| مولانا رومی، امریکہ کے مقبول ترین شاعر: آخر کیا جادو ہے؟ |
ستیہ پال آنند
January 15, 2007
|
|
 |
|
مولانا جلال الدین رومی |
اگر کہا جائے کہ فارسی کے صوفی شاعر مولاناجلال الدین رومی کو ایران سے ہالی وڈ پہنچنے میں سات سو برس لگے ہیں تو کچھ بے جانہ ہوگا۔
چند برس قبل امریکہ کے پاپ کلچر کے ایک نئے ہندوستانی نژاد گرونے مولانارومی کی شاعری کو انگریزی کے جدید امریکی روزمرہ کی زبان میں ترجمہ کرنے کے بعد انہیں ہالی وڈ کے چوٹی کے موسیقاروں اور گلوکاروں کے تعاون سے ایک سی ڈی کی شکل میں جب پیش کیا تو ہالی وڈ تو کیا، پوراشمالی امریکہ مولانا کے قدموں تلے بچھ گیا۔ یہ تھے امریکی پاپ کلچر اور یوگا ابھیاس کے نئے گرو دیپک چوپڑا جنہیں ہالی وڈ کی ماڈل حسیناؤں، چوٹی کے پروڈیوسروں، اداکاروں اور کروڑپتی فلم سازوں کی سرپرستی حاصل ہے۔
ایک اندازے کے مطابق پہلے ہفتے ہی اس سی ڈی کےاڑھائی لاکھ البم فروخت ہوئے۔
اس سی ڈی کا نام ’گفٹ آف لوَ‘، یعنی پیار کا تحفہ رکھا گیاہے۔ گیتوں کے مترجم دیپک چوپڑا ہیں جو پنچابی نژاد ہیں اور امریکہ میں یوگا سکھانے والے گرو کے طور شہرے کے حامل ہیں۔ ہالی وڈ کی حسینائیں اپنی جوانی کو سدا بہار رکھنے کے لیے لاکھوں ڈالر دے کر ان سے یوگا کی تربیت لیتی ہیں۔ ان کے ناول ادبی لحاظ سے مشکوک ہونے کے باوجود ہندومت کی روحانی تعلیمات کا رشتہ مغرب کی مادّی اقدارسے جوڑنے کے مرکزی خیال پر انحصار رکھتے ہوئے ان عجیب و غریب واقعات اور کرداروں پر مبنی ہوتے ہیں جنہیں امریکی قارئین شوق و انہماک سے پڑھتے ہیں۔
مولانارومی کی بازیافت کرنے والا یہ دیپک چوپڑا فارسی سے توکیا، اردو سے بھی کماحقہ واقفیت نہیں رکھتا۔ آج سے کئی برس قبل راقم الحروف کی ملاقات موصوف سے تب ہوئی جب وہ اردو سیکھنے کی کوشش کررہا تھا۔ لیکن وہ امریکی انگریزی کی اس پاپ لہر میں ایسی مہارت حاصل کرچکا تھا جس کے باعث اب وہ ایک ممتاز حیثیت کا حامل ہے۔
’تحفہٴعشق ‘کی تیاری میں جن اہم ہستیوں نے کمرشل سطح پر دیپک چوپڑا کو سہارا دیا ان میں چوٹی کے موسیقار فلپ گلاس شامل ہیں۔ گلوکاروں کی فہرست میں کچھ نام تو بین الاقوامی شہرے کے حامل
 |
|
گلوکارہ میڈانا بھی مولانا رومی کی پرستارہے |
ہیں ان میں شہرہ ٴ آفاق گلوکارہ میڈانا بھی شامل ہے جو اپنی جوانی کو برقرار رکھنے کے لیے یوگا کی مرہونِ منت ہے۔ کچھ اور نام جو ہالی وڈ میں ممتاز حیثیت کے حامل ہیں، ان میں مارٹن شین، گولڈی ہان اور ڈیمی مور شامل ہیں۔
آخر وہ کیا جادو ہے جو ایران کے ایک قدیم صوفی شاعر کی وفات کے سات سو برس بعد امریکہ اور یورپ کے سرچڑھ کر بولا ہے؟
دراصل جب انیسویں صدی میں فٹزجیرالڈ نے عمر خیام کی رباعیات کا انگریزی ترجمہ کیا تواس سے عرب و عجم کی کلاسیکی شاعری کے بارے میں عموماً اور فارسی کی کلاسیکی شاعری کےبارے میں خصوصاً ایک غلط تصور کی ابتداہوئی ۔
