 |
|
بیلا روس کے صدر الیکزینڈر لوکاشینکو |
برسلز میں حکام نے منسک میں واقع امریکی سفارت کے عہدے داروں پر الزام لگایا ہے کہ وہ بیلاروس کے شہریوں کو جاسوسی کی تنظیم کے لیے بھرتی کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
ملک کے ’کے جی بی‘ کے ادارے ، جس نے اپنے پیش رو کا نام برقرار رکھا ہوا ہے، کے ایک ترجمان ویلری ناڈشیوف نے کہا ہے کہ عہدے داروں نےگروہ کی سر گرمیوں کو پھیلانے اوراسے فی الواقع ایک جاسوسی کا گروہ بنانے کی امریکی کوششوں کو مسدود کر دیا ہے۔
ترجمان نے سفارت خانے کے سیکیورٹی اتاشی کرٹ فنلی پر گروپ کو منظم کرنے کا الزام لگایا جس نے ترجمان کے بقول، بیلا روس کی پولیس کے عہدے داروں اور متعدد مقامات کی تصویریں بنائی ہیں۔
یہ الزامات دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ کشیدگی میں اضافے کے دوران سامنے آئے ہیں۔
ہفتے کے رو ز بیلا روس کے 11 امریکی سفارت کاروں نے اس کے بعد ملک چھوڑ دیا جب حکام نے ان میں سے دس کو ملک چھوڑ دینے کا حکم دیاتھا۔اس کے بعد اب منسک میں امریکہ کے صرف چار سفارت کار باقی رہ گئے ہیں۔
امریکہ نے بیلا روس کے حکم کو غیر انصافی قرار دیا ہے اور کہاہے کہ واشنگٹن میں عہدے دار متعدد جوابی طریقوں پر غور کر رہے ہیں۔
امریکہ اور یورپی یونین صدر الیکزینڈر لوکاشینکو کی حکومت پر انسانی حقوق اور منصفانہ انتخابات کے خراب ریکارڈ کی وجہ سے اس پر متعدد سفری اور اقتصادی پابندیاں عائد کر چکے ہیں۔
گذشتہ ماہ مسٹر لوکاشینکو نے امریکہ سے مطالبہ کیا تھا کہ اگر وہ اپنے تعلقات کو بہتر بنانا چاہتا ہے تو بیلاروس کے تیل اور کیمیکل کے سرکاری ادارے کے خلاف پابندیاں ختم کر دے۔