<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>


																																		



<rss xmlns:ymusic="http://music.yahoo.com/rss/1.0/ymusic/" xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" xmlns:cf="http://www.microsoft.com/schemas/rss/core/2005" xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"   version="2.0">
<channel>
	<title>VOA News:   امریکہ  </title>
	<link>http://www.voanews.com/urdu/news/usa</link>
		<description> امریکہ 
																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																								
	Voice of America
	</description>
	<language>ur</language> 	<copyright />
	<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 14:54:52 GMT</pubDate>
	<dc:creator />
	<dc:date>2012-02-10T14:54:52Z</dc:date>
	<dc:language>ur</dc:language> 	<dc:rights />
	<image>
		<title>Voice of America</title>
		<link>http://www.voanews.com/urdu</link>
		<url>http://media.voanews.com/designimages/VOARSSIcon.gif</url>
	</image>


						
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>امریکہ میں نئے جوہری بجلی گھروں کی تعمیر</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/usa/US_Nuclear_Power_Plants_09Feb12-139036734.html</link>
				<description>جن نئے ری ایکٹرز کی منظوری دی  گئی ہے اُن کی تعمیری لاگت کا تخمینہ 14 ارب ڈالرز لگایا ہے اور وہ 2016ء اور 2017ء تک پیداوار شروع کردیں گے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکہ میں جوہری سرگرمیوں کے منتظم ادارے نے تین عشروں کے تعطل کے بعد ملک میں نئے جوہری بجلی گھروں کی تعمیر کی منظوری دیدی ہے۔</p>
<p>بجلی کی پیداوار کے مقامی ادارے 'سدرن کمپنی' نے جنوبی ریاست جارجیا میں واقع 'واگٹیل' نامی اپنے بجلی گھر میں دو نئے جوہری ری ایکٹرز تعمیر کرنے کی اجازت مانگی تھی جسے 'نیوکلیئرریگولیٹری کمیشن (این آر سی)' نے جمعرات کو منظور کرلیا۔</p>
<p>واضح رہے کہ امریکہ میں اس وقت کل 104 جوہری ری ایکٹرز کام کر رہے ہیں اور ملک میں بجلی کی کل پیداوار کا 20 فی صد فراہم کرتے ہیں۔</p>
<p>اِس سے قبل 'این آر سی' نے آخری بار 1978ء میں جوہری بجلی گھر کی تعمیر کا لائسنس جاری کیا تھا جس کے ایک برس بعد امریکی ریاست پنسلوانیا کے علاقے 'تھری مائل آئی لینڈ' میں قائم جوہری بجلی گھر میں رونما ہونے والے ایک حادثے کے بعد عوامی فضا جوہری بجلی گھروں کی تعمیر کے حق میں نہیں رہی تھی۔</p>
<p>اس کے علاوہ معاشی بحران، جوہری بجلی&nbsp; کی پیداواری لاگت میں اضافہ اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں کمی کے سبب بھی نئے جوہری ری ایکٹرز کی تعمیر کے لیے دائر درخواستوں&nbsp; میں کمی آئی تھی جب کہ گزشتہ برس جاپان کے 'فوکو شیما جوہری بجلی گھر' کے حادثے کے بعد امریکی جوہری بجلی گھروں کی صنعت کو کڑی نگرانی&nbsp; اور جانچ پڑتال سے گزرنا پڑا تھا۔</p>
<p>'این آر سی' نے جن نئے ری ایکٹرز کی منظوری دی ہے ان کی تعمیری لاگت کا تخمینہ 14 ارب ڈالرز لگایا ہے اور وہ 2016ء اور 2017ء تک پیداوار شروع کردیں گے۔</p>
<p>نئے ری ایکٹرز کی منتظم کمپنی پہلے ہی مجوزہ تعمیرات کے لیے مختص زمین کی تیاری پر کئی لاکھ ڈالرز خرچ کرچکی ہے&nbsp; جہاں پہلے ہی کمپنی کے زیرِ انتظام دو دوسرے جوہری ری ایکٹرز بجلی پیدا کر رہے ہیں۔</p>
<p>امریکی محکمہ توانائی نے مذکورہ منصوبے کے لیے آٹھ ارب ڈالرز سے زائد کے ضمانتی قرضے کی منظوری دی ہے۔</p>
<p>دریں اثنا نو مختلف رضاکار تنظیموں نے نئے ری ایکٹرز کی تعمیر کے لائسنسوں کے اجراء کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کا عندیہ دیا ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 9 Feb 2012 20:04:18 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139036734</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-09T20:04:18Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[ امریکہ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/ap_us_nuclear_plant_vogtle_480_april2010.jpg" length="45279" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_us_nuclear_plant_vogtle_480_april2010.jpg" medium="image" isDefault="true" height="320" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_us_nuclear_plant_vogtle_230_april2010.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>امریکی اخبارات سے: افغان خانہ جنگی کا حل</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/usa/US-Press-Roundup-09Feb12-139030734.html</link>
				<description>امریکی عہدہ داروں کا یہ تاثُّر پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ افغان صدر حامد کرزئی، امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی سنجیدہ کوششوں کی راہ میں رکاوٹ ہیں: اخباری رپورٹ</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>کیا افغانستان ایک پُر امن مستقبل کی طرف جا رہا ہے؟&nbsp; اس پر &rsquo;لاس انجلس ٹائمز&lsquo; کہتا ہے کہ پیٹر تھامسن کی نظر میں جو اس ملک میں چار سال تک امریکی سفیررہ چکے ہیں، افغانستان کی&nbsp; خانہ&nbsp; جنگی&nbsp; کے حل کے لئے ضروری ہےکہ یہ افغان عوام کی اپنی کوششوں کا نتیجہ ہو۔</p>
<p>لیکن، جیسا کہ اخبار کی نامہ نگار لارا کِنگ کابل سے، ایک مراسلے میں بتاتی ہیں، امریکی عہدہ داروں کا یہ تاثُّر پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ طالبان کےساتھ مذاکرات شروع کرنےکی جو بھی سنجیدہ کوشش امریکہ کرتا ہے اس میں افغان صدر حامد کرزئی سب سے بڑی رکاوٹ بنتے ہیں۔ اخبار کا سوال ہے کہ اگر افغانوں کویہ مسئلہ خود حل کرنا ہے اور افغانوں کے درمیان اس پر اتّفاق رائے&nbsp; نہیں کہ یہ مسئلہ کیونکر حل ہوگا،&nbsp; تو پھر حل کیسے آئے گا۔</p>
<p>اخبار کہتا ہے کہ دوسری بار منتخب ہونے کے بعد مسٹر کرزئی بار بار کہہ چکے ہیں کہ&nbsp; ان کی اولین ترجیح یہ ہے کہ اس خُونی جنگ کا&nbsp; کوئی سیاسی تصفیہ ہو۔ لیکن&nbsp; انہوں نے امریکہ کی&nbsp; اُن کوششوں میں باربارروڑے اٹکائے ہیں جن کا مقصد باغیوں کو مذاکرات کی میز پر لانا تھا۔ اور انہوں نے کئی ایسے اقدامات کئے جن کا مقصد جان بوجھ کر امریکہ کو اشتعال دلانا تھا۔</p>
<p>&rsquo;لاس انجلس ٹائمز&lsquo; کہتا ہے کہ طالبان کی طرف سے امریکہ کے ساتھ مفاہمت&nbsp; کے مقصد سے&nbsp; قطر میں&nbsp; ایک دفتر&nbsp; کھولنے سے قبل&nbsp; مسٹر کرزئی نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا&nbsp; تھا&nbsp; کہ یہ رابطے نہ ہوں۔ بلکہ انہوں نے قطر سے&nbsp; اپنا سفیر بھی واپس بلالیا&nbsp; تھا۔ اور شکایت&nbsp; کی تھی کہ ان کی حکومت کو ان اہم مذاکرات&nbsp; سے بے خبر رکھا گیا تھا۔ امریکی دباؤ کے تحت مسٹر کرزئی نے بادل ناخواستہ&nbsp; قطر&nbsp; کے اس انتظام&nbsp; کو قبول کیا تھا۔</p>
<p>لیکن، اس کے چند ہفتوں کے اندرمسٹر کرزئی نے سعودی عرب میں باغیوں کے ساتھ&nbsp; متوازی مذاکرات کرنے کی کوشش کی تھی، اور یہ شکایت کی تھی&nbsp; کہ انہیں کلیدی گُفت و شنید سے بے خبر رکھا گیا تھا۔ خود باغیوں نے اس کی تردید کر دی تھی کہ&nbsp; اُن کا سعودی&nbsp; عرب میں&nbsp; مذاکرات کرنے کا کوئی ارادہ تھا۔</p>
<p>پچھلے ہفتے مسٹر کرزئی نے دورے پر آئی ہوئی پاکستانی&nbsp; وزیر خارجہ حنا ربّانی&nbsp; کھر کی حمایت&nbsp; حاصل&nbsp; کرنے کی کوشش کی، جنہوں نےایک نیوز کانفرنس کو بتا یا کہ پاکستان امن کے ایسے عمل&nbsp; کا حامی ہے&nbsp; جس کی&nbsp; قیادت&nbsp; افغانوں کے ہاتھ میں ہو۔ اس میں اشارتہً&nbsp; یہ انتباہ&nbsp; تھا کہ قطرمیں متوقع امن مذاکرات جو رُخ اختیار&nbsp; کرتے ہیں۔ اس پرامریکہ کا بُہت زیادہ تصرُف نہ ہو ۔&nbsp;&nbsp;&nbsp;</p>
<p>اخبارکہتا ہے کہ اس کے نتیجے میں امریکہ اور اس کے اتّحادیوں کے لئے تکلیف دہ سہی۔&nbsp;&nbsp;&nbsp; انہیں&nbsp; اعلانیہ یہ کہنا پڑ رہا&nbsp; ہے&nbsp; کہ امن کا کوئی بھی عمل&nbsp; افغان قیادت میں ہوگا،باوجودیکہ طالبان کرزئی انتظامیہ کو غیر متعلّق&nbsp; سمجھتے ہیں۔ اخبار کہتا ہے کہ صدر کرزئی کی مایوسی اس وجہ سے بھی ہے کہ انہوں نے اپنے طور سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی راہ کھولنے کی جو سرتوڑ کوشش کی تھی وہ بُری طرح ناکام ہوئی تھی۔</p>
<p>اخبار کہتا ہے باہمی عدم اعتماد کے ہوتے ہوئے طالبان اور امریکی عہدیدار اشارہ دے چکے ہیں کہ قطر مذاکرات سے پہلے اعتماد سازی کےاقدام ہوں، مثلاً قیدیوں کا تبادلہ یا افغانستان کے بعض علاقوں میں محدود جنگ بندی۔&nbsp; لیکن مسٹر کرزئی جتا چکے ہیں کہ ایسے اقدامات&nbsp; اُنہیں کے دستخطوں سے&nbsp; ہونگے۔</p>
<p>&rsquo;وال سٹریٹ جرنل&lsquo; کے مطابق ایسے میں جب&nbsp; شام کے شہر حامز میں سرکاری&nbsp; فوجوں کی ٹینکوں اور&nbsp; راکیٹوں&nbsp; سے گولہ بار ی جاری ہے اور&nbsp; پانچ دن سے محصور&nbsp; اس شہر میں درجنوں مزید لوگ ہلاک ہوئے ہیں، تُرکی نے جس قدرجلد ممکن ہو ایک&nbsp; بین الاقوامی&nbsp; سربراہ اجلاس طلب کیا ہے&nbsp; جس میں وسط مشرقی اور عالمی طاقتیں شرکت کریں گی ا ور صدر بشارالاسد&nbsp; پر اقتدار سے الگ&nbsp; ہونے پر&nbsp; زور دیں گی۔ ترکی کے وزیر خارجہ&nbsp; احمد داؤد اوغلُو نے&nbsp; کہا ہے کہ ہم شام کو اپنے حال&nbsp; پر&nbsp; نہیں چھوڑیں گے۔</p>
<p>اخبار &rsquo;نیو یارک نیوز ڈے&lsquo; کہتا ہے نیویارک کی ریاست میں دو عشروں سے یہ بحث&nbsp; جاری&nbsp; ہے کہ&nbsp; کلیساؤں کو پبلک سکولوں کی عمارات میں عبادت کی سروس منعقد کرنے کی اجازت ہونی چاہئے۔</p>
<p>ایک ادارئے میں اخبار کہتا ہے کہ ان سروسز سے کلیسا کو مملکت سےعلیٰحدہ رکھنے کے مروّجہ اصولوں کی&nbsp; خلاف ورزی ہوتی ہے۔</p>
<p>نیویارک شہر کے عہدہ داروں کی یہ کوشش کہ اس کی اجازت نہ ہو۔ سنہ1994 سے مختلف عدالتوں کے زیر سماعت رہی ہے اور اب ایک وفاقی عدالت نے بالآخر اسے ممنوع قرار دیا ہے۔ لیکن اس نے یہ واضح نہیں کیا کہ&nbsp; آیا&nbsp; ان عمارات میں سکول کے اوقات کے بعد ایسی سروسز&nbsp;&nbsp; آئین کے خلاف ہونگی۔</p>
<p>آڈیو رپورٹ سنیئے:</p>
<p>
<object classid="clsid:02bf25d5-8c17-4b23-bc80-d3488abddc6b" width="258" height="46" codebase="http://www.apple.com/qtactivex/qtplugin.cab#version=6,0,2,0">
<param name="src" value="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+0100++US+PRESS+ROUNDP+FEB+09-+12+++++++-++SDA.Mp3" /><embed type="video/quicktime" width="258" height="46" src="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+0100++US+PRESS+ROUNDP+FEB+09-+12+++++++-++SDA.Mp3">&nbsp;</embed>
</object>
</p>
<p>&nbsp;</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 9 Feb 2012 18:52:31 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139030734</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[صلاح الدین احمد]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-09T18:52:31Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[ امریکہ]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/AFGHANISTAN+Karzai+230.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>جنوبی امریکی ریاستوں میں بارشوں کی کمی کے معیشت پراثرات</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/usa/Texas-Cattle-09Feb12-139028209.html</link>
				<description>سب سے بڑا مسئلہ گھاس کی عدم دستیابی ہے اور کسی دوسری جگہ سے مویشیوں کے لیے چارہ منگوانا  بہت مہنگا پڑتا ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکی شعبہ زراعت کا کہنا ہے کہا جنوبی ریاستوں میں&nbsp; شدید خشک سالی کے باعث ،&nbsp; امریکہ میں گلہ بانی کا پیشہ گزشتہ&nbsp; 60 برسوں میں مقبولیت کی&nbsp;&nbsp; سب سے کم سطح پر آ گیاہے۔ اس کی وجہ سے بڑے گوشت کی قیمتیں بھی&nbsp; 17 فیصد زیادہ ہو گئی ہیں۔ &nbsp;امریکی ریاست&nbsp; ٹیکساس میں مویشی پالنےوالے&nbsp; بڑی&nbsp; بے صبری سے بارش کے منتظر ہیں۔</p>
<p>مارک سکاٹ&nbsp; کے پاس پچھلے سال&nbsp; موجودہ تعداد سے&nbsp; تین گناہ زیادہ مویشی تھے لیکن بارشیں نہ&nbsp; ہونے کے باعث انھوں نے مویشی بیچنے شروع کر دیے تھے ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے ریوڑ میں 60 سے 70 فیصد مویشی فروخت کرچکاہوں کیونکہ&nbsp; خشک سالی&nbsp; بڑھتی جا رہی تھی۔</p>
<p>سکاٹ کا کہنا ہےکہ سب سے بڑا مسئلہ گھاس کی عدم دستیابی ہے اور کسی دوسری جگہ سے مویشیوں کے لیے چارہ منگوانا&nbsp; بہت مہنگا پڑتا ہے۔</p>
<p>سکاٹ نے اپنے کچھ مویشی ایسی&nbsp; ریاستوں میٕں بھیج دیے ہیں جہاں خشک سالی کا اثر زیادہ نہیں ہے۔لیکن انہیں اس پر&nbsp; اضافی اخراجات برداشت کرنے پڑے۔ لیکن&nbsp; ٹیکساس کے کچھ علاقوں میں&nbsp; حالیہ دنوں میں&nbsp; بارشوں کے باعث گھاس اگنے کے امکانات پیدا ہوگئے&nbsp; ہیں۔</p>
<p>ٹیکساس کی اے&nbsp; اینڈ ایم یونیورسٹی مکے ایک سائنس دان ڈیوڈ اینڈرسن ، ریاست ٹیکساس میں خشک سالی کے بعد مویشیوں پر اس کے&nbsp; اثرات پر&nbsp; تحقیق کررہے ہیں۔ ان کا کہناہے کہ اس سال ٹیکساس میں&nbsp; گوشت فراہم کرنے والے&nbsp; مویشیوں کی تعداد میں 1920ءکے بعد سے سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی ہے۔</p>
<p>ایڈرسن کاکہنا ہے کہ کچھ گلہ بانوں کو اس سال سردیوں میں بھی بارشیں نہ ہونے سے پریشانی کاسامنا کرنا پڑرہاہے، جس کااثر براہ راست مویشیوں پر پڑ رہاہے۔ جس کے باعث پچھلے سال امریکی گوشت کی برآمد ات میں 20 فیصد تک کم ہوچکا ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 9 Feb 2012 18:13:00 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139028209</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[گریگ فلیکس /ثاقب الاسلام]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-09T18:13:00Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[ امریکہ]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/1+Monks_Cowboys_+Brother+Placid+teaser.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>امریکہ اور چین کے نائب صدور کی ملاقات، ایجنڈا  پر گفتگو</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/usa/US_China_Meeting_08Feb12-138972564.html</link>
				<description>وائٹ ہاؤس نےکہا ہے کہ توقع ہے اجلاس میں دونوں راہنما ’معیشت کے وسیع تر معاملات اور تجارتی امور کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی امور‘ پر بات چیت کریں گے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکی نائب صدر جو بائیڈن اور چین کےنائب صدر زی جِن پنگ نے، جِن کےبارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ چین کےاگلے صدر ہوں گے، &nbsp;آئندہ ہفتے &nbsp;واشنگٹن میں ہونے والے اجلاس کے ایجنڈے پر بات چیت کی &nbsp;ہے۔</p>
<p>دونوں نے اِس توقع کا اظہار کیا کہ ملاقات کے نتیجے میں امریکہ اور چین کے تعلقات مضبوط ہوں گے۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ &nbsp;توقع ہےدونوں راہنما &rsquo;معیشت کے وسیع تر معاملات اور تجارتی امور کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی امور&lsquo; پر بات چیت کریں گے۔</p>
<p>ایک بیان میں وائٹ ہاؤس نے بتایا کہ بائیڈن نے اِس &nbsp;بات کی ضرورت کو اجاگر کیا کہ امریکہ اور چین کو ایسے تعلقات &nbsp;استوار کرنا چاہئیں، &nbsp;جِن کی بدولت دونوں ملکوں کےلیے حقیقی اہمیت کے حامل معاملات پرتوجہ دی جاسکے۔</p>
