امریکہ میں بچوں کی تعلیم حکومت کی ذمے داری ہے جس کے باعث سرکاری سکولوں میں مفت تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔ حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ ہر بچہ تعلیم حاصل کرے اور اس مقصد کے لیے خاندانوں کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود پانچ سے لے کر بیس لاکھ بچے پرائیویٹ سکولوں یا گھر پر ہی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔
خیال یہی کیا جاتا ہے کہ سکول کے پاس جتنے وسائل ہیں وہ بچوں کو گھر پر تعلیم دینے کے لئے نہیں ہو سکتے۔ مگر ایسا نہیں ہے۔ گھروں یا نجی سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کو کھیل کود اور دیگر گھریلو کام کے ذریعے تعلیم دی جاتی ہے۔ مثلا بہار کے موسم میں ان طلبا کو مختلف پارکوں میں لے جا کر پھول، پودوں کی اشکال اور ان کی خصوصیات سے روشناس کروایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بچوں کو پارک کی صفائی وغیرہ کی ہدایت بھی کی جاتی ہے۔ علم کے ساتھ عمل کی ایسی مثالیں امریکہ میں صرف پرائیویٹ سکول یا گھر پر تعلیم حاصل کرنے والوں میں نظر آئیں گی۔
چائلڈ ایکسپرٹ لیزلی نتھالین کا کہنا ہے کہ گھر میں موجود سامان سے بچوں کو بہت کچھ سکھایا جا سکتا ہے۔ ’سیکھنا ایک عمل ہے، جو کہیں بھی کسی بھی جگہ پر کیا جا سکتا ہے۔‘ لیزلی کے مطابق صرف کچن میں ہی بچے کھانا بنانے کے ساتھ ساتھ چیزوں کے نام، مقدار، وزن اور اس سے متعلقہ معلومات حاصل کرتے ہیں۔
اب بچوں کو کس سکول میں بھیجنا ہے اور بھیجنا ہے بھی یا نہیں کے فیصلے کا اختیار صرف والدین کے ہوتا ہے۔ مگر امریکہ کی مختلف ریاستوں میں اس حوالے سے مختلف قوانین ہیں۔ ہم نے ذکر کیا تھا کہ چونکہ خاندانوں کا ریکارڈ قائم کیا جاتا ہے تو گھر میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے لیے بھی خصوصی کورس مہیا کیا گیا ہے۔ والدین کو ہر سال اپنے بچوں کی پڑھائی میں پیش رفت کے حوالے سے مقامی سکول میں رپورٹ جمع کروانی پڑتی ہے۔
لیزلی کے مطابق اس رپورٹ میں ریاست کو یہ یقین دہانی کروانی پڑتی ہے کہ بچہ گھر میں رہنے کے باوجود علم حاصل کر رہا ہے اور صرف وقت کا ضیاع نہیں کر رہا۔ اس کی مکمل ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے، اور بہتر حل یہی ہے کہ سال میں ایک بار ریاست کی طرف سی جاری کیے گئے ٹیسٹ بھی پاس کرے۔
لیزلی جو خود بھی گھر پر بچوں کو تعلیم دیتی ہیں کا کہنا ہے کہ انہیں عام طور پر انٹرنیٹ سے مدد مل جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کمیونٹی کے لوگ مل کر بچوں کی ذہنی نشونما کے حوالے سے گفتگو کرتے ہیں۔ کئی اداروں کی طرف سے گھر پر تعلیم دینے کے لیے کتابیں بھی شائع کی گئی ہیں۔ لیزلی نے بھی ان اداروں سے مختلف کتب منگوا کر اپنے بچوں کی تعلیمی ضروریات کا خیال رکھا۔ مقامی انجمن میں والدین بچوں کے کھیل کود اور سیکھنے کے عمل پر ایک دوسرے سے مشورہ کرتے ہیں اور اسے خود بھی اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ریاست ورجینیا میں موجود ایسی ہی ایک والدین کی تنظیم کے سربراہ سیلیسٹے لینڈ کا خیال ہے کہ بچوں کو گھر میں تعلیم دینے کی بڑی وجہ مذہبی نظریات اور عقائد ہوتے ہیں۔ بعد میں ایسی وجوہات آتی ہیں جس میں طالب علم یا تو سیکھنے کے عمل میں بہت آگے یا بہت سست ہوتا ہے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو سکول سے بہتر تعلیم دے سکتے ہیں۔
جبکہ لیزلی کی وجوہات سب سے دلچسپ تھیں۔ انہوں نے اپنے بچوں کو گھر میں پڑھانے کی خاطر نوکری بھی چھوڑ دی۔ لیزلی کے مطابق وہ اپنے بچوں کو اپنی نظروں کے سامنے پھلتا پھولتا اور روزبروز بڑھتا ہوا دیکھنا چاہتی ہیں۔