 |
|
امریکی بحریہ کا ایک جہاز |
امریکی بحریہ کے ایک سابق رکن کو بدھ کو مبینہ دہشت گردوں کو اپنے بحری جہاز کی نقل و حرکت سے متعلق خفیہ معلومات فراہم کرنے کا مجرم قرار دیا گیا۔
فینکس، ایریزونا سے تعلق رکھنے والے 32 سالہ حسن ابو جہاد، عیسائی سے مسلمان ہوئے تھے اور ان کا پرانا نام پال ہال تھا۔
2000ء میں امریکی جہاز یو ایس ایس کول پر خود کش حملے سے 17 افراد کی ہلاکت کے بعد سے امریکی بحریہ اپنے جہازوں سے متعلق معلومات کی خاص نگرانی کر رہی تھی۔
ابو جہاد امریکی بحریہ کے جہاز یو ایس ایس بین فولڈ پر کام کرتے تھے۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے نہ صرف اپنے جہاز کی نقل و حرکت کی تفصیلات دہشت گردوں کو مہیا کیں بلکہ اپریل 2001 ء میں آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے جہازوں کے بیڑے کی تشکیل کا خاکہ بھی انہیں فراہم کیا۔
ابو جہاد کے وکیل کا کہنا ہے کہ چار سال پر محیط تحقیقات میں کوئی ایسا ثبوت نہیں ملا کہ یہ تفصیلات ابو جہاد نے فراہم کی ہیں ۔
استغاثہ کا کہنا ہے کہ جو معلومات افشا ہوئیں وہ ان سے مطابقت رکھتی تھیں جو ایک سگنل مین کی حیثیت ابو جہاد کے پاس تھیں اور وہ اس جہاز کے واحد فرد تھے جو مبینہ دہشت گردوں سے خط و کتابت کر رہے تھے۔
استغاثہ نے ایک ایسی ای میل کا حوالہ دیا جس میں ابو جہاد نے یو ایس ایس کول پر ہونے والے حملے کو ’جہادی آپریشن‘ کہا تھا اور اس میں ملوث افراد کی تعریف کی تھی۔
ابو جہاد کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان میں سے بہت سی معلومات خبروں اور دوسرے ذرائع سے حاصل کی جا سکتی تھیں اور ان میں کئی غلطیاں تھیں۔
نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر جیوری کے ایک رکن نے ٹائم میگزین کو بتایا کہ یہ فیصلہ کافی مشکل تھا اور دو دن تک جیوری میں اس پر کافی بحث ہوئی لیکن فیصلہ کرتے ہوئے ان کے ’ذہن میں کوئی ابہام نہ تھا۔‘
حسن ابو جہاد کو مئی میں سزا سنائی جائے گی۔ انہیں اس جرم میں 25 سال تک کی قید ہو سکتی ہے۔