jpg" medium="image" isDefault="true" height="358" width="512" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_afghanistan_explosion_6dec11_eng_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>چین ایران کے ممکنہ اقدام کا مخالف</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/china-iran-hormuz-19jan12-137657883.html</link>
				<description>چین ایران کے خلاف اقوم متحدہ کی پابندیوں کا حامی ہے لیکن ساتھ ہی امریکہ کی تعزیراتی اقدام پر یہ کہہ کر تنقید کرتا چلا آرہا ہے کہ اس سے کشیدگی بڑھنے کے علاوہ تیل کی عالمی قیمت میں بھی اضافہ ہوجائے گا۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>چین نے کہا ہے کہ وہ ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز بند کرنے جیسے &rsquo;&rsquo;انتہائی اقدام&lsquo;&lsquo; کی مخالفت کرتا ہے۔</p>
<p>وزیراعظم وین جیا باؤ نے قطر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران عالمی سطح پر تیل کی نقل وحمل کی اس گزرگاہ کو بند کرنے کی دھمکی پر عمل درآمد کرتا ہے تو یہ عالمی برادری کے مفاد کے خلاف ہوگا۔</p>
<p>ایران نے امریکہ کی طرف سے اس کا جوہری پروگرام بند کرانے کے لیے دباؤ کے طور پر لگائی گئی پابندیوں کے ردعمل میں دھمکی دی تھی کہ وہ آبنائے ہرمز کو بند کرسکتا ہے۔</p>
<p>چین ایران کے خلاف اقوم متحدہ کی پابندیوں کا حامی ہے لیکن ساتھ ہی امریکہ کی تعزیراتی اقدام پر یہ کہہ کر تنقید کرتا چلا آرہا ہے کہ اس سے کشیدگی بڑھنے کے علاوہ تیل کی عالمی قیمت میں بھی اضافہ ہوجائے گا۔</p>
<p>مسٹر وین کا کہنا تھا ک چین ایران کے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا &rsquo;&rsquo;سخت مخالف&lsquo;&lsquo; ہے لیکن ان کے بقول اس معاملے کو پرامن طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 19 Jan 2012 11:18:20 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">137657883</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-19T11:18:20Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/china_01_15_12_480X300.jpg" length="115301" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/china_01_15_12_480X300.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_china_wen_jiabao_nepal_300_14Jan12-resized.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>نیٹو ہیلی کاپٹر گرکر تباہ، 6 غیرملکی فوجی ہلاک</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/afghanistan-nato-crash-20jan12-137731198.html</link>
				<description>جنوبی افغانستان میں پیش آنے والے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے حکام نے بتایا کہ وجہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کی جارہی ہیں۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کا ایک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا ہے اور حکام نے اس حادثے میں چھ غیر ملکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔</p>
<p>کابل میں نیٹو کی زیر قیادت بین الاقوامی فوجی اتحاد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ حادثہ جمعرات کو جنوبی افغانستان میں پیش آیا اور اس کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔</p>
<p>&rsquo;&rsquo;لیکن ابتدائی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حادثے کے وقت علاقے میں دشمن کی کوئی سرگرمی نہیں تھی۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>بیان میں مرنے والے فوجیوں کے خاندانوں کو مطلع کرنے تک مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا گیا ہے۔</p>
