Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

کیا دنیا کی ساری زبانیں ایک زبان سے نکلی ہیں؟


March 23, 2008

160_world_map

دنیا میں فی الوقت سات ہزار کے لگ بھگ زبانیں بولی جاتی ہیں

دنیا کے چھ ارب لوگ سات ہزار کے لگ بھگ زبانیں بولتے ہیں۔ ان زبانوں میں عقل کو چکرا دینے والا صوتی اور نحوی تنوع پایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ صرف و نحو کا کوئی کڈھب سے کڈھب اصول سوچیں تو وہ بھی دنیا کی کسی نہ کسی زبان میں مل جائے گا۔

 لیکن جدید دور کے چند ماہرینِ لسانیات کا خیال ہے کہ اس تمام تر رنگارنگی یا انتشار کے باوجود ان ساری کی ساری زبانوں کے ڈانڈے ایک ہی زبان سے ملتے ہیں۔

 آخر یہ ماہرین اس نتیجے تک کیسے پہنچے؟ ہم نے یہی سوال میرٹ رُولن کے سامنے رکھا جو بعض حلقوں کے مطابق اس وقت دنیا کے سب سے بڑے ماہرِ لسانیات ہیں۔ موصوف کیلی فورنیا میں واقع سٹین فورڈ یونی ورسٹی سے وابستہ ہیں اور لسانیات کے موضوع پر کئی کتابیں تحریر کر چکے ہیں۔

 
Merrit Ruhlen

دنیا کے ممتاز ماہرِ لسانیات
میرٹ رولن

میرٹ رولن کہتے ہیں کہ جدید جینیاتی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ تقریباً پچاس ہزار برس قبل انسانوں ایک چھوٹا سا گروہ مشرقی افریقہ سے باہر نکلا اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر میں پھیل گیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ گروہ ایک ہی زبان بولتا تھا اور لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جیسے علاقائی اور موسمی تغیرات کے زیرِ اثر انسانی رنگ روپ اور خد و خال میں تبدیلیاں آتی گئیں، ویسے ہی یہ ابتدائی زبان مختلف خطوں میں جا کر بدلتے بدلتے ہزاروں مختلف اور باہم ناقابلِ فہم زبانوں میں ڈھلتی گئی۔

اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے رولن نے کہا  کہ اردو، ہندی، گجراتی، مراٹھی وغیرہ ایک ایسے لسانی گروہ سے تعلق رکھتی ہیں جسے ’اِنڈک‘کہا جاتا ہے۔ انڈک بذاتِ خود ایک بڑے خاندان ’انڈویوروپین ‘سے تعلق رکھتا ہے۔ اسی طرح انڈویورپین خاندان زبانوں کے ایک اور

quote

 

 

آج سے پچاس ہزار سال قبل مشرقی افریقہ سے انسانوں کا ایک چھوٹا سا گروہ نکلا اور دیکھتے ہی دیکھتے ساری دنیا پر چھا گیا۔ اس وقت دنیا میں پائے جانے والے تمام افراد اسی گروہ کی اولاد ہیں۔ 

 

 

quote

خاندان سے مشابہت رکھتا ہے جسے ’یورالک‘ خاندان کہا جاتا ہے۔ اس خاندان میں ترکی، منگولیائی، ہنگیریائی، اور فنش وغیرہ شامل ہیں۔ ان دونوں خاندانوں کو ملا کر ’یوروایشیاٹک خاندان‘ کہا جاتا ہے۔

رولن کہتے ہیں کہ دنیا کی تمام زبانوں کو یورو ایشیاٹک کی طرح کے 12 بڑے خاندانوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ اور دل چسپ بات یہ ہے کہ یہ 12 خاندان بھی ایک دوسرے سے بالکل الگ تھلگ نہیں ہیں بلکہ ان کی کئی خصوصیات ایک دوسرے سے ملتی ہیں، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ سارے خاندان  شروع میں ایک تھے۔

tree
اس قسم کی تحقیق ایسی ہی ہے جیسے کوئی درخت کے پتوں سے سفر کا آغاز کرے اور ڈنٹھلوں، ٹہنیوں، ڈالیوں اور شاخوں سے ہوتا ہوا تنے تک پہنچنے کی کوشش کرے۔

