<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>


																																		



<rss xmlns:ymusic="http://music.yahoo.com/rss/1.0/ymusic/" xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" xmlns:cf="http://www.microsoft.com/schemas/rss/core/2005" xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"   version="2.0">
<channel>
	<title>VOA News:  دنیا  </title>
	<link>http://www.voanews.com/urdu/news/world</link>
		<description>دنیا 
																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																																								
	Voice of America
	</description>
	<language>ur</language> 	<copyright />
	<pubDate>Sun, 12 Feb 2012 18:28:13 GMT</pubDate>
	<dc:creator />
	<dc:date>2012-02-12T18:28:13Z</dc:date>
	<dc:language>ur</dc:language> 	<dc:rights />
	<image>
		<title>Voice of America</title>
		<link>http://www.voanews.com/urdu</link>
		<url>http://media.voanews.com/designimages/VOARSSIcon.gif</url>
	</image>


						
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>بھارتی وزیرِ تجارت پاکستان کے دورے پر</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/world/Indian-Trade-Minister-Pakistan-Visit-12Feb12-139183924.html</link>
				<description>پاکستان کے ساتھ معمول کے رشتوں کے قیام اور اُنھیں نئی بلندیوں پر لے جانے سے اِن دونوں ہمسایہ ملکوں کے مابین اعتماد کی بحالی ہوگی اور سارک کے اندر اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>بھارتی وزیرِ تجارت آنند شرما پیر کے روز سے پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں، جہاں وہ لاہور میں منعقد ہونے والے &rsquo;انڈیا شو&lsquo; میں شرکت کریں گے اور اپنے پاکستانی ہم منصب مخدوم امین فہیم کے ساتھ دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے سے متعلق تمام امور پر تبادلہٴ خیال کریں گے۔</p>
<p>تیس سالوں میں کسی بھارتی وزیرِ تجارت کا یہ پہلا پاکستانی دورہ ہے،&nbsp; جِس کی وجہ سے اِسے کافی اہمیت دی جارہی ہے۔</p>
<p>پاکستان روانہ ہونے سے قبل، اُنھوں نے اِس امید کا اظہار کیا کہ اُن کے دورے سے باہمی تجارت کو فروغ دینے کے لیے&nbsp; ماحول سازگار کرنے میں مدد ملے گی۔</p>
<p>اُنھوں نے کہا کہ ہم باہمی اقتصادی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے لیے تمام پہلوؤں پر تبادلہٴ خیال کریں گے اور دونوں ملکوں کے تجارتی سربراہوں کے مابین جامع مذاکرات کے امکانات کو تلاش کریں گے۔</p>
<p>پاکستان کے ساتھ معمول کے رشتوں کے قیام اور اُنھیں نئی بلندیوں پر لے جانے سے اِن دونوں ہمسایہ ملکوں کے مابین اعتماد کی بحالی ہوگی اور سارک کے اندر اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔</p>
<p>اُنھوں نے مزید کہا کہ اُن کے دورہٴ پاکستان میں دونوں ملکوں کےسکریٹری تجارت کی ملاقات اور باہمی تجارت اور اعتماد میں اضافے کی کوششوں کا ایک حصہ ہے۔ دونوں ملکوں کے مابین اشیا کی آزادانہ تجارت اور تجارتی سربراہوں کے وفود کے تبادلے کے لیے ضروری ہے کہ امن و سلامتی اور یکجہتی کا ماحول قائم ہو۔</p>
<p>اُن کے ساتھ صنعت و تجارت کی کم از کم 120شخصیات بھی پاکستان کا دورہ کر رہی ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sun, 12 Feb 2012 18:25:11 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139183924</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[سہیل انجم]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-12T18:25:11Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[دنیا]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Anand-Sharma-300X3001.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>الشباب اور القاعدہ کا باقاعدہ الحاق</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/Somalia-Alqaida-Al-Shabaab-12Feb12-139172884.html</link>
				<description>یہ اقدام صومالیہ میں کثیر ملکی فورسز کی کئی  فوجی کارروائیوں کے بعد کیا گیا ہے جن میں اس عسکریت پسند گروپ کو ہزیمت اٹھانی پڑی ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">انٹرنیٹ کی مانیٹرنگ سروس، دی سائٹ انٹیلی جنس گروپ نے 15 منٹ کے ایک وڈیو کی اطلاع دی ہے جس میں القاعدہ کے لیڈر ایمن الظواہری&nbsp; کو یہ اعلان کرتے دکھایا گیا ہے کہ الشباب نے بقول ان کے، صیہونی صلیبی مہم کے خلاف القاعدہ کی جہادی تحریک میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔<br /><br /></p>
<p dir="rtl">نیروبی میں ساؤتھ لنک کنسلٹنٹس کے ایک صومالی تجزیہ کار، عابدی وہاب شیخ عابدی صمد نے کہا ہے کہ اس باقاعدہ اعلان سے نہ صرف الشباب بلکہ القاعدہ کو بھی توانائی ملے گی۔ انھوں نے کہا کہ &rsquo;&rsquo;چونکہ اب یہ دونوں گروپ کمزور ہوتے جا رہے ہیں، اس اعلان سے وہ ایک دوسرے کو سہارا دیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے کہا &nbsp;ہے کہ ہمارا مفاد،&nbsp; اور ہمارے مقاصد&nbsp; مشترک ہیں، اس لیے ہمیں مل جل کر اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانا چاہیئے۔&lsquo;&lsquo;<br /><br /></p>
<p dir="rtl">صومالیہ کے اطلاعات اور ٹیلی کمیونی کیشنز کے وزیر، عبدالقادر حسین محمد نے جمعہ کے روز صومالی نیشنل نیوز ایجنسی کو &nbsp;بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے لیے یہ کوئی نئی خبر نہیں ہے۔ ہمیں پہلے سے پتہ تھا کہ ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ الشباب کے لیڈر القاعدہ کے تنخواہ دار ایجنٹ اور نمائندے ہیں۔ القاعدہ ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم ہے جو صومالیہ کے بے گناہ مسلمان سویلین باشندوں کو قتل کرنے کی انتہائی غیر اسلامی حرکتوں میں مصروف ہے۔<br /><br /></p>
<p dir="rtl">وزیر نے کہا کہ صومالیہ کی حکومت کو خوشی ہے کہ الشباب کو خود کو صومالیہ کی ایک اسلامی تنظیم کے طور پر پیش کرنے کا وقت ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے۔ انھوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ صومالیہ میں القاعدہ کے خلاف جنگ میں بھر پور مدد دیں۔<br />یہ عسکریت پسند گروپ گزشتہ پانچ برس سے، صومالیہ کی اقوامِ متحدہ کی حمایت سے قائم ہونے والی عبوری حکومت کے خلاف جنگ کر رہا ہے۔ 2009ء میں، الشباب&nbsp; کے لیڈروں نے ایک وڈیو جاری کیا تھا جس کا عنوان تھا، اسامہ، ہم آپ کی خدمت کے لیے موجود ہیں۔ اسی سال، القاعدہ کے سابق لیڈر اسامہ بن لادن&nbsp; نے بھی ایک وڈیو جاری کیا جس میں انھوں نے صومالیہ میں بغاوت کی حوصلہ افزائی کی تھی۔<br /><br /></p>
<p dir="rtl">کینیا&nbsp; کے سیاسی مبصر، براک مولوکا نے وائس آف امریکہ سے کہا کہ&nbsp; اس اعلان سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوئے ہیں۔ انھوں نے علاقے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بین الاقوامی کارروائی پر زور دیا۔ ان کے مطابق &rsquo;&rsquo;عالمی برادری کو اس بات کا احساس کرنا چاہیئے کہ یہ کوئی مقامی واقعہ نہیں ہے۔ کینیا کو اپنی سرزمین کے حفاظت کے لیے الشباب اور القاعدہ کے بارے میں تشویش ہونی لازمی ہے۔&nbsp; یہ سراسر بین الاقوامی دہشت گردی ہے اور اس کے سد ِ باب کے لیے &nbsp;بین الاقوامی سطح پر کارروائی کی جانی چاہیئے۔&lsquo;&lsquo;<br /><br /></p>
<p dir="rtl">ساؤتھ لنک کنسلٹنٹس کے عابدی صمد نے کہا کہ اب الشباب القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کے سامنے جوابدہ ہوگی، اور اس طرح اس گروپ کے اندر جو کشیدگی اور سیاسی جوڑ توڑ جاری ہے، وہ کم ہو جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ &rsquo;&rsquo;اس طرح الشباب کا حوصلہ بلند ہو گا اور اس میں جو اندرونی اختلافات ہیں ان میں کمی آئے گی۔ وہ اب یہ کہہ سکتے ہیں کہ اب گاڈین الشباب کا لیڈر نہیں ہے۔ الشباب کا اصل لیڈر ایمن الظواہری ہے۔ اس طرح جو لوگ یہ کہہ رہےہیں کہ ہم گاڈین کی قیادت سے مطمئن نہیں ہیں، وہ بھی مطمئن ہو جائیں گے۔&lsquo;&lsquo;<br /><br /></p>
<p dir="rtl">گاڈین سے مراد ہے احمد عابدی گاڈین جو الشباب کا کمانڈر اور اس کا چوٹی کا لیڈر ہے۔<br /><br /></p>
<p dir="rtl">الشباب نئے رنگروٹوں، قبیلوں کے مسلح جتھوں، اور تنخوا ہ دار جنگجوؤں پر مشتمل ہے۔ اس گروپ کی صفوں میں سینکڑوں غیر ملکی جنگجو بھی شامل ہیں۔ پاکستان، افغانستان اوریمن کے غیر ملکی جنگجو، اپنے ساتھ نقد رقم، جنگی مہارت اور دھماکا خیز مادوں کے استعمال کا علم لے کر آتے ہیں۔<br /><br /></p>
<p dir="rtl">مغربی ملکوں کے انٹیلی جنس کے عہدے داروں نےکہا ہے کہ القاعدہ کے جنگجوؤں نے الشباب&nbsp; کی تنظیم میں پناہ لے رکھی ہے۔ اس سال جنوری میں، ایک امریکی ڈرون کے حملے میں برطانوی پاسپورٹ رکھنے والا ایک&nbsp; شخص بلال البرجاوی ہلاک ہو گیا۔ بلال البرجاوی&nbsp;مشرقی افریقہ میں القاعدہ کے لیڈر فضل عبداللہ محمد کا قریبی ساتھی تھا۔ محمد کو گزشتہ سال جون میں صومالیہ کی فوجی حکومت کی فورسز نے ہلاک کر دیا تھا۔&nbsp;</p>
<p dir="rtl">علاقے میں القاعدہ کے دو چوٹی کے لیڈروں کی ہلاکت سے الشباب کی قیادت میں پھوٹ پڑ گئی ہے اور ایک دوسرے پر مغربی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لیے جاسوسی کرنے کے الزامات لگائے جا رہےہیں۔ مبصرین کہتے ہیں کہ القاعدہ اعتدال پسند جنگجوؤں اور ان لوگوں کے درمیان جو عالمی جہادی ایجنڈے پر عمل کرنا چاہتے ہیں، کشیدگی کو کم کرے گی۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sun, 12 Feb 2012 06:49:52 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139172884</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[محمد یوسف]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-12T06:49:52Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Reuters_Somalia_Al_Shabaab_Islamist_Group_480.jpg" length="60207" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Reuters_Somalia_Al_Shabaab_Islamist_Group_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Reuters_Somalia_Al_Shabaab_Islamist_Group_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>منڈیلا کی شبیہ والے نوٹوں کا اجراء</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/South-Africa-Bank-Note-12Feb12-139176984.html</link>
				<description>توقع ہے کہ نئے کرنسی رواں سال کے اواخر تک استعمال کے لیے دستیاب ہوں گے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">جنوبی افریقہ نے سابق صدر نیلسن منڈیلا کی شبیہ والے کرنسی نوٹوں کا اجراء کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p dir="rtl">موجودہ صدر جیکب زوما نے یہ اعلان ہفتہ کو مسٹر منڈیلا کی تقریباً تین دہائیوں پر محیط قید کے بعد رہائی کی 22 ویں سالگرہ کے موقع پر کیا۔</p>
<p dir="rtl">ترانوے سالہ نوبیل پرائز یافتہ نیلسن منڈیلا اس سلسلے میں منعقد کی گئی تقریب میں مجود نہیں تھے۔ حالیہ عوامی تقریبات میں اُن کی شرکت انتہائی محدود رہی ہے۔</p>
<p dir="rtl">توقع ہے کہ نئے کرنسی رواں سال کے اواخر تک استعمال کے لیے دستیاب ہوں گے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sun, 12 Feb 2012 09:49:46 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139176984</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-12T09:49:46Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/South_Africa_Bank_Note_Bearing_Face_Nelson_Mandela_Former_President_480.jpg" length="51130" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/South_Africa_Bank_Note_Bearing_Face_Nelson_Mandela_Former_President_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/South_Africa_Bank_Note_Bearing_Face_Nelson_Mandela_Former_President_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>جاپان کے شہنشاہ کی آئندہ ہفتے بائی پاس سرجری </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/Japan-Emperor-Heart-Bypass-12Feb12-139177449.html</link>
				<description>ٹوکیو یونیورسٹی اسپتال میں ہونے والے طبی معائنہ سے معلوم ہوا کہ اُن کی شریانیں مزید سکڑ گئی ہیں۔ </description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">جاپان میں حکام نے کہا ہے کہ عارضہ قلب میں مبتلا شہنشاہ آکی ہیٹو کی رواں ہفتے بائی پاس سرجری ہو گی۔</p>
<p dir="rtl">اپیریئل ہاؤس ہولڈ ایجنسی نے اتوار کے روز کہا ہے کہ 78 سالہ شہنشاہ کا ایک روز قبل ٹوکیو یونیورسٹی اسپتال میں طبی معائنہ کیا گیا تھا، جس سے معلوم ہوا کہ شریانیں مزید سکڑ گئی ہیں۔ اُن کی سرجری 18 فروری کو متوقع ہے۔</p>
<p dir="rtl">شہنشاہ آکی ہیٹو کو حالیہ برسوں میں نمونیا اور سرطان سمیت مختلف امراض میں مبتلا رہ چکے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sun, 12 Feb 2012 10:19:08 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139177449</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-12T10:19:08Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Japan_Emperor_Akihito_480.jpg" length="32632" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Japan_Emperor_Akihito_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Japan_Emperor_Akihito_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>شام: سرکاری افواج حمص میں داخل</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/world/Syria-Protests-Homs-12Feb12-139170234.html</link>
				<description>عرب ممالک کے وزرائے خارجہ اتوار کو قاہرہ میں ملاقات کر رہے ہیں جس میں اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر مشترکہ مبصر مشن شام بھیجنے کی تجویز پر غور کیا جائے گا۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف تقریباً ایک سال سے جاری احتجاجی تحریک کو کچلنے کی کوشش میں سرکاری فورسز حمص شہر کے مختلف علاقوں میں داخل ہو گئی ہیں، جب کہ تشدد کے تازہ واقعات میں کم از کم 10 افراد کی ہلاکت کی بھی اطلاع ہے۔</p>
<p>دارالحکومت دمشق اور جنوبی شہر دوما میں حکومت مخالف افواج اور سرکاری سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم تین افراد مارے گئے۔</p>
<p>سرکاری سکیورٹی فورسز نے پہاڑی قصبے زبادنی میں بھی پیش قدمی کی ہے۔</p>
<p>اس سے قبل ہفتہ کو مسلح افراد نے&nbsp;دمشق میں قائم فوجی اسپتال کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل عیسٰی الخولی کو ان کے گھر پر حملہ کر کے ہلاک کر دیا۔ کسی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔</p>
<p>ادھر عرب ممالک کے وزرائے خارجہ اتوار کو قاہرہ میں ملاقات کر رہے ہیں جس میں شام کے لیے عرب ملکوں اور اقوام متحدہ کے مشترکہ مبصر مشن کی تجویز پر غور کیا جائے گا۔</p>
<p>دریں اثنا شام نے تیونس اور لیبیا کے سفارت کاروں کو 72 گھنٹوں میں دمشق میں اپنے سفارت خانے بند کرکے ملک سے نکل جانے کو کہا ہے۔ یہ فیصلہ رواں ماہ ان دونوں ملکوں سے شامی سفیروں کو نکالے جانے کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sun, 12 Feb 2012 04:53:11 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139170234</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-12T04:53:11Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[دنیا]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/reuters_syria_protest_10Feb12-resized.jpg" length="127397" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/reuters_syria_protest_10Feb12-resized.jpg" medium="image" isDefault="true" height="360" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/reuters_syria_protest_230_10Feb12-resized.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>امریکی اخبارات کےمضامین و اداریے: شام لیبیا نہیں ہے</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/world/US_Press_Roundup_11Feb12-139163434.html</link>
				<description>کم سے کم نیٹو وہاں بمباری کے آپریشن نہیں کرے گی۔روس اور چین نے اقوام متحدہ میں شام کے خلاف قرارداد کو ویٹو کرتے ہوئے اپنے مؤقف کو واضح کر دیا ہے۔ امریکہ اور یورپ مشرقِ وسطیٰ میں اقوام متحدہ کی  حمایت کے بغیر کوئی جنگ  شروع کرنے کے لیے تیار نہیں: واشنگٹن پوسٹ</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>روزنامہ &rsquo;واشنگٹن پوسٹ&lsquo; اپنے ایک اداریے Can we help Syria without making things worseمیں &nbsp;لکھتا ہے کہ شام میں تقریباً ایک برس سے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور حکومت کی طرف سے سخت کارروائی کے نتیجےمیں &nbsp;ہزاروں ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔ مظاہرین کے بھرپور مطالبوں کے باوجود، بشار الاسد بدستور اقتدار پر براجمان ہیں۔</p>
