Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

بارہ پنجے ساٹھ ۔۔۔ مستقبل کی ایک تصویر

January 24, 2008

1

 

بھلا وہ کیا چیز ہے جو کمپیوٹر سے زیادہ ذہین ہو،اس سے زیادہ تیز رفتارہو، اس سے زیادہ تخیلاتی ہواور سب سے بڑھ کر کمپیوٹر سے زیادہ انسانی وجود سے قریب تر ہو؟

 

12x5
اس سوال کا جواب بہت ہی آسان ہے، دماغ۔ جی ہاں ہمارا دماغ ان تمام افعال میں کمپیوٹرسے برتر ہے، لیکن ہم انفارمیشن ہائی وے پر چوہا دوڑ میں اس قدر مگن ہوگئے ہیں کہ اپنے دماغ سے کام لینا ہی چھوڑتے جا رہے ہیں۔ اسکول کے بچے سے پوچھ لیں یا کسی دفتر کے بابوسےکہ نواٹھے کتنے ہوتے ہیں؟  وہ سوچ میں پڑ جائے گا جیسے نہ جانے کون سا مشکل سوال کرلیا گیا ہے۔ کیلکولیٹر مانگے گا یا کمپیوٹر کا سہارا تلاش کرے گا ۔

 

مجھے ایجاد کی بنا پر ہونے والی ہر مثبت تبدیلی قبول ہے لیکن مجھے جدید ایجاد کی قیمت پر انسانی ذہن کا ، پرکھنے کا ہنر ، چننے کی صلاحیت اور فیصلہ کرنے کی قدرت  کو قربان کردینا منظور نہیں:

 

ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت

احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

 

کوئی جدید سے جدید کمپیوٹر بھی شعر بھلا کہاں کہہ سکتا ہے،دو لفظ ہمدردی کے کہاں بو ل سکتا ہے،زخموں پر مرہم کہاں رکھ سکتا ہے ،خوشی کے لمحات میں کہاں شریک ہو سکتا ہے۔ کہنے کی بات یہ ہے کہ دور جدید کی تمام ترقی مشینوں کی مرہونِ منت ضرور ہے لیکن اس میں سے انسانی عنصر کو نہیں نکالا جا سکتا۔آخر انسان نے ٹیکنالوجی کے یہ کمالات زندگی میں آسانی پیدا کرنے کے لیے ہی بنائے ہیں نا۔

 

2

 

میرے تخیئل کے پردے پر سال 2408ء کا ایک منظر ابھر رہاہے ۔دنیا ترقی کی انتہاؤں کو چھوتی ہوئی اپنی کہکشاں  آکاش گنگا سے پرے نکل چکی ہے۔انسان کی بنائی ہوئی مشینوں کی مار  ساڑھے چار نوری سال دور الفا سنتوری سے  آگے پہنچ چکی ہے۔

 

الفا سنتوری کے ایک ستارے پراکسیما کے نظامِ شمسی کے باسی اہلِ زمین سے پرخاش  رکھتے ہیں۔اہلِ زمین اور پراکسیما واسیوں کے درمیان ٹکراؤ  کی صورت پیدا ہو گئی ہے ۔دونوں ایک دوسرے پر حملے کرنے اور ایک دوسرے کے حملوں سے بچنے کے  نت نئے طریقے کھوجنے میں جٹے ہوئے ہیں۔

 

زمین کے صدر کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کس طرح پراکسیما واسیوں پر حملے کے لیے سستے اور موثر طریقے تلاش کیے جائیں۔

 

اِدھرزمین پر ایک فوجی یونٹ میں سپر وائزر اپنے افسر کوایک بہت اہم بات بتا رہا ہے:

 

’سر میں نے خود اس کلرک سے بات کی ہے۔وہ واقعی کسی کمپیوٹر کے بغیر حساب کتاب کر سکتا ہے۔میں نے اس کو آزمایا ہے، بلا شبہ وہ جو کہتا ہے سچ ہے۔‘

 

بات یہ ہے کہ معمولی کلرک اچانک اپنے محکمے میں مشہور ہوجاتا ہے۔ اس کی وجہٴ شہرت یہ ہے کہ وہ بغیر کمپیوٹر کے حساب کتاب کر سکتا ہے۔اس کے ساتھی اس کا امتحان لیتے ہیں، سات اٹھے؟ وہ کہتا ہے چھپن۔  ساتھی پوچھتے ہیں بارہ  پنجے؟ وہ کہتا ہےساٹھ۔ اور یہ سب جواب وہ کمپیوٹر کی مدد کے بغیر دیتا ہے،اور حیرت کی بات یہ ہے کہ کمپیوٹر بھی یہی جواب دیتا ہے۔کیسا باکمال آدمی ہے کمپیوٹر کا کام کر رہاہے؟

 

افسر اپنے بڑے افسر کو رپورٹ کرتا ہے اوربات اوپر بڑھتے ہوئے وزیرِ اعظم تک چلی جاتی ہے۔وزیرِ اعظم کو یقین نہیں آتا کہ کس طرح ایک انسان خود سے حساب کتاب کر سکتا ہے۔وزیر اعظم اس کلرک سے ملاقات کرتے ہیں:

