Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

انسان کےہاتھوں قدرتی حیات کی زبردست تباہی


March 3, 2008

Hawaiian geese, or nene, are close to extinction at 40 animals

ہوائی کی اس مخصوص مرغابی کی نسل کے صرف 28 پرندے باقی رہ گئے ہیں

جس تیزی سے دنیاسے جانوروں اور پودوں کی نسلیں معدوم ہو رہی ہیں، اس سےبعض ماہرینِ حیاتیات نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس وقت ہم چھٹی عالم گیر معدومیت کے دور سے گزر رہے ہیں۔

 

چھٹی معدومی اس لیے کہ اس سے قبل زمین کی ساڑھے چار ارب سالہ تاریخ کے دوران دنیامیں پائے جانے والے جانداروں کی نسلیں پانچ عظیم عالم گیر معدومیوں کا شکار ہو چکی ہیں۔ یہ تباہیاں زبردست زلزلوں اور زمین سے سیارچوں کے ٹکرانے سے ہوئی تھیں۔

 

اس قسم کی ایک عظیم معدومی ساڑھے چھ کروڑ سال قبل اس وقت واقع ہوئی تھی، جب ایک بڑا سیارچہ زمین سے آ ٹکرایا تھا۔ ماہرینِ ارضیات کہتے ہیں کہ اس ٹکراؤ سے اربوں ٹن مٹی اور دھواں فضا میں پھیل گیا جس سے سالہا سال تک سورج کی کرنیں زمین تک نہیں پہنچ سکیں۔ اس کا ایک نتیجہ تو یہ نکلا کہ دنیا بھر کا درجہٴ حرارت یک لخت گر گیا،یعنی ’گلوبل کولنگ‘، اور دوسرے، پودوں پر شدید منفی اثر پڑا کیوں کہ پودے سورج کی روشنی سے توانائی حاصل کرتے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ پودے نہ رہے تو انھیں خوراک بنانے والے جانور بھی فاقہ کشی کا شکار ہو گئے۔

 

Dinosaurs

ڈائنوسار معدوم ہونے والی نسلوں کی سب سے مشہور مثال ہیں

اس ہول ناک حادثے میں یوں تو ہزاروں دوسری نوع کے جانور بھی فنا ہو گئے لیکن اس کا سب سے مشہور شکار ڈائنوسار تھے۔ بہت سے سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ڈائنوساروں کی تمام نسلیں اسی حادثے کی تاب نہ لا کر صفحہٴ ہستی سے مٹ گئیں۔

 

لیکن موجودہ دور میں نسلوں کی اس بڑے پیمانے پر معدومی کسی قدرتی آفت کے ذریعے نہیں، حضرتِ انسان کے ہاتھوں پیش آ رہی ہے۔

 موجودہ عظیم معدومی کی حالت یہ ہے کہ 1993ء میں ہارورڈ یونی ورسٹی کے سائنس دان ای او ولسن کے اندازے کے مطابق ہر سال 30 ہزار سے زیادہ نسلیں معدوم ہو رہی ہیں۔ اور اگر اسی تعداد کو گھنٹوں پر تقسیم کریں تو رونگٹے کھڑے کر دینے والے اعداد و شمار سامنے آتے ہیں، کہ ہر گھنٹے میں تین قسم کے جاندار فنا ہو رہے ہیں۔ تاہم کچھ سائنس دان کہتے ہیں کہ صورتِ حال ولسن کے اندازے سے بھی کہیں زیادہ بھیانک ہے۔

 

