 |
|
صومالیہ میں کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے پر مظاہرے |
صومالیہ کے دارلحکومت موگادیشو میں کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے اور دکانداروں کی طرف سے پرانے کرنسی نوٹ قبول کرنے سے انکار کے خلاف دوسرے روز منگل کو بھی سڑکوں پر مظاہرے جاری رہے۔
موگادیشو میں عینی شاہدین نے بتایا کہ سینکڑوں نوجوانوں نے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر کے انہیں بند کردیا اور وہاں سے گذرنے والی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا۔ مقامی حکام اور تاجروں نے مظاہرین کے خلاف جوابی اقدامات کے لیے ہنگامی اجلاس منعقد کیے۔
پیر کے روز بڑے پیمانے پر ہونے والے احتجاج کے دوران فسادات پھوٹ پڑے۔ سرکاری دستوں نے مظاہرین پر گولیاں چلائیں جس سے تین افراد ہلاک ہوگئے۔
بہت سےدکاندارخریداروں سےصومالیہ کی مقامی کرنسی کی بجائے امریکی ڈالروں کا مطالبہ کررہے ہیں کیونکہ اکثر اوقات مقامی کرنسی نوٹ جعلی ہوتے ہیں۔
صومالی باشندوں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں جعلی مقامی کرنسی شلنگ کی کثرت سے اس کی قدر میں کمی ہوئی ہے اور افراطِ زر بڑھا ہے۔صومالی حکومت پچھلے مہینے کہا کہ وہ اس صورت حال پر قابو پانے کے لیے نئے کرنسی نوٹ جاری کرے گی۔
ایک اندازے کے مطابق صومالیہ میں افراط زر میں ہر ماہ 150 فی صد اضافہ ہوجاتا ہے۔
1991ءسے ملک میں کوئی مستحکم مرکزی حکومت نہیں ہے۔