<p>گزشتہ سال اگست میں مشرقی افغانستان میں ہیلی کاپٹر کے ایک حادثے میں نیٹو کے 30 فوجی ہلاک ہوگئے تھے جن میں امریکی نیوی کے 22 &nbsp;سیل کمانڈو بھی شامل تھے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 20 Jan 2012 11:36:52 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">137731198</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-20T11:36:52Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/AP_Afghanistan_Milestone_of_War_23Jul2010_480.jpg" length="184481" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP_Afghanistan_Milestone_of_War_23Jul2010_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="320" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP110906027492.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>ویتنام اور کمبوڈیا میں برڈ فلو سے ہلاکتیں</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/vietnam-cambodia-birdflu-19jan12-137655398.html</link>
				<description>2006ء میں  دنیا کے لگ بھگ 63 ممالک میں پھیلنے والے  اس وائرس سے کمبوڈیا میں 17 اور ویتنام میں 60 افراد ہلاک ہوئے تھے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>ویتنام میں بطخ کے فارم کا مالک اس ملک میں گزشتہ دو سالوں میں برڈ فلو سے ہلاک ہونے والا پہلا شخص ہے جب کہ پڑوسی ملک کمبوڈیا میں بھی اسی بیماری سے ایک ہلاکت کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔</p>
<p>ویتنام میں جمعرات کو حکام نے بتایا کہ 18 سالہ نوجوان میکانگ کے جنوبی علاقے میں شدید بخار اور سانس میں تکلیف کے بعد ہلاک ہوا۔ تفتیش کار ابھی تک یہ تعین نہیں کرسکے کہ آیا اسے یہ بیماری اپنے پرندوں سے لگی تھی یا نہیں۔</p>
<p>دریں اثناء کمبوڈیا میں ایک دو سالہ بچہ شدید زکام و بخار میں مبتلا ہوکر ہلاک ہوگیا۔ حکام کے مطابق اسے یہ بیماری مردہ یا بیمار پرندوں کے قریب جانے سے لگی۔</p>
<p>یہ وائرس عموماً متاثرہ پرندوں سے براہ راست ان لوگوں میں منتقل ہوتا ہے جو ان کے قریب ہوتے ہیں۔</p>
<p>2003ء میں پہلی بار تشخیص ہونے والے H5N1 وائرس سے دنیا بھر میں 340 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔</p>
<p>2006ء میں یہ دنیا کے لگ بھگ 63 ممالک میں پھیل گیا تھا۔ اس وائرس سے کمبوڈیا میں 17 اور ویتنام میں 60 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حالیہ مہینوں میں چین، بھارت، انڈونیشیا اور مصر میں اس وائرس کے کیسز سامنے آئے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 19 Jan 2012 09:43:36 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">137655398</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-19T09:43:36Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/reu_china_bird_flu_230_31dec11.jpg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ الٹنے کا ’’منصوبہ ناکام‘‘</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/southasia/Bangladesh-Coup-Plan-19Jan12-137659978.html</link>
				<description>افسران کی شناخت ہو چکی ہے اور بعض کو حراست میں بھی لیا جا چکا ہے جنہیں فوجی عدالت کے روبرو پیش کیا جائے گا۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>بنگلہ دیش میں فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خلاف بغاوت کے ایک منصوبے کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔</p>
<p>ماضی میں بنگلہ دیش میں فوجی جرنیل بغاوت کے ذریعے 15 سال تک ملک پر حکمرانی کر چکے ہیں۔&nbsp; بریگیڈئر جنرل محمد مسعود رزاق نے صحافیوں کو بتایا کہ &rsquo;&rsquo;مخصوص معلومات منظرعام پر آئیں کہ کچھ حاضر سروس فوجی افسران جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش میں ملوث ہیں۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>اُنھوں نے بتایا کہ ان افسران کی شناخت ہو چکی ہے اور بعض کو حراست میں لیا جا چکا ہے جنہیں فوجی عدالت کے روبرو پیش کیا جائے گا۔</p>
