Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

مسلمان نقاش پانچ سو سال قبل بیسویں صدی کی ریاضی کے اصولوں سے واقف تھے


March 1, 2007

Peter Lu in Uzbekistan

پیٹر لو اپنی کزن کے ساتھ ازبکستان میں

ازمنہٴ وسطیٰ کے مسلمان فن کار اور نقاش مسجدوں، مزاروں اور محلات میں دیدہ زیب کاشی کاری کے نمونے بنانے کے لیے بیسویں صدی کی ریاضی کے اصول استعمال کیا کرتے تھے، جن سے مغربی دنیا 1970ء کے عشرے میں روشناس ہوئی۔

 

اس بات کا انکشاف مشہور رسالے ’سائنس‘کے حالیہ شمارے میں ہارورڈ یونی ورسٹی کے دو نوجوان سائنس دانوں پیٹر لُو اور پال سٹائن ہارٹ نے ایک تحقیقی مقالے میں کیا ہے۔ مقالہ نگاروں کا خیال ہے کہ مسلمان نقاش پیچیدہ ریاضی اور جیومیٹری کے اصولوں سے مغربی دنیا کے مقابلے میں پانچ صدیاں قبل ہی روشناس ہو چکے تھے۔

 

عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ مسلمانوں نے بیل بوٹوں اور نقش و نگار کی طرف زیادہ توجہ اس لیے دی کہ قرآن نے جان دار اشیا کی مصوری سے منع کیا ہے جس کی بنا پر مسلمان انسانوں اور جانوروں کی تصاویر بنانے سے گریز کیا کرتے تھے۔

 

 تاہم یہ بات اس لیے قرینِ قیاس نہیں ہے کہ مسلمان مصوروں نے بڑے پیمانے پر انسانوں اور انواع و اقسام کے جانوروں کی تصاویر بنائی ہیں۔ اس سلسلے میں ایران اور مغلیہ ہندوستان میں فروغ پانے والی منی ایچر مصوری کے دبستان میں بڑی تعداد میں شان دار پورٹریٹس کی مثال پیش کی جا سکتی ہے۔ 

 

حقیقت یہ ہے کہ عیسائیت، ہندومت اور بدھ مت وغیرہ کے برعکس اسلام ایسا مذہب ہے جس میں خدا کی کوئی مادی شکل و صورت بیان نہیں کی گئی۔ قرآن میں خدا کو صرف نور کے ہیولے کے روپ میں پیش کیا گیا ہے۔ مشہور آیت’اللہ نور السمٰوات والارض‘ (اللہ زمین اور آسمان کا نور ہے) میں اسی بات کا اظہار کیا گیا ہے۔ چناں چہ مسلمان نقاشوں کے لیے فطری تھا کہ مسجدوں ، درگاہوں اور دوسرے مقدس مقامات کی سجاوٹ کے دوران اس نور کو  علامتی انداز میں ظاہر  کرنے کے لیے وہ ستاروں کی اشکال کا استعمال کریں،  اور ان کو بنیاد بناتے ہوئے نقش و نگار بنائیں۔

 

عربوں کی صحرائی بود و باش میں ستاروں کی ایک اور اہمیت بھی تھی۔ اور وہ یہ کہ لق و دق، بے چہرہ صحراؤں میں سمتوں کا تعین کرنے اور راستا ڈھونڈنے کے لیے بھی ستاروں سے مدد لی جاتی تھی۔ مزید برآں، عرب مشاق اورجری ملاح تھے اور زمانہٴ قدیم ہی سے بحر نوردی کے لیے مشہور تھے۔ ظاہر ہے کہ سمندر میں سمتوں کے تعین کے لیے بھی ستاروں ہی سے مدد لی جاتی تھی۔

 

Bedouin Tent - Carpetweaving<br />

خیمے اور قالین، عرب ثقافت کے اولین نقش

عربوں کا معاشرہ بنیادی طور پر خانہ بدوش تھا، جہاں رہائش کے لیے خیمے اور فرنیچر کے طور پر قالین کا استعمال عام تھا۔ قالین بافی ان کے اہم ترین فنون میں شامل تھی۔ بعد میں جب عربوں نےجزیرہ نمائے عرب سے اٹھ کر چار دانگِ عالم میں عظیم شہری مراکز قائم کرنا شروع کیے تو انھوں نے قالینوں پر خوش نما نقش و نگار بنانے کے ہنر کو وسعت دے کر عالی شان عمارتوں کو منقش کرنے کا فن سیکھ لیا۔اور یوں نقاشی کا نادر الوجود اسلامی آرٹ وجود میں آگیا۔ 

