 |
|
صدر بش ( فائل فوٹو) |
صدر بش کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کڑی نگرانی کا بل جسے امریکی ایوانِ نمائندگان میں آج کل زیرِ بحث لایا جا رہا ہے، قومی سلامتی کے لیے خطرناک ہے، اور وہ اِسے ویٹو کردیں گے۔
آج جمعرات کو وائیٹ ہاؤس میں صدر بش نے کہا کہ ایوان کی طرف سے پیش کردہ بل کے مسودے میں کئی بڑی خامیاں ہیں۔ اِس میں انٹیلی جنس کے خطرناک جھول ہیں اور اِس سے اُن کمپنیوں کو استثنا نہیں مل جاتا جِنہوں نے کڑی نگرانی کے حوالے سےگیارہ ستمبر 2001ء کے پسِ منظرمیں حکومتی اداروں سے تعاون کیا تھا۔
صدر بش نے قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ سینیٹ کے سامنے زیرِ بحث کڑی نگرانی سے متعلق بل کو منظور کریں، جِس میں پچھلے عرصے سے استثنا کا تقاضا موجود ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ ایوان کی طرف سے لائے گئے بل سے قومی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی اور اِس سے غیر ملکی دہشت گردوں کو بھی وہ مراعات حاصل ہو جائیں گی جو امریکیوں کو میسر ہیں۔
توقع ہے کہ آج جمعرات کو ہی یہ بل ووٹنگ کے لیے ایوان کے سامنے لایا جائے گا۔