 |
|
فلسطینی شہر نبلس |
اندرونی شورشیں، قدرتی آفات، جنگ، بدعنوانی اور امن و امان کی ابتر صورت حال کئی ملکوں کو ناکامی کی بھنور میں پھنسا دیتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی برادری انہیں ان بحرانوں سے نکالنے میں ایک اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
فلسطینی علاقے نبلس کے شورش زدہ شہر کا مرکزی علاقہ پہلے عسکریت پسندوں اور جرائم پیشہ افراد کا گڑھ ہوتا تھا اور پولیس وہاں جانے سے گریز کرتی تھی۔ صدر محمود عباس نے امریکہ اور دوسرے بین الاقوامی امدادی اداروں کی مدد سے نبلس کے لیے 500 نئے پولیس اہل کار تیار کیے ہیں۔ جو اب ان علاقوں میں امن و امان کی صورت حال کو کنٹرول کرنے پر مامور ہیں۔
پولیس کے ایک عہدے دار شمر عبدو کا کہنا ہے کہ اب عسکریت پسند وں کو اس خطرے کااحساس ہوگیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی صلاحیت بہتر ہورہی ہے اور وہ زیادہ قوت کے ساتھ علاقے میں موجود ہیں۔ اب عسکریت پسند دوستانہ رویہ اپنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو انہیں جیل جانا پڑے گا۔
پولین بیکر ایک غیر سرکاری تنظیم فنڈ فار پیس کی سربراہ ہیں۔ وہ ہرسال ناکام ریاستوں کی فہرست شائع کرتی ہیں۔ جس میں ناکامی کی وجوہات اور اس کے ممکنہ حل کا جائزہ شامل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات سے جیسا کہ نبلس میں کیے گئے، استحکام حاصل کیا جاسکتا ہے جس کی بہت ضرورت ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر ہم ان میں سے کچھ علاقوں میں گئے ہیں تو وہاں فوج کی ضرورت نہیں ہے، سفارت کاری، معاشی امداد اور خاص طورپر قانون کی حکمرانی کو فروغ دے کر ایسی اکثر ریاستوں کو تنازعوں سے بچایا جاسکتا ہے۔
آسٹریلیا کی فوج نے کچھ عرصہ قبل مشرقی تیمور میں بڑھتے ہوئے تشدد میں مداخلت کی تھی۔ جین ہال اقوام متحدہ کے امن مشن کی ایک اعلیٰ عہدے دار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض اوقات لڑائیوں میں الجھے ہوئے گروپوں کو الگ کرنے کے لیے بیرونی قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔
جین ہال کہتی ہیں کہ بعض اوقات بین الاقوامی براداری کو ایسے حالات پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہاں لوگوں اور لیڈروں کے تنازعوں میں بری طرح الجھنے کی وجہ سے جس تشدد اور تباہی کا سامنا ہوتا ہے، اسے اُس خراب صورت حال سے نکالا جاسکے۔
امریکی کانگریس میں ایڈم سمتھ کہتے ہیں کہ اس طرح کے پراجیکٹس عالمی استحکام کو درپیش اہم خطرات سےنمٹنے میں مدد دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں ڈھائی ارب افراد کی روزانہ کی آمدنی دو ڈالر سے کم ہے۔ یہ بہت بڑی ناانصافی ہے کہ ہم نے دنیا کو اس طرح تقسیم کررکھا ہے جہاں بعض لوگوں کے پاس بہت کچھ ہے اور بعض کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔
اب بھی زمبابوے معاشی اعتبار سے بہت کمزور ریاست ہے، بین الاقومی برادری وہاں حکومت کی مدد نہیں کررہی۔ خوراک کی شدید قلت نے وہاں تشدد کو ہوا دی ہے۔ امریکہ زمبابوے کو30 لاکھ ڈالر سے زیادہ مالیت کی خوراک کی امداد بھیج چکا ہے مگر دوسری جانب سےامریکہ نے اس پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث معاشی پابندیاں بھی عائد کررکھی ہیں۔ زمبابوے جیسے ملکوں کے لیے بین الاقوامی برادری جتنا کرسکتی ہے، اکثر اس سے بہت کم کرتی ہے۔