اس چھٹی معدومی کا آغاز دس ہزار سال مشرقِ وسطیٰ میں زراعت کی ایجاد سے ہوا۔ اس کی وجہ سے زمین  پر زندگی کی اربوں سالہ تاریخ میں قدرتی ماحول میں سب سے بڑی تبدیلی واقع ہونا شروع ہو گئی۔زراعت کی وجہ سے انسان اس قابل ہو گیا کہ وہ دوسری نسلوں پر
210px-cuba-agriculture
انحصار کیے بغیر انھیں اپنی مرضی کے مطابق اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر سکے۔ تمام جاندار اور زرعی دور سےقبل کے انسان بھی ماحول کے ساتھ بقائے باہمی کے اصول کے تحت رہتے تھے لیکن زراعت کے فروغ کے ساتھ ہی گویا انسان نے ماحول کے خلاف جنگ کا آغاز کر دیا، یعنی زیرِ کاشت رقبے پر صرف ایک قسم کا پودا ہی قابلِ قبول ہے، باقی تمام پودوں کا وجود ناقابلِ قبول ٹھہرا۔ اسی طرح جانوروں کی بھی صرف چند ہی نسلیں فائدہ مند قرار دی گئیں، بقیہ جانوروں پر ضرررساں کا ٹھپا لگا دیاگیا۔

 

اس کے بعد صنعتی دور کے آغاز پر تو گویا سونے پر سہاگے کا کام کیا اور انتہائی بڑے پیمانے پر ماحول کی تباہ کاری کا کام شروع کر دیا۔ کوئلے، تیل اور دوسری اقسام کے معدنی ایندھن جلا جلا کر ابنِ آدم نے بڑی مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ  فضا میں بھیجناشروع کر دی ہے، جس سے پورے سیارے کے موسم تبدیل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ 

 

ٹھیک ٹھیک تخمینہ لگانا بہت مشکل ہے کہ اب تک کتنی نسلیں معدوم ہو چکی ہیں، لیکن بعض سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ صدی کے اختتام تک نصف سے زیادہ جانداروں کی نسلیں فنا ہو چکی ہوں گی۔

 

A worker sprays insecticide

کیڑوں کی تلفی کے لیے سپرے کیا جا رہا ہے

ورلڈ کنزرویشن یونین کے دس ہزار سائنس دانوں کا اندازہ ہے  رینگنے والے جانوروں کی 51 فی صد، کیڑے مکوڑوں کی 52 فی صد اور پھول دار پودوں کی 72 فی صد نسلیں چند عشروں کے اندر اندر فنا ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ اور افسوس ناک بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی نسلیں ایسی بھی ہیں جو دریافت ہونے سے پہلے ہی فنا ہو جائیں گی۔

 

انسانوں کو جنگلے لگا کر اور دیواریں کھڑی کر کے اپنے حصے کی نشان دہی کرنے کا بڑا شوق ہے۔ لیکن یہ شوق جانوروں کو بڑا مہنگا پڑتا ہے۔اس کی ایک مثال ملاحظہ ہو: پاکستان اور  
Leo

پاکستانی برفانی چیتا

ہندوستان کی شمالی سرحد پر بھارتی فوج جنگلے لگا رہی ہے۔ اس علاقے میں رہنے والے چیتے اور ریچھ اب خوراک کی تلاش میں جنگلے کے دوسری طرف نہیں جا سکتے۔ فاقہ کشی سے مجبور ہو کر  انھوں علاقے کے دیہاتیوں پر حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ جواباً دیہاتی ان جانوروں کا قتلِ عام کر رہے ہیں اور بہت جلد ہی ان دونوں جانوروں کی نسل کی بیخ کنی ہو جائے گی۔

 

بہت سے لوگ کہیں گے کہ کیا فرق پڑتا ہے اگر کیڑوں کی چند نسلیں فنا ہو گئیں یا چند جنگلی پودے معدوم ہو گئے۔ لیکن اصل صورتِ حال یہ ہے کہ زمین کا ماحولیاتی نظام انتہائی نازک ہے جہاں ہر صنف دوسری اصناف کے بل بوتے پر کھڑی ہے۔ اکثر اوقات ایک نسل کے جاندار سینکڑوں دوسری اقسام کے جانداروں سے منسلک ہوتے ہیں اور اگر ایک نسل فنا ہو گئی تو اس کا اثر سینکڑوں دوسری انواع کے جانداروں پر پڑتا ہے۔ جس کا لازمی اور حتمی اثر انسانوں پر پڑے گا۔