 

اب سوال یہ ہے کہ آخر مسلمان صناع اتنے نفیس، پیچیدہ اور ’جدولِ گل پیچ‘ سے بھرپور ڈیزائن بناتے کیسے تھے؟

 

پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ گُل کار  قطب نما اور پیمانے کی مدد  سے اپنے گنجلک فن پارے تخلیق کرتے ہوں گے۔ لیکن پیٹر لو اور سٹائن ہارٹ کا خیال ہے کہ دراصل مسلمان صناعوں نے پانچ صدیاں قبل ایک قسم کی جیومیٹری دریافت کر لی تھی جس کی مدد سے وہ ڈیزائن بناتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ سادہ نمونوں کے لیے تو قطب نما اور پیمانے سے مدد لی جاسکتی ہے لیکن ان دو آلات کی مدد سے انتہائی پیچیدہ نمونوں کو بے عیب طریقے سے بنانا تقریباً ناممکن ہے کیوں کہ چھوٹی چھوٹی ابتدائی غلطیاں پھیل کروسیع و عریض دیواروں پر پھیلے ہوئے نمونوں میں بہت بڑے عیبوں کا باعث بن سکتی ہیں۔

 

مقالہ نگاروں نے لکھا ہے کہ ’’مسلمان فن کاروں نے
AbdullaH Khan mosquej's outer wall in Bukhara

بخارا میں مسجد عبداللہ خان کی بیرونی دیوار

پانچ صدیاں قبل ہی ایسا طریقہ وضع کر لیا تھا جس کو بروئے کار لا کر وہ بے عیب ’پین روز‘ نقش و نگار تخلیق کر لیتے تھے۔‘‘

 

سر راجر پین روز برطانوی ماہرِ طبیعات ہیں۔ انھوں نے 1970ء کے عشرے میں ایک ایسا جیومیٹری کا نمونہ دریافت کیا تھا جسے بغیر دہرائے ہوئے بڑے پیمانے پر ڈیزائن بنائے جا سکتے ہیں۔ اس نمونے کو ’پین روز‘ کہا جاتا ہے۔

 

پیٹر لو نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ازبکستان کے سفر کے دوران بخارا میں انھوں نے مسحور کن عمارتی نقش و نگار دیکھے۔ عبداللہ خان مدرسے کی بیرونی دیواروں پر ستاروں پر مبنی ایک پیٹرن نے ان کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ بعد میں ہارورڈ یونی ورسٹی واپس آ کر انھوں نے مزید تحقیق کی جس کے بعد ان پر ان ڈیزائنوں کے پیچیدہ ریاضی سے تعلق کا راز کھلا۔

 

ان کا کہنا ہے کہ ’’اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہم اس تہذیب کو اس قدر اہمیت نہیں دیتے جو اس سے کہیں بدرجہا ترقی یافتہ تھی جتنا ہم سمجھتے ہیں۔‘‘

 

jadval2

ایران میں گنبدِ کبود کے نقش ونگار

پیٹر لو کا کہنا ہے کہ یہ نقش و نگار جیومیٹری کی خاص کویسائی کرسٹیلائن اشکال کے زمرے میں آتے ہیں۔کویسائی کرسٹیلائین (Quasi-crystalline) نقش و نگار آپس میں گتھے ہوئے ٹکڑوں پر مبنی ہوتے ہیں جس کے نمونے اپنے آپ کو کبھی بھی نہیں دہراتے اور انھیں چاروں سمتوں میں لامتناہی طریقے سے پھیلایا جا سکتا ہے۔ اس قسم کے نقش و نگار سے بڑی عمارتوں کی وسیع و عریض دیواروں کو سجانے کا کام لیا جاتا تھا۔ اس طرح کے نمونے کی ایک مثال اصفہان کے ضربِ ایمان درگاہ کی ہے جسے 1463ء میں تعمیر کیا گیا تھا۔

 

پیٹر لو اور پال سٹائن ہارٹ کا خیال ہے کہ اس طرح کے نمونے بنانے کے لیے خاص قسم کی آرائشی اینٹیں یا ٹائلیں استعمال کی جاتی تھیں جنھیں مقالے کے مصنفین نے ’گرہ‘ ٹائیلوں کا نام دیا ہے۔ ان گرہ ٹائیلوں کو پانچ گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ جن میں دس رخی، ہیرے کی شکل کی، بو ٹائی (bow-tie) ، مخمس اور مسدس اشکال شامل ہیں۔