<p>منگل کے روز چین کے سرکاری میڈیا نے زی کے حوالے سے خبر دیتے ہوئے بتایا&nbsp; ہےکہ اُن کے دورے کا مقصد چین اور امریکہ کے درمیان تعاون پر مبنی ساجھے داری قائم کرنا ہے ، جِس کی بنیادباہمی احترام پر ہو۔</p>
<p>امریکہ اور چین کے درمیان متعدد امور پر &nbsp;تناؤ ہے، مثلاً &nbsp;&nbsp;تائیوان کو امریکی &nbsp;اسلحے کی فروخت، &nbsp;غیر متوازن تجارت جس کا توازن &nbsp;چین کے حق میں ہے اور زرِ مبادلہ کی شرح کا معاملہ &nbsp;شامل ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 8 Feb 2012 23:34:25 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138972564</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-08T23:34:25Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[ امریکہ]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP_China_Vice_President_Xi_Jinping+_2011_300.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
												
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>بلوچستان کے حالات پر امریکی کانگریس کی کمیٹی میں سماعت</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan/congress-baluchistan-09feb12-138985429.html</link>
				<description>سماعت کا مقصد تھا علاقے  کے مسائل کو سمجھنا تاکہ مستقبل میں پالیسی سازی میں مدد مل سکے۔  </description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکی کانگریس میں پاکستان کاکس کے رکن، کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والے کانگریس مین، ڈینا روہرا باکر کی سربراہی میں امریکی کانگریس کی ذیلی کمیٹی برائے امور خارجہ نے بدھ کو بلوچستان کے حالات اور وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ایک سماعت رکھی جس میں ہیومن رائٹس واچ کے پاکستان ڈائریکٹر علی دایان حسن کے علاوہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے نمائندے اور جنوبی ایشیاء پر ماہرین شامل تھے۔&nbsp;</p>
<p>کانگریس مین روہرا باکر کے مطابق بلوچستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جس کا استحکام دنیا بھر کے لیے بے حد اہم ہے چنانچہ اس سماعت کا مقصد تھا علاقے کے مسائل کو سمجھنا تاکہ مستقبل میں پالیسی سازی میں مدد مل سکے۔&nbsp;</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note"> &lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note"><br /></span></p>
<p>سماعت کے دوران خاص طور پر بلوچستان میں لوگوں کے اغوا، &rsquo;&rsquo;ٹارچر&lsquo;&lsquo; کرنے یا غائب&lsquo;&lsquo; کر دینے کے واقعات اور ٹارگٹ کلنگ کا ذکر رہا۔ جس کا الزام تقریبًا تمام ماہرین اور انسانی حقوق کے نمائندوں نے پاکستان کی سیکورٹی فورسز پر لگایا۔ جن کے بارے میں کہا گیا کہ وہ بات چیت کے بجائے طاقت کے زور پر مسائل حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔</p>
<p>لیکن یہ بھی کہا گیا کہ بلوچ قوم پرست گروہ بھی جواباً ٹارگٹ کلنگ اور تشدد کے واقعات کے ذمّہ دار ہیں۔ &nbsp;اور بلوچستان میں کام کرنے والے دیگر صوبوں کے لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔</p>
<p>ایک بہت اہم بیان کانگریس مین روہراباکر نے یہ دیا کہ امریکہ کو اس وقت تک کوئی سنجیدگی سے نہیں لے گا جب تک اس کی پالیسی ہر ایک کے لیے یکساں نہیں ہوگی اس لیے جہاں بلوچستان کے لوگوں کو انسانی حقوق حاصل ہیں وہیں کشمیر کے عوام کو بھی حق خود ارادیت حاصل ہے۔</p>
<p>یہ بات بھی قابل غور ہے کہ موجودہ امریکی انتظامیہ کی طرف سے کوئی اس سماعت میں شریک نہیں تھا اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ترجمان وکٹوریہ نیولینڈ کے مطابق پاکستان کے اندر مختلف پارٹیوں کو مل کر اس مسئلے کو پر امن طریقے سے حل کرنا چاہیے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 9 Feb 2012 04:11:10 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138985429</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[عائشہ تنظیم]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-09T04:11:10Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/US_Congress_640x480_2192734798.jpg" length="109845" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
																											
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/US_Congress_640x480_2192734798.jpg" medium="image" isDefault="true" height="480" width="640" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/US_Congress_-_Insider_Trading_FOR_WEB_SD01.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/baluchistan2.jpg" medium="image" isDefault="false" height="162" width="230" />
																																																										</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>امریکی اخبارات کے اداریے: پاکستان سے رابطے بحال کرنے کی نئی کوشش</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/usa/US-Press-Roundup-07Feb12-138867089.html</link>
				<description>امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ، جنرل جیمز میٹس پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے ساتھ پاکستان-افغان سرحد پر سیکیورٹی طریق کار کے بارے میں بات چیت  کرینگے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>نیو یارک ٹائمز&nbsp; کی اطلاع&nbsp; ہے کہ امریکہ ایک سینیئر فوجی کمانڈر&nbsp; ایک ماہ کے اندر پاکستان روانہ &nbsp;ہورہا ہے اور اس نے اوباما انتظامیہ کے عہدہ داروں کے حوالے سے بتایا ہے&nbsp; کہ یہ&nbsp; اس سٹرٹیجک رشتے&nbsp;کو بحال کرنے کی طرف پہلا قدم ہے ، جو اب دو ماہ سے عملی طور پر منجمد ہے۔<br /><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>اخبار&nbsp; کہتا ہے امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ ،&nbsp;جنرل جیمز میٹس پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے ساتھ افغان سرحد پر اس واقعے پر، جس میں 24 پاکستانی&nbsp; فوجی ہلاک ہوئے تھے، اور سرحد پر سیکیورٹی&nbsp; طریق کار &nbsp;پر بات چیت&nbsp; کرینگے ۔ تاکہ اس قسم کے واقعات دوبارہ&nbsp; نہ ہوں۔ &nbsp;یہ ملاقات جمعرات کو شروع ہونے والی تھی ۔ &nbsp;لیکن اسے کم ازکم ایک ہفتے موخر کردیا گیاہے۔ تاکہ اس درمیان&nbsp; امریکہ کے ساتھ نئی سیکیورٹی پالیسی پر پاکستانی پارلیمنٹ میں بحث مکمّل ہو جائے ۔&nbsp; اخبار کی اطلاع کے مطابق پاکستانی اور امریکی عہدہ دار پُر امّید ہیں کہ ان دونوں واقعات کے نتنجے میں کھلے عام اور درپردہ&nbsp; مذاکرات ہونگے۔ جن کی مدد سے دونوں ملکوں کے درمیان سٹرٹیجک رشتے کو پہلے کے مقابلے میں محدود خطوط&nbsp; کے اندر بحال کیا جائے گا</p>
<p>اخبار نے پاکستانی عہدہ داروں کے حوالے سے بتایا ہے&nbsp; کہ دو مہینوں سے بند نیٹو&nbsp; کی رسد کا راستہ غالباً دوبارہ کھول دیا جائے گا۔ &nbsp;اخبار کی یہ بھی اطلاع ہے کہ محکمہء خارجہ نے انتظامیہ میں گشت کرنے والی اس تجویز کی حمائت کر دی ہے کہ 26 نومبر کو امریکی فضائی حملے میں پاکستانی&nbsp; فوجیوں کی ہلاکت پر امریکہ باقاعدہ طور پر معافی&nbsp; مانگے ۔</p>
<p>اخبار کی اطلاع کے مطابق مذاکرات کے علاوہ جنرل میٹس کی مصروفیات میں یہ معلوم کرنا بھی ہوگا کہ فوجی تربیت ، اسلحے کی فروخت، اور سرحدپر رابطے کے مراکزکو بہتر&nbsp; بنانے کے سلسلے میں دو طرفہ تعلّقات میں کیا کُچھ ممکن ہے ۔ اس دورے کے نتائج پر منحصر ہوگا &nbsp;کہ آیا&nbsp;اس کے بعد دوسرے امریکی عہدہ دار ، بشمول خصوصی امریکی سفیر مارک گروس من بھی پاکستان کا دورہ کریں گے۔ &nbsp;ان دوروں کے تعیّن میں پاکستان کے تلاطم خیز سیاسی منظرنامے کا &nbsp;بھی بڑا دخل ہوگا۔ جس میں حکومت ،&nbsp; عدلیہ اور فوج &nbsp;کےارکان بیشتر وقت ایک دوسرے سے دست و گریبان رہے ہیں۔</p>
<p>اسی&nbsp; سلسلے میں نیو یارک ٹائمز&nbsp; میں آئی ایس آئی&nbsp; پر ایک علیٰحدہ تفصیلی رپورٹ کے مطابق اس ادارے کو متعدد عدالتی&nbsp; کاروائیوں کا سامنا ہے۔ جو فوج کے&nbsp; اس اہم ستون کے لئے ایک غیر معمولی چیلنج ہے۔ ایک کیس میں اس سے کہا گیا ہے کہ وہ ان سات مشتبہ عسکریت پسندوں کو عدالت میں پیش کرےجو 2010 ءسے اس کی تحویل میں ہیں۔ &nbsp;ایک اور کیس1990ء میں انتخابات میں دھاندلی کا ہے۔ &nbsp;جس میں 65 لاکھ ڈالر کے برابر رقم امیدواروں کو دی گئی تھی۔ &nbsp;اخبار کہتا ہے کہ ان کیسوں کی تہہ میں وہ اختیارات ہیں جو آئی ایس آئی کو شہریوں کو تحویل میں لینے اور&nbsp; انتخابات میں مداخلت کر نے کے لئے حاصل ہیں۔اوراسےبارہ ماہ کے ایک ایسے دورکے خاتمے پر اس کا سامنا کرنا پڑرہا ہےجب&nbsp; اسے پاکستان کے اندر امریکی کمانڈوز کے ہاتھوں اسامہ بن لادن کی ہلاکت پر کڑی تنقید کا سامنا ہے۔ &nbsp;اور حالیہ ہفتوں میں اس سیاسی سکینڈل میں اس کے کردار پر بھی&nbsp; جس نے فوجی انقلاب کی افواہوں کو جنم دیا تھا اور اس کے اختیار کو ایک غیر متوقع&nbsp; حلقے سے چیلینج&nbsp; کا سامنا ہے۔ یعنی چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ، جو اخبار کے خیال میں یہ ثابت کرنے پر تُلے ہوئے ہیں کہ وہ فوج سے بھی نمٹ سکتے ہیں۔</p>
<p>وال سٹریٹ جرنل&nbsp; کی&nbsp; رپورٹ کے مطابق،&nbsp; روسی وزیر خارجہ سرگے لارؤف نے &nbsp;شامی صدر بشارالاسد سے&nbsp; ملاقات کی ہے اور ا ن سے کہاہے کہ وہ ملک میں تشدّد کو ختم کرنے کے لئے فوری&nbsp; قدم اٹھائیں۔ جس پر صدر اسد نے کہا ہےکہ وہ سیاسی نمائندگی کو وسیع &nbsp;کرنے کے لئے&nbsp;ایک نئے آئین پر چند روز کے اندر ریفرنڈم کرانے کے لئے تاریخ کا اعلان کریں گے ،</p>
<p>اخبار کہتا ہے کہ روسی عہدہدارمغربی ملکوں پر الزام لگاتے آئے ہیں کہ وہ بجائے مذاکرات کو آگے بڑھانے کے اسد حکومت کا تختہ الٹنے &nbsp;کی فکر میں ہیں۔ مغربی لیڈروں کا کہنا ہے کہ اپنے&nbsp; مخالفین کے خلاف گیارہ ماہ سے جاری خوں ریز لڑائی کے بعد اس حکومت کا قانونی جواز ختم ہو گیا ہے۔ اخبارکا یہ بھی کہنا ہے کہ روسی لیڈر پوُٹن کوصدارت کا عہدہ دوبارہ حاصل کرنے میں جو دشواری ہو رہی ہے ، &nbsp;اس کے پیش نظرکریملن بین الاقوامی سطح پر اپنا دباؤ بڑھا رہا ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 7 Feb 2012 18:47:43 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138867089</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[صلاح الدین احمد]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-07T18:47:43Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[ امریکہ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/AP_Pakistani_Foreign_Minister_Hina_Rabbani_Khar_1Feb12-resizedpx480q100shp8.jpg" length="199316" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
																											
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP_Pakistani_Foreign_Minister_Hina_Rabbani_Khar_1Feb12-resizedpx480q100shp8.jpg" medium="image" isDefault="true" height="338" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Lt._Gen_John_R._Allen_230.jpeg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Lt._Gen_John_R._Allen_230.jpeg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																										</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>صدر اوباما کی انتخابی مہم  نے عطیہ واپس کردیا </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/usa/Obama-Campaign-Funds-Returned-07Feb12-138866229.html</link>
				<description>امریکی اخبار 'نیو یارک ٹائمز' نے شکاگو کے کارلوس کارڈونا اور البرٹو کارڈونا کی جانب سے صدر اوباما کی انتخابی مہم کے لیے دیے گئے چندے پر اعتراضات کیے تھے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکہ کے صدر براک اوباما کی انتخابی مہم کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ میکسیکو کے ایک جوا خانے کے مالک کے اہلِ خانہ کی جانب سے دیا گیا دو لاکھ ڈالرز کا چندہ واپس کر رہے ہیں جو منشیات اور دھوکہ دہی کے الزامات میں قانونی کاروائی سے بچنے کے لیے امریکہ سے فرار ہو گیا تھا۔</p>
<p>یاد رہے کہ امریکی اخبار 'نیو یارک ٹائمز' نے شکاگو کے کارلوس کارڈونا اور البرٹو کارڈونا کی جانب سے صدر اوباما کی انتخابی مہم کے لیے دیے گئے چندے پر اعتراضات کیے تھے جس کے بعد منگل کو صدر کی انتخابی مہم کے منتظمین نے دونوں بھائیوں کی جانب سے دی گئی تمام رقومات واپس کرنے کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p>اخبار نے گزشتہ روز&nbsp; کہا تھا کہ کارڈونا برادران جواخانوں کے کاروبار سے منسلک میکسکن نژاد جوان جوس کارڈونا عرف پیپے کے بھائی ہیں جو 1994ء میں ریاست آئیووا میں ضمانت پر رہائی کے بعد روپوش ہوگیا تھا ۔ مفرور ہونے کے بعد سے پیپے کا نام میکسیکو میں ہونے والے تشدد اور بدعنوانی&nbsp; کے حوالے سے سامنے آتا رہا ہے۔</p>
<p>کارڈونا برادران نے صدر اوباما کی انتخابی مہم اور 'ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی' کے لیے گزشتہ برس رقم اکٹھی کرنا شروع کی تھی۔</p>
<p>صدر کی انتخابی مہم کے ترجمان بین لابولٹ نے منگل کو صحافیوں کو بتایا کہ مہم کے منتظمین کارڈونا خان دان اور ان کے توسط سے جمع کرائے گئے تمام عطیات واپس کر رہے ہیں۔</p>
<p>ترجمان نے بتایا کہ اب تک 13 لاکھ امریکیوں نے صدر کی انتخابی مہم کے اخراجات پورے کرنے لیے چندہ دیا ہے&nbsp; جس&nbsp; کا جائزہ لیا جارہا ہے۔</p>
<p>'نیویارک ٹائمز' نے آئیووا کے محکمہ استغاثہ کے حوالے سے کہا تھا&nbsp; کہ کارلوس کارڈونا نے گزشتہ برس ڈیموکریٹک پارٹی کے ریاستی صدر کے توسط سے آئیووا کے گورنر سے رابطہ کرکے اپنے بھائی کے لیے معافی&nbsp; کے حصول کی کوشش کی تھی جو ناکام رہی تھی۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 7 Feb 2012 18:35:13 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138866229</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-07T18:35:13Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[ امریکہ]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP_Barack_Obama_02_01_2012_777777777_300.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>امریکی مسلم خیراتی تنظیموں  کا سیاسی کردار</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/usa/Muslim-Charities-US-07Feb12-138865989.html</link>
				<description>امریکی صدارتی انتخابات کے اس سال میں یہاں کے رہنے والے مسلمان بھی اپنے آپ کو سیاسی دھارے میں شامل کروانے کے لئے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکہ میں یہ&nbsp; انتخابات کا سال ہے&nbsp; اور امریکہ میں سیاسی جماعتیں تو&nbsp; اس کی تیاریوں میں&nbsp; مصروف ہیں ہی&nbsp; ۔ لیکن امریکہ میں رہنے والے مسلمان بھی اپنے آپ کو سیاسی دھارے میں شامل کروانے کے لئے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں ۔ اس مقصد کے لئے امریکی ریاست میری لینڈ کےمسلمان دیگر کمیونیٹیز&nbsp; اور مقامی سیاسی رہنماوں سے تعلقات بڑھانے کے کوششیں&nbsp; کر رہے ہیں</p>
<p>اسی سلسلے میں میری لینڈ کی منٹگمری کاؤنٹی میں ہونے والی ایک&nbsp; تقریب میں&nbsp; ریاست میریلینڈ&nbsp; میں عوامی طور پر منتخب نمائندے اور ایگزیکٹیوز کو مدعو کیا گیا۔تقریب کا اہتمام منٹگمری کاؤنٹی مسلم فاونڈیشن نے کیا جو بنیادی طور پر مقامی کمیونٹی کے لیے فلاحی کام کرتی ہے۔ لیکن اس میں سیاسی نمائندوں کی شرکت منٹگمری کاؤنٹی مسلم کاونسل کے اشتراک سے ممکن ہوئی جو&nbsp;&nbsp; مسلمانوں کے لیے سیاسی پلیٹ فارم مہیا کرنے&nbsp; کا کام کر رہی&nbsp; ہے۔</p>