<p>انٹیلی جنس عہدیدار متنبہ کرتے آ رہے تھے کہ &rsquo;&rsquo;بنیاد پرست&lsquo;&lsquo; اسلامی عسکریت پسندوں کے فوج کے ساتھ رابطے ہیں اور وہ حسینہ واجد کی حکومت کو ہٹانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ لیکن مسعود رزاق نے کہا کہ ایسے منصوبے کو ناکام بنا دیا&nbsp; گیا ہے۔</p>
<p>شیخ حسینہ واجد 2009ء میں برسر اقتدار آئیں تھیں اور تب سے انھیں بنیاد پرست گروپوں کی طرف سے دھمکیاں مل رہی تھیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 19 Jan 2012 12:39:13 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">137659978</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-19T12:39:13Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[جنوبی ایشیا]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/AP1Bangladesh-Strike-Day-2-.jpg" length="63296" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP1Bangladesh-Strike-Day-2-.jpg" medium="image" isDefault="true" height="332" width="512" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Reuters_Bangladesh_Hasina_FILE_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>آنگ سان سوچی ضمنی انتخاب کے لیے امیدوار</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/burma-suukyi-election-17jan12-137550603.html</link>
				<description>وہ اور ان کی جماعت ’نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی‘ یکم اپریل کو ہونے والے انتخابات میں 48 نشستوں کے لیے میدان میں اتر رہی ہیں۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>برما کی حزب مخالف کی رہنما آنگ سان سوچی آنے والے ضمنی انتخاب میں حصہ لے رہی ہیں۔</p>
<p>نوبل انعام یافتہ سوچی نے مرکزی شہر رنگون کے مضافاتی ضلع سے انتخاب لڑنے کے لیے بدھ کو پانے کاغذات نامزدگی جمع کروائے۔</p>
<p>وہ اور ان کی جماعت &rsquo;نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی&lsquo; یکم اپریل کو ہونے والے انتخابات میں 48 نشستوں کے لیے میدان میں اتر رہی ہیں۔</p>
<p>آنگ سان سوچی کی طرف سے پارلیمنٹ کے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ اس بات کا تازہ ثبوت ہے کہ برما میں کئی دہائیوں تک رہنے والی فوجی حکومت کے خاتمے کے بعد معرض وجود میں آنے والی سویلین حکومت اصلاحات کی طرف گامزن ہے۔ ان اصلاحات کے تحت اب تک سینکڑوں سیاسی قیدی بھی رہا کیے جا چکے ہیں۔</p>
<p>لیکن اگر سوچی کی جماعت تمام 48 نشستیں حاصل بھی کر لیتی ہے تو بھی اسے ایوان میں واضح اکثریت حاصل نہیں ہوسکے گی۔</p>
<p>نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی نے 1990ء کے پارلیمانی انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل کی تھی۔ سوچی اس وقت نظر بند تھیں اور اس وقت کے فوجی حکمرانوں نے اس جماعت کو اقتدار منتقل کرنے سے روک دیا تھا۔</p>
<p>اس جماعت نے 2010ء کے انتخابات کا یہ کہہ کر بائیکاٹ کر دیا تھا کہ قوانین شفاف نہیں ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 18 Jan 2012 08:42:22 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">137550603</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-18T08:42:22Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Reuters_Burma_Politics_11_18_2011_480.jpg" length="63728" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Reuters_Burma_Politics_11_18_2011_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="320" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Reuters_Burma_Politics_11_18_2011_300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>افغانستان: برفانی تودے گرنے سے 14 ہلاک</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/afghanistan-avalanche-17jan12-137471053.html</link>
