 |
|
میکسیکو میں عالمی سرطان دن کے موقعے پر ایک شخص موت کا ماسک پہنے ہوئے ہے |
آج دنیا بھر میں عالمی سرطان دن منایا جا رہا ہے۔ اس موقعے پر اقوامِ متحدہ کے ادارہٴ صحت نے کہا ہے کہ دنیا سرطان کی وبا کے کنارے پہنچنے والی ہے۔ عالمی ادارہٴ صحت نے اطلاع دی ہے کہ 2005ء میں سرطان سے مرنیوالوں کی دنیا بھر میں مجموعی تعداد 79 لاکھ تھی۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ اگر سگریٹ نوشی کے رجحان کو تبدیل نہیں کیا گیا اور ترقی پذیر ملکوں میں مریضوں کو علاج معالجے کی سہولتیں فراہم نہیں کی گئیں تو سرطان کے مریضوں کی تعداد آنےوالے برسوں میں بڑھ جائے گی۔ صحت کے اداروں نے پیر کو سرطان کا دن قرار دیا ہے اور یہ دن اس پیغام کے ساتھ منایا جا رہا ہے کہ سرطان کو سزائے موت کی حیثیت سے نہیں دیکھا جانا چاہیئے۔
انہوں نے بتایا کہ سگریٹ نوشی کا موجودہ طریقہ جاری رہا تو اس صدی کے پہلے 25 سال میں 15 کروڑ افراد کی سگریٹ نوشی سے اموات کا خدشہ ہے۔ عام طور پر سگریٹ نوشی شروع کرنے کے 20 سے 30 سال کے بعد سرطان نمودار ہوتا ہے۔
 |
|
تمباکو نوشی سرطان کی سب سے بڑی وجہ ہے |
سرطان کی ریسرچ سے متعلق بین الاقوامی ادارے کے ڈائریکٹر پیٹر بوائل کا کہنا ہے کہ تمباکو نوشی حقیقاً بہت بڑا مسئلہ ہے جس کا ہمیں اس وقت پبلک ہیلتھ کے سلسلے میں سامنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سرطان دنیا بھر میں ایک مسئلہ ہے لیکن اس مرض سے سب سے زیادہ اضافہ ترقی پذیر اور نئے صنعتی ملکوں میں ہو رہا ہے جہاں یہ توقع کی جا رہی ہے کہ 70 فیصد سے زیادہ اموات اس مرض سے ہوں گی۔ ان کا کہنا ہےکہ سگریٹ اور پائپ پینے والے لوگوں کو اس بات کا زیادہ خطرہ لاحق ہے۔
آئی اے ای اے کے پروگرام ایکشن فار کینسر تھراپی کے سربراہ سمل کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں ریڈی ایشن تھراپی کی پانچ ہزار مشینوں کی کمی ہے اور ترقی پذیر ملکوں میں سرطان کے بیشتر مریضوں کو علاج کے لئے یہ مشینیں میسر نہیں ہیں۔ سرطان کے 50 فیصد مریضوں کے لیے شعاعوں سے علاج یا ریڈی ایشن مؤثر طریقہٴعلاج ہے۔
آئی اے ای اے اس وقت البانیہ، نکاراگوا، سری لنکا، تنزانیہ، ویتنام اور یمن میں پائلٹ منصوبے چلا رہی ہے۔ جبکہ ایک تنظیم اینٹرنیشنل یونین اگینسٹ کینسر بھی بچوں کے لیے دھویں سے پاک ماحول پیدا کرنے کی کوشش میں ایک عالمی مہم شروع کر رہی ہے۔ تنظیم کے مطابق دنیا بھر میں 70 کروڑ بچے تمباکو نوشی کے دھویں میں مسلسل سانس لیتے ہیں۔