<p>عرب لیگ نے بشار الاسد کے با آسانی اقتدار سے الگ ہونے کے لیے مفاہمتی سمجھوتے کی کوشش کی، لیکن ناکام ہوئی۔ دنیا کے بیشتر ملکوں نے شام کے خلاف پابندیاں لاگو کردیں۔ &nbsp;لیکن، اقتصادی مسائل اتنے شدید نہیں ہوئے کہ اسد کے وفاداروں کو حکومت سے الگ ہونے کے لیے قائل کرسکیں۔ ہلاکتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ شام میں حزبِ مخالف نے مدد کی اپیل کی ۔</p>
<p>اِس سلسلے میں امریکہ کیا کرسکتا ہے؟ ابتدا میں شام کی حزبِ اختلاف امریکی امداد طلب کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتی رہی، لیکن اب تشدد میں اضافے کے ساتھ ساتھ یہ بیرونی مدد مانگ رہی ہے اور بین الاقوامی سطح پر تحفظ فراہم کرنے کو کہہ رہی ہے۔ حزبِ اختلاف میں سے بعض افراد نے تو لیبیا کے انداز میں عالمی مداخلت کی اپیل بھی کی۔</p>
<p>جہاں تک امریکہ کا سوال ہے، حالیہ دخل اندازیوں سے معلوم ہوتا ہے&nbsp; کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں آزادی اور اپنے مفادات کو فروغ دینے میں مدد کرتو سکتا ہے، لیکن اِس سے صورتِ حال مزید خراب بھی ہوسکتی ہے، کیونکہ نتائج کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ اِس تناظر میں محض انتظار کرتے رہنا، جبکہ اسد حکومت اپنے عوام کو ذبح کرتی رہے، درست نہیں ۔</p>
<p>شام لیبیا نہیں ہے۔ کم سے کم نیٹو وہاں بمباری کے آپریشن نہیں کرے گی۔روس اور چین نے اقوام متحدہ میں شام کے خلاف قرارداد کو ویٹو کرتے ہوئے اپنے مؤقف کو واضح کر دیا ہے۔ امریکہ اور یورپ مشرقِ وسطیٰ میں اقوام متحدہ کی &nbsp;حمایت کے بغیر کوئی مزید &nbsp;جنگ &nbsp;شروع کرنے کے لیے تیار نہیں۔&nbsp; اِس وقت شام کے خلاف عائد پابندیاں شام کی سیاست پر اثرانداز ہورہی ہیں، خاص طور پر سفری &nbsp;پابندیوں اور اثاثوں کو جامد کرنے کے نتیجے میں شام میں سیاحت اور توانائی کے شعبوں کو تباہ کُن نقصان پہنچا ہے۔ شام کی کرنسی کی گِرتی قدر بھی اسد حکومت پر بے پناہ دباؤ کا باعث ہے۔</p>
<p>لیکن، اخبار کہتا ہے کہ، پابندیوں کا یقینی نتیجہ نکلے گا، یہ کوئی حتمی بات نہیں۔ 1990ء کی دہائی میں عراق میں صدام حسین کی حکومت کے خلاف اِسی نوعیت کی پابندیاں لاگو کی گئی تھیں۔ لیکن، صدام حسین نے صورتِ حال کو بچائے رکھا۔ لیکن، &nbsp;صدام حسین کے اقتدار ختم ہونے پر عراق کی معیشت کھوکھلی ہو چکی تھی اور جب امریکہ نے وہاں انتظام سنبھالہ تو معیشت کو از سرِ نو بحال کرنے کا آغاز ہوا اور اب بھی دس برس کے بعد عراق پورے طور پر بحال نہیں ہوسکا۔</p>
<p>روزنامہ &rsquo;نیویارک ٹائمز&lsquo; Egypt&rsquo;s Never Ending Revolutionکے عنوان سے اپنے ارادیے میں لکھتا ہے کہ مصر میں صورتِ حال کشیدہ ہے اور فوج سابق حکومت کا اقتدار ختم ہونے کے بعد سیاسی اور اقتصادی مسائل کے حل تلاش کرنے کے لیے سرگرداں ہے۔ مختلف سیاسی پارٹیاں اور گروپ اپنے اندر اتفاقِ رائے نہ ہونے کے باوجود فوج کے مخالف ہیں۔ لیکن، اخوان المسلمین سب سے ہٹ کر فوج کے ساتھ سودے بازی کی کوشش میں ہے۔ پارلیمانی انتخاب اور نئے آئین کے وعدوں کے باوجود صورتِ حال بدستور غیر مستحکم ہے۔</p>
<p>اخبار صورتِ حال کا تقابل 1954ء کے اوائل میں پیدا ہونے والی صورتِ حال سے کرتا ہے، جب گمال عبد الناصر اور اُن کے فوجی حلیف، جنھیں&nbsp; &rsquo;فِری آفیسرز&lsquo; کہا جاتا تھا، مصر میں اپنی قوت مضبوط کی۔</p>
<p>مصر کی تاریخ مستقبل کے لیے کوئی فارمولہ نہیں اور ماضی کے تباہ کُن راستے سے بچنے کے لیے مصری عوام کو ایسے طریقے تلاش کرنا ہوں گے کہ فوج اپنی منشا عوام پر اُسی انداز میں مسلط نہ کرے جیسا کہ ناصر نے 50کے عشرے میں کیا تھا۔</p>
<p>مصر میں گذشتہ برس جنوری میں شروع ہونے والے مظاہروں کے نتیجے میں 11فروری کو حسنی مبارک مستعفی ہوئے اور یہ صورتِ حال مثالی اور غیر معمولی رہی۔</p>
<p>آج کے انقلابی اور سرگرم کارکن سماجی انصاف، قومی وقار اور نمائندہ حکومت کے مطالبات کرتے ہیں بالکل اُسی طرح جیسے چھ دہائیاں قبل فوجی اقتدار کے مخالفین نے کیے تھے۔</p>
<p>ماضی کے سیاسی لائحہ عمل کو سمجھنے سے آج کے سرگرم کارکنوں، پارٹی لیڈروں اور لکھنے والوں کو مدد ملے گی کہ وہ اپنے ملک کے لیے ایک نئی اور نمایاں طور پر سیاسی تاریخ رقم کریں، خاص طور پر یہ بات اہم ہے، کیونکہ آج بھی مصر کے موجودہ فوجی حکمراں وعدہ کررہے ہیں کہ وہ جمہوریت کے لیے ماحول تیار کر رہے ہیں، لیکن اُن کی سرگرمیاں اِس دعوے کی سچائی کی دلیل نہیں ہیں۔</p>
<p>&rsquo;شکاگو سن ٹائمز&lsquo; اپنے &nbsp;اداریےBefore next war, check out veterans&rsquo; art museum میں &nbsp;لکھتا ہے کہ ہماری قوم ایک بار پھر جنگ کی باتیں کر رہی ہے اور اِس مرتبہ ایران کے ساتھ، اگرچہ ہم عراق اور افغانستان کی جنگوں سے پریشان ہیں۔</p>
<p>پھر ہتھیاروں اور فوجیوں پر اٹھنے والے خطیر اخراجات گرما گرم سیاسی بحث کا موضوع ہیں، &nbsp;جب کہ نیوٹ گنگرچ جیسے ناقدین کے مطابق پینٹا گان کے بجٹ میں کٹوتی ہمارے تحفظ کو کم کر دے گی۔</p>
<p>تفصیل کے لیے &nbsp;آڈیو رپورٹ &nbsp;سنیئے:</p>
<p>
<object classid="clsid:02bf25d5-8c17-4b23-bc80-d3488abddc6b" width="250" height="43" codebase="http://www.apple.com/qtactivex/qtplugin.cab#version=6,0,2,0">
<param name="src" value="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+0100+US+Press+Roundup-BG-02-11-2012.Mp3" /><embed type="video/quicktime" width="250" height="43" src="http://media.voanews.com/audio/Copy+of+0100+US+Press+Roundup-BG-02-11-2012.Mp3"></embed>
</object>
</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sun, 12 Feb 2012 00:53:28 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139163434</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بہجت گیلانی]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-12T00:53:28Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[دنیا]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/reuters_syria_aleppo_blast_480_10feb2012.jpg" length="83335" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/reuters_syria_aleppo_blast_480_10feb2012.jpg" medium="image" isDefault="true" height="319" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/reuters_syria_aleppo_blast_230_10feb2012.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>مصر: مبارک کو اقتدار سےہٹائے جانے کی سالگرہ</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/world/Egypt_Mubaraks_Overthrow_Anniversary_11Feb12-139158614.html</link>
				<description>’یومِ شہری نافرمانی ‘  کا اہتمام حکمراں فوجی کونسل سے اِس مطالبے پر کیا گیا کہ وہ  اقتدار سویلین انتظامیہ کے حوالے کردے۔ تاہم، ہڑتال سے عام زندگی زیادہ متاثر دکھائی نہیں دی اور یہ کہ تحریر چوک پر مظاہرین کی ایک قلیل تعداد جمع ہوئی</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>حسنی مبارک کو عہدہٴ صدارت سے علیحدہ کیے جانےکی پہلی سالگرہ کے موقعے پر، ہفتے کو مصر میں سرگرم کارکنوں نے ہڑتال اور مظاہرے کیے، تاہم،&nbsp; اِن میں لوگوں کی ایک مختصر تعداد شریک ہوئی۔ &nbsp;</p>
<p>&rsquo;یومِ شہری نافرمانی&lsquo; کا اہتمام حکمراں فوجی کونسل سے اِس مطالبے پر کیا گیا کہ وہ اقتدارایک سویلین انتظامیہ کے حوالے کردے۔ تاہم، ہڑتال سےعام زندگی زیادہ متاثر دکھائی نہیں دی اور یہ کہ تحریر چوک پر مظاہرین کی ایک قلیل تعداد جمع ہوئی۔</p>
<p>مصر کےایک شہری کا کہنا تھا کہ وہ گذشتہ برس کی کامیابیوں کو یاد کرنا چاہتےتھے، نہ کہ&nbsp; باقی ماندہ کام پر دھیان مرکوز کرنےپر۔</p>
<p>ابراہیم علی کے بقول،&rsquo;اِس دِن کو ہم &rsquo;جشن&lsquo; &nbsp;کا نام دیں گے،&nbsp; نہ کہ &nbsp;شہری نافرمانی کا&lsquo;۔</p>
<p>اُن کا کہنا تھا کہ ، مبارک نے استعفیٰ دے دیا اور اب ہر کوئی آرام کی فضا میں سانس لے رہا ہے۔ ہمیں مبارک کی بد عنوانی سے چھٹکارا ملا۔ ہم نے اُن کے بد دماغ ساتھیوں کو بھی راہ سے ہٹا دیا۔ تیس برسوں تک وہ ہماری قسمتوں سے کھیلتا رہا۔ اس لیے، اس دِن کو ہمیں شہری نافرمانی &nbsp;کا دِن قرار نہیں دینا چاہیئے، کیونکہ اگر ہم نے ایسا کیا تو اِس کے برے نتائج برآمد ہوں &nbsp;گے۔</p>
<p>اِس سلسلے میں، جمعے کو قاہرہ کی وزارتِ دفاع کے سامنے ہزاروں افراد نے ایک ریلی نکالی ، جِس میں مسلح افواج کی سپریم کونسل کی فوری&nbsp; رخصتی کا مطالبہ کیا گیا۔ فوجی کونسل ، جِس نے اُس وقت اقتدار سنبھالا جب &nbsp;گذشتہ برس مسٹر مبارک حکمرانی سے دستبردار ہوئے، کہا ہے کہ&nbsp; وہ سویلین حکمرانی کے دور کی طرف تیز تر پیش رفت &nbsp;کےحصول کے لیے کسی طرح کی &rsquo; دھمکیوں یا دباؤ&lsquo;&nbsp; میں نہیں آئیں گے۔</p>
<p>ہفتے کے روز فوجی حکمرانوں نےقاہرہ میں پینٹاگان کے ایک اعلیٰ جنرل سے ملاقات کی، ایسے میں جب امریکہ کی 16غیر سرکاری تنظیموں کے کارکنوں پر سرکشی کو ہوا دینے کے الزامات عائد کرنےکے معاملے پر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔</p>
<p>جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سربراہ، جنرل مارٹن ڈیمپسی نے فیلڈ مارشل حسین تنتوی اور فوجی کونسل کے متعدد دیگرارکان سے ملاقات میں سفارتی تعلقات پر بات چیت کی ہے، جس میں 43مقامی اور غیر ملکی سرگرم کارکنوں پر سفر کی پابندی لگائے جانے کا معاملہ شامل تھا۔ امریکہ نے کہا ہے کہ اِس معاملےکی چھان بین کی صورت میں مصر کو ملنے والی اربوں ڈالر کی بجٹ امداد خطرے میں پڑ سکتی ہے۔</p>
<p><br /> مصر کے فوجی حکمرانوں نے جون تک صدارتی انتخاب مکمل کرنے کا &nbsp;وعدہ کیا ہے، تاکہ ملک کوسویلین حکمرانی کےایک جمہوری دور کی طرف &nbsp;گامزن کیا جاسکے۔</p>
<p>حکمراں فوج ایک مرحلہ وار پارلیمانی انتخاب بھی منعقد کراچکی ہے، جِس کے باعث گذشتہ ماہ ایک نئی اسمبلی تشکیل پائی، &nbsp;جِس میں اسلامی جماعتوں کو اکثریت حاصل ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sat, 11 Feb 2012 21:56:56 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139158614</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-11T21:56:56Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[دنیا]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/ap_egypt_protest_11Feb12-resized.jpg" length="51478" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_egypt_protest_11Feb12-resized.jpg" medium="image" isDefault="true" height="306" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_egypt_protest_230_11Feb12-resized.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>مالدیپ میں فوری انتخابات ممکن نہیں: امریکی اہل کار</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/world/Maldives_US_Official_11Feb12-139156419.html</link>
				<description>سابق صدر محمد نشید اور نئے صدر محمد وحید حسن سے ملاقات کے بعد، امریکی نائب وزیرِ خارجہ رابرٹ بلیک نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ مالدیپ میں جلد انتخابات کےانتظامات مکمل  نہیں </description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>ایک امریکی عہدے دار، جو اِس وقت سیاسی مسائل سے دوچار مالدیپ کے دورے پر ہیں، ہفتے کے دِن کہا &nbsp;کہ اس جزیرہ نما ملک میں فوری انتخابات ممکن نہیں، جیسا کہ ملک کے سابق صدر نے تجویز کیا ہے۔ &nbsp;</p>
<p>سابق صدر محمد نشید اور نئے صدر محمد وحید حسن سے ملاقات کے بعد امریکی نائب وزیرِ خارجہ رابرٹ بلیک نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ مالدیپ جلد انتخابات کرانے کے لیےدرکار انتظامات مکمل نہیں ہیں۔</p>
<p>اُنھوں نے کہا کہ کئی لحاظ سے پولیس، انتخابی کمیشن اور عدلیہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابی عمل کےلیے تیار نہیں ہیں۔ اُنھوں نے سیاسی حلقوں کے درمیان وسیع تر رضامندی &nbsp;پر زور دیا ، ایسے میں جب وہ یہ بات طے کرنے کے مرحلے سے گزر رہے ہیں کہ پیش رفت کا حصول کس طرح ممکن ہے۔</p>
<p>اِس سے قبل آج ہی کے دِن صدر حسن نے امریکی اہل کار کو بتایا کہ وہ کسی &nbsp;تفتیش &nbsp;کے لیے تیار ہیں کہ اُنھوں نے اسی ہفتے کی &nbsp;سیاسی کایا پلٹ کی ذمہ داری کیوں قبول کی۔ صدر نشید نے منگل کو دباؤ کے تحت استعفیٰ پیش کیا، تاہم بعد میں اُنھوں نے بتایا کہ وہ فوجی انقلاب &nbsp;کا شکار ہوئے ہیں۔ اُن کے سابق نائب، مسٹر حسن کو گھنٹوں کےاندر اندر صدر کےعہدے پر فائز کیا گیا۔</p>
<p>امریکہ نے جمعرات کو مسٹر حسن کی انتظامیہ کو تسلیم &nbsp;کیا ، تاہم&nbsp; بعدازاں وہ &nbsp;کسی باضابطہ اعلان سے گریزاں رہی، یہ کہتے ہوئے کہ اقتدار کی منتقلی کےحالات &rsquo;وضاحت&lsquo; طلب ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sat, 11 Feb 2012 20:25:53 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139156419</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-11T20:25:53Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[دنیا]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/ap_maldives-protests_eng_480_8feb12.jpg" length="45508" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_maldives-protests_eng_480_8feb12.jpg" medium="image" isDefault="true" height="310" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_maldives_us_robert_blake_230_11Feb12-resized.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>نائیجر کا قذافی کے بیٹے کوملک بدر کرنےسے انکار</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/world/Niger-Gadhafi-Son-11Feb12-139155299.html</link>
				<description>جمعے کی رات گئے ’العربیہ‘ کو ٹیلی فون پر انٹرویو دینے کے بعد لیبیا کی حکمراں قومی عبوری کونسل نے سعدی قذافی کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا تھا</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>نائیجر نے لیبیا کے مقتول آمر معمر قذافی کے بیٹے کو ملک بدر کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعدی قذافی کو&nbsp; اُن کے ملک میں موت کا خطرہ لاحق ہے، جس پر اُن کے والد نے چار دہائیوں تک حکمرانی کی تھی۔</p>
<p>نائیجر حکومت کے ترجمان مارعو احمدو نے ہفتے کے روز نامہ نگاروں کو بتایا کہ وہ&nbsp; عدالت کی درخواست پر سعدی قذافی کوجرائم سے متعلق&nbsp; بین الاقوامی عدالت کے حوالے کردیں گے۔</p>
<p>جمعے کی رات گئے &rsquo;العربیہ&lsquo; کو ٹیلی فون پر انٹرویو دینے کے بعد لیبیا کی حکمراں قومی عبوری کونسل نے سعدی قذافی کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے خلاف ایک&nbsp; بغاوت جنم لے رہی ہے اور یہ کہ وہ &rsquo;کسی&nbsp; بھی لمحے&lsquo;&lsquo; لیبیا واپس&nbsp; پہنچ جائیں گے۔</p>
<p>احمدو نے ہفتے کو بتایا کہ سعدی قذافی کے بیان سے اُن شرائط کی خلاف ورزی ہوتی ہے، جِن کے باعث اُنھیں نائیجر میں رہنے کی اجازت دی جارہی ہے اور مزید کہا کہ اُن کی حکومت اُن کی حمایت نہیں کرتی۔ تاہم، اُنھوں نے کہا کہ قذافی کو کسی ایسی حکومت کے حوالے کیا جاسکتا ہے جہاں کا نظامِ عدل آزادنہ اور غیر جانبدار نہ ہو۔</p>
<p>قذافی اور اُن کے کچھ اتحادی&nbsp; لیبیا کے دارالحکومت طرابلس&nbsp; کی فتح کے بعدگذشتہ سال ستمبر میں&nbsp; وہاں سےنائیجر چلے گئے تھے۔</p>
<p>جرائم سے متعلق بین الاقوامی عدالت نے قذافی کے دوسرے بیٹے کے خلاف فردِ جرم عائد کر رکھی ہے، تاہم&nbsp; اُس نے سعدی قذافی کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا، جنھیں&nbsp; لیبیا&nbsp; کے پیشہ ور فٹبال کھیل سے وابستگی کی بنا پر جانا جاتا ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sat, 11 Feb 2012 19:36:19 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139155299</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-11T19:36:19Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[دنیا]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Saadi-Gadhafi-230X230.jpg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>کشمیر: نوجوان کی ہلاکت، مظاہرے</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/world/Indian-Kashmir-Youth-Killed-11Feb12-139154029.html</link>
				<description>بھارتی زیر ِانتظام کشمیر میں 22 سالہ مقامی نوجوان، عاشق حسین، کے ہلاک ہونے کے ساتھ ہی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا جِس میں سنیچر کو شدت آ گئی ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>بھارتی زیر ِانتظام کشمیر میں ایک نوجوان کی ہلاکت کے خلاف پُر تشدد مظاہرے ہوئے ہیں۔فائرنگ کا یہ&nbsp; واقعہ شمال مغربی ضلع بارہ مولہ کے رفیع آباد علاقے میں جمعے کی شام پیش آیا۔</p>
