 |
|
بالی میں ماحولیاتی تبدیلی کی کانفرنس |
بالی میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ماحولیاتی تبدیلی کی کانفرنس کے مندوبین ہفتے کے روز2009 تک عالمی حدت پر ایک نیا معاہدہ تشکیل دینے کےلیے گفت وشنید کے ایک منصوبے پر متفق ہوگئے۔
بالی روڑ میپ نامی اس معاہدے میں کہاگیا ہے کہ اگلے سال سے گیسوں میں اخراج میں کمی کےمعاہدے پر سلسلے وار اجلاس منعقد کیے جائیں۔ 2012 تک اس نئے معاہدے کی تمام ملکوں سے توثیق کرنی ہوگی ۔ جبکہ عالمی حدت کا موجودہ کیوتو پروٹوکول 2012 میں ختم ہوجائے گا۔
بالی دستاویز میں عالمی ماحول کی تبدیلی سے ہنگامی طور پر نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
امریکی دباؤ کے باعث بالی معاہدے میں دولت مند ملکو ں کے لیے 2020تک گرین ہاؤس گیس کے اخراج میں کمی کے مخصوص ہدف طے نہیں کیے گئے ہیں۔جبکہ یورپی یونین اور بیشتر شریک ملکوں نے ایسے کسی ہدف کی حمایت کی تھی۔
گرین پیس انٹرنیشنل سمیت کئی ماحولیاتی تنظیموں نے اس تجویز پر تنقید کی ہے کہ ترقی یافتہ ممالک رضاکارانہ طور پر تخفیف کے پروگرام پر عمل کریں گے۔
ترقی پذیر ملکوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ گرین ہاؤس گیس کے اخراج میں کمی کے لئے ایسے اقدامات کریں جن کی پیمائش ہوسکے، تصدیق کی جاسکے اور جنہیں بیان کیا جاسکے ۔
امریکی وفد نے کانفرنس کے اختتام پراس مطالبے پر اعتراض کیا جس میں امیر ملکوں سے یہ کہاگیا تھا کہ وہ غریب اور ترقی پذیر ملکوں کو صاف ٹیکنالوجی کی فراہمی کے لیے مالی معاونت کریں۔ لیکن دوسرے مندوبین کی طرف سے زبردست احتجاج کے باعث امریکہ کے اعلیٰ مذاکرات کار پاؤلا ڈوبری نسکی نے اپنا بیان واپس لے لیا۔
منصوبے میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ ترقی پذیر ملکوں کو اپنے جنگلات کی کٹائی روکنے یا اس میں کمی کے لیے ممکنہ مالی مدد فراہم کی جائے۔ تقریباً 20 فی صد کاربن ڈائی اکسائڈ کے اخراج کا ذمہ دار جنگلات کی کٹائی کو سمجھاجاتا ہے۔
بالی کے معاہدے کا اعلان ہفتے کے روز190 ملکوں کے مندوبین کے درمیان دوہفتوں تک جاری رہنےوالے بھرپور مذاکرت کے بعد کیا گیا ۔ان مذاکرات میں ایک روز کی توسیع کی گئی ۔یہ معاہدہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بن کی مون کی ذاتی درخواست کے بعد طے پایا۔