دنیا بھر کی طرح آج پاکستان میں یومِ آزادیِ صحافت منایا جا رہا ہے۔پاکستان دنیا کے اُن ملکوں میں شامل ہے جہاں صحافت خطرناک پیشہ ہے اور صحافیوں کو کئی سمت سے دباؤ کا سامنا ہے۔
کراچی، پاکستان کے قبائلی علاقے اور بلوچستان میں صحافیوں کو زیادہ خطرات لاحق ہیں۔
کراچی یونین آف جرنلسٹس کے سینئر نائب صدر اشرف خان کہتے ہیں کہ صحافیوں کے لیے حالات ِ کار دشورا ہیں مگر معاشرے کی ترقی اور جمہوری روایات کے مستحکم ہونے سے حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اِس وقت جو صورتِ حال ہے، نہ صرف ریاستی کارندوں بلکہ دوسرے پریشر گروپس، سیاسی جماتوں، اور اِس سب کی طرف سے پریس کو اتنے پریشر کا سامنا ہے۔ بڑا مشکل نظر آتا ہے یہاں پہ کام کرنا۔ لیکن ہم امید کرتے ہیں کہ جمہوری اداروں کی بحالی سے اور جمہوری رویوں سے ہم اِس پر بہت جلد مرحلہ وارکچھ حاصل کر سکیں گے۔
یاد رہے کہ کراچی میں امریکی صحافی ڈینیل پرل کو اغوا کیا گیا اور پھر قتل کر دیا گیا۔قبائلی علاقے میں صحافی حیات اللہ کا اغوا اور قتل ہوا اور بعد میں اُن کے اہلِ خانہ نے بھی اُن کے صحافی ہونے کی قیمت چُکائی۔
صحافیوں نے ملک میں سمینار منعقد کیے اور جلوس نکالے۔ دہشت گردی کا نشانہ بننے والے صحافیوں کو یاد کرنے کے لیے کراچی میں مشعل بردار جلوس نکالا گیا اور اِس عزم کو دہرایا گیا کہ آزادیِ صحافت کے لیے برادری جدوجہد جاری رکھے گی۔
پاکستان میں صحافیوں کو نہ صرف ریاستی اداروں کے جبر کا بھی سامنا ہے، بلکہ سیاسی، مذہبی گروہوں، مافیا اور انتہا پسندوں سے بھی خطرات لاحق ہیں۔