<p>واقع&nbsp; میں ہلاک ہونے والے 22سالہ مقامی نوجوان عاشق حسین کے ہلاک ہونے کے ساتھ ہی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا جِس میں سنیچر کو شدت آگئی۔ مظاہرین ہلاک شدہ نوجوان کی تجہیز و تکفین کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر رہے تھے کہ پہلے واقعے میں ملوث فوجیوں کو گرفتار کیا جائے۔</p>
<p>اُنھوں نے ایک بڑی شاہرہ پر رکاوٹیں کھڑی کردیں اور فوج کےخلاف نعرے بازی کی۔ پولیس نے طاقت استعمال کرکے مظاہرین کو منتشر کیا۔ متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ بعد میں، اعلیٰ فوجی اور سویلین حکام علاقے میں پہنچ گئے اور لوگوں کو یقین دلایا کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائے گی اور قصور وار فوجیوں کو قرارِ واقعی سزا دی جائے گی، جِس پر لوگ نوجوان کو سپردِ خاک کرنے پر آمادہ ہوگئے۔</p>
<p>اُدھر، سری نگر میں صوبائی وزیرِ اعلیٰ عمر عبد اللہ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ اُنھیں فائرنگ کے واقعے کے بارے میں متضاد اطلاعات مل رہی ہیں اور یہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی اس کی روشنی میں کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔</p>
<p>فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل جے ایس برار نے بتایا کہ فوجیوں کے علاقے میں مسلمان عسکریت پسندوں کے موجود ہونے کی خبر ملی تھی جس پر وہ چند نجی مکانوں کے قریب گھات لگا گر بیٹھ گئے۔</p>
<p>اِسی دوران، ایک فوجی کی بندوق سے اتفاقیہ طور پر گولی نکل گئی جو ایک مقامی نوجوان کےجا لگی اور وہ موقع ہی پر ہلاک ہوگیا۔</p>
<p>واقع کو &rsquo;افسوس ناک&lsquo; قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ ہلاک شدہ نوجوان کے لواحقین کو معقول معاوضہ ادا کیا جائے گا، جِس میں خاندان کے ایک فرد کو فوج میں نوکری فراہم کرنا بھی شامل ہے۔</p>
<p>دریں اثنا، کشمیری قوم پرست لیڈر اور جموں و کشمیر نیشنل لبریشن فرنٹ کے بانی محمد مقبول بٹ کی برسی پر وادی ٴکشمیر میں سنیچر کو کی گئی عام ہڑتال کی وجہ سے کاروبارِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sat, 11 Feb 2012 18:35:58 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139154029</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[یوسف جمیل]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-11T18:35:58Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[دنیا]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Reut_KashmirSrinagar_4dec11-resizedpx300.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>جوہری ’کامیابی‘ کا اعلان جلد کریں گے، احمدی نژاد</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/iran-nuke-11feb12-139148664.html</link>
				<description>ایرانی صدر نے اس بات کی مزید وضاحت نہیں کی تاہم انھوں نے اپنے متنازع جوہری پروگرام پر مغربی قوتوں سے بات چیت کے لیے ایران کی رضامندی کا اعادہ بھی کیا۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ ان کا ملک جلد ہی اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے &rsquo;&rsquo;بڑی کامیابی&lsquo;&lsquo; کا اعلان کرے گا۔</p>
<p>یہ بات انھوں نے ملک میں اسلامی انقلاب کی تینتیسویں سالگرہ کے موقع پر نکالی گئی ایک بڑی ریلی سے تہران میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔</p>
<p>احمدی نژاد نے اس بات کی مزید وضاحت نہیں کی تاہم انھوں نے اپنے متنازع جوہری پروگرام پر مغربی قوتوں سے بات چیت کے لیے ایران کی رضامندی کا اعادہ بھی کیا۔</p>
<p>امریکہ اور مغربی قوتوں کو خدشہ ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کی آڑ میں ایٹمی ہتھیار تیار کررہا ہے جب کہ تہران کا اصرار ہے کہ اس کا پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔</p>
<p>حالیہ ہفتوں میں امریکہ اور یورپی یونین نے ایران کو جوہری پروگرام سے باز رکھنے کے لیے مختلف پابندیاں عائد کی ہیں جن میں اس کے مرکزی بینک کے اثاثے منجمد کرنے سمیت تیل کی برآمدات پر تعزیرات بھی شامل ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sat, 11 Feb 2012 13:54:42 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139148664</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-11T13:54:42Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Iranian+President+Ahmadinejad_01_08_12_480X300.jpg" length="108220" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Iranian+President+Ahmadinejad_01_08_12_480X300.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/iran_ahmadinejad_300x300_ap.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>مصر اور امریکہ کے درمیان نیا ’تنازع‘</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/egypt-us-ngo-11feb11-139139904.html</link>
				<description>وزیرِ اعظم کمال الغنزوری ان امریکیوں کے خلاف کیس چلانے  کا دفاع کر رہے ہیں، اگرچہ یہ خطرہ موجود ہے کہ اگر ان لوگوں پر مقدمہ چلایا گیا تو امریکی امداد ختم ہو سکتی ہے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">قاہرہ کے تحریر اسکوائر&nbsp; میں عرب موسم بہار کے ابتدائی دنوں کا جوش و خروش دیدنی تھا ۔ روزانہ یہاں ہزاروں مصری جمع ہوتے&nbsp; اور&nbsp; یہ وسیع و عریض چوک&nbsp; ملک کی جمہوری امنگوں&nbsp; کے لیے شاندار اسٹیج بن جاتا۔ لیکن اب &nbsp;جب کہ نئے موسمِ بہار کی آمد &nbsp;آمدہے، یہاں سے کچھ فاصلے پر امریکی سفارت خانے میں&nbsp; ایک نیا ڈرامہ&nbsp; شروع ہونے کو ہے ۔</p>
<p dir="rtl">سفارت خانے میں کئی امریکیوں نے پناہ لے رکھی ہے۔ ان پر مصر میں جمہوری تبدیلی کو نقصان&nbsp; پہنچانے کا الزام ہے۔</p>
<p dir="rtl">وزیرِ اعظم کمال الغنزوری ان امریکیوں کے خلاف کیس چلانے &nbsp;کا دفاع کر رہے ہیں، اگرچہ یہ خطرہ موجود ہے کہ اگر ان لوگوں پر مقدمہ چلایا گیا تو امریکی امداد ختم ہو سکتی ہے۔&rsquo;&rsquo; مصر قانون کی &nbsp;پابندی &nbsp;کرے گا اور اس پر عمل در آمد کرے گا۔ مصر کہ تہذیب ہزاروں سال پرانی ہے۔ لہٰذا ، چاہے امداد ملے یا نہ ملے، ہم اپنے موقف سے نہیں ہٹیں گے۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p dir="rtl">امریکی محکمۂ خارجہ کے ڈپٹی اسسٹنٹ سکریٹری ارون سنائپ کہتے ہیں&nbsp; کہ اوباما انتظامیہ کو مصر کے رویے پر سخت مایوسی ہوئی ہے۔ &rsquo;&rsquo;مصر کی حکومت&nbsp; کو ان امریکیوں پر فرد جرم عائد کرنے کے فیصلے &nbsp;کے نتائج بھگتنے ہوں گے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں اپنے رابطے بر قرار رکھنے چاہئیں&nbsp; کیوں کہ ہم مصر کے عوام اور مصری حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات کی قدر کرتے ہیں۔ یقیناً ہمارے درمیان کچھ اختلافات ہیں، اور کچھ ایسی دشواریاں بھی ہیں جن پر ہمیں قابو پانا ہے۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p dir="rtl">مسٹر مبارک کے خلاف عوامی تحریک کے بعد، بیشتر امریکی &nbsp;نئے قانون سازوں کے انتخابی عمل میں مدد کے لیے قاہرہ&nbsp; میں موجود تھے ۔ &nbsp;امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ وہ انتخابات میں مدد دے رہے تھے، کسی مخصوص امیدوار یا پارٹی کی حمایت نہیں کر رہے تھے۔ لیکن مصری جج سمیع ابو زید کہتے ہیں کہ یہ کہنا صحیح نہیں ہے۔ &rsquo;&rsquo; ان کی بیشتر سرگرمیاں سیاسی تھیں اور ان کا تعلق سیاسی پارٹیوں کی تربیت، اور کسی ایک یا دوسرے امیدوار کے لیے ووٹروں کی &nbsp;حمایت حاصل کرنے سے تھا۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p dir="rtl"><br />وزیرِ اعظم الغنزوری نے کہا کہ غیر ملکی گروپ مصر کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہے تھے۔ &rsquo;&rsquo;وہ ایک خاص طریقے کی تربیت دے رہے&nbsp; تھے ، اور میں نہیں جانتا کہ اس کا مقصد کیا ہے۔ کیا اس کا مقصد فوجی حکومت کا تختہ الٹنا ہے؟ اگر ایسا ہے، تو پھر اس کے بعد کیا ہوگا؟&lsquo;&lsquo;</p>
<p dir="rtl">بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے فیلو خالد الغندی کہتے ہیں کہ مبارک حکومت کی باقیات کا مقصد یہ ہے کہ ان الزامات کے ذریعے لوگوں کی توجہ&nbsp; قاہرہ میں پھیلی ہوئی بے چینی سے ہٹا کر &nbsp;دوسری طرف مبذول کر دی جائے ۔&rsquo;&rsquo;انھوں نے کوشش کی ہے کہ لوگوں میں جو بے اطمینانی پھیلی ہوئی ہے اس کا الزام خارجی اثرات اور غیر ملکی عناصر کی سازشوں کے سر ڈال دیا جائے ۔ بعد میں، سازشوں کی ان کہانیوں&nbsp; کے لیے&nbsp; انہیں نام&nbsp; اور مقامات بھی ڈالنے پڑے۔ آسان کام یہی ہے کہ سارا الزام ان غیر سرکاری تنظیموں کے سر منڈھ دیا جائے&nbsp; جو مصر میں، گذشتہ سال کی عوامی شورش سے بھی پہلے سے کام کرتی رہی ہیں۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p dir="rtl">امریکی عہدے دار کہتے ہیں کہ واشنگٹن اور قاہرہ کے لیے &nbsp;اس کیس کے مضمرات بہت وسیع ہوں گے ۔ &nbsp;نہ صرف فوجی امداد، بلکہ اسرائیلی فلسطینی امن مذاکرات کے لیے امریکی حمایت ، نیز شام میں تشدد ختم کرنے کی کوششیں بھی&nbsp; اس کیس سے متاثر ہو سکتی ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sat, 11 Feb 2012 04:45:04 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139139904</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[اسکاٹ اسٹرنز]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-11T04:45:04Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/uzbek_egypt_ngo_raid.jpg" length="44610" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/uzbek_egypt_ngo_raid.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/uzbek_egypt_prime-minister.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>چینی وزیرِاعظم کا تبت میں حب الوطنی کے فروغ پر زور</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/world/China_Tibet_10Feb12-139131529.html</link>
				<description>وزیرِاعظم نے بودھ رہنما پر زور دیا کہ وہ تبتی بدھوں کے مذہبی فلسفے پر اپنی &quot;تحقیق کو وسعت&quot; دیں تاکہ وہ  بودھ بھکشووں اور ان کےپیروکاروں کو ملک سے محبت اور ملکی قوانین کی پابندی پہ مائل کرسکیں</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>چین کے وزیرِاعظم وین جیا باؤ نے بیجنگ حکومت کی جانب سے تعینات کردہ تبت کے بودھ باشندوں کے روحانی پیشوا کو ہدایت کی ہے کہ وہ علاقے میں حب الوطنی کو فروغ دینے اور ملک کے جنوب مغربی علاقے میں بسنے والے تبتی باشندوں کو چین کی حمایت پہ راغب کرنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔</p>
<p>چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'ژنہوا' کے مطابق چینی وزیرِاعظم نے بدھ بھکشووں کے سرکاری طور پر نامزد روحانی پیشوا پانچن لاما کو یہ ہدایت جمعہ کو بیجنگ میں ہونے والی ملاقات میں دی۔</p>
<p>ایجنسی کے مطابق وزیرِاعظم نے بودھ رہنما پر زور دیا کہ وہ تبتی بدھوں کے مذہبی فلسفے پر اپنی "تحقیق کو وسعت" دیں تاکہ وہ&nbsp; بودھ بھکشووں اور ان کےپیروکاروں کو ملک سے محبت اور ملکی قوانین کی پابندی پہ مائل کرسکیں۔</p>
<p>چینی وزیرِاعظم نے ملاقات میں مزید کہا کہ تبت کی علاقائی ثقافت اور آزادیوں کے تحفظ کے لیے انتہائی کوششیں کی جائیں گی۔</p>
<p>یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب تبتی باشندوں کی جلاوطن تنظیموں کے مطابق علاقے پر چین کے قبضے کے خلاف رواں ہفتے مزید دو افراد نے خودسوزی کرلی ہے، جب کہ چین مخالف مظاہروں پر پولیس کی فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔</p>
<p>چینی صوبوں سیچوان اور شنگی میں پیش آنے والی ان تازہ ترین خود سوزیوں کے بعد اس نوعیت کے واقعات کی تعداد 21 ہوگئی ہے جن کا سلسلہ بودھ بھکشووں، راہباؤں اور ان کے حامیوں کی جانب سے گزشتہ برس شروع کیا گیا تھا۔</p>
<p>تبتی باشندوں کی جلاوطن تنظیموں کا کہنا ہے کہ مارچ 2011ء میں سیچوان کی ایک بودھ عبادت گاہ&nbsp; میں ایک نوجوان بودھ بھکشو کی خودسوزی سے شروع ہونے والے اس منفرد احتجاج کے دوران میں اب تک نو افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sat, 11 Feb 2012 00:51:13 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139131529</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-11T00:51:13Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[دنیا]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/US_China_Human_Rights_WEB_4x301.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>ماسکو: امریکی سفارتخانے کےسامنےمظاہرہ</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/world/Russia_USEmbassy_10Feb12-139130729.html</link>
				<description>ویسےتو یہ ایک معمول بن چکا ہے، لیکن پھربھی یہ مظاہرہ اتنی تیزی سے ہوا کہ رپورٹروں کے پہنچنےسے پہلے ہی یہ ختم بھی ہو چکا تھا</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکہ اور روس کےتعلقات کی &nbsp;از سر ِنوتشکیل&nbsp; کے لئے، مائیکل مک فال نےتین سال تک وائٹ ہاؤس میں کام کیا۔ لیکن سرد جنگ کے ختم ہونے پر روس میں سفیر بننے کے &nbsp;کچھ ہی دنوں بعد، اُنھیں &nbsp;سخت ترین &nbsp;امریکہ مخالف بیانات کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔</p>
<p>&rsquo;نیٹ ورک آف پیوٹن سپورٹرز&lsquo; کہلانے والے ایک گروپ نے اِس جمعرات کو ماسکو میں امریکی سفارتخانے کے سامنے عجلت سے ایک مظاہرہ کیا۔&nbsp; ویسے تو یہ&nbsp; ایک معمول بن چکا ہے، لیکن پھر بھی یہ مظاہرہ اتنی تیزی سے ہوا کہ رپورٹروں کے پہنچنے سے پہلے ہی یہ ختم بھی ہو چکا تھا۔</p>
<p>روس کی صدارت کے لئے چلائی جانے والی&nbsp; انتخابی مہم کے دوران ، &nbsp;گذشتہ ماہ امریکی سفارتخانہ ایک مسئلے کے طور پر سامنے آیا ہے۔&nbsp; &nbsp;</p>
<p>وزیر اعظم ولادیمیر پیوٹن نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت مخالف مظاہرین، امریکی حکومت کی تنخواہ پر کام کر رہے ہیں۔ حکمران جماعت کے قانون سازوں کا کہنا ہے کہ کوئی بھی قانونساز جو امریکی سفارتخانے میں داخل ہوتا ہے، وہ غدار ہے۔&nbsp;</p>
<p>اپنی تعیناتی کے دوسرے ہی دن، امریکی سفیر مائیکل مک فال کو&nbsp; روس کے سرکاری ٹیلی ویژن پر&nbsp; ایک ایسا شخص قرار دیا گیا جو روس میں عرب بیداری تحریک&nbsp; جیسی بے چینی کو ہوا دینے کے لئے ایک خفیہ مشن پر آیا ہے۔</p>
<p>سفارتخانے کے اندر اور باہر، اِس بات پر بحث ہو رہی ہے کہ کیا یہ انتخابات سے پہلے کی سیاست ہے یا پھر دوطرفہ تعلقات کی از سرِ نو تشکیل کا خاتمہ۔</p>
<p>ماسکو میں کارنیگی سینٹر کےتجزیہ کار، نکولائی پیٹروو کا کہنا ہے کہ مسٹر پیوٹن چار مارچ کو ہونے والےانتخابات سے پہلے، اپنی ریٹنگ کو بہتر بنانے کے لئے منفی طرز عمل اختیار کئے ہوئے ہیں۔</p>
<p>&nbsp;پیٹروو کہتے ہیں&rsquo;کریملن اِس وقت انتخابات پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے ، اور امریکہ مخالف کارڈ کو&nbsp; ترپ کے پتے کے طور پر کھیل رہا ہے&lsquo;۔</p>
<p>پیٹروو کا کہنا ہے کہ رائے شماری سے تین ہفتے پہلے، مسٹر پیوٹن کو ایک ایسے &nbsp;دشمن کی ضرورت ہے جس پر لوگ یقین کر لیں۔ اور امریکہ بطور واحد&nbsp; سپر پاور کے اس &nbsp;کے لئے نہایت موزوں ہے&lsquo;۔</p>
<p><br /> اِس میں خطرہ یہ ہے کہ سفیر مک فال پر کیا گیا حملہ وائٹ ہاؤس پر حملہ خیال کیا جاتا ہے۔ اگر چار مارچ کے بعد بھی یہ حملے جاری رہے ، تو تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر&nbsp; اوباما روس سے متعلقہ امور پر&nbsp; یہ خیال کرتے ہوئے کم وقت صرف کریں گے کہ تعلقات &nbsp;کی از سر نو تشکیل کے کوئی نتائج نہیں نکل رہے۔</p>
<p>توقع کی جا رہی ہے کہ مسٹر پیوٹن مارچ&nbsp; میں ہونے والے انتخابات میں تیسری مدت کے لئے&nbsp; صدر منتخب ہو جائیں گے۔&nbsp; یا تو وہ چار مارچ کو پہلے مرحلے کے انتخابات میں منتخب ہو جائیں گے یا پھر&nbsp; پچیس مارچ کو دوسرے مرحلے کے انتخاب میں۔ <br /> <br /> حالانکہ صدر باراک اوباما تین سال سےصدر کے عہدے پر فائز ہیں، لیکن وہ مسٹر پیوٹن کو&nbsp; زیادہ نہیں جانتے۔&nbsp; کیونکہ پروٹوکول کے اعتبار سے امریکی صدر کی تمام ملاقاتیں، صدر دمتری میدویدیف سے ہوئی ہیں۔ &nbsp;</p>
<p><br /> گزشتہ تین سالوں کے دوران دونوں صدور نے تعلقات کی از سر نو تشکیل &nbsp;کی پالیسی کو اپناتے ہوئے، مشترکہ مقاصد پر کام کیا ہے۔</p>
