بلوچستان کے جنوبی ساحلی علاقے لیاری میں مقامی قبائل نے پاک فضائیہ کی جانب سے مبینہ طور پر لوگوں کو زبردستی اپنی زمینوں سے بے دخل کرنے پر شدید احتجاج کیا ہے۔
قبائلی عمائدین کا کہنا ہے کہ ایئر فورس کی انتظامیہ اُن کی قیمتی زمینوں پر قبضہ کر رہی ہے جب کہ فضائیہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ادارے نے فائرنگ رینج کے لیے صوبائی حکومت کو 72ہزار ایکڑ زمین فراہم کرنے کا کہا ہے، جِس پر تاحال حکومت کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا۔
اُنہوں نے اِن دعووں کو مسترد کر دیا ہےکہ لوگوں کو زبردستی نقل مکانی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
دریں اثنا، علاقے سے منتخب ہونے والے بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر اسلم بوتانی نے اِس کی تصدیق کرتے ہوئے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ صوبائی حکومت نے فضائیہ کی فائرنگ رینج کے لیے زمین دینے سے انکار کیا ہے جِس کے بعد وہاں کے زمینداروں پر زمین چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
بوتانی کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی سے بات کی ہے کہ یہ زمین جو ایئر فورس لے رہی ہے اُسے منسوخ کیا جائے۔ ’ہم عدالت سے رجوع کریں گے اور ہم کسی بھی صورت یہ فائرنگ رینج وہاں بننے نہیں دیں گے، کیونکہ ہمارے جینے مرنے کی بات ہے اور ہم یہ اپنے گھر بار نہیں چھوڑ سکتے۔ ہم ترقی کے نام پر آنگن کسی کے حوالے نہیں کر سکتے۔‘
یاد رہے کہ اِس سے قبل کوئٹہ کے علاقے نوسار اور سمنگلی میں بھی ایئر فورس نے بازئی قبیلے سے زرعی زمینیں چھوڑنے کا کہا تھا جس پر شدید عوامی ردِ عمل سامنے آیا۔
اپریل 2006ء میں بلوچستان اسمبلی نے فوجی اداروں کی جانب سے عوام کی زمینوں پر مبینہ قبضے کے خلاف ایک متفقہ قرارداد بھی منظور کی تھی۔