 

لو اور سٹائن ہارٹ کا نظریہ ہے کہ یہ اشکال وہ بنیادی ڈھانچا فراہم کرتی ہیں جس کو بنیاد بنا کر مسلمان فن کار عقل کو چکرا دینے والی نفاست سے اپنے نمونے تخلیق کیا کرتے تھے:

’’سینکڑوں دس رخی اشکال کو پیمانے کی مدد سے ٹھیک ٹھیک مقام پر رکھنا بے حد دقّت طلب  کام ہے۔‘‘ پیٹر لو کا کہنا ہے۔ ’’ زیادہ امکان یہی ہے کہ مسلمان فن کار مخصوص  اشکال کی ٹائیلیں استعمال کیا کرتے تھے۔ اس نظریے کو بنیاد بنا کر ہم نے ان نقش و نگار کو از سرِ نو بنانے کا راز معلوم کر لیا ہے۔‘‘

 

 
islamic_pattern

اسلامی ڈیزائن کے پیچھے کارفرما پانچ بنیادی شکلیں

 

اسلامی نقش و نگار کی کا ایک پہلو یہ ہے کہ ان کے ایک جیسے نمونے فاصلوں اور وقت کی قید سے آزاد، تمام اسلامی دنیا میں پائے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر آگرہ میں جو کندہ کاری ہے، اس کا ہو بہو نمونہ اندلس کی اسلامی تعمیرات میں بھی میں بھی پایا جاتا ہے۔

 

حالیہ برسوں میں اُس زمانے کے ایسے مخطوطے ملے ہیں جن میں ڈیزائن بنانے کے طریقے درج ہیں، اور  ہو سکتا ہے کہ مختلف ملکوں میں آباد مسلم فن کار ایسی کتابوں تک رسائی رکھتے ہوں۔ اس قسم کی ایک کتاب ترکی سے ملی ہے جسے توپ کاپی سکرول کہا جاتا ہے۔

 

اس سکرول کو دریافت اور مدوّن کرکے شائع کروانے والی ہارورڈ یونی ورسٹی کی اسلامی تحقیق کار گل رُو نیسی پوگلو نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہ کتاب ایران میں لکھی گئی تھی لیکن وہاں سے استنبول کے عثمانی دربار لے جائی گئی تھی۔

 

انھوں نے مزید بتایا کہ تیرھویں صدی عیسوی میں لکھی جانے والی اسلامی ڈیزائن کی کتابیں میں اس قسم کے ڈیزائن بنانے کی تراکیب درج ہیں۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس زمانے کی اسلامی دنیا میں فن کارانہ خیالات اور نظریات کی ترسیل عام تھی۔

راجر پین روز بھی ہارورڈ یونی ورسٹی کے سائنس دانوں کی دریافت سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’کویسائی کرسٹل کا نظریہ اگرچہ کافی مبہم ہے، تاہم اسلامی پیٹرن میں اس نظریے کی اچھی خاصی جھلک نظر آتی ہے، جو انتہائی متاثر کن ہے۔‘‘

Islamic Pattern

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر
پاکستان مطلوبہ افراد کی بھارتی فہرست کا جائزہ لے گا