<p>&nbsp;تاہم، &nbsp;مارک فےگن سمیت دیگر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ تعلقات میں بہتری کی پالیسی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ فے گن&nbsp; کی پیش گوئی ہےکہ انتخابات &nbsp;کے فوری بعد، کریملن کے عہدیدار امریکہ مخالف بیانات میں کمی کر کے امریکہ روس تعلقات کو پہنچنے والے نقصان کو بھی کم کر دیں گے۔</p>
<p><br /> اِن حالات &nbsp;میں سرد جنگ کا جوشِ خطابت بھی فروری کی برف کے ساتھ ہی پگھل جائے گا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Sat, 11 Feb 2012 00:36:38 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139130729</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[جیمس بروک / انجم ہیرلڈ گِل]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-11T00:36:38Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[دنیا]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/voa_russia_protesters_putin_4feb12_eng_480.jpg" length="67219" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/voa_russia_protesters_putin_4feb12_eng_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="320" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/protests-in-russia.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>عافیہ صدیقی اپیل کیس، سماعت</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/world/Aafia_Siddiqui_Case_Hearing_10Feb12-139125089.html</link>
				<description>کمرہٴ عدالت کھچاکھچ بھرا ہوا تھا، جِس میں زیادہ تعداد ڈاکٹر صدیقی کے حامی نوجوانوں کی تھی</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>جمعے کو نیو یارک میں یو ایس کورٹ آف اپیل میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی اپیل کی سماعت ہوئی۔ &nbsp;تین ججوں کے پینل نے ستمبر 2010 کے اس فیصلے کے خلاف اپیل سنی، جِس میں انہیں افغانستان میں امریکی فوج اور ایف بی آئی کے اہلکاروں پر قاتلانہ&nbsp; حملہ کرنے کے جرم میں 86 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔</p>
<p>&nbsp;اپیل کا فیصلہ آنے میں چند ہفتے سے لے کر چند ماہ تک کا وقت لگ سکتا ہے۔</p>
<p>سماعت کے دوران کمرہٴ عدالت کھچاکھچ بھرا ہوا تھا، جِس میں زیادہ تعداد ڈاکٹر صدیقی کے حامی نوجوانوں کی تھی۔ لوگوں کو عدالت میں داخل ہونے کے لیے ایک گھنٹے تک انتظار کرنا پڑا۔</p>
<p>ڈاکٹر صدیقی نے اپنا ابتدائی مقدمہ ہارنے کے بعد کمرہ عدالت میں کہا تھا کہ وہ اپیل کا حق استعمال کرنا چاہتی ہیں، لیکن اس کے &nbsp;ایک ماہ بعد ہی انہوں نے ایک خط لکھا تھاجس میں انہوں نے کہا&nbsp; تھا کہ وہ اپیل کے حق سے دستبردار ہوتی ہیں۔</p>
<p>اس کے باوجود عدالت کی طرف سے نامزد وکیل ڈان کارڈی نے اپریل 2011 میں&nbsp; ان کے حق میں اپیل یہ کہہ کر دائر کر دی تھی کہ یہ ان کی ذمّہ داری ہے۔</p>
<p>امریکہ کی معروف درسگاہوں میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی یا ایم آئی ٹی اور بریننڈائس یونیورسٹیوں سے تعلیم یافتہ نیو رو سائنسدان ڈاکٹر صدیقی کو 2008 میں افغانستان کے صوبے غزنی کے ایک بازار سے افغان پولیس نے حراست میں لیا تھا۔&nbsp;&nbsp; ان پر الزام تھا کہ وہ صوبے کے گورنر کی رہائش گاہ کے آس پاس مشکوک حالت میں پائی گئی تھیں اور گرفتاری کے وقت ان کے پرس میں سے بم بنانے کے نسخے، شیشے کے جار میں کچھ کیمیائی مادّے، نیو یارک شہر کے مشہور مقامات کے نقشے اور کچھ اور مشکوک اشیاء برآمد ہوئی تھیں۔</p>
<p>اگلے روز جب امریکی فوج اور ایف بی آئی کے اہلکار اُن سے تفتیش کرنے افغان پولیس سٹیشن پہنچے، تو انہیں ایک ایسے کمرے میں لے جایا گیا جہاں ڈاکٹر صدیقی ایک پردے کے پیچھے بیٹھی تھیں۔ استغاثہ کے مطابق ایک امریکی فوجی نے اپنی رائفل زمین پر رکھی تو ڈاکٹر صدیقی نے اسے اٹھا&nbsp; کر امریکیوں پرحملہ کر دیا اور جوابی فائرنگ میں خود بھی زخمی ہو گئیں۔ &nbsp;اس کے بعد انہیں افغانستان سے نیو یارک منتقل کر دیا گیا جہاں ان پر مقدمہ چلایا گیا تھا۔</p>
<p>مقدمے میں سزا کے بعد جج نے انہیں ٹیکساس کی ایک ایسی جیل میں رکھنے کی ہدایت دی جہاں ان کا ذہنی علاج بھی کیا جا سکے۔</p>
<p>ابتدا میں ڈاکٹر صدیقی کے مقدمے کی پیروی پانچ وکیلوں نے کی تھی جن میں سے تین کے اخراجات حکومتِ پاکستان نے ادا کیے تھے اور اِس کے لیے 20 لاکھ ڈالر مختص کیے گئے تھے۔&nbsp; &nbsp;ابتدائی مقدمے کے بعد اب حکومت پاکستان اپیل کے لیے ان کے قانونی اخراجات برداشت نہیں کر رہی۔ البتہ، حال ہی میں امریکہ میں پاکستان کی نئی سفیر شیری رحمان نے ڈاکٹر صدیقی کے خاندان کی وکیل ٹینا فوسٹر سے ملاقات کی تھی اور ان کے مقدمے اور ان کی ذاتی صورتحال کے بارے میں معلومات حاصل کی تھیں۔</p>
<p>ڈاکٹر صدیقی 2008ء میں منظر عام پر آنے سے قبل پانچ سال غائب رہی تھیں۔&nbsp; ان کے خاندان والوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ انہیں 2003ء میں ان کے تین بچوں سمیت پاکستان سےاغوا کیا گیا تھا اور امریکی حراست میں ان پر تشدد کیا گیا، جِس سے اُن کی ذہنی حالت خراب ہو گئی ہے۔ جبکہ امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر صدیقی القاعدہ کی رکن اور گیارہ ستمبر کے حملوں کے ماسٹر مائینڈ خالد شیخ محمد کے ایک رشتہ دار کی اہلیہ ہیں اور خالد شیخ سے تفتیش کے دوران ان کا نام سامنے آیا تھا، جس کے بعد وہ اپنے بچوں کو لے کر 2003ء میں روپوش ہو گئی تھیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 22:53:14 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139125089</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[عائشہ تنظیم]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-10T22:53:14Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[دنیا]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Aafia300x3001.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>جنوبی و شمالی سوڈان مذاکرات کی میز پہ واپس آئیں: اقوامِ متحدہ</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/world/Sudan_UNChief_10Feb12-139119944.html</link>
				<description>دونوں ممالک کے درمیان ایتھوپیا میں ہونے والے مذاکرات کے نئے دور سے قبل اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے جمعہ کو ایک بیان جاری کیا ہے،  جس میں نے دونوں حکومتوں پر مذاکراتی عمل سے جڑے رہنے  اور تمام اختلافی امور کو اتفاقِ رائے سے طے کرنے پر زور دیا گیا ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے تیل کےتنازع پر سوڈان اور نوآزاد مملکت جنوبی سوڈان کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p>دونوں ممالک کے درمیان ایتھوپیا میں ہونے والے مذاکرات کے نئےدور سے قبل اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے جمعہ کو ایک بیان جاری کیا ہے، جس میں نے دونوں حکومتوں پر مذاکراتی عمل سے جڑے رہنے اور تمام اختلافی امور کو اتفاقِ رائے سے طے کرنے پر زور دیا گیا ہے۔</p>
<p>قبل ازیں، بین الاقوامی مبصر تنظیم 'گلوبل وٹنس' نے عالمی برادری پر زور دیا تھا کہ جنوبی سوڈان اور سوڈان کے درمیان تیل کے شدید ہوتے تنازع کے حل کے لیے فوری مداخلت کی جائے ورنہ، تنظیم کے بقول، صورتِ حال سنگین ہونے کا خطرہ ہے۔</p>
<p>قدرتی ذخائر کی صورتِ حال پر نظر رکھنے والی بین الاقوامی تنظیم نے جمعہ کو جاری کیےگئے اپنے بیان میں کہا تھا کہ فریقین کے درمیان کسی معاہدے پر اتفاقِ رائے کے حصول کے لیے افریقی یونین، چین اور مغربی ممالک کو انتہائی سطح کی سفارت کاری استعمال کرنی چاہیئے۔</p>
<p>تنظیم کے مطابق دونوں سوڈانوں کے درمیان عوامی روابط انتہائی کشیدگی کا شکار ہیں اور دونوں جانب سے اس طرح کے اشارے مل رہے ہیں کہ جنگ اب زیادہ دور نہیں رہی۔</p>
<p>دونوں ممالک کے درمیان تنازع یہ ہے کہ خشکی سے گھرے جنوبی سوڈان کی جانب سے اپنے تیل کی بیرونی دنیا کو ترسیل&nbsp; کے لیے راہداری کی فراہمی کے عوض سوڈان&nbsp; کو کتنا معاوضہ ادا کیا جائے۔</p>
<p>واضح رہے کہ گزشتہ سال سوڈان سے علیحدہ ہونے والا جنوبی علاقہ تیل کی دولت سے مالا مال ہے لیکن اس کے پاس کوئی آئل ریفائنری موجود نہیں اور وہ اپنے خام تیل کی برآمد کے لیے شمالی سوڈان کی پائپ لائنوں کا محتاج ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 21:46:48 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139119944</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-10T21:46:48Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[دنیا]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Gold-Sudan-South-Sudan-300-R.png" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>بچت اقدامات کے خلاف یونان میں مظاہرے، جھڑپیں</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/world/Athens_Protests_10Feb12-139113304.html</link>
				<description>مظاہرین نے شہر کی کئی سڑکیں مختلف اشیا کو آگ لگا کر بند کردیں اور پولیس اہلکاروں پر کاک ٹیل بم اور پتھر برسائے جن کا پولیس  نے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج سے جواب دیا</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>یورپی یونین کے مزید مطالبات اور حکومت کی جانب سے نئے بچت اقدامات&nbsp; کے اعلان کے بعد یونان میں احتجاج اور جھڑپوں کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوگیا ہے۔</p>
<p>جمعہ کودارالحکومت ایتھنز میں مظاہرین اور پولیس اہلکاروں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں ۔ مظاہرین نے شہر کی کئی سڑکیں مختلف اشیا کو آگ لگا کر بند کردیں اور پولیس اہلکاروں پر کاک ٹیل بم اور پتھر برسائے جن کا پولیس&nbsp; نے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج سے جواب دیا۔</p>
<p>
<object width="480" height="350" data="http://media.voanews.com/designvideo/slideshowXML.swf?xmlfile=http://www.voanews.com/templates/SlideshowPro.xml?contentid=139094264&amp;xmlfiletype=Default" type="application/x-shockwave-flash">
<param name="data" value="http://media.voanews.com/designvideo/slideshowXML.swf?xmlfile=http://www.voanews.com/templates/SlideshowPro.xml?contentid=139094264&amp;xmlfiletype=Default" />
<param name="name" value="slideshowXML" />
<param name="bgcolor" value="#ffffff" />
<param name="align" value="middle" />
<param name="src" value="http://media.voanews.com/designvideo/slideshowXML.swf?xmlfile=http://www.voanews.com/templates/SlideshowPro.xml?contentid=139094264&amp;xmlfiletype=Default" />
<param name="allowfullscreen" value="true" />
<param name="quality" value="high" />
</object>
</p>
<p>تاہم ملک کے دیگر شہروں میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے پرامن رہے جہاں ہزاروں افراد نے سڑکوں پر جلوس نکالے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔</p>
<p>دریں اثنا، یونان کی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما الیکا پاپاریگا نے خبردار کیا ہے کہ اب یونان کو کوئی چیز نہیں بچا سکتی۔ ان کے بقول "اگر یہ انسانوں کا گوشت بھی کھانا شروع کردیں تب بھی یونان کو نادہندہ قرار دیے جانے سے نہیں روک سکتے۔ اس سے بچنے کے لیے ہمیں یورپی یونین سے آزاد ہونا ہوگا"۔</p>
<p>تاہم، &nbsp;یونان کے وزیرِاعظم لوکاس پاپاڈیموس نے کہا ہے کہ ان کے ملک کےپاس یورپی یونین کی جانب سے مہیا کردہ 172 ارب ڈالرز کے بیل آؤٹ پیکج کی سخت شرائط سے اتفاق کے سوا اور کوئی صورت موجود نہیں۔</p>
<p>حکومت کی جانب سے پیش کردہ نئے بچت اقدامات پر ملکی پارلیمان میں اتوار کو رائے شماری متوقع ہے جس میں ملک میں کم از کم تنخواہ کے موجودہ معیار میں 22 فی صد کمی اور 15 ہزار سرکاری ملازمتوں کے خاتمے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔</p>
<p>گوکہ مذکورہ اقدامات پر بیشتر قانون سازوں کا اتفاق ہوچکا ہے تاہم مجوزہ بچت منصوبے پر بطورِ احتجاج پانچ وزرا نے جمعہ کو کابینہ سے استعفیٰ دے دیا ہے جن میں سے چار کا تعلق دائیں بازو کی 'لائوس پارٹی' سے ہے۔</p>
<p>ادھر مختلف یونینوں نے ملک میں دوروزہ عام ہڑتال شروع کردی ہے اور ملک کے بیشتر شہروں میں مشتعل احتجاجی مظاہرین&nbsp; سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 20:49:31 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139113304</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-10T20:49:31Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[دنیا]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/4801299.jpg" length="141969" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/4801299.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/2301551.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>بلوچستان پر سماعت: پاکستان  کو ’سخت تشویش‘ ہے: پاکستانی سفیر</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/world/Sherry-Rehman-US-Hearing-on-Baluchistan-10Feb12-139105689.html</link>
				<description>ایک اہلکار نے سفیر کے حوالے سے بتایا کہ ایسےموڑ پر جب پاکستان اور امریکہ دہشت گردی کے خلاف ایک مشترکہ کارروائی میں مصروف ہیں اِس طرح کا طرز عمل، باہمی تعلقات کو نقصان پہنچانے کا باعث بنے گا   </description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>امریکہ میں پاکستان کی سفیر شیری رحمٰن نے امریکی کانگریس کے ارکان اور امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ اہل کاروں سے ملاقاتوں کا ایک&nbsp; سلسلہ شروع کر دیا ہے، جِن میں وہ&nbsp;&nbsp; امریکی ایوانِ نمائندگان کی امورِ خارجہ کی سب کمیٹی کی طرف سے بلوچستان پر کی گئی خصوصی سماعت&nbsp; کے معاملے کو اُٹھارہی ہیں۔&nbsp; یہ بات جمعے کے روز واشنگٹن میں پاکستانی عہدے داروں نے بتائی۔</p>
<p>شیری رحمٰن نے کہا کہ پاکستان&nbsp; اِس سماعت کے مقاصد اور نتائج&nbsp; کو &rsquo;سختی سے مسترد کرتا ہے&lsquo;، اور اِنھیں &rsquo;نامناسب اور نا&nbsp; عاقب اندیشانہ&lsquo;&nbsp; سمجھتا ہے، جِن کے باہمی&nbsp; تعلقات&nbsp; پر&nbsp; سنگین نتائج مرتب ہوں گے۔</p>
<p>اُنھوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان ملک&nbsp; کے مختلف&nbsp; علاقوں&nbsp; کے بنیادی حقوق اور آزادی کے تحفظ کے معاملےکے دفاع&nbsp; پر سختی سے کاربند ہے۔</p>
<p>سفیر نے کہا کہ پاکستان سماعت کے معاملے کو &rsquo;سخت تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے&lsquo;&nbsp; اور اِسے صاف طور پر ناقابلِ قبول خیال کرتا ہے۔</p>
<p>اُنھوں نے کہا کہ اس قسم کا اقدام پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے۔</p>
<p>&nbsp;اُن کے بقول، سماعت&nbsp; دونوں ملکوں کے درمیان باہمی اعتماد&nbsp; اور بھروسے کی فضا&nbsp; کے&nbsp; قیام میں معاون ثابت نہیں ہوگی،&nbsp; اور یہ کہ اِس کے باعث پاکستان کے اندر،&nbsp;&nbsp; اِس خطے اور پاکستان سے متعلق امریکی&nbsp; عزائم&nbsp; کے بارے میں شکوک&nbsp; کا باعث بنے گی۔</p>
<p>ایک اہلکار نے سفیرکے حوالے سے بتایا کہ اِس سےایک ایسے حساس مرحلے پر جبکہ دونوں ممالک کے لیے اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے مشترکہ دشمن پر توجہ مرکوز کریں، دوطرفہ تعلقات اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان اور امریکہ کی جنگ پر سب سے زیادہ ضرب لگے گی۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 19:04:34 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139105689</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-10T19:04:34Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[دنیا]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Sherry_Rehman_480.jpg" length="21835" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Sherry_Rehman_480.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/sherry+rehman_230.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>ملائیشیا: اسلام کی بے حرمتی پر سعودی صحافی گرفتار</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/world/Malaysia-Saudi-Arrest-10Feb12-139103989.html</link>
				<description>23 سالہ صحافی حمزہ کاشغری اپنے متنازع بیان کی انٹرنیٹ پر اشاعت کے بعد خوف زدہ ہوکر سعودی عرب سے فرار ہوگیا تھا۔ لیکن اسے ملائیشیا پہنچتے ہی حکام نے حراست میں لے لیا</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>ملائیشیا کی پولیس نے پچھلے ہفتے&nbsp; سعودی عرب میں انٹرنیٹ پر اپنے ٹویٹر پیغام میں اسلام اور پیغمبر اسلام کی بے حرمتی کے الزام میں ایک سعودی صحافی کو گرفتار کرلیا ہے۔</p>
<p>23 سالہ صحافی حمزہ کاشغری اپنے متنازع بیان کی انٹرنیٹ پر اشاعت کے بعد جلاوطنی کے مطالبوں سے خوف زدہ ہوکر سعودی عرب سے فرار ہوگیا تھا۔</p>
