 |
|
سینیٹر ہلری کلنٹن (بائیں) اور سینیٹر براک اوباما پینسلوانیا پرائمری کے آخری مباحثے کے دوران |
ڈیموکریٹک پارٹی کے دونوں امیدوار پینسلوانیا پرائمری کے آخری ڈیبیٹ سے پہلے بدھ کی رات ایک دوسرے کے مدِمقابل آئے۔ براک اوباما اور ہلری کلنٹن نے مختلف مسائل پر بحث کرتے ہوئے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کی مگر اس کا اختتام ہلری کلنٹن کی جانب سے سینیٹر براک اوباما پر ایک حیران کن اعتماد کی صورت میں ہوا۔
ہلری کلنٹن ہمیشہ براک اوباما پر کم تجربہ کار ہونے کا الزام لگاتی رہی ہیں مگر بدھ کی رات ہونے والی پرائمری میں انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ اگر مقابلہ اوباما اور مکین کے درمیان ہوا تو اوباما مکین کو ہرا دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ میں یہ کام زیادہ بہتر کر سکتی ہوں اور اسی لیے میں یہاں ہوں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ میرا خیال ہے کہ میں زیادہ موزوں ہوں کیونکہ میرا تجربہ زیادہ ہے اور میں نے لوگوں کے لیے جو کچھ کیا ہے اس کے نتائج بھی بہت اچھے رہے ہیں۔
براک اوباما سے جب یہی سوال پوچھا گیا تو ان کا جواب بھی کچھ ایسا ہی تھا انہوں نے کہا کہ میں یہ پہلے بھی کہ چکا ہوں۔ میں یہی سمجھتا ہوں کہ میں زیادہ بہتر امیدوار ہوں اور میرا نہیں خیال کہ کسی کو اس پر حیرانی ہوگی۔
عراق کے حوالے سے دونوں صدارتی امیدواروں نے یہ بات دہرائی کے وہ امریکی فوج کو وہاں سے نکالیں گے۔اب تک کی مہم کو دیکھا جائے تو یہ بات بجا طور پر کہی جاسکتی ہے کہ دونوں امیدواروں کی پا لیسیاں ایک دوسرے سے بہت ملتی ہیں۔