اس تصورکی بنیادمشرقِ وسطیٰ کی شاعری کی شراب و شباب اور حسن و عشق کے مضامین سے وابستگی ہے۔ انیسویں صدی سے قبل بھی الف لیلہ اور امیر حمزہ کی داستانیں اور دیگرقصص کی بنا پر یہ مفروضہ قائم کرلیا گیا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کی اقوام عیش وعشرت کی حد تک حسن پرستی سے وابستہ ہیں۔
وہ تصورِعشق جس کی جڑیں تصوف کی سنگلاخ زمین میں پیوست ہیں، اہلِ مغرب کی دسترس سے باہر رہا۔ حرم کی کنیزوں اور اغلام کے ساتھ چھیڑ خانی ہی کو اس شاعری کا سرچشمہ سمجھا گیا۔ہندوستان میں مغلوں کے دورِ انحطاط میں نوابوں، امرا اور روسا کی عیش پرستی پر مبنی رپورٹوں نے اس مفروضے کی تائید کی۔
یونیورسٹی آف جارجیا کے پروفیسر کولمین بارکس نے رومی کی غزلیات اور رباعیات کو انگریزی میں 1995ء میں متعارف کروایا۔ ان کی کتاب The Essential Rumiکی اب تک پانچ لاکھ سے زائد جلدیں شائع ہوچکی ہیں۔ لیکن یہ داستان کچھ روز پیچھے چلتی ہے۔
کولمین بارکس کی کتاب پر راقم الحروف کے تبصرے کے سلسلے میں ایک ٹیلی فون انٹرویودیتے ہوئے اس نے بتایا کہ اسے رومی کے ترجمے کی ترغیب مشہور امریکی شاعر روبرٹ بلائی نے دی۔ بلائی ایک دن لندن سے انیسویں صدی کی مطبوعہ رومی کی غزلیات اور رباعیات کے انگریزی ترجمے کی ایک کِرم خوردہ جلد کولمین بارکس کے پاس لایا اور اسے کندھوں سے پکڑ کر کرسی پر بٹھاتے ہوئے بولا، ’’میں جب
 |
|
رومی کا مترجم، کول مین بارکس |
تک اس کتاب سے شعر پڑھ کر تمہیں سناتا رہوں گا، تم کرسی سے اٹھوگے نہیں۔‘‘
ایک استفسار کے جواب میں کول مین بار کس نے کہا ”میں کیسے اٹھ سکتا تھا؟: جب تک رابرٹ مجھے پڑھ کر سناتا رہا میں نشے اور سرور کی سی حالت میں سُنتا رہا۔“
’’ان نظموں کو ان کےپنجروں سے آزاد کردو۔‘‘ رابرٹ بلائی نے تحکمانہ لہجے میں بارکس سے کہا۔ 1975ء میں شائع کتاب اس کا نتیجہ تھی۔
اس کے بعد تو جیسے طوفان سا اٹھ کھڑا ہوا۔ اب انٹرنیٹ پررومی سے متعلق پچاسوں ویب سائٹیں موجود ہیں۔ شائقین ایمیزان سے رومی کے بارے میں سینکڑوں کتب خرید سکتے ہیں رسالوںِ ، اخباروں ِ ، نیوز لیٹر اور فلائیرز سے رومی کے بارے میں نئی نئی باتیں دیکھنے کو ملتی ہیں، نائیجل واٹس Nigel Watts کی ایک ڈاکومینٹری The Way of Loveاسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
|

|
|
ترکی کے شہر کونیہ میں رقصاں درویش |
رومی کی شاعری میں کیا ہے جس نے مغرب کو دیوانہ کر رکھا ہے؟ اس سوال کا جواب پانے کے لیے میں ٹورنٹو (کینیڈا) کے رائے تھامسن ہال میں جوبیس اپریل کو’مونسٹرز آف گریس‘ نامی میوزیکل شو دیکھنے گیا۔ کمپوز فلپ گلاس اور ڈائریکٹر رابرٹ ولسن نے اپنے اس شو میں The Essential Rumi سے غزلیات کے بہت سے اشعار اور چند رباعیات کو ایک ممتاز مقام دیا ہے۔