’تم ہی وہ شخص ہو جس نے خود سے حساب کتا ب شروع کردیا ہے؟‘

 

’جناب اس میں میرا کوئی قصور نہیں، میں نے کچھ نہیں کیا۔‘

 

’ڈرو نہیں تم نے تو ایک عظیم کام کیا ہے، لیکن تم نے یہ سب کچھ کیا کیسے؟‘

 

’جناب مجھے سینکڑوں سال پہلے تباہ ہوئی  عمارت کے تہہ خانے سے ایک کتاب ملی تھی جو کاغذ پر لکھی گئی تھی۔ سنا ہے کبھی انسان جاہل تھا وہ کاغذ پر لکھنے کی کوشش کرتا تھا۔جناب اس کتاب سے میں نے جمع تفریق تقسیم ضرب کے قاعدے سیکھے۔‘

 

وزیر اعظم نے اپنے کمپیوٹر پر کچھ جمع تفریق کی اور کلرک کووہ سوال حل کرنے کے لیے دے دیے گئے۔ کلرک نے کاغذ پر کچھ دیر سر کھپانے کے بعد اپنے جوابات وزیر اعظم کو دکھائے ۔

 

’شاندار! کمپیوٹر نے بھی یہی جوابات  دیے ہیں۔تم اپنا یہ ہنر دوسروں کو بھی سکھا سکتے ہو؟‘

 

’جی جناب  لیکن اس میں ٹائم لگے گا ۔خود مجھے اس کام کو ٹھیک طرح سے کرنے میں کئی سال لگ گئے تاہم امید ہے دوسروں کو سکھانے میں کم وقت لگے گا۔‘

 

’تم اس نئے پراجیکٹ کے سربراہ ہو ۔میں صدر سے بات کرتا ہوں، وہ فوراً اس کی منظوری دے دیں گے۔‘

 

3

 

صدراپنے دفتر میں نئے سپرکمپیوٹروں کے ساتھ اہم میٹنگ میں ہے۔وزیر اعظم کا پیغام آتا ہے:

 

’پراکسیما والوں نے زمین کو نشانے پر لینے کے لیے مریخ  پر واقع ہماری رسد گاہ پر حملے تیز کر دیے ہیں۔‘

 

’ہمارا جدید کمپیوٹر ز کی تیاری کا سسٹم سست روی کا شکار ہے۔ہم نے پراکسیما تک مار کرنے والے میزائل تو بنا لیے ہیں لیکن  پارٹس کی کمی کی  وجہ سے ہر میزائل میں کمپیوٹر نہیں لگایا جا سکتا۔اس صورت حال میںٕ جلد کوئی انتظام نہ کیا گیا تو زمین کو بچانا مشکل ہو جائےگا۔تو کیا کریں ہم مجبور ہیں۔ ہمارے کمپیوٹر قیمتی ہیں اوران کی تعداد بھی کم ہے۔‘

 

’سر ایک کلرک نے اپنے ذہن کا استعمال سیکھ لیا ہے۔ وہ کمپیوٹر پر کرنےوالے حساب کتاب خود کرلیتا ہے۔میں نے خود ٹیسٹ کیا ہے۔اس سے پوچھا گیا، بارہ پنجے؟ اس نے کہا ساٹھ اور یہ ٹھیک ہے۔‘

 

’ارے زبردست! یہ تو کمال ہوگیا فوری طور پر اس پراجیکٹ پر کام شروع کردو۔انسانی ذہن کے استعمال سے ہم پراکسیما والوں کو شکست دے دیں گے۔‘

 

’جی ہاں جناب صدر،میں بھی یہی سوچ رہا ہوں ہمارے پاس بہت سارے بیکار انسان ہیں جن کی تربیت کے بعد انہیں  ہم پراکسیما تک مار کرنے والے میزائلوں میں استعمال کر سکتے ہیں۔‘

’واہ ہم نےکتنا سستا اور مؤثرہتھیار تلاش کرلیا ہے،اور ہاں اس پراجیکٹ کا نام رکھو،   بارہ پنجے ساٹھ ۔۔۔‘

 

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر
پاکستان مطلوبہ افراد کی بھارتی فہرست کا جائزہ لے گا

