پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیر مین آصف علی زردادری کے خلاف بیرونِ ملک قائم بدعنوانیوں کے مقدمات واپس لے لیے گئے ہیں۔اس کا اعلان پراسیکیوٹر جنرل نیب نے سندھ ہائی کورٹ کے ایک بینچ کے سامنے کیا، جو آصف علی زردادری کی طرف سے قومی مفاہمتی آرڈینینس کے تحت مقدمات ختم کرنے کے لیے دائر درخواست کی سماعت کر رہا تھا۔
پراسیکیوٹر جنرل نیب نے جسٹس قیصراقبال اور جسٹس محمود عالم رضوی پر مشتمل بینچ کے سامنے جینیوا میں زیرِ سماعت کیس کی دستاویز بھی پیش کی۔ عدالت کے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ لندن میں زیرِ سماعت سرے محل کیس بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ اس بیان کے بعد عدالت نے نے آصف علی زرداری کی درخواست نمٹا دی۔
آصف علی زرداری کی درخواست میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ جنیوا اور لندن میں زیرِ سماعت مقدمات قومی مفاہمتی آرڈینینس کے بعد ختم ہو چکے ہیں اور حکومت کو ان سے دستبردار ہو جانا چاہئیے۔
آصف علی زرداری پر مالی بد عنوانیوں سمیت کئی مقدمات تھے، جن میں بیرونِ ملک قائم یہ دو مقدمات بھی شامل تھے۔ ان کے خلاف بیشتر مقدمات ختم کیے جا چکے ہیں اور اب صرف دو مقدمات باقی رہ گئے ہیں، جن پر کارروائی ہونا ہے۔
ایک مقدمہ کراچی میں کنٹینر کیس کے نام معروف ہے اور دوسرا لاہور میں منشیات کی سمگلنگ سے متعلق ہے۔ کنٹینر کیس میں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے نوادرات لندن سمگلنگ کرنے کی کوشش کی تھی۔
مفاہمتی آرڈینینس کے تحت صدر پرویز مشرف نے سیاست دانوں، بیورو کریٹس اور فوجی افسران کے خلاف بد عنوانی کے مقدمات ختم کر دیے تھے۔