<p>ارما حفیظ منٹگمری کاونٹی مسلم کاونسل کے لیے کام کرتی ہیں، ان&nbsp; کا کہنا ہے کہ مسلم کاونسل اس کاونٹی میں&nbsp;&nbsp; پولیٹیکل سرگرمیاں کرتی ہے اور منٹگمری کاؤنٹی مسلم فاونڈیشن سروسز کے پراجیکٹ جیسے فوڈ ڈرائیو، ذبیحہ، ہالیڈے گفٹ اور شیلٹر میں کھانا فراہم کرنے کام کام کرتی ہے۔</p>
<p>گزشتہ سال ان کی&nbsp; تنظیم نے ایک مقامی فوڈ بینک کو&nbsp; ہزاروں ٹن کھانا فراہم کیا۔ مقامی مسلمان کمیونٹی کے ایک سینیئر رکن طفیل احمد کہتے ہیں کہ سیاسی سطح پر مستحکم ہونے کے لیے پہلے آپ کو کمیونٹی میں اپنی پہچان بنانی ہوتی ہے۔</p>
<p><iframe src="http://www.youtube.com/embed/9BYwhpPbtaI" width="480" height="390"></iframe></p>
<p>&nbsp;ان کا کہنا تھا کہ اس طرح سے انھوں نے کمیونٹی میں اپنی پہچان بنائی ۔&nbsp; ان کا کہنا ہے کہ جب ہم پہلے مرتبہ کھانا لے کر گئے تو انھوں نے پوچھا آپ کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں۔ ہم نے کہا ہم مسلمان ہیں اور&nbsp; یہیں سے آئے ہیں۔ تو انھوں نے کہا کہ آپ دوبارہ کب آئیں گے؟ یعنی انھیں کھانا بہت اچھا لگا۔</p>
<p>رخسانہ رحمان اس علاقے میٕں 40 سال سےمقیم ہیں اور ان کوششوں کو&nbsp; دوہرے فائدے کے طور پر دیکھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم پہلے خود اسٹیبلش ہوئے۔ اسلامک سینٹر اور مسجدیں بنائیں۔ مگر اب وقت ہے کہ ہم اس ملک کے لیے بھی کام کریں جس نے ہمیں یہ سب دیا۔ یہی آئیڈیا لے کر ہم اٹھے تھے۔ اور اس کا پولیٹیکل انٹریسٹ یہ ہے کہ کل کو ہمارا بھی کوئی بچہ اس راہ پر چلے گا۔</p>
<p>میری لینڈ کی اسی کاونٹی سے ریاستی سطح پر منتخب ہونے والے&nbsp; ثاقب علی چار سال تک یہاں رکن اسمبلی رہے ہیں۔ اور آج کل میری لینڈ ایجوکیشن بورڈ کے لیے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔</p>
<p>منٹگمری کاؤنٹی مسلم فاونڈیشن کی صدارت صومالیہ کے ایک نوجوان گرید قاسم کر رہے ہیں۔ گرید کا کہنا ہے کہ اس طرح سے نہ صر ف یہاں کے مقامی لوگوں سے بات چیت کے راستے پیدا ہورہے ہیں بلکہ سیاسی راہنماؤں کو بھی ہماری کمیونٹی کی طاقت کا اندازہ ہو رہا ہے۔</p>
<p>اس تقریب میں شرکت کرنے والے مختلف&nbsp; عوامی اور سیاسی نمائندوں نے بھی مسلمانوں کی ان کوششوں کو سراہا .</p>
<p>کاونٹی ایگزیکیٹیو آئیک لیگیٹ نے کہا کہ&nbsp; انھیں&nbsp; یہاں آکر اور مسلمانوں سے مل کر بہت خوشی ہوئی ہے۔ جبکہ ریاست میری لینڈ کے اٹارنی جنرل&nbsp; ڈگلس گینسلر نے اس بات کو سراہا کہ مسلمان یہاں عوامی نمائندوں سے میل جول بڑھا رہے ہیں۔</p>
<p>جبکہ تنظیم کے اراکین کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہے کہ عوامی بھلائی کی ان کوششوں سے وہ ناصرف مقامی کمیونٹی میں مسلمانوں کو فعال بنائیں بلکے سیاسی سطح پر بھی انھیں مستحکم کریں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 7 Feb 2012 18:32:05 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138865989</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[ثاقب الاسلام]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-07T18:32:05Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[ امریکہ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/MCMC-600X400.jpg" length="191786" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/MCMC-600X400.jpg" medium="image" isDefault="true" height="400" width="600" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/MCMC-300X300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>امریکی اخبارات کے اداریے: صدر اوباما کی مقبولیت میں اضافہ</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/usa/US-Press-Roundup-06Feb12-138793799.html</link>
				<description>رائے عامہ کے تازہ جائزوں کے مطابق اوباما کو رامنی پر واضح سبقت حاصل ہو گئی ہے اور صدر کی اقتصادی شُعبے میں قیادت پر عوام کا اعتماد مسٹر رامنی کے مقابلے میں زیادہ ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>صدارتی انتخابات کے رواں سال میں امریکہ میں امید واروں کی مقبولیت جانچنے کے لئے وقفےوقفے سے عوامی جائزے لئے جاتے ہیں اور واشنگٹن پوسٹ&nbsp; کے مطابق&nbsp; اس اخبار نے&nbsp; اے بی سی ٹیلی وژن چینل کے ساتھ مل کر جو تازہ&nbsp; جائزہ لیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے ۔ کہ اوباما کو رامنی پر واضح سبقت حاصل ہو گئی ہے۔اور صدر کی اقتصادی شُعبے میں قیادت پر عوام کو جو اعتماد ہے ۔ وہ مسٹر&nbsp; رامنی کے مقابلے میں زیادہ ہے۔</p>
<p>اخبار کہتا ہےکہ مسٹر رامنی نے ریاست نیواڈا&nbsp; کی پرائمری میں کامیابی حاصل کر کے اپنی پوزیشن تو بہتر بنا لی ہےلیکن ری پبلکن نامزدگی کے امید وار ایک دوسرے کے خلاف جو منفی پروپیگنڈہ کر رہے ہیں۔ اس سے پبلک میں انہیں کا تاثّر خراب ہورہا ہے۔ اور اس میں ممیساچوسیٹس کے سابق گورنر&nbsp; مٹ رامنی شامل ہیں۔</p>
<p>اخبار کہتا ہے&nbsp; &nbsp;کی اوبامہ کی شخصیت کی وجہ سے امریکی عوام کو یہ مخمصہ درپیش ہے&nbsp; آیا وہ دوسری مرتبہ صدر&nbsp; منتخب ہونے کے اہل ہیں ، اور ان کے زیر نظر اس&nbsp; عہدے پر&nbsp; فائز ہونے&nbsp; کے بعد ان کی کارکردگی کے مختلف پہلو ہیں۔&nbsp;قومی معیشت کو صدر&nbsp; نے جس طرح چلایا ہے۔ اس پر عوام کا ردعمل پہلے سے بہتر ہے۔&nbsp;</p>
<p>اخبار کے بقول اگر یہ صدارتی انتخاب اگر صدر کی مجموعی&nbsp; کار کردگی پر ریفرنڈم کی طرح ہوا&nbsp; جیسا کہ ری پبلکن امید کرتے ہیں ، تو صدر کو&nbsp; دوسری میعاد صدارت کے لئے جد و جہد کرنی&nbsp; پڑے گی۔ لیکن اگر&nbsp; مقابلہ موجودہ &nbsp;صدر اور ان کے مد مقابل کسی بھی ریپبلکن امیدوار سے ہوتا ہے۔ یعنی سیدھے سبھاؤ دو میں سے ایک کا انتخاب&nbsp; کرنا ہو، تو مسٹر اوباما کے مشیروں کو یقین ہے کہ&nbsp; اس میں صدر کے امکانات زیادہ روشن ہیں</p>
<p>امریکی معیشت میں &nbsp;فروری کے مہینے میں 2 لاکھ 43 لاکھ روز گار کے نئے مواقع نکلنے سے بے روزگاری کی شرح مزید گر کر 8 اعشاریہ 3 فی صد رہ گئی ہے۔اس پر اخبار کرسچن سائینس مانٹر &nbsp;کہتا ہے کہ صدر اوباما کے لئے یہ اچھی خبر ہے ۔ &nbsp;لیکن ری پبلکن اس سے اتفق نہیں کرتے ۔ اخبار کا سوال ہے کہ اقتصادی شعبے&nbsp; میں اس بظاہر اچھی پیش رفت کا&nbsp; اوباما کو کتنا کریڈٹ&nbsp; جاتا ہے۔&nbsp;&nbsp; اوباما کے&nbsp; ایک سابق مشیر لیری سمرس&nbsp; کہتے ہیں کہ یہ پیشرفت زیادہ تر پرائیویٹ سیکٹر میں ہوئی ہے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک متبادل&nbsp; جائزے کے مطابق دراصل پانچ لاکھ یا اس ے زیادہ اسامیاں پر ہوئی ہیں۔ لوگ کام کے زیادہ اوقات لگا رہے ہیں۔ تنخواہیں بڑھ رہی ہیں۔ فرمیں مزید خالی اسامیوں کے لئے درخواستیں طلب کر رہی ہیں۔ اور اگر اسی رفتار سے روزگار کے مواقع &nbsp;بڑھتے رہے ۔ تو&nbsp; نیو یارکر میگزین کے ایک بلاگر کا اندازہ ہے&nbsp; کہ اس کے نتیجے میں بے روزگاری کی شرح اسی سطح پر&nbsp; پہنچ&nbsp; جائے گی جو ان کے عہدہ&nbsp; سنبھالنے کے وقت تھی&nbsp;</p>
<p>&nbsp; مصر میں جمہوریت نواز تنظیموں کے لئے کام کرنے والے 19 امریکی شہریوںپر، ملک کی &nbsp;حکومت نے جس پر فوج &nbsp;کا غلبہ ہے، &nbsp;لائیسنسنگ اور مالی الزامات پر&nbsp; مقدّمہ چلانے کا فیصلہ کیا ہے جس کی وجہ سے&nbsp; لاس اینجلس ٹائمز کے بقول واشنگٹن اور قاہرہ&nbsp; کے مابین مزید خراب ہو گئے ہیں۔ اور اشتعال انگیز فیصلہ ایساے میں آیا ہے&nbsp; ۔ جب امریکہ نے مصر&nbsp; کی ایک ارب 30 کروڈ&nbsp; کی سلالانی بند کرنے کی دہمکی دی ہے۔</p>
<p>اخبار کہتا ہے کہ امریکہ اور مصر کے مابین30&nbsp;سال&nbsp; سے زیادہ عرصے سے قریبی تعاون رہا ہے۔جو اس وجہ سے خطرے میں پڑا ہوا ہے کہ مصری سیاسیا ت ایک نئی جہت پر چل پڑی ہے ، اور اس کی سیاسیات ا ور پارلیمنٹ پر&nbsp; اسلام پسندوں&nbsp; کا قبضہ ہو گیا ہے ۔ جس نے&nbsp; کئی امور پر&nbsp; واشنگٹن کی تشویش&nbsp; کو بڑھا دیا ہے ، ان میں&nbsp; مصر میں&nbsp; شہری آزادیوں&nbsp; کی صورت حال اور&nbsp; اس کی خارجہ پالیسی شامل ہے &nbsp;اور غیر سرکا ری تنظیموں نے جس جمہوری شفافیت&nbsp; اپنی کارکردگی میں اپنا رکھی ہے۔&nbsp; اسے&nbsp; فوج خطرے کی نگاہ سے دیکھتی&nbsp; ہے ۔&nbsp; کیونکہ وہ&nbsp; کئی عشروں سے عوامی احتساب سے بالا تر رہی ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Mon, 6 Feb 2012 18:50:58 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138793799</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[صلاح الدین احمد]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-06T18:50:58Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[ امریکہ]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Mitt+Romney_02_05_12_300x300.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>صدر اوباما کو ری پبلکن حریف رومنی پر سبقت </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/usa/Obama-Romney-06Feb12-138790879.html</link>
				<description>نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹ صدر اوباما کے مقابلے میں ری پبلکن جماعت کی نامزدگی کے حصول کے لیے کل چار امیدواران میدان میں ہیں جن میں مٹ رومنی کو سبقت حاصل ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>رائے عامہ کے ایک تازہ ترین جائزے میں کہا گیا ہے کہ آئندہ صدارتی انتخاب میں ری پبلکن کے ممکنہ امیدوار مٹ رومنی کے مقابلے پر امریکہ کے صدر براک اوباما کی عوامی مقبولیت میں پہلی بار اضافہ ہواہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹ صدر اوباما کے مقابلے پر ری پبلکن جماعت کی نامزدگی کے حصول کے لیے کل چار امیدواران میدان میں ہیں جن میں مٹ رومنی کو سبقت حاصل ہے۔</p>
<p>'اے بی سی نیوز' اور 'واشنگٹن پوسٹ' کی جانب سے کرائے گئے مشترکہ جائزے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ صورتِ حال میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں صدر اوباما کی فتح کا تناسب 43 کے مقابلے میں 52 فی صد ہوگا۔</p>
<p>بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ایک ہزار افراد کی آراء پر مشتمل گزشتہ ہفتے کیے گئے جائزے کے مطابق&nbsp; 50 فی صد رائے دہندگان روزگار کی صورتِ حال سے متعلق صدر اوباما کی کارکردگی سے مطمئن ہیں اور انہیں دوسری مدت کے لیے صدر بننے کا حق دار سمجھتے ہیں۔</p>
<p>گزشتہ روز ایک ٹی وی انٹریو کے دوران میں صدر اوباما نے امریکہ میں ملازمتوں کی صورتِ حال میں بہتری&nbsp; سے متعلق حالیہ اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ خود کا دوبارہ صدر منتخب کیے جانے کا&nbsp; مستحق سمجھتے ہیں۔</p>
<p>'این بی سی' کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں صدر نے کہا تھا کہ موجودہ امریکی معیشت کی صورتِ حال اس سے بہتر ہے جو تین برس قبل ان کے صدر منتخب ہونے کے وقت معیشت کو درپیش تھی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان&nbsp; کا "کام ابھی ختم نہیں ہوا ہے"۔</p>
<p>لیکن ری پبلکن رہنمائوں کا کہنا ہے کہ صدر اوباما کی معاشی پالیسیوں غیر موثر ثابت ہوئی ہیں&nbsp; اور امریکی معیشت کی بحالی کی صورتِ حال بہت بہتر نہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Mon, 6 Feb 2012 18:03:52 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138790879</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-06T18:03:52Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[ امریکہ]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/uzbek_barack_obama_barak.jpg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>فلبرائٹ اسکالرشپ پروگرام پر سیمینار</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/usa/Fulbright_Scholarship_Program_04Feb12-138717754.html</link>
				<description>فلبرائٹ پروگرام کے تحت امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والے غیر ملکی طالب علموں کے لیے9 فروری سے ریاست جارجیا کے شہر ایٹلانٹا میں ایک سمینار منعقدہو رہا ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>فلبرائٹ پروگرام کے تحت، امریکی محکمہٴ خارجہ کا بیورو آف ایجوکیشنل اینڈ کلچرل افیئرز (ECA) امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والے غیر ملکی طالب علموں کے لیے9 فروری سے ریاست جارجیا کے شہر ایٹلانٹا میں ایک سمینار منعقد کرا رہا ہے۔</p>
<p>سمینار میں 80ممالک سے تعلق رکھنے والے فرسٹ ایئر کے140 فلبرائٹ فارین اسٹوڈنٹس شریک ہوں گے، جو امریکہ کے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔</p>
<p>سرکاری ذرائع کے مطابق، &nbsp;اس سال موسم بہار کے دوران ملک بھر میں کُل نو سمینار منعقد ہوں گے جِن کا عنوان ہوگا: &ldquo;U.S. Politics and Elections: Democracy in Action.&rdquo;</p>
<p>فلبرائٹ پروگرام کے تحت، سال 2011ء کے دوران پاکستان سے 122طالب علم&nbsp; اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے امریکہ آئے، جن میں سے90ماسٹرز کی سطح کی تعلیم اور 32پی ایچ ڈی کی تعلیم کے لیے تھے، جِن میں سے 37خواتین تھیں۔</p>
<p>تعلیم کے میدان میں امریکہ کے پاکستان کےدرمیان باہمی تعاون کا ایک طویل المدتی سمجھوتا موجود ہے، اسی سلسلے میں پاکستان سے ہرسال طالب علم کی کافی تعداد اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے امریکہ آتی ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sat, 4 Feb 2012 23:39:42 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138717754</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-04T23:39:42Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[ امریکہ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/students+seated-main.jpg" length="91137" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/students+seated-main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="323" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Mehrunisa-usaid-student.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>پاک امریکہ خبریں، ہفتہ وار وڈیو فیچر</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/usa/US_Pakistan_News_Wrapup_04Feb12-138713009.html</link>
				<description>دوسرے ہفتے کی خبروں پر مشتمل پروگرام</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>آئیے Pak-US News Wrap UPکے عنوان سے پیش کیا جانے والا وائس آف امریکہ کا دوسرا ہفتہ وار فیچر وڈیو پروگرام دیکھتے ہیں۔</p>
<p><iframe src="http://www.youtube.com/embed/KZIvs8FhSEE" width="420" height="315"></iframe></p>
<p>یہ episodeاٹھائیس جنوری سے تین فروری 2012ءکے دوران سامنے آنے والے موضوعات پر مبنی ہے۔</p>
<p>وڈیو پیکج پر کلک کیجیئے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sat, 4 Feb 2012 20:37:58 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138713009</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[عائشہ تنظیم]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-04T20:37:58Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[ امریکہ]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Pak+US+News+Wrap.300x3001.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>امریکی معیشت سنبھل رہی ہے: صدر اوباما</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/usa/US_Economy_03Feb12-138673904.html</link>
