ایران نے ایک بار پھر اپنی متنازعہ جوہری سر گرمیاں روکنے کے مطالبات کو یہ کہتے ہوئے خارج از امکان قرار دیا ہے کہ وہ عالمی طاقتوں کی جانب سے ایسی تمام مراعات کی پیش کش کو مستر کر دے گا جو ایران کے جوہری افزودگی کے حق کے منافی ہوں گی۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان محمد علی حسینی نے پیر کے روز کہا کہ ایرانی حکومت ایسی کسی بھی تجویز پر غور نہیں کرے گی جو ایران کی ایٹمی ٹیکنالوجی تک رسائی محدود کر دے۔
حسینی کا یہ بیان جمعے کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان، برطانیہ، چین، فرانس، روس اور امریکہ کے ساتھ ساتھ جرمنی بھی ایران کو اس کے افزودگی کے پروگرام کی بندش پر آمادہ کرنے کے لیے نئی ترغیبات کی پیش کش پر متفق ہو گئے ہیں۔
جون 2006ءمیں ان چھ ملکوں نے ایران کو اس صورت میں اقتصادی امداد اور سفارتی مراعات کی پیش کش کی تھی اگر وہ یورینیم کی افزودگی کا پروگرام بند کر دے۔
روسی وزیرِ خارجہ سر گئی لاروف نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ ایران کی جانب سے افزودگی کو مذاکرات کے دوران معطل ہونا چاہئیے۔