ایک تازہ امریکی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ باوجود اِس بات کے کہ عسکریت پسندوں کے خلاف لڑائی کے لیے امریکہ نے اربوں کی امداد دی ہے، افغانستان کی سرحد کے ساتھ پاکستان میں دہشت گرد ابھی تک کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
امریکی حکومت کے دفترِ احتساب کی طرف سے آج جمعرات کو جاری ہونے والی اِس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اب تک پاکستان کو ساڑھے دس ارب ڈالر کی فوجی اور معاشی امداد دے چکا ہے۔
دفترِ احتساب کا کہنا ہے کہ امریکہ دہشت گردی کے خطرات کے خاتمے اور سرحد کے ساتھ قبائلی علاقے میں دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانوں کو تباہ کرنے سے متعلق اپنے سلامتی کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
حکومتی نظرداری کے ادارے کا کہنا ہے کہ امریکہ کے پاس پاکستان میں دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے کوئی مربوط منصوبہ نہیں ہے۔
دفترِ احتساب نے وفاقی حکومت کو سفارش کی ہے کہ مختلف اداروں کی طرف سے بنائے گئے منصوبوں کو ایک مربوط حکمتِ عملی سے ہم آہنگ کرلے، اِس طرح سے جیسے امریکی کانگریس کا مطالبہ ہے۔