ایک تازہ سائنسی مطالعے میں کہا گیا ہے کہ آب و ہوا میں انسان کی پیدا کردہ تبدیلیوں کے باعث پچھلے 50 برسوں کے دوران مغربی امریکہ میں پانی کی فراہمی میں ڈرامائی کمی آئی ہے۔
سائنس دانوں نےدنیا بھر میں قدرتی موسم میں تبدیلیوں ،آتش فشانی اور انسانی سرگرمیوں کے آب وہوا کی تبدیلی پر اثرات کے مطالعے کے لیے کمپیوٹرکے ماڈلز کو استعمال کیا۔انہیں یہ معلوم ہوا کہ علاقے کے درجہٴ حرارت میں اضافے کی بنیادی وجہ انسانی سرگرمیاں ہیں۔
آب وہوا کو متاثر کرنے والی انسانی سرگرمیوں میں گاڑیوں کا استعمال، نامیاتی ایندھن سے چلنے والے بجلی گھر شامل ہیں،جو گرین ہاؤس گیسیں خارج کرتے ہیں جو سورج سے آنےوالی حرارت کی واپسی کا راستہ بند کردیتی ہیں۔
مطالعے میں کہا گیا ہےکہ آب وہوا کی تبدیل کے باعث علاقے میں سردیوں کے مہینوں میں بارشیں زیادہ اور برف باری کم ہوتی ہے ۔ جس سے موسمِ بہار میں دریاؤں میں پانی کا بہاؤ بڑھ جاتا ہے اور گرمیوں کے گرم اور خشک مہینوں کے لیے کم پانی باقی رہ جاتا ہے۔
مغربی امریکہ میں پانی قیمتی قدرتی وسیلہ ہے جس پر زرعی صنعت اور بڑھتی ہوئی آبادی کا انحصار ہے۔
یہ مطالعہ جمعرات کے روزمشہور امریکی رسالے ’سائنس‘ میں شائع ہوا ہے۔