  مزید خبریں
ساحلی دستوں کو اُس کشتی کا علم تھا جو دہشت گردوں کو ممبئی لائی: بھارتی بحریہ 
امریکی معیشت کی بحالی
کراچی کے سہراب گوٹھ  علاقے میں کارروائی کا آغاز، بھاری اسلحہ برآمد
کرکٹ کے ذریعے پاک۔بھارت کشیدگی دور کی جا سکتی ہے
عراقی عدالت نے علی حسن الماجد کو سزائے موت سنا دی
اسٹاک مارکیٹ کاروبار کی بحالی، آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کا فیصلہ
تھائی عدالت نے وزیر اعظم سوم چائی کی حکومت برطرف کردی
تھائی عدالت نے وزیر اعظم کی پارٹی سمیت تین سیاسی جماعتوں کو پانچ سال کے لیے کالعدم قراردے دیا
جوہری ٹکنالوجی سے زیادہ پیداوار دینے والی فصلیں کاشت کی جاسکتی ہیں
پراپیگنڈہ اشتہاروں  پر جنوبی کوریا میں دو گروہوں میں جھڑپ
چین میں بس اور ٹرک کی ٹکر ، 21 افراد ہلاک
ممبئی حملے میں ہلاک ہونے والے یہودیوں کو یروشلم میں سپرد خاک کر دیا گیا
روانڈا کے گلوکار کو 1994 میں ہلاکتوں پر جذبات بھڑکانے پر پندرہ سال قید کی سزا
مسلمان مبلغ ابو قتادہ کی ضمانت منسوخ
صومالیہ کے لیے  ایک ارب ڈالر کی امداد درکار ہے : اقوام متحدہ
وزیرِ اعظم کی سربراہی میں ہونے والی کُل جماعتی کانفرنس میں ممبئی حملوں کی شدید مذمت، بھارت کو مشترکہ تحقیقاتی کمیشن کی پیش کش کی تائید
آنا جانا تو لگا رہے گا، بَٹے ہوئے خاندانوں کی مجبوری: دہلی سے واپس آنے والے پاکستانی مسافر کا تبصرہ
ممبئی اور کراچی کا امن ایک دوسرے سے بندھا ہے  Video clip available
جارج میسن یونیورسٹی میں پاکستانی طالب علموں کی تقریب  Video clip available
واشنگٹن ڈی سی کا مادام ٹوساڈز ویکس میوزیم  Video clip available
ممبئی حملوں کی تحقیقات کے لیے مشترکہ کمیشن بنانے کی تجویز
پاک بھارت کشیدگی پر ہنگامی اجلاس  Video clip available
دہلی کے بعدامریکی وزیر خارجہ اسلام آباد آئیں گی
کراچی،تشدد میں بتدریج کمی
نواز شریف نے چیف جسٹس سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا
بھارت کی جانب سے پاکستان پر باضابطہ الزام
بغداد اور موصل میں بموں کے حملوں میں 33لوگ ہلاک
وھیل کے نغموں کا کھوج لگانے کی جستجو
ممبئی حملے، اوباما کو اقتدار سے قبل ہی چیلنج کا سامنا  Video clip available
ہیلری کلنٹن وزیر خارجہ نامزد  Video clip available
ورجینیا میں ایک اردو ادبی محفل  Video clip available
ایران میں ایک نئے میزائل کا تجربہ
اوباما نے ہلیری کلنٹن کو وزیرِ خارجہ مقرر کر دیا
باغیوں کے اہم شہر پر سری لنکا کی فوج کا قبضہ
افغانستان میں بم کے خود کُش حملے میں 10 افراد ہلاک
بنکاک: مظاہرین عدالتی فیصلے کے منتظر 
کمال اتاترک کی زندگی پر ایک متنازعہ فلم 
امریکہ میں سبزی خوری کے رجحان میں اضافہ
ایڈز کا عالمی دن: بیشتر توجہ روک تھام پر مرکوز
امریکہ کسادبازاری سے دوچار ہے: اقتصادی ماہرین
غیرملکی عناصر قوموں کو یرغمال نہیں بنا سکتے ،صدر زرداری
ممبئی حملوں سے فلمی دنیا لرزہ براندام
”پاکستان ممبئی دھماکو ں کی تحقیقات میں مکمل تعاون کرے“
سوات خود کش حملہ کم ازکم سات ہلاک
کراچی میں تشدد جاری ،مزید11 ہلاک
پاک بھارت تناؤ سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو دھچکا لگ سکتا ہے  Video clip available
ممبئی میں دہشت گرد حملوں کے بعد بھارت۔پاک تعلقات پر خطرے کے بادل
امریکہ میں نئے صدر کی آمد اور پرانے صدر کی رخصتی کس طرح ہوتی ہے؟  Video clip available
واشنگٹن کی تاریخی عمارتوں کے دلچسپ حقائق  Video clip available
وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنا بیرون ملک دورہ منسوخ کردیا
چینی صدر کا اقتصادی انحطاط کے بارے میں انتباہ
اوباما معیشت کی بحالی کے لیے پرعزم ہیں  Video clip available
اوباما ، ہلری کلنٹن کو وزیرِ خارجہ نامزد کردیں گے
صومالی سمندری ڈاکؤں کے ساتھ سمجھوتا  یوکرین کے جہاز کو جلد ہی چھوڑ دیا جائے گا
کابل میں بم کا خوکُش حملہ  تین افراد ہلاک چھ زخمی
بنوں، لکی مروت میں سیکیورٹی فورسز اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں
پکڑے ہوئے دہشت گرد کا کہنا ہے کہ اُسے کیے گئے قتلِ عام پرکوئی پشیمانی نہیں
اسرائیل نے مزید فلسطیوں کی رہائی کی منظوری دے دی