				<description>سرکاری اعدادو شمار کے مطابق جنوری کے دوران امریکی معیشت میں دو لاکھ 43 ہزار نئی ملازمتوں کا اضافہ ہوا اور بےروزگاری کی شرح، جو دسمبر میں 5ء8 فی صد تھی، کم ہوکر 3ء8 کی سطح پر آگئی</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکہ کے صدر براک اوباما نے گزشتہ ماہ ملک میں بےروزگاری کی شرح کم ہونے کی خبروں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کانگریس پر زور دیا ہے&nbsp; کہ وہ ان کے معاشی منصوبوں کی حمایت کرے۔</p>
<p>سرکاری اعدادو شمار کے مطابق جنوری کے دوران امریکی معیشت میں دو لاکھ 43 ہزار نئی ملازمتوں کا اضافہ ہوا اور بےروزگاری کی شرح، جو دسمبر میں 5ء8 فی صد تھی، کم ہوکر 3ء8 کی سطح پر آگئی۔</p>
<p>جمعہ کو واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ ٹیکسوں میں چھوٹ کے قانون میں توسیع کا بل "بغیر کسی ڈرامے اور تاخیر" کے منظور کرلیں۔</p>
<p>امریکی صدر کے معاشی مشیروں کی کونسل کے سربراہ ایلن کروگر نے بھی ملک میں روزگار کی بہتر ہوتی ہوئی صورتِ حال کو ایک "حوصلہ افزا" علامت قرار دیا ہے۔</p>
<p>لیکن جہاں ایک جانب&nbsp; اوباما انتظامیہ روزگار کی صورتِ حال میں بہتری کی خبروں کا محتاط انداز میں خیرمقدم کر رہی ہے وہاں ان کے ری پبلکن مخالفین کا کہنا ہے کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد ان سے زیادہ بہتر کارکردگی دکھائیں گے۔</p>
<p>آئندہ صدارتی انتخاب کے لیے ری پبلکن امیدوارکی نامزدگی حاصل کرنے کی دوڑ میں سب سے آگےمِٹ رومنی نے کہا ہے کہ صدر اوباما کی پالیسیاں امریکی معیشت کی صحیح معانی&nbsp; میں بحالی کا&nbsp; راہ میں حائل ہیں۔</p>
<p>لیکن جمعہ کو اپنے خطاب میں صدر اوباما&nbsp; نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ امریکیوں کو روزگار کے نئے مواقع فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 3 Feb 2012 21:46:51 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138673904</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-03T21:46:51Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[ امریکہ]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/US-Employment-Report-3001.png" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>امریکی اخبارات سے: نیٹو میں اختلافِ رائے</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/usa/US-Press-Roundup-03Feb12-138663824.html</link>
				<description>’واشنگٹن پوسٹ‘ نے ایک اداریے میں کہا ہے کہ اوباما انتظامیہ نے افغانستان کے بارے میں فوجی اور سفارتی تجاویز میں باہمی مطابقت پیدا کرنا مشکل بنا دیا ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>برسلز سے &rsquo;لاس اینجلس ٹائمز&lsquo; اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ کی اِس تجویز سے کہ وہ اگلے سال کے وسط تک افغانستان میں رواں فوجی کارروائی کی قیادت کرنا بند کردے گا، نیٹو میں پھوٹ پڑ گئی ہے، جب کہ بعض اتحادیوں نے اعتراض کیا ہے کہ یہ اُن کے لیے غیر متوقع بات تھی۔ اِسی کے ساتھ فرانس نے کہا ہے کہ نیٹو کو اگلے دو سال کے اندر اِس لڑائی میں شرکت کرنا مکمل طور پر بند کردینا چاہیئے۔</p>
<p>اخبار کہتا ہے کہ یورپی حکومتوں کا کہنا ہے کہ باوجود یکہ افغانستان کی جنگ عوام میں غیر مقبول تھی، اُنھوں نے اُس کی حمایت جاری رکھی اور اب جو یہ امریکی تجویز آئی ہے، وہ اخباری اطلاعات کے مطابق، اِس بات کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن افغانستان چھوڑ کر جانا چاہتا ہے۔ اِس کے بعد اُن کے لئے اپنی فوجیں افغانستان میں برقراررکھنا سیاسی طور پرزیادہ مشکل ہوگا۔</p>
<p>&rsquo;لاس انجلس ٹائمز&lsquo; کا کہنا ہے کہ امریکی تجویز سے نیٹو سکریٹری جنرل اینڈرز فاغ راس مسن بظاہر پریشان ہوگئے ہیں۔ چناچہ، جمعرات کو اُنھوں نے رپورٹروں کو بتایا کہ اگلے سال کے وسط تک لڑائی کی قیادت افغان فوج اورپولیس کےہاتھ میں آجائے گی جیسا کہ وزیرِ دفاع لیون پنیٹا نے کہا ہے۔ لیکن، اس کے ساتھ ساتھ اُنھوں نے بعض باتوں کی وضاحت بھی طلب کی ہے۔</p>
<p>بظاہر،&nbsp; اِس تشویش کی وجہ سے کہ امریکی اعلان کے بعد نیٹو کے دوسرے ارکان اگلے سال سے اپنی فوجیں واپس ہٹانا شروع کریں گے، راس مسن اپنے اس سابق&nbsp; پُر امید بیان سے پیچھے ہٹ گئے کہ افغان فوجیں 2013ء میں پورے ملک میں سکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھال سکیں گی، جبکہ نیٹو فوجوں کے ذمے اُن کی امداد کرنا ہوگا۔</p>
<p>اخبار کہتا ہے کہ مسٹر پنیٹا نے&nbsp; یہ بھی کہا ہے کہ امریکی فوجیں افغان یونٹوں کو تربیت اور مشورے دینا جاری رکھیں گی، خصوصی&nbsp; آپریشن بھی کریں گی اور ہنگامی حالات میں دوسری فوجوں کی امداد کے لیے بھی دستیاب ہونگی۔اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی فوجیں خود لڑائی میں ضرورت پڑنے پر شرکت کریں گی۔</p>
<p>&rsquo;واشنگٹن پوسٹ&lsquo; نے ایک اداریے میں کہا ہے کہ اوباما انتظامیہ نےافغانستان کے بارے میں فوجی اور سفارتی تجاویز میں باہمی مطابقت پیدا کرنا مشکل بنا دیا ہے۔ پچھلے مہینے محکمہٴ خارجہ نے لڑائی اور گفت و شنید کی ایک حکمتِ عملی سے پردہ اُٹھایا جِس کے تحت اعلیٰ طالبان کمانڈروں کو گوانتانامو سے قطر منتقل کرکے طالبان کو مذاکرات کرنے کی ترغیب دینا تھا، جسے وہ بار بار ٹھکرا چکے ہیں۔</p>
<p>اِن مذاکرات کا مقصدافغان حکومت کے ساتھ مذاکرات سے ایک امن معاہدہ طے کرنا تھا، جِس کی بنیاد موجودہ افغان آئین کو تسلیم کرنے اور خواتین کو تحفظ فراہم کرنے پر ہو۔</p>
<p>لیکن، اخبار کہتا ہے کہ اب وزیر دفاع لیون پنیٹا نے اس سے بالکل مختلف تجویز دی&nbsp; ہے ،یعنی اگلے سال کی دوسری شش ماہی کے خاتمے تک امریکی اور اتحادی فوجوں کی بیشتر کارروائی کو ختم کرنا۔ یعنی،&nbsp; پہلے جو توقع تھی اُس سے ایک&nbsp; سال قبل ہی۔</p>
<p>اِسی طرح، افغان مسلح افواج کا جو سائیز پہلے طے کیا گیا تھا اُس میں بھی بھاری تخفیف کی جائے گی اور اگرچہ مسٹر پنیٹا نے یہ نہیں کہا اس حکمتِ عملی کے معنی یہ بھی ہوتے ہیں کہ اگلے سال امریکی فوجوں کی تعداد میں بھی بھاری کمی کی جائے گی۔</p>
<p>اخبار کہتا ہے کہ امریکی صدارتی انتخابات کے اِس دور میں صدر اوباما کی اس حکمتِ عملی کو شاید ووٹر پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھیں لیکن طالبان&nbsp; اِسے کس نگاہ سے دیکھیں گے؟</p>
<p>امریکی فوجوں کو اتنی جلدی سے واپس بلانے کو ایک&nbsp; برُی&nbsp; غلطی قرار دیتے ہوئے، اخبار کہتا ہے کہ اِس طرح ایک نئی خانہ جنگی شروع ہو جانے کا سب سے زیادہ امکان موجود ہے، جِس میں طالبان کا پلا ّبھاری ہونے کا امکان ہے اور اِس کے وجہ سے پورے خطے میں امریکی مفادات خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔</p>
<p>آڈیو رپورٹ سنیئے:</p>
<p>
<object classid="clsid:02bf25d5-8c17-4b23-bc80-d3488abddc6b" width="215" height="39" codebase="http://www.apple.com/qtactivex/qtplugin.cab#version=6,0,2,0">
<param name="src" value="http://media.voanews.com/audio/Copy+of++0100+US+PRESS+ROUNDUP+FEB+03+12+++++++++-SDA.Mp3" /><embed type="video/quicktime" width="215" height="39" src="http://media.voanews.com/audio/Copy+of++0100+US+PRESS+ROUNDUP+FEB+03+12+++++++++-SDA.Mp3">&nbsp;</embed>
</object>
</p>
<p>&nbsp;</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 3 Feb 2012 20:03:35 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138663824</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[صلاح الدین احمد]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-03T20:03:35Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[ امریکہ]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP-Lasmussen-300.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>مذہبی عقیدہ اور اقدارمیری راہنمائی کرتے ہیں: صدر اوباما</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/usa/Obama_National_Prayer_Breakfast_02Feb12-138613469.html</link>
				<description>صدر نے مزید کہا کہ مالدار امریکیوں کی جانب سے زیادہ بلند ٹیکسوں کی ادائگی کی اُن کی اپیل خاص طور سے اُن تعلیمات پر مبنی ہے جو متعدد مذاہب میں مشترک ہیں</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ اُن کا &rsquo;مذہبی عقیدہ اور اقدار&lsquo; پالیسیاں تشکیل دینے میں اُن کی راہنمائی کرتی ہیں۔</p>
<p>صدر نے یہ بات National Prayer Breakfast کے سالانہ اجتماع میں شرکت کرتے ہوئے کہی، جس میں مختلف عقائد سے تعلق رکھنے والے ہزاروں لیڈروں نے شرکت کی۔&nbsp; صدر نے کہا کہ قومی پالیسیوں کی تشکیل میں عقیدہ اور اقتدار اہمیت رکھتے ہیں۔</p>
<p>صدر اوباما نے مزید کہا کہ مالدار امریکیوں کی جانب سے زیادہ بلند ٹیکسوں کی ادائگی کی اُن کی اپیل خاص طور سے اُن تعلیمات پر مبنی ہے جو متعدد مذاہب میں مشترک ہیں۔اُنھوں نے کہا کہ &nbsp;یہ بات حضرت عیسیٰ&nbsp; (علیہ السلام) کی اُس تعلیم سے بھی مطابقت &nbsp;میں ہے کہ زیادہ پانے والے سے زیادہ کی امید کی جاتی ہے، اور یہ اسلام کے اُس عقیدے کا بھی عکس ہے کہ وہ لوگ جنھیں خدا کی طرف سے نعمتیں دی گئی ہیں اُن کی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ اِن نعمتوں کو دوسروں کی مدد کے لیے استعمال کریں ،اور اسی طرح دوسروں کی خاطر میانہ روی اختیار کرنے کے یہودی عقیدے کا حوالہ دیا۔</p>
<p>کچھ تجزیہ کاروں نے صدر کے اس بیان کو ریپبلیکن صدارتی نامزدگی کے امیدوار مِٹ رامنی کی بلا واسطہ سرزنش سے تعبیر کیا ہے جنھوں نے بدھ کو سی این این کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ معیشت سے متعلق اُنھیں سب سے زیادہ تشویش امریکہ کی مڈل کلاس کے بارے میں ہے۔رامنی نے کہا تھا کہ غریبوں کی مدد کرنے کے لیے سرکاری پروگرام موجود ہیں۔</p>
<p>تفصیل کے آڈیو رپورٹ سنیئے:</p>
<p>
<object classid="clsid:02bf25d5-8c17-4b23-bc80-d3488abddc6b" width="233" height="44" codebase="http://www.apple.com/qtactivex/qtplugin.cab#version=6,0,2,0">
<param name="src" value="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+0100+WW-+1961269-Obama+-+Prayer+Breakfast-Klein-Shahnaz+Aziz.Mp3" /><embed type="video/quicktime" width="233" height="44" src="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+0100+WW-+1961269-Obama+-+Prayer+Breakfast-Klein-Shahnaz+Aziz.Mp3">&nbsp;</embed>
</object>
</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 3 Feb 2012 02:10:59 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138613469</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[شہناز عزیز]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-03T02:10:59Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[ امریکہ]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP_Obama_National_Prayer_Breakfast_02_02_2012_1111111111_300.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="326" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>حقانی نیٹ ورک اور افغان  مذاکرات </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/usa/Afghan_Talks_Haqqani_Network_02Feb12-138609219.html</link>
				<description>پاکستان کی طرف سے افغانستان کی ہر ممکن امداد اور حقّانی نیٹ ورک کو مذاکرات پر راغب کرنے کی دعوت خوش آئندہے: امریکی محکمہٴ خارجہ</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکہ نے پاکستان کی طرف سےافغانستان کی ہرممکن امداد اور حقّانی نیٹ ورک کو مذاکرات پر راغب کرنے کی دعوت کو &rsquo;&rsquo;خوش آئند&lsquo;&lsquo; قرار دیا ہے۔</p>
<p>امریکی محکمہٴ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نیولنڈ کےمطابق امریکہ پہلےسےپاکستان کو اس پر تیّار کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے اور وزیر خارجہ ہلری کلنٹن کے گزشتہ دورہِ پاکستان کے دوران بھی حقّانی نیٹ ورک ایک اہم موضوع رہا تھا ۔</p>
<p>افغانستان کے دورے سے واپسی پر جب پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربّانی کھر سےپوچھا گیا &nbsp;کہ کیا پاکستان حقّانی نیٹ ورک پر مذاکرات کے لیے زور ڈالے گا، &nbsp;تو اُنھوں نےکسی گروہ کا نام لیے بغیر کہا کہ &rsquo;&rsquo;ہم وہ سب کچھ کرنے کے لیے تیّار ہیں جو افغانستان ہم سے چاہتا ہے یا جس کی امیّد کرتا ہے۔&rdquo;</p>
<p>اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگرچہ ابھی افغانستان میں امن &rsquo;&rsquo;میلوں دور ہے&rdquo; لیکن یہ تمام عمل افغانوں کی سربراہی میں ہونا چاہیئے۔</p>
<p>امریکی محکمہٴ خارجہ نے پاکستانی وزیر خارجہ کےدورہٴ افغانستان کو &rsquo;&rsquo;بروقت&rdquo; قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا ہےکہ امریکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر تعلقات کا حامی ہے، اور چاہتا ہے کہ سیکورٹی اور سیاسی معاملات سے لے کر معاشی معاملات تک دونوں پڑوسی ممالک آپس میں تعاون کریں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 3 Feb 2012 00:38:07 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138609219</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[عائشہ تنظیم]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-03T00:38:07Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[ امریکہ]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Pakistan_Hina_Rabbani_Khar_Foreign_Minister_Interview_230.jpg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>امریکی اٹارنی جنرل پر ری پبلکنز کی کڑی تنقید</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/usa/Congress_Testimony_Mexico_02Feb12-138596654.html</link>
				<description>جمعرات کو کانگریس میں اس معاملے پر ہونے والی ایک سماعت کے دوران امریکی اٹارنی جنرل نے اعتراف کیا  کہ 'آپریشن فاسٹ اینڈ فیوریس' نامی منصوبے میں خامیاں تھیں</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکی حکام کی جانب سے اسلحے کی خریداروں کو اپنا اسلحہ میکسیکو لے جانے کی اجازت دینے کی متنازع سرگرمی پر امریکی اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر کو ری پبلکن&nbsp; جماعت کی کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔</p>
<p>جمعرات کو کانگریس میں اس معاملے پر ہونے والی ایک سماعت کے دوران امریکی اٹارنی جنرل نے اعتراف کیا&nbsp; کہ 'آپریشن فاسٹ اینڈ فیوریس' نامی منصوبے میں خامیاں تھیں۔</p>
<p>ایرک ہولڈر نے کہا کہ انہوں نے کبھی بھی اس منصوبے کی اجازت نہیں دی تھی اور اس کا علم ہونے پر انہوں نے فوری طور پر اسے بند کرنے کا حکم دے دیا تھا۔</p>
<p>امریکی ایوانِ نمائندگان کی 'کمیٹی برائے سرکاری امور اور اصلاحات' کے روبرو بیانِ حلفی دیتے ہوئے اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ قطعِ نظر اس بات کے کہ ایسا موجوددہ حکومت میں ہوا یا سابقہ دور میں ، اسلحے کےساتھ سرحد پار کرناقطعی ناقابلِ قبول عمل ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ حکام کے اس عمل کا مقصد ہتھیاروں کی&nbsp; امریکہ سے میکسیکو غیر قانونی اسمگلنگ پر قابو پانا تھا تاہم ان کے بقول اس کا طریقہ کار درست نہیں تھا۔</p>