<p>اسے بدھ کے روز ملائیشیا پہنچنے پر ہوائی اڈے سے ہی حکام نے حراست میں لے لیا۔</p>
<p>ملائیشیا کے عہدے داروں نے جمعے کے روز کہا کہ صحافی کی گرفتاری انٹرپول کے توسط سے بھیجی جانے والی سعودی حکام کی درخواست پر کی گئی۔</p>
<p>فوری طورپر یہ واضح&nbsp; نہیں ہوسکا کہ آیا کاشغری کو سعودی عرب بھیج دیا جائے گاجہاں وہ پیغمبر اسلام کی بے حرمتی کے جرم کا مرتکب ہواتھا۔</p>
<p>سعودی عرب میں اس جرم پر موت کی سزا مقرر ہے۔</p>
<p>ملائیشیا اگرچہ ایک مسلم اکثریتی ملک&nbsp; ہے مگر وہاں&nbsp; اس پر موت کی سزا نہیں دی جاتی۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 18:39:00 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139103989</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-10T18:39:00Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[دنیا]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Hamza-Kashgari-230X230.jpg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>جنوری میں چین کی معاشی گرسرمیاں سست رہیں</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/world/China-Economy-Trade-10Feb12-139102049.html</link>
				<description>ماہرین کا کہناہے کہ بیرونی دنیا  کی کمزور معیشت کی وجہ سے طلب میں کمی  کے اثرات چین کی  برآمدات پر مرتب ہورہے ہیں</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>گذ شتہ سال کے مقابلے میں جنوری کے مہینے میں چین کی تجارتی سرگرمیوں میں کمی دیکھی گئی ۔</p>
<p>ماہرین کا کہناہے کہ بیرونی دنیا&nbsp; کی کمزور معیشت کے نتیجے میں طلب میں کمی&nbsp; کے اثرات چین کی&nbsp; برآمدت پر مرتب ہورہے ہیں۔</p>
<p>جمعے کے روز جاری ہونے والی رپورٹ سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ چین کی برآمدات 15.3 فی صد کی کمی کے بعد 122.6 ارب ڈالر رہیں جب کہ اس کی برآمدات میں صفر اعشارہ پانچ فی صد کی کمی ہوئی اور اس کا حجم 149.9 ارب ڈالر رہا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق 2009ء کے بعد چین کی یہ کم ترین تجارتی سطح ہے۔</p>
<p>جنوری میں چین کی فاضل تجارت 27.3 ارب رہی جو گذشتہ چھ ماہ کے دوران سب سے اونچی شرح تھی۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ چین کی تجارتی سرگرمیوں پر نئے قمری&nbsp; سال کی تعطیلات بھی اثرانداز ہوئی ہیں، جو اس سال جنوری میں ہوئی تھیں۔</p>
<p>ان قومی تعطیلات کے دورا ن چین کے بہت سے کارخانے&nbsp; کارکنوں کے چلے جانے کے باعث یاتو بند ہوجاتے ہیں یا وہ اپنی پیدوار گھٹا دیتے ہیں۔</p>
<p>چین کے کارکنوں کی ا کثریت یہ قومی تہوار اپنے خاندان کے ساتھ&nbsp; گذارتے ہیں۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ جنوری کے تجارتی نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت امریکہ میں بڑے پیمانے پر بے روزگاری اور یورپ میں قرضوں کے بحران کے سبب&nbsp; سست روی کی جانب بڑھ رہی ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 18:09:56 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139102049</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-10T18:09:56Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[دنیا]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/voa-chinese-Te-shun-Liu-9deb12-230.jpg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>ایران کو جوہری مذاکرات میں لانے کےلیے بھارت سے تعاون کی یورپی اپیل</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/world/India-EU-10Feb12-139101624.html</link>
				<description>بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے یورپی یونین کی اس اپیل پر کسی تبصرے سے گریز کیا، لیکن انہوں نے یہ کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے ساتھ کچھ مسائل وابستہ ہیں</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>یورپی یونین نے بھارت سے کہاہے کہ وہ ایران کو اپنے متنازع جوہری پروگرام پر مذاکرات میں واپس لانے کے لیے اپنا اثر ورسوخ استعمال کرے۔</p>
<p>یورپی یونین کونسل کے صدر ہرمن وین رومپوی نے جمعے کے روز نئی دہلی میں یورپی یونین بھارت کانفرنس میں ان خیالات کا اظہار ایران کے جوہری پروگرام پر اپنے خدشات کا اظہار کرتےہوئے کیا۔</p>
<p>مغربی ممالک کو اندیشہ ہے کہ ایران جوہری بم بنانے کی کوشش کررہاہے۔</p>
<p>بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے یورپی یونین کی اس اپیل پر کسی تبصرے سے گریز کیا، لیکن انہوں نے یہ کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے ساتھ کچھ مسائل وابستہ ہیں۔</p>
<p>بھارت یہ کہہ چکاہے کہ وہ ایران کے ساتھ اپنی تجارت کو فروغ دینا چاہتا ہے۔</p>
<p>نئی دہلی نے کانفرنس کی تقریب کے موقع پر یہ اعلان کیاتھا کہ وہ امریکہ اور یورپ کی جانب سے ایران کے خلاف&nbsp; اس کے جوہری پروگرام پر بطور سزا پابندیوں کے نفاذ کے بعد تہران کے ساتھ تجارت&nbsp; کے مواقع تلاش کرنا چاہتا ہے۔</p>
<p>جمعرات کے روز نئی دہلی نے کہاتھا کہ وہ وہ جلد ہی اپنا ایک تجارتی وفد تہران بھیجے گا۔</p>
<p>یورپی یونین کمشن کے صدر ہوزے مینوئل بروسو نے جمعے کے روز کہا کہ بھارت اور یورپی یونین آزاد تجارت کے ایک معاہدے کے، جوطویل عرصے سے التوا میں پڑا تھا، قریب پہنچ چکے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 18:05:18 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139101624</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-10T18:05:18Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[دنیا]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP_India_Prime_Minister_Singh_FILE_230.jpg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>صومالیہ: عسکری تنظیم کا القاعدہ سے الحاق کا اعلان</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/world/Alqaida-Somalia-Alshabab-10Feb12-139099299.html</link>
				<description>صومالی حکومت کے وزیر اطلاعات عبد القادر حسین محمد نے جمعے کے روز ایک بیان میں کہا کہ یہ اتحاد ہمارے لیے  کوئی نئی خبر نہیں ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>صومالیہ کی عبوری حکومت نے کہا ہے کہ&nbsp; اسے اس پر کوئی حیرت نہیں ہے کہ عسکریت پسند گروپ الشباب&nbsp; القاعدہ کے ساتھ باضابطہ طور پر شامل ہو گیا ہے ۔</p>
<p>&nbsp;حکومت کے وزیر اطلاعات&nbsp; عبد القادر&nbsp; حسین محمد نے جمعے کےروز ایک بیان میں کہا کہ اتحاد کا لفظ ہمارے لیے&nbsp; کوئی خبر نہیں ہے ۔</p>
<p>انہوں نےزور دے کر کہا کہ الشباب کے لیڈر القاعدہ کے اجرت&nbsp; پرکام کرنے والے نمائندے ہیں اور یہ کہ الشباب بقول ان کے اب زیادہ عرصے تک صومالیہ کی ایک آبائی&nbsp; اسلامی تنظیم&nbsp; کے طور پر دھوکا نہیں دے سکتی ۔&nbsp;</p>
<p>القاعدہ کے لیڈر ایمن الظواہری نےا س اتحاد کا اعلان&nbsp; جمعرات کےر وز جہادی ویب سائٹس پر پوسٹ کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں&nbsp; کیا ۔</p>
<p>گروپ اس سے قبل یہ کہہ چکا ہے کہ وہ القاعدہ کےساتھ منسلک ہے اور جون میں ،&nbsp; امریکی فورسز کےہاتھوں اوسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد ،اس نے&nbsp; الظواہری کے ساتھ وفاداری کا عہد کیا&nbsp; تھا۔</p>
<p>&nbsp;الشباب صومالیہ کا کنٹرول حاصل کرنے اور ملک&nbsp; میں سخت قسم کا اسلامی قانون نافذ کرنے کی کوشش میں پانچ سال سے حکومت سے لڑ رہی ہے ۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 17:31:37 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139099299</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-10T17:31:37Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[دنیا]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP110217138665_TEASE_Somalia_alShabab_05AUG11.jpg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>چین  تبت پر اپنی گرفت نرم کرے: ڈسمنڈ ٹوٹو</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/world/India-Tibet-Exiles-10Feb12-139099024.html</link>
				<description>تبتیوں کا کہنا ہے کہ چین ایک ایسی پالیسی پر کاربند ہے جس کے تحت تبت میں منظم طریقے سے بڑی تعداد میں  غیر تبتی چینی تارکین وطن کوبسایا جا رہا ہے</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>تبت کے روحانی لیڈر دلائی لامہ نے جنوبی افریقہ کے آرچ بشپ ڈسمنڈ ٹوٹو کا بھارت&nbsp; کےشمالی شہر دھرم شالہ میں خیرمقدم کیا جہاں مسٹر ٹوٹو نے چین سے اپیل کی کہ وہ تبت میں اپنی&nbsp; پالیسیاں تبدیل کرے ۔</p>
<p>&nbsp;جمعرات کےر وز دلائی لامہ نے اپنے ساتھی&nbsp; نوبیل انعام یافتہ آرچ بشپ ڈسمنڈ ٹوٹو&nbsp; سے اپنی دعاؤں میں تبتیوں کو یاد رکھنےکی درخواست کی ۔ ان کا کہناتھا کہ ہم تبتی ایک مشکل دور سے گزر رہے ہیں اور&nbsp; تبتی ثقافت کو، جس میں رحم دلی کا عنصر نمایاں ہے،&nbsp; در حقیقت بہت سی دشواریوں کا سامنا ہے۔&nbsp;&nbsp; &nbsp;</p>
<p>تبت کے روحانی لیڈر چینی فورسز کی جانب سے&nbsp; کئی ماہ&nbsp; پر محیط پکڑ دھکڑ کا حوالہ دے رہے تھے ۔ تبت کے جلاوطن لوگوں کا کہنا ہے کہ&nbsp; حالیہ ہفتوں میں&nbsp; کم از کم چھ مظاہرین گولیوں کا نشانہ بنے ہیں۔</p>
<p>&nbsp;چینی حکومت نے ایک تبتی کی ہلاکت کا اعتراف کیا ہےجسے انہوں نے ایک بلوائی قرار دیتے ہوئے&nbsp; کہا کہ خصوصی&nbsp; طور سے تربیت یافتہ&nbsp; گروہ یہ مظاہرے&nbsp; بڑی احتیاط سے ترتیب دے رہے ہیں اور وہ&nbsp; پولیس کے خلاف تشدد&nbsp; کا استعمال بھی کر چکے ہیں۔</p>
<p>&nbsp;تبتیوں کا کہنا ہے کہ چین ایک ایسی پالیسی پر کاربند ہے جس کے تحت تبت میں منظم طریقے سے بڑی تعداد میں&nbsp; غیر تبتی چینی تارکین وطن&nbsp; کوبسایا جارہا ہے جو ان کے خلاف اکثر اوقات امتیازی سلوک روا رکھتے ہیں۔&nbsp; دلائی لامہ کی تصاویر پر پابندی ہے اور بہت سے بھکشوؤں کا کہنا ہے کہ اگر وہ قوم پرستی پر مبنی&nbsp; ، تعلیم نو کے پروگراموں میں شریک نہ ہوں&nbsp; جس کا مقصد&nbsp; انہیں اپنی&nbsp; روائتی ثقافت سےدور&nbsp; کرنا ہے، ، تو انہیں&nbsp; سزا کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔&nbsp;&nbsp;</p>
<p>مسٹر ٹوٹو نے چین سے اپیل کی کہ وہ تبت پر اپنی گرفت نرم کر دے ۔&nbsp; &nbsp;ان کا کہناتھا کہ ہم بیجنگ&nbsp; کے راہنماؤں سےدرخواست کرتے ہیں کہ وہ&nbsp; برائے مہربانی&nbsp; تبت کوخود مختارہونے&nbsp; دیں جس کی اجازت&nbsp;&nbsp; پیپلز ری پبلک آف چائنا کا آئین دیتا ہے ۔<br /> <br /> انہوں نے چین پر زور دیا کہ وہ تبت کے روحانی لیڈر کو اپنے وطن واپس جانے کی اجازت دے۔ &nbsp;انہوں نے کہا کہ خدا وہ دن جلد لائے جب ہم ایک آزاد تبت میں داخل ہوں گے۔</p>
<p>دلائی لامہ چین کے خلاف ایک ناکام شورش کے بعد&nbsp; 1959ء میں بھارت فرار&nbsp; ہوگئے تھے&nbsp; ۔ جس کے بعد ان کے ہزاروں تبتی حامی بھارت چلے&nbsp; گئے۔</p>
<p>دھرم شالہ میں قائم تبتی&nbsp; جلاوطن انتظامیہ کے منتخب وزیر اعظم&nbsp; لوبسانگ سانگے &nbsp;کہتے ہیں کہ&nbsp; انہیں خدشہ&nbsp; ہے کہ&nbsp; چین میں جاری&nbsp; پکڑ دھکڑ کی کارروائیوں&nbsp; میں اضافہ ہو سکتا ہے ۔</p>
<p>ان کا کہناتھا کہ&nbsp; ہمیں ایسی خبریں ملی ہیں کہ خود کار مشین گنوں سے لیس&nbsp; چینی اہل کاروں&nbsp; کے &nbsp;سینکڑوں&nbsp; قافلے&nbsp;&nbsp; تبت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ 22 فروری کو تبت کے سال نو کے موقع پر بہت سے اجتماع ہوں گے اور ہمیں ڈر ہے کہ&nbsp; اس موقع پر بہت سے تبتیوں کو تکلیف دہ تجربات کا سامنا ہو سکتا ہے ۔ <br /> سانگے&nbsp;&nbsp; نے یہ ان خیالات کا اظہار&nbsp; ا س ہفتے&nbsp; اس شب بیداری کی دعائیہ تقریب میں کیا ، جو&nbsp; گذشتہ سال&nbsp; چین کی پالیسیوں کے خلاف احتجاجاً خود سوزی کرنے والے کم ازکم 19 تبتیوں کے یاد&nbsp; میں منعقد کی گئی تھی ۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 17:27:59 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139099024</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-10T17:27:59Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[دنیا]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/AP_TibetImmolations_6feb12-resizedpx480q100dpi96shp8.jpg" length="281048" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP_TibetImmolations_6feb12-resizedpx480q100dpi96shp8.jpg" medium="image" isDefault="true" height="312" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Reuters_Lama_Tutu_China_02_10_2012_300.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>مالدیپ: سابق صدر کا قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/world/Maldives-Politics-10Feb12-139098714.html</link>
				<description>اس سے ایک روز قبل ملک کی ایک عدالت نے سابق صدر کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے تاہم محمد نشید نے ملک چھوڑنے کے امکان کو رد کرتے ہوئے قانونی کاروائی کا سامنا کرنے کا اعلان کیا تھا</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>مالدیپ کے سابق صدر محمد نشید نے ملک میں قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی مظاہروں کی دھمکی دی ہے ۔</p>
<p>سابق صدر نے یہ مطالبہ سخت سیکیورٹی میں دارالحکومت مالے میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کیا۔ منگل کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد سے سابق صدر نے زیادہ تر وقت اپنی رہائش گاہ میں گزارا ہے۔</p>
<p>اس سے ایک روز قبل ملک کی ایک عدالت نے سابق صدر کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے تاہم محمد نشید نے ملک چھوڑنے کے امکان کو رد کرتے ہوئے قانونی کاروائی کا سامنا کرنے کا اعلان کیا تھا۔</p>
<p>دریں اثنا اقوامِ متحدہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار جزائر پر مشتمل جنوبی ایشیا کے اس چھوٹے سے ملک کو درپیش سیاسی بحران کے حل کی کوششوں میں مصروف ہیں جو رواں ہفتے محمد نشید کے اپنے عہدے سے استعفیٰ کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے۔</p>
<p>عالمی ادارے کے عہدیدار فرنانڈس ٹارانکو محمد نشید اور ملک کے نئے صدر محمد وحید حسن کے درمیان اختلافات کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے انعقاد کی کوشش کر رہے ہیں اور انہوں نے تمام سیاسی فریقین پر تحمل کا مظاہرہ کرنے اور ہر قسم کے تشدد کا راستہ روکنے پر زور دیا ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ محمد نشید نے ملک میں جاری احتجاجی مظاہروں اور پولیس افسران کی بغاوت کے بعد منگل کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔</p>
<p>صدر کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ گزشتہ تین ہفتوں سے جاری تھا جس کا آغاز صدر کی جانب سے 'مس کنڈکٹ' اور حزبِ اختلاف کے رہنمائوں کے ساتھ رعایت برتنے کے الزامات میں ملک کے ایک اعلیٰ جج&nbsp; کی گرفتاری کا حکم دینے کے ردِ عمل میں ہوا تھا۔</p>
<p>مالدیپ کے اس وقت کے نائب صدروحید حسن، ملک کی سپریم کورٹ اور اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے گرفتار جج کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔</p>
<p>سابق صدر نے اپنے استعفیٰ کو بغاوت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے نائب صدر پہ سازش میں شریک ہونے کا الزام عائد کیا ہے اور ملک کی عدلیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کی اقتدار سے بے دخلی کے ذمہ داران کے تعین کے لیے تحقیقات کرے۔</p>
<p>تاہم وحید حسن نے، جو نشید کے استعفیٰ کے بعد ملک کی صدارت سنبھالے ہوئے ہیں، سابق صدر کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کی تردید کی کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صدارت سنبھالنے کے لیے تیار نہیں تھے۔</p>
<p>نئے صدر کا کہنا ہے کہ وہ جلد اتفاقِ رائے سے اپنی کابینہ کا تقرر کردیں گے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 17:23:41 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139098714</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-10T17:23:41Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[دنیا]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/ap_maldives-protests_eng_480_8feb12.jpg" length="45508" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/ap_maldives-protests_eng_480_8feb12.jpg" medium="image" isDefault="true" height="310" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/RTR2XJCI_Reuters_TEASE__Maldives_09FEB12.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																													
												
