 |
|
’آواز دے کہاں ہے‘ موسیقار نوشاد علی |
رتن، انمول گھڑی، مغل اعظم ، گنگا جمنا، دل لگی، دلاری ، بیجو باورا، انداز، آن، امر اور مدرانڈیا جیسی فلموں میں دل کو موہ لینے والی موسیقی تیار کرنے والے نوشاد علی کے نام سے ممبئی کی ایک سڑک کو منسوب کیا گیا ہے۔
بالی وڈ میں موسیقی کی دنیا میں نوشاد کی لافانی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ممبئی میونسپل کارپوریشن نے ممبئی کے باندرہ علاقے میں واقع’کارٹر روڈ‘ کا نام تبدیل کر کے ’نوشاد علی روڈ ‘ رکھ دیا ہے۔ یہ وہی علاقہ ہے جہاں نوشاد نے زندگی کا بڑا حصہ گزارا تھا۔
تاہم ابھی پورا ایک دن بھی نہیں گزرا اور نوشاد علی روڈ نام کو لےکر تنازعہ شروع ہوگیا ہے۔
 |
|
آج میرے من میں سکھی بانسری بجائے کوئی ۔۔۔ فلم آن |
کارٹر روڈ علاقے میں مقیم لوگوں کو شکایت ہے کہ انتخابات کے مدنظر سیاسی لیڈر اپنے ووٹ بینک کو بھرنے کے لیے بنا سوچے سمجھے سڑکوں کا نام بدل رہے ہیں۔ مقامی لوگ اِس بات سے خفا ہیں کہ کارٹر روڈ کا نام بدلنے سے پہلے اُن کی رائے لینا ضروری نہیں سمجھا گیا۔
نوشاد کا اِنتقال پانچ مئی 2006ء کو ہوا تھا۔ انہوں نے باندرہ علاقےمیں کارٹر روڈ پر واقع آشیانہ بنگلے میں اپنی زندگی کے خوشی اور غم کے لمحات گزارے ۔ اِسی لیے نوشاد کی دوسری برسی کے موقعے پر اُنہیں خراج عقیدت پیش کر تے ہوئے باندرہ کی سڑک کا نام اُن سے منسوب کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔
 |
|
بیجو باورا کی موسیقی نوشاد کے کیریر کی معراج تصور کی جاتی ہے |
موسیقار اعظم نوشاد علی اپنی زندگی میں اپنے آپ میں موسیقی کا ایک ادارہ تھے۔اِس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد آج بھی لوگ اُن کی موسیقی سے فیض بھی اٹھا رہے ہیں اور لطف اندوز بھی ہو رہے ہیں۔
25 دسمبر 1919ء میں پیدا ہوئے نوشاد علی کو ہلکی پھلکی موسیقی تیار کرنے میں کمال حاصل تھا۔ اگرچہ ان کے بعض ہم عصر موسیقار اپنی موسیقی کی پیچیدگی کے باعث موسیقی کے نقادوں میں زیادہ قدر کے مالک ہیں، جن میں انل بسواس، سلل چودھری، سی رام چندر وغیرہ شامل ہیں، لیکن نوشاد کی دھنیں آسان اور عام فہم ہونے کی وجہ سے عوام میں جتنی مقبول ہوئیں،اتنی شہرت کسی دوسرے موسیقار نہ نصیب نہیں ہو سکی۔
1937ء میں انہوں نے پہلی فلم ’پریم نگر‘سائن کی۔ اس فلم کو زیادہ کامیابی نہیں ملی اوراس کے بعد کئی برسوں تک نوشاد زیادہ تر پردہٴ گمنامی ہی میں رہے، لیکن 1944ء میں ان کی فلم ’ رتن‘کی موسیقی نے تہلکہ مچا دیا اور نوشاد دیکھتے ہی دیکھتےغیر منقسم ہندوستان کے گھر گھر، گلی گلی میں موضوعِ گفتگو بن گئے۔ اس کے بعد نوشاد نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھااور ایک سے بڑھ کر ایک شاہ کار تخلیق کیا۔
تاہم ستر کی دہائی کے آتے آتے زمانے کی ہوا اور لوگوں کی ترجیحات میں تبدیلی آ چکی تھی۔ پہلے جیسی رومانوی اور ہلکے پھلکے موضوعات پر بننے والی فلموں کی جگہ ایکشن اور ماردھاڑ سے بھرپور فلموں نے لے لی۔ اس نقار خانے میں نوشاد کی بنسی کی مدھر تانوں کی گنجائش نہیں تھی۔ نوشاد نے خود ہی حالات کا رخ بھانپ کر فلم انڈسٹری سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔
 |
|
مغل اعظم نوشاد کی ایک اور اعلیٰ ترین فلم |
نوشاد صحیح معنوں میں سیلف میڈ شخصیت تھے۔ ایک فلم کی زبردست کامیابی کے موقعے پر ایک عالی شان ہوٹل میں منعقد ہونے والی تقریب میں انھوں نے انکشاف کیا کہ ایک زمانے میں وہ اسی ہوٹل کے باہر فٹ پاتھ پر سویا کرتے تھے اور ہوٹل کے اندر جانے کے خواب دیکھا کرتے تھے۔
چھ دہائیوں میں پھیلے اپنے فلمی سفر میں نوشاد نے 66 فلموں کے لیے یادگار دُھنیں تیار کیں ۔ 2005ء میں فلمساز اکبر خان کی فلم ’تاج محل‘ بطور موسیقار نوشاد کی آخری فلم تھی ۔ ان کے اہم شراکت داروں میں ان کے اسسٹنٹ غلام محمد، نغمہ نگار شکیل بدایونی، اور گلوکار محمد رفیع اور لتا منگیشکر شامل ہیں۔ جب کہ ان کی زیادہ تر فلمیں محبوب خان اور اے آر کاردار کی ہدایت کاری میں تیار ہوئیں۔
نوشاد کی شخصیت لکھنو کی تہذیب و شائستگی کا منھ بولتا نمونہ تھی۔ ان کا دھیما مزاج، اور لطیف لب و لہجہ ہر کسی کو اپنا گرویدہ بنا لیتا تھا۔ انھوں نے اپنا کیریر کے اواخر میں شاعری بھی شروع کر دی تھی اور ان کا شعری مجموعہ ’آٹھواں سر‘کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔
نوشاد کو دادا صاحب پھالکے ایوارڈ اور سنگیت اکیڈمی ایوارڈ کے علاوہ پدم بھوشن کے خطاب سے بھی نوازا گیا تھا۔