<p>سماعت کے دوران ری پبلکن اراکین&nbsp; نے الزام عائد کیا کہ محکمہ انصاف نے انہیں معاملے سے متعلق تمام معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔</p>
<p>کمیٹی کے ری پبلکن سربراہ اور کیلی فورنیا سے رکنِ کانگریس ڈیرل ایسا نے اٹارنی جنرل پر اپنے عملے کی پشت پناہی کرنے، عوام کو دھوکہ دینے اور کمیٹی کی تحقیقات میں رکاوٹیں ڈالنے کے الزامات عائد کیے۔</p>
<p>چیئرمین نے خبردار کیا کہ وہ کانگریس سے کمیٹی کو درکار تمام معلومات فراہم کرنے کے لیے محکمہ انصاف کو مجبور کرنے کی استدعا کرسکتے ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ امریکی حکام متنازع طریقہ کار کے تحت سرحد پار بھیجے گئے ان سینکڑوں ہتھیار وں کا سراغ کھو بیٹھے ہیں جن کے بارے میں انہیں علم ہونا چاہیے تھا۔ امکان ظاہر کیا جاتا رہا ہے کہ یہ ہتھیار میکسیکو میں سرگرم منشیات کے منظم گروہوں&nbsp; کے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔</p>
<p>ایسے کئی ہتھیار مختلف جائے واردات سے برآمد ہوتے رہے ہیں&nbsp; جب کہ ان ہی میں سے دو بندوقیں 2010ء میں گولی مار کر قتل کیے گئے ایک امریکی سرحدی محافظ برائن ٹیری کی نعش کے نزدیک سے برآمد ہوئی تھیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 2 Feb 2012 21:42:55 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138596654</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-02T21:42:55Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[ امریکہ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/ap_us_eric_holder_guns_480_02feb2012.jpg" length="58364" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_us_eric_holder_guns_480_02feb2012.jpg" medium="image" isDefault="true" height="320" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_us_eric_holder_guns_230_02feb2012.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>امریکی  اخبارات سے: افغانستان سے جنگی مشن کا 2013ء تک خاتمہ</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/usa/US-Press-Roundup-02Feb12-138581729.html</link>
				<description>امریکہ اور افغانستان کے درمیان ایک معاہدہ زیر مزاکرات ہے جس کے مطابق انسداد دہشت گردی اور افغان فوجیوں کی تربیت کے لیئے امریکی فوجیں غیر معیّنہ مدّت تک وہاں موجود رہیں گی</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکی اخبارات میں وزیر دفاع&nbsp; لیو ن پینیٹا کا یہ اعلان تجزیوں کے ساتھ نمایاں طور پر شائع ہوا ہے&nbsp; کہ افغانستان میں امریکی فوجوں کی&nbsp; لڑائی میں&nbsp; شرکت اگلے سال&nbsp; کے اوائیل میں بند ہو جائے گی ۔</p>
<p>اِس وقت اُس ملک میں لگ بھگ 90 ہزار امریکی&nbsp; فوجی&nbsp; موجود ہیں، جِن میں سے&nbsp; تیس&nbsp; ہزار اسی سال موسم خزاں&nbsp; تک امریکہ واپس&nbsp;&nbsp; پہنچ جائیں گی۔&nbsp; نیو یارک ٹائمز کہتا ہے کہ ابھی یہ&nbsp; طے نہیں ہے ، کہ باقیماندہ 60 ہزار&nbsp; کو کتنی دیر میں واپس امریکہ بلایا جائے گا۔</p>
<p>اخبار کا خیال ہے کہ&nbsp; اگلے سال افغانستان کی لڑائی میں امریکی مشن کے خاتمے کا اعلان صدر اوباما&nbsp; کی دوبارہ منتخب&nbsp; ہونے کی مہم کے دوران ان کی تعریف کا باعث ہوگا۔</p>
<p>اِسی موضوع پر، واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے&nbsp; کہ افغان فوجی مشن میں تیزی کے ساتھ جو&nbsp; یہ تبدیلی کی گئی ہے وہ اس بات کی تازہ ترین علامت ہے کہ امریکہ اور اس کے اتّحادی ایک عشرے سے زیادہ عرصے سے جاری&nbsp; اس جنگ&nbsp; سے اپنی وابستگی&nbsp; ختم کر نا چاہتے&nbsp;&nbsp; ہیں&nbsp; ۔ اخبار کہتا ہے کہ&nbsp; فرانسیسی صدر&nbsp; نکولس سر کوزی&nbsp; نے بھی&nbsp; جو اس&nbsp; وقت دوباہ منتخب ہونے&nbsp; کے کڑے امتحان سے گُذر رہے ہیں</p>
<p>&nbsp;پیرس&nbsp; میں&nbsp; یہ اعلان کیا ہے کہ فرانس اسی سال اس لڑائی سے کنارہ کش&nbsp; ہونے کے لئے&nbsp; عجلت سے کام لے گا۔&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;</p>
<p>&nbsp;اخبار کہتا ہے کہ صدر اوباما کو بھی ابھی یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آخرش&nbsp; باقی کتنے امریکی فوجی&nbsp;&nbsp;&nbsp; افغانستان میں&nbsp; تعینات&nbsp; رہیں گے اور کتنے عرصے کے لئے ۔</p>
<p>امریکی انظامیہ&nbsp; افغان حکومت کے ساتھ ایک&nbsp; معاہدے کے لئے مذاکرات کر رہی ہے جس&nbsp; کا مقصد&nbsp; اس ملک میں انسداد دہشت گردی اور افغان فوجیوں&nbsp; کو تربیت فراہم&nbsp; کرنے&nbsp;&nbsp; والی&nbsp; فوجیں غیر معیّنہ&nbsp; مدّت کے لئے&nbsp; موجود&nbsp; رہیں گی۔ اخبار کہتا ہے کہ اس انتظامیہ نے اسی قسم&nbsp; کی فوج&nbsp; عراق میں غیر معیّنہ&nbsp; عرصےتک&nbsp; برقرار&nbsp;&nbsp; رکھنے&nbsp; کے لئے&nbsp; بھی&nbsp; مذاکرات کئے تھے، جو ناکام ہو گئے تھے۔۔</p>
<p>واشنگٹن پوسٹ کہتا ہے اگرچہ اب تک&nbsp; امریکہ کی&nbsp; رواں صدارتی انتخابی مہم کے دوران&nbsp; افغانستان&nbsp; نے کوئی نمایاں&nbsp; کردار ادا نہیں کیا&nbsp; ہے لیکن&nbsp; ری پبلکن صدارتی نامزدگی کی دوڑ میں اب تک&nbsp; سبقت لے جانے والے امّید وار&nbsp; مِٹ رامنی&nbsp; نے کہہ&nbsp; دیا ہے&nbsp;&nbsp; کہ وُہ طالبان کے خلاف اس وقت&nbsp; تک جنگ جاری رکھیں گے جب تک&nbsp; انہیں&nbsp; شکست نہیں دی جاتی۔</p>
<p>&rsquo;سِن سِنے ٹی&nbsp; انکوائیرر&lsquo; اخبار&nbsp; میں برسلز میں نیٹو وزارتی سطح کے مذاکرات پر&nbsp; ایسوسی ایٹد&nbsp; پریس کی ایک رپورٹ کے مطابق اس تنظیم کے&nbsp; سکرٹری جنرل&nbsp; نے کہا ہے کہ&nbsp; افغانستان اب بھی&nbsp; نیٹو کی اوّلیں ترجیح ہے،&nbsp; جہاں&nbsp;&nbsp; بقول اُس کے،&nbsp; جنگ میں&nbsp; پیش رفت&nbsp; جاری ہےاور یہ کہ سیکیورٹی&nbsp; کی ذمّہ داری کا کام پچھلے سال&nbsp; سے افغان قومی&nbsp; فوج کو سونپنے کا&nbsp;&nbsp; جو عمل&nbsp; شروع&nbsp; ہوا تھا، وہ اگلے سال&nbsp; کے وسط تک&nbsp; جاری رہے گا۔ اور یہ عمل 2014 کو ختم ہو&nbsp; جائے گا، اُس وقت تک افغان قومی فوج پورے ملک&nbsp; کی سیکیورٹی کی ذمہ داری&nbsp; اپنے ہاتھ میں لے چُکی ہوگی ۔&nbsp;</p>
<p>یہ وزارتی&nbsp; اجلاس&nbsp; نیٹو کی طرف&nbsp;&nbsp; سے&nbsp; اس خفیہ رپورٹ کے افشاء&nbsp; ہونے کے ایک روز بعد&nbsp; منعقد ہوا&nbsp; تھا جس میں&nbsp; کہا گیا تھا ، کہ&nbsp;&nbsp; دس سال گزر جانے کے بعد بھی باغیوں کا&nbsp; مورال بُہت اونچا ہے اور یہ&nbsp; کہ طالبان پُر اُمّید ہیں کہ&nbsp; وُہ اتّحادی فوجوں پر غالب آ جائیں گے ۔</p>
<p>یہ رپورٹ&nbsp;&nbsp; افغان فوج کے ارکان کی طرف سے نیٹو فوجوں اور ان کے مشیروں پر ان باربار کے حملوں کے پس منظر میں آئی ہےجِن کی وجہ سے فکر پیدا&nbsp; ہو گیا تھا کہ افغان قومی&nbsp; فوج اور&nbsp; پولیس میں طالبان کے ایجنٹ گّھس گئے ہیں ۔سنہ 2007 سات سے افغان سپاہیوں، پسلیس والوں اور افغان فوجی وردی میں ملبوس باغیوں نے&nbsp; نیٹو فوج کے ارکان پر کم ازکم 35&nbsp; حملے ہوئے&nbsp;&nbsp; ہیں۔ان میں سے تقریباً&nbsp; آدھے پچھلے سال ہوئے تھے۔&nbsp;</p>
<p>آڈیو رپورٹ سنیئے:</p>
<p>
<object classid="clsid:02bf25d5-8c17-4b23-bc80-d3488abddc6b" width="229" height="38" codebase="http://www.apple.com/qtactivex/qtplugin.cab#version=6,0,2,0">
<param name="src" value="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+Copy+of+1800++US+PRESS+ROUNUP++FEB+02+2012+++++-+SDA.Mp3" /><embed type="video/quicktime" width="229" height="38" src="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+Copy+of+1800++US+PRESS+ROUNUP++FEB+02+2012+++++-+SDA.Mp3">&nbsp;</embed>
</object>
</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>&nbsp;</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 2 Feb 2012 18:41:15 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138581729</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[صلاح الدین احمد]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-02T18:41:15Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[ امریکہ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/PNN_Panetta-Afghanistan_4801.jpg" length="43873" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/PNN_Panetta-Afghanistan_4801.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Panetta-Afghanistan-300X300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>صدر اوباما کی سالانہ دعائیہ ناشتے میں شرکت</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/usa/US-Breakfast-Prayer-02Feb12-138579619.html</link>
				<description>اس موقع پر اپنے خطاب میں امریکی صدر نے کہا کہ مذہبی عقائد سے قطعِ نظر خدا کا وجود ہر انسان کی زندگی کا اہم حصہ ہے اور تمام لوگ &quot;اپنے خالق&quot; کے پیغام سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکی صدر براک اوباما اور ان کی اہلیہ مشیل اوباما نے جمعرات کو دارالحکومت واشنگٹن میں اہم رہنماؤں کے ہمراہ امریکہ کے سالانہ قومی دعائیہ ناشتے میں شرکت کی۔</p>
<p>اس موقع پر اپنے خطاب&nbsp; میں امریکی صدر نے کہا&nbsp; کہ مذہبی عقائد سے قطعِ نظر خدا کا وجود ہر انسان کی زندگی کا اہم حصہ ہے اور تمام لوگ "اپنے خالق" کے پیغام سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔</p>
<p>امریکی صدر کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ دعاؤں کے وقت انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ عقیدہ اور اقدار امریکہ کو درپیش بعض فوری نوعیت کے مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگر لوگوں نے&nbsp; اپنی اقدار کو ترک کردیا تو امریکی قوم اس "اخلاقی تعلق" سے محروم ہوجائے گی جس نے صدیوں سے امریکہ کو متحد کر رکھا ہے۔</p>
<p>ناشتے پر صدر اوباما کے ہمراہ نائب صدر جو بائیڈن سمیت کئی اہم اراکینِ کانگریس اور دیگر اکابرین شریک تھے۔</p>
<p>واضح رہے کہ 'نیشنل پریئر بریک فاسٹ' نامی اس سالانہ تقریب کی میزبانی امریکی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کے وہ اراکین کرتے ہیں جو ہر ہفتے 'کیپٹل ہل' میں دعائیہ تقریب میں شرکت کے لیے جمع ہوتے ہیں۔</p>
<p>1953 ءسے جاری اس سالانہ تقریب میں تواتر سے امریکی صدور شرکت کرتے آرہے ہیں۔&nbsp; ماضی میں ان تقاریب میں شریک ہونے والے مہمانوں کا تعلق 130 مختلف ممالک سے رہا ہے اور عموماً تقریب کے شرکاء میں غیر ملکی مندوبین اور اہم شخصیات&nbsp; شامل ہوتی ہیں۔</p>
<p>مدر ٹریسا، سابق برطانوی وزیرِاعظم ٹونی بلیئر اور موسیقار بونو بھی ماضی کی تقریبات میں شرکت کرچکے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 2 Feb 2012 18:10:57 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138579619</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-02T18:10:57Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[ امریکہ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/US_president_Barack_Obama_Michigan_480x300_AP.jpg" length="110860" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/US_president_Barack_Obama_Michigan_480x300_AP.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_us_obama_230_02Feb12.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>امریکہ میں سردیاں مزید چھ ہفتے چلیں گی: گراؤنڈ ہاگ کی پیش گوئی</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/usa/US-Ground-Hog-Day-02Feb12-138578239.html</link>
				<description>امریکہ کی ریاست پینسلوانیا میں گراؤنڈ ہاگ کی پیش گوئی کے مطابق اس سال سردی کا موسم کم ازکم مزید چھ ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکہ میں سردیوں کا موسم کم ازکم مزید چھ ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے۔&nbsp; یہ پیش گوئی ہے مشرقی ریاست پینسلوانیا کے ایک چھوٹے قصبے پوہنگ سونی&nbsp; کے نیولے اور چوہے سے ملتی جلتی شکل کے ایک جانور کی، جسے یہاں گراؤنڈ ہاک کہا جاتا ہے۔</p>
<p>اس قصبے میں طویل عرصے سے یہ پتا چلانے کے لیے کہ سردیاں اور کتنے عرصے تک چلیں گی، گراؤنڈ ہاک سے مدد لی جاتی ہے۔</p>
<p>جمعرات کی صبح ، گراؤنڈ ہاک کو ، درخت کی کھوہ میں بنے&nbsp; اس کے آرام دہ گھر سے باہر آنے کی دعوت دی گئی۔ اس نے باہر نکل کر اپنے سائے پر نظر ڈالی اور واپس اپنی کھوہ میں چلا گیا۔ جو اس جانب اشارہ تھا کہ سردیاں مزید چھ ہفتے تک جاری رہیں گی۔</p>
<p>ہر سال فروری کے شروع میں گراؤنڈ ہاک سے سردیوں کی رخصتی کی پیش گوئی حاصل کی جاتی ہے۔ اس موقع پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد گراؤنڈ ہاک کے کھوہ کے سامنے اکٹھی ہوجاتی ہے۔ اور اس منظر کی براست کوریج کے لیے میڈیا کی کیمرہ ٹیمیں بھی وہاں موجود ہوتی ہیں۔ اور یہ دن &rsquo;گراؤنڈ ہاک ڈے ابزرونس &lsquo; کے نام سے جانا جاتا ہے۔</p>
<p>روایت یہ ہے کہ فل نامی گراؤنڈ ہاک اپنی آرام دہ کھوہ سے باہر نکل کر اردگرد دیکھتا ہے۔ اگر سورج نکلا ہوا ہو اوراسے اپناسایہ نظر آجائے تو وہ اس سے ڈر کر دوبارہ اپنی کھوہ میں چلا جاتا ہے۔ جس سے یہ مراد لی جاتی ہے کہ سردیاں مزید چھ ہفتے چلیں گی۔ لیکن اگر &rsquo;فل&lsquo; واپس نہ جائے تو اسے موسم بہار کی آمد کا نقارہ سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>اگر&nbsp; موجودہ سال کے لیے گراؤنڈ ہاک &rsquo;فل&lsquo; کی پیش گوئی درست ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ میں ابھی&nbsp; سردیوں کا تقریباً ڈیڑھ مہینہ باقی ہے۔&nbsp; دلچسپ بات یہ ہے کہ&nbsp; اس سال دارالحکومت واشنگٹن سمیت &nbsp;اکثر علاقوں میں ابھی تک سردی پڑی نہیں ہی۔ اور واشنگٹن کے مضافات میں ان دنوں کا درجہ حرارت تقریباً وہی ہے جو موسم بہار میں ہوتا ہے۔</p>
<p>گذشتہ سال جب گراؤنڈ ہاک نے&nbsp; سردیوں کی پیش گوئی کی تھی تو اس روز نصف سے زیادہ امریکہ برف سے ڈھکا ہواتھا۔ لیکن اس بار ملک کے صرف پانچویں حصے میں برف تھی۔</p>
<p>امریکہ اور کینیڈا کے کئی شہروں اور قصبوں میں ہر سال دو فروری کو گراؤنڈ ہاک ڈے منایا جاتا ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 2 Feb 2012 17:53:43 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138578239</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-02T17:53:43Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[ امریکہ]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP_groundhog_230_2feb12.JPG" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>'وائس آف امریکہ' کا اپنی نشریات کو فروغ دینے کا اعلان</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/usa/VOA-70th-Birthday-Ensor_Remarks_01Feb12-138503489.html</link>
				<description>یکم فروری 1942ء کو امریکی صحافی ولیم ہارلان نے جرمن زبان میں نیو یارک شہر سے 'وی او اے' کی 'شارٹ ویو' ریڈیو کی پہلی نشریات کی میزبانی کی تھی</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>'وائس آف امریکہ' کے ڈائریکٹرڈیوڈ اینسر نے کہا ہے کہ بین الاقوامی نشریاتی ادارہ"ایران جیسے محدود معاشروں کے افراد تک اطلاعات کی رسائی" کو ممکن بنانے کے لیے جارحانہ انداز میں نئے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔</p>
<p>