				<description>نائب صوبائی گورنر شمس الرحمن کا کہنا ہے کہ علاقے میں چھ سے نو فٹ تک برف پڑی ہے جس کے باعث زمینی رابطہ منقطع ہوچکا ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>افغانستان کے شمال مشرقی صوبے میں برفانی تودے گرنے سے کم ازکم 14 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔</p>
<p>صوبہ بدخشاں کے دوردراز علاقے میں شدید برفباری کے باعث پیش آنے والے اس واقعے میں حکام کے مطابق متعدد مکانات بھی تباہ ہوگئے ہیں اور امدادی کارکن اس علاقے تک پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں۔</p>
<p>نائب صوبائی گورنر شمس الرحمن کا کہنا ہے کہ علاقے میں چھ سے نو فٹ تک برف پڑی ہے جس کے باعث زمینی رابطہ منقطع ہوچکا ہے۔</p>
<p>افغانستان کے مختلف علاقوں میں موسم سرما کے دوران برفانی تودے گرنے کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔</p>
<p>فروری 2010ء میں سالانگ پاس کے علاقے میں برفانی تودہ گرنے سے کم ازکم 171 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ کوہ ہندوکش میں واقع یہ درہ افغان دارالحکومت کابل کو شمالی علاقوں سے ملانے والا ایک اہم راستہ ہے۔</p>
<p>دریں اثناء افغان صدر حامد کرزئی نے طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے زیر تسلط علاقوں میں انسداد پولیو کی ٹیموں کو اپنا کام کرنے کی اجازت دیں۔</p>
<p>افغانستان دنیا کے ان تین ممالک میں شامل ہے جہاں اب بھی پولیو کا وائرس پھیل رہا ہے۔ دیگر دو ملکوں میں نائجیریا اور پاکستان شامل ہیں۔</p>
<p>صدر کرزئی کا کہنا تھا &rsquo;&rsquo;جو کوئی بھی انسداد پولیو کی مہم کو روکتا ہے وہ ہمارے بچوں کے مستقبل کا دشمن ہے&lsquo;&lsquo;۔</p>
<p>گزشتہ سال حکومت کے اعدادوشمار کے مطابق پولیو کے 80 نئے کیسز سامنے آئے تھے جن میں اکثریت کا تعلق جنوبی علاقوں سے تھا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 17 Jan 2012 12:06:55 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">137471053</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-17T12:06:55Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/48-AP_afghanistan_avalanche_salang_pass_9feb10.jpg" length="24069" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/48-AP_afghanistan_avalanche_salang_pass_9feb10.jpg" medium="image" isDefault="true" height="309" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/63-AP_Avalanche_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>پاک افغان تجارت کا حجم بڑھانے پر اتفاق</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan/trade-pak-afghan-17jan12-137487183.html</link>
				<description>اس وقت دوطرفہ تجارت کا سالانہ حجم اڑھائی ارب ڈالر ہے اور مشترکہ اقتصادی کمیشن میں اس کو 2015ء تک پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>افغانستان اور پاکستان کے مشترکہ اقتصادی کمیشن کے اجلاس میں دونوں پڑوسی ممالک نے دوطرفہ تجارت کے فروغ کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت 2015ء تک تجارت کے سالانہ حجم کو پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔</p>
<p>اسلام آباد میں تین سال کے وقفے کے بعد ہونے والا پاک افغان مشترکہ اقتصادی کمیشن کا اجلاس پیر اختتام پزیر ہوا جس میں دونوں ممالک کے وزرائے خزانہ نے اپنے اپنے وفود کی سربراہی کی۔</p>
<p>اجلاس کے بعد اپنے افغان ہم منصب عمر زخل وال کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ حفیظ شیخ نے بتایا کہ &rsquo;&rsquo;طورخم جلال آباد ہائی وے پر 70 فیصد کام مکمل ہو گیا ہے اور (طے کیا گیا ہے کہ) اس کو ایک سال کے اندر مکمل کیا جائے تاکہ لوگوں کو آسانی ہو اور ہمارے ممالک کے درمیان رابطے بڑھیں&lsquo;&lsquo;۔</p>
