گندم اور آٹے کا بحران صرف پاکستان ہی میں نہیں بلکہ یہاں کینیڈا میں بھی نیم سرکاری اور تجارتی حلقوں کو بہت مؤثر انداز میں عوام کو یہ بتانے کی ضرورت پیش آگئی ہے کہ ملک میں چاول دستیاب ہے اور کسی بھی طرح اِس کی قلت نہیں ہوگی۔
تجارتی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کچھ مخصوص قسم کے چاولوں کی قیمت میں بہت حد تک اضافہ ہوا ہے اور بہت سے شہریوں نے اُسے ضرورت سے زیادہ خرید بھی لیا ہے، لیکن چونکہ کینیڈا ایک زرعی ملک بھی ہے اور اِس کے ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، لہٰذا یہاں چاول یا کھانے پینے کی اشیا کی قلت کا امکان نہیں ہے۔
اِن حلقوں کا کہنا ہے کہ کیونکہ کینیڈا کثیر الثقافتی معاشرہ ہے جِس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے ہر ملک سے تارکینِ وطن یہاں آکر آباد ہوئے ہیں اور اِن میں بیشتر افراد اپنے اپنے آبائی ملک سے آنے والی اشیا کو کھانا پسند کرتے ہیں، اِس لیے اِس قسم کی چیزوں کی قیمتوں کا تعین کرنا کینیڈا کے لیے ممکن نہیں ہوتا ہے۔ اِسی لیے بھی یہ خالصتاً ایک رسد اور طلب کا معاملہ ہے۔
مثال کے طور پر جنوبی ایشیا سے یہاں آنے والے دس کلوگرام کے آٹے کے تھیلے کی قیمت کینیڈا میں 9ڈالر سے بڑھ کر 16ڈالر ہوگئی ہے۔
قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے قطعِ نظر عام اشیاء ضرورت تقسیم کرنے والے اداروں کی تنظیموں کے سینئر نائب صدر ڈیوڈ ولیس کا کہنا ہے کہ کینیڈا میں کھانے پینے کی ہر چیز دستیاب ہے اور یہاں کسی قسم کا بحران خارج از امکان ہے۔
دوسری طرف کینیڈا میں چاول کا کاروبار کرنے والے ایک معروف تاجر نے بتایا ہے کہ دنیا بھر سے جِس مقدار میں چاول کینیڈا آتا ہے اُس کے پیشِ نظر ملک میں چاول کی قلت نہیں ہے۔اُنہوں نے کہا کہ البتہ چاولوں کی قیمتوں میں اضافہ ضرور ہوا ہے۔
ہفتے کے دِن ایک انٹرویو میں اُنہوں نے کہا کہ گذشتہ دِنوں میں کچھ مخصوص قسم کے چاولوں کی قیمت میں 30فی صد تک کا اضافہ ہوا ہے اور آنے والے دِنوں میں دس سے 15فی صد تک قیمتوں میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ پچھلے سال سے سالِ رواں کے آخر تک مجموعی طور پر مخصوص قسم کے چاولوں کی قیمت میں 50 فی صد کا اضافہ ہو سکتا ہے۔