 |
|
ہاتھی دانت کی بڑھتی ہوئی مانگ کی وجہ سے ہاتھیوں کے شکار میں اضافہ |
جنوبی افریقہ کی حکومت نے ہاتھی کے شکار پر 13 سال سےعائد پابندی ہٹا دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے خلاف ماحولیاتی کارکن اور جانوروں کے حقوق کے نمائندے سراپا احتجاج ہو گئے ہیں۔
جنوبی افریقہ کی حکومت نے اس فیصلے کا حکم اس سال کے اوائل میں جاری کر دیا تھا، جس پر گذشتہ ہفتے عمل درآمد شروع ہو گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ہاتھیوں کی بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانا ہے، جو 1995ء کے مقابلے میں بڑھ کر دو گنی ہو کر 18 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔
اس سے منسلکہ ایک اور خبر میں ماحولیاتی تحفظ کی ایک تنظیم’وائلد لائف ڈائرکٹ‘نے کہا ہے کہ جمہوریہ کانگو کے ورُنگا نیشنل پارک میں گذشتہ دو ہفتے میں 14 ہاتھیوں کو غیر قانونی طور پر ہلاک کیا گیا ہے۔
تنظیم نے ایک بیان میں کہا کہ باغی فوجی اور مقامی دیہاتی ہاتھیوں کو ہلاک کر رہے ہیں۔ تنظیم نے کہا ہے کہ جنوبی افریقہ کی طرف سے ہاتھی دانت کی تجارت میں نرمی، اور علاقے میں چینی تاجروں کی سرگرمیوں کی وجہ سے ہاتھی دانت کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔
اس پارک میں 2006ء کی گنتی کے مطابق ہاتھیوں کی تعداد 350 کے لگ بھگ ہے۔