پروفیسر روُلن اور ان کے استاد جوزف گرین برگ اس ضمن میں ایک لفظ ’ٹیک‘(tik) کی مثال پیش کرتے ہیں۔  یہ لفظ دنیا کے اکثر لسانی خاندانوں میں پایا جاتا ہے اور اس کا مطلب ہر جگہ کم و بیش ایک جیسا رہتا ہے۔ مذکورہ بالا صاحبان کا خیال ہے کہ اس لفظ کا ابتدائی مطلب تھا ’انگلی‘، لیکن بعد میں اسی لفظ کا ماخوذ مطلب ہو گیا، ’ایک‘یا ’صرف۔‘

اب ذرادنیا بھر میں اس ایک لفظ کی ’کثرت میں وحدت‘ کی جلوہ آرائیوں کی چند عجیب و غریب مثالیں ملاحظہ کیجیئے

مطلب

لفظ

زبان

لسانی خاندان

ایک

ٹک

مابا

افریقی زبانیں

ایک

ٹوک

ڈنکا

ایک

ٹی

ساہو

انگلی

ڈجی ٹس

لاطینی

یورپی زبانیں

انگشتِ شہادت

ان’ ڈیک‘س

لاطینی

انگلی

ٹیک

انوپیاق

اسکیمو زبانیں

درمیانی انگلی

ٹیک

الیوٹ

ایک

ٹی ایک

چینی

چینی تبتی زبانیں

درمیانی انگلی

ٹیکا

می ووک

ہند امریکی زبانیں

ایک

ٹُک

مکسے

انگلی، ہاتھ

اٹیکلا

کاہوآپنا

صرف

ٹیکوا

سیونا

اسی تنوع کو مزید آگے بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔  پرانی اردو میں ایک لفظ اکثر دیکھنے میں آتا ہے، ٹُک۔ اس کی سب سے مشہور مثال میر کا شعر ہے

سرہانے میر کے آہستہ بولو
ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے

ٹک کا مطلب ہے، ذرا، تھوڑا سا، وغیرہ۔ اگرچہ گرین برگ اور رُولن نے مندرجہ بالا فہرست میں اردو کا ذکر نہیں کیا، لیکن یہ بھی واضح طور پراسی قبیل کا ہے۔ اس کے علاوہ چغتائی ترکی میں ایک لفظ پایا جاتا ہے ’ٹیک‘ اور اس کا مطلب بھی ’صرف‘ہے۔ اسی طرح ترکی کے لفظ ’ٹیکن‘ کا مطلب ’ایک ایک کر کے‘ہے۔ یہی نہیں بلکہ مغربی چین کے باسی  مسلمانوں کی زبان یوغور بھی لفظ ’ٹک‘ملتا ہے، اور اس کا مطلب بھی ’صرف‘ہے۔

Joseph Greeberg

میرٹ رولن کے استاد
جوزف گرین برگ

اب کوئی معترض یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ اردو، یوغور اور ترکی میں تاریخی اور جغرافیائی اختلاط پایا جاتا ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر جنوبی امریکہ کے ملک ایکواڈور میں بولی جانے زبان سیونا کے ساتھ اُردو کا کیا ربط ہے؟

یہاں یہ کہنا ضروری ہے کہ پروفیسر رولن کے ناقدین کی  کمی نہیں، اور ان میں سے کئی تو ایسے بھی ہیں جو ان کے نظریات کی انتہائی شد و مد سےمخالفت کرتے ہیں، حتیٰ کہ بعض اوقات تلخ کلامی اور ذاتیات تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس طرح کے الفاظ کا مختلف زبانوں میں پایا جانا محض اتفاق بھی ہو سکتا ہے۔ یہ الگ بات کہ اپنے اس دعوے کے ثبوت کے طور پر وہ مختلف زبانوں میں ایسے اتفاقیہ الفاظ کی کوئی فہرست فراہم نہیں کر سکے۔

اردو، پنجابی سمیت شمالی ہندوستان کی بیشتر زبانیں ’انڈویوروپین‘خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان زبانوں میں انگریزی، فرانسیسی، جرمن، روسی، لاطینی، یونانی اور فارسی وغیرہ بھی شامل ہیں۔ انڈویوروپین خاندان کا ماخذ کیا ہے اور اس کے اولین بولنے والے کون  تھے، یہ سوال انتہائی متنازعہ رہا ہے اور گذشتہ کئی صدیوں سے اس پر بحث و تمحیص جاری ہے۔

quote

 

 