  مزید خبریں
ساحلی دستوں کو اُس کشتی کا علم تھا جو دہشت گردوں کو ممبئی لائی: بھارتی بحریہ 
امریکی معیشت کی بحالی
کراچی کے سہراب گوٹھ  علاقے میں کارروائی کا آغاز، بھاری اسلحہ برآمد
کرکٹ کے ذریعے پاک۔بھارت کشیدگی دور کی جا سکتی ہے
عراقی عدالت نے علی حسن الماجد کو سزائے موت سنا دی
اسٹاک مارکیٹ کاروبار کی بحالی، آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کا فیصلہ
تھائی عدالت نے وزیر اعظم سوم چائی کی حکومت برطرف کردی
تھائی عدالت نے وزیر اعظم کی پارٹی سمیت تین سیاسی جماعتوں کو پانچ سال کے لیے کالعدم قراردے دیا
جوہری ٹکنالوجی سے زیادہ پیداوار دینے والی فصلیں کاشت کی جاسکتی ہیں
پراپیگنڈہ اشتہاروں  پر جنوبی کوریا میں دو گروہوں میں جھڑپ
چین میں بس اور ٹرک کی ٹکر ، 21 افراد ہلاک
ممبئی حملے میں ہلاک ہونے والے یہودیوں کو یروشلم میں سپرد خاک کر دیا گیا
روانڈا کے گلوکار کو 1994 میں ہلاکتوں پر جذبات بھڑکانے پر پندرہ سال قید کی سزا
مسلمان مبلغ ابو قتادہ کی ضمانت منسوخ
صومالیہ کے لیے  ایک ارب ڈالر کی امداد درکار ہے : اقوام متحدہ
وزیرِ اعظم کی سربراہی میں ہونے والی کُل جماعتی کانفرنس میں ممبئی حملوں کی شدید مذمت، بھارت کو مشترکہ تحقیقاتی کمیشن کی پیش کش کی تائید
آنا جانا تو لگا رہے گا، بَٹے ہوئے خاندانوں کی مجبوری: دہلی سے واپس آنے والے پاکستانی مسافر کا تبصرہ
ممبئی اور کراچی کا امن ایک دوسرے سے بندھا ہے
جارج میسن یونیورسٹی میں پاکستانی طالب علموں کی تقریب
واشنگٹن ڈی سی کا مادام ٹوساڈز ویکس میوزیم
ممبئی حملوں کی تحقیقات کے لیے مشترکہ کمیشن بنانے کی تجویز
پاک بھارت کشیدگی پر ہنگامی اجلاس  Video clip available
دہلی کے بعدامریکی وزیر خارجہ اسلام آباد آئیں گی
کراچی،تشدد میں بتدریج کمی
نواز شریف نے چیف جسٹس سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا
بھارت کی جانب سے پاکستان پر باضابطہ الزام
بغداد اور موصل میں بموں کے حملوں میں 33لوگ ہلاک
وھیل کے نغموں کا کھوج لگانے کی جستجو
ممبئی حملے، اوباما کو اقتدار سے قبل ہی چیلنج کا سامنا  Video clip available
ہیلری کلنٹن وزیر خارجہ نامزد  Video clip available
ورجینیا میں ایک اردو ادبی محفل  Video clip available
ایران میں ایک نئے میزائل کا تجربہ
اوباما نے ہلیری کلنٹن کو وزیرِ خارجہ مقرر کر دیا
باغیوں کے اہم شہر پر سری لنکا کی فوج کا قبضہ
افغانستان میں بم کے خود کُش حملے میں 10 افراد ہلاک
بنکاک: مظاہرین عدالتی فیصلے کے منتظر 
کمال اتاترک کی زندگی پر ایک متنازعہ فلم 
امریکہ میں سبزی خوری کے رجحان میں اضافہ
ایڈز کا عالمی دن: بیشتر توجہ روک تھام پر مرکوز
امریکہ کسادبازاری سے دوچار ہے: اقتصادی ماہرین
غیرملکی عناصر قوموں کو یرغمال نہیں بنا سکتے ،صدر زرداری
ممبئی حملوں سے فلمی دنیا لرزہ براندام
”پاکستان ممبئی دھماکو ں کی تحقیقات میں مکمل تعاون کرے“
سوات خود کش حملہ کم ازکم سات ہلاک
کراچی میں تشدد جاری ،مزید11 ہلاک
پاک بھارت تناؤ سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو دھچکا لگ سکتا ہے  Video clip available
ممبئی میں دہشت گرد حملوں کے بعد بھارت۔پاک تعلقات پر خطرے کے بادل
امریکہ میں نئے صدر کی آمد اور پرانے صدر کی رخصتی کس طرح ہوتی ہے؟  Video clip available
واشنگٹن کی تاریخی عمارتوں کے دلچسپ حقائق  Video clip available
وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنا بیرون ملک دورہ منسوخ کردیا
چینی صدر کا اقتصادی انحطاط کے بارے میں انتباہ
اوباما معیشت کی بحالی کے لیے پرعزم ہیں  Video clip available
اوباما ، ہلری کلنٹن کو وزیرِ خارجہ نامزد کردیں گے
صومالی سمندری ڈاکؤں کے ساتھ سمجھوتا  یوکرین کے جہاز کو جلد ہی چھوڑ دیا جائے گا
کابل میں بم کا خوکُش حملہ  تین افراد ہلاک چھ زخمی
بنوں، لکی مروت میں سیکیورٹی فورسز اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں
پکڑے ہوئے دہشت گرد کا کہنا ہے کہ اُسے کیے گئے قتلِ عام پرکوئی پشیمانی نہیں
اسرائیل نے مزید فلسطیوں کی رہائی کی منظوری دے دی