 |
|
طارق عزیزالدین |
کابل میں تعینات پاکستان کے مغوی سفیر کے اہلِ خانہ نے کہاہے کہ اُنہیں طارق عزیز الدین، اُن کے محافظ اور ڈرائیور کی رہائی کے لیے حکومتِ پاکستان کی کوششوں کے بارے میں کوئی شبہ نہیں، لیکن وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ تمام تر وسائل کی دستیابی کے باوجود حکومت اُنہیں اب تک طالبان کی قید سے رہائی دلوانے میں کیوں ناکام رہی ہے۔
اتوار کو جاری کیے گئے ایک بیان میں اہلِ خانہ نے کہا ہےکہ وہ اِس بات کو مانتے ہیں کہ یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے، لیکن تاخیر باعثِ پریشانی ہے۔
بیان میں طارق عزیزالدین کے اہلِ خانہ نے اُن کے اغوا کاروں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اُنہیں جلد رہا کردیں۔
اُن کا کہنا ہے کہ اغوا ہونے کے ایک ماہ بعد طارق عزیزالدین سے اُن کے خاندان کے افراد کا رابطہ ہوا تھا جِس میں اُن کی سلامتی اور صحت کی تصدیق ہوئی تھی، لیکن طالبان اغوا کاروں کی طرف سے ایک عرب ٹیلی ویژن چینل پر جاری کردہ اُن کی وڈیو فلم میں طارق عزیز الدین کی دورانِ حراست بگڑتی ہوئی صحت کا پتا چلتا تھا۔ آٹھ مارچ کو ریکارڈ کی گئی اِس وڈیو فلم سے یہ بات ظاہر ہے کہ اب تک اُن کی صحت خاصی بگڑ چکی ہوگی۔
’اِس لیے، اِس صورتِ حال کی وجہ سے اُن کی بیوی، بچے اور خاندان کے دوسرے افراد کو سخت غصہ اور تشویش لاحق ہے۔‘
خیال رہے کہ طارق عزیز الدین کی وڈیو فلم 19اپریل کو جاری کی گئی تھی جِس میں اُنہوں نے حکومتِ پاکستان سے اپیل کی تھی کہ وہ طالبان اغوا کاروں کے مطالبات تسلیم کرلے، تاکہ اُن کی اور اُن کے ساتھیوں کی جلد رہائی ممکن ہوسکے۔ تاہم، اپنے پیغام میں اُنہوں نے طالبان کے مطالبات کا کوئی ذکر نہیں کیا۔
مقامی ذرائعِ ابلاغ کی خبروں کے مطابق طالبان اپنے کچھ ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں، جب کہ حکام کا دعویٰ ہے کہ اغوا کاروں نے سرکاری طور پر حکومت کو ابھی تک اپنے مطالبات سے آگاہ نہیں کیا ہے۔