						
																										
			<item>
				<title>ایران پر حملے کے ممکنہ ردعمل پر اسرائیل میں بحث</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/israel-iran-10feb12-139074359.html</link>
				<description>اسرائیل کے وزیردفاع ایہود براک نے حال ہی میں فوجی ماہرین کی  ایک کانفرنس کو بتایا کہ موثر فوجی حملے کے لیے وقت تنگ ہوتا جا رہا ہے اور اس مسئلے سے جلد ہی، شاید یہ سال ختم ہونے سے پہلے ، نمٹا جانا چاہیئے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>چھیاسی سالہ وکیل موشی مائرون تل ابیب کے نواح&nbsp; رہتے ہیں، انھوں نے کہا کہ 21 سال قبل جب عراق کے صدر صدام حسین نے کویت پر حملہ کیا تھا اور مغربی&nbsp; اور عرب ملکوں کے اتحاد نے ان کے خلاف کارروائی&nbsp; کی تو عراق نے اسرائیل پر اسکڈ میزائل داغے۔</p>
<p>مائرون کو وہ رات یاد ہے جب سائرن کی آواز آئی اور وہ اپنی بیوی کے ساتھ، گیس ماسک لگائے گھر کے تہ خانے میں&nbsp; پہنچ گئے۔ ایک میزائل صرف نو میٹر کے فاصلے پر ان کے ڈرائیو وے میں کھڑی کار پر&nbsp; لگا۔ وہ کہتے ہیں کہ &rsquo;&rsquo;پانچ چھ مکان مکمل طور سے تباہ ہو گئے۔ سب گاڑیاں جل گئیں۔ میرا ور میری بیوی کا زندہ بچ جانا معجزے سے کم نہیں تھا۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>اسرائیل کے دشمنوں کی طرف سے جوابی کارروائی کی ان یادوں کے باوجود، اسرائیل کے اعلیٰ لیڈر آج بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ وہ علاقے&nbsp; میں ایک اور ملک، ایران پر حملے کے لیے تیار ہیں تا کہ اسے نیوکلیئر ہتھیار حاصل کرنے سے روک سکیں۔ وہ کہتے ہیں کہ فوجی کارروائی آخری حربے کے طور پر کی جائے گی، اگر بین الاقوامی برادری نے&nbsp; پس و پیش سے کام لیا۔</p>
<p>وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ نیوکلیر ایران پوری دنیا کے لیے خطرہ بن جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ &rsquo;&rsquo;نیوکلیئر اسلحہ سے لیس ایران اسرائیل کے لیے، علاقے کے لیے، اور دنیا کے لیے خطرہ ہے۔ ایران کو نیوکلیئر ہتھیار تیار کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>اسرائیل کے وزیردفاع ایہود براک نے حال ہی میں فوجی ماہرین کی&nbsp; ایک کانفرنس کو بتایا کہ موثر فوجی حملے کے لیے وقت تنگ ہوتا جا رہا ہے اور اس مسئلے سے جلد ہی، شاید یہ سال ختم ہونے سے پہلے ، نمٹا جانا چاہیئے۔</p>
<p>ماہرین کہتے ہیں کہ ایران اپنی اہم نیوکلیئر تنصیبات کو زیرِ زمین قلعے میں منتقل کر رہا ہے جسے انتہائی طاقتور بم سے بھی زیادہ نقصان نہیں پہنچے گا۔ ایرانی لیڈر کہتے ہیں کہ ان کا نیوکلیئر پروگرام بجلی پیدا کرنے اور میڈیکل ریسرچ جیسے پُر امن مقاصد کے لیے ہے اور ان کا نیوکلیئر ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔</p>
<p>لیکن ایران نے انتباہ کیا ہے کہ اگر اس پر حملہ کیا گیا تووہ جوابی کارروائی کرے گا۔ تہران کے پاس ایسے میزائل موجود ہیں جو اسرائیل تک بلکہ یورپ تک پہنچ سکتے ہیں۔ کانفرنس میں ایک ماہر نے کہا کہ تہران ایک ایسے میزائل پر کام کر رہا ہے جس&nbsp; کی پہنچ امریکہ&nbsp; تک ہو سکتی ہے۔</p>
<p>ایران کے امور کے ماہر ڈیوڈ میناشری کہتے ہیں کہ&nbsp; اسرائیلی حملے کے نتیجے میں پورا علاقہ غیر مستحکم ہو سکتا ہے ۔ ان کے مطابق &rsquo;&rsquo;ایران پر حملہ کیا گیا تو اس کے ایک طویل عرصے تک تباہ کن نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں امن کی خاطر بہتر یہی ہوگا کہ دوسرے حل تلاش کیے جائیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ دوسرے حل موجود ہیں۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>مینا شری کا خیال ہے کہ پابندیوں اور بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ کرنا چاہیئے&nbsp; تاکہ ایرانی حکومت نیوکلیئر اسلحہ کے پروگرام پر مذاکرات کرنے اور اسے ختم کرنے پر مجبور ہو جائے۔<br /> بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اسرائیل کا یکطرفہ طور پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں لیکن وہ اس قسم کی باتیں رائے عامہ کو ہموار کرنے اور اتحادی ملکوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے کر رہا ہے تا کہ وہ ایران پر اور زیادہ سخت پابندیاں عائد کردیں۔</p>
<p>لیکن میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق، اعلیٰ اسرائیلی عہدے داروں&nbsp; کا خیال ہے کہ پابندیوں سے ایران کو اپنے نیوکلیئر عزائم سے باز رہنے پر آمادہ نہیں کیا جا سکے گا۔ بعض دوسرے لوگ، جیسے فوجی تاریخ کے پروفیسر مارٹن وان کریویلڈ کہتے ہیں کہ فوجی حملے سے ایران کے نیوکلیئر پروگرام کو محض چند برسوں کے لیے مؤخر کیا جا سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بین الاقوامی برادری کو یہ بات قبول کر لینی چاہیئے کہ ایک نہ ایک دن ایران نیوکلیئر ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کر لے گا۔ انھون نے کہا کہ&rsquo;&rsquo;اس بات کا امکان ہے کہ ایرانی کہیں کہ یہ نیوکلیئر مسئلہ ہمارے لیے درد سر بن گیا ہے۔ لہٰذا، ہمیں جلد از جلد بم بنا لینا چاہیئے اور ساری دنیا کو بتا دینا چاہیئے کہ ہمارے پاس بم موجود ہے۔ پھر کوئی ہمارے قریب نہیں آ سکے گا۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>لیکن تل ابیب کے انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سیکورٹی اسٹڈیز &nbsp;کےافرائم کام کہتے ہیں کہ ایران کو نیوکلیئر بم بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے کی اجازت دینا تباہ کن ہو گا۔ ان کا کہنا ہے کہ &rsquo;&rsquo;اس طرح مشرقِ وسطیٰ&nbsp; میں استحکام&nbsp; کم ہو جائے گا۔ مشرقِ وسطیٰ کے دوسرے ملک، جیسے مصر، سعودی عرب، یا ترکی، شام، اور شاید عراق اس دوڑ میں شامل ہو سکتے ہیں۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>اگر اسرائیل&nbsp; ایران کے خلاف فوجی حملہ کرتا ہے، تو بھی، ناقدین کہتے ہیں کہ وہ ایران کی نیوکلیئر تنصیبات کو ختم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ حملہ آور جہازوں کو ایک ہزار کلو میٹرز دور ایران تک پہنچنے کے لیے، راستے میں ایندھن لینا پڑے گا۔ اور ایران کے ہمسایہ ملکوں&nbsp; کے اوپر پرواز کے لیے اسرائیل کو سمجھوتے کرنے پڑیں گے۔</p>
<p>رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کے لوگ ایران پر حملے کے بارے میں متفق نہیں ہیں۔ ایک حالیہ جائزے میں، 43 فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ حملے کے حق میں ہیں جب کہ 41 فیصد نے کہا کہ وہ اس کے خلاف ہیں۔</p>
<p>تاہم سروے میں شامل دو تہائی لوگوں نے کہا کہ ان کے خیال میں ایران بالآخر نیوکلیئر ہتھیار تیار کر لے گا۔ یروشلم کی ایک سڑک پر&nbsp; سیلز مین جاناتھن فشر نے کہا کہ &rsquo;&rsquo;میرے خیال میں جنگ ہو کر رہے گی۔ اسرائیل میں جنگ ایک نہ ایک دن ہونی ضروری ہے۔ کب ہوگی، یہ میں نہیں جانتا۔&lsquo;&lsquo;<br /> پاسکل رائے حال ہی میں اسرائیل میں آباد ہوئے ہیں۔ انھوں&nbsp; نے کہا کہ&rsquo;&rsquo;کاش کوئی سمجھوتہ ہو جائے۔ میں مذاکرات کے بغیر، فوجی حملے کے بالکل خلاف ہوں۔&lsquo;&lsquo;</p>
<p>21 سال پہلے جب یانیو شیمیش کے فلیٹ پر اسکڈ میزائل آکر لگا، تو ان کی عمر صرف 14 برس تھی۔ وہ آج بھی اس حملے کے ذہنی صدمے سے نہیں نکل سکے ہیں، اور کام نہیں کر سکتے۔</p>
<p>وہ کہہ رہے ہیں کہ انہیں ڈراؤنے خواب نظر آتے ہیں، وہ ہمیشہ خوفزدہ اور پریشان رہتے ہیں۔ وہ اپنے فلیٹ سے باہر نہیں نکلتے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں ہر وقت ڈر لگا رہتا ہے۔ بہت سے اسرائیلیوں کی طرح ، ان کی اُمید بھی یہی ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان ٹکراؤ زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں بڑھے گا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 06:21:27 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139074359</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[اسکاٹ باب]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-10T06:21:27Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[خبریں]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Ehud+Barak+48.jpg" length="36231" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Ehud+Barak+48.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP_Ehud_Barak_Israel_18jan12.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>شام: بم دھماکوں میں 25 ہلاک</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/world/syria-blasts-10feb12-139081859.html</link>
				<description>شمالی شہر حلب میں جمعہ کو ہونے والے ان دھماکوں کا ہدف فوج کے انٹیلی جنس اداروں کی عمارت تھی اور اس میں 175 افراد زخمی بھی ہوئے۔</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>شام کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ملک کے شمالی شہر حلب میں دو بم دھماکوں میں 25 افراد ہلاک اور 175 زخمی ہو گئے۔</p>
<p>ملک کے اقتصادی مرکز حلب میں جمعہ کو ہونے والے ان بم دھماکوں کا ہدف فوج کے انٹیلی جنس اداروں کی عمارت تھی۔ صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف ہونے والے مظاہروں سے یہ شہر نسبتاً پُرسکون تھا۔</p>
<p>انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے شام کے وسطی شہر حمص میں حکومت مخالف احتجاج میں شامل افراد کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔</p>
<p>حمص صدر بشار الاسد کے 11 سالہ آمرانہ دور اقتدار کے خلاف گزشتہ کئی ماہ سے جاری احتجاجی مظاہروں کا اہم مرکز بنا ہوا ہے اور سکیورٹی فورسز نے اس کا محاصرہ بھی کر رکھا ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 12:22:39 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139081859</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[بیورو رپورٹ]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-10T12:22:39Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[دنیا]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/Friends_of_Syria_4x3_web-fixed-x264-Platform_YTHQFull_640x480_2194611629.jpg" length="94368" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/Friends_of_Syria_4x3_web-fixed-x264-Platform_YTHQFull_640x480_2194611629.jpg" medium="image" isDefault="true" height="480" width="640" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/SYRIA_WOUNDED.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>ایران پرحملے کے اثرات پوری مسلم دنیا پرمرتب ہوں گے:پاکستانی سفیر </title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/world/Iran_Envoy_09Feb12-139058454.html</link>
				<description>’  اسرائیل کو کسی پر بھی حملہ نہیں کرنا چاہئیے، اور تمام  معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنا  چاہئیے‘</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر، واجد شمس الحسن کا کہنا ہےکہ اگر اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو اُس کے اثرات پوری مسلم دنیا پرمرتب ہونگے، خاص طور پر پاکستان اور بھارت کے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والےحضرات&nbsp; &rsquo;اِس سے لاتعلق نہیں رہ سکتے&lsquo;۔</p>
<p>جمعرات کو &rsquo; وائس آف امریکہ&lsquo; اردو سروس سے بات کرتے ہوئے،&nbsp; اُن کا کہنا تھا کہ جِس&nbsp; برطانوی اخبار کو اُنھوں نے انٹرویو دیا اُس نے اُن کی بات &nbsp;کو، &rsquo; توڑ مروڑ کر پیش کیا&lsquo;۔&nbsp;</p>
<p>پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ &rsquo;میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ صرف پاکستان پر ہی اِس کے اثرات مرتب ہونگے، بلکہ میں نے کہا تھا کہ، &nbsp;پورے خطے پر اِس کے گہرے اثرات مرتب ہونگے&lsquo;۔</p>
<p>تاہم، جب اُن سے پوچھا گیا&nbsp; کہ&nbsp; حملے کی صورت میں پاکستان کا کیا اقدام ہو گا، تو اُن کا کہنا تھا کہ &rsquo;پاکستان اور ایران کی دوستی ہے، اور ایران ہمارا بہت پرانا دوست ہے&lsquo;۔</p>
<p>واجد شمس الحسن کا کہنا تھا کہ&nbsp; ایسے کسی حملے کی صورت میں باقی اثرات کےعلاوہ، &rsquo;دہشت گردی کے بڑھ جانے کا خدشہ ہوگا&lsquo;۔</p>
<p>اُن کا کہنا تھا کہ&rsquo; عرب ممالک بھی، اپنے اختلافات &nbsp;بھلا کر، اسرائیل کے خلاف ایران کا ساتھ دیں گے&lsquo;۔</p>
<p>تاہم، اُنھوں نے کہا کہ، &rsquo;اسرائیل کو کسی پر بھی حملہ نہیں کرنا چاہئیے، اور تمام معاملات کو افہام و تفہیم سےحل کرنا چاہئیے&lsquo;۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 00:42:24 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139058454</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[انجم ہیرلڈ گِل]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-10T00:42:24Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[دنیا]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/Wajid-Shamsul-Hasan-300X300.jpg" medium="image" isDefault="true" height="300" width="300" />
																																																																		</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>روسی وزیرِاعظم کے خلاف حزبِ اختلاف کی مہم تیز</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/world/Russia_Putin_Opposition_09Feb12-139050674.html</link>
				<description>پیوٹن پر سب سے سخت تنقید حریف امیدواران کے بجائے سوویت یونین کے سابق صدر میخائل گورباچووف کی جانب سے سامنے آئی ہے جنہوں نے جمعرات کو ایک تقریب سے خطاب میں ان پر کڑی نکتہ چینی کی</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>روس میں آئندہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخاب سے قبل حزبِ اختلاف کے رہنمائوں اورسیاسی مخالفین نے اہم انتخابی امیدوار اور موجودہ وزیرِاعظم ولادی میر پیوٹن کے خلاف تنقیدی مہم تیز کردی ہے۔</p>
<p>جمعرات کو سرکاری ٹی وی پر نشر کیے گئے ایک انتخابی مباحثے میں 'لبرل ڈیموکریٹک پارٹی' کے صدارتی امیدوار ولادی میر زیرینووسکی اور کمیونسٹ پارٹی کے امیدوار جیناڈی زوئیگانوف نے 'یونائیٹڈ رشیا پارٹی' کے امیدوار اور موجودہ وزیرِاعظم کو آڑے ہاتھوں لیا۔</p>
<p>زیرینووسکی نے وزیرِاعظم پیوٹن کی انتخابی مباحثوں میں غیر حاضری &nbsp;کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پیوٹن شاید اس لیے ان مباحثوں میں نہیں آنا چاہتے کیوں کہ ان کے لیے گزشتہ 13 برسوں کی اپنی کارکردگی کا دفاع کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔</p>
<p>لیکن وزیرِاعظم پیوٹن پر سب سے سخت تنقید حریف امیدواران کے بجائے سوویت یونین کے سابق صدر میخائل گورباچووف کی جانب سے سامنے آئی ہے جنہوں نے جمعرات کو ایک تقریب سے خطاب میں ان پر کڑی نکتہ چینی کی۔</p>
<p>ماسکو یونی ورسٹی میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر کا کہنا تھا کہ پیوٹن قیادت کی اہلیت کھوچکے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پیوٹن صدر منتخب ہونے میں کامیاب ہوگئے تو روس کا سیاسی بحران مزید سنگین ہوجائے گا۔</p>
<p>پیوٹن&nbsp; اس سے قبل 2001ء سے 2008ء تک مسلسل دو بار صدارت پہ فائز رہ چکے ہیں اور اب تیسری بار اس عہدے کے لیے میدان میں ہیں۔</p>
<p>مارچ میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں پیوٹن کی فتح کا امکان خاصا قوی ہے اور یہ امکان ظاہر کیا جاتا رہا ہے کہ انتخاب جیتنے کی صورت میں وہ چھ، چھ سال کی مزید دو مدتوں کے لیے 2024ء تک صدر کا عہدہ اپنے پاس رکھ سکتے ہیں۔</p>
<p>تاہم خود پیوٹن اور ان کے اتحادیوں کو بھی عوام میں بڑھتی ہوئی ناراضگی کا ادراک ہے۔</p>
<p>روسی حزبِ اختلاف کے مظاہروں کی تعداد اور شرکا میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے اور ایسے میں وزیرِاعظم پیوٹن کی انتخابی&nbsp; مہم نے 23 فروری کو اپنی ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p>منتظمین کا کہنا ہے کہ ماسکو کی گلیوں سے کریملن تک جانے والے اس جلوس میں دو لاکھ سے زائد افراد شریک ہوں گے جب کہ حزبِ اختلاف نے، جو حالیہ ہفتوں کے دوران میں بعض بہت بڑے بڑے مظاہرے کرچکی ہے،&nbsp; 26 فروری کو ایک اور جلوس نکالنے کا اعلان کر رکھا ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>$util.date("E, d MMM yyyy HH:mm:ss z", $article.contentLiveDate, "GMT")</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139050674</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>$util.date("yyyy-MM-dd'T'HH:mm:ss'Z'", $article.contentLiveDate, "GMT")</dc:date>
				
