 |
|
نیویارک کا ٹائمز سکویر |
قانون نافذ کرنے والے امریکی عہدے داروں نے کہا ہے کہ بظاہر نیویارک میں فوجی بھرتی کے مرکز اور کانگریس کو بھیجے گئے خطوں میں کوئی تعلق نہیں ہے جس میں فوجی بھرتی کے مرکز کی تصویر کے ساتھ یہ پیغام منسلک تھا کہ ’یہ کام ہم نے کیا ہے۔‘
قانون نافذ کرنے والے عہدے داروں نے میڈیا کی رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خطوں اور دھماکے کے وقت میں مناسبت محض ایک اتفاق ہے۔
یہ خط ،جس کے ساتھ شامل تصویر میں ایک شخص بھرتی کے مرکز کے سامنے کھڑا ہے،کانگریس کے کئی ارکان کو لاس اینجلس سے بھیجے گئے تھے۔
جمعرات کو طلوع آفتاب سے قبل ہونے والے بم دھماکے سے فوجی بھرتی کے مرکز کے سامنے کے دروازے کے شیشے ٹوٹ گئے تھے اور اسے نقصان پہنچا تھا۔ تاہم اس وقت مرکز میں کوئی موجود نہیں تھا اس لیے کوئی زخمی نہیں ہوا۔
نیویارک کے پولیس کمشنر کیلی نے کہاہے کہ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ اس نے ایک شخص کو دھماکے سے کچھ ہی قبل بھرتی مرکز کے قریب مشکوک حرکات کرتے ہوئے دیکھا تھا۔
کیلی نے کہاکہ عینی شاہد کا کہنا ہے کہ وہ شخص ایک سائیکل پر سوار تھا، اس نے سرکو ڈھانپا ہوا تھا اورگہرے رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور اس کے پاس کمرسے لٹکانے والا ایک بیگ تھا۔
انہوں نے کہا کہ جمعرات کو ہونے والا حملہ ویسا ہی ہے جیسے 2005ء میں برطانوی قونصل خانے پر اور پچھلے سال میکسکو کے قونصل خانے پر ہوا تھا۔