<object width="480" height="350" data="http://media.voanews.com/designvideo/slideshowXML.swf?xmlfile=http://www.voanews.com/templates/SlideshowPro.xml?contentid=138488849&amp;xmlfiletype=Default" type="application/x-shockwave-flash">
<param name="data" value="http://media.voanews.com/designvideo/slideshowXML.swf?xmlfile=http://www.voanews.com/templates/SlideshowPro.xml?contentid=138488849&amp;xmlfiletype=Default" />
<param name="name" value="slideshowXML" />
<param name="bgcolor" value="#ffffff" />
<param name="align" value="middle" />
<param name="src" value="http://media.voanews.com/designvideo/slideshowXML.swf?xmlfile=http://www.voanews.com/templates/SlideshowPro.xml?contentid=138488849&amp;xmlfiletype=Default" />
<param name="allowfullscreen" value="true" />
<param name="quality" value="high" />
</object>
</p>
<p>بدھ کو 'وی او اے' کی 70 ویں سال گرہ کے موقع پر ادارے کے واشنگٹن میں واقع صدر دفتر میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر اینسر نے 'وائس آف امریکہ' کے کئی ایسے نئے منصوبوں کا بھی تذکرہ کیا جو ان معاشروں تک اطلاعات پہنچا رہے ہیں جہاں کے عوام کی خبروں تک رسائی محدود ہے۔</p>
<p>'وی او اے' کے ڈائریکٹر نے اپنے خطاب میں برما کے لیے رواں ماہ سے شروع ہونے والے ایک ٹی وی نیوز شو، چین میں انتہائی مقبول&nbsp; ایک ویڈیو بلاگ (جسے 70 لاکھ سے زائد بار دیکھا جاچکا ہے)، ایران کے لیے ٹی وی نشریات میں اضافہ اور افریقی سامعین کے لیے ریڈیو پر صحتِ عامہ سے متعلق پروگرامات کے آغاز کا خاص طور پر تذکرہ کیا۔</p>
<p>مسٹر اینسر نے اپنے خطاب میں روسی زبان میں ایک ٹی وی پروگرام کے آغاز کے منصوبے کا بھی ذکر کیا جس میں سوشل میڈیا کے ذرائع کے ذریعے شہری صحافت کو فروغ دے کر ناظرین کی پروگرام میں بھرپور شرکت کو یقینی بنایا جائےگا۔</p>
<p>'وی او اے' کے سربراہ کا کہنا تھا کہ یکم فروری 1942ء کو جرمنی کے لیے ریڈیو پروگرام سے اپنی نشریات کا آغاز کرنے والا ادارہ&nbsp; دورِ حاضر میں بھی اتنا ہی اہم اور ضروری ہے۔</p>
<p>جنگِ عظیم دوم کے ابتدائی ایام میں امریکی حکومت کی جانب سے شروع کی گئی 'وائس آف امریکہ' کی ریڈیو سروس 70 سال بعد اب ایک بین الاقوامی ملٹی میڈیا نشریاتی ادارے کی صورت اختیار کرچکی ہے&nbsp; جس کی نشریات ہر ہفتے دنیا بھر کے 14 کروڑ سے زائد افراد تک پہنچتی ہیں۔</p>
<p>اس وقت 'وائس آف امریکہ' دنیا کی 43 مختلف زبانوں&nbsp; میں ریڈیو، ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ کے ذریعے مختلف معاشروں کے افراد&nbsp; تک&nbsp; اپنی متوازن اور جامع نشریات پہنچا رہا ہے۔</p>
<p>ستر برس قبل امریکی بندرگاہ 'پرل ہاربر' پر جاپانی فضائیہ کے حملے اور جواباً امریکہ کی جنگِ عظیم دوم میں شرکت کے دو ماہ بعد، یکم فروری 1942ء کو&nbsp; 'وائس آف امریکہ' نے اپنی نشریات&nbsp; کا آغاز نیو یارک شہر سے جرمن زبان میں نشر کیے گئے 'شارٹ ویو' ریڈیو کے ایک پروگرام سے کیا تھا جس کے میزبان امریکی صحافی ولیم ہارلان تھے۔</p>
<p>ہارلان کے ابتدائی الفاظ تھے، "ہم امریکہ سے بول رہے ہیں۔ روزانہ اس وقت ہم آپ کو امریکہ اور جنگ کے متعلق&nbsp; خبریں دیا کریں گے۔ ہماری خبریں اچھی یا بری ہوسکتی ہیں، لیکن ہم آپ کو سچ بتائیں گے"۔</p>
<p>'وائس آف امریکہ' کے ڈائریکٹر ڈیوڈ اینسر کا کہنا ہے کہ یہ الفاظ آج 70 سال بعد بھی اصل مقصد کی جانب ادارے کی رہنمائی کر رہے ہیں۔</p>
<p>اینسر کا کہنا تھا کہ 'وائس آف امریکہ' ریڈیو سروس کی نشریات صومالیہ، پاکستان کے بعض علاقوں اور ہیٹی سمیت دینا کے کئی ممالک میں انتہائی مقبول ہے۔ انہوں&nbsp; نے بتایا کہ ایجنسی ایران سمیت ان ممالک کے لیے نئے ٹی وی اور انٹرنیٹ پروگرامات کے آغاز کا ارادہ رکھتی ہے جہاں سرکاری پابندیوں کے باعث اطلاعات تک آزادانہ رسائی&nbsp; ممکن نہیں۔</p>
<p>دنیا بھر کے ناظرین، سامعین اور قارئین تک 'وائس آف امریکہ' کی نشریات سیٹلائٹ، کیبل ٹی وی، موبائل، شارٹ ویو، ایف ایم، میڈیم ویو، انٹرنیٹ اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے لگ بھگ 1200 معاون اسٹیشنز کے ذریعے پہنچائی جاتی ہے۔</p>
<p>واشنگٹن میں واقع ادارے کے صدر دفترمیں 1100 سے زائد افراد کام کرتے ہیں جب کہ&nbsp; ادارے سے منسلک اور اس کے لیے کام کرنے والے سینکڑوں صحافی دنیا بھر میں موجود ہیں اور ہر لمحہ اطلاعات کی بروقت رسائی کو ممکن بنائے ہوئے ہیں۔</p>
<p>اپنے اس کام میں ان افراد کو کٹھن مشکلات بھی درپیش ہیں اور گزشتہ ماہ پاکستان کے قبائلی علاقے میں 'وائس آف امریکہ' کے لیے کام کرنے والے ایک ایسے ہی رپورٹر کو طالبان کے ایک حملے میں اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 1 Feb 2012 19:43:17 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138503489</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-01T19:43:17Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[ امریکہ]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/VOA-Logo-300X300.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>امریکی  اخبارات سے: ڈرون حملوں کا اعتراف</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/usa/US-Press-Roundup-01Feb12-138501459.html</link>
				<description>اِن حملوں  کے اعلانیہ  اعتراف سے اب انتظامیہ پر یہ دباؤ پڑ رہا ہے کہ وہ اِس پالیسی کا  دفاع بھی پبلک میں کرے: لاس انجلس ٹائمز</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>&rsquo; لاس انجلس ٹائمز&lsquo; نےایک ادرائے میں صدراوباما کےگُوگل اور یُوٹیوب&nbsp; کی وساطت سےدئے گئے&nbsp; اُس انٹرویو پر تبصرہ کیا ہے جس میں اُنہوں نے پاکستان میں القاعدہ اوردوسرے عسکریت پسندوں پر ڈرون حملوں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔</p>
<p>اخبار کہتا ہے کہ ان حملوں کے اعلانیہ اعتراف سے اب انتظامیہ پریہ دباؤ پڑ رہا ہے کہ وہ اس پالیسی کا دفاع&nbsp; بھی پبلک میں کرے۔</p>
<p>انتظامیہ کے ایک عہدہ دار نے سی این این کو بتایا&nbsp; کہ صدر کی زبان سے یہ باتیں غلطی&nbsp; سے نہیں نکلی تھیں، جب کہ وہائٹ ہاؤس کے ترجمان نے ڈرون پروگرام پر کُچھ کہنے سے احتراز&nbsp; کیا ہے اور مبیّنہ طور پر ان خفیہ پروگراموں کے بارے میں تبصرہ کرنے سے احتراز&nbsp; کیا ہے۔</p>
<p>لیکن، اخبار کہتا ہے کہ ڈرون طیاروں&nbsp; اور اُن کے عمومی اہداف، دونوں حقائق&nbsp; کُچھ عرصے سے ایک طرح کے کُھلے راز تھے۔اور مسٹر اوباما کے اعتراف سے قبل انتظامیہ مستقل مزاجی&nbsp; کے ساتھ ان کی تصدیق کرنے سے احتراز کرتی آئی ہےجس کی بیشتر وجہ حکومت پاکستان کا لحاظ&nbsp; تھا، جسے شکایت رہی ہے کہ ڈرون طیاروں کے حملے اُس کی حاکمیت اعلیٰ&nbsp; کی خلاف ورزی&nbsp; کے مترادف ہیں۔ اس کے باوجود ان ڈرون طیاروں کےحملے زبان زدِ خلائق عام تھے۔ اور اس بارے میں اتنظامیہ کی خموشی&nbsp; پاکستان میں بھی اتنی ہی ناقابل ِفہم تھی جتنی کہ امریکہ میں۔</p>
<p>اخبار کہتا ہے کہ مسٹر اوباما اب اس پر جو کُچھ کہہ چکے ہیں اس کے پیش نظرانتظامیہ کے لئے کانگریس&nbsp; کے ساتھ ڈرون حملوں کی افادیت اور اس کے اخلاقی جواز پرکھلم&nbsp; کھلا بات کرنے سے احتراز کرنا مشکل ہو جائے گا۔ یہاں زور کھلم کھلا پر ہے۔ظاہر ہے کہ انتظامیہ ان حملوں، ان کے اہداف اور وقت&nbsp; کا انکشا ف نہیں کرے گی۔ لیکن پالیسی ، بذات خود وضاحت&nbsp; کی متقاضی ہے۔ اخبار&nbsp; کا موقّف ہے کہ اب جب کہ مسٹر اوبامہ&nbsp; نے ڈرون&nbsp; حکمت&nbsp; عملی&nbsp; کی کھل کر وضاحت کر دی ہے۔&nbsp;</p>
<p>اُنہیں قوم&nbsp; کو&nbsp; اس حکمت عملی سے مرتّبہ&nbsp; نتائج&nbsp; کے سب سے زیادہ&nbsp;&nbsp; تشویش&nbsp; ناک پہلو&nbsp; کے بارے میں بتانا پڑے گا ۔ یعنی آئینی&nbsp; لوازمات&nbsp; کو نظر انداز کر&nbsp; کے&nbsp; امریکی&nbsp; شہریوں کی ہلاکت۔ پچھلے سال&nbsp;&nbsp; یمن&nbsp; پر ایک ڈرون&nbsp; حملے میں نیو میکسکو&nbsp; کے شہری&nbsp; انور اولکی کو ہلاک کیا گیا تھا جو&nbsp; جزیرہ نما عرب&nbsp;&nbsp;&nbsp; میں&nbsp; القاعدہ&nbsp; کی اہم&nbsp; شخصیت&nbsp; تھے اور ان کی ہلاکت&nbsp; کے جواز کے بارے میں امریکی انتظامیہ نے&nbsp; کوئی معتبر&nbsp; ثبوت پیش نہیں کیا ہے۔</p>
<p>شُنید ہے کہ اگلے چند ہفتوں میں اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر اس کا قانونی جواز پیش کریں گے۔ بتایا گیا ہے کہ اولکی کو زندہ گرفتار کرنا ناممکن تھا۔ الغرض، اخبار نے زور دے کر کہا ہے کہ اگر مسٹر اوباما کُھل کر بات کر بات کرنے کے لئے تیار ہیں تو ان کی انتظامیہ کےباقی ارکان کو بھی ایسا ہی کرنا چاہئیے۔</p>
<p>سرد جنگ کی آخری لڑائی کےعنوان سےمشرق وسطیٰ&nbsp; کے امور کے معروف تجزیہ کار&nbsp; فواد نجمی &rsquo;وال سٹریٹ جرنل&lsquo; میں لکھتےہیں کہ ایک وقت تھا جب افغانستان کو سرد جنگ کی آخری لڑائی تصوّر کیا جاتا تھا ۔ لیکن، اب یہ امتیاز شام میں جاری عوامی جدوجہد کو جانا چاہئیے۔ شام&nbsp; میں سووئیٹ طرز کی&nbsp; موجودہ ظالمانہ راج کی داغ بیل سابق ڈکٹیٹر حافظ اسد نے رکھی تھی، جنہوں نے 40&nbsp; سال&nbsp; قبل&nbsp; ملک پر قبضہ کر کے اپنی فوج اور خُفیہ اداروں کو&nbsp; روسی طرز پر استوار کیا تھا۔</p>
<p>&nbsp;اُس&nbsp; کے بعد سے &nbsp;حالات&nbsp; میں زیادہ ردّوبدل نہیں ہوا&nbsp; ہے اور اُن کا بیٹا بشارالاسد انہیں کے نقشِ قدم پر چل رہا ہے۔</p>
<p>سویٹ سلطنت کا تو خاتمہ ہو گیا ہے&nbsp; لیکن&nbsp; بحیرہء روم کے&nbsp; ساحل پر شام&nbsp; کی&nbsp; اس استبدادی حکومت&nbsp; کی موجودگی روس کو ایک عظیم&nbsp; طاقت&nbsp; ہونے کے واہمے میں مبتلاء رکھے&nbsp; ہوئے ہے۔ روس&nbsp; آرام سے بیٹھا رہا۔ جب تیونس کے زین العابدین اور مصر کے حسنی مبارک&nbsp; جیسے&nbsp; جابروں کو زوال آیا۔</p>
<p>لبیا کے معاملے میں وہ سلامتی کونسل میں ایک طرف ہو گیا۔، اور مغربی جمہوریتوں کی مدد سےمعمر قذافی کا بھی تختہ ہو گیا۔</p>
<p>اب شام&nbsp; نے روس کو اپنی اس لغزش کا مداوا کرنے&nbsp; کا موقع فراہم کیا ہے۔اور اس&nbsp; نے روس کو&nbsp; بحیرہء روم میں ایک بوسیدہ&nbsp; سی بندرگا ہ&nbsp; دے رکھی ہے جہاں&nbsp; واحد روسی طیارہ بردار جہاز پچھلے ماہ لنگر انداز ہوا تھا۔</p>
<p>&nbsp;فواد عجمی&nbsp; کو شکایت ہے کہ ترکی سمیت نیٹو ملکوں نے ابھی تک شا می ڈکٹیٹر شپ&nbsp; کو&nbsp; ختم کرنے&nbsp; میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی ہے۔اسی طرح، اقوام متحدہ&nbsp; کی طرف سے کسی حل کی پیشکش نہیں ہوئی ہے۔</p>
<p>مضمون نگار کو یہ بھی شکایئت ہے کہ روس&nbsp; واحد روکاوٹ نہیں ہے&nbsp; بلکہ ہندوستان ، برازیل&nbsp; اور جنوبی افریقہ نے بھی&nbsp; دمشق&nbsp; کی جابر حکومت کا ساتھ دیا ہے۔حکومت اور اس کے مخالفین، دونوں&nbsp; اس&nbsp; مشکل جد جہد میں&nbsp; بھاری قیمت ادا کر چُکے ہیں اور دونوں کو یہ&nbsp; امید ہے&nbsp; کہ وقت ان&nbsp; کا ساتھ دے رہا ہے۔</p>
<p>آڈیو رپورٹ سنیئے:</p>
<p>
<object classid="clsid:02bf25d5-8c17-4b23-bc80-d3488abddc6b" width="217" height="40" codebase="http://www.apple.com/qtactivex/qtplugin.cab#version=6,0,2,0">
<param name="src" value="http://media.voanews.com/audio/Copy+of++++1800+++Us+Press+Roundup+0201-12+++++++++++++++-+sda.Mp3" /><embed type="video/quicktime" width="217" height="40" src="http://media.voanews.com/audio/Copy+of++++1800+++Us+Press+Roundup+0201-12+++++++++++++++-+sda.Mp3">&nbsp;</embed>
</object>
</p>
<p>&nbsp;</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Wed, 1 Feb 2012 19:20:57 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138501459</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[صلاح الدین احمد]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-01T19:20:57Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[ امریکہ]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP+Seychelles+US+Drone+13Dec11+230.jpg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>امریکی معیشت پہ صارفین کا اعتماد کم</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/usa/US-Economy-31Jan12-138416114.html</link>
				<description>معیشت کے ماہرین صارفین کے اعتماد کی بنیاد پر ملکی اقتصادیات کے مستقبل  کا تعین کرتے ہیں کیوں کہ امریکی معیشت کی 70 فی صد سرگرمیوں کا انحصار صارفین کے اخراجات پر ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>ایک&nbsp; نجی تحقیقاتی ادارے کا کہنا ہے کہ جنوری کے دوران امریکی صارفین کا ملکی معیشت پر اعتماد مجروح ہوا ہے۔</p>
<p>'دی کانفرنس بورڈ' نامی ادارے کا کہنا ہے کہ اس کی جانب سے صارفین کے جذبات&nbsp; کی بابت کرائے گئے ماہانہ جائزے سے ظاہر ہوتا ہے&nbsp; کہ لوگوں کی اکثریت&nbsp; کا یہ خیال ہے کہ امریکہ میں نوکریوں کا حصول مشکل ہوتا جارہا ہے۔</p>
<p>تنظیم کی جانب سے مرتب کردہ 100 کے اشاریے پہ صارفین کے اعتماد کی شرح، جو گزشتہ ماہ دسمبر میں 65 کی سطح پر تھی، نئے سال کے پہلے مہینے میں گر کر 61 پر آگئی ہے۔</p>
<p>انڈیکس پہ 90 کی سطح کو ایک صحت مند معیشت کا معیار مقرر کیا گیا ہے۔</p>
<p>ماہرین معیشت صارفین کے اعتماد کی بنیاد پر ملکی اقتصادیات کے مستقبل&nbsp; کا تعین کرتے ہیں کیوں کہ امریکی معیشت کی 70 فی صد سرگرمیوں کا انحصار صارفین کے اخراجات ہے۔</p>
<p>اگرچہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت&nbsp; 2007ء سے 2009ء کے دوران کی کساد بازاری کے اثرات سے آہستہ آہستہ آزاد ہورہی ہے تاہم اب بھی ایک کروڑ 30 لاکھ امریکی باشندے بےروزگاری کا شکار ہیں جو امریکہ کی کل قابلِ کارقوت کا ساڑھے آٹھ فی صد بنتے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 31 Jan 2012 18:56:07 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138416114</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-31T18:56:07Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[ امریکہ]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/US-Consumers-300X300.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
												
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>صدر اوباما کی جانب سے پاکستان میں ڈرون حملوں کی تصدیق</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/us-obama-drone-31jan12-138374269.html</link>
				<description>پاکستان نے امریکی صدر کی جانب سے ڈرون حملوں کی غیر متوقع تصدیق کو بظاہرنظرانداز کرتے ہوئے ایک بار پھر انھیں’’ناقابل قبول‘‘ قرار دیا ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکی صدرباراک اوباما نے پاکستان میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کے خلاف ڈرون حملے کرنے کی پہلی بار باضابطہ طور پرتصدیق کرتے ہوئےان کا بھرپورانداز میں دفاع کیا ہے۔</p>
<p>پیر کی شب ایک آن لائن ٹاؤن ہال مباحثے میں حصے لیتے ہوئے مسٹر اوباما نے کہا کہ ان کارروائیوں کا ہدف القاعدہ اوراس کے حامی ہیں، اور زیادہ تریہ حملے وفاق کے زیرانتظام پاکستان کے قبائلی علاقوں یعنی فاٹا میں کیے گئے ہیں۔&nbsp;</p>
<p>افغان سرحد سے ملحق قبائلی علاقوں خصوصاً شمالی اورجنوبی وزیرستان میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کے خلاف بغیر ہوا باز کے پرواز کرنے والے جاسوس طیارے یعنی ڈرون سے میزائل حملوں کا سلسلہ 2004 ء میں شروع کیا گیا تھا۔</p>