								<category><![CDATA[دنیا]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/russia-protests-main.jpg" length="157691" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/russia-protests-main.jpg" medium="image" isDefault="true" height="320" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/GORBACHEV_PUTIN_HEADS.jpg" medium="image" isDefault="false" height="300" width="300" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>صومالی تنظیم 'الشباب' کا 'القاعدہ' سے الحاق</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/world/Somalia_AlShabab_AlQaida_09Feb12-139048869.html</link>
				<description>تنظیم کو مشرقی افریقہ کے لیے ایک بڑھتا ہوا خطرہ قرار دیا جارہا ہے جس کے سدِ باب کے لیے پڑوسی ممالک کینیا اور ایتھوپیا کی حکومتوں نے اپنے فوجی دستے صومالیہ بھیج رکھے ہیں</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>'القاعدہ' کے ایک رہنما نےدعویٰ کیا ہےکہ مسلح صومالی تنظیم 'الشباب' نے دہشت گردی کے عالمی نیٹ ورک سے الحاق کرلیا ہے۔</p>
<p>انٹرنیٹ پہ القاعدہ کی سرگرمیوں کے نگران ادارے'سائیٹ انٹیلی جنس گروپ' کے مطابق القاعدہ کے سربراہ ایمن الزواہری نے جمعرات کو جاری کیے گئے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں اس خبر کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p>ادارے کے مطابق اپنے پیغام میں الظواھری نے"خوش خبری" دیتے ہوئے کہا ہے کہ "یہودی اور صلیبی مہم جوئی" کے خلاف جدوجہد میں 'الشباب' القاعدہ کی جہادی تحریک میں شامل ہوگئی ہے۔</p>
<p>اس سے قبل 'الشباب' القاعدہ سے منسلک ہونے کا اعلان کرچکی ہے اور گزشتہ برس عالمی نیٹ ورک کے سربراہ اسامہ بن لادن کی امریکی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد جون میں صومالی تنظیم نے بن لادن کے جانشین الزواہری سے وفاداری نبھانے کا اعلان کیا تھا۔</p>
<p>'الشباب' گزشتہ پانچ برسوں سے صومالیہ میں اقوامِ متحدہ کی اعانت سے قائم حکومتی انتظام کا تختہ الٹ کر ملک میں اسلامی شریعت کے نفاذ کے لیے کمزور عبوری حکومت کے خلاف کاروائیوں میں مصروف ہے۔</p>
<p>تنظیم کو مشرقی افریقہ کے لیے ایک بڑھتا ہوا خطرہ قرار دیا جارہا ہے جس کے سدِ باب کے لیے پڑوسی ممالک کینیا اور ایتھوپیا کی حکومتوں نے اپنے فوجی دستےصومالیہ بھیج رکھے ہیں۔</p>
<p>تنظیم کے جنگجووں اور علاقائی ممالک کے اتحاد 'افریقی یونین' کے فوجی دستوں کے مابین بھی صومالی دارالحکومت موغادیشو میں جھڑپیں آئے روز کا معمول ہیں۔</p>
<p>امریکی حکومت نے'الشباب' کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 9 Feb 2012 22:29:38 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139048869</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-09T22:29:38Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[دنیا]]></category>
				
