 |
|
بروکلن کی ایک مسجد میں نماز |
پاکستانی برادری کی طرف سے روزانہ کے چھاپوں، نسلی تنگ نظری اور تعصب کی شکایتوں کے جواب دینے کے لیے بدھ کی رات نیو یارک کے پولیس کمشنر ریمنڈ کیلی نے بروکلین میں پاکستانی برادری سے ملاقات کی۔
کیلی نیو یارک کے پہلے پولیس کمشنر ہیں جو پاکستانی برادری سے ملے ہیں۔
پولیس کمشنر کو بتایا گیا کہ گیارہ ستمبر کے بعد پاکستانی برادری سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے اور اس کے کم از کم ایک چوتھائی رکن ملک چھوڑ کر واپس چلے گئے ہیں۔
کمشنر کیلی نے ان شکایات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کے محکمے نے اس قسم کے مسائل کے جواب میں ایسے پروگرام شروع کیے ہیں جن سے نئے تارکین وطن کو ان کے حقوق سے آگہی دلائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام سے متعلق معلومات دینے اور پولیس والوں میں آگہی پیدا کرنے کے لیے اکیڈمی میں خاص طور پر ٹریننگ دی جاتی ہے اور ’اسلام 101‘ نامی ایک فلم بھی دکھائی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے محکمے کی کوشش ہے کہ پاکستانی برادری سے بھی پولیس والوں کو ملازمت دی جائے تاکہ لوگوں میں یہ احساس پیدا نہ ہو کہ انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس وقت نیو یارک پولیس ڈیپارٹمنٹ میں 132 اردو بولنے والے پولیس والے ملازم ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کو احساس ہے کہ ان کے محکمے کے پولیس والوں کو مختلف مذہبی اور ثقافتی طور طریقوں اور رسومات کے بارے میں آگاہی ہونی چاہئیے کیونکہ ’یہ دنیا کا سب سے متنوع شہر ہے اور پولیس ڈیپارٹمنٹ کو اگر اپنا کام درست طریقے سے انجام دینا ہے تو ہمیں اس کی مختلف برادریوں کے طور طریقوں کو سمجھنا ہوگا۔‘
البتہ انہوں نے کہا کہ دنیا کا کوئی محکمہ یا انسان سو فیصد درست نہیں ہوتا اور ان سے بھی غلطیاں ہوتی ہیں جس کے لیے ایک ریویو بورڈ ہے جہاں باآسانی شکایت کی جاسکتی ہے۔
پاکستانی برادری نے اپنے جو مسائل کمشنر کیلی کو بیان کیے ان میں بعض ٹریفک پولیس افسروں کی طرف سے انہیں ہراساں کرنے، جمعے کی نماز کے لیے پارکنگ کی کمی، اور امیگریشن سے متعلق چھاپے اور ان سے پیدا ہونے والی مشکلات شامل تھیں۔