 |
| افغانستان میں نیٹو کے فوجی |
جیسے جیسے امریکی صدارتی انتخابات قریب آرہے ہیں، انتخابی مہم میں خارجہ امور پر بحث مباحثوں میں اضافے ہورہاہے اور صدارتی امیدوار بین الاقوامی معاملات خصوصاً عراق اور افغانستان کی جنگ پر اپنی متوقع پالیسیوں کا اظہار کررہے ہیں۔
ان جنگوں میں اب تک نیٹو ممالک کی جانب سے امریکہ کو سب سے زیادہ حمایت حاصل رہی ہے۔ اب کئی امریکی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب نئے صدر اپنا عہدہ سنبھالیں گے تو نیٹو کے حالات کافی تبدیل ہو چکے ہونگے۔اس کے علاوہ بہت سے نیٹو ممالک افغانستان مشن کا حصہ تو رہنا چاہتے ہیں مگر جنگ زدہ علاقوں میں فوج بھیجنے سے کتراتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کایہ بھی کہنا ہے کہ جب نئے صدر وائٹ ہاؤس میں آئیں گے تو وہ ایک مختلف پاکستان پائیں گے۔
پاکستان اب امریکہ کے لیے ایک مختلف صورت اختیار کرچکا ہے۔ کئی برس تک مسلسل ایک غیر جمہوری فوجی حکومت کی حمایت کرنے کے بعد اب امریکہ کو وہاں اقتدار سنبھالنے والی جمہوری قوتوں کاساتھ دینا ہوگا۔مگر اب امریکہ کے لیے وہاں ایک مشکل یہ بھی ہے کہ نئی جمہوری حکومت سے اپنی بات منوانا ماضی کی طرح آسان نہیں ہوگا۔
ایران کے حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب نئے امریکی صدر اقتدار میں آئیں تو انہیں ایک مختلف ایران سے نمٹنا ہوگا۔
پچھلے چند برسوں میں دنیا میں کئی غیر معمولی تبدیلیاں آئی ہیں اورتجزیہ کاروں کےمطابق مستقبل کے امریکی صدر کو بھی جن مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے غیر معمولی ہوں گے۔