آج سے ٹھیک 111 برس قبل آج ہی کے دن برطانوی ماہرِ طبیعات جے جے ٹامسن
 |
|
جے جے ٹامسن نے الیکٹران دریافت کیا |
نےسائنس دانوں کےایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ انھوں نے اپنے تجربات کے دوران ایٹم کے اندر ایک ایسا ذرّہ دریافت کیا ہے جس کا وزن ایٹم سے انتہائی کم ہے اور اس پر منفی چارج موجود ہے۔
یہ حیرت انگیز خبر سن کر کمرے میں موجود کئی سائنس دانوں کو تو یقین ہی نہیں آیا۔ ان میں سے بعض سمجھے کہ ٹامسن مذاق کر رہے ہیں، کیوں کہ لفظ ایٹم کا تو مطلب ہی ہے ’نہ تقسیم ہونے والا۔‘
ٹامس اس وقت کیمبرج یونی ورسٹی سے وابستہ تھے۔ اپنی تحقیقات کے دوران انھوں نے دیکھا کہ کیتھوڈ شعاعیں جب مقناطیسی میدان سے گزاری جائیں تو ان کا رخ تبدیل ہو جاتا ہے۔ ٹامسن نے اس سے نتیجہ نکالا کہ یہ شعاعیں دراصل ایٹم سے بھی چھوٹے ذرات پر مبنی ہیں۔ انھوں نے ان ذرات کا نام ’کارپسل‘ رکھا، جس کا مطلب لاطینی زبان میں بے حد چھوٹا ذرہ ہے۔
ٹامسن نے اندازہ لگایا کہ ان ذرات کا وزن ہائیڈروجن کے ایٹم سے ایک ہزار گنا کم ہے (آج کل الیکٹران کا وزن ہائیڈروجن ایٹم سے 1836 کم مانا جاتا ہے)۔
ٹامسن کی اس دریافت کے نتائج بے حد اہم ثابت ہوئے اور دوسرے سائنس دانوں نے اس سے آگے بڑھ کر ایٹم کی ساخت کے نظریات قائم کیے۔ ان سے صدیوں پرانا یہ خیال بھی غلط ثابت ہو گیا کہ کائنات کا بنیادی ناقابلِ تقسیم ذرہ ایٹم ہے، بلکہ یہ معلوم ہوا کہ ایٹم بذاتِ خود دوسرے ذرات سے مل کر بنا ہوا ہے۔
1906ء میں ٹامسن کو فزکس کا نوبیل انعام سے نوازا گیا۔ اس کے دو سال بعد حکومتِ برطانیہ نے انھیں سر کا خطاب بھی عطا کر دیا۔ ٹامسن اپنے دریافت کردہ ذرّوں کو 1913ء تک کارپسل کہتا رہا لیکن بعد میں ان ذرات کا نام الیکٹران پڑ گیا۔
اس کے کئی عشروں بعد الیکٹرانکس کے نام سے ایک نیا شعبہ قائم ہوگیا جس کے تحت الیکٹران کی خصوصیات کو پرکھا جاتا ہے اور اسے مختلف آلات میں استعمال کیا جاتا ہے۔
موجودہ دور کے تمام اہم آلات کے پیچھے الیکٹرانکس کا علم کارفرما ہے۔کمپیوٹرسے لے کر ٹیلی ویژن، ریڈیو، سی ڈی پلیئر، موبائل فونوں،گھڑیوں، کھلونوں،کیمروں، گاڑیوں، جہازوں، غرض جدید دنیا کی تقریباً ہر سہولت کے پیچھے الیکٹرانکس ہی کام کر رہی ہے۔