<p>افغان وزیر خزانہ عمر زخل وال نے کہا کہ پاکستانی سرحدی چوکیوں پر نیٹو کے فضائی حملے کے بعد افغانستان کے ٹرکوں کو بھی روک دیا گیا ہے اور 700 افغان ٹرکوں کی آمد و رفت دوبارہ شروع کرنے کے معاملے پر بھی اجلاس میں بات چیت ہوئی۔</p>
<p>افغان وزیر نے ان قیاس آرائیوں کی تردید کی کہ ان ٹرکوں میں تجارتی نہیں بلکہ نیٹو کے لیے رسد لے جائی جا رہی ہے۔</p>
<p>پاکستانی وزیر خزانہ حفیظ شیخ نے توقع کا اظہار کیا کہ آئندہ چند روز میں دونوں ملک اس مسئلے کو حل کر لیں گے۔</p>
<p>اُنھوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے لیے 30 کروڑ ڈالر لاگت سے 29 ترقیاتی منصوبوں کا اعلان بھی کر رکھا ہے جن میں سے 10 پر کام مکمل ہو چکا ہے جب کہ 9 منصوبے جلد مکمل کر لیے جائیں گے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 18 Jan 2012 03:47:43 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">137487183</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[محمد اشتیاق]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-18T03:47:43Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/torkhum+border_480.jpg" length="90213" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/torkhum+border_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Pakistan_Hafeez+Sheikh_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>افغانستان: ہیلی کاپٹر گر کر تباہ</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/afghanistan-helicopter-crash-16jan12-137407953.html</link>
				<description>افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کا کہنا ہے یہ سویلین ہیلی کاپٹر صوبہ ہلمند کے ضلع ناد علی کے علاقے میں گر کر تباہ ہوا۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>افغانستان کے جنوب میں پیر کو ایک غیر فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا اور اس میں سوار تین افراد ہلاک ہوگئے۔</p>
<p>افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کا کہنا ہے یہ سویلین ہیلی کاپٹر صوبہ ہلمند کے ضلع ناد علی کے علاقے میں گر کر تباہ ہوا۔ اس صوبے میں زیادہ تر برطانوی فوجی تعینات ہیں۔</p>
<p>بین الاقوامی افواج کے ایک ترجمان کے مطابق جائے حادثہ کو سکیورٹی فورسز نے گھیرے میں لے لیا ہے تاہم انھوں نے اس کی مزید تفصیلات اور ہونے والی ہلاکتوں سے متعلق کچھ نہیں بتایا۔</p>
<p>&nbsp;ایک افغان عہدیدار کا کہنا ہے کہ غالباً کسی تکنیکی خرابی کے باعث یہ ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Mon, 16 Jan 2012 12:23:27 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">137407953</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-16T12:23:27Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Helicopter+crash+230.jpg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																																																		</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>پاک بھارت مذاکرات کا تسلسل ہی مسائل کا حل</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan/Pakistan-Diplomacy-India-Trade-Conflicts-17Jan11-137490398.html</link>
				<description>دونوں ملکوں کے اراکین پارلیمان کا کہنا ہے کہ گزشتہ چھ دہائیوں کے دوران جنگوں اور کشیدہ ماحول سے خطے کے عوام کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>پاکستان اور بھارت کے اراکین پارلیمان نے مذاکراتی عمل کے تسلسل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اقتصادی و تجارتی تعلقات میں بہتری سے سیاسی تنازعات کے حل کی راہ ہموار ہو گی۔</p>