<p>لیکن امریکہ نے براہ راست کبھی بھی ان کا اعتراف نہیں کیا۔ البتہ اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی حکام ان کارروائیوں اور ان میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی تفصیلات ذرائع ابلاغ کو باقاعدگی سے جاری کرتے آئے ہیں۔</p>
<p>صدر اوباما نے کہا کہ امریکہ &rsquo;&rsquo;خواہ مخواہ&lsquo;&lsquo; ان کی اجازت نہیں دیتا اور یہ آپریشنز &rsquo;&rsquo;بالکل ٹھیک اور درست حملوں&lsquo;&lsquo; کے لیے استعمال کیے جارہے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ان کا ہدف وہ &rsquo;&rsquo;سرگرم دہشت گرد&lsquo;&lsquo; ہیں جن کے &rsquo;&rsquo;ٹھکانوں تک رسائی بہت مشکل ہے&lsquo;&lsquo;۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>پاکستان نے امریکی صدر کی جانب سے ڈرون حملوں کی غیر متوقع تصدیق کو بظاہرنظرانداز کرتے ہوئے ایک بار پھر انھیں&rsquo;&rsquo;ناقابل قبول&lsquo;&lsquo; قرار دیا ہے۔</p>
<p>دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے وائس آف امریکہ کو بھیجے گئے ایک مختصر(ایس ایم ایس) بیان میں کہا ہے کہ &rsquo;&rsquo;ہمارا موقف واضح اور اصولوں پر مبنی ہے۔ ڈرون حملےغیر قانونی، غیر سود مند اورناقابل قبول ہیں۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>پاکستان ظاہراً امریکی ڈرون حملوں کو ملک کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دے کران کی مذمت کرتا آیا ہے۔ لیکن دفاعی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ میزائل حملے زمین پر موجود پاکستانی خفیہ ایجنٹوں کی مدد سے کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>وکی لیکس کے توسط سے 2010 ء کے اواخر میں افشا کی گئی خفیہ امریکی سفارتی دستاویزات نے بھی اس امر کی نشاندہی کی تھی کہ کھلے عام ڈرون حملوں کی مذمت کرنے والے پاکستان کے سیاسی وفوجی رہنماؤں نے امریکی حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں غیر سرکاری طور پر ان کارروائیوں کی حمایت کی تھی۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-LEFT--&gt;</span></p>
<p>لیکن گزشتہ سال مختلف واقعات امریکہ اور پاکستان کے سفارتی تعلقات میں غیر معمولی کشیدگی کا باعث بنے ہیں۔</p>
<p>ان میں نومبر میں مہمند ایجنسی کی سلالہ چیک پوسٹوں پر امریکی فضائی حملے میں 24 پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت دوطرفہ تعلقات کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوئی۔ پاکستان نے اس حملے کے ردعمل میں افغانستان میں غیر ملکی افواج&nbsp; کے لیے&nbsp; رسد لے جانے والے قافلوں پر پابندی عائد کررکھی ہے جبکہ امریکہ اور نیٹو کے ساتھ تعاون کی شرائط پر بھی نظر ثانی کی جارہی ہے۔</p>
<p>&nbsp;مزید برآں بلوچستان میں شمسی ائربیس کو بھی امریکہ سے خالی کروالیا گیا ہے جہاں سے پرواز کرنے والے ڈرون طیارے مبینہ طور پر قبائلی علاقوں میں میزائل حملے کررہے تھے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Tue, 31 Jan 2012 04:10:54 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138374269</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-31T04:10:54Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/white_house_address_obmam_28jan12_480.jpg" length="122884" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
																																												
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/white_house_address_obmam_28jan12_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="295" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/white_house_address_obmam_28jan12_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Abdul_Basit_Foreign_Office_Spokesman.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																												<media:content url="http://media.voanews.com/images/19-afp_us_drone_reaper_file_2sep09_eng_210.jpg" medium="image" isDefault="false" height="210" width="210" />
																																																										</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>امریکی اخبارات سے : فوجی انخلاء کے بعد بغداد کا امریکی سفارت خانہ</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/usa/US-Press-Roundup-30Jan12-138337334.html</link>
				<description>عراق سے امریکی فوجوں کے انخلاء کے بعد وہاں امریکی  سفارت خانے اور قونصل خانوں کو تحفظ  فراہم  کرنے کے لیئے ڈرون طیاروں کا  ایک چھوٹا سا بیڑہ تعینات کیا گیا ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>نیو یارک ٹائمز کی اطلاع کے مطابق عراق سے امریکی فوجوں کے انخلاء کے ایک ماہ بعد امریکی وزارت خارجہ نے&nbsp;اس ملک میں دیکھ بھال کرنے والے ڈرون طیاروں کا &nbsp;ایک چھوٹا سا بیڑہ تعینات کر رکھا ہے جو امریکی&nbsp; سفارت خانے اور قونصل خانوں اورامریکی عہدہ داروں کو تحفظ&nbsp; فراہم&nbsp; کرنے میں&nbsp; امداد فراہم کرتا ہے۔اخبار کا کہنا ہے کہ بعض&nbsp; سرکردہ عراقی عہدہ داروں&nbsp; نے اس پروگرام&nbsp; پر غم و غصّے&nbsp; کا اظہار کرتے ہوئے ان&nbsp; غیر مسلّح طیاروں کو عراقی حاکمیت اعلیٰ کے لئے اہانت آمیز قرار دیا ہے</p>
<p>اخبار&nbsp; کے مطابق اس پروگرام &nbsp;کا ذکر&nbsp; محکمے&nbsp; کی تازہ ترین رپورٹ میں&nbsp; ہے جس میں کمپنیوں کو اس پروگرام&nbsp; کو چلانے کا&nbsp; ٹھیکہ لینے&nbsp;کی بولی دینے کی دعوت دی گئی ہے ۔اور یہ اس پروگرام کو وسعت دینے&nbsp; کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے جس کے تحت یہ امریکی حکومت کا ایک سفارتی بازو &nbsp;بن جائے گا۔&nbsp; اب تک ڈرون چلانے کا یہ &nbsp;پروگرام&nbsp; محکمہء دفاع اور سی آئی اےکے تصرّف میں تھا ۔</p>
<p>اخبار نے امریکی ٹھیکے داروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ محکمہء دفاع کے زیر غور یہ تجویز ہے ۔ کہ اگلے دو سال میں بیشتر &nbsp;امریکی فوجوں کی وطن واپسی کے بعد ، دیکھ بھال کرنے والے غیر مسلّح ڈروں طیارےزیادہ خطرے والے ملکوں ، مثلاً انڈونیشیا ، پاکستان اور افغانستان&nbsp; میں&nbsp; متعیّن کئے جائیں گے ۔ اخبار نے محکمہء خارجہ کے عہدہ&nbsp; داروں &nbsp;کے حوالے سے بتایا ہے کہ ابھی &nbsp;عراق &nbsp;میں ڈرون طیاروں کے اس استعمال کے علاوہ کہیں اور ان&nbsp; کے ایسے استعمال کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ نیو یارک ٹائمز کہتا ہے کہ یہ ڈرون طیارے &nbsp;محکمہءخارجہ کی ان کوششوں کی تازہ ترین کڑی ہے۔&nbsp; جس کا مقصد ان ذمہ داریوں کو اپنے&nbsp; ہاتھ میں لینا ہے ۔ جو اب تک فوج سنبھالے ہوئے تھی۔&nbsp; اب&nbsp;مثال&nbsp; کے طور پر پرائیویٹ ٹھیکے داروں کے پانچ ہزار کارندے بغداد میں امریکی سفارت خانے کے گیار ہ ہزار نفوس پر مشتمل عملے کو&nbsp; تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ &nbsp;اور ان کی نقل وحرکت بھاری بکتر بند فوجی گاڑیوں میں ہوتی ہے۔ &nbsp;جب امریکی&nbsp; سفارت خانے کا عملہ عراق میں کہیں جاتاہےتو اس کے&nbsp; قافلے کے اوپر ہیلی کاپٹر پرواز کرتے ہیں۔ &nbsp;تاکہ حملے کی صورت میں امداد فراہم کر سکیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ٹھیکے دارکے مشین گنوں سے مسلّح دو&nbsp;کارندے &nbsp;ہیلی کاپٹروں کے باہر دونوں جانب کھونٹوں سے بندھے ہوئے ہوتے ہیں ۔ہیلی کاپٹروں کا استعمال پچھلے سال آزمائشی طور پر شروع کیا گیا تھا ۔ لیکن امریکی فوجی&nbsp; اپنے&nbsp; ڈروں طیاروں سمیت وہاں سے چلے گئے تو پھر&nbsp; ان کا استعمال بڑھ گیا۔ ویسے&nbsp; حکومت&nbsp; عراق سے ابھی ان کے باقاعدہ استعمال کی اجازت لینا باقی ہے۔&nbsp;&nbsp;</p>
<p>واشنگٹن پوسٹ صدارتی نامزدگی کے ری پبلکن&nbsp; امّید واروں کے بارے میں کہتا ہے&nbsp; کہ ایک طرف وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں قرض سے نفرت ہے ۔ لیکں دوسری طرف انہوں نے ٹیکسوں&nbsp; میں چھوٹ دینے کی تجویز رکھی ہے ۔ جس کی وجہ سے اس قرضے میں کھربوں ڈالر کا اضافہ ہو جائے گا۔ ان کا مطالبہ&nbsp; ہے کہ بُش کے دور کے ٹیکسوں میں دی گئی مراعات کو دس سال کی توسیع دی جائے۔ جس کی معنی یہ ہونگےکہ قوم پر 37 کھرب ڈالر کا&nbsp; اضافی قرضہ چڑھ جائے گا۔ دولت مندوں کے لیئے ٹیکسوں میں دی گئی&nbsp; چھوٹ کی وجہ سے ، جو صدر اوباما ختم کرنا چاہتے ہیں۔&nbsp; اگلے دس سال میں قوم پر 10&nbsp; کھرب ڈالر&nbsp; کا بوجھ بڑھ جائے گا ۔ لیکن&nbsp; ری پبلکن امید وار &nbsp;ٹیکسوں میں اس چھوٹ کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں ۔ بلکہ اس کو مزید بڑھانا چاہتے ہیں، &nbsp;جس کا بیشتر فائدہ&nbsp; امیر ترین ٹیکس گزاروں کو پہنچے گا ۔</p>
<p>اخبار کہتا ہے ۔ کہ ریپبلکن امیدوار مِٹ رامنی&nbsp; کی ٹیکسوں میں چھوٹ دینے کی&nbsp; تجویز،&nbsp; پارٹی کے دوسرے امیدواروں کے مقابلے میں سب سے کم ہے۔ جب کہ دوسرے امید وار&nbsp; نیُوٹ&nbsp; گِنگرچ&nbsp; کی تجویزصرف 2015 میں بُش ٹیکس مراعات کے علاوہ آمدنی میں850&nbsp; ارب ڈالر &nbsp;کے خسارے کا&nbsp; باعث ہوگی ۔ &nbsp;اخبار کہتا ہے کہ ٹیکسوں میں اندھا دھند مراعات دینے کے یہ&nbsp;علمبردار دیکھیں گے ٴ کہ&nbsp;اس وقت ٹیکس پالیسی سینٹر &nbsp;کے&nbsp; تخمینے &nbsp;&nbsp;ایک ہی سطح پر ہیں ۔ کیونکہ &nbsp;کسی ایسے قومی&nbsp; معاشی منظرنامہ&nbsp; کا تصوُّر ناممکن ہے ۔،جس میں اقصادی&nbsp; نمو&nbsp; کے جادو سے&nbsp; ٹیکسوں&nbsp; کی چھوٹ کے ہوتے ہوئے ان کی یہ مراد پوری ہو۔&nbsp; واشنگٹن پوسٹ کہتا ہے کہ ایک ایسے وقت میں امیر ترین ٹیکس گزاروں کومزید مراعات دی جارہی ہیں ۔ جب سب سے زیادہ غریبوں &nbsp;کے فلاحی پروگراموں کواُڑایا جا رہے۔ کیونکہ ان امیدواروں نے اخراجات کی حد مقرر کر نے کا عہد کر رکھا ہے۔&nbsp; الغرض، اخبار کی نظر میں ان کی تجویز کردہ کٹوتیوں کےتباہ کُن نتائج&nbsp; ہونگے ۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Mon, 30 Jan 2012 18:23:01 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138337334</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[صلاح الدین احمد]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-30T18:23:01Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[ امریکہ]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/drone+23.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>امریکی اخبارا ت کے مضامین اور اداریے: طالبان، خواتین اورتعلیم</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/usa/US_Press_Roundup_28Jan12-138268999.html</link>
				<description>اب جب کہ امریکی حکومت کے طالبان سےامن مذاکرات جاری ہیں تو ایک سوال جو سب کے ذہنوں میں اُبھر رہا ہے وہ یہ کہ کیا اِس دفعہ حکومت میں آنے کے بعد طالبان کسی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے؟</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>اخبار &rsquo;وال اسٹریٹ&lsquo; نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ طالبا ن جب افغانستان پر حکمرانی کر رہے تھے تو جس وجہ سے پوری دنیا میں اُن پر تنقید ہوتی تھی وہ تھی خواتین پر لگائے جانے والی پابندیاں۔اب جب کہ امریکی حکومت کے طالبان سےامن مذاکرات جاری ہیں تو ایک سوال جو سب کے ذہنوں میں اُبھر رہا ہے وہ یہ کہ کیا اِس دفعہ حکومت میں آنے کے بعد طالبان کسی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے؟</p>
<p>مضمون نگار کے مطابق امریکی فوج کے افغانستان میں ایک اعلیٰ کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل کرٹس کیراپروتی کا کہنا ہے کہ اُنھیں ایسے اشارے مل رہے ہیں جِن سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان اب کی بار اگر حکومت میں آگئے تو وہ خواتین اور معاشرے میں اُن کے مقام کے بارے میں اپنی سوچ میں تبدیلی لائیں گے۔</p>
<p>طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا بھی کہنا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہر تحریک کی سوچ میں پختگی آتی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ گذشتہ دورِ حکومت میں طالبان نے کچھ فیصلے جلد باری میں کیے اور اِن کے بارے میں زیادہ سوچ بچار نہیں کی گئی تھی۔</p>
<p>تاہم، طالبان مخالفین کا کہنا ہے کہ میانہ روی اختیار کرنے کی باتیں محض دھوکہ ہیں اور طالبان کی حالیہ نسل پہلے سے زیادہ شدت پسند ہے اور خودکش حملے، جِن کا 1990ء کی دہائی میں کوئی وجود نہیں تھا، اب آئے دِن ہورہے ہیں اور اِن میں عام شہری بھی ہلاک ہو رہے ہیں۔</p>
<p>افغان حکومت کے ارکان اور مغربی حکام البتہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ تعلیم کے بارے میں اُن کے رویے میں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔</p>
<p>مزاحمت کے شروع کے سالوں میں طالبان نے ملک بھر میں اسکولوٕں کو بم حملوں کا نشانہ بنایا جس کی وجہ سے جنوب اور مشرق میں رہنے والے زیادہ تر بچے اور نوجوان تعلیم حاصل نہیں کرسکے۔</p>
<p>اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اِن علاقوں کے رہنے والے پشتون نوجوان ملازمتیں حاصل کرنے میں ناکام رہے اور زیادہ تر نوکریاں ہزارہ اور دوسرے لسانی گروہوں کے نوجونوں کو ملیں، کیونکہ وہ تعلیم یافتہ تھے۔</p>
<p>افغانستان کے وزیرِ تعلیم فاروق وردگ کا کہنا ہے کہ اُن کے اپنے لوگوں نے جب یہ صورتِ حال طالبان تک پہنچائی تو اُن کی سمجھ میں یہ بات آگئی اور اُنھوں نے حملے کرنا بند کردیے۔</p>
<p>وزیرِ تعلیم کے مطابق، سیکورٹی کے خدشات کی وجہ سے اُن علاقوں میں جو 600اسکول بند کردیے گئےتھے وہ پچھلے تین سالوں میں کھول دیے گئے ہیں۔</p>
<p>اخبار نے ایک اور مثال&nbsp; مولوی قلم الدین کی دی ہے جو طالبان کے دور میں&rsquo; امر بالمعروف و نھی عن المنکر &lsquo; کمیٹی کے سربراہ تھے، جس نے لڑکیوں کے تمام اسکول بند کردیے تھے اور مردوں کو داڑھی نہ رکھنے پر گرفتار کیا۔اب وہی مولوی قلم الدین اپنے صوبے لوگر میں اسکولوں کا ایک نیٹ ورک چلا رہے ہیں جِن میں ہزاروں لڑکیوں کی تعلیم دی جاتی ہے۔</p>
<p>اُن کا کہنا ہے کہ تعلیم عورتوں کے لیے بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی مردوں کے لیے ہے اور یہ کہ اسلام نے مرد اور عورتوں دونوں پر نماز پڑھنا، روزہ رکھنا اور تعلیم حاصل کرنا فرض کیا ہے۔</p>
<p>اخبار &rsquo;واشنگٹن پوسٹ&lsquo; میں اُن عراقیوں کا ذکر کیا گیا ہے جنھیں &rsquo;سنز آف عراق&lsquo; کہا جاتا ہے۔ تقریباً&nbsp; 80000افراد پر مشتمل اس فورس کو امریکہ نے القاعدہ سے منسلک مزاحمت کاروں کا مقابلہ کرنے کے لیے استعمال کیا تھا۔ اب امریکی فوج عراق سے جا چکی ہے لیکن مزاحمت کار ابھی بھی وہیں ہیں اور آئے دِن اس فورس کے ارکان کو نشانہ بنا رہے ہیں۔</p>
<p>منگل کو فلوجہ میں ہونے والے دو بم حملوں میں اُس کے دو ارکان ہلاک ہوئے اور ایک اور حسن عبد اللہ التمیمی کو مزاحمت کاروں نے اُن کے گھر کے اندر داخل ہو کر بیوی اور تین بچوں سمیت ہلاک کردیا۔</p>
<p>یہ وہی لوگ ہیں جن کی مدد سے امریکہ کچھ سال قبل عراق میں قدرِ امن قائم کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ اس فورس میں زیادہ تر تعداد سنیوں کی تھی جب کہ کچھ شیعہ بھی شامل تھے۔</p>
<p>امریکہ کی طرف سے کرائے جانے والے ایک معاہدے کے تحت عراقی حکومت ان لوگوں کے لیے فوج اور پولیس میں ملازمتیں تلاش کرنے کی پابند تھی۔ تاہم، یہ عمل سست رفتاری سے جاری ہے۔ عراق کے بیٹوں کا کہنا ہے کہ سنی ہونے ککی وجہ سے اُنھیں فوج یا پولیس میں ملازمت نہیں دی جاتی، جب کہ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اُنھیں ملازمتیں دینے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے لیکن تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے کچھ لوگ یہ نوکریاں حاصل نہیں کر سکتے۔</p>
