امریکی ریاست پنسلوانیا میں واقع کارنیگی میلن یونیورسٹی میں منعقد کیے جانے والے ہفتہ پاکستان کے بارے میں خبروں سے آگے میں رپورٹس دکھائی گئیں تھیں۔ اس وقت ہم آپ کی ملاقات ان پاکستانی اور بھارتی نوجوانوں سے کروا رہے ہیں جن کا تعلق پاکستان کے بارے میں آگاہی کے ہفتے کا اہتمام کرنے والی اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن ساسا سے ہے۔ یہ ہیں ساسا کے نائب صدر دھریو ماتھر جن کا تعلق بھارت سے ہے۔ اپنی تنظیم کے اغراض و مقاصد کے بارے میں ان کا کہناتھا کہ ساسا ایک ثقافتی تنظیم ہے جو جنوبی ایشیائی ممالک کی نمائندگی کرتی ہے۔ان ممالک میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور نیپال وغیرہ شامل ہیں۔ یہ تنظیم مختلف پروگرام منعقد کرتی ہے۔ہم اس فورم کے ذریعے دنیا کو اپنی اپنی ثقافت سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں اور اپنے علاقے کے طالب عملوں کو صحت مند تفریحی سرگرمیوں کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں۔
ساسا کی پراجیکٹ منیجر سارہ شیخ کا کہنا تھا کہ انہیں بھارتی طالب علم ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس فورم پر کام کرکے خوشی محسوس ہوتی ہے اور وہ اس سلسلے میں بہت تعاون کرتے ہیں۔
پاکستان کے بارے میں آگاہی کا ہفتہ منانے کے مقاصد بیان کرتے ہوئے ماتھر نے کہا کہ بھارت کے بارے میں تو اکثر امریکی جانتےہیں مگر ان کے ذہن میں پاکستان کی وہی ایک تصویر ہے جو میڈیا دہشت گردی کے حوالے سے پیش کرتا ہے۔ چنانچہ ہم نے پاکستان کی ثقافت، تاریخ اور وہاں کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لیے ہفتہ پاکستان منانے کا پروگرام بنایا۔
ان دونوں کا کہنا تھا کہ ساسا کا یہ پروگرام بہت کامیاب رہا ہے اور آئندہ وہ پاکستان کے بارے میں آگاہی کے سلسلے کو مزید بڑھانا اور اس میں زیادہ سے زیادہ افراد کوشامل کرنا چاہتے ہیں۔