 |
|
UNFCCC کے بوئر بالی کانفرنس میں سوالوں کے جواب دے رہے ہیں |
دنیا کے 200 سے زیادہ ماحولیاتی سائنس دانوں نے ایک عرض داشت پر دستخط کیے ہیں جس میں بالی میں ہونے والی اقوامِ متحدہ کی ماحولیاتی کانفرنس کے شرکا سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج روکنے کے لیے جارحانہ اہداف مقرر کریں۔
جمعرات کے دن کانفرنس میں جاری کیے جانے والے اعلامیے میں حکومتوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ 2050ء تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو نصف کر دیں۔
اکثر سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ میتھین اور کاربن ڈائی آکسائیڈ جیسی گیسیں فضا میں جمع ہو جاتی ہیں اور دنیا کے درجہٴ حرارت میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔
اس دستاویز پر215 کے قریب ماہرینِ موسمیات نے دستخط کیے ہیں جس کا مسؤدہ پچھلے چار ماہ کی کوشش کے بعد تیار کیا گیا تھا۔ دوسری تنظیموں نے بھی موسم کی تبدیلی پراس قسم کے بیانات جاری کیے ہیں، جن میں نوبل انعام یافتہ سائنس دانوں کی تنظیم IPCC بھی شامل ہے۔
یونی ورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز کےپروفیسر میتھیو انگلینڈ کہتے ہیں کہ یہ عرض داشت اس لیے مختلف ہے کہ اس میں مخصوص سفارشات کی گئی ہیں جن پر حکومتوں کو عمل کرچاہیئے۔ وہ کہتے ہیں:
’اس کے اندر ایک واضح پیغام ہے، جو صرف چار یا پانچ پیراگرافوں پر مبنی ہے۔ اس کے پیچھے سائنسی برادری کا وزن موجود ہے اور امید ہے کہ اس سے بالی میں موجود مندوبین کو یہ یاد رکھنے میں مدد ملے گی کہ موسمیاتی سائنس دان کیا کہہ رہے ہیں۔‘
سکرپس انسٹی ٹیوٹ آف اوشیاناگرافی کے رچرڈ سمرول نے اس نکتے پر توجہ مرکوز کرائی کہ یہ سفارشات بہترین دستیاب اعداد و شمار کو مدِ نظر رکھ کر تیار کی گئی ہیں:
’اس میں کوئی جادوئی اعداد نہیں ہیں، بالکل ایسے ہی جیسے جسم میں کولیسٹرول کی مقدار کی ایسی کوئی حد نہیں ہے جس کے بارے میں آپ کا ڈاکٹر کہہ سکے کہ اس سے نیچے آپ ہر خطرے سے محفوظ و مامون ہیں اور اب آپ کو دل کا دورہ نہیں پڑ سکتا۔ یہ محض خطرے کا ایک تخمینہ ہے۔ اور اب ہمیں اور دستخط کندگان کویہ فیصلہ کرنا ہے کہ جو اہداف مقرر کیے گئے ہیں وہ وہی ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر خطرے کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔‘
اقوامِ متحدہ کے موسمیاتی سربراہ ییو دا بوئر کہتے ہیں کہ یہ واضح نہیں ہے کہ سائنس دانوں کی تجاویز کا کانفرنس میں ہونے والے مذاکرات پر کتنا اثر ہو گا، تاہم انھوں نے زور دیا کہ کانفرنس میں ہونے والی بحث ایسی رپورٹوں پر ہو جن کی بنیاد سائنسی ہو، مثال کے طور پرIPCC کی رپورٹ۔‘
بوئر کہتے ہیں کہ ’میرے خیال سے اس عمل کی بنیاد سائنس پر ہے۔ آپ نے دیکھا کہ کیوٹو پروٹوکول میں ہونے والے مذاکرات کا دارومدار بھی IPCC کی رپورٹ پر تھا۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ ہم IPCC کی حالیہ رپورٹ کو بنیاد بنا کر مذاکرات کا اگلہ مرحلہ شروع کر سکتے ہیں۔
عرض داشت میں کہا گیا ہے کہ اگر حکومتیں اگلے 15 برس کے اندر اندر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانے میں کامیاب ہو گئیں تو اس بات کا 50 فی صد امکان ہے کہ عالمی درجہٴ حرارت کو انڈسٹریل دور سے قبل کے درجہ ٴ حرارت سے دو ڈگری سے زیادہ نہ بڑھنے دیا جاسکے۔
بالی میں اس ہفتے ہونےوالی ماحولیاتی کانفرنس میں 190 ملک حصہ لے رہے ہیں۔