 تقریباً سات ہزار برس پیشتر ترکی سے ایک قوم اٹھی اور چند صدیوں کے اندر اندر سارے یورپ اور وسطی ایشیا پر چھا گئی۔ یہ لوگ اپنی زبان ساتھ لے گئے جسے آج کل ’پروٹو انڈویوروپین‘ کہا جاتا ہے۔ یہ وہ زبان ہے جس نے رفتہ رفتہ یورپ کی قدیم زبانوں کو معدوم کر کے ان کی جگہ لے لی۔

 

 

quote

پروفیسر رُولن کے ایک ساتھی کولن رین فریو نے چند برس قبل ایک نظریہ پیش کیا تھا جس کے مطابق آج سے تقریباً سات ہزار برس پیشتر ترکی سے ایک قوم اٹھی اور چند صدیوں کے اندر اندر سارے یورپ اور وسطی ایشیا پر چھا گئی۔ اس قوم کی کامیابی کی وجہ یہ تھی کہ یہ لوگ زراعت کے علم سے بہرہ ور تھے، جب کہ ان سے پہلے یورپ کے’ایبورجنل‘ باسی صرف شکار سے پیٹ پالا کرتے تھے۔

رین فریو کے مطابق یہ لوگ اپنی زبان ساتھ لے گئے جسے آج کل ’پروٹو انڈویوروپین‘ کہا جاتا ہے۔ یہ وہ زبان ہے جس نے رفتہ رفتہ یورپ کی قدیم زبانوں کو معدوم کر کے ان کی جگہ لے لی۔ ان پرانی زبانوں کی ایک بچی کھچی مثال باسک زبان ہے جو آج بھی سپین اور فرانس کے بعض علاقوں میں بولی جاتی ہے۔

 کولن رین فریو اور میرٹ رولن کا خیال ہے کہ بیشتر انڈویوروپین زبانوں کا منبع ترک کسانوں کی یہی زبان ہے۔ پروفیسر رولن نے مثال دی کہ اس خاندان کی اکثر زبانوں میں واحد متکلم کے لیے جو الفاظ استعمال ہوتے ہیں، وہ حرف م سے شروع ہوتے ہیں، جب کہ مخاطب کے لیے الفاظ ت سے شروع ہوتے ہیں۔

اردو اسی خاندان کی ’بیٹی‘ ہے، چناں چہ یہاں واحد متکلم’میں‘اور واحد مخاطب ’تم‘ہیں، اور قریب قریب  یہی حال شمالی ہندوستان کی اکثر زبانوں کا ہے۔ فارسی میں دیکھیئے تو وہاں’من و تو‘ ملیں گے۔ یہی نہیں بلکہ یورپ کی اکثر زبانوں میں مذکورہ الفاظ کے لیے انہی آوازوں کی تکرار ملے گی، جب کہ لاطینی زبان میں تو مخاطب کے لیے اردو اور فارسی والے’تُو‘ہی سے کام چلایا جاتا ہے۔

اوپر باسک کا ذکر آیا تھا۔ اس زبان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ایک ’لینگویج آئسولیٹ‘ ہے، یعنی ایک ایسی زبان جس کا تعلق دنیا کی کسی اور زبان سے نہیں ہے۔

پاکستان کے شمالی علاقے ہنزہ میں بھی ایسی ہی ایک اور ’لینگوج آئسولیٹ‘بولی جاتی ہے۔ جس کا نام ہے بروشسکی۔ اس زبان کی مثال کچھ یوں سمجھیئے کہ جیسے اردو کے افسانہ نگار سید رفیق حسین نے اپنے شاہ کار افسانے ’گڈھا‘میں محکمہٴ انہار کے بارے میں لکھا تھا کہ’یہ ایک  ایسا محکمہ ہے جس کا نہ کسی دوسرے محکمے سے سروکار اور کسی اور محکمے کا اس سے کوئی لینا دینا۔‘

ہم نے ڈاکٹر رولن سے پوچھا کہ اگر تمام زبانوں کی بنیاد ایک ہی ہے تو پھر یہ ’اچھوتی‘ زبانیں کیسے  وجود میں آ گئیں؟

اس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ یہ زبانیں مکمل طور پر اچھوتی نہیں ہیں اور گذشتہ بیس برسوں میں بعض ماہرینِ لسانیات نے بروشسکی، باسک اور ایک اور آئسولیٹ کیٹ میں کچھ قدر ہائے مشترک تلاش کی ہیں اور دل چسپ بات یہ ہے کہ یہ تینوں زبانیں ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں جسے ’ڈینے کاکیشین‘ کہا جاتا ہے۔ چینی زبان بھی اسی خاندان کی رکن ہے۔

