Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

سرحد میں پولیو کے قطرے پلانے کی مہم، سیکیورٹی کے مسائل


May 4, 2008

polio_drops
پاکستان اور افغانستان اُن چند ممالک میں سے ہیں جہاں پر محکمہ ٴ صحت کے ماہرین کے مطابق پولیو بیماری کے جراثیم پائے جاتے ہیں۔

 

اِس سلسلے میں محکمہٴ صحت کے حکام نے بین الاقوامی ادارہٴ صحت اور بچوں کی بہتر پرورش کے ادارے یونی سیف  کے تعاون سے پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر نو مختلف مقامات پر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جانے کے مراکز قائم کیے ہیں۔

 

عالمی ادارہٴ صحت سے وابستہ ڈاکٹر حامد نواز نے  اِن خصوصی اقدامات کے مقاصد بیان کرتے ہوئے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ بنیادی مقصد یہ ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان جو بچے آتے جاتے رہتے ہیں، اُن کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔ اِس لیے کہ وائرس ایک جگہ نہیں رہتا، ایک سے دوسرے ملک بھی جا سکتا ہے۔اِسی مقصد کے حصول کے لیےنو مراکز قائم کیے جارہے ہیں۔

 

ڈاکٹر حامد نواز کا کہنا تھا کہ اگر صرف طورخم کی سرحد کو لیا جائے تو وہاں ایسی سہولیت میسر کرنے سے ساڑھے چار لاکھ کی آبادی استفادہ کر سکتی ہے۔اِسی طرح باقی مراکز کو بھی مضبوط کیا جا رہا ہے تاکہ جو بچے اِن پوائنٹ کو پار کریں گے اُن کو پولیو ویکسین ملے گی، تاکہ اِس بیماری کا قلع قمع کیا جا سکے۔

 

اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق اِس وقت بھی لگ بھگ 20 لاکھ افغان مہاجرین پاکستان میں آباد ہیں جب کہ اِن لوگوں کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان روزانہ ہزروں لوگوں کا آنا جانا ہوتا ہے۔

 

ماہرین کا کہنا ہےکہ وائرس افغانستان سے پاکستان منتقل ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اِس لیے سرحد پر خصوصی مراکز قائم کرکے وہیں پر بچوں کو پولیو کے بچاؤ کے قطرے پلانے سے اپاہج کرنے والی اس موذی بیماری کے خلاف کوششوں کو مؤثر بنایا جاسکتا ہے۔

 

اُدھر حکام نے بتایا کہ صوبہٴسرحد اور ملحقہ قبائلی علاقوں میں پانچ سال سے کم عمر کے 58لاکھ کے قریب بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

 

صوبائی محکمہٴ صحت کے ڈاکٹر عبد الوحید نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ تمام علاقوں میں مہم  چلائی جانے والی ہے۔ اِس حوالے سے ہفتے کو صوبائی سطح کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں  آزاد علاقے اور سوات میں عملے کی سیکیورٹی کا جائزہ لیا گیا۔  

 

خیال رہے کہ گذشتہ سال پاکستان بھر میں پولیو کے 32کیس سامنے آئے تھے جِن میں سے 11 کا تعلق صوبہٴسرحد سے تھا، جب کہ سالِ رواں میں پاکستان میں ابھی تک پانچ بچے اِس بیماری کا شکار ہوئے ہیں اور صوبہٴ سرحد میں ابھی تک پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے۔

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر

  مزید خبریں