 |
|
صفدر سرکی |
جیے سندھ قومی محاذ کے رہنما، ڈاکٹر صفدر سرکی کو26 ماہ کی اسیری کے بعد آج بدھ کے روزبلوچستان سے رہا کر دیا گیا۔
اُنہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ قید میں رہنے کے بعد اُن کو تین امراض لاحق ہوگئے جو جلد، جوڑوں کے درد اور آنکھوں سے متعلق ہیں۔
ڈاکٹر سرکی کا کہنا تھا کہ وہ آنکھوں کا علاج فوری طور پر آغا خان ہسپتال سے کرانا چاہتے ہیں جب کہ جوڑوں کے درد اور جلد کی بیماریوں کا علاج ساتھ ساتھ ہو رہا ہے۔
صفدر سرکی کو 24 فروری 2006ء کو مبینہ طور پر خفیہ ایجنسیوں نے کراچی سے گرفتار کیا تھا۔ ایک عرصے تک وہ لاپتا رہے جِس دوران میڈیا اور انسانی حقوق کے اداروں نے اُن کی رہائی کے لیے آواز اُٹھائی جِس کے نتیجے میں پچھلے سال بلوچستان پولیس نے اُن کی گرفتاری کی تصدیق کی تھی۔
اُنہوں نےکہا کہ وہ رہائی پانے پر اچھا محسوس کر رہے ہیں۔ اُن کے بقول اتنے عرصے کے بعد اُن کے ساتھ انصاف ہوا ہے، جِس گھڑی کا اُن کے خاندان اور دوستوں کو انتظار تھا۔
پانچ ماہ ژوب جیل میں بند رہنے کے بارے میں جب اُن سے پوچھا گیا تو اُن کا کہنا تھا کہ وہاں اُن سے ملاقاتوں پر بندش تھی، لیکن قیدیوں نے اُن کا بہت خیال رکھا اور اِسی دوران اُنہوں نے پشتو زبان بھی سیکھی۔
ڈاکٹر صفدر امریکی شہری ہیں۔ جب اُن سے معلوم کیا گیا کہ اُن کی رہائی میں کس نے مدد کی تو اُنہوں نے ابلاغِ عامہ، انسانی حقوق کے اداروں، مرحوم بے نظیر بھٹو اور بلوچستان کی نئی منتخب حکومت کا ذکر کیا۔ اُن کے بقول، بلوچستان کی حکومت نے اُن کے ساتھ انصاف کیا ہے۔