بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے پر پانچ سالہ پابندی کی معطلی کے بعد متنازعہ فاسٹ باؤلر شعیب اختر بھارت جانے کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں۔
اتوار کو اپیل ٹری بیونل نے شعیب اختر کی پانچ سالہ پابندی کو ایک ماہ کے لیے معطل کر دیا ہے، جِس کے بعد شعیب اختر کی انڈین پریمئر لیگ میں کھیلنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
شعیب اختر تنازعے کے بارے میں سابق ٹیسٹ کرکٹر سرفراز نواز نے میڈیا کو بتایا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ خود نظم و ضبط کی کمی کا شکار رہا ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ شعیب اختر کے ’حوصلے بڑھتے رہے ہیں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ اگر پی سی بی شروع ہی سے نظم و ضبط کی سختی سے پابند ہوتی تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتے۔
اِِس ضمن میں سرفرار نواز نے بھارت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہربھجن سنگھ اور سری سنت کے معاملے میں بھارتی کرکٹ بورڈ نے ایک فیصلہ کیا اور اُس پر ڈَٹا رہا۔
انھوں نے کہا کہ اگرچہ ہربھجن سنگھ نے واضح بھی کرنے کی کوشش کی کہ اس نے سری سنت کو تھپڑ نہیں مارا اور یہ کہ سری سنت اُن سے ہاتھ ملانا چاہتا تھا، جب کہ اُن کا ہاتھ غلطی سے اُن کے منہ پر آ لگا۔ لیکن انڈین کرکٹ بورڈ نے اِس پر بالکل توجہ نہیں دی۔ انھوں نے کہا کہ یہ فیصلہ دوسرے بھارتی کھلاڑیوں کے لیے سبق آموز ہو گا۔
شعیب اختر کے وکیلوں نے پاکستانی کرکٹ بورڈ کے قائم کردہ ٹری بیونل سے درخواست کی تھی یہ پابندی عارضی طور پر ہٹا دیں کیوں کہ آئی پی ایل نے شعیب اختر کو اس بنا پر بھارت میں کھیلنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا کہ اگر کوئی کھلاڑی اپنے ہی ملک میں بین ہو تو وہ کسی دوسرے ملک میں کیسے کھیل سکتا ہے۔
اگرچہ ٹری بیونل نے پہلے کہہ دیا تھا کہ شعیب اختر ملک سے باہر کھیل سکتے ہیں لیکن اس کے باوجود آئی پی ایل اپنے مؤقف پر اڑی رہی تھی۔
شعیب اختر کلکتہ کی ٹیم میں شامل ہیں اور ان کا معاوضہ ساڑھے چار لاکھ ڈالر ہے۔ آئی پی ایل میں نہ کھیل پانے کی وجہ سے ان کا بھاری مالی نقصان ہو رہا تھا۔
واضح رہے کہ گذشتہ ماہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے شعیب اختر پر ڈسپلن کی متعدد خلاف ورزیوں کی پاداش میں پانچ سال کی پابندی عائد کر دی تھی۔