امریکی سپریم کورٹ ایک تاریخی مقدمہ شروع کرنے کا جائزہ لے رہی ہے جس کے تحت امریکی عوام کا اسلحہ رکھنے کے حقوق پر غور کیا جائے گا۔
آج واشنگٹن ڈی سی کی ہائی کورٹ میں اس بارے میں دلائل سنے گئے کہ آیا وہ واشنگٹن ڈی سی میں عائد اسلحے پر پابندی کے 32 سال پرانے قانون کو برقرار رکھے یا نہیں۔
اس فیصلے کے حتمی نتیجے کے بڑے پیمانے پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں کیوں کہ اس کے تحت امریکی آئین کی دوسری ترمیم میں شامل اس فقرے’اسلحہ رکھنے کا حق‘کی وضاحت کی جا سکے گی۔ عدالت نے اس فقرے پر 1939ء کے بعد سے کوئی فیصلہ نہیں دیا۔
ہائی کورٹ میں سماعت کے بعد واشنگٹن ڈی سی کے میئر ایڈرین فینٹی نے کہا کہ امریکی دارالحکومت میں اسلحے پر پابندی نافذ کیے جانے کے بعد سے یہاں پرتشدد جرائم میں کمی واقع ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہاں کے شہری اس قانون کی حمایت کرتے ہیں۔
تاہم وکیلوں نے بحث کرتے ہوئے کہا کہ ہر شہری کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور اسلحے پر پابندی آئین کی خلاف ورزی ہے۔
تاہم اسلحہ رکھنے کے مخالفین کہتے ہیں کہ اس فقرے کا مطلب ملک کی طرف سے اسلحہ رکھنے کا حق ہے، نہ کہ انفرادی طور پر۔
بش انتظامیہ خود اس مسئلے پر دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ تاہم نائب صدر ڈک چینی ایوانِ نمائندگان کے ایک ایسے گروہ میں شامل ہو گئے ہیں جو اسلحہ رکھنے کے حقوق کا سرگرمی سے حامی ہے۔