								
										
												
															
															
					<enclosure url="http://media.voanews.com/images/AP110217138665_Somalia_alShabab_05AUG11.jpg" length="112253" type="image/jpeg" />
																								
	








			
																																								
																	
															
										
																	
																																																	<media:group>
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP110217138665_Somalia_alShabab_05AUG11.jpg" medium="image" isDefault="true" height="374" width="480" />
																																	<media:content url="http://media.voanews.com/images/AP110217138665_TEASE_Somalia_alShabab_05AUG11.jpg" medium="image" isDefault="false" height="230" width="230" />
																																																									</media:group>
																						</item>
									
											
																																																								
												
						
																										
			<item>
				<title>چین: جوہری بجلی گھر کی تعمیر کے خلاف احتجاج</title>
				<link>http://www.voanews.com/urdu/news/world/China-Nuclear-09Feb12-139027944.html</link>
				<description>چین کے سرکاری اخبار 'گلوبل ٹائمز' نے منصوبے کے ناقد اور مقامی رضاکار سن بِن  کے حوالے سے کہا ہے کہ علاقے کے عوام مجوزہ بجلی گھر کو مقامی آبادی کے لیے ایک ٹائم بم سمجھتے ہیں</description>
													<content:encoded><![CDATA[<p>مشرقی چین کے حکام نے مرکزی حکومت سے علاقے میں جوہری بجلی گھر کی تعمیر کے منصوبے سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کیا ہے کیوں کہ اس سے زلزلوں کا شکار رہنے والے اس علاقے کی مقامی آبادی کی سلامتی خطرے میں پڑسکتی ہے۔</p>
<p>چین کے سرکاری اخبار 'گلوبل ٹائمز' کے مطابق چین کے مشرقی صوبے آنہوئی کی 'وانگ جیانگ' نامی کاؤنٹی&nbsp; کے حکام نے مجوزہ بجلی گھر کی تعمیر کےخلاف مہم کا آغاز کردیا ہے۔</p>
<p>اخبار کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال نومبر میں تیار کی گئی ایک رپورٹ میں مجوزہ بجلی گھر کی پائیداری پہ خدشات کا اظہار کیا گیا تھا جس کے گزشتہ ہفتے انٹرنیٹ کے ذریعے منظرِ عام پر آنے کے بعد اس معاملہ نے پورے ملک کی توجہ حاصل کرلی ہے۔</p>
<p>اخبار نے منصوبے کے ناقد اور مقامی رضاکار سن بِن&nbsp; کے حوالے سے کہا ہے کہ علاقے کے عوام مجوزہ بجلی گھر کو مقامی آبادی کے لیے ایک ٹائم بم سمجھتے ہیں۔</p>
<p>اخبار کے مطابق نومبر میں تیار کی گئی رپورٹ میں نشان دہی کی گئی تھی کہ بجلی گھر جس&nbsp; کاؤنٹی میں تعمیر کیا جارہا ہے وہ زلزلوں کی فالٹ لائن پر واقع ہے جہاں "زلزلوں کا آنا ایک معمول ہے"۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ منصوبے کے حوالے سے تیار کی گئی ماحولیاتی اثرات کی ابتدائی&nbsp; رپورٹوں میں علاقے کے 'فالٹ زون' پر واقع ہونے کا&nbsp; تذکرہ نہیں کیا گیا تھا۔</p>
<p>گزشتہ برس مارچ میں جاپان میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں 'فوکوشیما بجلی گھر' کے حادثے کے بعد مذکورہ چینی پلانٹ کا تعمیراتی عمل مزید تحقیقی مطالعے کی غرض سے معطل کردیا گیا تھا۔</p>]]></content:encoded>
								<pubDate>Thu, 9 Feb 2012 18:09:39 GMT</pubDate>
				<guid isPermaLink="false">139027944</guid>
																												


												<dc:creator><![CDATA[]]></dc:creator>
				<dc:date>2012-02-09T18:09:39Z</dc:date>
				
								<category><![CDATA[دنیا]]></category>
				
																								
	








			
																																								
												
															
										
																	
																																																																											<media:content url="http://media.voanews.com/images/PNN_Iran-nuclear_230.jpg" medium="image" isDefault="true" height="230" width="230" />
																																																																		</item>
																																																																									</channel>
</rss>

