گزشتہ کئی سالوں کی طرح اس سال بھی دنیا بھر میں تین مئی کو آزادی صحافت کا دن منایا جائے گا۔صحافتی آزادی کے لئے کام کرنے والے ایک عالمی گروپ نےاپنی رپورٹ میں ان مسائل کی نشاندہی کی ہے جو 2007کے دوران میڈیا کی آزادی کی راہ میں حائل رہے۔رپورٹ کے مطابق دنیا کی 42فی صد آبادی کو اظہار رائےکا حق حاصل نہیں جبکہ اظہار کی آزادی کے اعتبار سے پاکستان دنیامیں چھیاسٹھ ویں نمبر پر ہے۔
دنیا بھر میں آزادئ صحافت کی صورتھال کا جائزہ لینے والی غیر سرکاری امریکی تنظیم فریڈم ہاوس نے اپنی سالانہ جائزہ رپورٹ میں 2007کو عالمی طور پر صحافتی تنزلی کا سال قرار دیا ہے اور ان رجحانات کی نشاندہی کی گئی ہے جو سوویت یونین ،جنوبی و وسطی ایشیا اور افریقہ میں آزادئی صحافت کو درپیش رہے۔
تنظیم کی ایک عہدے دار کا کہنا ہے کہ اس سال ہم نے یہ دیکھا کہ عالمی سطح پر ہر خطے میں صحافت کو مسائل کا سامنا رہا۔سب سے اہم تھا سوویت یونین اور وسطی اور مشرقی یورپ میں ،جبکہ جنوبی ایشیا،جنوب مشرقی ایشیا اور افریقہ میں بھی صحافت دباؤ کا شکار رہی۔ہمیں یہ رجحان عالمی سطح پر نظر آیا ہے۔جو گزشتہ کئی سالوں سے جاری ہے۔
ان ممالک میں جہاں میڈیا آزاد نہیں ہے ، برما کا نام سرفہرست ہے۔ اس فہرست میں پاکستان 66ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔ فریڈم ہاوس کی جنوبی ایشیا امور کی سینئیر ریسرچر اور پریس فریڈم سروے کی میجنگ ایڈیٹرکیرن کارلیکر کہتی ہیں کہ جیسے جیسے مشرف حکومت پریس کے خلاف پابندیاں بڑھاتی گئی۔صورتحال خراب ہوتی گئی۔یہ رجحان 2007کے شروع میں اور بھی زیادہ ہو گیا۔شاید اس لئے کہ میڈیا خصوصا براڈ کاسٹ میڈیاپاکستانی انتخابات تک آئینی بحران اور عدلیہ کی بحالی کے معاملے پر اتنا اہم کردار ادا کر رہا تھا۔ٹی وی اسٹیشن لمحے لمحے کی خبر مہیا کر رہے تھے۔ٹاک شوز پاکستانی عوام کی بڑی تعداد تک پہنچ رہے تھے۔شاید اسی لئے میڈیا اس کریک ڈاون کا بڑا ٹارگٹ بنا۔کیونکہ میرے خیال میں حکومت کو احساس ہو گیا تھا کہ میڈیا کتنا طاقتور ہوتا جا رہا ہے۔
فریڈم ہاوس کے سالانہ جائزے میں پاکستان کو عالمی صحافتی رجحانات ظاہر کرنے کے لئے مثال کے طور پر استعمال کیا گیا ہے جہاں رپورٹ کے مطابق پاکستانی صحافیوں نے تمام پابندیوں اور دباؤکے باوجود سچائی کا تعاقب کامیابی سے جاری رکھا۔صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جمہوری حکومتوں کا سابقہ ریکارڈ بھی آزادئ صحافت کے حوالے سے کچھ زیادہ اچھا نہیں رہا مگرنئی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد جو اشارے ملے ہیں وہ مثبت ہیں۔
کیرن کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ پاکستان کی نئی حکومت میڈیا کے لئے فراخ دلی کا مظاہرہ کرے گی۔پاکستان کو ہم نے اپنے سروے میں ان ممالک میں سب سے اوپر رکھا ہے جہاں میڈیا آزاد نہیں ہے مگر مجھے امید ہے کہ وہاں براڈ کاسٹ میڈیا میں جتنی ترقی ہو رہی ہے اور وہ جتنا متنوع ہے۔اسے جزوی طور پر آزاد پریس کی کیٹگری میں جانے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا ..
آزادئ صحافت کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پاکستان سمیت کئی ممالک میں براڈ کاسٹ میڈیا ابھی سیکھنے کے مراحل طے کر رہا ہے۔مگر ساری دنیا کی طرح پاکستان میں میڈیا کا منظرنامہ تبدیل ہو رہا ہے جو ایک مثبت رحجان ہے۔ فریڈم ہاوس کی سروے رپورٹ میں صرف ایک مسلمان ملک مالی میں میڈیا کو آزاد قرار دیا گیا ہے ،20 سے 22مسلمان ملکوں کو جزوی آزاد میڈیا کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔جبکہ رپورٹ کے مطابق مسلمان مممالک کی اکثریت میں صحافت آزاد نہیں ہے۔