<p>اُنھوں نے ان خیالات کا اظہار منگل کو اسلام آباد میں دونوں ملکوں کے قانون سازوں کے درمیان غیر رسمی مذاکرات کے تازہ ترین اجلاس کے موقع پر کیا۔</p>
<p>دو روزہ اجلاس میں شرکت کرنے والے 15 رکنی بھارتی وفد میں بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا بھی شامل ہیں، جن کے خیال میں دوطرفہ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے دونوں حکومتوں کو کردار ادا کرنا ہوگا لیکن اس سلسلے میں سب سے زیادہ ذمہ داری عوامی نمائندوں کی بنتی ہے۔</p>
<p><span class="field-note container display-block margin-bottom-small">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>&rsquo;&rsquo;عوام کا نمائندے ہونے کے ناتے ہم لوگوں کا بہت بڑا کردار ہے۔ ہم ایک طرف عوام کے من کو تیار کر سکتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے رشتوں میں سدھار پیدا ہو، بہتری آئے اور دوسری طرف سرکار (حکومت) پر بھی دباؤ بڑھا سکتے ہیں کہ وہ کس سمت میں جائے۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>یشونت سنہا کا کہنا تھا کہ غیر سرکاری سطح پر منعقد کیے گئے اس اجلاس میں بات چیت کا محور دوطرفہ اقتصادی و تجارتی تعلقات کی بہتری میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔</p>
<p>اسلام آباد میں بھارت کے سابق سفیر مانی شنکر آیار بھی نئی دہلی سے آنے والے وفد میں شامل ہیں۔</p>
<p>وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے اُمید ظاہر کی کہ اپنے پاکستانی ہم منصوبوں کے ساتھ بات چیت میں تجارتی مراعات کے لحاظ سے بھارت کو پسندیدہ ترین ملک یعنی &rsquo;ایم ایف این&lsquo; کا درجہ دینے کے بارے میں تحفظات دور کرنے میں مدد ملے گی۔</p>
<p>انڈین نیشنل کانگریس کی نمائندگی کرنے والے مانی شنکر آیار نے دوطرفہ تعلقات میں حالیہ بہتری کا عمل برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ بھارتی پارلیمان پر حملے یا ممبئی جیسے واقعات ایک بار پھر مذاکراتی عمل کو تعطل کا شکار نا کر دیں۔</p>
<p><span class="field-note container display-block margin-bottom-small">&lt;!--IMAGE-LEFT--&gt;</span></p>
<p>&rsquo;&rsquo;ہماری (بھارت کی) آپ (پاکستان) سے گفتگو بلا تعطل ہونی چاہیئے، شکر ہے کہ اب تو بلا تعطل چل رہی ہے لیکن کچھ ایسا نہیں ہونا چاہیئے جس سے یہ تعطل کا شکار ہو جائیں، اس پر آپ نے روک لگا دیا تو باقی سارے معاملات کا حل نکالنا بہت مشکل چیز نہیں ہو گی۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>پاک بھارت اراکین پارلیمان کے اجلاس میں پاکستانی وفد میں شامل حزب مخالف کی جماعت مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ بھارت کو این ایف این کا درجہ دیا جانا چاہیئے۔</p>
<p>&rsquo;&rsquo;میرا خیال ہے کہ اس سے پاکستان کو فوائد زیادہ ہیں کیوں کہ آپ کے تاجروں کو سوا ارب لوگوں پر مشتمل (بھارتی) منڈی میسر آتی ہے۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>پاکستانی سینیٹ کی خارجہ اُمور کمیٹی کے چیئرمین سلیم سیف اللہ نے اجلاس کے ابتدائی دور کے بعد وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے دو طرفہ اقتصادی و تجارتی روابط بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>&rsquo;&rsquo;دونوں ملکوں کا خیال ہے کہ دوطرفہ تجارت میں خاصی حد تک اضافہ ہو سکتا ہے اور اس کے پاکستان اور بھارت کی معیشتوں پر اچھے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>غیر سرکاری تنظیم &rsquo;پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹیو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی&lsquo;کے توسط سے پاکستانی اور بھارتی اراکین پارلیمان کی ملاقاتوں کے اس سلسلے کو دونوں وفود بہت مفید کوشش قرار دے رہے ہیں۔</p>