پہلی قرات صحرا کے بے کراں 3-D امیج کے پسِ منظر پر رومی کی شبیہہ سے شروع ہوتی ہے اس قرات کا ٹیپ کا مصرع جو اس کا عنوان بھی ہے یہ ہے Where Every Thing is Music اُسے فارسی اور اُردو کے مخصوص ترنم میں، لیکن انگریزی زبان میں گایا گیا ہے۔ شو کے ختم ہونے پر میں نے کچھ لوگوں سے سوالات کیے۔ انگریزی سے اُن کا ترجمہ کچھ یوں ہے۔
سوال: کیا آپ تصوف (صوفی ازم)کے بارے میں کچھ جانتے ہیں؟
جواب: میں اِس لفظ سے واقف نہیں ہوں۔
سوال: تو آپ کیا سننے اور دیکھنے آئے؟
جواب: شاعری اور موسیقی! او گاڈ!کیا لوگ تھے بارہویں تیرہویں صدی میں! کیا خوب صورت کنیزیں تھیں! میرے خیال میں شراب کی تو شہروں میں نہریں بہتی ہوں گی اور اغلام! او گاڈ! کیا یہ سب لوگ ’گے‘تھے؟
کچھ لوگوں کو چھوڑ کر اکثریت اسی قسم کے رد عمل کا مظاہرہ کر رہی تھی۔
دیپک چوپڑا کا البم لاکھوں گھروں میں پہنچ چکا ہے۔ یہ مشرقِ وسطیٰ کے صحرائی ساز یعنی اکتارے کی سحر کن موسیقی سے شروع ہوتا ہے ۔ ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے صحرا کے خانہ بدوش لوگوں کی یاد ہمارے اجتماعی لاشعور میں انگڑائیاں لیتے ہوئے ایک ہوش ربا حسینہ کی سانپ کی طرح بل کھاتی ہوئی آواز کی صورت میں اُبھرتی ہے۔ اُس کے ساتھ ہی دیپک چوپڑا کی اپنی خواب زا آواز میں پہلا بول سنائی دیتا ہے۔
My heart is burning with love
All can see is its flames
یہ مدھم سرآیتوں کی قرات سا اُبھرتا ہوا مدھم ہوتے ہوتے میڈونا ، ہان، بلائتھ ڈینراور مارٹن شین کی آوازوں میں تحلیل ہو جاتا ہے۔ باری باری سے سولو، بسا اوقات دوگانے اور کورس میں یہ اکیلی یا ملی جلی آوازیں ایک گھنٹے تک انگریزی میں رومی کی رباعیات اور غزلیات کو ترنم سے پیش کرتی ہیں۔
سنگیت میں ہندستانی سازوں یعنی ستار، اکتارہ اور بانسری کے ساتھ ساتھ دیگر مغربی ساز بھی موجود ہیں۔
چوپڑا نے اپنے ایک اخباری انٹرویو میں بتایا ”یہ نظمیں براہِ راست ترجمے نہیں ہیں بلکہ’موڈ‘ ہیں جو
|

|
|
مولانا رومی کا مترجم، دیپک چوپڑافارسی تو کجا، اردو سے بھی کماحقہ واقفیت نہیں رکھتا |
میں نے دوبارہ تخلیق کیے ہیں۔“
نیوز ویک نے اپنی ایک اشاعت میں اس البم کو ایک پر معنی لقب سے نوازا۔The Love Machine ۔اس ایک انگریزی لفظ Love جس میں تصوف کے عشق کی بلندیوں سے لے کر تعشق اور اغلام بازی کی پستیوں تک معافی شامل ہیں میں وہ راز مخفی ہے جس سے مولانا جلال الدین رومی کی شاعری امریکی پاپ کلچر میں داخل ہوئی ہے۔
مغربی شائقینِ موسیقی کے لیے مولانا رومی کی شاعری یا شمس تبریز کے صوفیانہ رموز ثانوی حیثیت رکھتے ہیں، پیشِ نظر صرف حسن پرستی ہے جس کا دوسرا نام مغربی کلچر میں کام جوئی ہے۔
اس صفحے کو ای میل کیجیے
قابل چھپائی صفحہ