<p>اخبار لکھتا ہے کہ آنے والے دِنوں میں حکومت کی طرف سےاُن کے ساتھ کیے جانے والے سلوک سے یہ واضح ہوجائے گا کہ کیا سمجھوتے کی کوئی امید ہے یا فرقہ وارانہ کشیدگی مزید بڑھ جائے گی؟ خاص طور پر اگر عراق کے بیٹوں نے جوابی حملے شروع کر دیے اور اس سے بھی بری صورتِ حال یہ ہوگی اگر اس کے کچھ ارکان القاعدہ جیسے گروہوں کے ساتھ مل گئے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sun, 29 Jan 2012 00:56:43 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138268999</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[سمیرا اسلم]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-29T00:56:43Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[ امریکہ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/uzbek_former_taliban.jpg" length="35999" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/uzbek_former_taliban.jpg" medium="image" isDefault="true" height="296" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Taliban-011812.jpeg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>قصہ’ شاہی ہندی‘  کا۔۔۔ اردو  زبان کے نامور مستشرق ڈیوڈ میتھیوز  کی زبانی </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/usa/Urdu_DavidMatthews_28Jan12-138262534.html</link>
				<description>’میں دہلی کے ایک ریستوران میں گیا اور وہاں بیرے سے بات کرنا شروع کی۔  اُسے بڑی حیرت ہوئی اور اُس نے پوچھا کہ آپ نے ہندی کہاں سے سیکھی ؟ میں نےکہا کہ میں تو دلٍی کا پرانا پاپی ہوں ۔ ممکن ہے کہ دوران گفتگو میں نے فارسی اور عربی کے الفاظ بھی استعمال کیے ہوں ۔ خیر،  اُس نے میری باتیں سن کر کہا کہ   آپ تو بہت شاہی ہندی بولتے ہیں،  جِس کا  در اصل مطلب اردو تھا‘</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>پروفیسر ڈیوڈ میتھیوز نے &rsquo;لندن اسکول آف اورینٹل اینڈ افریکن سٹڈیز&lsquo; میں چالیس برس تک اردو پڑھائی ہے۔ چند برس قبل وہ ملازمت سے ریٹائر ہوئے ہیں۔</p>
<p><span class="margin-bottom-small display-block container field-note">&lt;!--IMAGE-RIGHT--&gt;</span></p>
<p>پچھلے برس، وہ &rsquo;پانچویں بین الاقوامی اردو کانفرنس&lsquo; میں شرکت کےلیے نیو یارک آئے۔ &nbsp;وہاں &nbsp;اُن سے عائشہ تنظیم نے اردو کے ساتھ وابستگی کی کہانی&nbsp; پوچھی تو میتھیوز صاحب نے بڑے دل چسپ &nbsp;انداز میں اِس حادثاتی&nbsp; تعلق کا ذکر کیا۔</p>
<p>دورانِ گفتگو، &nbsp;اُنھوں نےاردو ادب اور زبان کےبارے میں تفصیل سےاظہارِ خیا ل کیا۔ اُن کی اِس دلچسپ اور بے تکلف گفتگو کے چند اقتباسات آپ بھی پڑھیئے،&nbsp; بلکہ چاہیں تو اُنہی کی آواز میں سنئیے۔</p>
<p>انٹرویو:</p>
<p><strong>اردو کے ساتھ رشتہ کیسے جُڑا</strong></p>
<p>&rsquo;یونیورسٹی میں تو میں یونانی اور لاطینی زبانیں سیکھ رہا تھا۔ پھر کیمرج یونی ورسٹی میں تحقیق کے لیے میں نے قدیم یونان اور مشرقِ وسطیٰ کے تعلقات پر&nbsp; کام کرنا شروع کیا۔ اِس سلسلے میں، &nbsp;مجھے کئی زبانیں سیکھنی پڑیں۔مثال کے طور پر شامی اور&nbsp; عبرانی، وغیرہ۔ اِسی زمانے میں میرا &nbsp;چند پاکستانی اور ہندوستانی طلبا کے ساتھ ملنا جلنا رہا۔ &nbsp;یہ نوجوان وہاں پی ایچ ڈی کر رہے تھے۔</p>
<p>&rsquo; اُس زمانے میں مجھے ہندوستان اور پاکستان کے بارے بہت کم علم تھا۔ یہ بات&nbsp; ہےسنہ1965 کی۔ بہر حال، &nbsp;اُن سے باتیں کرتے کرتے مجھے اُن کی زبان سےبھی دلچسپی پیدا ہوگئی۔</p>
<p>&rsquo; ویسے بھی،&nbsp; غیر ملکی زبانیں سیکھنے سے مجھے فطری لگاوٴ ہے۔ مجھے اُن دوستوں کے ساتھ رہتے ہوئے سب سے زیادہ تعجب اِس بات پر ہوا کہ یہ لوگ ہندوستان اور پاکستان کے مختلف علاقوں کے تھے کوئی پنجابی، کوئی بنگالی،&nbsp; کوئی سندھی اور کوئی یوپی کا۔ &nbsp;مگر،&nbsp; یہ سب لوگ آ پس میں ایک ہی زبان میں باتیں کرتے تھے۔&nbsp; ظاہرہے، یہ زبان اردو تھی۔ شوقیہ طور پر میں نے اردو کے کچھ الفاظ سیکھ لیے۔</p>
<p>&rsquo;میں، &nbsp;اُن دنوں، &nbsp;اپنے روزگار کے بارے میں فکر مند تھا کہ کون سی زبانیں &nbsp;سیکھ کر اُس کے&nbsp;&nbsp; ذریعے میں ملازمت حاصل کر سکوں۔&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; &rsquo;اُنہی &nbsp;دنوں، &nbsp;میں نے ایک اشتہار دیکھا، &nbsp;جِس میں ہندوستانی زبانوں پر کام کرنے کی ایک اسامی نکلی تھی۔ میں نے درخواست دے دی ۔</p>
<p>&rsquo; انٹرویو سے پہلے، &nbsp;مجھے اردو کے محض چند الفاظ آتے تھے ، سو میں نے اپنے پاکستانی اور ہندوستانی دوستوں سے مشورہ کیا، سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک دوست نے مجھے عمر خیام کی رباعی یاد کرا دی اور کہا کہ بس یہی سنا دینا۔</p>
<p>&rsquo;خیر، میں انٹرویو دینے چلا گیا۔ وہاں بورڈ میں ایک خاتون شامل تھیں، جو ہندوستانی زبانوں کی صوتیات کی ماہر تھیں۔ اُنھوں نے مجھ سے انگریزی میں سوال کیا کہ کیا مجھے ہندوستانی زبان آتی ہے ، تو میں نے عمر خیام کی رباعی پڑھ دی، یہ سن کر وہ خاتون کہنے لگیں&nbsp; کہ آپ تو بہت اچھی اردو بول سکتے ہیں۔ میں نے کہا، &nbsp;جی ہاں، تھوڑی بہت آتی ہے۔ سو یہ ملازمت مل گئی اور میرا &nbsp;اردو سے رشتہ بندھ گیا۔</p>
<p>&rsquo;یہاں، &nbsp;لندن اسکول آف اورینٹل&nbsp; اینڈ افریکن سٹدیز میں تقریباً چالیس برس تک اردو&nbsp; پڑھاتا رہا&lsquo;۔</p>
<p><strong>شاہی ہندی: اور جب دہلی کے ایک ریستوران کے&nbsp; بیرے&nbsp;&nbsp; نے میتھیوز صاحب کی اردو سنی !</strong></p>
<p>&rsquo;اردو زبان سے مجھے بہت دلچسپی ہے اور اردو کی یہ خاصیت ہے کہ یہ شہروں کی زبان ہے، دہلی، لکھنوٴ اور حیدرآباد میں پروان چڑھی ۔ اِس زبان میں بہت تنوع ہے، &nbsp;جو ہندوستان کی دوسری زبانوں میں نہیں پایا جاتا۔</p>
<p>&rsquo;اب ہندوستان میں اردو &nbsp;ذرا کم اور ہندی زیادہ ہوگئی ہے۔ پہلی بار، &nbsp;جب دہلی گیا تھا&nbsp; تو اردو میں لکھے سائین بورڈ نظر آتے تھے، مگر اب ایسا&nbsp; کم کم ہے۔</p>
<p>&rsquo;لیکن، &nbsp;اِس کے ساتھ یہ بھی سچ ہے کہ&nbsp; میں ہندوستان جاکر اردو ہی میں بات چیت کرتا ہوں۔ ممبئی ہو یا مدراس ہر جگہ یہ زبان سمجھی اور بولی جاتی ہے۔ میں جب وہاں اردو بولتا ہوں تو لوگ پوچھتے ہیں کہ آپ نے ہندی زبان کہاں&nbsp; سے سیکھی۔</p>
<p>&rsquo; ایک سچٍا واقعہ سنیے: میں دہلی کے ایک ریستوران گیا اور وہاں بیرے سے بات کرنا شروع کی۔ &nbsp;اُسے بڑی حیرت ہوئی اور اُس نے پوچھا کہ آپ نے ہندی کہاں سے سیکھی ؟ میں نےکہا کہ میں تو دلٍی کا پرانا پاپی ہوں ۔ ممکن ہے کہ دوران گفتگو میں نے فارسی اور عربی کےالفاظ بھی استعمال کیے ہوں ۔ خیر، &nbsp;اُس نے میری باتیں سن کر کہا کہ آپ تو بہت شاہی ہندی بولتے ہیں، جِس کا دراصل مطلب اردو تھا&lsquo;۔</p>
<p>تفصیل آڈیو رپورٹ میں:</p>
<p>
<object classid="clsid:02bf25d5-8c17-4b23-bc80-d3488abddc6b" width="209" height="39" codebase="http://www.apple.com/qtactivex/qtplugin.cab#version=6,0,2,0">
<param name="src" value="http://media.voanews.com/audio/David+Methews-Former+Professor+of+Urdu.Mp3" /><embed type="video/quicktime" width="209" height="39" src="http://media.voanews.com/audio/David+Methews-Former+Professor+of+Urdu.Mp3"></embed>
</object>
</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sat, 28 Jan 2012 20:50:55 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138262534</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[اسد نذیر/ عائشہ تنظیم]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-28T20:50:55Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[ امریکہ]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Dr.+David+Mathews.300x300.jpg" length="39387" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Dr.+David+Mathews.300x300.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Dr.+David+Mathews.300x300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>سیاست میں سرمائے کا عمل دخل روکنے پر سرمایہ کاری کی جائے: صدر اوباما</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/usa/Obama-Address-28Jan12-138260734.html</link>
				<description>صدر اوباما نے ایک ایسی قانون سازی کی اپیل کی جس کے ذریعے منتخب عہدے داروں کے مارکیٹ پر اثر ورسوخ روکنے کے لیے ان  پر صنعتوں کے اسٹاک کی خرید پر پابندی عائد کی جاسکے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکہ کے صدر براک اوباما نے کانگریس سے تعطل ختم کرنے کی&nbsp; اپیل کرتے ہوئے کہاہے کہ وہ ایسے قوانین منظور کریں جن کی مدد سے سیاست میں سرمائے کے اثرورسوخ کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکنے میں مدد مل سکے۔</p>
<p>ہفتے کے روز ا پنے ہفتہ وار خطاب میں مسٹر اوباما نے کہاکہ کانگریس کے ارکان ججوں اور پبلک سروس&nbsp; کے عہدوں کے لیے ان کی&nbsp; نامزدگیوں پر رکاوٹوں کھڑی کرتے رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ امریکی عوام تعطل اور کھیل تماشوں کی بجائے بہتر صورت حال کے مستحق&nbsp; ہیں اور انہوں نے کانگریس سے اپیل کی کہ وہ ایک ایسا قانون منظور کریں جس سے ووٹنگ کے ذریعے&nbsp; نامزد کردہ افراد&nbsp; کے حق یا مخالفت کا فیصلہ 90 روز کے اندر ہوجائے۔</p>
<p>مسٹر اوباما نے ایک ایسی قانون سازی کی بھی اپیل کی جس کے ذریعے منتخب عہدے داروں کے مارکیٹ پر اثر ورسوخ روکنے کے لیے ان&nbsp; پر صنعتوں کے اسٹاک کی خرید پر پابندی عائد کی جاسکے۔</p>
<p>&nbsp; انہوں نے کہا کہ ان لوگوں پر بھی پابندی لگائی جائے جو&nbsp; کانگریس کے لیے لابی کرنے والے ارکان سے انتخابی مہم کے لیے عطیات وصول کرتے ہیں۔</p>
<p>صدر نے کہا کہ یہ&nbsp; واشنگٹن کے راہنماؤں کے لیے مناسب وقت ہے کہ وہ حقیقی مسائل کے حل کی جانب توجہ دیں ، مثال کے طور پرمعاشی صورت حال کو بہتر بنانے سے متعلق۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sat, 28 Jan 2012 19:05:22 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138260734</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-28T19:05:22Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[ امریکہ]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/white_house_address_obmam_28jan12_230.jpg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>پاکستان امریکہ خبریں،  ہفتہ وار جھلک</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/usa/Pak_US_News_Wrap_27Jan12-138240169.html</link>
				<description>اِس وِڈیوفیچر کا پہلا پروگرام دیکھیئے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>&rsquo;وائس آف امریکہ&lsquo; کے &rsquo;خبروں سے آگے&lsquo; اردو ٹیلی ویژن پروگرام &nbsp;میں Pak-US News Wrapکے عنوان سے ایک نئے ہفتہ &nbsp;وارفیچر وِڈیو کا اضافہ &nbsp;کیا گیا ہے۔</p>
<p><iframe src="http://www.youtube.com/embed/QRQJFbVJtQU" width="420" height="315"></iframe></p>
<p>اِس عنوان کا پہلا episode، جسے &rsquo;یو ٹیوب&lsquo; پربھی دیکھا جاسکتا ہے،21 سے27 جنوری 2012ء تک&nbsp; سامنے آنے والے موضوعات پر مبنی ہے، جس کا جمعے کے دِن سے آغاز کیا گیا ہے، امید ہے آپ کو پسند آئے گا۔</p>
<p>وڈیو سننے کے لیےلنک پر کلک کیجیئے</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sat, 28 Jan 2012 02:19:39 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138240169</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-28T02:19:39Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[ امریکہ]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Pak+US+News+Wrap.300x300.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>امریکی صدارتی انتخابی مہم: امیدواروں کی ایک دوسرے پر تنقید</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/usa/Republican-Debate-27Jan12-138203789.html</link>
				<description>میسا چوسٹس کے سابق گورنر مٹ رامنی نے  ایوان کے سابق اسپیکر نیوٹ گنگرچ کو امیگریشن کا مخالف قرار دیتے ہوئے  ان کے خلاف  برہم رد عمل کا اظہار کیا</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکی ری پبلکن پارٹی کی صدارتی نامزدگی کے لیے باقی رہ جانے والے چار امیدواروں نے فلوریڈا کے شہر جیکسن ول,31 میں&nbsp; جنوری کے پرائمری انتخابات سے قبل ایک بحث میں حصہ لیا&nbsp; جس میں گرما گرمی بھی ہوئی ۔</p>
<p>&nbsp;بحث&nbsp; امیگریشن اور غیر ملکی بنک اکاؤنٹس&nbsp; جیسے موضوعات پر&nbsp; جلد ہی تندو تیز ہو گئی ۔ میسا چوسٹس کے سابق گورنر مٹ رامنی نے&nbsp; ایوان کے سابق اسپیکر نیوٹ گنگرچ کو امیگریشن کا مخالف قرار دیتے ہوئے&nbsp; ان کے خلاف&nbsp; برہم رد عمل کا اظہار کیا ۔&nbsp;&nbsp; &nbsp;ان کا کہنا تھا کہ مسائل پر اختلاف رائے رکھنا یہ جواز فراہم نہیں کرتا کہ آپ دوسروں کو برا بھلا کہیں۔&nbsp;&nbsp;&nbsp;</p>
<p>رامنی نے کہا کہ ان کے والد میکسیکو میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے اپنے&nbsp; امیگریشن&nbsp; پلان کا دفاع کرتے ہوئے اسے&nbsp; قانونی طور پر جائز لیکن ایک ایسا&nbsp; پلان قرار دیا جو غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے والوں کو روزگار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے بنائے گئے قوانین کے نفاذ کو&nbsp; تقویت دیتا ہے ۔&nbsp;&nbsp;</p>
<p>مسٹر گنگرچ نے اس کے جواب میں کہا کہ وہ کسی بھی ایسی پالیسی&nbsp; کی حمایت نہیں کریں گے جو&nbsp; عمر رسیدہ لوگوں کو ، جن میں سے بہت سے اپنی عمر کا ایک خاصا بڑا حصہ امریکہ میں گزار چکے ہیں ، ملک چھوڑنے پر مجبور کرے۔&nbsp;</p>
<p>دوسرے &nbsp;&nbsp;امیدواروں نےرامنی پر &nbsp;گنگرچ کی تنقید پر سخت رد عمل ظاہر کیا ۔&nbsp;&nbsp;&nbsp; &nbsp;<br /> پنسلوانیا کے سابق سینیٹر رک سینٹورم نے دونوں امیدواروں کو نکتہ چینی کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کی توجہ ملک کو درپیش زیادہ اہم مسائل سے ہٹ&nbsp; گئی ہے ۔</p>
<p>رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہو اہے کہ رامنی اور گنگرچ دونوں کے درمیان مقابلہ سخت ہے ۔اور جب سے گنگرچ نے ساؤتھ کیرولائنا میں 21 جنوری کے پرائمری انتخابات جیتے ہیں اور رامنی کی سب سے بڑے امیدوار کی حیثیت متاثر ہوئی ہے۔</p>
<p>دونوں نے فلوریڈا میں سخت انتخابی مہم چلائی ہے ۔ فلوریڈا میں ووٹرز اگلے منگل کو ووٹ ڈالیں گے اور یہ فیصلہ کریں گے کہ کس امیدوار کو&nbsp; نومبر کے صدارتی انتخابات میں صدر براک اوباما کے خلاف مقابلہ کرنا ہے ۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 27 Jan 2012 16:54:35 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">138203789</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-01-27T16:54:35Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[ امریکہ]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_romney-gingrich_debate_26Jan12_230.jpg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																																																		</item>
																																																																									</channel>
</rss>