Language-map

جوزف گرین برگ کے مجوزہ 12 لسانی خاندان

پروفیسر رولن اور ان کے گرو جوزف گرین برگ پر اعتراض  کیا جاتا ہے کہ زبانیں اتنی تیزی سے رنگ بدلتی ہیں کہ ان کے ہزاروں سال پرانے ماخذات کے بارے میں کچھ بھی کہنا ناممکن ہے۔  لیکن رولن کہتے ہیں کہ یہ بات  بالکل غلط ہے اور کئی الفاظ ایسے ہیں جو بڑی مشکل سے بدلتے ہیں۔ ان الفاظ میں بنیادی اعضا کے نام (ہاتھ، انگلی، آنکھ، ناک، کان، وغیرہ)، بنیادی رشتے (ماں، باپ، بیٹا، وغیرہ) اور قدرتی مظاہر (آگ، پانی، وغیرہ) شامل ہیں اور یہ سب اتنے سخت جان الفاظ ہیں کہ انھیں بدلتے بدلتے بہت وقت لگتا ہے۔

زبان کی شیرازہ بندی کے یہ ماہرین اسی قسم کے ثابت قدم الفاظ کی جڑیں تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کی مدد سے خاندانوں کو گروہوں اور خاندانوں میں تقسیم کرتے ہیں۔  

اس وقت میرٹ رولن ایسے ماہرینِ لسانیات کے سرخیل ہیں اور توقع رکھی جا سکتی ہے کہ آنے والے برسوں میں وہ زبان کے ارتقا پر مزید روشنی ڈالیں گے جس سے نہ صرف علمِ لسانیات میں اضافہ ہوگا بلکہ انسان کےتاریخی اور تہذیبی سفر کے کئی تاریک گوشے بھی منّور ہو جائیں گے۔
 

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر

  مزید خبریں
پنجاب حکومت نے 488 ملازمین کو برطرف کر دیا
اگلے برس دوبارہ آ کر نانگا پربت کو سر کریں گے: اطالوی کوہ پیما
قدرتی گیس سے مالا مال بلوچستان میں CNGکے صرف 5سٹیشن
دنیا میں سب سے زیادہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والا ملک  چین
چار ملکوں کا پاکستان میں کھیلنے پر تحفظات کا اظہار
جدید ادب کی  اہم نسوانی آوازیں  Audio Clip Available
”F-16طیارے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں استعمال ہورہے ہیں“
بنگلور میں بم دھماکے، کم از کم دو افراد ہلاک
طالبان نے آٹھ پاکستانی رہا کر دیے
فرانسیسی صدر اور اوباما کی ملاقات
زمبابوے کی حکمران جماعت نے صدر موگابے کے دوبارہ انتخاب پر مذاکرات کو خارج از امکان قرار دے دیا
ماؤ نوازوں نے نیپال کی نئی  حکومت بنانے کے لیے شرائط عائد کردیں
عراق میں تیل کمپنیوں کے معاہدوں میں امریکی کردار پر تحقیقات
لبنان میں فرقہ وارنہ جھڑپوں میں تین افراد ہلاک
قبرص پر مذاکرات تین ستمبر کو شروع ہوں گے: اقوام متحدہ
جرمنی کی سب سے بڑی فضائی کمپنی کو ہڑتال کا سامنا
درد کش دوا فینٹانِل کے غیر قانونی استعمال سے امریکہ میں ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک
مسلمانوں کا امریکہ: مسلم امن پسند ۔۔۔ دوسری قسط، پہلا حصہ  Video clip available
ڈینور میں ڈیموکریٹک پارٹی نے اپنا پہلا صدارتی کنونشن سو برس پہلے کیا تھا  Video clip available
کئی ملکوں میں سرخ فیتہ کاروبار کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے  Video clip available
اتحادی جماعتوں کا اجلاس، جنرل کیانی کی سرحدی صورتِ حال پر بریفنگ  Video clip available
Muslims’ America – Episode 2 part 1 – The Muslim Pacifists  Video clip available
مغرب میں اسلام کے بارے میں غلط فہمیاں کیوں؟  Video clip available
براک اوباما پہلے سیاہ فام صدارتی امیدوار نہیں ہیں  Video clip available
ڈیموکریٹک پارٹی کے قومی کنونشن کی تیاریاں شروع ہوگئیں  Video clip available