 

ظاہر ہے کہ انسان خود بھی ماحول کا حصہ ہے اور اپنی زندگی بسر کرنے کے تمام وسائل اپنے ماحول ہی سے حاصل کرتا ہے۔ لیکن اس وقت خود ہی اس شاخ کو کاٹنے کے درپے ہے جس پہ آشیانہ ہے۔ اس عاقبت نااندیشی کا انجام کیا ہوگا، اس کے لیے کسی نجومی کی پیش گوئی کی ضرورت نہیں۔

 

کیا اس مسئلےکا کوئی حل موجود ہے؟ نہیں اور ہاں۔ نہیں اس لیے کہ جو نسلیں فنا ہو گئیں وہ کبھی واپس نہیں آ سکتیں۔ لیکن جو نسلیں ابھی باقی ہیں، ان کی بقا کے لیے بین الاقوامی جدوجہد کی ضرورت ہے، جہاں تمام ممالک مل کر اس مسئلے کا حل تلاش کریں۔

  اور اس سے بھی بڑھ کر زیادہ اہم بات یہ ہے کہ عام انسان اس مسئلے کی سنگینی کا ادراک کریں، پیشتر اس کے کہ بہت دیر ہو جائے۔

 

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر

  مزید خبریں
پنجاب حکومت نے 488 ملازمین کو برطرف کر دیا
اگلے برس دوبارہ آ کر نانگا پربت کو سر کریں گے: اطالوی کوہ پیما
قدرتی گیس سے مالا مال بلوچستان میں CNGکے صرف 5سٹیشن
دنیا میں سب سے زیادہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والا ملک  چین
چار ملکوں کا پاکستان میں کھیلنے پر تحفظات کا اظہار
جدید ادب کی  اہم نسوانی آوازیں  Audio Clip Available
”F-16طیارے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں استعمال ہورہے ہیں“
بنگلور میں بم دھماکے، کم از کم دو افراد ہلاک
طالبان نے آٹھ پاکستانی رہا کر دیے
فرانسیسی صدر اور اوباما کی ملاقات
زمبابوے کی حکمران جماعت نے صدر موگابے کے دوبارہ انتخاب پر مذاکرات کو خارج از امکان قرار دے دیا
ماؤ نوازوں نے نیپال کی نئی  حکومت بنانے کے لیے شرائط عائد کردیں
عراق میں تیل کمپنیوں کے معاہدوں میں امریکی کردار پر تحقیقات
لبنان میں فرقہ وارنہ جھڑپوں میں تین افراد ہلاک
قبرص پر مذاکرات تین ستمبر کو شروع ہوں گے: اقوام متحدہ
جرمنی کی سب سے بڑی فضائی کمپنی کو ہڑتال کا سامنا
درد کش دوا فینٹانِل کے غیر قانونی استعمال سے امریکہ میں ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک
مسلمانوں کا امریکہ: مسلم امن پسند ۔۔۔ دوسری قسط، پہلا حصہ  Video clip available
ڈینور میں ڈیموکریٹک پارٹی نے اپنا پہلا صدارتی کنونشن سو برس پہلے کیا تھا  Video clip available
کئی ملکوں میں سرخ فیتہ کاروبار کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے  Video clip available
اتحادی جماعتوں کا اجلاس، جنرل کیانی کی سرحدی صورتِ حال پر بریفنگ  Video clip available
Muslims’ America – Episode 2 part 1 – The Muslim Pacifists  Video clip available
مغرب میں اسلام کے بارے میں غلط فہمیاں کیوں؟  Video clip available
براک اوباما پہلے سیاہ فام صدارتی امیدوار نہیں ہیں  Video clip available
ڈیموکریٹک پارٹی کے قومی کنونشن کی تیاریاں شروع ہوگئیں  Video clip available