<p><span class="field-note container display-block margin-bottom-small">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>اجلاس میں شریک تقریباً تمام قانون ساز اس بات پر متفق دیکھائی دیے کہ گزشتہ چھ دہائیوں کے دوران جنگوں اور کشیدہ ماحول سے خطے کے عوام کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان اور بھارت ماضی کی پالیسیوں کو پس پشت ڈال کر پائیدار امن کی طرف پیش رفت کریں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 18 Jan 2012 03:48:17 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">137490398</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[یاسر علی منصوری]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-18T03:48:17Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/India_Krishna_Khar_27july2011_480.jpg" length="54335" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
																																																													
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/India_Krishna_Khar_27july2011_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/india-pakistan.jpg" medium="image" isDefault="false" height="298" width="300" />
																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Pakistan_Diplomacy_India_Parliamentary_Dialogue_Yashwant_Sinha_230_17Jan12.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/Pakistan_Diplomacy_India_Parliamentary_Dialogue_Mani+_Shankar_Aiyar_230_17Jan12.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/wagah+border_2301.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																										</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>بھارت: خواتین کی حفاظت کے لیے ’’فائٹ بیک‘‘</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/india-fightback-16jan12-137400103.html</link>
				<description>’’آپ کو جیسے ہی کوئی پریشانی محسوس ہو، آپ کو اور کچھ نہیں کرنا ہے ، بس ایک بٹن دبانا ہے۔‘‘</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>چینا سِکّا ان بہت سی بھارتی عورتوں کی طرح ہیں جو دفتروں میں کام کرتی &nbsp;ہیں۔ ان&nbsp; کی شفٹ&nbsp; کافی دیر سے ختم ہوتی ہے ۔&nbsp; کمپنی کی گاڑی انہیں ان کے گھر کے قریب چھوڑ دیتی ہے ۔ لیکن انہیں گھر&nbsp; کے دروازے تک پہنچے کے لیے پانچ دس منٹ&nbsp; تک پیدل چلنا پڑتا ہے۔ وہ کہتی ہیں&rsquo;&rsquo;اندھیرا ہو چکا ہوتا ہے اور میرے ارد گرد جس قسم کے لوگ ہوتے ہیں، ان&nbsp; میں آ پ خود کو محفوظ نہیں سمجھ سکتے۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>لہٰذا کمپنی کی گاڑی جیسے ہی انہیں اتارتی ہے، سِکّا اپنے موبائل فون میں ایک پروگرام آن کر لیتی ہیں جسے &rsquo;&rsquo;فائٹ بیک&lsquo;&lsquo; کہا جاتا ہے ۔ یہ پروگرام جی پی ایس کے ذریعے یہ بتانا شروع کر دیتا ہے کہ وہ اس وقت ٹھیک کس مقام پر ہیں۔&nbsp; جگدیش مترا اس ٹیک کمپنی کے سی ای او ہیں جس نے &nbsp;فائٹ بیک پروگرام تیار کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں&rsquo;&rsquo;آپ کو جیسے ہی کوئی پریشانی محسوس ہو، آپ کو اور کچھ نہیں کرنا ہے ، بس ایک بٹن دبانا ہے۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>جیسے ہی کوئی خاتون خطرے کا بٹن دباتی ہیں، اس کے بعد ان کے پاس چند سیکنڈ ہوتے ہیں جن میں وہ اپنے فیصلے کو منسوخ کر سکتی ہیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتیں، تو ٹیکسٹ میسیج، ای میل اور فیس بُک کےذریعے ، فوراً ان کے محل وقوع کے بارے میں ایک پیغام&nbsp; ان کے دوستوں یا گھرانے کے نام چلا جاتا ہے جن کے نام انھوں نے فہرست میں شامل کیے ہوتے ہیں۔<br /> اس پروگرام کو استعمال کرنے والوں&nbsp; کا ڈیٹا ایک انٹریکٹو نقشے پر اکٹھا کر لیا جاتا ہے ۔ مترا کہتے ہیں کہ ان کی کمپنی نقشے پر نظر رکھتی&nbsp; ہے لیکن کسی&nbsp; پبلک&nbsp; مانیٹرنگ&nbsp; سینٹر کی طرح کام نہیں کرتی۔&rsquo;&rsquo;قانونی سہولتیں فراہم کرنا ہمارا کام نہیں ہے ۔ صرف وہی لوگ قانونی فرائض انجام دے سکتے ہیں جنہیں اس کا اختیار حاصل ہے، یعنی پولیس اور ایسے ہی دوسرے سرکاری ادارے۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>2010 کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، نئی دہلی میں جنسی حملوں کے 400 سے زیادہ واقعات ہوئے۔ میڈیا کی بہت سی تنظیموں نے اس شہر کو بھارت میں آبرو ریزی&nbsp; کے&nbsp; صدر مقام&nbsp; کا لیبل لگا دیا ہے۔ کلپنا وسوا ناتھ، عورتوں کے حقوق کے لیے جد وجہد کرتی ہیں۔ وہ&nbsp; کہتی ہیں&rsquo;&rsquo; اگرچہ یہ پروگرام بہت اہم ہے، اور اسے ایک اہم رول ادا کرنا ہے، لیکن میں سمجھتی ہوں کہ ہمیں محتاط رہنا چاہیئے&nbsp; کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ عورتوں کے مسائل کو حل کرنے کی ذمہ داری ایک بار پھر عورتوں کے سر ڈال دی جائے۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>کلپنا وسوا ناتھ عورتوں کے حقوق کی تنظیم جاگوری میں ریسرچ کرتی ہیں۔ یہ تنظیم شہروں کو عورتوں کے لیے محفوظ بنانے کا کام کرتی ہے۔&rsquo;&rsquo;ہم کس قسم کے شہر چاہتے ہیں؟۔ ہماری آبادی تیزی سے شہروں میں منتقل ہو رہی ہے، اور اگلے 20 برسوں میں بھارت&nbsp; کی آبادی کی اکثریت دیہاتوں سے شہروں میں منتقل ہو جائے گی۔&nbsp; لہٰذا&nbsp; اگر مسئلہ یہ ہے کہ&nbsp; ہمارا معاشرہ، کلچر ، ہماری پولیس اور بنیادی سہولتیں ناقص ہیں، تو ہمیں ان امور پر توجہ دینی چاہیئے۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>ہنڈول سنگپتا ایک شہری&nbsp; تنظیم کے بانی&nbsp; ہیں جو فائٹ بیک پروگرام کے شراکت دار ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ&nbsp; عورتوں کے تحفظ کی&nbsp; شکایتوں پر عمل در آمد میں، پولیس&nbsp; نیم دلی سے کام لیتی ہے ۔&rsquo;&rsquo; ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے پاس یہ ایک آلہ ہے جس کے ذریعے اگر آپ چاہیں تو پولیس کے پاس جا سکتے ہیں، اور آپ کو ایسا ضرور کرنا چاہیئے ۔ لیکن اگر آپ یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ پولیس کے پاس نہیں جائیں گے، یا اگر کسی وجہ سے آپ ایساکر نہیں سکتے، تو آپ براہِ راست اپنے دوستوں اور گھرانے&nbsp; سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ اس طرح آپ&nbsp; سکیورٹی کے پورے نظام کو حرکت میں لا سکتے ہیں اور انہیں کارروائی کرنے کے لیے مجبور کر سکتے ہیں۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>فائٹ بیک کو تیار کرنے والے کہتے ہیں کہ&nbsp; دہلی میں &nbsp;اور بھارت کے دوسرے شہروں میں، پولیس کے اعلیٰ افسروں نے اس پروگرام کے ساتھ باقاعدہ&nbsp; تعلق قائم کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے ۔ اس تجویز کی منظور ی اور اس پر عمل درآمد&nbsp; میں&nbsp; کئی مہینے لگ سکتے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Mon, 16 Jan 2012 05:16:42 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">137400103</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[کرٹ ایچن]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-16T05:16:42Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/voa_india_fight_back_480_12jan2012.jpg" length="50673" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/voa_india_fight_back_480_12jan2012.jpg" medium="image" isDefault="true" height="320" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/voa_india_fight_back_230_12jan2012.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
																																																																									</channel>
</rss>

