 |
|
تفتیش کار لاہور کے خودکش حملے کی جائے وقوعہ سے سراغ اکٹھے کر رہے ہیں |
لاہور ہائی کورٹ کے باہر خودکش دھماکا کرکے 20 سے زیادہ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی کرنے والےحملہ آور کی شناخت کے لیے جمعے کی صبح تحقیقاتی اداروں کے ارکان نے دھماکے کے مقام کا تفتیشی جائزہ جاری رکھا اور جدید آلات کی مدد سے نمونے اکٹھے کیے۔
آئی جی پنجاب احمد نسیم کے کہنے کے مطابق جمعرات ہی کو خودکش حملہ آور کا سر پولیس کو مل گیا تھا۔
پولیس ذرائع کے مطابق سرجری کی مدد سے اِس کو قابلِ شناخت بنا کر اِس کا خاکہ جاری کر دیا گیا ہے، تاہم اس کی شناخت کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں ہو پائی ہے اور نہ ہی تاحال کسی تنظیم نے دہشت گردی کی اِس کارروائی کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
واضح رہے کہ حکومتِ پاکستان اِس نوعیت کے خودکش دھماکوں کا اسلامی انتہا پسندوں کو ذمے دار قرار دیتی ہے جو قبائلی علاقوں اور شمال مشرقی سرحدی صوبے میں سرگرمِ عمل ہیں۔
سرکاری عہدے دار اِس امر پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ ایسی کارروائیوں کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جا رہا ہے اور جمعرات کو لاہور میں ہونے والا ایسا پہلا خودکش دھماکا اُن کے نزدیک اِن کارروائیوں کے پھیلنے کا واضح ثبوت ہے۔
دریں اثنا پولیس لائن لاہور میں جمعے کو بھی سوگ کا ماحول رہا جہاں جمعرات کی رات دیر گئے 16پولیس کے جوانوں کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی اور گارڈ آف آنر پیش کرنے کے بعد میتیں وارثوں کے سپرد کردی گئیں۔
لاہور میں جمعے کو سول سوسائٹی کے ارکان نے پولیس کے ساتھ یک جہتی کے اظہار کے طور پر اِن جوانوں کی غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کی اور تقاریر میں دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے اِس کے مکمل خاتمے کے لیےاِس کے اسباب ختم کرنے پر زور دیا۔
خیال رہے کہ جمعرات کو لاہور ہائی کورٹ کے باہر ایک خودکش حملہ آور نے وہاں تعینات پولیس کی بھاری نفری کے قریب پہنچ کر اپنے آپ کو دھماکے سے اُڑا دیا تھا جِس کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے بیشتر پولیس کے سپاہی تھے۔